Baaghi TV

Tag: سندھ حکومت

  • ٌسندھ فوڈ اتھارٹی کی بڑی کاروائی، 10 ہزار کلو گرام غیر معیاری مصالحہ برآمد

    ٌسندھ فوڈ اتھارٹی کی بڑی کاروائی، 10 ہزار کلو گرام غیر معیاری مصالحہ برآمد

    سندھ فوڈ اتھارٹی کی ویجلنس ٹیم نے سرجانی ٹاؤن کے علاقے میں واقع ایک بڑی مصالحہ ساز فیکٹری پر چھاپہ مارا، جہاں سے 10 ہزار کلو گرام غیر معیاری اور مضر صحت مصالحہ برآمد کیا گیا۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سندھ فوڈ اتھارٹی کے ترجمان نے بتایا کہ معائنے کے دوران 400 سے زائد خراب مصالحے کی بوریاں برآمد ہوئیں، جو حفظان صحت کے اصولوں کی سنگین خلاف ورزیوں کی نشاندہی کرتی ہیں۔فوڈ سیفٹی آفیسر محبوب علی بھٹی کی سربراہی میں سندھ فوڈ اتھارٹی کی ٹیم نے فیکٹری کا معائنہ کیا اور فیکٹری کے مختلف حصوں کا جائزہ لیا۔ معائنے کے دوران پتا چلا کہ مصالحوں میں کیڑے، کون فلور اور چوکر شامل کرکے ملاوٹ کی گئی تھی، جس کی بنیاد پر فیکٹری کو فوری طور پر سیل کردیا گیا۔ترجمان سندھ فوڈ اتھارٹی نے بتایا کہ فیکٹری کے پیداواری علاقے میں کاکروچ، بلیاں اور مکڑیوں کے جالے پائے گئے، جو فیکٹری کی صفائی کی ناقص حالت کو ظاہر کرتے ہیں۔غیر معیاری اور مضر صحت مصنوعات کی فروخت پر فیکٹری پر 4 لاکھ روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔ سندھ فوڈ اتھارٹی کی ٹیم نے فیکٹری کو فوری طور پر سیل کر دیا اور تمام غیر محفوظ مصنوعات کو تلف کرنے کے لیے سالڈ ویسٹ مینجمنٹ سے رابطہ کیا گیا ہے۔ سندھ فوڈ اتھارٹی کے ترجمان کا کہنا تھا کہ کراچی میں حفظان صحت کے اصولوں کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی جاری رہے گی، تاکہ عوام کو محفوظ اور معیاری خوراک فراہم کی جا سکے۔

  • سندھ کی صنعتوں سے 22 ارب روپے جمع کیے لیکن ہمیں نہیں دیے، وزیراعلیٰ سندھ

    سندھ کی صنعتوں سے 22 ارب روپے جمع کیے لیکن ہمیں نہیں دیے، وزیراعلیٰ سندھ

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ایف بی آر نے 2014 سے 2021 کے درمیان سندھ کی 500 صنعتوں سے 22 ارب روپے جمع کیے ہیں تاہم وہ فنڈز سندھ کو منتقل نہیں کیے گئے، وفاقی حکومت سے رابطہ کریں گے اور محنت کشوں کے پیسے واپس لیں گے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعلی نے یہ بات محکمہ محنت اور مالیات کے مشترکہ اجلاس کی صدارت کے دوران کہی۔ اجلاس میں صوبائی وزرا سعید غنی، ضیا الحسن لنجار، شاہد تھہیم، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، سیکریٹری مالیات فیاض جتوئی، سیکریٹری وزیراعلیٰ رحیم شیخ، سیکریٹری قانون علی احمد بلوچ، سیکریٹری محنت رفیق قریشی اور دیگر نے شرکت کی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ ایف بی آر نے سندھ کی 500 صنعتوں سے سندھ ویلفیئر ورکرز فنڈ ( ایس ڈبلیو ڈبلیو ایف) اور سندھ ورکرز پارٹیسپیشن فنڈ ( ایس ڈبلیو پی پی ایف ) کی مد میں 22 ارب روپے کی وصولی کے علاوہ ایف بی آر نے 2017-2016 سے او جی ڈی سی ایل، پی پی ایل، ایس ایس جی سی اور اینگرو گروپ جیسے بین الصوبائی اداروں سے بھی اربوں روپے وصول کیے ہیں تاہم اب تک حکومت سندھ کو منتقل نہیں کیے۔
    اجلاس میں بتایا گیا کہ اٹھارھویں آئینی ترمیم کے بعد صوبائی یا بین الصوبائی اداروں سے ایس ڈبلیو ڈبلیو ایف اور ایس ڈبلیو پی پی ایف کی وصولی خالص صوبائی معاملہ ہے۔ وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ اس وقت بین الصوبائی اداروں سے جمع کیے گئے ورکرز ویلفیئر فنڈ اور ورکرز پارٹیسپیشن فنڈ کے 25 ارب 36 کروڑ روپے کا معاملہ سندھ ہائی کورٹ میں زیرسماعت ہے اور رقم عدالت میں جمع کرائی جا رہی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ وزیراعظم سے درخوست کریں گے کہ وہ معاملے کو حل کرائیں اور یقینی بنائیں کہ سندھ کو اس کا حصہ ٹرانسفر کیا جائے۔ وزیرعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ ورکرز ویلفیئر بورڈ محنت کشوں کےلیے فلیٹس اور گھر بنانے کے ساتھ ساتھ ورکرز ماڈل اسکولوں اور کالجوں میں محنت کشوں کے بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کرنے کا بھی ذمہ دار ہے۔ بورڈ ہر ایک بچے کو یونیفارم، جوتوں، کتابوں اور تھیلوں کےلیے 10 ہزار روپے کی مالی امداد بھی دیتا ہے۔ محنت کش کی بیٹی کی شادی کی صورت میں 2 لاکھ روپے جہیز کی مد میں دئے جاتے ہیں۔ میٹرک کے بعد محنت کشوں کے بچوں کو اسکالرشپ اور فوتگی کی صورت میں محنت کش کے قانونی ورثا کو 7 لاکھ روپے کی مالی امداد بھی دیتا ہے۔ اجلاس میں وفاق سے ورکرز ویلفیئر بورڈ ( ڈبلیو ڈبلیو ایف) اور اولڈ ایج بینیفٹس انسٹی ٹیوشن ( ای او بی آئی ) کے اثاثوں اور بقایہ جات کی منتقلی پر بھی بات کی گئی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے معاملہ بہت جلد وزیراعظم کے سامنے اٹھانے کا ارادہ ظاہر کیا۔

    کراچی میں اتوار تک شدید گرمی اور موسم خشک رہے گا

    محکمہ داخلہ سندھ میں اجلاس ،پاک ایران جیل میں قیدیوں کی منتقلی پر غور

    کراچی کی پرائیوٹ یونیورسٹی کی طالبہ تصاویر لیکس کا شکار ہوگئیں

  • پی ٹی آئی ہمیشہ آمریت کی آلہ کار رہی ہے،شرجیل میمن

    پی ٹی آئی ہمیشہ آمریت کی آلہ کار رہی ہے،شرجیل میمن

    سندھ کے سینئر صوبائی وزیر، وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے کہا ہے کہ سندھ حکومت عوام کوسہولیات فراہم کررہی ہے،

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے سینئر وزیر شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ سندھ ویژن کے تحت حکومت سندھ کی جانب کراچی میں مختلف ترقیاتی منصوبوں کا آغاز کیا گیا، عوام کوریلیف دینے پرتوجہ دینی ہے،ملک میں سیاسی گہماگہمی بہت عرصے سے جاری تھی، کچھ عرصہ پہلے سیاسی گہما گہمی انجام تک پہنچی ہے،تعلیمی اداروں اور اسپتالوں کو سولر پر منتقل کرنے جا رہےہیں، سینٹرل جیل کو سولر پر منتقل کر دیا گیا ہے،سندھ میں دو لاکھ گھروں کو مفت سولر سسٹم دیا جارہا ہے،سندھ حکومت کے تمام محکمے بہتری کی طرف جارہے ہیں،صدر آصف زرداری کے ویژن کے مطابق عوام کی زندگیاں آسان بنا رہے ہیں، عوام کی خدمت او ر انکو سہولیات دے رہے ہیں، حکومت سندھ میڈیا ہاؤسز اور صحافیوں کی پیشہ ورانہ ضروریات اور حقوق کا تحفظ کرتی رہی ہے،صدر آصف زرداری نے ہدایت کی ہے کہ عوامی مسائل پر توجہ مرکوز کی جائے۔

    عمران خان اقتدار کیلئے جنرل باجوہ کو تاحیات ایکسٹینشن دینے کو تیار تھے،شرجیل میمن
    شرجیل میمن کا مزید کہنا تھا کہ آج جمہوری جماعتیں جو کام کرنے جا رہی ہیں جماعت اسلامی اس کی مخالفت کرتی ہے،بانی پی ٹی آئی اپنا اقتدار بچانے کے لیے جنرل باجوہ کو تاحیات ایکسٹینشن دینے کو تیار تھے،پی ٹی آئی ہمیشہ آمریت کی آلہ کار رہی ہے،عدلیہ کے چند جج صاحبان نے تاریخ کا بدترین انتقام پیپلز پارٹی سے لیا، پیپلز پارٹی نے کبھی کسی کے خلاف مہم نہیں چلائی.پی ٹی آئی نے چھبیسویں آئینی ترمیم کے بعد دوبارہ مہم شروع کر دی، عوام کی یادداشت اتنی بھی کمزور نہیں،26 ویں آئینی ترمیم دو تہائی اکثریت سے پاس ہوئی، جب فضل الرحمان کا ڈرافٹ پیش کیا تو پی ٹی آئی نے کہا کہ ہمیں مولانا فضل الرحمان کا ڈرافٹ منظور ہے، پی ٹی آئی والے ڈیجیٹل دہشتگردی کر رہے ہیں، پی ٹی آئی والے ملک کے اندر انتشار اور تقسیم کے ایجنڈے پر ہیں،بین الاقوامی طور پر پی ٹی آئی کے حق میں مہم چلائی جا رہی ہے، یہ سب کچھ مشن اسرائیل اور مشن گولڈ اسمتھ کا حصہ ہے، بانی پی ٹی آئی کو اسرائیل کا ایجنٹ نہیں کہوں گا، یہ اسرائیلی حکومت کا حصہ ہے،پیپلز پارٹی کسی کی ماں، بہن، بیوی، بیٹی کی گرفتاری پر کبھی خوش نہیں ہوئی۔

    لاہور: نجی کالج میں طالبہ سے مبینہ زیادتی کی غیرمصدقہ خبر کی تحقیقات، سوشل میڈیا پیج کا پردہ فاش

    پنجاب کالج ریپ کا ڈراپ سین،سوشل میڈیا پر فیک نیوز کی روک تھام کی سفارش

    ہر بچہ کہہ رہا تھا زیادتی ہوئی مگر کسی کے پاس کوئی ثبوت نہیں،سرکاری وکیل

    پنجاب کالج سوشل میڈیامہم،عمران ریاض،سمیع ابراہیم سمیت 36 افراد پر مقدمہ

    راولپنڈی،طلبا کا احتجاج، توڑ پھوڑ،پولیس کی شیلنگ

    مبینہ زیادتی ،طلبا کا احتجاج، آئی جی پنجاب کو عدالت نے کیا طلب

    پنجاب کالج مبینہ زیادتی کیس،کالج انتظامیہ کی طلبا سے کلاسوں میں جانے کی اپیل

    لاہور کے کالج میں طالبہ سے زیادتی ،مبینہ من گھڑت ویڈیو کے خلاف مقدمہ درج

    لاہور میں طالبہ کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی: پنجاب حکومت کی ہائی پاور کمیٹی کی ابتدائی رپورٹ

    پنجاب کالج مبینہ زیادتی، پولیس واقعہ سے انکاری،طلبا کا آج پھر احتجاج

    پنجاب کالج مبینہ زیادتی بارے من گھڑت افواہ پھیلانے والا گرفتار

  • سندھ میں کتے بےقابو، رواں برس 2 لاکھ سے زائد شہریوں کو کاٹ لیا

    سندھ میں کتے بےقابو، رواں برس 2 لاکھ سے زائد شہریوں کو کاٹ لیا

    سندھ میں آوارہ کتوں کی بہتات کے باعث کتے کے کاٹنے کے کیسز میں اضافہ ہوا ہے۔

    محکمہ صحت سندھ کے مطابق سندھ میں رواں سال ستمبر تک کتوں کے کاٹنے سے 2 لاکھ 26 ہزار سے زائد شہری متاثر ہوئے ہیں۔رواں برس 12 شہری کتوں کے کاٹنے سے ہونے والی بیماری ریبیز سے انتقال کر گئے۔محکمہ صحت سندھ کے مطابق کتوں کے کاٹنے کے جنوری میں 27 ہزار 333، فروری میں 27 ہزار 473، مارچ میں 29 ہزار 426 واقعات رپورٹ ہوئے۔اپریل میں 25 ہزار 514، مئی 25 ہزار 311، جون میں 22 ہزار 305 کتوں کے کاٹنے کے واقعات رپورٹ ہوئے۔علاوہ ازیں جولائی میں 22 ہزار 558، اگست میں 22 ہزار 575 اور ستمبر میں 24 ہزار سے زائد کتوں کے کاٹنے کے واقعات سامنے آئے۔دوسری جانب کراچی میں انچارج ڈاگ بائٹ کلینک سول اسپتال کا کہنا ہے کہ کتوں کے کاٹنے سے متاثرہ یومیہ 120 افراد آتے ہیں، بچے، بزرگ کتوں کے سامنے کم مزاحمت کر پاتے ہیں اس لیے وہ زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ڈاکٹر رومانہ نے بتایا ہے کہ کتے کے کاٹنے پر فوری متاثرہ جگہ کو ڈیٹرجنٹ صابن سے کم از کم 15 منٹ دھونا چاہیے اور اینٹی ریبیز ویکسین اور حفاظتی ٹیکوں کا کورس مکمل کرنا چاہیے۔

    عزیر بلوچ کی اہلخانہ سے ملاقات اور مسجد میں جمعہ پڑھنے کی درخواست

    کراچی چیمبر کا وزیراعظم سے 6 ورکنگ ڈے بحال کرنے کا مطالبہ

    رئیر ایڈمرل فیصل امین نے کمانڈر کوسٹ کا عہدہ سنبھال لیا

  • سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی شہر بھر میں بڑے پیمانے پر توڑ پھوڑ کاسلسلہ جاری

    سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی شہر بھر میں بڑے پیمانے پر توڑ پھوڑ کاسلسلہ جاری

    غیرقانونی تعمیرات کے خلاف سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی کارروائیوں میں شدت،شہر بھر میں بڑے پیمانے پر توڑ پھوڑ کاسلسلہ جاری ہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ڈائریکٹرجنرل ایس بی سی اے کی ہدایات پر ڈیمالیشن اسکواڈ نے شہرکے مختلف اضلاع میں نقشے کے برخلاف اضافی منزلوں،پورشن سمیت استعمال اراضی کی خلاف ورزی و دیگرغیرقانونی تعمیرا ت کومنہدم وسربمہرکردیا جبکہ سربمہرکی گئی املاک میں 2پٹرول پمپس بھی شامل ہیں۔ ڈیمالیشن ٹیم ڈسٹرکٹ ایسٹ کے علاقے پی ای سی ایچ ایس میں پلاٹ نمبر658، CCایریابلاک 02، پر دکانوں کی سڑک پر تجاوز کردہ تعمیرات،پلاٹ نمبر151-R، بلاک 02پر فلیٹ نمبر103سے پہلے آہنی شیڈ، پلاٹ نمبر83-A، بلاک 02، پر غیرقانونی دکانوں اورپلاٹ نمبر172-Q، اورپلاٹ نمبر172-R،بلاک 02،پی ای سی ایچ ایس پر گراؤنڈ فلور کی غیرقانونی تعمیرات کو سربمہرکردیا جبکہ پلاٹ نمبر64-W، بلاک 06، کراچی ایڈمن سی ایچ ایس پر پہلی منزل کی پارٹیشن دیواروں کو منہدم کردیاگیا۔ڈسٹرکٹ ایسٹ، گلستان جوہر،کے ڈی اے اسکیم36میں پلاٹ نمبرB-04،بلاک 06،پردوسری منزل کی آرسی سی چھت،پلاٹ نمبرC-234، بلاک 01، اور پلاٹ نمبرB-54/13-13-C، بلاک 01، پر گراؤنڈفلوراورپہلی منزل کی لازمی کھلی جگہ پر آرسی چھت و دیگر تعمیرات،کو منہدم کردیا اور پلاٹ نمبرSB-33، بلاک 3-A، پر غیرقانونی دکان سمیت پلاٹ نمبر 240-JMجمشید ٹاؤن اور پلاٹ نمبر280-GRW، گارڈن ویسٹ پر واقع پیٹرول پمپس میں بغیرقانونی اجازت کے تعمیراتی رد و بدل پر کارروائی کرتے ہوئے دونوں پٹرول پمپس کو سربمہرکردیا گیاجبکہ ڈسٹرکٹ ایسٹ میں مزید کاروائیوں میں پلاٹ نمبر A-27، بلاک 13/D/1، گلشن اقبال اسکیم 24، پر دوسری منزل پر 2کمروں کی تعمیرات اور پلاٹ نمبرA-1953میٹرویل،اسکیم 33پر دوسری منزل کی تعمیرات کو جزوی طور پر منہدم کردیاگیا۔
    علاوہ ازیں ڈیمالیشن اسکواڈ کی ٹیم نے ڈسٹرکٹ سینٹرل، گلبرگ ٹاؤن فیڈرل بی ایریا میں پلاٹ نمبرC-25، بلاک 17، پر چوتھی منزل،پلاٹ نمبرA-148، بلاک 17اور پلاٹ نمبرR-211، بلاک 15، پر تیسری منزلوں اورپلاٹ نمبرC-25، بلاک 17، پر پانچویں منزل کی آرسی سی چھت اورپارٹیشن دیواروں کومنہدم کردیا،جبکہ پلاٹ نمبرR-114، بلاک 17، پر تیسری منزل پر کمروں کی تعمیرات سمیت پلاٹ نمبرR-818، بلاک 14، کی لازمی کھلی جگہ پر آرسی سی تعمیرات کو منہدم کردیاگیا۔
    دریں اثنائ ڈیمالیشن کی ایک اورٹیم نے ڈسٹرکٹ ساؤتھ،لیاری کے علاقے میں پلاٹ نمبر2308، سبزی مارکیٹ نیاآباد پر ساتویں منزل کو منہدم اور احاطے کوکردیا جبکہ پلاٹ نمبرAKS/15,2، کھڈامارکیٹ،پلاٹ نمبرAKB-S-7/44، مین دریاآباد کو سربمہرکردیاجبکہ پلاٹ واقع بہارکالونی،ڈی روڈ،گلی نمبر 19,20، پر غیرقانونی تعمیرات کے لئے نصب شیٹرنگ کو منہدم کردیااس دوران وہاں موجودخواتین کے مجمع کی جانب سے ہنگامہ آرائی پر انہدامی عمل کو ملتوی اورچارمنزلہ عمارت کوسربمہرکردیاگیا۔مذکورہ بالاانہدامی کارروائیاں متعلقہ ڈپٹی واسسٹنٹ ڈائریکٹرزاورڈیمالیشن آفیسرز کی زیرنگرانی عمل میں لائی گئیں جبکہ اس دوران امن وامان کی صورتحال کوقابومیں رکھنے کے لئے ایس بی سی اے پولیس فورس سمیت علاقہ پولیس کی نفری بھی ان کے ہمراہ وہاں موجودتھی۔

    ایکسپو سینٹر میں پانچویں ٹیکسپو پاکستان نمائش کا باقائدہ آغاز ہو گیا

    وزیراعلیٰ سندھ سے آل پارٹیز حریت کانفرنس کے وفد کی ملاقات

    کے الیکٹرک نے جنریشن ٹیرف پر فیصلہ اہم سنگ میل قرار دیدیا

  • سندھ حکومت و پولیس ناکام، کراچی  ڈاکوؤں کے رحم و کرم پر ہے،جماعت اسلامی

    سندھ حکومت و پولیس ناکام، کراچی ڈاکوؤں کے رحم و کرم پر ہے،جماعت اسلامی

    امیرجماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے گزشتہ شب مسلح ڈکیتی کی واردات میں ڈاکوؤں کی فائرنگ کا نشانہ بننے والے فرحان خان کی نماز جنازہ میں شرکت کی۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق فرحان گلشن معمار سے سرجانی جاتے ہوئے مسلح ڈاکوؤں کا شکار ہوا۔ نماز جنازہ مسجد قاسم سرجانی ٹاؤن سیکٹر 7Dمیں ادا کی گئی، منعم ظفر خان نے مقتول فرحان کے بھائی فیصل خان اور دیگر اہل خانہ سے ملاقات و تعزیت کی، ان کے ہمراہ سٹی کونسل کے رکن قاضی صدر الدین، سیکریٹری ضلع شمالی شکیل احمد اور آصف محفوظ بھی موجود تھے۔واقع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار، مرحوم کی مغفرت اور اہل خانہ کے لیے صبر ِ جمیل کی دعا کی۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے ڈاکوؤں کے ہاتھوں قتل اور لوٹ مار، مسلح ڈاکوؤں کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کی روک تھام میں سندھ حکومت، محکمہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ناکامی کی شدید مذمت کی اور کہا کہ کراچی پولیس چیف کراچی میں جرائم میں 50فیصد کمی کا دعویٰ کر رہے ہیں لیکن صورتحال اس کے برعکس ہے۔محکمہ پولیس کی کارکردگی کا یہ حال ہے کہ رواں برس 44ہزار سے زائد ڈکیتی و لوٹ مار کی وارداتیں ہوئیں اور مزاحمت پر100 سے زائدشہری اپنی جان گنوابیٹھے،شہر میں ایک بار پھر سے اسٹریٹ کرائمز، مسلح ڈکیتی کی وارداتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوگیا ہے، شہریوں کی جان و مال محفوظ نہیں، محکمہ داخلہ اور متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر رہے اور عوام کو ڈاکوؤں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔

    کے الیکٹرک نے جنریشن ٹیرف پر فیصلہ اہم سنگ میل قرار دیدیا

    شرجیل میمن کے نجی گاڑیوں پر سرکاری نمبر پلیٹس لگانے کے خلاف کریک ڈاؤن احکامات

    محکمہ تعلیم پنجاب کا اسکولوں کے اوقات کار میں تبدیلی کا نوٹیفیکیشن

  • شرجیل میمن کے نجی گاڑیوں پر سرکاری نمبر پلیٹس لگانے کے خلاف کریک ڈاؤن احکامات

    شرجیل میمن کے نجی گاڑیوں پر سرکاری نمبر پلیٹس لگانے کے خلاف کریک ڈاؤن احکامات

    حکومت سندھ نے نجی گاڑیوں پر سرکاری نمبر پلیٹس لگانے کے خلاف کریک ڈاؤن کا اعلان کردیا ہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ایکسائز و ٹیکسیشن اور ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے اس ضمن میں محکمہ ایکسائو کو کریک ڈاؤن کے احکامات جاری کر دیئے ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کی زیرصدارت محکمہ ایکسائز و ٹیکسیشن کا اعلی سطح کا اجلاس کراچی میں ہوا۔اجلاس میں سیکریٹری ایکسائز محمد سلیم راجپوت، ڈی جی ایکسائز اورنگزیب پنہور اور دیگر افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ محکمہ ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول نے سالانہ ٹیکس محصولات کا 34 فیصد تین ماہ 15 دن میں حاصل کر لیا ہے۔اجلاس کے موقعے پر سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے محکمہ ایکسائز کو ٹیکس ٹارگیٹس بڑھانے اور ٹیکس وصولیاں تیز کرنے کے بھی احکامات جاری کر دیئے ہیں۔اجلاس میں ٹیکسیشن کے نظام کے بعد گاڑیوں کی رجسٹریشن اور ٹرانسفر کی سہولت بھی گھر بیٹھے دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ یکم جنوری سے گاڑیوں کی رجسٹریشن اور ٹرانسفر بھی آن لائن ہو جائے گی ، شہری گھر بیٹھے گاڑیوں کی رجسٹریشن اور ٹرانسفر کر سکیں گے اور موٹر وہیکل ٹیکس بھی گھر بیٹھے ادا کر سکیں گے، نقد ڈیلنگ ختم ہونے سے عوام کو بہترین سہولت ملے گی اور شفافیت کو بھی فروغ ملے گا، حکومت سندھ کے ویژن کے تحت ٹیکس ادائگی کا نظام مزید آسان ہو جائے گا۔انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ بہترین عوامی خدمات کی فراہمی کے لئے پرعزم ہے، تمام اقدامات کا مقصد عوام کی دشواریوں کا خاتمہ ہے، محکمہ ایکسائز و ٹیکسیشن نے حالیہ مالی سال کے ٹیکس ٹارگٹ کا 34 فیصد وصولی کر لیا، جو خوش آئند بات ہے۔ سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ سرکاری نمبر پلیٹس لگانے والی گاڑیوں کو بھی چیک کیا جائے، نجی گاڑیوں پر سرکاری نمبر پلیٹس آویزاں کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے، گاڑیوں کی رجسٹریشن، ٹیکس ادائگی اور نمبر پلیٹس کی چیکنگ کے لئیمزید اقدامات کئے جائیں۔انہوں نے ہدایات دیں کہ سیلاب زدگان کے گھروں کی تعمیر کے لئے فنڈ ریزنگ کے لئے پریمئم اور پرسنلائزڈ نمبر پلیٹس کی آن لائن نیلامی کے لئے رابطہ مہم تیز کی جائے، پریمئم اور پرسنل نمبر پلیٹس کی آن لائن نیلامی کو مزید تیز کرنے کے لئے مہم چلائی جائے۔ سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک رسائی کو یقینی بنایا جائے تاکہ زیادہ لوگ آن لائن نیلامی میں حصہ لے سکیں، آن لائن نیلامی سے جمع ہونے والی رقم سیلاب متاثرین کے لئے گھروں کی تعمیر کے لئے دی جائے گی۔

    شرجیل میمن کے نجی گاڑیوں پر سرکاری نمبر پلیٹس لگانے کے خلاف کریک ڈاؤن احکامات

    محکمہ تعلیم پنجاب کا اسکولوں کے اوقات کار میں تبدیلی کا نوٹیفیکیشن

    ڈاکٹر شاہنواز کی ہلاکت، پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آگئی

  • ڈاکٹر شاہنواز کی ہلاکت، پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آگئی

    ڈاکٹر شاہنواز کی ہلاکت، پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آگئی

    میرپورخاص میں مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہونے والے ڈاکٹر شاہنواز کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آ گئی ہے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بتایا گیا کہ ڈاکٹر شاہنواز کی 4 پسلیاں اور کندھے کی ہڈی ٹوٹی ہوئی تھی، جبکہ لاش کا اگلا حصہ، چہرہ اور سر کی جلد جلی ہوئی پائی گئی۔پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر شاہنواز کے دونوں ہاتھوں اور پیروں کے ناخن جزوی طور پر جلے ہوئے تھے۔واضح رہے کہ 14 اکتوبر کو سندھ حکومت نے قبر کشائی کر کے ڈاکٹر شاہنواز کی لاش کا پوسٹ مارٹم کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس سلسلے میں پولیس سرجن نے ڈائریکٹر جنرل صحت کو خط لکھا، جس کے بعد قبر کشائی کی گئی اور نمونے لیے گئے۔18 ستمبر 2024 کی رات، سندھڑی پولیس نے مبینہ مقابلے میں عمرکوٹ کے رہائشی ڈاکٹر شاہنواز کی ہلاکت کا دعوی کیا تھا۔بعد میں، ڈاکٹر شاہنواز کے قتل کا مقدمہ سندھڑی تھانے میں درج کیا گیا، جس میں قتل اور انسداد دہشتگردی کی دفعات شامل کی گئی۔مقدمے میں ایس ایچ او اور اہلکاروں سمیت 15 افراد شامل ہیں، جبکہ سابق ڈی آئی جی جاوید جسکانی، سابق ایس ایس پی میرپور خاص اسد چوہدری، اور سابق ایس ایس پی عمرکوٹ آصف رضا بلوچ کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔26 ستمبر 2024 کو، سندھ کے وزیرداخلہ نے پریس کانفرنس میں کہا کہ اس معاملے میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی، چاہے مقتول کی فیملی ایف آئی آر نہ بھی کرائے۔27 ستمبر کو سندھ حکومت کی اعلی سطحی انکوائری کمیٹی کی رپورٹ میں ڈاکٹر شاہنواز کی پولیس کی حراست میں ہلاکت کی تصدیق ہونے پر ڈی آئی جی میرپورخاص، ایس ایس پی میرپورخاص اور ایس ایس پی عمرکوٹ کو معطل کر دیا گیا۔11 اکتوبر کو سندھ ہیومن رائٹس کمیشن نے توہین مذہب کے الزام میں ڈاکٹر شاہنواز کے قتل پر ایک رپورٹ پیش کی، جس میں کہا گیا کہ میرپورخاص اور عمرکوٹ کے ایس ایس پیز اور ڈی آئی جی نے گرفتاری سے انکار کیا، لیکن بعد میں تصدیق کی کہ ملزم کو کراچی سے گرفتار کیا گیا تھا۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ مقدمے کے بعد ایف آئی اے سے تکنیکی معاونت نہیں لی گئی اور پوسٹ مارٹم رپورٹ 2 روز تک فراہم نہیں کی گئی۔15 اکتوبر کو محکمہ داخلہ سندھ نے سندھ ہائی کورٹ کے رجسٹرار کو خط لکھ کر ڈاکٹر شاہنواز کی ہلاکت کے معاملے پر جوڈیشل انکوائری کی درخواست کی۔ 21 اکتوبر کو سندھ ہائی کورٹ کے میرپورخاص سرکٹ بینچ نے کیس کی سماعت کے دوران پولیس کے ہاتھوں ماورائے عدالت قتل کے معاملے کی تحقیقات ایف آئی اے سے کرانے کا حکم دیا، اور تحقیقات کی نگرانی کے لیے قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کو مقرر کیا۔

    سرفراز بگٹی کا بلدیاتی اداروں کے ترقیاتی فنڈز میں 100 فیصد اضافہ کرنے کا اعلان

  • شرجیل میمن کا کراچی کی سڑکوں پر ڈبل ڈیکر بسیں چلانے کا اعلان

    شرجیل میمن کا کراچی کی سڑکوں پر ڈبل ڈیکر بسیں چلانے کا اعلان

    سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کی جانب سے عوام کے لئے خوشخبری دی گئی ہے۔ حکومت سندھ کی جانب سے کراچی کی سڑکوں پر اب ڈبل ڈیکر بسیں چلائی جائیں گی ، حکومت سندھ نے ڈبل ڈیکر بسوں کی خریداری کے لئے تیاریاں شروع کر دی ہیں۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات ، ٹرانسپورٹ، ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول شرجیل انعام میمن کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس ہوا، اجلاس میں سندھ ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کے مینیجنگ ڈائریکٹر کمال حکیم دایو، پیپلز بس سروس کے پروجیکٹ ڈائریکٹر صہیب شفیق، پیپلز بس سروس کے مینیجر آپریشنز عبدالشکور اور دیگر حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں حکومت سندھ کی جانب سے پیپلز بس سروس کے لئے 50 نئی بسیں خریدنے کا فیصلہ کیا گیا۔اجلاس میں سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے ماس ٹرانزٹ اتھارٹی اور دیگر متعلقہ حکام کو بسوں کی خریداری کے لئے تیاریاں تیز کرنے کی ہدایات دیں۔ اجلاس کے موقعے پر بات کرتے ہوئے سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ ہم کراچی میں پبلک ٹرانسپورٹ کو جدید بنانے کے لیے پرعزم ہیں، حکومت سندھ کا یہ اقدام شہریوں کو سستی اور آرام دہ سفر فراہم کرتے ہوئے شہری ٹرانسپورٹ کے نظام کو بہت بہتر بنائے گا۔انہوں نے کہا کہ عوام کی بڑھتی ہوئی ٹرانسپورٹ کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے تیزی سے عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔ اجلاس کے موقعیپر سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے پیپلز بس سروس کے بس اسٹیشنز کا کام بھی جلد از جلد مکمل کرنے کے احکامات جاری کئے۔

    حکومت سندھ کراچی کا سرکاری اسپتال کرپشن میں بازی لے گیا

    جسٹس یحییٰ آفریدی: عدالتی کیریئر اور اہم فیصلوں پر ایک نظر

  • حکومت سندھ کی ڈاکٹر شاہنواز قتل کی تحقیقات کیلئے ہائی کورٹ سے باضابطہ درخواست

    حکومت سندھ کی ڈاکٹر شاہنواز قتل کی تحقیقات کیلئے ہائی کورٹ سے باضابطہ درخواست

    حکومت سندھ نے سندھ ہائی کورٹ سے باضابطہ طور پر ڈاکٹر شاہ نواز کنبھر کے متنازع قتل کی عدالتی تحقیقات کرانے کی درخواست کردی۔

    انکوائری کی درخواست وزیر داخلہ سندھ ضیاالحسن لنجار کی جانب سے کی گئی جس میں 18 ستمبر 2024 کو تھانہ سندھڑی، میرپور خاص کی حدود میں ہونے والے قتل کے پس پردہ محرکات کا پتا لگانے کی استدعا کی گئی۔ڈاکٹر کنبھر کو تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295-سی کے تحت توہین مذہب کے الزامات کا سامنا تھا اور واقعے سے ایک دن قبل ان کے خلاف مذکورہ دفعات کے تحت عمرکوٹ میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔پولیس نے دعویٰ کیا کہ ڈاکٹر شاہنواز فائرنگ کے تبادلے میں مارے گئے اور ان کے خلاف تعزیرات پاکستان اور سندھ آرمز ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت مقدمات درج کیے گئے تھے۔تاہم آئی جی سندھ کی جانب سے قائم کردہ کمیٹی نے یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ ڈاکٹر شاہنواز کو جعلی پولیس مقابلے میں مارا گیا جس سے عوام میں غم و غصہ پیدا ہوا اور انہوں نے انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔

    قتل کے بعد ڈاکٹر شاہنواز کنبھر کی لاش کو جلانے کی کوشش کی گئی اور لاش کی بے حرمتی نے عوام کو مزید مشتعل کردیا اور ان واقعات کے بعد عمرکوٹ میں تعزیرات پاکستان، انسداد دہشت گردی ایکٹ اور 2022 کے دوران حراست تشدد اور موت کی روک تھام و تحفظ کے ایکٹ کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔27 ستمبر 2024 کو ڈاکٹر شاہنواز کنبھر کے خاندان نے مبینہ طور پر واقعے میں ملوث پولیس افسران کے خلاف قتل، اغوا اور دوران حراست تشدد کے الزامات کے تحت ایف آئی آر درج کرائی تھی اور اب بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیش نظر محکمہ داخلہ سندھ اب ذمہ دار اہلکاروں کے احتساب اور انصاف کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے عدالتی تحقیقات پر مصر ہے۔محکمہ داخلہ نے استدعا کی کہ حقائق کا پتا لگانے اور سوگوار خاندان کو انصاف کی فراہمی کے لیے معاملے کی ہائی کورٹ کے موجودہ جج سے انکوائری کرائی جائے۔

    ڈاکٹر شاہنواز کنبھر کا جعلی پولیس مقابلے میں قتل

    واضح رہے کہ 19 ستمبر کو ڈاکٹر شاہ نواز کے خلاف عمرکوٹ پولیس نے مبینہ طور پر مذہبی جماعتوں کے احتجاج کے بعد فیس بک پر ’گستاخانہ مواد‘ پوسٹ کرنے پر تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295 سی کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔اس تمام واقعے سے ایک دن قبل ڈاکٹر شاہ نواز نے اپنے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بیان جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا اکاؤنٹ ہیک ہو گیا ہے اور وہ گستاخانہ مواد شیئر کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔اس کے بعد اطلاعات سامنے آئی تھیں ملزم کراچی فرار ہو گیا ہے لیکن عمرکوٹ پولیس نے اسے گرفتار کر کے میرپورخاص منتقل کردیا جہاں مبینہ طور پر اسے سندھڑی پولیس نے ایک ’انکاؤنٹر‘(پولیس مقابلے) میں ہلاک کر دیا تھا۔سندھڑی کے ایس ایچ او نیاز کھوسو نے ملزم کے قتل کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ ڈاکٹر نے ’ساتھیوں‘ کے ساتھ مل کر پولیس پر فائرنگ کی، انہوں نے دعویٰ کیا کہ جوابی کارروائی میں ملزم کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا جبکہ اس کا مبینہ ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔تاہم ڈاکٹر شاہنواز کے اہلخانہ نے اسے جعلی پولیس مقابلہ قرار دیتے ہوئے احتجاج کیا تھا اور حکام سے انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔واقعے کے ایک ہفتے بعد وزیر داخلہ سندھ ضیاالحسن نے پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ عمر کوٹ میں ڈاکٹر شاہ نواز کو جعلی پولیس مقابلہ میں مارا گیا اور مقابلے میں ملوث اہلکاروں کو معطل کردیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ انکوائری میں الزام درست ثابت ہونے پر اہلکاروں کو معطل کیا گیا اور یہ ایک جعلی پولیس مقابلہ تھا جب کہ متاثرین جسے ذمہ دار قرار دیں گے اس کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائےگی۔اس کے بعد ڈاکٹر شاہنواز کے قتل کا مقدمہ درج کر کے اس میں ڈی آئی جی جاوید جسکانی ، ایس ایس پی چوہدری اسد اور دیگر کو نامزد کیا گیا تھا۔

    طالبہ مبینہ زیادتی احتجاج، گجرات میں تشدد سے کالج کا گارڈ جاں بحق

    کراچی میں سڑکوں سے تجاوزات ختم کرنے کیلئے ٹاسک فورس قائم

    ہنی ٹریپ کرنے والی کچے کے ڈاکوؤں کی رکن خاتون پکڑی گئی