Baaghi TV

Tag: سندھ

  • بارشوں کے بعد سندھ بھر میں ملیریا کے کیسز میں ریکارڈ اضافہ

    بارشوں کے بعد سندھ بھر میں ملیریا کے کیسز میں ریکارڈ اضافہ

    بارشوں کے بعد سندھ بھر میں ملیریا کے کیسز میں اضافہ ریکارڈ کیا جارہا ہے-

    ترجمان محکمہ صحت سندھ کے مطابق جنوری سے 17ستمبر تک سندھ بھر میں ملیریا کے ایک لاکھ 54 ہزار 123 کیسز سامنے آئے،کراچی سے ملیریا کے 2ہزار 97کیسز رپورٹ ہوئے، ملیریا کے سب سے زیادہ 620کیسز ضلع ملیر میں رپورٹ ہوئے، ضلع جنوبی 374 اور ضلع غربی سے 349 کیسز سامنے آئے۔

    ترجمان کے مطابق ضلع کورنگی سے ملیریا کے 359، ضلع شرقی 179، ضلع وسطی سے121 اور ضلع کیماڑی سے ملیریا کے 95 کیسز سامنے آئے، حیدرآباد ڈویژن سے ملیریا کے 71 ہزار 14، سکھر ڈویژن سے 11 ہزار 862، لاڑکانہ ڈویژن سے 40ہزار 173 اور میرپورخاص ڈویژن سے 11 ہزار 865 اور شہید بینظیرآباد ڈویژن سے ملیریا کے 17ہزار 112 کیسز رپورٹ ہوئے۔

  • سندھ حکومت کی یوٹونگ بس کمپنی کو سندھ میں سرمایہ کاری کی دعوت

    سندھ حکومت کی یوٹونگ بس کمپنی کو سندھ میں سرمایہ کاری کی دعوت

    شرجیل میمن اور ناصر شاہ نے یوٹونگ بس کمپنی کو سندھ میں سرمایہ کاری کی دعوت،دیدی-

    سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن اور صوبائی وزیر سید ناصر حسین شاہ نے چین میں یوٹونگ بس کمپنی کے حکام سے ملاقات کرکے انہیں سندھ میں سرمایہ کاری کی دعوت دی،ملاقات میں سندھ میں ٹرانسپورٹ اور توانائی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع پر تفصیلی بات چیت ہوئی، ٹرانسپورٹ و متبادل توانائی کے شعبوں میں تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔

    یوٹونگ کے حکام نے وزراء کو اپنی نئی اور جدید ماڈل بسوں کے بارے میں بریفنگ دی، یوٹونگ حکام نے پاکستان بالخصوص سندھ میں بسیں متعارف کرانے میں دلچسپی کا اظہار بھی کیا۔

    قائم مقام صدر یوسف رضا گیلانی کی سیلاب متاثرین کے لیے عالمی اداروں سے امداد کی اپیل

    پہلے انڈا پھینکا، پھر بدتمیزی کی، کل پتھر مارے اب چھرا بھی مار سکتے ہیں،علیمہ خان

    شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ حکومت شہریوں کو معیاری اور محفوظ ٹرانسپورٹ فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے، دھابیجی اسپشل اکنامک زون غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لئے بہت بڑا موقع ہے، سرمایہ کاروں کو دس سالہ ٹیکس چھوٹ دی جارہی ہے،دھابیجی انڈسٹریل زون میں حکومت سندھ کی جانب سے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو تمام ممکنہ سہولیات فراہم کی جائیں گی، سندھ میں ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کی ضرورت ہے۔

    انہوں نے کہا کہ کراچی سمیت صوبے کے دیگر شہروں میں عوام کو معیاری بس سروس فراہم کرنا ہماری ترجیح ہے، ہم چاہتے ہیں کہ یوٹونگ جیسے بین الاقوامی ادارے پاکستان آئیں اور جدید بسیں تیار کر کے یہاں کی مارکیٹ کی ضروریات کو پورا کریں، سندھ حکومت سرمایہ کاروں کو مکمل سہولتیں اور تحفظ فراہم کرے گی۔ٕ

    نئی ٹی ٹوئنٹی پلیئرزکی رینکنگ جاری

    سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ سندھ میں ماحول دوست اور توانائی کے متبادل ذرائع پر مبنی پبلک ٹرانسپورٹ متعارف کرائی جائے، یوٹونگ بسیں ماحول دوست اور توانائی کے متبادل ذرائع کے حوالے سے بہترین آپشن ثابت ہو سکتی ہیں،سندھ حکومت شفاف سرمایہ کاری کے لیے ہر ممکن تعاون کرے گی، عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی اور سرمایہ کاروں کو پائیدار کاروباری ماحول کی فراہمی حکومت سندھ کا عزم ہے-

  • کوٹری، گڈو  اور سکھر بیراج پر پانی کے دباؤ میں اضافہ،کچے کے متعدد دیہات زیر آب

    کوٹری، گڈو اور سکھر بیراج پر پانی کے دباؤ میں اضافہ،کچے کے متعدد دیہات زیر آب

    پنجاب کا بڑا حصہ سیلاب میں ڈوب گیا، آبی ریلے اب تیزی سے سندھ کے مختلف علاقوں میں داخل ہورہے ہیں، کوٹری بیراج، گڈو بیراج اور سکھر بیراج پر پانی کا دباؤ بڑھ رہا ہے، کچے کے متعدد دیہات سیلاب میں ڈوب گئے ہیں-

    سندھ میں بڑے سیلاب کا خطرہ برقرار ہے، سکھر بیراج میں پانی کی سطح بڑھ رہی ہے، کچے کے مختلف علاقے تالاب میں تبدیل ہو رہے ہیں، کوٹری بیراج کے مقام پر بھی دریائے سندھ بپھر رہا ہے، مانجھند، علی آباد سمیت مختلف علاقے زیر آب آگئے ہیں، تیار فصلیں پانی میں ڈوبنے سے لوگوں کے دل بھی ڈوب گئے،مانجھند کے قریب سیلابی پانی میں نہاتے ہوئے نوجوان ڈوب کر جاں بحق ہوگیا۔

    کشمور میں گڈو بیراج پر دریائے سندھ سے آنے والا ریلا حفاظتی بندوں سے ٹکراگیا، گھوٹکی کے کئی علاقوں میں سیلابی صورتحال ہے، قادر پور شینک بند کے بعد سیلاب رونتی بچاؤ بند سے بھی ٹکرانے لگا ہے، علاقہ مکینوں کی محفوظ مقامات پر منتقلی کا عمل جاری ہے۔

    سابق وزیراعظم نواز شریف لندن روانہ، دو ہفتے قیام متوقع

    سیہون میں سیلابی ریلے میں متعدد مکانات، فصلیں اور باڑے بھی بہہ گئے، بھینیسں، گائے اور دیگر مویشی پانی میں رہنے پر مجبور ہیں، علاقہ مکین بھی گھٹنوں گھٹنوں پانی سے گزر کر محفوظ مقامات پر جارہے ہیں، اسکول کے بچے کشتیوں کا کرایہ ادا کرکے اسکول جانے پر مجبور ہیں،ٹھٹھہ میں دریائے سندھ میں طغیانی سے بڑا علاقہ زیر آب آگیا ہے، بچے بڑے سب اپنے مال مویشی کے ساتھ کھلے آسمان تلے آگئے ہیں، کشتیوں کے ذریعے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے۔

    موساد قطر میں اسرائیلی حملے کی مخالف تھی، امریکی اخبار

  • اس وقت تک ہماری تیاریاں پوری ہیں، اب تک کا سیلابی ریلہ خیر خیریت سے گزر رہا ہے،وزیراعلیٰ سندھ

    اس وقت تک ہماری تیاریاں پوری ہیں، اب تک کا سیلابی ریلہ خیر خیریت سے گزر رہا ہے،وزیراعلیٰ سندھ

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کشمور کا دورہ کرکے سیلاب سے نمٹنے کی تیاریوں کا جائزہ لیا۔

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے بھی گڈو اور سکھر بیراج کا دورہ کرکے انتظامات کا جائزہ لیا تھا، انہوں نے اس وقت وفاقی حکومت سے کہا تھا کہ زرعی ایمرجنسی لگائیں، میں وزیراعظم کا ایمرجنسی لگانے پر شکرگزار ہوں۔

    وزیراعلیٰ نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو نے وفاق سے بینظیر انکم سپورٹ کے ذریعے متاثرین کو امداد دینے کا بھی کہا تھا، اس کے علاوہ انہوں نے اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے ریلیف کے کاموں میں حصہ ڈالنے کی اپیل کرنے کی تجویز دی تھی کیوں کہ عالمی طور پر ماحولیاتی بحران کی ذمہ داری پاکستان پر نہیں ہے لیکن متاثر ہم ہورہے ہیں،وفاقی حکومت کو چاہیے کہ فوراً بینظیر انکم سپورٹ کے ذریعے سیلاب متاثرین کی امداد اور اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے ریلیف کی اپیل کرے۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ گڈوبیراج کی گنجائش 11 لاکھ کیوسک ہے اور یہاں سے اب تک پانی کی سطح ساڑھے 5 لاکھ کیوسک تک ہے، ہم گڈو بیراج سے چھ ساڑھے چھ لاکھ تک پانی گزار سکتے ہیں، تمام بندوں کے حساس مقامات پر مشینری موجود ہے، سکھربیراج سے ساڑھے6سے7لاکھ کیوسک پانی گزر رہا ہے، امید ہے کہ کامیابی سے یہ پانی سکھر بیراج اور آگے سے گزار لیں گے۔

    گڈو بیراج پر اونچے، سکھر پر درمیانے درجے کا سیلاب

    مراد علی شاہ نے کہا کہ انشااللہ ہم خوش اسلوبی سے پانی سکھر بیراج سے گزاریں گے،اب تک دریا کے آس پاس کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے، کشمور میں 30 ہزار لوگوں کا انخلا کیا گیا ہے، اس وقت تک اپنی تیاریوں سے مطمئن ہیں 2010 سے اب تک دریا کے آس پاس بندوں کو اونچا کیا ہے،انہوں نے سندھ کے لوگوں، بالخصوص کچے کے علاقے کی آبادی اور متعلقہ سرکاری محکموں کا شکریہ ادا کیا اور سیلاب کا دلیری سے مقابلہ کرنے پر انہیں خراج تحسین پیش کیا،ہماری پہلی ترجیح لوگوں کی جان بچانا ہے، الحمداللہ زیریں علاقوں میں اب تک کوئی ہلاکت نہیں ہوئی۔

    سیلاب کے دوران ہونے والے نقصانات کا تخمینہ لگا رہے ہیں،محمد اورنگزیب

    مراد علی شاہ نے کہا کہ اس وقت تک ہماری تیاریاں پوری ہیں، اللہ نے کرم کیا ہوا ہے، اب تک کا سیلابی ریلہ خیر خیریت سے گزر رہا ہے، جام خان شورو اور ان کی ٹیم نے دن رات کام کیا ہے، کابینہ کے وزرا، ارکان اسمبلی اور انتظامیہ کو شاباش دیتا ہوں،وزیراعلیٰ سندھ نے فلڈ فائٹنگ کے عملے کو 24گھنٹے موجود رہنے اور وزیراعلیٰ کی ضلعی انتظامیہ کو عوامی تعاون کے ساتھ اقدامات تیز کرنے کی ہدایت کردی، عوام کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے، سندھ کے لوگ مضبوط ہیں، سیلابی چیلنج سے نکل آئیں گے۔

  • چناب اور سندھ میں پانی کی سطح میں اضافہ

    چناب اور سندھ میں پانی کی سطح میں اضافہ

    دریائے چناب اور دریائے سندھ میں پانی کی سطح میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    چناب کے مقام پنجند پر پانی کا بہاؤ انتہائی بلند (Very High) جبکہ دریائے سندھ کے مقام گڈو پر اونچا (High) قرار دیا گیا ہےفلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن لاہور کی تازہ رپورٹ کے مطابق پنجند ہیڈ ورکس پر پانی کی آمد اور اخراج دونوں 5 لاکھ 75 ہزار کیوسک سے زائد ہے، جس کے باعث علاقے میں شدید سیلابی خطرہ موجود ہے،چنیوٹ اور قادرآباد کے مقامات پر بہاؤ نارمل بتایا گیا ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ دریائے سندھ پر گڈو کے مقام پر 5 لاکھ 44 ہزار کیوسک پانی کی آمد اور 5 لاکھ 14 ہزار کیوسک اخراج ریکارڈ کیا گیا، جسے اونچا بہاؤ قرار دیا گیا،سکھر بیراج پر درمیانہ (Medium) جبکہ کوٹری بیراج پر بہاؤ کم (Low) بتایا گیا،دریائے راوی کے مقام سدھنائی پر بہاؤ درمیانہ (Medium) ہے، جبکہ دریائے ستلج کے سلیمانکی بیراج پر پانی کا بہاؤ کم (Low) ریکارڈ کیا گیا۔ اسلام بیarrage پر بہاؤ درمیانہ سطح پر ہے۔

    نیپال میں عام انتخابات مارچ میں کرانے کا فیصلہ

    فلڈ ڈویژن کے مطابق تربیلا، منگلا اور چشمہ ڈیمز میں پانی کی آمد اور اخراج معمول کے مطابق ہے۔ دریائے کابل، جہلم اور راوی کے مختلف مقامات پر صورتحال قابو میں ہے،محکمہ موسمیات اور فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن نے نشیبی علاقوں کے رہائشیوں کو الرٹ رہنے اور مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ نقصان سے بچا جا سکے۔

    فیلڈ مارشل عاصم منیر کا قصور اور ملتان کے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ

  • مون سون کے مزید طوفانی اسپیل، شہری علاقوں میں سیلاب کا خدشہ

    مون سون کے مزید طوفانی اسپیل، شہری علاقوں میں سیلاب کا خدشہ

    سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے شہری علاقوں میں مون سون کے ایک اور طوفانی اسپیل کے باعث شدید سیلاب کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

    فیصل آباد میں موسلا دھار بارش کے بعد کئی علاقوں میں پانی جمع ہو گیا اور سڑکیں پانی میں ڈوب گئیں، جبکہ جہلم میں بھی شہر کا بڑا حصہ پانی میں ڈوب گیا، جس سے نظامِ زندگی متاثر ہوا۔قصور کے علاقے گنجے کلاں میں ایک نوجوان دریائے ستلج کے سیلابی پانی میں ڈوب گیا، جس کی تلاش کے لیے آپریشن اندھیرے کے باعث روک دیا گیا ہے اور یہ صبح دوبارہ شروع ہوگا۔ متاثرہ نوجوان ویڈیو بناتے ہوئے نشیبی علاقے میں جمع پانی میں ڈوبا تھا۔

    ریسکیو پنجاب کے ترجمان فاروق احمد کے مطابق جلالپور پیر والا میں 25 ریسکیو بوٹس آپریشنل ہیں اور مزید 38 کشتیاں روانہ کی گئی ہیں۔ مظفر گڑھ اور علی پور جتوئی کے شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہوں۔ جلالپور پیر والا میں ریسکیو آپریشن جاری ہے، اور شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے، رات اور پانی کے تیز بہاؤ کے باوجود ریسکیو کارروائی جاری ہے۔

    مظفر گڑھ میں عظمت پور زمیندارہ بند ٹوٹنے کے نتیجے میں متعدد بستیاں زیرِ آب آ گئیں اور ہزاروں ایکڑ فصلیں تباہ ہو گئی ہیں۔ اسسٹنٹ کمشنر کے مطابق متاثرین کے لیے فلڈ ریلیف کیمپ قائم کر دیے گئے ہیں اور بند ٹوٹنے سے 7 ہزار سے زائد افراد کو نقل مکانی کرنا پڑی۔بہاولپور میں دریائے ستلج میں اونچے درجے کا سیلاب آیا ہے، تحصیل حاصل پور میں متعدد زمیندارہ بند ٹوٹ گئے، جس کے باعث موضع پلہ، چھوہن، نصیر پور، خیرو دیہ، لڈن ریاستی، نور پور اور نورو چکری سمیت متعدد دیہات زیرِ آب آ گئے ہیں۔

    قازقستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ 8 ستمبر کو پاکستان پہنچیں گے

    علی امین گنڈاپور کا پشاور میں بڑا جلسہ کرنے کا اعلان

    کے پی کے،میٹرک امتحانات میں ناقص کارکردگی پر 15 پرنسپل معطل

    غزہ پر اسرائیلی حملے، اسکول اور خیمے نشانہ، 21 فلسطینی شہید

  • سیلاب کے علاوہ بارشوں کے لیے بھی تیاریاں مکمل ہیں، مراد علی شاہ

    سیلاب کے علاوہ بارشوں کے لیے بھی تیاریاں مکمل ہیں، مراد علی شاہ

    وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ،سیلاب کے علاوہ بارشوں کے لیے بھی تیاریاں مکمل ہیں، تمام محکمے، وزرا متحرک اور فعال ہیں۔

    سندھ میں متوقع سیلابی صورتحال کے بارے میں فلڈ مانیٹرنگ سیل کے دورے کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اعلی سندھ نے کہا کہ سکھر، لاڑکانہ کمشنر، وزیر آب پاشی اور سیکرٹری سے اپ ڈیٹ لی ہے،تین بجے کی صورتحال کے مطابق پنجند بیراج پر 6 لاکھ کیوسک پانی آیا ہے، جام خان شورو اس وقت وہاں موجود ہیں، ان کو کہا گیا کہ چوبیس گھنٹے میں 7 لاکھ کیوسک تک جاسکتا ہے، پنجند کے میژر میں کمی آئی ہے جو بائیس میل دور واقع ہے، کم ہونے کے بعد پنجند میں پانی کا بہاؤ تیز ہوا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ تونسہ سے 2 لاکھ 17 ہزار کیوسک پانی آرہا ہے، دونوں مقامات کو دیکھتے ہوئے 8 لاکھ کیوسک کی تیاری کررہے ہیں، سیلابی ریلے کی آمد میں تاخیر ہوئی، 9 ستمبر کو گدو بیراج پر پیک متوقع ہے،ہم 8 لاکھ کیوسک پانی کی تیاری کررہے ہیں، ہر ایک گاؤں سے آبادی کا انخلا کیا جارہا ہے، آبادی نے از خود انخلاء کیا ہے لیکن حکومت انہیں آگاہ کررہی ہے، 48 گھنٹوں میں لوگوں کو نکالا جائے گا، متاثرہ آبادی میں گزشتہ سیلاب کے لحاظ سے اونچے گھر تعمیر کیے ہیں، کمشنرز نے انخلاء کے لیے تمام سہولتیں تیار کرلی ہیں۔

    سامعہ حجاب کیس:ملزم حسن زاہد کے جسمانی ریمانڈ میں 3 دن کی توسیع

    مراد علی شاہ نے کہا کہ ریلیف کیمپس، ہیلتھ کی سہولت کے مراکز، مویشیوں کے لیے باڑوں کی جیو ٹیگنگ کی گئی ہے، گدو بیراج سے اوپر کوہ سلیمان کے علاقوں میں کوئی بڑی بارشوں کا امکان نہیں، تھر پارکر، ٹھٹھہ، حیدرآباد، جامشورو اور دادو میں بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے، بارشوں کے لیے بھی تیاریاں مکمل ہیں، تمام محکمے وزراء متحرک اور فعال ہیں،ناصر شاہ، مکیش چاؤلہ، جام دھاریجو، محمد علی ملکانی، ریاض شاہ سمیت صوبائی اسمبلی کے نمائندے بھی اپنے علاقوں میں موجود ہیں۔

    غزہ کی شہید بچی پرمبنی فلم نے وینس فلم فیسٹیول میں ایوارڈ جیت لیا

  • ہم نے 9 لاکھ کیوسک ریلے کے حساب سے تیاری کر رکھی ہے،مراد علی شاہ

    ہم نے 9 لاکھ کیوسک ریلے کے حساب سے تیاری کر رکھی ہے،مراد علی شاہ

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ہم نے 9 لاکھ کیوسک ریلے کے حساب سے تیاری کر رکھی ہے، ابھی سے ہم نے لوگوں کو ممکنہ متاثرہ علاقوں سے نکالنے کی حکمت عملی پر عمل شروع کر دیا ہے، یہی تیاری بطور انسان ہم کر سکتے ہیں۔

    کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ ہمیں نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ سندھ میں 8 سے 11 لاکھ کیوسک پانی کی آمد متوقع ہے، 9 لاکھ کیوسک کا ریلا ہو تو ہم اسے ’سپر فلڈ‘ کے طور پر دیکھتے اور تیاری کرتے ہیں،ہم نے گڈو، سکھر اور کوٹری بیراج اور بندوں کو محفوظ رکھنا ہے، 2010 کے سیلاب کے بعد ہم نے بندوں پر کافی کام کیا ہے، ساڑھے 5 لاکھ کیوسک پانی ہم ایک ہفتہ قبل گڈو بیراج سے گزار چکے ہیں، اس دوران کوئی ہنگامی صورت حال پیش نہیں آئی، تاہم ہم نے مسلسل مانیٹرنگ جاری رکھی ہے۔

    وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ محکمہ آبپاشی کے حکام پراعتماد ہیں کہ اپ اسٹریم سے آنے والا پانی بیراجوں سے گزار لیں گے، تاہم دریا کے کنارے حفاظتی بندوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے جس سے مسائل آسکتے ہیں، محکمہ آبپاشی تعین کرتا ہے کہ کن مقامات پر بندوں کو مسائل درپیش ہیں،ایسے کمزور مقامات پر پتھر اور مٹی ڈال کر اسے مضبوط بنانے کی کوشش کی جاسکتی ہے، گزشتہ روز میں نے گڈو اور سکھر بیراج کا دورہ کیا تھا، اس دوران کمزور بندوں کا معائنہ کیا، کمزور بند ڈھائی سے 3 لاکھ کیوسک ریلے کے دوران ٹوٹ جاتے تھے، لیکن اس بار 5 لاکھ 50 ہزار کیوسک پانی گزارنے کے بعد بھی یہ بند سلامت ہیں۔

    وزیراعلیٰ بلوچستان سے پاکستان میں یونیسف کی کنٹری ریپریزنٹیٹو کی ملاقات

    انہوں نے کہا کہ ہمارے سامنے سب سے بڑا چیلنج لوگوں اور مویشیوں کو بچانے کا ہے، ہم نے 9 لاکھ کیوسک ریلے کے حساب سے تیاری کر رکھی ہے، ابھی سے ہم نے لوگوں کو ممکنہ متاثرہ علاقوں سے نکالنے کی حکمت عملی پر عمل شروع کر دیا ہے، یہی تیاری بطور انسان ہم کر سکتے ہیں، ہماری جانب سے مدد مانگنے پر پاک فوج نے اپنے 2 یونٹس کو تعینات کیا ہے، پاکستان نیوی نے بھی اپنی ٹیمیں بھیج دی ہیں، کل میری واپسی کے بعد ایک چینل نے خبر چلائی کہ وزیر اعلیٰ کے جانے کے بعد کیمپ ہٹا دیا گیا، حالانکہ وہ کیمپ صرف بریفنگ دینے کے لیے لگایا گیا تھا۔

    انہوں نے کہا کہ گھوٹکی میں کراچی سے زیادہ صحافی ہیں، جب میں دورہ کرنے کے لیے گیا تو وہاں صحافیوں کی بڑی تعداد موجود تھی، اس کی گواہی شرجیل میمن بھی دیں گے، ہم نے ایک ویڈیو بنائی ہے جس میں کیمپ لگا ہوا ہے، جہاں ڈاکٹرز مریضوں کا معائنہ کر رہے ہیں، دوسری جانب ایک چینل پر خبر چلائی جارہی ہے کہ وزیر اعلیٰ کے جانے کے بعد کیمپ ہٹا دیا گیا، لیکن وہ ویڈیو میں نہیں دکھاؤں گا۔

    صنعا اور الحدیدہ میں اقوام متحدہ کے دفاتر پر چھاپہ،11 یو این اہلکارزیر حراست

    ان کا کہنا تھا کہ آج این ڈی ایم اے کی جانب سے 11 لاکھ کیوسک پانی کی آمد کی اطلاع ملنے کے بعد اب ہم اس حساب سے تیاری کر رہے ہیں، 3 اور 4 ستمبر کو ہم دیکھیں گے پنجند پر پانی کی آمد کے بعد گڈو پر کتنا پانی آئے گا، اس کے بعد 2 دن پانی کو سندھ تک پہنچنے میں لگیں گے6 ستمبر کو یوم دفاع ہے اور 12 ربیع الاول بھی ہے، دیکھیں اس دن کیا صورت حال بنتی ہے، 2014 میں ہم بڑا ریلا سندھ کے بیراجوں سے گزار چکے ہیں، ہم نے صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی ، محکمہ صحت سمیت تمام متعلقہ اداروں کو فعال کر دیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی حقیقت ہے، لیکن اس وقت ہمارا فوکس آئندہ 15 دن کو خیر و عافیت سے گزارنے پر مرکوز ہے، ماحولیاتی تبدیلی کے نتیجے میں آفات سے نمٹنے کے لیے مربوط پالیسی بنانے کی ضرورت ہے ہم پنجاب کے لوگوں کے ساتھ ہر طرح سے کھڑے ہیں، انہیں جو بھی امداد درکار ہوگی، ہم کرنے کو تیار ہیں۔

    کالا باغ ڈیم کی تعمیر سے متعلق ایک سوال پر مراد علی شاہ نے کہا کہ پنجاب میں سیلاب دریائے چناب، راوی اور ستلج میں آیا، یہ پانی کالا باغ تک نہیں لے جایا جاسکتا تھا، وہ الگ مقام ہے، اس وقت یہ بات کرنا فضول ہے کہ کالا باغ ڈیم ہوتا تو یہ نقصان نہ ہوتا۔

  • ہمارے پاس تمام متاثرہ آبادیوں کے نقشے،  افراد اور مویشیوں کی تفصیلات موجود ہیں،وزیراعلیٰ سندھ

    ہمارے پاس تمام متاثرہ آبادیوں کے نقشے، افراد اور مویشیوں کی تفصیلات موجود ہیں،وزیراعلیٰ سندھ

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ،ہمارے پاس تمام متاثرہ آبادیوں کے نقشے، وہاں رہنے والے افراد اور مویشیوں کی تفصیلات موجود ہیں یہ معلومات ضلعی انتظامیہ کے حوالے کر دی گئی ہیں

    گڈو بیراج پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اس وقت راوی اور تریموں کے مقامات پر پانی کی سطح بلند ہے اگرچہ امید کی جا رہی ہے کہ پانی اتنی شدت کے ساتھ نہیں بڑھے گا، لیکن حکومت نے 9 لاکھ کیوسکس تک کے ممکنہ سپر فلڈ کے لیے پیشگی انتظامات شروع کر دیے ہیں، پانی 9 لاکھ آئے یا 10 لاکھ اس میں کچے کا علاقہ تو ڈوب جائے گا ہمارے پاس تمام متاثرہ آبادیوں کے نقشے، وہاں رہنے والے افراد اور مویشیوں کی تفصیلات موجود ہیں یہ معلومات ضلعی انتظامیہ کے حوالے کر دی گئی ہیں اور انہیں پی ڈی ایم اے کے ساتھ قریبی رابطے میں رہنے کی ہدایت دی گئی ہےپاک بحریہ کی جانب سے بہت تعاون کیا جا رہا ہے، کمانڈر کوسٹ بھی میرے ساتھ موجود ہیں، جبکہ پاک فوج اور ڈی جی رینجرز سے بھی مسلسل رابطہ ہے، اگر دریائے سندھ میں سپر فلڈ آیا تو کچے کا سارا علاقہ زیرِ آب آ جائے گا، اس صورتحال کے پیش نظر صوبائی حکومت نے کچے کے علاقے کو خالی کرانے کی تیاری مکمل کر لی ہے۔

    پہلی ترجیح انسانی جانوں، مویشیوں اور بیراجوں کی حفاظت ہے،شرجیل میمن

    انہوں نے واضح کیا کہ ہماری سب سے بڑی ترجیح انسانی جانوں اور مویشیوں کو نقصان سے بچانا ہے ضلعی انتظامیہ لوگوں کے انخلا کی تیاری کر رہی ہے جبکہ پی ڈی ایم اے، پاک بحریہ اور پاک فوج کی 192 کشتیاں کچے کے مختلف علاقوں میں تعینات کر دی گئی ہیں، بند کو ٹوٹنے سے بچانا سب سے بڑا چیلنج ہےپنجاب میں شگاف ڈالنے کی گنجائش موجود ہوتی ہے اور وہاں کی جغرافیائی صورتحال ایسی ہے کہ پانی جلد دوبارہ دریا میں شامل ہو جاتا ہے، لیکن سندھ کی زمین چونکہ دریا سے نیچے ہے اس لیے پانی واپس جانے میں وقت لیتا ہے۔

    پنجاب :مون سون کے نویں اسپیل نے بہت تباہی مچائی،24 گھنٹوں میں مزید خطرہ

    انہوں نے بتایا کہ دریائے سندھ کے رائٹ بینک پر 6 مقامات نہایت حساس ہیں، ان میں سب سے زیادہ خطرہ کے کے بند کو ہے جبکہ لیفٹ بینک پر شاہین بند کو نازک قرار دیا گیا ہے اگر 8 سے 9 لاکھ کیوسکس پانی آیا تو شاہین بند اپنی کمزور ساخت کے باعث برقرار نہیں رہ پائے گا، لیکن اس بند کو بچانا حکومت کی اولین ترجیح ہوگی ہمارے پاس ابھی وقت ہے، کیونکہ تریموں سے نکلنے والا پانی تقریباً 5 دن بعد سندھ تک پہنچتا ہے انہوں نے عوام اور میڈیا سے اپیل کی کہ جب وہ وقت آئے تو ضلعی انتظامیہ سے مکمل تعاون کیا جائے۔

    موریطانیہ کے ساحل پر تارکینِ وطن کی کشتی الٹ گئی، 70 ہلاک،30 سے زائد لاپتہ

  • دریائے سندھ میں پانی کی سطح بلند، درمیانے درجے کا سیلاب ڈکلیئر

    دریائے سندھ میں پانی کی سطح بلند، درمیانے درجے کا سیلاب ڈکلیئر

    حیدرآباد:پنجاب سے سیلابی پانی سندھ کی طرف بڑھنے لگا جس کے باعث گدو بیراج پر پانی کی سطح بلند ہونے پر کنٹرول روم سکھر بیراج نے درمیانے درجے کا سیلاب ڈکلیئر کر دیا۔

    فلڈ فارکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق گدو بیراج، سکھر بیراج اور کوٹری بیراج پر بدستور درمیانے درجے کا سیلاب ہےگدو بیراج پر پانی کی آمد 3 لاکھ 22 ہزار 819 کیوسک ہے اور پانی کا اخراج 3لاکھ 7 ہزار 956 کیوسک ریکارڈ کیا جا رہا ہےسکھر بیراج پر پانی کی آمد 3 لاکھ 3ہزار 480 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 52ہزار 110 کیوسک ریکارڈ کیا گیا،کوٹری بیراج پر پانی کی آمد 2 لاکھ 73ہزار844 کیوسک ریکارڈ کیا جا رہا ہے جبکہ پانی کا اخراج 2لاکھ 44ہزار 739 کیوسک ہے۔

    دوسری،جانب،محکمہ موسمیات نے ملک کے مختلف حصوں میں بارش کا امکان ظاہر کرتے ہوئے اربن فلڈنگ کا خدشہ بھی ظاہر کیا ہے۔

    پہلی ترجیح انسانی جانوں، مویشیوں اور بیراجوں کی حفاظت ہے،شرجیل میمن

    محکمہ موسمیات کے مطابق اسلام آباد، پنجاب، خیبر پختونخوا اور کشمیر کے مختلف حصوں میں موسلادھار بارش کا امکان ہے جبکہ شام یا رات کے وقت بلوچستان، سندھ اور گلگت بلتستان میں بھی تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے،مختلف شہروں میں یکم سے 3 ستمبر تک شدید بارشیں ہو سکتی ہیں ، یکم سے 3 ستمبر تک دریائے ستلج، راوی اور چناب میں اونچے درجے کے سیلاب کے علاوہ لاہور، گوجرانوالہ اور گجرات ڈویژن میں اربن فلڈنگ کا بھی خدشہ ہے۔

    سیلاب متاثرین کی مدد: کے پی حکومت نے وفاق سے تعاون مانگ لیا