Baaghi TV

Tag: سمندر

  • سمندری طوفان، شمال مشرق کی جانب بڑھتے ہوئے ڈپریشن میں تبدیل

    سمندری طوفان، شمال مشرق کی جانب بڑھتے ہوئے ڈپریشن میں تبدیل

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سمندری طوفان بپر جوائے کمزور ہوکر ڈپریشن بن گیا ہے، طوفان کی شدت میں کمی آ چکی ہے،

    بحیرہ عرب سے اٹھنے والا سمندری طوفان جس سے بچاؤ کے لئے حکومت نے حفاظتی انتظامات کئے تھے اب اسکی شدت کم ہو چکی ہے اور طوفان کا ڈپریشن تھرپارکر اور بھارتی راجستھان پر موجود ہے ،بھارتی راجستھان میں ڈپریشن کمزور ہو کر لو پریشر ایریا میں تبدیل ہونے کا امکان ہے

    این ڈی ایم اے کے مطابق سمندری طوفان بپرجوائے گزشتہ 12 گھنٹوں کے دوران مزید شمال مشرق کی جانب بڑھتے ہوئے ڈپریشن میں تبدیل ہو گیا ہے اور اب جنوب مغربی راجستھان (بھارت) اور جنوب مشرقی پاکستان (تھرپارکر)کے اوپر موجود ہے ۔ہوا کی رفتار 30 سے 40 کلومیٹر فی گھنٹہ ریکارڈ کی گئی ہے. سسٹم مزید مشرق کی طرف بڑھنے کا امکان ہے، جسکے بعد راجستھان (بھارت) کے اوپر کم دباؤ والے علاقے میں یہ مزید کمزور ہو جائے گا۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق تھرپارکر، عمرکوٹ، بدین میں آج تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے سجاول اور میرپورخاص میں بھی گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے، طوفان کے بعد شہر قائد کراچی میں سی ویو کے ساحل پر گندگی اور ڈھیر کا منظر دکھائی دے رہا ہے، سمندری لہروں کے ساتھ گندگی بھی ساحل پر پہنچ گئیں،

    طوفان اور شدید بارش کی وجہ سے بھارت کے کئی علاقوں میں ٹرینیں منسوخ
    بھارتی میڈیا کے مطابق گجرات کے بعد اب راجھستان میں سمندری طوفان پہنچ چکا ہے، ہفتہ کی صبح سے سروہی، جالور، ناگور، جودھ پور سمیت کئی علاقوں میں بارش ہو رہی ہے، پچاس سے ساٹھ کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل رہی ہیں،کئی علاقوں میں چار سے پانچ انچ بارش ریکارڈ کی گئی ہے، طوفان اور شدید بارش کی وجہ سے بھارت کے کئی علاقوں میں ٹرینیں منسوخ کر دی گئی ہیں، ریلوے حکام کے مطابق باڑمیر سے 14 ٹرینوں کو منسوخ کیا گیا ہے، ادے پور ایئر پورٹ سے دہلی اور ممبئی جانیوالی پروازیں بھی منسوخ کی گئی ہیں، بھارتی محکمہ موسمیات کے مطابق سمندری طوفان، جنوب مغربی راجستھان اور کَچھ کے آس پاس کے جنوب مشرقی پاکستان پر کَل رات ساڑھے گیارہ بجے ہوا کے گہرے کم دباؤ میں بدل گیا تھا یہ علاقہ گجرات میں دھولاویرا کے تقریباً 100 کلو میٹر شمال مشرق میں ہے، راجھستان میں طوفان کا اثر اتوار تک رہے گا، گجرات میں طوفان تباہی مچا چکاہے، طوفان نے کچھ اور سوراشٹرا کے 8 اضلاع میں زیادہ نقصان پہنچایا ،جس کے سروے کے لئے ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں

    اپنی حفاظت کرنا سب کا فرض ہے حکومت بھی مدد کررہی ہے . وزیراعلیٰ سندھ

    سمندری طوفان کے پیش نظر کراچی ڈویژن کی 40 عمارتوں کو مکمل مخدوش قرار 

    سمندری طوفان ”بائے پرجوائے“ کے پیش نظربھارت کی سات ریاستوں میں الرٹ جاری
    سمندری طوفان ’’بائے پرجوائے‘‘ کا کراچی سے فاصلہ 850 کلومیٹر رہ گیا

     جوائے کے پیشِ نظر کراچی پورٹ پر الرٹ جاری

     پی آئی اے کی جانب سے حفاظتی انتظامات مکمل 

     کیٹی بندرسے شہریوں کا انخلا مکمل

    امدادی کاموں کے لیے ہیلی کاپٹر الرٹ،مندروں میں دعائیں

  • یونان،کشتی ڈوبنے کا واقعہ،12 پاکستانیوں سمیت 79 اموات،کئی لاپتہ

    یونان،کشتی ڈوبنے کا واقعہ،12 پاکستانیوں سمیت 79 اموات،کئی لاپتہ

    یونان میں چند روز کشتی ڈوبنے کا واقعہ پیش آیا جس کے نتیجے میں ڈوبنے والے افراد میں سے 500 افراد تاحال لاپتہ ہیں، 79 افراد کی موت ہو چکی ہے، لاپتہ افراد میں سے 43 کا تعلق آزاد کشمیر کے کئی علاقوں سے ہے،مرنیوالوں میں بھی پاکستانی شامل ہیں،جن کی لاشوں کے لئے لواحقین نے حکام سے رابطہ کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ لاشیں وطن واپس لائی جائیں

    یونان میں کشتی ڈوبنے کے افسوسناک واقعہ نے پاکستانیوں کو بھی سوگوار کر دیا، کشتی میں پاکستانی بھی سوار تھے، آزاد کشمیر کے نوجوان جو کشتی میں سوار تھے وہ غیر قانونی طور پر اٹلی اور یونان جا رہے تھے ، حادثے میں کھوئی رٹہ کے نواحی گاؤں کے ایک ہی خاندان کے 12 افراد بھی شامل ہیں،جو ابھی تک لاپتہ ہیں، کھوئی رٹہ کی ضلعی انتظامیہ کے مطابق 4 نوجوان کھوئی رٹہ کے نواحی گاؤں گوڑا بلیال اور دیگر ڈنہ کے رہائشی ہیں، 43 نوجوانوں میں سے 2 افراد بچ گئے ہیں اور باقی تاحال لاپتہ ہیں ،

    لاشوں کی واپسی کے لئے اقدامات کئے جائیں،
    حادثے میں پاکستانیوں کی بھی اموات ہوئی ہیں، مرنے والوں کی تعداد 79 ہوئی جس میں 12 پاکستانی بھی شامل ہیں، مرنیوالوں میں سے چار کا تعلق شیخوپورہ اور دو افراد کا تعلق پنجاب کے شہر وزیر آباد سے ہے، باقی چھ نوجوانوں کا تعلق جنکی موت ہوئی سیالکوٹ، گجرات، آزاد کشمیر سے ہے، لواحقین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ لاشوں کی واپسی کے لئے اقدامات کئے جائیں،

    انسانی اسمگلرز کے خلاف کارروائیاں انتہائی اہمیت اختیار کر گئی
    میڈیا رپورٹس کے مطابق کشتی میں پاکستان، افغانستا، مصر، شام اور فلسطین کے شہری سوار تھے،اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کا کہنا ہے کہ یونان میں تارکین وطن کی کشتی الٹنے کے بعد 500 سے زائد افراد تاحال لاپتہ ہیں اس واقعے کے بعد انسانی اسمگلرز کے خلاف کارروائیاں انتہائی اہمیت اختیار کر گئی ہیں ،یونان کے نگران وزیر اعظم لونیس سارماس نے کشتی ڈوبنے کے حوالے سے حقائق اور تکنیکی پہلوؤں کو جاننے کیلئے تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ جلد ہی واقعے کے ذمہ داروں کا تعین کر لیا جائے گا

    واضح رہے کہ یونان کے قریب سمندر میں تارکین وطن کی کشتی ڈوب گئی جس کے نتیجے میں 79 افراد ہلاک اور سینکڑوں لاپتہ ہوگئے 104 مسافروں کو بچا لیا گیا 65 سے 100 فٹ لمبی کشتی میں ممکنہ طورپر750 افراد سوار تھے

    اپنی حفاظت کرنا سب کا فرض ہے حکومت بھی مدد کررہی ہے . وزیراعلیٰ سندھ

    سمندری طوفان کے پیش نظر کراچی ڈویژن کی 40 عمارتوں کو مکمل مخدوش قرار 

    سمندری طوفان ”بائے پرجوائے“ کے پیش نظربھارت کی سات ریاستوں میں الرٹ جاری
    سمندری طوفان ’’بائے پرجوائے‘‘ کا کراچی سے فاصلہ 850 کلومیٹر رہ گیا

     جوائے کے پیشِ نظر کراچی پورٹ پر الرٹ جاری

     پی آئی اے کی جانب سے حفاظتی انتظامات مکمل 

     کیٹی بندرسے شہریوں کا انخلا مکمل

  • سمندری طوفان،کراچی میں اربن فلڈنگ کا خدشہ،ساحلی علاقوں میں تیز آندھی

    سمندری طوفان،کراچی میں اربن فلڈنگ کا خدشہ،ساحلی علاقوں میں تیز آندھی

    سمندری طوفان بپر جوائے کے پیش نظر کیٹی بندرسے شہریوں کا انخلا مکمل کرلیا گیا ہے

    کیٹی بندر سے بپر جوئے کا فیصلہ 150 کلومیٹر رہ گیا ہے، سمندری طوفان کراچی سے 230 کلو میٹر دور ہے، بپرجوائے ٹھٹھہ سے 235 کلو میٹر جنوب میں ہے ،ساحلی علاقوں میں تیز آندھی کبھی ہلکی کبھی موسلادھار بارش کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے ،محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ طوفان کے دوران کیٹی بندراوراس کےاطراف لہریں 8 سے 12 فٹ بلند ہوسکتی ہیں ، بارش کا سلسلہ صبح سے جاری ہے، اپنی مدد آپ کے تحت بھی لوگ نکل رہے ہیں، انتظامیہ نے بھی شہریوں کو کیمپوں میں منتقل کیا ہے، شہریوں میں خوف کی فضا ہے، کہا گیا ہے کہ آج کسی بھی وقت طوفان ٹکرائے گا، لوگوں کو خوف ہے کہ اگر یہ ٹکراتا ہے تو اسکے اثرات کہاں تک جائیں گے،بہت بڑی تعداد میں لوگ جا چکے ہیں، پولیس اور ادارے موقع پر موجود ہیں،

    این ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق طوفان کے اثرات کراچی پر نمودار ہونا شروع ہو گئے ہیں ، شہری احتیاطی تدابیر اختیار کریں، گاڑیوں میں فیول کی ٹنکی فُل کروالیںہ کچھ پیٹرول گھر پر بھی لاکر رکھ لیں ضروری اشیاء جیسے کھانے پینے کی چیزیں پانی، فرسٹ ایڈ کٹس اور ٹارچز وغیرہ پہلے ہی گھروں میں رکھیں اگر آپ کے گھروں میں پالتو جانور ہیں، تو انہیں گھر کے اندر کمروں میں رکھیں، باہر بالکونی یا چھت پر ہرگز نہ جانے دیں بہت سے افراد قربانی کے جانور لے آئے ہیں یا اجتماعی قربانی والے افراد جانوروں کو ایک مضبوط پناہ گاہ یا چار دیواری میں رکھیں۔

    دوسری جانب ڈی ایچ اے انتظامیہ نے ساحل کے قریب رہنے والے افراد کو گھر خالی کرنے کی ہدایت کی ہے،کراچی سی ویو کی سڑک بند کر دی گئی ہے، شہریوں کو اس طرف جانے سے منع کیا جا رہا ہے، کراچی سے منوڑہ کا زمینی راستہ جزوی منقطع ہوگیا ہے ، شہر قائد کراچی میں سمندری طوفان بپر جائے کے پیش نظر شہریوں نے راشن اکھٹا کرنا شروع کر دیا ہے شہریوں کے مطابق حالات کچھ بھی ہو سکتے ہیں اسی لیے وہ کھانے پینے کی اشیا خرید کر رکھ رہے ہیں۔ بپر جائے آج پاکستانی ساحلی علاقے کیٹی بندر سے ٹکرائے گا۔ کراچی میں بھی اس سے اربن فلڈنگ کا خدشہ ہے

    چیف میٹرولوجسٹ سردار سرفراز کا کہنا ہے کہ کراچی میں سمندر کے قریبی گوٹھ اور کریک میں بلند لہروں کے باعث پانی آ سکتا ہے تاہم اس پانی سے ڈی ایچ اے اور دیگر ساحلی علاقوں کو بلند لہروں سے خطرہ نہیں ہے،خطرہ کم ہوجانے کے باوجود حکام نے شہریوں سے احتیاط برتنے کی اپیل کی ہے کیونکہ طوفان کے پیشِ نظر کراچی سمیت سندھ کے کئی علاقے شدید بارش سے متاثرہوسکتے ہیں

    دوسری جانب سندھ کے صوبائی وزیراطلاعات شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ سمندری طوفان کے باعث اب تک 76 ہزار افراد کی نقل مکانی ہو چکی ہے ٹھٹھہ، سجاول اوردیگر شہروں میں حکومتی مشینری موجود ہے لوگوں کوریلیف کیمپوں میں منتقل کیا گیا ہے

    اپنی حفاظت کرنا سب کا فرض ہے حکومت بھی مدد کررہی ہے . وزیراعلیٰ سندھ

    سمندری طوفان کے پیش نظر کراچی ڈویژن کی 40 عمارتوں کو مکمل مخدوش قرار 

    سمندری طوفان ”بائے پرجوائے“ کے پیش نظربھارت کی سات ریاستوں میں الرٹ جاری
    سمندری طوفان ’’بائے پرجوائے‘‘ کا کراچی سے فاصلہ 850 کلومیٹر رہ گیا

     جوائے کے پیشِ نظر کراچی پورٹ پر الرٹ جاری

     پی آئی اے کی جانب سے حفاظتی انتظامات مکمل 

  • طوفان بائیپر جوائے کے پیش نظر پاک فوج اور رینجرز ساحلی علاقوں میں موجود

    طوفان بائیپر جوائے کے پیش نظر پاک فوج اور رینجرز ساحلی علاقوں میں موجود

    سائیکلون بائپرجوائے تازہ ترین صورتحال،بحیرہ عرب میں سمندری طوفان، پاکستان سے فاصلہ مزید کم رہ گیا،بائپرجوائے سمندری طوفان کراچی کے جنوب سے 410 کلومیٹر دور رہ گیا، محکمہ موسمیات کے مطابق ٹھٹھہ سے سمندری طوفان کا فاصلہ 400 کلومیٹر دور ہوگیا ہے،بحیرہ عرب میں سمندری طوفان کےباعث 150 سے160 کلومیٹر فی گھنٹہ رفتار سے ہوائیں چل رہی ہیں کراچی سمیت سندھ بھر میں 13 سے 17 جون تک تیز بارشیں ہوں گی

    طوفان بائیپر جوائے کے پیش نظر پاک فوج اور رینجرز ساحلی علاقوں میں موجود ہے مقیمین کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے میں مسلسل مصروف ہیں طوفان بائیپر جوائے کے خطرے کے پیش نظر ڈسٹرکٹ اور سول ایڈمنسٹریشن کا عملہ بھی پاک فوج کے شانہ بشانہ امدادی کارروائیوں میں مصروف ہے پاک آرمی کی ریسکیو ٹیمیں دن رات عوام کے درمیان موجود ہیں، عوام کا کہنا ہے کہ ہمیں پاک فوج کو اپنے درمیان پا کر تسلی اور اطمینان پہنچا،بہت قلیل وقت میں پاک فوج کے دستے ریسکیو کیلئے پہنچے،

    پاکستان رینجرز (سندھ) کی جانب سے ساحلی پٹی میں متوقع طور پر سمندری طوفان کی زد میں آنے والے دیہات کے رہائشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقلی کا عمل جاری ہے، ۔سندھ رینجرزکی جانب سے ریسکیو کاموں میں سول انتظامیہ کے ساتھ ملکر لوگوں کا انخلاء میں بھرپور معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔ ۔بدین کے ملحقہ علاقوں میں مختلف ریلیف کیمپس قائم کر دیئے گئے ہیں۔بارشوں اورسیلاب کے پیش نظر وبائی امراض سے بچاؤ اور دیگر طبی امداد کے لیے رینجرز کی جانب سے فری میڈیکل کیمپس قائم کر دیئے گئے۔عوام سے درخواست کی جاتی ہے کہ محفوظ علاقوں میں نقل مکانی کے سلسلے میں رینجرز اورسول انتظامیہ کے ساتھ بھرپور تعاون کرے تاکہ قیمتی جانوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔

    وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ سمندری سائیکلون بپرجوائے حقیقت ہے،لوگوں کیلئے ضروری ہے کہ گھبرائے بغیر ساحلی علاقوں کے لیے پی ڈی ایم اے سندھ اور پی ڈی ایم اے بلوچستان کی ایڈوائزری پر سنجیدگی سے عمل کریں اب تک اس کی بلوچستان کی جانب شدت میں معمولی کمی آئی ہے لیکن سمندری طوفان بہت غیر متوقع ہوتے ہیں، برائے مہربانی حکومت کے مشوروں پر عمل اور متعلقہ مقامی اداروں سے تعاون کریں، اس کی شدت میں فرق ضرور آیا ہے لیکن احتیاط بہت ضروری ہے، خاص طور پر سندھ کے ساحل کے قریب علاقوں میں، کراچی میں ہواؤں کے پیمانے اور شدت کے پیش نظر شہری سیلاب کا امکان ہے، چودہ سے سولہ جون تک ٹھٹہ بدین اور دیگر علاقوں میں زیادہ بارش ہونے کا امکان ہے، اب تک کے موسمیاتی ماڈلز کے مطابق پاکستان میں طوفان سے کیٹی بندر، ٹھٹھہ اور عمر کوٹ متاثر ہونے کا خدشہ ہے،ہم کیٹی بندر، ٹھٹھہ، بدین، کراچی ساحل سمندر، عمر کوٹ اور دیگر علاقوں سے لوگوں کا انخلاء کر رہے ہیں،اب تک 43 ریلیف کیمپز قائم کی گئی ہیں،اب تک 40 ہزار سے زائد لوگوں کا انخلاء کیا گیا ہے،طوفان کے رجحان اور شدت کے بارے میں آپ کو مزید آگاہ کرتے رہیں گے،ہم ان علاقوں کو خالی کرانے کوشش کر رہے ہیں، کچھ علاقوں میں ہمیں زبردستی کرنی پڑی کیوں کہ شہریوں کی جان ومال کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے،1999 میں بھی ایک شدید طوفان آیا تھا، اس وقت سندھ کے تمام ادارے الرٹ ہیں ریسکیو اداروں کے اہلکاروں کی چھٹیاں بھی منسوخ کر دی ہیں،لوگوں کی جان و مال عزیز ہے احتیاط کرنی ہوگی،ابھی تک ایویشن ایڈوائز نہیں آئی ہے، طوفان کی 8 سے 12 فٹ لہریں ہوسکتی ہیں،شہری پینک نہ ہوں احتیاطی تدابیر، احتیاط اپنائیں،حکومت سندھ مستقل اقدامات کررہی ہے،ہسپتالوں میں ہائی الرٹ ہے، سٹاف کی چھٹیاں ختم کردی گئیں، طوفان کا رخ اب نارتھ ایسٹ کی طرف ہے،جہاں جہاں پچھلے سال کی تباہ کاریاں ہوئیں وہی علاقے پھر سے متاثر ہورہے ہیں،ابھی تک سیلاب کے فنڈز لوگوں کو نہیں مل سکے تھے،وزیر اعظم سے گزارش ہے کہ فنڈز منتقل کریں،

    سندھ اسمبلی اجلاس میں سپیکر آغا سراج درانی نے کہا کہ سندھ صوفیوں کی دھرتی ہے، عبداللہ شاہ غازی سمیت کٸی بزرگوں کا تعلق سندھ سے ہے، جلد خوشخبری سنیں گے، طوفان ٹل جاٸے گا۔

    سندھ کے وزیر اطلاعات شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ 47ہزار لوگوں کو محفوظ مقامات پر پہنچانا ہے، 22 ہزار سے زاٸد لوگوں کو منتقل کرچکے ہیں تمام لوگوں کو سہولیات مہیا کی جاٸے گی، 14ہزار لوگوں کو حکومت نے منتقل کیا، لوگوں کو احتیاط برتنے کی اپیل کرتے ہیں،کراچی کے شہری بھی احتیاط کریں ہم لوگوں میں ہراس نہیں پھیلا رہے، لوگ تفریح سے پرہیز کریں، ماہیگیروں کو بھی اپیل کی ہے،

    حفاظتی تدابیر پرعمل کرنا ہی قدرتی آفت کے ممکنہ نقصان سے بچنے کا راستہ ہے، وزیر خارجہ بلاول
    پی پی پی چیئرمین و وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے سمندری طوفان کی پیش نظر عوام کو اپیل کی ہے کہ سمندری طوفان ‘بائپر جوائے’ سے کراچی، ٹھٹہ، سجاول اور بدین کے ساحلی علاقوں کو خطرہ ہے حکومتِ سندھ سمندری طوفان کی پیشِ نظر چوکس ہے اور ہر ممکن حفاظتی اقدام اٹھا رہی ہے عوام کی جان و مال کی حفاظت کے لیے ہر ممکن وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں عوام خصوصاً ساحلی علاقوں کے لوگ انتظامیہ سے تعاون کریں اور بلاتاخیر حفاظتی مقامات پر منتقل ہوں پرانی اور خستہ حال عمارتوں میں مقیم شہری بھی ہنگامی بنیادوں پر محفوظ مقامات پر منتقل ہوں ماحول معمول پر آنے تک ماہیگیر آئندہ چند دنوں کے لیے کھلے سمندر میں بلکل بھی نہ جائیں طوفانی بارش کے دوران سفر سے گریز کیا جائے، تمام حفاظتی تدابیر پرعمل کرنا ہی قدرتی آفت کے ممکنہ نقصان سے بچنے کا راستہ ہے پاکستان پیپلز پارٹی کے تمام کارکنان امدادی سرگرمیوں میں انتظامیہ کا ہاتھ بٹائیں ساحلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے پاکستان پیپلز پارٹی کے ارکان اسمبلی اپنے اپنے حلقوں میں موجود اور عوام سے رابطے میں رہیں پاکستان پیپلز پارٹی سکھ ہوں یا دکھ، عوام کے ساتھ ہے دعاگو ہوں، اللہ تعالیٰ پاکستان کے ہر کونے اور ہر پاکستانی کو اپنی حفظ و امان میں رکھے:

    اپنی حفاظت کرنا سب کا فرض ہے حکومت بھی مدد کررہی ہے . وزیراعلیٰ سندھ
    سمندری طوفان کے پیش نظر ساحلی پٹی کے شہروں سے لوگوں کا انخلا رات بھر جاری رہا . وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ کیٹی بندر کی 13000 آبادی خطرے میں ہے جس میں 3000 کو رات بھر منتقل کیا گیا ہے ،گھوڑا باڑی کی 5000 آبادی کو خطرہ ہے جس میں 100 لوگوں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا ہے شھید فاضل راہو کی 4000 آبادی کو طوفان کا خطرہ ہے جس میں سے 3000 کو منتقل کیا گیا ہے بدین کی 2500 آبادی کو خطرہ ہے جس میں سے 540 ابھی تک محفوظ مقام پر منتقل ہو چکے ہیں شاہ بندر کی 5000 آبادی سمندری طوفان کی زد میں آنے کا خطرہ ہے اس لیئے 90 لوگوں کو رات منتقل کیا گیا ہے جاتی کی 10,000 آبادی کو طوفان کا خطرہ ہے – اس لیئے رات بھر 100 لوگوں کو منتقل کیا گیا ،کھاروچھان کی 1300 کی آبادی کو خطرہ ہے جس میں سے 6 لوگ رات بھر منتقل کیے گئے ابھی تک 40800 میں سے 6836 لوگ منتقل ہو چکے ہیں باقی لوگوں کی منتقلی کا سلسلہ دن بھر جاری رہیگا ٹھٹھہ ، بدین، اور سجاول اضلاع کے لوگوں کو بھی انتظامیہ منتقل کرتی رہے گی، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا لوگ اپنے گھر چھوڑنا نہیں چاہتے لیکن ان کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں وزیراعلیٰ نے لوگوں کو اپیل کی کہ انتظامیہ سے تعاون کریں اور محفوظ مقام پر منتقل ہو جائیں اگر کسی کے گھر ٹوٹیں گے تو اسے مدد فراہم کرینگے ،کہا جارہابہے کہ کراچی میں کلائوڈ برسٹ ہوسکتا ہے ابھی میں شہر کے دورے سے آیا ہوں ہماری تیاریاں مکمل ہیں ،اپنی حفاظت کرنا سب کا فرض ہے حکومت بھی مدد کررہی ہے ،مبل بورڈ جہاں باقی ہیں انہیں جلدی ہٹانے کی ہدایت کی ہے ،کے الیکٹرک سے بھی اپنا سسٹم بہتر رکھنے کا کہا ہے،

    پاکستانی دعا کریں، اللہ تعالیٰ سمندری طوفان سے پاکستان کی حفاظت فرمائے ، فریال تالپور
    پی پی پی شعبہ خواتین کی مرکزی صدر و رکن سندھ اسمبلی فریال تالپور نے سمندری طوفان کے پیش نظر عوام کے نام پیغام میں کہا ہے کہ حکومت اور عوام کی مربوط کاوشیں قدرتی آفات سے بچنے کی آزمودہ حکمت عملی ہے قدرتی آفت کے نقصان سے بچنے کے لیے عوام پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ احتیاطی تدابیر پر عمل کریں حکومتِ سندھ کراچی، ٹھٹہ، سجاول اور بدین کے ساحلی علاقوں سے عوام کو محفوظ مقامات پر منتقل کر رہی ہے بائپر جوائے طوفان کے خطرے کے باعث تھرپارکر اور عمرکوٹ سمیت دیگر اضلاع میں بھی حفاظتی اقدام اٹھائے گئے ہیں مذکورہ اضلاع کی انتظامیہ کی کاوشیں قابلِ تحسین ہیں، عوام کی جانب سے تعاون بھی مثالی ہے پاکستان پیپلز پارٹی کے تنظیمی عہدیداران و کارکنان اپنے پارٹی چیئرمین کی ہدایات کی روشنی میں انتظامیہ کی جانب سے جاری سرگرمیوں میں ماضی کی طرح اپنا بھرپور کردار ادا کریں مذکورہ اضلاع سے تعلق رکھںے والے پاکستان پیپلز پارٹی کے ارکانِ اسمبلی بھی اپنے اپنے حلقوں میں عوام اور انتظامیہ سے ہمہ وقت رابطے میں ہیں تمام پاکستانی دعا کریں، اللہ تعالیٰ اس سمندری طوفان سے پاکستان کی حفاظت فرمائے ،آمین

    عثمان بزدار کے گرد گھیرا تنگ،مبشر لقمان نے بطور وزیر بیورو کریسی کیلئے کیسے سٹینڈ لیا تھا؟ بتا دیا

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    عثمان بزدار اور انکے بھائیوں سمیت انکے مبینہ فرنٹ مین طور بزدار کے خلاف انٹی کرپشن میں انکوائری شروع

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

    عام شہریوں کا ملٹری کورٹ میں ٹرائل

  • دنیا بھر میں سمندروں کی سطح کا درجہ حرارت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

    دنیا بھر میں سمندروں کی سطح کا درجہ حرارت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

    امریکی ادارے National Oceanic and Atmospheric Administration (این او اے اے) کی جانب سے ابتدائی ڈیٹا میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دنیا بھر میں سمندروں کی سطح کا درجہ حرارت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے جس کے باعث بحری ہیٹ ویوز عام ہوگئی ہیں۔

    باغی ٹی وی: این او اے کی جانب سے جاری ڈیٹا کے مطابق رواں ماہ اپریل 2023 کے آغاز میں سمندری سطح کا اوسط درجہ حرارت 21.1 سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا جس نے 2016 میں قائم ہونے والے 21 سینٹی گریڈ درجہ حرارت کا ریکارڈ توڑ دیا، یہ نیا ریکارڈ موسمیاتی تبدیلیوں کا نتیجہ ہے۔

    دنیا میں موسمیاتی تبدیلیوں کے مزید خطرناک انکشاف

    سائنسدانوں نے بتایا کہ 3 سال تک لانینا نے بحر الکاہل کے درجہ حرارت کو دبانے میں مدد فراہم کی اور زہریلی گیسوں کے اخراج کے اثرات سے بچایا، تاہم اب سمندری سطح کے درجہ حرارت میں اضافہ ہو رہا ہے جو اس سال ممکنہ ایل نینو لہر کی جانب اشارہ ہے۔

    این او اے اے کے محقق ڈاکٹر مائیک میکفیڈن نے بتایا کہ لانینا لہر اختتام کے قریب ہے جس نے دنیا بھر میں سمندری سطح کے درجہ حرارت کو بڑھنے نہیں دیا تھا،لانینا کے دوران وسطی اور مشرقی بحر الکاہل کا درجہ حرارت کم رہتا ہے جبکہ تیز ہوائیں چلتی ہیں جس سے عالمی درجہ حرارت میں کمی آتی ہے،اس کے برعکس ایل نینو کے دوران سمندری سطح معمول سے زیادہ گرم ہو جاتی ہے جس سے دنیا بھر میں درجہ حرارت میں اضافہ ہوتا ہے۔

    این او اے اے کے ڈیٹا کے مطابق اس سے قبل سمندری سطح میں سب سے زیادہ درجہ حرارت 2014 سے 2016 کی ایل نینو لہر میں دیکھنے میں آیا تھا۔

    گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج سےانٹارکٹیکا برف کا پگھلاؤ عالمی سمندری نظام درہم برہم کرسکتا …

    قبل ازیں مارچ 2023 میں سائنسدانوں نے پہلی بار سمندر کی گہرائی میں بھی ہیٹ ویوز کو دریافت کیا تھا اور اسے موسمیاتی تبدیلیوں کا خطرناک اثرقرار دیا تھا اس تحقیق میں سمندر کے درجہ حرارت میں اضافے کا جائزہ لیا گیا اور دریافت ہوا کہ زیرآب بحری ہیٹ ویو کی شدت بہت زیادہ ہوتی ہے جس سے پانی کا درجہ حرارت 0.5 سے 3 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھ جاتا ہے۔

    این او اے اے کی اس تحقیق میں شامل ماہرین نے بتایا کہ ہم 10 سال سے زائد عرصے سے سمندر کی سطح پر ہیٹ ویو کا مشاہدہ کر رہے تھے پہلی بار ہم نے یہ جائزہ لیا کہ سطح پر ہیٹ ویو سے سمندر کی گہرائی میں کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

    ان کا ماننا ہے کہ سمندروں کی گہرائی میں ہیٹ ویوز سے دنیا بھر کے بحری نظام پر ڈرامائی اثرات مرتب ہوئے ہیں جبکہ چھوٹی اور بڑی ہر طرح کی سمندری حیات کو نقصان پہنچا ہے سمندروں کی گہرائی میں پانی کے درجہ حرارت میں ایک صدی کے دوران ڈیڑھ ڈگری سینٹی گریڈ اضافہ ہوا ہے درجہ حرارت بڑھنے سے سمندری ہیٹ ویوز کی شرح میں گزشتہ دہائی کے دوران 50 فیصد اضافہ ہوا سطح پر درجہ حرارت میں اضافہ نہ ہونے پر بھی سمندر کی گہرائی میں ہیٹ ویو کا سامنا ہو سکتا ہے۔

    دنیا بھر میں ماحولیاتی خطرے سے بچاؤ کی آخری وارننگ جاری

    واضح رہے کہ عالمی درجہ حرارت میں اضافے کے باعث بڑھنے والی حرارت کا 90 فیصد حصہ سمندر جذب کرتے ہیں۔

    گزشتہ برس دسمبر 2022 میں ماہرین نے خبردار کیا تھا کہ 2023 رواں سال کے مقابلے میں زیادہ گرم ثابت ہونے والا ہے،یہ انتباہ برطانوی سائنسدانوں کی جانب سے سامنے آیا تھا کہ درحقیقت 2023 کے دوران عالمی درجہ حرارت صنعتی عہد سے قبل کے مقابلے میں 1.2 سینٹی گریڈ زیادہ ہوسکتا ہے۔

    برطانوی محکمہ موسمیات کے پروفیسر ایڈم سکافی کا کہنا تھا کہ ہو سکتا ہے 2023 درجہ حرارت کے حوالے سے ریکارڈ توڑنے والا سال ثابت نہ ہو مگر عالمی سطح پر زہریلی گیسوں کے اخراج میں اضافے کے نتیجے میں وہ بہت گرم ضرور ثابت ہوسکتا ہے۔

    جنگلات کےساتھ مشروم کی افزائش موسمیاتی تبدیلی کے نقصانات کم کر سکتی ہے،تحقیق

    عالمی درجہ حرارت کی پیشگوئی کرنے والی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر Nick Dunstone نے کہا تھا کہ گزشتہ 3 برسوں کے دوران لانینا کے اثرات سے عالمی درجہ حرارت پر اثرات مرتب ہوئے تھے لانینا نے عارضی طور پر اوسط عالمی درجہ حرارت کو کم کیا، مگر 2023 کے لیے ہمارے موسمیاتی ماڈل سے لانینا کے اثر کے خاتمے کا عندیہ ملتا ہے، جس کے باعث اگلا سال 2022 کے مقابلے میں زیادہ گرم ثابت ہوسکتا ہے۔

    برطانوی محکمہ موسمیات کا کہنا تھا کہ 2023 کے دوران عالمی درجہ حرارت صنعتی عہد سے قبل کے مقابلے میں 1.08 سے 1.32 سینٹی گریڈ زیادہ ہوسکتا ہے۔

    اگر رواں سال 2023 کے بارے میں برطانوی سائنسدانوں کی پیشگوئی درست ثابت ہوتی ہے تو یہ مسلسل 10 واں سال ہوگا جب درجہ حرارت صنعتی عہد سے پہلے کے مقابلے میں کم از کم ایک سینٹی گریڈ زیادہ رہے گا۔

    مسلسل بڑھتا درجہ حرارت،برطانیہ اور آئرلینڈ کے 53 فیصد مقامی پودے تنزلی کا شکار

  • گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج سےانٹارکٹیکا برف کا پگھلاؤ عالمی سمندری نظام درہم برہم کرسکتا ہے، تحقیق

    گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج سےانٹارکٹیکا برف کا پگھلاؤ عالمی سمندری نظام درہم برہم کرسکتا ہے، تحقیق

    سِڈنی: ایک نئی تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ انٹارکٹیکا کے گرد موجود برف کا پگھلاؤ 2050 تک بڑے سمندروں کی کرنٹ کو سست رفتار کر دے گا۔ ایسا ہونے سے سمندری نظام اور سمندری غذا پر تباہ کن اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

    باغی ٹی وی: جرنل نیچر میں شائع نیو ساؤتھ ویلز یونیورسٹی کے سائنس دانوں کی سربراہی میں اور بدھ کے روز شائع ہونے والی اس تحقیق میں بتایا گیا کہ سمندری کرنٹ سمندر کے پانی کی مسلسل، متوقع، خم دارحرکات ہوتی ہیں جو کششِ ثقل، ہوا اور پانی کی کثافت کےسبب چلتی ہیں۔ سمندر کا پانی عمودی اور ممدودی دو سمتوں میں حرکت کرتا ہے ممدود حرکات کو کرنٹ جبکہ عمودی تبدیلیوں کو اپ ویلنگز یا ڈاؤن ویلنگز کہا جاتا ہے ایسا ہونے سے دنیا کا موسم صدیوں تک کے لیے تبدیل ہوسکتا ہے اور سطح سمندر میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہوسکتا ہے۔

    سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر گرین ہاؤس گیس کا اخراج موجودہ مقدار پر برقرار رہا تو سمندروں کے گہرے حصوں میں چلنے والی کرنٹ 30 سالوں کے اندر 40 فی صد تک سست ہوسکتی ہے یہ بالواسطہ اثر سمندری حیات، موسمیاتی طرز کو متاثر کرے گا اور سطح سمندر میں اضافے کا سبب بنے گا۔

    محققین کے مطابق ممکنہ سنگین نتائج سے بچنے کے لیے رواں دہائی میں گرین ہاؤس گیس کےاخراج کی بڑے مقدار میں کٹوتی ضروری ہے۔ اگر یہ کمی نہ کی گئی تو بڑے پیمانے پر سمندری حیات ختم ہوسکتی ہے اور سمندروں کو گرمی جذب کرنے اور اپنے اندر رکھنے میں مشکل کا سامنا ہوگا اور برف کے پگھلنے کا عمل مزید تیز ہوجائے گا۔

    یونیورسٹی آف نیو ساؤتھ ویلز میں قائم کلائمیٹ چینج ریسرچ سے تعلق رکھنے والے اور تحقیق کے شریک مصنف پروفیسر میٹ انگلینڈ کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال گہرے سمندر کی کرنٹ کے انہدام کی جانب لے جارہی ہے۔

    آسٹریلوی ریسرچ کونسل کے سینٹر فار ایکسی لینس ان انٹارکٹک سائنس کے ڈپٹی ڈائریکٹر میتھیو انگلینڈ نے کہا کہ "ماضی میں، یہ الٹنے والی گردشیں 1,000 سال یا اس سے زیادہ کے دوران تبدیل ہوئیں، اور ہم چند دہائیوں میں ہونے والی تبدیلیوں کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔ تو یہ بہت ڈرامائی ہے-

    زیادہ تر پچھلے مطالعات میں اٹلانٹک میریڈینل اوورٹرننگ سرکولیشن (AMOC) پر توجہ مرکوز کی گئی ہے، جو کرنٹ کا نظام ہے جو گرم پانی کو شمالی بحر اوقیانوس میں لے جاتا ہے جبکہ ٹھنڈا، نمکین پانی پھر ڈوب کر جنوب کی طرف بہتا ہے۔

    رپورٹ کے مصنفین نے ایک بریفنگ میں کہا کہ اس کے جنوبی بحر کے مساوی کا کم مطالعہ کیا گیا ہے لیکن یہ غذائیت سے بھرپور پانی کو شمال میں انٹارکٹیکا سے لے کر، نیوزی لینڈ سے گزرتے ہوئے اور شمالی بحر الکاہل، شمالی بحر اوقیانوس اور بحر ہند میں منتقل کرتا ہے گہرے سمندر کے پانی کی گردش کو سمندر کی صحت کے لیے اہم سمجھا جاتا ہےاوریہ فضا سے جذب ہونے والے کاربن کو الگ کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق، جب کہ AMOC کی سست روی کا مطلب ہے کہ گہرا بحر اوقیانوس سرد ہو جائے گاانٹارکٹک میں گھنے پانی کی سست گردش کا مطلب ہے کہ بحر جنوبی کے گہرے پانی گرم ہو جائیں گےاس سست روی کے بارےمیں ایک چیز یہ ہے کہ انٹارکٹیکا کے ارد گرد برف کے شیلف کی بنیاد پر سمندر میں مزید گرمی کے بارے میں رائے ہوسکتی ہے۔ اور یہ زیادہ برف پگھلنے کا باعث بنے گا، اصل تبدیلی کو تقویت دے گا-

  • سمندروں کی بلند ہوتی سطح 90 کروڑ افراد کے لیے انتہائی خطرے کا سبب ہے

    سمندروں کی بلند ہوتی سطح 90 کروڑ افراد کے لیے انتہائی خطرے کا سبب ہے

    اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ سمندروں کی بلند ہوتی سطح بڑے پیمانے پر انسانوں کو نقل مکانی پر مجبور کر سکتی ہے۔

    باغی ٹی وی: نیویارک میں اقوامِ متحدہ کے سیکیورٹی کونسل میں تقریر کرتے ہوئے انتونیو گوتریس کا کہنا تھا کہ بنگلادیش، چین، بھارت اور نیدرلینڈز جیسے ممالک زیر آب آنےکے خطرات سےدوچار ہیں لیکن مستقبل میں ہر برِ اعظم کے بڑے شہرانتہائی نوعیت کے اثرات کی زد میں آئیں گے۔ان شہروں میں قاہرہ، بینکاک، شینگھائی، کوپن ہیگن، لندن، لاس اینجلس، نیو یارک اور بیونس آئرس شامل ہیں۔

    سیکریٹری جنرل کا کہنا تھا کہ 20 ویں صدی کے بعد سے دنیا بھر کے سمندروں کی سطح تیزی سے بلند ہوئی ہے اور یہ مسئلہ ساحلی علاقوں پر رہنے والے تقریباً 90 کروڑ افراد کے لیے انتہائی خطرے کا سبب ہے۔

    انتونیو گوتریس کا کہنا تھا کہ اس کے ممکنہ نتائج ناقابلِ تصور ہیں۔ پست علاقوں میں رہنے والی آبادیاں اورممالک ہمیشہ کے لیے صفحہ ہستی سے مٹ سکتے ہیں۔ ہم بڑے پیمانے پر آبادیوں کو نقل مکانی کرتا دیکھیں گے۔

  • 2022 میں سمندروں نے لگاتار چوتھے سال درجہ حرارت کا ریکارڈ توڑدیا

    2022 میں سمندروں نے لگاتار چوتھے سال درجہ حرارت کا ریکارڈ توڑدیا

    ایک نئی تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ 2022 میں سمندر کے درجہ حرارت نے 2021 میں بنایا گیا ریکارڈ توڑ دیا ہے۔

    باغی ٹی وی: دو درجن سائنسدانوں کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق، سمندروں نے 2022 میں مسلسل چوتھے سال ریکارڈ پر اپنی گرم ترین سطح کو نشانہ بنایا۔ گرمی کے پچھلے ریکارڈ 2021، 2020 اور 2019 میں ٹوٹے تھے، اور پچھلے چھ سالوں میں سب سے اوپر چھ گرم ترین سطحیں واقع ہوئی ہیں دنیا جس رفتار سے گرم ہو رہی ہے اس کی یہ ایک بُری علامت ہے۔

    2100 کے شروع تک زمین پر موجود 80 فیصد گلیشیئر پگھل سکتے ہیں

    بین الاقوامی محققین پرمشتمل ایک ٹیم نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہےکہ گزشتہ برس زمین کےسمندروں میں 10 زیٹا جولز(1021 یا 10 کے آگے 21 صفر)کے برابر گرمائش کا اضافہ ہوا۔

    یہ مقدار کتنی بڑی ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ یہ مقدار 70 کروڑ 1.5 لیٹر حجم والی کیتلیوں کو ایک سال تک ہر سیکنڈ ابالنے کے لیے کافی ہے یا یہ توانائی ایک سال میں عالمی سطح پر بننے والے بجلی سے 100 گُنا زیادہ ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ تحقیق کے نتائج یہ بتاتے ہیں کہ انسانی سرگرمیوں کے سبب خارج ہونے والی گرین ہاؤس گیسز کی وجہ سے زمین کے سمندر کس بری طرح متاثر ہوئے ہیں اس تحقیق میں دنیا بھرکے 16 اداروں کے 24 سائنس دانوں کیجانب سے سمندروں کے متعلق مشاہدات پیش کیے گئے۔

    یونیورسٹی آف پینسلوینیا سے تعلق رکھنے والے تحقیق کے مصنف پروفیسر مائیکل مین کا کہنا تھا کہ انسانوں کی خارج کردہ کاربن سے پیدا ہونے والی تپش کا بڑا حصہ سمندر جذب کر رہے ہیں۔ جب تک ہم نیٹ زیرو اخراج تک نہیں پہنچ جاتے یہ تپش جاری رہے گی اور ہم سمندر کے درجہ حرارت کے ریکارڈ توڑتے جائیں گے جیسے 2022 میں کیا گیا۔

    ایمیزون جنگلات کی تباہی سے ہمالیہ اورانٹارکٹک کی برف میں بھی کمی ہوسکتی ہے

    ان کا کہنا تھا کہ سمندروں کے متعلق آگہی اور بہتر سمجھ موسمیاتی تغیر سے لڑنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کے حوالے سے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔

    یہ نیا ریکارڈ بدھ کے روز شائع ہوا، کچھ ہی دن بعد جب یورپ کی کوپرنیکس کلائمیٹ چینج سروس کے سائنسدانوں نے اعلان کیا کہ 2022 سیارے کا پانچواں گرم ترین سال تھا۔ ایجنسی کے مطابق، سال 2016، 2020، 2019 اور 2017 سبھی ٹاپ فائیو میں بھی شامل ہیں یہ تمام سیاروں کی گرمی، سمندروں اور ماحول کے ایک طویل مدتی نمونے کا حصہ ہے۔

    چائنیز اکیڈمی آف سائنسز کے سائنسدان لیجنگ چینگ کی سربراہی میں سمندروں کی رپورٹ نوٹ کرتی ہے کہ 1958 کے بعد سے ہر دہائی جب سائنسدانوں نے پہلی بار سمندری حرارت کی قابل اعتماد پیمائش کو رکھنا شروع کیا آخری سے زیادہ گرم رہا ہے۔ اور وقت کے ساتھ گرمی میں تیزی آئی ہے۔ 1980 کی دہائی کے آخر سے، سمندر جس شرح سے گرمی کو ذخیرہ کرتا ہے اس میں تین سے چار گنا اضافہ ہوا ہے۔

    چاند سے زمین کے طلوع ہونے کا منظر کیسا ہوتا ہے؟ناسا نے ویڈیو جاری کر دی

  • انقلابی واٹر وے — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    انقلابی واٹر وے — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    گوادر چائنہ کے “ون روڈ ۔ ون بیلٹ” جیسے جدید عالمی تجارتی راستے کا وہ صدر دروازہ ہے جس کے تالے کی کنجی گوادر سے چارسو کلومیٹر مشرق میں ہنگول نیشنل پارک کے قریب ہنگلاچ ماتا کے مندر میں پڑی ہوئی ہے۔ اس چابی سے وہ انقلابی واٹر وے کھلے گا جو ساحل مکران کی تمام بندرگاہوں اورماڑہ، پسنی ، گوادر اور جیونی کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے پینے کے صاف پانی کی قلت سے آزاد کرسکتا ہے۔

    سی پیک کے منصوبہ سازوں کو پنجاب اور سندھ میں کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹ بنانا تو یاد رہے لیکن سی پیک کی روح گوادر شہر کے باسیوں کے لئے پینے کے صاف پانی جیسی بنیادی انسانی ضرورت کی فراہمی بھول گئی کہ جس کے بغیر کوئی شہر زیادہ دیر تک زندہ نہیں رہ سکتا۔ سی پیک منصوبہ ساز اتنی اہم جگہ کو نظرانداز کر گئے جس کا کھوج واپڈا کے انجنئیرز نے پچاس سال قبل لگا لیا تھا۔

    گوادر میں اب مولانا ہدایت الرحمن کی “حقوق دو” تحریک اقتدار میں آچکی ہے جس کا ایک بنیادی مطالبہ پینے کے صاف پانی کی فراہمی بھی تھا لیکن حالات جوں کے توں ہیں۔گوادر کی صاف پانی کی ضرورت کا تخمینہ 7MGD لگایا گیا ہے جو کہ اگلے چند برسوں میں دوگنا ہونے جا رہا ہے ۔مغرب کی مدد سے لگایا جانے والا سمندر کے کھارے پانی کو میٹھا بنانے والا ڈی سیلی نیشن پلانٹ بھی ناکارہ پڑا ہے۔

    گوادر شہر کو مستقل بنیادوں پر لمبے عرصے کے لئے اگر کہیں سے پینے کا صاف پانی فراہم کیا جاسکتا ہے تو وہ صرف مجوزہ ہنگول ڈیم ہی ہے جو کہ گوادر کے مشرق میں تقریباً 400 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ یہ جگہ کراچی سے 250 کلومیٹر شمال مغرب میں واقع ہے اور کوسٹل ہائی وے پر اگھور نامی جگہ سے دریا کے پل سے تقریباً 16 کلومیٹر شمال میں ہنگول نیشنل پارک سے بھی آگے واقع ہے۔

    ہنگول ڈیم پہلے پہل ضلع آواران کی تحصیل جھل جاؤ میں چند ہزار ایکڑ رقبے کو سیراب کرنے کے لئے سوچا گیا منصوبہ جس میں بعد ازاں بجلی بنانے کی صلاحیت بھی نظر آئی۔ اس دوران ایک وقت ایسا بھی آیا جب یہاں سے سب سے بڑے شہر کراچی اور حتی کہ خلیجی ریاستوں کو پانی کی فراہمی کا بھی سوچا گیا لیکن یہ منصوبہ بوجوہ آگے نہ بڑھ سکا۔

    ہنگول ڈیم کے موجودہ مجوزہ ڈیزائن میں اس سے 65 ہزار ایکڑ سیراب کرنے کا پلان ہے۔ تاہم دس لاکھ ایکڑ فٹ سے زیادہ پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والے ڈیم کے پانی کا سب سے قیمتی استعمال زراعت کی بجائے مکران کے تمام ساحلی علاقے میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی ہونا چاہئے۔

    مجوزہ ہنگول ڈیم سے ساحل مکران کے اورماڑہ، پسنی، گوادر اور جیونی بندرگاہ کو ایک عام چھوٹی سی نہر سے قدرتی طور پر بنا بغیر کسی پمپنگ سے پانی پہنچانا ممکن ہے۔ یہ کام زمین کے اوپر یا زیر سمندر پائپ لائن بچھا کر بھی کیا جاسکتا ہے جس کی فزیبیلٹی چیک کرنا ہوگی۔

    یہ ایک ایسا منصوبہ ہے کہ جس کو اگر مناسب طریقے سے پیش کیا جائے تو بیرون ملک پاکستانیوں کا کنسورشئئم یا کوئی بھی ملٹی نیشنل کمپنی PPP موڈ پر ایک دوسرے سے آگے بڑھ چڑھ کر کرنے کے لئے تیار ہوگی۔ حکومت وقت کا خرچہ بہت کم ہوگا اور فوائد سدا بہار ہوںگے۔

    ذیل کے نقشے میں ہنگول ڈیم سے ساحل مکران خصوصا گوادر تک صاف پانی پہنچانے کے آسان ترین روٹ لگا دئے گئے ہیں۔

    روٹ- 1 : عام سی چھوٹی نہر

    یہ روٹ پیلی لائن سے ظاہر کیا گیا ہے مجوزہ گریویٹی نہر کو دکھا رہا ہے۔ یہ نہرسادہ ترین طریقے سے ملکی وسائل، مقامی میٹیرئیل اور لیبر سے بنائی جا سکتی ہے۔ یہ زیادہ تر راستے میں کوسٹل ہائی وے کے ساتھ ساتھ چلے گی سوائے کنڈ ملیر سے آگے تھوڑے پہاڑی علاقے میں ایک چھوٹی ٹنل بنانی پڑے گی یا پھر اس پہاڑی کا بائی پاس کرنے کے لئے سمندرکے نیچے پائپ لائن کا سٹنٹ ڈالنا پڑے گا جو کہ سبز رنگ میں ظاہر کیا گیا ہے۔اس روٹ پر نہر کی بجائے زیر زمین پائپ بھی بچھایا جا سکتا ہے۔

    روٹ۔ 2: سمندر کی تہہ میں پائپ لائن

    یہ پائپ لائن کنڈ ملیر تک 20 کلومیٹر نہر والے روٹ پر چلے گی اور اس سے آگے سمندر کی تہہ میں پائپ لائن بچھائی جائے (جسے سبز اور سرخ کلر کی لائن سے دکھایا گیا ہے)۔ کراچی کو پانی کی فراہمی کے لئے ایک کمزور سی نیلی لائن بھی لگا دی ہے۔

    ان راستوں کی خوبی یہ ہے کہ یہ اپنے روٹ کے تمام چھوٹے بڑے شہروں کو پانی دیتے آگے بڑھیں گے۔ اورماڑہ کے پاس حال ہی میں مکمل ہونے والے بسول ڈیم کی جھیل کو بھی اس خوابی واٹر وے سے منسلک کیا جا سکتا ہے ۔ اس کے علاوہ ساحلی پہاڑیوں سے سمندر میں بہنے والے پہاڑی نالوں کے پانی کو بھی رام کرکے اس واٹر وے سے منسلک کرنے کی کوئی ترتیب بنائی جاسکتی ہے۔

    اس واٹر وے کی صلاحیت صرف 45 کیوسک (30MGD) تک ہوگئی جسے فیز 2 میں بڑھایا جا سکتا ہے۔ ہنگول ڈیم اس سے دس گنا زیادہ پانی بلا روک ٹوک فراہم کرسکے گا جب کہ گوادر کی موجودہ پانی کی ڈیمانڈ 10MGD بھی نہیں۔

    بعض لوگ اس واٹر وے کی 400 کلومیٹر لمبائی پر اعتراض کریں گے تو عرض ہے کہ کچھی کینال تونسہ بیراج سے 500 کلومیٹر دور ڈیرہ بگٹی اور کچھی کے میدانوں تک 6000 کیوسک پانی لانے کے لئے تعمیر ہوچکی ہے اور یہ سارا کام ہمارے مقامی انجنئیرز نے کیا ہے۔ اور اس کا روٹ کوسٹل واٹر وے سے کہیں زیادہ مشکل تھا جس میں تمام راستے میں دائیں طرف کوہ سلیمان سے آنے والے سیلابی نالوں کو کراس کرنا تھا۔

    تربت میں تعمیر شدہ میرانی ڈیم گوادر سے صرف 150 کلومیٹر شمال مشرق میں ہے۔ تاہم اس ڈیم سے گوادر کو پانی کی فراہمی کا روٹ بہت مشکل ہے جس میں بہت زیادہ لمبی ٹنل یا سرنگیں تعمیر کرنا پڑتی ہیں۔ دوسرے میرانی ڈیم کی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت ہنگول ڈیم سے کہیں کم ہے جس کہ وجہ سے یہ ہنگول ڈیم سے زیادہ توجہ حاصل نہیں کر پاتا اور مہنگا منصوبہ لگتا ہے۔

    ہنگول ڈیم کی تعمیر پر ہنگول نیشنل پارک اور ہنگلاچ ماتا کے مندر کے حوالے سے تحفظ ماحول تنظمیوں اور مقامی آبادی کو کچھ اعتراض تھے جنہیں دور کرنے کے لئے ہنگول ڈیم کو اپنی اصل جگہ سے 16 کلومیٹر شمال میں لے جایا گیا ہے تاکہ تمام لوگ مطمئن ہوں۔ تاہم اس عمل میں ہنگول ڈیم کی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت آدھی (دس لاکھ ایکڑ فٹ) رہ گئی ہے جو کہ پھر بھی ایک بہترین کیپیسٹی ہے۔

    امید ہے فیصلہ ساز بلوچستان کے ساحل مکران کی پینے کے صاف پانی کی ترجیحات کو سمجھتے ہوئے ان خطوط پر ضرور سوچیں گے اورگوادر کے شہریوں کو پینے کا صاف پانی ضرور ملے گا۔

  • دوران پرواز پائلٹ بے ہوش:اسپین سے جرمنی جانے والا نجی طیارہ ایندھن ختم ہونے پر گر کر تباہ

    دوران پرواز پائلٹ بے ہوش:اسپین سے جرمنی جانے والا نجی طیارہ ایندھن ختم ہونے پر گر کر تباہ

    اسپین سے جرمنی جانے والا نجی طیارہ بے ترتیب اُڑان بھرتے ہوئے بالٹک کے سمندر میں گر کر تباہ ہوگیا جب کہ کنٹرول ٹاور سے رابطہ منقطع ہونے کے بعد سے جہاز آٹو موڈ پر تھا۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اتوار کی شام کو جب ایک نجی طیارہ اپنے راستے سے بھٹک کر لاتویا کے ساحل پر گر کر تباہ ہوا تو اس کی مدد کےلیے نیٹو کے جنگی طیاروں کو روانہ کیا گیا، تاہم انہیں کسی بھی زندہ شخص کا کوئی سراغ نہیں مل سکا حکام کا کہنا ہے کہ اس طیارے میں چار افراد سوار تھے۔

    کابل میں روسی سفارتخانے کے قریب خودکش دھماکہ

    پرائیویٹ طیارے نے جنوبی اسپین سے جرمنی کے شہر کولون کے لیے پائلٹ، ایک مرد، ایک عورت اور ایک بچے ساتھ پرواز بھری تھی تاہم تھوڑی دیر بعد ہی طیارے میں کیبن پریشر کے مسائل پیدا ہوگئے اور کنٹرول ٹاور سے رابطہ منقطع ہوگیا تھا۔

    رابطہ منقطع ہونے کے بعد سے طیارہ مشکوک انداز میں بے ترتیب اُڑان اُڑ رہا تھا اور اپنی منزل سے بھٹک گیا تھا اور ایندھن ختم ہونے تک مسلسل پرواز کرتے ہوئے بالٹک پہنچا اور سمندر میں گر کر تباہ ہوگیا۔

    سمندر میں گرنے سے قبل جہاز کی رفتار تبدیل تھی اور وہ نہایت نچلی پرواز کر رہا تھا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ طیارے کا ایندھن ختم ہوگیا تھا۔ کاک پٹ میں پائلٹ نہیں تھا اور پائلٹ کے ساتھ والی کرسی پر ایک تکیہ رکھا تھا۔

    فلائٹ ریڈار 24 کی ویب سائٹ کے مطابق طیارے کو دو مرتبہ کولون اور پیرس کے درمیانی میں مڑتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔ اس کے بعد بحیرہ بالٹک کے اوپر سے نکلتے ہوئے سویڈش جزیرے گوٹ لینڈ کے قریب سے گزرا۔

    سویڈش سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کے سربراہ لارس اینٹونسن نے اے ایف پی کو بتایا کہ اس کےبعد نیٹو جنگی طیاروں جن میں جرمنی، ڈنمارک اور سویڈن کے طیارے شامل تھے حادثے کے شکار جہاز کے عملے سے بصری رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

    ان کا کہنا تھا کہ طیارہ مستقل طور پر اڑتا رہا، یہاں تک کہ وہ لاتویا کے ساحل کے قریب پہنچ کر تیزی سے اونچائی کھو بیٹھا اور ”ایندھن ختم ہونے کی وجہ سے” گر کر تباہ ہو گیا ابھی تک ”کوئی انسانی باقیات نہیں ملی ہیں ” اور اگرچہ یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ طیارہ کس وجہ سے تباہ ہوا، تاہم ”وہ جہاز میں واضح طور پر بے ہوش ہو گئے تھے۔

    "العربیہ” کے مطابق ایوی ایشن سیفٹی کے ماہر ہنس کجال نے سویڈش نیوز ایجنسی ٹی ٹی کو بتایا کہ کیبن پریشر کے مسائل کی وجہ سے طیارے کے تمام مسافر اپنا ہوش کھو بیٹھے ہوں۔ ایسا زیادہ اونچائی پر پرواز کرتے چھوٹے طیاروں میں بہت تیزی سے ہوسکتا ہے۔

    سویڈش کوسٹ گارڈ کا کہنا ہے کہا کہ انہوں نے پانی پر تیل کے نشانات اور ملبے کے چھوٹے ٹکڑے دریافت کیے ہیں۔

    میانمارکی سابق سربراہ آنگ سان سوچی کوایک اورمقدمےمیں سزا سنادی گئی

    ایوی ایشن ماہر لارس اینٹونسن کا بھی کہنا تھا کہ دوران پرواز طیارے میں موجود تمام افراد بے ہوش ہوجانے کے باعث حادثہ پیش آنے کا امکان زیادہ ہے اس کے سوا کوئی معقول وجہ سمجھ نہیں آتی اگر اس کی تصدیق ہوجاتی ہے کہ طیارہ حادثہ پائلٹ سمیت تمام مسافروں کے بے ہوش ہوجانے کے باعث پیش آیا تو یہ اس نوعیت کا چھٹا موقع ہوگا-

    آسٹریا میں جس کمپنی کے نام یہ ہوائی جہازدرج ہے اس کے مالک یا پھر کولون میں رجسٹرڈ جی جی رینٹ، نے اس پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

    واضح رہے کہ ماضی میں چار بار ایسا چھوٹے طیاروں اور ایک بار کمرشل جیٹ طیارے کے ساتھ پیش آچکا ہے بوئنگ 737 اگست 2005 میں یونان کے قریب گر کر تباہ ہو گیا تھا جس میں 121 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

    امریکا کا تائیوان کیلئے ایک ارب 10 کروڑ ڈالر کے ہتھیاروں کا اعلان،چین کا شدید…