Baaghi TV

Tag: سندھ حکومت

  • شرجیل میمن کے نجی گاڑیوں پر سرکاری نمبر پلیٹس لگانے کے خلاف کریک ڈاؤن احکامات

    شرجیل میمن کے نجی گاڑیوں پر سرکاری نمبر پلیٹس لگانے کے خلاف کریک ڈاؤن احکامات

    حکومت سندھ نے نجی گاڑیوں پر سرکاری نمبر پلیٹس لگانے کے خلاف کریک ڈاؤن کا اعلان کردیا ہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ایکسائز و ٹیکسیشن اور ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے اس ضمن میں محکمہ ایکسائو کو کریک ڈاؤن کے احکامات جاری کر دیئے ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کی زیرصدارت محکمہ ایکسائز و ٹیکسیشن کا اعلی سطح کا اجلاس کراچی میں ہوا۔اجلاس میں سیکریٹری ایکسائز محمد سلیم راجپوت، ڈی جی ایکسائز اورنگزیب پنہور اور دیگر افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ محکمہ ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول نے سالانہ ٹیکس محصولات کا 34 فیصد تین ماہ 15 دن میں حاصل کر لیا ہے۔اجلاس کے موقعے پر سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے محکمہ ایکسائز کو ٹیکس ٹارگیٹس بڑھانے اور ٹیکس وصولیاں تیز کرنے کے بھی احکامات جاری کر دیئے ہیں۔اجلاس میں ٹیکسیشن کے نظام کے بعد گاڑیوں کی رجسٹریشن اور ٹرانسفر کی سہولت بھی گھر بیٹھے دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ یکم جنوری سے گاڑیوں کی رجسٹریشن اور ٹرانسفر بھی آن لائن ہو جائے گی ، شہری گھر بیٹھے گاڑیوں کی رجسٹریشن اور ٹرانسفر کر سکیں گے اور موٹر وہیکل ٹیکس بھی گھر بیٹھے ادا کر سکیں گے، نقد ڈیلنگ ختم ہونے سے عوام کو بہترین سہولت ملے گی اور شفافیت کو بھی فروغ ملے گا، حکومت سندھ کے ویژن کے تحت ٹیکس ادائگی کا نظام مزید آسان ہو جائے گا۔انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ بہترین عوامی خدمات کی فراہمی کے لئے پرعزم ہے، تمام اقدامات کا مقصد عوام کی دشواریوں کا خاتمہ ہے، محکمہ ایکسائز و ٹیکسیشن نے حالیہ مالی سال کے ٹیکس ٹارگٹ کا 34 فیصد وصولی کر لیا، جو خوش آئند بات ہے۔ سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ سرکاری نمبر پلیٹس لگانے والی گاڑیوں کو بھی چیک کیا جائے، نجی گاڑیوں پر سرکاری نمبر پلیٹس آویزاں کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے، گاڑیوں کی رجسٹریشن، ٹیکس ادائگی اور نمبر پلیٹس کی چیکنگ کے لئیمزید اقدامات کئے جائیں۔انہوں نے ہدایات دیں کہ سیلاب زدگان کے گھروں کی تعمیر کے لئے فنڈ ریزنگ کے لئے پریمئم اور پرسنلائزڈ نمبر پلیٹس کی آن لائن نیلامی کے لئے رابطہ مہم تیز کی جائے، پریمئم اور پرسنل نمبر پلیٹس کی آن لائن نیلامی کو مزید تیز کرنے کے لئے مہم چلائی جائے۔ سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک رسائی کو یقینی بنایا جائے تاکہ زیادہ لوگ آن لائن نیلامی میں حصہ لے سکیں، آن لائن نیلامی سے جمع ہونے والی رقم سیلاب متاثرین کے لئے گھروں کی تعمیر کے لئے دی جائے گی۔

    شرجیل میمن کے نجی گاڑیوں پر سرکاری نمبر پلیٹس لگانے کے خلاف کریک ڈاؤن احکامات

    محکمہ تعلیم پنجاب کا اسکولوں کے اوقات کار میں تبدیلی کا نوٹیفیکیشن

    ڈاکٹر شاہنواز کی ہلاکت، پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آگئی

  • ڈاکٹر شاہنواز کی ہلاکت، پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آگئی

    ڈاکٹر شاہنواز کی ہلاکت، پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آگئی

    میرپورخاص میں مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہونے والے ڈاکٹر شاہنواز کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آ گئی ہے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بتایا گیا کہ ڈاکٹر شاہنواز کی 4 پسلیاں اور کندھے کی ہڈی ٹوٹی ہوئی تھی، جبکہ لاش کا اگلا حصہ، چہرہ اور سر کی جلد جلی ہوئی پائی گئی۔پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر شاہنواز کے دونوں ہاتھوں اور پیروں کے ناخن جزوی طور پر جلے ہوئے تھے۔واضح رہے کہ 14 اکتوبر کو سندھ حکومت نے قبر کشائی کر کے ڈاکٹر شاہنواز کی لاش کا پوسٹ مارٹم کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس سلسلے میں پولیس سرجن نے ڈائریکٹر جنرل صحت کو خط لکھا، جس کے بعد قبر کشائی کی گئی اور نمونے لیے گئے۔18 ستمبر 2024 کی رات، سندھڑی پولیس نے مبینہ مقابلے میں عمرکوٹ کے رہائشی ڈاکٹر شاہنواز کی ہلاکت کا دعوی کیا تھا۔بعد میں، ڈاکٹر شاہنواز کے قتل کا مقدمہ سندھڑی تھانے میں درج کیا گیا، جس میں قتل اور انسداد دہشتگردی کی دفعات شامل کی گئی۔مقدمے میں ایس ایچ او اور اہلکاروں سمیت 15 افراد شامل ہیں، جبکہ سابق ڈی آئی جی جاوید جسکانی، سابق ایس ایس پی میرپور خاص اسد چوہدری، اور سابق ایس ایس پی عمرکوٹ آصف رضا بلوچ کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔26 ستمبر 2024 کو، سندھ کے وزیرداخلہ نے پریس کانفرنس میں کہا کہ اس معاملے میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی، چاہے مقتول کی فیملی ایف آئی آر نہ بھی کرائے۔27 ستمبر کو سندھ حکومت کی اعلی سطحی انکوائری کمیٹی کی رپورٹ میں ڈاکٹر شاہنواز کی پولیس کی حراست میں ہلاکت کی تصدیق ہونے پر ڈی آئی جی میرپورخاص، ایس ایس پی میرپورخاص اور ایس ایس پی عمرکوٹ کو معطل کر دیا گیا۔11 اکتوبر کو سندھ ہیومن رائٹس کمیشن نے توہین مذہب کے الزام میں ڈاکٹر شاہنواز کے قتل پر ایک رپورٹ پیش کی، جس میں کہا گیا کہ میرپورخاص اور عمرکوٹ کے ایس ایس پیز اور ڈی آئی جی نے گرفتاری سے انکار کیا، لیکن بعد میں تصدیق کی کہ ملزم کو کراچی سے گرفتار کیا گیا تھا۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ مقدمے کے بعد ایف آئی اے سے تکنیکی معاونت نہیں لی گئی اور پوسٹ مارٹم رپورٹ 2 روز تک فراہم نہیں کی گئی۔15 اکتوبر کو محکمہ داخلہ سندھ نے سندھ ہائی کورٹ کے رجسٹرار کو خط لکھ کر ڈاکٹر شاہنواز کی ہلاکت کے معاملے پر جوڈیشل انکوائری کی درخواست کی۔ 21 اکتوبر کو سندھ ہائی کورٹ کے میرپورخاص سرکٹ بینچ نے کیس کی سماعت کے دوران پولیس کے ہاتھوں ماورائے عدالت قتل کے معاملے کی تحقیقات ایف آئی اے سے کرانے کا حکم دیا، اور تحقیقات کی نگرانی کے لیے قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کو مقرر کیا۔

    سرفراز بگٹی کا بلدیاتی اداروں کے ترقیاتی فنڈز میں 100 فیصد اضافہ کرنے کا اعلان

  • شرجیل میمن کا کراچی کی سڑکوں پر ڈبل ڈیکر بسیں چلانے کا اعلان

    شرجیل میمن کا کراچی کی سڑکوں پر ڈبل ڈیکر بسیں چلانے کا اعلان

    سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کی جانب سے عوام کے لئے خوشخبری دی گئی ہے۔ حکومت سندھ کی جانب سے کراچی کی سڑکوں پر اب ڈبل ڈیکر بسیں چلائی جائیں گی ، حکومت سندھ نے ڈبل ڈیکر بسوں کی خریداری کے لئے تیاریاں شروع کر دی ہیں۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات ، ٹرانسپورٹ، ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول شرجیل انعام میمن کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس ہوا، اجلاس میں سندھ ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کے مینیجنگ ڈائریکٹر کمال حکیم دایو، پیپلز بس سروس کے پروجیکٹ ڈائریکٹر صہیب شفیق، پیپلز بس سروس کے مینیجر آپریشنز عبدالشکور اور دیگر حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں حکومت سندھ کی جانب سے پیپلز بس سروس کے لئے 50 نئی بسیں خریدنے کا فیصلہ کیا گیا۔اجلاس میں سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے ماس ٹرانزٹ اتھارٹی اور دیگر متعلقہ حکام کو بسوں کی خریداری کے لئے تیاریاں تیز کرنے کی ہدایات دیں۔ اجلاس کے موقعے پر بات کرتے ہوئے سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ ہم کراچی میں پبلک ٹرانسپورٹ کو جدید بنانے کے لیے پرعزم ہیں، حکومت سندھ کا یہ اقدام شہریوں کو سستی اور آرام دہ سفر فراہم کرتے ہوئے شہری ٹرانسپورٹ کے نظام کو بہت بہتر بنائے گا۔انہوں نے کہا کہ عوام کی بڑھتی ہوئی ٹرانسپورٹ کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے تیزی سے عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔ اجلاس کے موقعیپر سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے پیپلز بس سروس کے بس اسٹیشنز کا کام بھی جلد از جلد مکمل کرنے کے احکامات جاری کئے۔

    حکومت سندھ کراچی کا سرکاری اسپتال کرپشن میں بازی لے گیا

    جسٹس یحییٰ آفریدی: عدالتی کیریئر اور اہم فیصلوں پر ایک نظر

  • حکومت سندھ کی ڈاکٹر شاہنواز قتل کی تحقیقات کیلئے ہائی کورٹ سے باضابطہ درخواست

    حکومت سندھ کی ڈاکٹر شاہنواز قتل کی تحقیقات کیلئے ہائی کورٹ سے باضابطہ درخواست

    حکومت سندھ نے سندھ ہائی کورٹ سے باضابطہ طور پر ڈاکٹر شاہ نواز کنبھر کے متنازع قتل کی عدالتی تحقیقات کرانے کی درخواست کردی۔

    انکوائری کی درخواست وزیر داخلہ سندھ ضیاالحسن لنجار کی جانب سے کی گئی جس میں 18 ستمبر 2024 کو تھانہ سندھڑی، میرپور خاص کی حدود میں ہونے والے قتل کے پس پردہ محرکات کا پتا لگانے کی استدعا کی گئی۔ڈاکٹر کنبھر کو تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295-سی کے تحت توہین مذہب کے الزامات کا سامنا تھا اور واقعے سے ایک دن قبل ان کے خلاف مذکورہ دفعات کے تحت عمرکوٹ میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔پولیس نے دعویٰ کیا کہ ڈاکٹر شاہنواز فائرنگ کے تبادلے میں مارے گئے اور ان کے خلاف تعزیرات پاکستان اور سندھ آرمز ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت مقدمات درج کیے گئے تھے۔تاہم آئی جی سندھ کی جانب سے قائم کردہ کمیٹی نے یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ ڈاکٹر شاہنواز کو جعلی پولیس مقابلے میں مارا گیا جس سے عوام میں غم و غصہ پیدا ہوا اور انہوں نے انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔

    قتل کے بعد ڈاکٹر شاہنواز کنبھر کی لاش کو جلانے کی کوشش کی گئی اور لاش کی بے حرمتی نے عوام کو مزید مشتعل کردیا اور ان واقعات کے بعد عمرکوٹ میں تعزیرات پاکستان، انسداد دہشت گردی ایکٹ اور 2022 کے دوران حراست تشدد اور موت کی روک تھام و تحفظ کے ایکٹ کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔27 ستمبر 2024 کو ڈاکٹر شاہنواز کنبھر کے خاندان نے مبینہ طور پر واقعے میں ملوث پولیس افسران کے خلاف قتل، اغوا اور دوران حراست تشدد کے الزامات کے تحت ایف آئی آر درج کرائی تھی اور اب بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیش نظر محکمہ داخلہ سندھ اب ذمہ دار اہلکاروں کے احتساب اور انصاف کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے عدالتی تحقیقات پر مصر ہے۔محکمہ داخلہ نے استدعا کی کہ حقائق کا پتا لگانے اور سوگوار خاندان کو انصاف کی فراہمی کے لیے معاملے کی ہائی کورٹ کے موجودہ جج سے انکوائری کرائی جائے۔

    ڈاکٹر شاہنواز کنبھر کا جعلی پولیس مقابلے میں قتل

    واضح رہے کہ 19 ستمبر کو ڈاکٹر شاہ نواز کے خلاف عمرکوٹ پولیس نے مبینہ طور پر مذہبی جماعتوں کے احتجاج کے بعد فیس بک پر ’گستاخانہ مواد‘ پوسٹ کرنے پر تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295 سی کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔اس تمام واقعے سے ایک دن قبل ڈاکٹر شاہ نواز نے اپنے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بیان جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا اکاؤنٹ ہیک ہو گیا ہے اور وہ گستاخانہ مواد شیئر کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔اس کے بعد اطلاعات سامنے آئی تھیں ملزم کراچی فرار ہو گیا ہے لیکن عمرکوٹ پولیس نے اسے گرفتار کر کے میرپورخاص منتقل کردیا جہاں مبینہ طور پر اسے سندھڑی پولیس نے ایک ’انکاؤنٹر‘(پولیس مقابلے) میں ہلاک کر دیا تھا۔سندھڑی کے ایس ایچ او نیاز کھوسو نے ملزم کے قتل کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ ڈاکٹر نے ’ساتھیوں‘ کے ساتھ مل کر پولیس پر فائرنگ کی، انہوں نے دعویٰ کیا کہ جوابی کارروائی میں ملزم کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا جبکہ اس کا مبینہ ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔تاہم ڈاکٹر شاہنواز کے اہلخانہ نے اسے جعلی پولیس مقابلہ قرار دیتے ہوئے احتجاج کیا تھا اور حکام سے انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔واقعے کے ایک ہفتے بعد وزیر داخلہ سندھ ضیاالحسن نے پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ عمر کوٹ میں ڈاکٹر شاہ نواز کو جعلی پولیس مقابلہ میں مارا گیا اور مقابلے میں ملوث اہلکاروں کو معطل کردیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ انکوائری میں الزام درست ثابت ہونے پر اہلکاروں کو معطل کیا گیا اور یہ ایک جعلی پولیس مقابلہ تھا جب کہ متاثرین جسے ذمہ دار قرار دیں گے اس کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائےگی۔اس کے بعد ڈاکٹر شاہنواز کے قتل کا مقدمہ درج کر کے اس میں ڈی آئی جی جاوید جسکانی ، ایس ایس پی چوہدری اسد اور دیگر کو نامزد کیا گیا تھا۔

    طالبہ مبینہ زیادتی احتجاج، گجرات میں تشدد سے کالج کا گارڈ جاں بحق

    کراچی میں سڑکوں سے تجاوزات ختم کرنے کیلئے ٹاسک فورس قائم

    ہنی ٹریپ کرنے والی کچے کے ڈاکوؤں کی رکن خاتون پکڑی گئی

  • ڈاکٹر شاہنواز کے قتل پر 16 اکتوبر کو سندھ میں یوم سیاہ کا اعلان

    ڈاکٹر شاہنواز کے قتل پر 16 اکتوبر کو سندھ میں یوم سیاہ کا اعلان

    سندھ کی قوم پرست تنظیموں اور جسٹس فار ڈاکٹر شاہنواز کنبھر کمیٹی کی جانب سے کراچی میں رواداری مارچ پر ہونے والے تشدد، بچیوں کی تذلیل،گرفتاریوں، قومی رہنماؤں کے گھروں پر چھاپے اور انصاف کی عدم فراہمی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ ، ڈاکٹر شاہنواز کنبھر کے قتل پر 16 اکتوبر کو پورے سندھ میں یوم سیاہ منانے کا اعلان اس حوالے سے قوم پرست رہنمائوں ریاض چانڈیو اور ڈاکٹر نیاز کالانی نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔

    ریاض چانڈیو نے بتایا کہ جسٹس فار ڈاکٹر شاہنواز کنبھر کمیٹی کا اجلاس سخی ستار دیو چولیانی ہاؤس حیدرآباد میں ہوا۔ اجلاس میں قوم پرست رہنمائوں ڈاکٹر نیاز کالانی، عبدالفتاح چنا، ڈاکٹر بدر چنا، قمر زمان راجپر، نواز شاہ بھدائی، غفار میرجت، ڈاکٹر خوشحال کالانی، پنہل جمالی، ایاز سولنگی، غفار مہر اور دیگر نے شرکت کی۔اجلاس میں کہا گیا کہ ڈاکٹر شاہنواز کنبھر کے قتل کی عدالتی تحقیقات کے لیے کراچی میںرواداری مارچ کیا گیا جس پر ریاست اور حکمرانوں نے وحشیانہ حملہ کیا اور سیاسی کارکنوں، صحافیوں اور عام شہریوں پر وحشیانہ تشدد کیا۔بلاول زرداری حکومت کی نازی ازم کی شدید مذمت کرتے ہیں جس نے قانون، اخلاقیات اور جمہوریت کی بنیادیں تباہ کر دی ہیں۔ ریاض چانڈیو نے کہا کہ کراچی میں جہاں ایک طرف ظلم ہوا وہیں سندھ کی بیٹیوں روماسہ جامی، عالیہ بخشل، سندھو نواز گھانگھرا، سورتھ سندھی اور سندھ کے اہل قلم جامی چانڈیو، بخشل تھلہو، راگی سمیت سمجھوکو لے جا کر وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔دوسری جانب انہیں اور باڈی کے رہنما ڈاکٹر نیاز کالانی کو حیدرآباد سے گرفتار کیا گیا، ان کے گھروں کا گھیراؤ کیا گیا، . انہوں نے کہا کہ یہ سندھ کی جمہوریت کی توہین اور پیپلز پارٹی کی طرف سے انصاف پر حملے کی بھیانک شکل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس سارے عمل کا ذمہ دار بلاول بھٹو زرداری اور وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ کو قرار دیتے ہیں، جن کے حکم پر سندھ پر یہ آمریت مسلط کی گئی، دنیا نے ان کا اصل چہرہ دیکھ لیا انہوںنے کہاکہ رواداری مارچ کے بعد بخشل تھلہو، پنہل ساریو اور دیگر کے خلاف درج ایف آئی آر کی مذمت کی۔
    جسقم کے رہنما ڈاکٹر نیاز کالانی نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت سندھ نواز اور محب وطن جماعتوں کے احتجاج میں رکاوٹ نہ ڈالے، پیپلز پارٹی کے جلسے کو متاثر کرنے کے لیے ہم سڑکوں پر دھرنے بھی دے سکتے ہیں۔ سندھ اور سڑکیں بلاک کر دیں۔ انہوں نے کہا کہ رواداری ریلی میں شریک لوگوں کے خلاف ایف آئی آر ختم کی جائے۔ ڈاکٹر بدرچنا نے کہا کہ ہمارا ایک ہی مطالبہ ہے کہ ڈاکٹر شاہنواز کے قتل کی تحقیقات کے لیے ایک آئینی جوڈیشل کمیشن بنایا جائے اور حاضر سروس جج اس واقعے کی شفاف تحقیقات کریں اور ملزمان کو قانون کے مطابق سزا دی جائے جب تک یہ مطالبہ پورا نہیں ہوگا احتجاج جاری رہے گا۔

    سندھ میں ملیریا وبائی شکل اختیار کرنے لگا

    سندھ حکومت کا ریڈ لائن بی آر ٹی منصوبہ مقررہ وقت سے پہلے مکمل کرنے کا حکم

    جمعیت فلسطینی مسلمانوں کا مقدمہ ہر فورم پر لڑ رہی ہے، حماس رہنماء

  • سندھ میں کوئی بھی اسکول استاد نہ ہونے کی وجہ سے بند نہیں ،سردار شاہ

    سندھ میں کوئی بھی اسکول استاد نہ ہونے کی وجہ سے بند نہیں ،سردار شاہ

    وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ نے پنجاب کی وزیر عظمٰی بخاری کے بیان پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب کے تعلیمی نظام کی طرح وزیر اطلاعات پنجاب بھی اپڈیٹڈ نہیں ہیں۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ نے کہا کہ سندھ میں پاکستان کی پہلی ٹیچرز لائسنس پالیسی کا اطلاق ہوچکا ہے۔ لائسنس پالیسی سے ہم نے ٹیچنگ معیار کو بہتر کرنے کا آغاز کردیا ہے۔ سندھ نے اسکولز کی اپگریڈیشن پالیسی منظور کردی ہے۔ سندھ میں 60 ہزار سے زائد اساتذہ کی میرٹ پر بھرتیاں کی جا چکی ہیں ،سندھ میں کوئی بھی اسکول استاد نہ ہونے کی وجہ سے بند نہیں ہے۔ پنجاب میں ایک کروڑ 20 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ ایک کروڑ 20 لاکھ بچوں کے مستقبل کے حوالے سے پنجاب کی کوئی پالیسی واضح نہیں مگر پنجاب میں اس وقت بھی سرکاری اسکولوں میں 80 ہزار سے زائد اساتذہ کی کمی ہے۔ سردار شاہ نے کہا کہ تمام تر چیلنجز کے باوجود سندھ میں اصلاحات کا عمل جاری ہے۔ سندھ میں سیلاب کی وجہ سے اسکولز متاثر ہوئے ہیں، مگر پنجاب میں ایسی کوئی صورتحال بھی نہیں ہوئی۔انہوں نے کہا کہ کراچی کے گورنمنٹ اسکولز کے طالب علم نے بورڈ کے امتحان میں پہلی پوزیشن حاصل کی ہے۔یونیسکو کے ٹیچنگ پریکٹسز کے مقابلے میں سندھ کے اساتذہ نے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا ،25 ممالک کے درمیاں ہونے والے مقابلے میں سندھ کے رورل ایریا کے سرکاری اسکول کی استاد تبسم لغاری نے پہلی پوزیشن حاصل کی ۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے تعلیمی اصلاحات میں کئی اقدامات میں پہل کی ہے۔ پاکستان کی پہلی ٹرانس جینڈر ایجوکیشن پالیسی متعارف کروائی جا رہی ہے۔اپنے خاندان کی کفالت کرنے والے بچوں کو تعلیم کے ساتھ ہنر سکھانے کے لیے سندھ میں نصاب لانچ کیا گیا ہے۔ سندھ میں تمام مذاہب کے بچوں کو ان کے اپنے مذہب کے مطابق تعلیم دینے کے لیے نصاب مرتب کیا گیا ہے ،یونیسکو کے تھرڈ پارٹی تجزیے نے سندھ کے نصاب کو کئی زاویوں سے بہتر قرار دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب کے امتحانی مراکز فروخت ہونے کی گواہی خود وزیر پنجاب اپنے ایک وڈیو بیان میں دے چکے ہیں۔پنجاب کے وزاء کو ان کی اپوزیشن سے ملنے والی تکالیف سے آگاہ ہیں اور اس پر ہمدردی کرتے ہیں۔ سندھ میں ہم نے اپوزیشن کے ساتھ بیٹھ کر تعلیم کے معاملے پر سیاست نہ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ اپوزیشن کی خدمات سندھ کی تعلیم کی ترقی کے لیے حاصل کرنا ہماری سیاسی کامیابی ہے۔ 19 صدی کے اسکولوں کا طعنہ دینے والوں کو یاد دلاتا چلوں کہ سندھ کے اپنے لوگوں نے 19 صدی میں جو اسکولز قائم کیے جو آج بھی قائم ہیں۔سندھ میں 19ویں صدی میں تعلیم حاصل کرنے والی شخصیات نے پاکستان کی تحریک میں نمایاں کردار ادا کیا۔پالاننگ کمیشن آف پاکستان کی حال ہی میں جاری کردہ رپورٹ میں لرننگ آئوٹ-کم میں سندھ کا نوشہروفیروز ضلع پنجاب کے 60 اضلاع سے آگے ہے۔

    سابق گورنر سندھ حکیم محمد سعید کی برسی 17اکتوبر کومنائی جائے گی

    کراچی،صدر میں ہوٹلوں کی چیکنگ کے دوران 6 مشکوک افراد گرفتار

    سابق گورنر سندھ حکیم محمد سعید کی برسی 17اکتوبر کومنائی جائے گی

  • ملکی مفادات سے زیادہ ذاتی مفادات کو اہمیت کی سوچ خطرناک ہے، سعید غنی

    ملکی مفادات سے زیادہ ذاتی مفادات کو اہمیت کی سوچ خطرناک ہے، سعید غنی

    وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ پاکستان کے مفادات سے زیادہ ذاتی مفادات کو اہمیت دینے کی سوچ خطرناک ہے، سیاسی رہنماوں کی تقلید ملکی مفاد میں ہوسکتی ہے، ملکی مفاد کے خلاف نہیں۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مقامی ہوٹل میں سعودی عرب کے 94 قومی دن کے حوالے سے "پاکستان سعودی عربیہ کے تعلقات ماضی، حال اور مستقبل” کے عنوان سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سعید غنی نے کہا کہ عمرہ و حج اعلٰی درجے کی چیزیں ہیں، ان میں چھوٹے مسائل کو نظر انداز کردینا چاہیے۔ پاکستان کو جب بھی کسی مشکل کا سامنا ہوا، سعودی عرب نے ہمیشہ ہر مشکل میں ہمارا ساتھ دیا ہے۔ تقریب سے کراچی میں سعودی قونصل جنرل، معروف اسلامی اسکالر و چیئرمین پاکستان علمائ کونسل و سیکرٹری جنرل انٹرنیشنل تنظیم حرمین شریفین کونسل حافظ محمد طاہر اشرفی، محمد امین اللہ و دیگر نے بھی خطاب کیا۔صوبائی وزیر سعید غنی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں سعودی عرب کے قومی دن کے حوالے سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عربیہ کے درمیان مثالی برادرانہ تعلقات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے تمام ممالک سفارتی تعلقات رکھتے ہیں، مگر پاک و سعودی تعلق دنیا کے تمام ممالک سے تعلقات بالکل مختلف ہیں۔ سعید غنی نے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ سفارتی تعلقات کے علاوہ ہمارا روحانی تعلق برقرار رہے گا اور اس روحانی تعلق کی وجہ خانہ کعبہ و مدینہ منورہ ہے۔
    انہوں نے کہا کہ پاکستان کو جب بھی کسی مشکل کا سامنا ہوا، سعودی عرب نے ہمیشہ ہر مشکل میں ہمارا ساتھ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب سے سرمایہ کار پاکستان آئے اور آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے میں شامل مشکلات کو دور کرنے میں سعودی عرب نے اپنا اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو زر مبادلہ کا مسئلہ رہا ہے، اس کو بھی انہوں نے دور کیا۔
    سعید غنی نے کہا کہ اس وقت بھی سعودی عرب میں 26 سے 27 لاکھ سے زائد پاکستان برسر روزگار ہیں، جو اس ملک میں زرمبادلہ کا بڑا سبب بنے ہوئے ہیں۔ سعید غنی نے کہا کہ سعودی عرب کی مدد کا ہم اتنا فائدہ اٹھائیں کہ ہم خود کفیل ہوجائیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بین الاقوامی وفود کی آمد روکنے کے لیے دشمن ممالک کا بڑا ہاتھ ہے، پاکستان میں شنگھائی کانفرنس ہونے جارہی ہے، ملک دشمن عناصر و ممالک چاہتے ہیں کہ یہ کانفرنس نہ ہو۔
    انہوں نے کہا کہ گذشتہ دنوں کراچی ایئرپورٹ پر دہشت گردی واقعہ اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ پاکستان کے مفادات سے زیادہ ذاتی مفادات کو اہمیت دینے کی سوچ خطرناک ہے، ایسی جماعتوں کے کارکنان پھر بھی انکی تقلید کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی رہنماوں کی تقلید ملکی مفاد میں ہوسکتی ہے، ملکی مفاد کے خلاف نہیں۔ سعید غنی نے کہا کہ اگر میری جماعت کی قیادت مجھے ملکی مفاد جانے کے خلاف بولے گی تو میں ایسی جماعت کو چھوڑ دونگا۔
    انہوں نے کہا کہ شنگھائی کانفرنس میں مختلف عالمی سربراہ مملکت آرہے ہیں، میری پی ٹی آئی سے گذارش ہے کہ بین الاقوامی کانفرنس کے موقع پر احتجاج کو معطل کیا جائے، یہ نامناسب طرز عمل ہے، آپ پاکستان کے مفاد کے لیے ریاست کا ساتھ دیں۔ سعید غنی نے مزید کہا کہ جو حج و عمرہ آپریٹرز ہیں وہ حاجیوں کو بتایا کریں کہ حج کے لیے جارہے ہیں وہ تفریح کے لیے نہیں۔ حج مشکلات کا ہی نام ہے۔ انہوں نے کہا کہ اکثر ہمارے حاجی صاحبان رہائشی سہولیات کے حوالے سے شکایت کرتے ہیں، عمرہ و حج اعلی درجے کی چیزیں ہے۔ ان میں چھوٹے مسائل کو نظر انداز کردینا چاہیئے۔

    کراچی کے شہری ملک میں سب سے مہنگا آٹا خریدنے پر مجبور

    تعلیم ہی وہ روشن راستہ ہے جو پاکستان کو بحران سے نکال سکتا ہے ،ْ منعم ظفر خان

    مولانا فضل الرحمان کل ٹنڈوالہیار سے امن کارواں کی قیادت کریں گے

  • نجمی عالم نے رجسٹرڈ ماہی گیروں میں مچھی مار جال اور آئس بکس تقسیم کردیئے

    نجمی عالم نے رجسٹرڈ ماہی گیروں میں مچھی مار جال اور آئس بکس تقسیم کردیئے

    وزیر اعلی سندھ کے صوبائی مشیر برائے لائیو سٹاک اور فشریز سید نجمی عالم نے ہفتہ کو ہاکس بے کراچی کے سومار گوٹھ میں رجسٹرڈ ماہی گیروں میں 180 مچھی مار جال اور 145 آئس باکس تقسیم کردئے ۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اس موقع پر رکن سندھ اسمبلی لیاقت آسکانی، ٹائون چیئرمین ہمایوں خان، یوسی چیئرمین مبارک سنگھ اور مبارک ویلج کے سرفراز خان اور سومار ولیج کے محمد اسحاق کے علاوہ ڈائریکٹر جنرل فشریز ڈاکٹر علی محمد مستوئی اور ڈائریکٹر میرین فشریز ڈاکٹر عاصم کریم موجود تھے۔صوبائی مشیر سید نجمی عالم نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 20 سال کے بعد ہم نے پارٹی قیادت کے حکم پر ان مذکورہ گوٹھوں کے ماہی گیروں کی دیکھ بھال کی ہے۔ انشا اللہ ہم بلاول بھٹو کے مشن کو آگے بڑھاتے ہوئے سندھ کے ماہی گیروں کو ملنے والی ایسی سہولیات کے ثمرات ماہی گیروں کے خاندانوں تک پہنچائیں گے۔ سید نجمی عالم نے کہا کہ ہم جلد سندھ کے ماہی گیروں کو مزدور کا درجہ دیں گے اور انہیں لیبر سے متعلق تمام سہولیات فراہم کریں گے۔ اس موقع پر سومار گوٹھ کے علاوہ مبارک گوٹھ، منجہار گوٹھ اور سنہرا گوٹھ کے ماہی گیروں نے بھی شرکت کی۔

    کراچی،پائپ لائن پھٹ گئی گلیوں میں تیل بہنے لگا

    پی ٹی آئی کے وفد کا کراچی میں چین کے قونصل جنرل کا دورہ

    ایف بی آر نے جعلی انوائسنگ میں ملوث عناصر کی گرفتاریاں شروع کردیں

  • سندھ حکومت نے مزدوروں کی کم سے کم اجرت 37 ہزار روپے کرنے کی منظوری دیدی

    سندھ حکومت نے مزدوروں کی کم سے کم اجرت 37 ہزار روپے کرنے کی منظوری دیدی

    سندھ حکومت نے مزدوروں کی کم سے کم اجرت 37 ہزار روپے کرنے کی منظوری دیدی۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں بہتر پولیسنگ بھِی اہم ایجنڈا تھا جس کے تحت سندھ بھر کے 407 پولیس تھانوں کو براہ راست بجٹ کے علاوہ ایس ایچ اوز کو خصوصی فنڈز جاری کرنے کا اختیار دے دیا گیا۔فیصلے کے تحت صوبے میں مختلف کیٹیگریز کے تھانوں کیلئے علیحدہ علیحدہ بجٹ ہوگا، کراچی ڈویڑن میں اے کیٹیگری کے 37 تھانوں کو ایک کروڑ 52 لاکھ روپے کا بجٹ دیا گیا ہے جبکہ ایس ایچ اوز کو ایک ماہ میں 2 لاکھ روپے کا بجٹ خرچ کرنے کا اختیار ہو گا۔اجلاس میں سندھ پبلک سروس کمیشن کے ضوابط میں بھی ترمیم کی منظوری دی گئی جس کے تحت کمیشن مستقبل میں خالی اسامیوں کیلئے ویٹنگ لسٹ ترتیب دے سکے گا۔اجلاس میں تھرپارکر میں این جی او ہیلپ کے تعاون سے 9 ڈسپینسریز چلانے اور محکمہ صحت کی 731 مختلف اسامیاں ختم کرنے کی منظوری بھی دی گئی۔سندھ کابینہ کے اجلاس میں یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو عوام پر بھاری جرمانے کرنے سے روکا جائے۔

    دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں پاکستان کے دو شہر شامل

    دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں پاکستان کے دو شہر شامل

  • سندھ حکومت کا ہاری کارڈ جاری کرنے کا فیصلہ

    سندھ حکومت کا ہاری کارڈ جاری کرنے کا فیصلہ

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت اجلاس میں ہاری کارڈ جاری کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ کو محکمہ زراعت کی جانب سے ہاری کارڈ کے اجراء کیلئے مختلف پیکجز پر بریفنگ دی گئی . اجلاس میں صوبائی وزیر منصوبہ بندی و ترقی سید ناصر حسین شاہ، وزیر زراعت محمد بخش مھر، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، چیئرمین پی اینڈ ڈی نجم شاہ، سیکریٹری زراعت رفیق برڑو، سیکریٹری خزانہ فیاض جتوئی اور سیکریٹری رحیم شیخ موجود تھے جبکہ وزیر آبپاشی جام خان شورو اور سیکریٹری ہاؤسنگ خالد شیخ بذریعہ وڈیو لنک اجلاس میں شریک ہوئے اس موقعہ پر وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ سندھ میں ایک تا 12 ایکڑز راضی کے دس لاکھ آبادگار ہیں، آبادگاروں کی گندم کی کاشت کے لئے ہاری کارڈ کے ذریعہ حوصلہ افزائی کرنا چاہتا ہوں.ہم چاہتے ہیں کہ گندم کی پیداوار زیادہ سے زیادہ ہو، سندھ سے ہر سال چاول کی بڑی مقدار برآمد ہوتی ہے، ہمارے آبادگار اس سال ایسی فصلیں اگائیں جن کو برآمد کرسکیں، سندھ حکومت زرعی اور صنعتی شعبوں میں جدت لانا چاہتی ہے، زرعی شعبہ میں ترقی کرنے کی کافی گنجائش ہے اگر زراعت سائنسی بنیادوں پر کی جائے، اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ نے محکمہ آبپاشی کو ہدایت کی کہ ربیع کی فصلوں کیلئے بروقت زرعی پانی کی رسائی کو یقینی بنایا جائے اور کاشتکاروں کو فصلوں کی بہتر پیداوار سے متعلق مکمل آگاہی فراہم کی جائے.اجلاس میں گندم کے کاشتکاروں کو بہترین فصل اگانے کیلئے آگاہی مہم شروع کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا .

    کراچی، ستمبر میں اسٹریٹ کرائمز کی 5 ہزار 8 سو 32 وارداتیں