Baaghi TV

Tag: سندھ حکومت

  • محکمہ اسکول ایجوکیشن سندھ کا غیر ضروری انتظامی عہدے ختم کرنے پر غور

    محکمہ اسکول ایجوکیشن سندھ کا غیر ضروری انتظامی عہدے ختم کرنے پر غور

    وزیر تعلیم و ترقی معدنیات سندھ سید سردار علی شاہ نے کہا ہے کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن میں تعلیمی اصلاحات کو آگے بڑھاتے ہوۓ انتظامی حوالے سے کچھ تبدیلیاں زیر غور ہیں، اس ضمن میں غیر ضروری عہدوں کو ختم کر کے کلسٹر پالیسی کو مزید فعال بنایا جاۓ گا جبکہ اسکول پرنسپل، ہیڈ ماسٹر یا مسٹریس کے اختیارات میں بھی اضافہ کیا جاۓ گا۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کراچی کے ضلع سائوتھ میں واقع گورنمینٹ بوائز سیکنڈری اسکول قمرالسلام کیمپس کا دورے کیا۔ اس موقع پر اسکول ایڈاپٹر (اسکول کو گود لینے والے) رکن سندھ اسمبلی ریحان بندوکڑا نے اسکول آمد پر وزیر تعلیم سندھ کو خوش آمدید کہا۔ ایم پی اے ریحان بندوکڑا نے “Minister for Initiative for Adoption of School” کے تحت مزکورہ اسکول کو گود لیا ہے، یہ اسکول ضلع سائوتھ کے سندھ اسمبلی کے حلقہ 110 میں واقع ہے۔ اس موقع پر ڈائریکٹر اسکول کراچی مرزا ارشد بیگ، چیف انجینئر ایجوکیشن ورکس کراچی حسن عسکری، ڈی ای او امتیاز بگھیو اور دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔ اسکول ہیڈ مسٹریس فرح بلوچ نے اسکول کے متعلق آگاہی دیتے ہوۓ بتایا کہ اسکول میں 700 سے زائد طلبہ و طالبات زیر تعلیم ہیں، اسکول دو شفٹوں میں چلایا جاتا ہے، جس میں 400 کے قرب طالبات صبح کے اوقات میں تعلیم حاصل کرتی ہیں۔ اس دوران چیف انجنیئر ایجوکیشن ورکس نے بتایا کہ اسکول کی پانچ کلاسز کی تعداد کو 10 کلاسز تک بڑھا دیا گیا ہے۔ اس موقع پر صوبائی وزیر تعلیم نے کہا کہ وہ آج اسکول ایڈاپٹر کی موجودگی میں سب افسران کے ساتھ اسکول میں موجود ہیں، اسکول کے حوالے سے جو بھی کچھ بھی سہولیات درکار ہے اسے فراہم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جاۓ گی۔ صوبائی وزیر سردار شاہ نے اسکول اساتذہ کے ساتھ کلاس روم میں بیٹھ کر گفتگو کرتے ہوۓ کہا کہ تعلیم میں معاملے پر سندھ بھر کے لوگ سنجیدہ ہیں، حکومت اور اپوزیشن نے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا ہے، انہوں نے کہا کہ جان بوجھ آمرانہ ادوار میں سندھ کی تعلیم تباہ کرنے کی کوششیں کی جاتی رہی ہے، اسکولوں کو بچانا اور بچوں کو بڑھانا معاشرے کے ہر فرد کی ذمہ داری ہے۔ وزیر تعلیم سندھ نے کہا کہ ریحان بندوکڑا نے اسکول کی نگرانی کی ذمہ داری لی ہے ہمارا ہر ممکن تعاون ان کے ساتھ رہے گا، اس موقع پر انہوں کہا کہ انتظامی امور کے حوالے سے بہت کی تبدیلیوں پر غور جاری ہے، اسکول ایجوکیشن میں غیر ضروری انتظامی عہدوں کو ختم کیا جاۓ گا، اب ضلع میں تمام اسکولز پر ایک ہی تعلیمی افسر نگرانی کرے گا، اسکول کلسٹر پالیسی کو فعال بنا کر اختیارات کو نچلی سطح پر منتقل کیا جاۓ گا۔ سید سردار علی شاہ نے کہا کہ اسکول پرنسپال، ہیڈ ماسٹر یا مسٹریس کے اختیارات میں اضافہ کا معاملہ زیر غور ہے، اسکول سطح پر بجیٹ منتقل کر کے اسکول کے مسائل حل کرنے کی کوشش کی جاۓ گی، انہوں نے کہا کہ اسکول کی صفائی، سیکیورٹی اور مینٹیننس جیسے معاملات اسکول ہیڈماسٹر کی ذمہ داری ہونگے، جو کانٹیجنٹ اسٹاف کی مدد سے پورے کیے جائیں گے، اس عمل سے محکمہ کے اخراجات میں بھی کمی آئے گی، صوبائی وزیر نے یہ بات واضح کرتے ہوۓ کہا کہ محکمہ تعلیم کا 92 فیصد بجیٹ تنخواہوں اور پینشنرز پر خرچ ہوجاتا ہے، اخراجات کم کرنے کے لیے ہمیں آئیندہ کی حکمت عملی طے کرنا ہوگی، مارکیٹ بیسڈ اسٹاف کی مدد سے محکمہ کے اخراجات میں کمی آئے گی۔بعد ازاں وزیر تعلیم نے اسکول کے کلاسز کا جائزہ لیا اور طلباء سے گفتگو بھی کی۔ رکن سندھ اسمبلی ریحان بندوکڑا کے صوبائی وزیر کے تعاون کا شکریہ ادا کیا، اور کہا کہ کوشش رہے گی تعلیم کی خدمت میں اپنا بہتر کردار ادا کر سکوں۔ اس موقع پر وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ نے اسکول ایڈاپٹر (ایم پی اے) ریحان بندوکڑا کے ہمراہ اسکول کے تعمیراتی کام کا جائزہ لیا، صوبائی وزیر نے اسکول کی ایکسٹینشن کا کام جلد مکمل کرنے اور درکاری سہولیات کی دستیابی کو جلد یقنینی بنانے کی ہدایت کی۔

    یورپی یونین اور جرمنی کا سندھ میں موسمیاتی مزاحمت بڑھانے کیلئے اشتراک

    کینیڈین ہائی کمشنر کی وزیراعلیٰ سندھ سے ملاقات، مختلف امور پر تبادلہ خیال

    اسسٹنٹ کمشنر ناظم آباد ہاظم بنگوار کو عہدے سے کیوں ہٹایا ،وجہ سامنے آگئی

    کراچی پولیس آفس میں آئیڈیاز2024 کی سیکیورٹی کے حوالے سے اجلاس کا انعقاد

  • یورپی یونین اور جرمنی کا  سندھ میں موسمیاتی مزاحمت بڑھانے کیلئے اشتراک

    یورپی یونین اور جرمنی کا سندھ میں موسمیاتی مزاحمت بڑھانے کیلئے اشتراک

    یورپی یونین نے پاکستان میں اڈاپٹیو سوشل پروٹیکشن منصوبے کے مالی تعاون میں جرمنی کا ساتھ دیتے ہوئے باضابطہ شمولیت اختیار کر لی ہے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جی آئی زی پاکستا ن جرمن وزارت برائے اقتصادی تعاون و ترقی کی وساطت سے اس منصو بے کو سندھ میں نافذ کر رہا ہے۔ یورپی یونین اور جرمنی کیاشتراک سے سندھ حکومت کو ادارہ جاتی، مالی اور تکنیکی اقدامات میں مدد فراہم کی جائے گی جن سے قدرتی آفات اور موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لئے مقامی آبادی کی صلاحیتوں میں اضافہ ہو سکے گا اور ساتھ ہیخواتین کی خودمختاری پر مبنی سماجی تحفظ کے نظام کو مزید بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔جی آئی زی پاکستا ن کے اڈاپٹیو سوشل پروٹیکشن منصوبے کی افتتاحی تقریب کراچی کے ہوٹل اواری میں منعقد ہوئی جس میں اعلی حکومتی عہدیداران، بین الاقوامی اداروں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی تاکہ منصوبے کے مستقبل کی سمت پر اتفاق رائے پیدا کیا جا سکے۔تقریب کے دوران چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈپارٹمنٹ سندھ حکومت، جناب نجم احمد شاہ نے سندھ حکومت کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ہماری کوشش ہے کہ سماجی تحفظ کو مضبوط بنایا جائے تاکہ پاکستان کے کمزور طبقات کو بحرانی حالات میں بہتر تعاون فراہم کیا جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ منصوبہ لڑکیوں اور خواتین کو مرکزی مقام دیتا ہے، جس سے معاشرتی مساوات میں بہتری اور دیرپا ترقی کی راہیں ہموار ہوتی ہیں۔پاکستان میں یورپی یونین کے نائب سربراہ جناب فلپ گراس نے کہا کہ یورپی یونین ہمیشہ سے ایسے سماجی تحفظ کے مضبوط نظام کی حمایت کرتا آیا ہے جو فوری مسائل کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ طویل مدتی، پائیدار ترقی کو بھی فروغ دے۔
    تقریب میں دیگر اہم اسٹیک ہولڈرز، جیسے کہ کراچی میں جرمنی کے قونصل جنرل ڈاکٹر روڈیگر لوٹس، پاکستان میں یورپی یونین کے شعبہ تعاون کے سربراہ جیرون ولیمز، سندھ سوشل پروٹیکشن اتھارٹی، پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی، فارن ایڈ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈپارٹمنٹ اور سندھ رورل سپورٹ آرگنائزیشن کے نمائندگان نے بھی شرکت کی۔ مقررین نے سماجی اور ماحولیاتی مشکلات کے خلاف مزاحمتی سماجی تحفظ کی اہمیت پر زور دیا۔ یہ منصوبہ پاکستان میں سماجی تحفظ کے نظام کو ایک نیا معیار فراہم کرتا ہے جس کا مقصد ایسے فعال نظام تیار کرنا ہے جو بروقت موسمی اور سماجی و اقتصادی مسائل کا حل پیش کر سکے اورجس سے مقامی اور قومی سطح پرسماجی ہم آہنگی اور ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔

    کینیڈین ہائی کمشنر کی وزیراعلیٰ سندھ سے ملاقات، مختلف امور پر تبادلہ خیال

    اسسٹنٹ کمشنر ناظم آباد ہاظم بنگوار کو عہدے سے کیوں ہٹایا ،وجہ سامنے آگئی

    کراچی پولیس آفس میں آئیڈیاز2024 کی سیکیورٹی کے حوالے سے اجلاس کا انعقاد

  • عمران خان اسرائیل ایجنٹ نہیں بلکہ اسرائیلی حکومت کا حصہ ہے، شرجیل میمن

    عمران خان اسرائیل ایجنٹ نہیں بلکہ اسرائیلی حکومت کا حصہ ہے، شرجیل میمن

    سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد پی ٹی آئی کی پی پی کے خلاف سوشل میڈیا پر منفی مہم مشن اسرائیل اور مشن گولڈ اسمتھ کا حصہ ہے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کلفٹن میں واقع ڈائریکٹوریٹ آف سوشل میڈیا کے دفتر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ عمران خان کو اسرائیل کا ایجنٹ نہیں کہوں گا بلکہ یہ اسرائیلی حکومت کا حصہ ہے، پی ٹی آئی کا جھگڑا پاکستان اور اس ملک کے نقشے سے ہے، عوام دھوکے میں نہ آئیں، پی ٹی آئی کارکنان کا احترام ہے، لیکن کو پتہ نہیں کہ ان کا لیڈر کس مشن پر لگا ہوا ہے، پاکستان ایٹمی طاقت ہے ہم سے لڑنے کے لئے ان کے ہتھیار ان کے کام نہیں آئیں گے، پی ٹی آئی والے ڈجیٹل دہشت گردی کر رہے ہیں، پی ٹی آئی والے ملک کے اندر انتشار اور تقسیم کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں۔انہوں نے کہا کہ کسی کی بہن بیوی کی گرفتاری پر پیپلز پارٹی خوش نہیں ہوتی، ہماری لیڈر فریال تالپور کو عید کی رات گرفتار کر لیا گیا، مائیں بہنیں سب کی سانجھی ہوتی ہیں، ہم بھی کبھی کسی کے اہل خانہ کی گرفتاری پر خوش نہیں ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں سیاسی گہما گہمی بہت عرصے سے جاری تھی اب انجام کو پہنچی ہے، چیئرمین بلاول اور صدر زرداری کی پہلے ہی ہدایات تھیں کہ عوامی فلاح و بہبود، عوام کو ریلیف دینے کے لیے کام کریں، سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ نے حالیہ دنوں میں ایک ہی دن 6 اسکیموں کا افتتاح کیا ہے۔ کراچی سینٹرل جیل کو بھی مکمل طور پر سولرائز کر دیا گیا ہے، وزیر توانائی سید ناصر حسین شاہ بھی پوری محنت سے کام کر رہے ہیں، مختلف اضلاع میں سولرائزیشن کا کام جاتی ہے، سول اسپتالوں کو سولرائز کیا جا رہا ہے، 656 اسکولز اور 211 رورل ہیلتھ سینٹرز کو سولرائز کیا جا رہا ہے، سندھ میں دو لاکھ خاندانوں کو سولر سسٹم دیئے جا رہے ہیں۔شرجیل میمن نے کہا کہ تمام عمر اِن لوگوں کو بل ادا کرنے نہیں پڑیں گے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ منفیت ہائی لائٹ ہوتی ہے، ملک میں جو ٹھیک کام گرائونڈ پرہو رہا ہے اس کو بھی ہائی لائٹ کیا جانا چاہیے، چیئرمین بلاول بھٹو نے ہاری کارڈ جاری کیا، گزشتہ حکومت میں مزدور کارڈ جاری کیے گئے۔شرجیل میمن نے کہاکہ 26ویں آئینی ترمیم بہت بڑی مشاورت کے بعد پاس ہوئی، پی ٹی آئی کا رویہ 26ویں آئینی ترمیم میں مثبت تھا اور رضا مندی تھی، پیپلز پارٹی نے ہمیشہ عدلیہ کا احترام کیا ہے، عدلیہ کے چند جج صاحبان نے پیپلز پارٹی سے تاریخ کا بدترین انتقام لیا ہے لیکن پیپلز پارٹی نے کبھی عدلیہ کے خلاف مہم نہیں چلائی نہ حملہ کیا، 26ویں آئینی ترمیم کے بعد پی ٹی آئی کی جانب سے پیپلز پارٹی کے خلاف سوشل میڈیا پر منفی مہم چلائی گئی جبکہ بین الاقوامی طور پر پی ٹی آئی کے حق میں مہم چلائی جا رہی ہے، یہ سب کچھ مشن اسرائیل اور مشن گولڈ اسمتھ کا حصہ ہے۔

    ڈاکٹر شاہنواز قتل: آئی جی سندھ کی انکوائری کمیٹی کے اہم انکشافات

    عمران خان کی رہائی تک پرامن احتجاج جاری رکھیں گے،علیمہ خان

    سندھ کی صنعتوں سے 22 ارب روپے جمع کیے لیکن ہمیں نہیں دیے، وزیراعلیٰ سندھ

  • ڈاکٹر شاہنواز قتل: آئی جی سندھ کی انکوائری کمیٹی کے اہم انکشافات

    ڈاکٹر شاہنواز قتل: آئی جی سندھ کی انکوائری کمیٹی کے اہم انکشافات

    ڈاکٹر شاہنواز قتل کیس میں آئی جی سندھ کی انکوائری کمیٹی کے اہم انکشافات سامنے آ گئے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق 115 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں 24 افسران و اہلکاروں کے بیانات لیے گئے۔اس رپورٹ میں 10 سے زائد گواہان اور ورثا کے بیانات بھی شامل کیے گئے ہیں اور رپورٹ وزیرِ داخلہ کو بھی ارسال کر دی گئی ہے۔رپورٹ 2 ڈی آئی جیز اور 2 ایس ایس پیز پر مشتمل 4 رکنی انکوائری کمیٹی نے تیار کی ہے۔انکوائری کمیٹی کی رپورٹ میں انکشاف کیا گای ہے کہ ڈاکٹر شاہنواز کو عمر کوٹ پولیس نے کراچی کے ہوٹل سے گرفتار کیا اور ایس ایس پی عمر کوٹ کی ہدایت پر میر پور خاص میں پولیس کے حوالے کیا۔رپورٹ کے مطابق سی سی ٹی وی سے واضح ہے کہ ڈاکٹر شاہنواز کو ایس ایس پی میر پور خاص کی گاڑی میں منتقل کیا گیا، ان کی حوالگی میر پور خاص میں جمڑاو چیک پوسٹ پر کی گئی۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ڈاکٹر شاہنواز کی حوالگی کے ڈیڑھ گھنٹے بعد سندھڑی میں انہیں قتل کر دیا گیا۔یاد رہے کہ 18ستمبر کو سندھڑی میں ڈاکٹرشاہ نواز کو جعلی پولیس مقابلے میں قتل کر دیا گیا تھا۔

    ٌسندھ فوڈ اتھارٹی کی بڑی کاروائی، 10 ہزار کلو گرام غیر معیاری مصالحہ برآمد

    سندھ کی صنعتوں سے 22 ارب روپے جمع کیے لیکن ہمیں نہیں دیے، وزیراعلیٰ سندھ

    کراچی میں اتوار تک شدید گرمی اور موسم خشک رہے گا

  • ٌسندھ فوڈ اتھارٹی کی بڑی کاروائی، 10 ہزار کلو گرام غیر معیاری مصالحہ برآمد

    ٌسندھ فوڈ اتھارٹی کی بڑی کاروائی، 10 ہزار کلو گرام غیر معیاری مصالحہ برآمد

    سندھ فوڈ اتھارٹی کی ویجلنس ٹیم نے سرجانی ٹاؤن کے علاقے میں واقع ایک بڑی مصالحہ ساز فیکٹری پر چھاپہ مارا، جہاں سے 10 ہزار کلو گرام غیر معیاری اور مضر صحت مصالحہ برآمد کیا گیا۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سندھ فوڈ اتھارٹی کے ترجمان نے بتایا کہ معائنے کے دوران 400 سے زائد خراب مصالحے کی بوریاں برآمد ہوئیں، جو حفظان صحت کے اصولوں کی سنگین خلاف ورزیوں کی نشاندہی کرتی ہیں۔فوڈ سیفٹی آفیسر محبوب علی بھٹی کی سربراہی میں سندھ فوڈ اتھارٹی کی ٹیم نے فیکٹری کا معائنہ کیا اور فیکٹری کے مختلف حصوں کا جائزہ لیا۔ معائنے کے دوران پتا چلا کہ مصالحوں میں کیڑے، کون فلور اور چوکر شامل کرکے ملاوٹ کی گئی تھی، جس کی بنیاد پر فیکٹری کو فوری طور پر سیل کردیا گیا۔ترجمان سندھ فوڈ اتھارٹی نے بتایا کہ فیکٹری کے پیداواری علاقے میں کاکروچ، بلیاں اور مکڑیوں کے جالے پائے گئے، جو فیکٹری کی صفائی کی ناقص حالت کو ظاہر کرتے ہیں۔غیر معیاری اور مضر صحت مصنوعات کی فروخت پر فیکٹری پر 4 لاکھ روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔ سندھ فوڈ اتھارٹی کی ٹیم نے فیکٹری کو فوری طور پر سیل کر دیا اور تمام غیر محفوظ مصنوعات کو تلف کرنے کے لیے سالڈ ویسٹ مینجمنٹ سے رابطہ کیا گیا ہے۔ سندھ فوڈ اتھارٹی کے ترجمان کا کہنا تھا کہ کراچی میں حفظان صحت کے اصولوں کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی جاری رہے گی، تاکہ عوام کو محفوظ اور معیاری خوراک فراہم کی جا سکے۔

  • سندھ کی صنعتوں سے 22 ارب روپے جمع کیے لیکن ہمیں نہیں دیے، وزیراعلیٰ سندھ

    سندھ کی صنعتوں سے 22 ارب روپے جمع کیے لیکن ہمیں نہیں دیے، وزیراعلیٰ سندھ

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ایف بی آر نے 2014 سے 2021 کے درمیان سندھ کی 500 صنعتوں سے 22 ارب روپے جمع کیے ہیں تاہم وہ فنڈز سندھ کو منتقل نہیں کیے گئے، وفاقی حکومت سے رابطہ کریں گے اور محنت کشوں کے پیسے واپس لیں گے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعلی نے یہ بات محکمہ محنت اور مالیات کے مشترکہ اجلاس کی صدارت کے دوران کہی۔ اجلاس میں صوبائی وزرا سعید غنی، ضیا الحسن لنجار، شاہد تھہیم، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، سیکریٹری مالیات فیاض جتوئی، سیکریٹری وزیراعلیٰ رحیم شیخ، سیکریٹری قانون علی احمد بلوچ، سیکریٹری محنت رفیق قریشی اور دیگر نے شرکت کی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ ایف بی آر نے سندھ کی 500 صنعتوں سے سندھ ویلفیئر ورکرز فنڈ ( ایس ڈبلیو ڈبلیو ایف) اور سندھ ورکرز پارٹیسپیشن فنڈ ( ایس ڈبلیو پی پی ایف ) کی مد میں 22 ارب روپے کی وصولی کے علاوہ ایف بی آر نے 2017-2016 سے او جی ڈی سی ایل، پی پی ایل، ایس ایس جی سی اور اینگرو گروپ جیسے بین الصوبائی اداروں سے بھی اربوں روپے وصول کیے ہیں تاہم اب تک حکومت سندھ کو منتقل نہیں کیے۔
    اجلاس میں بتایا گیا کہ اٹھارھویں آئینی ترمیم کے بعد صوبائی یا بین الصوبائی اداروں سے ایس ڈبلیو ڈبلیو ایف اور ایس ڈبلیو پی پی ایف کی وصولی خالص صوبائی معاملہ ہے۔ وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ اس وقت بین الصوبائی اداروں سے جمع کیے گئے ورکرز ویلفیئر فنڈ اور ورکرز پارٹیسپیشن فنڈ کے 25 ارب 36 کروڑ روپے کا معاملہ سندھ ہائی کورٹ میں زیرسماعت ہے اور رقم عدالت میں جمع کرائی جا رہی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ وزیراعظم سے درخوست کریں گے کہ وہ معاملے کو حل کرائیں اور یقینی بنائیں کہ سندھ کو اس کا حصہ ٹرانسفر کیا جائے۔ وزیرعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ ورکرز ویلفیئر بورڈ محنت کشوں کےلیے فلیٹس اور گھر بنانے کے ساتھ ساتھ ورکرز ماڈل اسکولوں اور کالجوں میں محنت کشوں کے بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کرنے کا بھی ذمہ دار ہے۔ بورڈ ہر ایک بچے کو یونیفارم، جوتوں، کتابوں اور تھیلوں کےلیے 10 ہزار روپے کی مالی امداد بھی دیتا ہے۔ محنت کش کی بیٹی کی شادی کی صورت میں 2 لاکھ روپے جہیز کی مد میں دئے جاتے ہیں۔ میٹرک کے بعد محنت کشوں کے بچوں کو اسکالرشپ اور فوتگی کی صورت میں محنت کش کے قانونی ورثا کو 7 لاکھ روپے کی مالی امداد بھی دیتا ہے۔ اجلاس میں وفاق سے ورکرز ویلفیئر بورڈ ( ڈبلیو ڈبلیو ایف) اور اولڈ ایج بینیفٹس انسٹی ٹیوشن ( ای او بی آئی ) کے اثاثوں اور بقایہ جات کی منتقلی پر بھی بات کی گئی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے معاملہ بہت جلد وزیراعظم کے سامنے اٹھانے کا ارادہ ظاہر کیا۔

    کراچی میں اتوار تک شدید گرمی اور موسم خشک رہے گا

    محکمہ داخلہ سندھ میں اجلاس ،پاک ایران جیل میں قیدیوں کی منتقلی پر غور

    کراچی کی پرائیوٹ یونیورسٹی کی طالبہ تصاویر لیکس کا شکار ہوگئیں

  • پی ٹی آئی ہمیشہ آمریت کی آلہ کار رہی ہے،شرجیل میمن

    پی ٹی آئی ہمیشہ آمریت کی آلہ کار رہی ہے،شرجیل میمن

    سندھ کے سینئر صوبائی وزیر، وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے کہا ہے کہ سندھ حکومت عوام کوسہولیات فراہم کررہی ہے،

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے سینئر وزیر شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ سندھ ویژن کے تحت حکومت سندھ کی جانب کراچی میں مختلف ترقیاتی منصوبوں کا آغاز کیا گیا، عوام کوریلیف دینے پرتوجہ دینی ہے،ملک میں سیاسی گہماگہمی بہت عرصے سے جاری تھی، کچھ عرصہ پہلے سیاسی گہما گہمی انجام تک پہنچی ہے،تعلیمی اداروں اور اسپتالوں کو سولر پر منتقل کرنے جا رہےہیں، سینٹرل جیل کو سولر پر منتقل کر دیا گیا ہے،سندھ میں دو لاکھ گھروں کو مفت سولر سسٹم دیا جارہا ہے،سندھ حکومت کے تمام محکمے بہتری کی طرف جارہے ہیں،صدر آصف زرداری کے ویژن کے مطابق عوام کی زندگیاں آسان بنا رہے ہیں، عوام کی خدمت او ر انکو سہولیات دے رہے ہیں، حکومت سندھ میڈیا ہاؤسز اور صحافیوں کی پیشہ ورانہ ضروریات اور حقوق کا تحفظ کرتی رہی ہے،صدر آصف زرداری نے ہدایت کی ہے کہ عوامی مسائل پر توجہ مرکوز کی جائے۔

    عمران خان اقتدار کیلئے جنرل باجوہ کو تاحیات ایکسٹینشن دینے کو تیار تھے،شرجیل میمن
    شرجیل میمن کا مزید کہنا تھا کہ آج جمہوری جماعتیں جو کام کرنے جا رہی ہیں جماعت اسلامی اس کی مخالفت کرتی ہے،بانی پی ٹی آئی اپنا اقتدار بچانے کے لیے جنرل باجوہ کو تاحیات ایکسٹینشن دینے کو تیار تھے،پی ٹی آئی ہمیشہ آمریت کی آلہ کار رہی ہے،عدلیہ کے چند جج صاحبان نے تاریخ کا بدترین انتقام پیپلز پارٹی سے لیا، پیپلز پارٹی نے کبھی کسی کے خلاف مہم نہیں چلائی.پی ٹی آئی نے چھبیسویں آئینی ترمیم کے بعد دوبارہ مہم شروع کر دی، عوام کی یادداشت اتنی بھی کمزور نہیں،26 ویں آئینی ترمیم دو تہائی اکثریت سے پاس ہوئی، جب فضل الرحمان کا ڈرافٹ پیش کیا تو پی ٹی آئی نے کہا کہ ہمیں مولانا فضل الرحمان کا ڈرافٹ منظور ہے، پی ٹی آئی والے ڈیجیٹل دہشتگردی کر رہے ہیں، پی ٹی آئی والے ملک کے اندر انتشار اور تقسیم کے ایجنڈے پر ہیں،بین الاقوامی طور پر پی ٹی آئی کے حق میں مہم چلائی جا رہی ہے، یہ سب کچھ مشن اسرائیل اور مشن گولڈ اسمتھ کا حصہ ہے، بانی پی ٹی آئی کو اسرائیل کا ایجنٹ نہیں کہوں گا، یہ اسرائیلی حکومت کا حصہ ہے،پیپلز پارٹی کسی کی ماں، بہن، بیوی، بیٹی کی گرفتاری پر کبھی خوش نہیں ہوئی۔

    لاہور: نجی کالج میں طالبہ سے مبینہ زیادتی کی غیرمصدقہ خبر کی تحقیقات، سوشل میڈیا پیج کا پردہ فاش

    پنجاب کالج ریپ کا ڈراپ سین،سوشل میڈیا پر فیک نیوز کی روک تھام کی سفارش

    ہر بچہ کہہ رہا تھا زیادتی ہوئی مگر کسی کے پاس کوئی ثبوت نہیں،سرکاری وکیل

    پنجاب کالج سوشل میڈیامہم،عمران ریاض،سمیع ابراہیم سمیت 36 افراد پر مقدمہ

    راولپنڈی،طلبا کا احتجاج، توڑ پھوڑ،پولیس کی شیلنگ

    مبینہ زیادتی ،طلبا کا احتجاج، آئی جی پنجاب کو عدالت نے کیا طلب

    پنجاب کالج مبینہ زیادتی کیس،کالج انتظامیہ کی طلبا سے کلاسوں میں جانے کی اپیل

    لاہور کے کالج میں طالبہ سے زیادتی ،مبینہ من گھڑت ویڈیو کے خلاف مقدمہ درج

    لاہور میں طالبہ کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی: پنجاب حکومت کی ہائی پاور کمیٹی کی ابتدائی رپورٹ

    پنجاب کالج مبینہ زیادتی، پولیس واقعہ سے انکاری،طلبا کا آج پھر احتجاج

    پنجاب کالج مبینہ زیادتی بارے من گھڑت افواہ پھیلانے والا گرفتار

  • سندھ میں کتے بےقابو، رواں برس 2 لاکھ سے زائد شہریوں کو کاٹ لیا

    سندھ میں کتے بےقابو، رواں برس 2 لاکھ سے زائد شہریوں کو کاٹ لیا

    سندھ میں آوارہ کتوں کی بہتات کے باعث کتے کے کاٹنے کے کیسز میں اضافہ ہوا ہے۔

    محکمہ صحت سندھ کے مطابق سندھ میں رواں سال ستمبر تک کتوں کے کاٹنے سے 2 لاکھ 26 ہزار سے زائد شہری متاثر ہوئے ہیں۔رواں برس 12 شہری کتوں کے کاٹنے سے ہونے والی بیماری ریبیز سے انتقال کر گئے۔محکمہ صحت سندھ کے مطابق کتوں کے کاٹنے کے جنوری میں 27 ہزار 333، فروری میں 27 ہزار 473، مارچ میں 29 ہزار 426 واقعات رپورٹ ہوئے۔اپریل میں 25 ہزار 514، مئی 25 ہزار 311، جون میں 22 ہزار 305 کتوں کے کاٹنے کے واقعات رپورٹ ہوئے۔علاوہ ازیں جولائی میں 22 ہزار 558، اگست میں 22 ہزار 575 اور ستمبر میں 24 ہزار سے زائد کتوں کے کاٹنے کے واقعات سامنے آئے۔دوسری جانب کراچی میں انچارج ڈاگ بائٹ کلینک سول اسپتال کا کہنا ہے کہ کتوں کے کاٹنے سے متاثرہ یومیہ 120 افراد آتے ہیں، بچے، بزرگ کتوں کے سامنے کم مزاحمت کر پاتے ہیں اس لیے وہ زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ڈاکٹر رومانہ نے بتایا ہے کہ کتے کے کاٹنے پر فوری متاثرہ جگہ کو ڈیٹرجنٹ صابن سے کم از کم 15 منٹ دھونا چاہیے اور اینٹی ریبیز ویکسین اور حفاظتی ٹیکوں کا کورس مکمل کرنا چاہیے۔

    عزیر بلوچ کی اہلخانہ سے ملاقات اور مسجد میں جمعہ پڑھنے کی درخواست

    کراچی چیمبر کا وزیراعظم سے 6 ورکنگ ڈے بحال کرنے کا مطالبہ

    رئیر ایڈمرل فیصل امین نے کمانڈر کوسٹ کا عہدہ سنبھال لیا

  • سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی شہر بھر میں بڑے پیمانے پر توڑ پھوڑ کاسلسلہ جاری

    سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی شہر بھر میں بڑے پیمانے پر توڑ پھوڑ کاسلسلہ جاری

    غیرقانونی تعمیرات کے خلاف سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی کارروائیوں میں شدت،شہر بھر میں بڑے پیمانے پر توڑ پھوڑ کاسلسلہ جاری ہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ڈائریکٹرجنرل ایس بی سی اے کی ہدایات پر ڈیمالیشن اسکواڈ نے شہرکے مختلف اضلاع میں نقشے کے برخلاف اضافی منزلوں،پورشن سمیت استعمال اراضی کی خلاف ورزی و دیگرغیرقانونی تعمیرا ت کومنہدم وسربمہرکردیا جبکہ سربمہرکی گئی املاک میں 2پٹرول پمپس بھی شامل ہیں۔ ڈیمالیشن ٹیم ڈسٹرکٹ ایسٹ کے علاقے پی ای سی ایچ ایس میں پلاٹ نمبر658، CCایریابلاک 02، پر دکانوں کی سڑک پر تجاوز کردہ تعمیرات،پلاٹ نمبر151-R، بلاک 02پر فلیٹ نمبر103سے پہلے آہنی شیڈ، پلاٹ نمبر83-A، بلاک 02، پر غیرقانونی دکانوں اورپلاٹ نمبر172-Q، اورپلاٹ نمبر172-R،بلاک 02،پی ای سی ایچ ایس پر گراؤنڈ فلور کی غیرقانونی تعمیرات کو سربمہرکردیا جبکہ پلاٹ نمبر64-W، بلاک 06، کراچی ایڈمن سی ایچ ایس پر پہلی منزل کی پارٹیشن دیواروں کو منہدم کردیاگیا۔ڈسٹرکٹ ایسٹ، گلستان جوہر،کے ڈی اے اسکیم36میں پلاٹ نمبرB-04،بلاک 06،پردوسری منزل کی آرسی سی چھت،پلاٹ نمبرC-234، بلاک 01، اور پلاٹ نمبرB-54/13-13-C، بلاک 01، پر گراؤنڈفلوراورپہلی منزل کی لازمی کھلی جگہ پر آرسی چھت و دیگر تعمیرات،کو منہدم کردیا اور پلاٹ نمبرSB-33، بلاک 3-A، پر غیرقانونی دکان سمیت پلاٹ نمبر 240-JMجمشید ٹاؤن اور پلاٹ نمبر280-GRW، گارڈن ویسٹ پر واقع پیٹرول پمپس میں بغیرقانونی اجازت کے تعمیراتی رد و بدل پر کارروائی کرتے ہوئے دونوں پٹرول پمپس کو سربمہرکردیا گیاجبکہ ڈسٹرکٹ ایسٹ میں مزید کاروائیوں میں پلاٹ نمبر A-27، بلاک 13/D/1، گلشن اقبال اسکیم 24، پر دوسری منزل پر 2کمروں کی تعمیرات اور پلاٹ نمبرA-1953میٹرویل،اسکیم 33پر دوسری منزل کی تعمیرات کو جزوی طور پر منہدم کردیاگیا۔
    علاوہ ازیں ڈیمالیشن اسکواڈ کی ٹیم نے ڈسٹرکٹ سینٹرل، گلبرگ ٹاؤن فیڈرل بی ایریا میں پلاٹ نمبرC-25، بلاک 17، پر چوتھی منزل،پلاٹ نمبرA-148، بلاک 17اور پلاٹ نمبرR-211، بلاک 15، پر تیسری منزلوں اورپلاٹ نمبرC-25، بلاک 17، پر پانچویں منزل کی آرسی سی چھت اورپارٹیشن دیواروں کومنہدم کردیا،جبکہ پلاٹ نمبرR-114، بلاک 17، پر تیسری منزل پر کمروں کی تعمیرات سمیت پلاٹ نمبرR-818، بلاک 14، کی لازمی کھلی جگہ پر آرسی سی تعمیرات کو منہدم کردیاگیا۔
    دریں اثنائ ڈیمالیشن کی ایک اورٹیم نے ڈسٹرکٹ ساؤتھ،لیاری کے علاقے میں پلاٹ نمبر2308، سبزی مارکیٹ نیاآباد پر ساتویں منزل کو منہدم اور احاطے کوکردیا جبکہ پلاٹ نمبرAKS/15,2، کھڈامارکیٹ،پلاٹ نمبرAKB-S-7/44، مین دریاآباد کو سربمہرکردیاجبکہ پلاٹ واقع بہارکالونی،ڈی روڈ،گلی نمبر 19,20، پر غیرقانونی تعمیرات کے لئے نصب شیٹرنگ کو منہدم کردیااس دوران وہاں موجودخواتین کے مجمع کی جانب سے ہنگامہ آرائی پر انہدامی عمل کو ملتوی اورچارمنزلہ عمارت کوسربمہرکردیاگیا۔مذکورہ بالاانہدامی کارروائیاں متعلقہ ڈپٹی واسسٹنٹ ڈائریکٹرزاورڈیمالیشن آفیسرز کی زیرنگرانی عمل میں لائی گئیں جبکہ اس دوران امن وامان کی صورتحال کوقابومیں رکھنے کے لئے ایس بی سی اے پولیس فورس سمیت علاقہ پولیس کی نفری بھی ان کے ہمراہ وہاں موجودتھی۔

    ایکسپو سینٹر میں پانچویں ٹیکسپو پاکستان نمائش کا باقائدہ آغاز ہو گیا

    وزیراعلیٰ سندھ سے آل پارٹیز حریت کانفرنس کے وفد کی ملاقات

    کے الیکٹرک نے جنریشن ٹیرف پر فیصلہ اہم سنگ میل قرار دیدیا

  • سندھ حکومت و پولیس ناکام، کراچی  ڈاکوؤں کے رحم و کرم پر ہے،جماعت اسلامی

    سندھ حکومت و پولیس ناکام، کراچی ڈاکوؤں کے رحم و کرم پر ہے،جماعت اسلامی

    امیرجماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے گزشتہ شب مسلح ڈکیتی کی واردات میں ڈاکوؤں کی فائرنگ کا نشانہ بننے والے فرحان خان کی نماز جنازہ میں شرکت کی۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق فرحان گلشن معمار سے سرجانی جاتے ہوئے مسلح ڈاکوؤں کا شکار ہوا۔ نماز جنازہ مسجد قاسم سرجانی ٹاؤن سیکٹر 7Dمیں ادا کی گئی، منعم ظفر خان نے مقتول فرحان کے بھائی فیصل خان اور دیگر اہل خانہ سے ملاقات و تعزیت کی، ان کے ہمراہ سٹی کونسل کے رکن قاضی صدر الدین، سیکریٹری ضلع شمالی شکیل احمد اور آصف محفوظ بھی موجود تھے۔واقع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار، مرحوم کی مغفرت اور اہل خانہ کے لیے صبر ِ جمیل کی دعا کی۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے ڈاکوؤں کے ہاتھوں قتل اور لوٹ مار، مسلح ڈاکوؤں کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کی روک تھام میں سندھ حکومت، محکمہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ناکامی کی شدید مذمت کی اور کہا کہ کراچی پولیس چیف کراچی میں جرائم میں 50فیصد کمی کا دعویٰ کر رہے ہیں لیکن صورتحال اس کے برعکس ہے۔محکمہ پولیس کی کارکردگی کا یہ حال ہے کہ رواں برس 44ہزار سے زائد ڈکیتی و لوٹ مار کی وارداتیں ہوئیں اور مزاحمت پر100 سے زائدشہری اپنی جان گنوابیٹھے،شہر میں ایک بار پھر سے اسٹریٹ کرائمز، مسلح ڈکیتی کی وارداتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوگیا ہے، شہریوں کی جان و مال محفوظ نہیں، محکمہ داخلہ اور متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر رہے اور عوام کو ڈاکوؤں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔

    کے الیکٹرک نے جنریشن ٹیرف پر فیصلہ اہم سنگ میل قرار دیدیا

    شرجیل میمن کے نجی گاڑیوں پر سرکاری نمبر پلیٹس لگانے کے خلاف کریک ڈاؤن احکامات

    محکمہ تعلیم پنجاب کا اسکولوں کے اوقات کار میں تبدیلی کا نوٹیفیکیشن