Baaghi TV

Tag: سندھ

  • منظور وسان اپنا گھر کوٹ ڈیجی ہار گئے

    منظور وسان اپنا گھر کوٹ ڈیجی ہار گئے

    منظور وسان اپنا گھر کوٹ ڈیجی ہار گئے،اطلاعات کے مطابق صوبائی وزیر سندھ منظور وسان کا خواب پورا نہ ہو سکا۔ آبائی علاقےکوٹ ڈیجی میں پیپلزپارٹی کو شکست ہو گئی۔

    سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں پولنگ کے بعد ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے اور غیرحتمی و غیرسرکاری نتائج آنے کا سلسلہ برقرار ہے۔

    منظور وسان کے آبائی علاقےکوٹ ڈیجی میں پیپلزپارٹی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ٹاؤن کمیٹی کوٹ ڈیجی میں جی ڈی اے نے میدان مار لیا۔منظور وسان اپنا گھر کوٹ ڈیجی ہار گئے، 9 میں سے5 نشستوں پر جی ڈی اے امیدوار کامیاب ہوئے۔

    واضح رہے کہ منظور وسان نے کہا تھا پیپلزپارٹی 9 میں سے7 نشستوں پر کامیاب ہو گی۔ پیپلزپارٹی 9 کے بجائے 4 نشستیں حاصل کرنےمیں کامیاب ہوئی۔

    ادھرسندھ میں مار دھاڑ سے بھرپور بلدیاتی الیکشن کا پہلا مرحلہ، پولنگ کا وقت ختم ہوگیا، پولنگ سٹیشنز کے اندر موجود ووٹرز کو حق رائے دہی استعمال کرنے کی اجازت دی گئی، نتائج آنے کا سلسلہ جاری ہے جبکہ 946 امیدوار بلا مقابلہ منتخب ہوگئے۔

    6 ہزار 277 سیٹوں میں سے 2 ہزار سے زائد کےنتائج موصول ہوگئے ہیں، جس کے مطابق پیپلز پارٹی سرفہرست ہے، جی ڈی اے کا دوسرا، جے یو آئی کا تیسرا، آزاد امیدوار کا چوتھا جبکہ پی ٹی آئی کا پانچواں نمبر ہے۔

  • سندھ میں  بلدیاتی الیکشن ،پیپلزپارٹی نے واضح برتری کے ساتھ میدان مار لیا

    سندھ میں بلدیاتی الیکشن ،پیپلزپارٹی نے واضح برتری کے ساتھ میدان مار لیا

    سندھ میں بلدیاتی الیکشن کا پہلا مرحلہ مین پولنگ کے بعد نتائج آنے کا سلسلہ جاری ہے جبکہ 946 امیدوار بلا مقابلہ منتخب ہوگئے۔سندھ کے 14 اضلاع میں پہلے مرحلے کے بلدیاتی انتخابات کے اب تک کے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج میں پاکستان پیپلزپارٹی نے واضح برتری کے ساتھ میدان مار لیا۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پولنگ کا وقت صبح 8 بجے سے شام پانچ بجے تک جاری رہا تاہم کچھ حلقوں میں ووٹنگ کا عمل معطل ہونے کی وجہ سے الیکشن کمیشن نے پولنگ کا وقت 7 بجے تک بڑھا دیا تھا۔سندھ کے 14 اضلاع میں پہلے مرحلے کے بلدیاتی انتخابات کے لیے پولنگ ہوئی، 5331 نشستوں پر 21298 امیدوار مدمقابل آئے جب کہ 946 نشستوں پر امیدوار پہلے ہی بلامقابلہ کامیاب ہوچکے ہیں۔

    اب تک کے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق 14 ڈسٹرکٹ کونسلز کی نشستوں میں 7اضلاع میں پیپلزپارٹی واضح اکثریت کے ساتھ آگے ہے، پی پی مجموعی 2189 نشستوں کےساتھ پہلے نمبر پر جبکہ جمیعت علما اسلام 64 اور گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) نے 43 سیٹیں حاصل کیں جبکہ پی ٹی آئی 13 امیدوار کامیاب ہوئے۔

     

    سندھ میں بلدیاتی انتخابات :ہمارے امیدواروں کو ووٹ دیں:عمران خان، بلاول کی اپیل

     

    کشمورمین ٹاؤن کمیٹی گڈو کی وارڈ نمبر 7 کے مکمل غیر سرکاری غیر حتمی نتیجہ کے مطابق آزاد امیدوار محراب علی مزاری 37 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے، جماعت اسلامی کے امیدوار عبید اللہ 18 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔ٹاؤن کمیٹی گڈو کی وارڈ 8 کے مکمل غیر سرکاری غیر حتمی نتیجہ کے مطابق ایس یو پی کے امیدوار 50 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے، پیپلزپارٹی امیدوار زبیر احمد 49 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔کشمور ٹاؤن کے 11وارڈز میں سے 7 امیدوار پر پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار بنا مقابلہ کامیاب ہوگئے تھے۔۔

    کشمور ٹاؤن کے بقیہ 4 وارڈ ز پر بھی پی پی پی نے مکمل طور پر سوئیپ کرلیا۔۔گڈو ٹاؤن کے ایک وارڈ پر سندھ یونائیٹڈ پارٹی، جبکہ ایک وارڈ پر جماعت اسلامی، 2وارڈز پر آزاد امیدوار غیر حتمی غیر سرکاری نتائج پر کامیاب قرار پائے۔کشمورمیں بخشاپور ٹاؤن کے 3وارڈز پر تحریک انصاف کےرهنما میر غالب حسین ڈومکی کے بیٹے سالار خان ڈومکی ر غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے پرکامیاب قرار پائے۔ پاکستان تحریک انصاف کشمور کے ضلعی صدر حنیف خان ڈومکی بھی وارڈ نمبر3سے غیر حتمی و غیر سرکاری نتیجے پر کامیاب قرار پائے.
    ٹنڈو جان محمد کے 8 وارڈ میں پپلزپارٹی کے امیدوار بلا مقابلہ کامیاب ہوچکے ہیں.وارڈ نمبر 7: پی پی پی امیدوار شہزاد احمد 297 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے،وارڈ نمبر 12 : پی پی پی پی کے امیدوار شہزاد حسین 505 ووٹ لے کر کامیاب جبکہ آزاد امیدوار راجیش کمار 185 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پرہیں، وارڈ نمبر 10 سے پی پی پی امیدوار محمد اسماعیل 325 ووٹ لے کر کامیاب جبکہ آزاد امیدوار اللھ رکھیو 87 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر۔وارڈ نمبر 3 سے آزاد امیدوار صداقت ذوالفقار علی آرائیں 575ووٹ لے کر کامیاب جبکہ پی پی پی امیدوار 551 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پرہیں.

    الیکشن مہم میں سرکاری مشینری کا بے دریغ استعمال کیا گیا،علی زیدی

    خیرپورٹاؤن کمیٹی کوٹ ڈیجی کے وارڈ نمبر 8 کے مکمل غیر سرکاری غیر حتمی نتیجہ کے مطابق جی ڈی اے امیدوار میر ڈنل تالپور 954 وقار لیکر کامیاب ہوئے، پیپلز پارٹی کے امیدوار سید انوار علی شاہ 348 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔ میونسپل کمیٹی خیرپور کی وارڈ نمبر 15 کے مکمل غیر سرکاری غیر حتمی نتیجہ کے مطابق پیپلز پارٹی کے غلام حسین مغل 1304 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے، آزاد امیدوار منصور اقبال شیخ 408 لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔ میونسپل کمیٹی وارڈ 17 کے مکمل غیر سرکاری غیر حتمی نتیجہ کے مطابق پیپلزپارٹی کے امیدوار اصغر شیخ 1149 ووٹ لیکر کامیاب ہوئے، آزاد امیدوار مجید شیخ 356 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔

    شہداد کوٹ میونسپل کمیٹی کے وارڈ نمبر 3 کے مکمل غیر سرکاری غیر حتمی نتیجہ کے مطابق پیپلز پارٹی کے امیدوار طارق حسین بروہی 272 ووٹ لیکر کامیاب ہوگئے، آزاد امیدوار دلاور خان کھوسو 147 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔

    پولنگ کے دوران مختلف علاقوں میں دنگے فساد کے واقعات بھی پیش آئے، نوشہرو فیروز کے علاقے بھریاسٹی میں ووٹرز کے درمیان تصادم ہوا، پولنگ کچھ دیر کیلئے روکی گئی جبکہ پولیس کی اضافی نفری کو طلب کیا گیا۔

    کندھ کوٹ میں جے یو آئی (ف) اور پیپلزپارٹی کے کارکنوں کے مابین لاٹھیاں چل گئیں، تصادم کا واقعہ میونسپل کمیٹی وارڈنمبر 10 میں پیش آیا جہاں لاٹھیاں لگنے سے 30 کارکن زخمی ہو گئے جبکہ متعدد گاڑیوں کو نقصان پہنچا، جھگڑے کی اطلاع پر پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور حالات پر قابو پا لیا، ٹھل کی یوسی 28 پر پیپلزپارٹی اور جے یو آئی ف کے کارکنان میں فائرنگ کا تبادلہ ہوا، سات افراد زخمی اور تین گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔

  • سندھ میں بلدیاتی انتخابات کا پہلا مرحلہ،صورتحال کشیدہ ،دو افراد جاں بحق،کئی زخمی

    سندھ میں بلدیاتی انتخابات کا پہلا مرحلہ،صورتحال کشیدہ ،دو افراد جاں بحق،کئی زخمی

    سندھ میں جاری بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں کئی مقامات پر صورتحال کشیدہ رہی ، تصادم میں دو افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے۔ٹنڈوآدم کےتصادم میں ایک امیدوارکابھائی جاں بحق ہوا جب کہ سکھرمیں جاگیرانی برادری کے تصادم میں ایک شخص ہلاک ہوگیا۔

    پریزائیڈنگ آفيسر کے مطابق نواب شاہ میں سوشل سکیورٹی پولنگ اسٹیشن پرمشتعل افرادنے توڑپھوڑ کی، مسلح افراد نے عملے کو یرغمال بنایا اور الیکشن کاسامان لےکرفرارہوگئے۔ریجنل الیکشن کمشنرنوید عزیز کے مطابق واقعےپرایس ایس پی کو تحریری طور پر آگاہ کردیاگیاہے۔ایس ایس پی سعود مگسی نے بتایا کہ ملزمان کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے اور واقعے کا مقدمہ 15 نامعلوم افراد کے خلاف درج کرلیا گیا ہے۔

    دوسری جانب موروکی یوسی ڈیپارچہ کےمنگو خان ڈھرپولنگ اسٹیشن میں بھی تصادم ہوا۔
    نوشہرو فیروز میں پولنگ کے دوران تصادم ہوا جس میں مخالفین نے ایک دوسرے پر لاٹھیاں برسائیں جس کے نتیجے میں 4 افراد زخمی ہوئے جب کہ پولنگ کا عمل روک دیا گیا۔ پولیس کے مطابق سانگھڑ کے علاقے شہدادپور یوسی غلام حیدرباگرانی میں 2سیاسی جماعتوں میں جھگڑا ہوا جس کے باعث 4افراد زخمی ہوگئے، جھگڑے کے بعد پولنگ اسٹیشن 65 میں پولنگ روک دی گئی۔

    اس کے علاوہ یوسی نمبر50،ہزارواہ پولنگ اسٹیشن کوٹ جھڑیو میں 2 سیاسی جماعتوں کے کارکنان کے درمیان جھگڑا ہوا جس کے نتیجے میں 8افراد زخمی ہوگئے۔ پڈعیدن میں یوسی بھانبھری پولنگ اسٹیشن جمن شاہ میں بھی جھگڑے کے باعث پولنگ کا عمل روکنا پڑا، ڈنڈے لگنے سے 2 افراد زخمی ہوگئے۔تھرپارکر کی تحصیل میں کلوئی پولنگ اسٹیشن اور پولنگ اسٹیٹشن پٹار پر دو امیدواروں کے حامیوں کے درمیان لاٹھیوں کا استعمال کیا گیا جس سے 4 افراد زخمی ہوگئے۔

    جیکب آباد میں بھی یونین کونسل کندرانی کے پولنگ اسٹیشن 517 گلشیرکندرانی میں جھگڑا ہوا جس میں 2 امیدواروں سمیت 6 افراد زخمی ہوئے۔ادھر کندھ کوٹ میں جے یو آئی کے میونسپل کمیٹی کے امیدوار شوکت ملک کی گاڑی پر مخالفین نے حملہ کردیا جس میں مخالفین نے ان کی گاڑی پر ڈنڈے برسائے جس سے گاڑی کی ونڈ اسکرین ٹوٹ گئی۔ یہاں پولنگ کے عملے کے 7 افراد کو بھی اغوا کیا گیا۔علاوہ ازیں الیکشن کمیشن نے بے نظیر آباد میں تین پولنگ اسٹیشنز پر الیکشن مٹیریل چھینے جانے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈپٹی کمشنرز اور ڈی آر او ز کو فوری کارروائی کی ہدایت کردی۔

    سندھ میں بلدیاتی الیکشن کے پہلے مرحلے کے تحت چودہ اضلاع میں پولنگ کا عمل جاری ہے جو شام پانچ بجے تک بغیر وقفہ جاری رہے گی۔بلدیاتی الیکشن کے دوران صوبے میں سکیورٹی سخت کر دی گئی، پولیس سمیت قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی بھاری نفری تعینات ہے۔ سکھر، نواب شاہ اور لاڑکانہ سمیت دیگر شہروں میں کانٹے کے مقابلے متوقع ہیں، ایک کروڑ چودہ لاکھ چوہتر ہزار رجسٹرڈ ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔

    الیکشن کمیشن نے سندھ کے پہلے مرحلے کے بلدیاتی انتخابات کے دوران بیلٹ پیپرز پر امیدواروں کے غلط نام یا نشان پرنٹ ہونے والے وارڈز میں پولنگ ملتوی کر دی۔الیکشن کمیشن کے ترجمان کے مطابق سندھ کے پہلے مرحلے کے بلدیاتی انتخابات میں چند وارڈز کے بیلٹ پیپرز پر امیدواروں کے نام یا نشان غلط پرنٹ ہوئے ہیں۔

    ترجمان الیکشن کمیشن نے بتایا کہ ان تمام وارڈز پر پولنگ ملتوی کر دی گئی ہے، ان نشستوں پر دوبارہ الیکشن کے لیے الیکشن کمیشن نیا شیڈول جاری کرے گا۔الیکشن کمیشن کے ترجمان کا یہ بھی کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن نے بیلٹ پیپرز پر غلط نام یا نشان شائع ہونے کی انکوائری کا بھی حکم دے دیا ہے۔

    دوسری جانب جوائنٹ الیکشن کمشنر سندھ علی اصغر سیال نے اس حوالے سے جاری کیے گئے بیان میں کہا ہے کہ جہاں بیلٹ پیپرز پر امیدوار کا نام یا نشان غلط پرنٹ ہوا ہے وہاں الیکشن ملتوی کیے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ان پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ انتخابات کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

  • سندھ بلدیاتی الیکشن:پولنگ کا وقت ختم، ووٹوں کی گنتی جاری

    سندھ بلدیاتی الیکشن:پولنگ کا وقت ختم، ووٹوں کی گنتی جاری

    کراچی: سندھ میں مار دھاڑ سے بھرپور بلدیاتی الیکشن کا پہلا مرحلہ، پولنگ کا وقت ختم ہوگیا، پولنگ سٹیشنز کے اندر موجود ووٹرز کو حق رائے دہی استعمال کرنے کی اجازت دی گئی جبکہ ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے۔

    تفصیلات کے مطابق سندھ میں بلدیاتی الیکشن کے پہلے مرحلے کے تحت 14 اضلاع میں پولنگ کے دوران دوران صوبے میں سکیورٹی سخت کی گئی، پولیس سمیت قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی بھاری نفری تعینات رہی، کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کیلئے چالیس ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کئے گئے ہیں، بیالیس ایس ایس پیز اور 82 ڈی ایس پیز بھی نگرانی کر رہے ہیں، کوئیک رسپانس کیلئے رینجرز کو اسٹینڈ بائی رکھا گیا، حلقوں میں اسلحہ کی نمائش پر پابندی عائد کی گئی، صورتحال خراب کرنے والوں کیخلاف فوری مقدمہ درج کئے جانے کے احکامات جاری کئے گئے۔

    پولنگ کے دوران مختلف علاقوں میں دنگے فساد کے واقعات بھی پیش آئے، نوشہرو فیروز کے علاقے بھریاسٹی میں ووٹرز کے درمیان تصادم ہوا، پولنگ کچھ دیر کیلئے روکی گئی جبکہ پولیس کی اضافی نفری کو طلب کیا گیا۔

    ادھر اس سے پہلے متحدہ قومی مومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم) کے رہنما وسیم اختر نے الزام عائد کیا ہے کہ سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے دوران پیپلز پارٹی کے اراکین ہنگاموں میں ملوث ہیں۔

    کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی رابطہ کمیٹی کے رکن وسیم اختر نے ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے دوران پیپلزپارٹی کے اراکین ملوث ہیں، فوج کو ایسے حالات کا نوٹس لینا چاہیے تاکہ امن و امان کی صورتحال کو یقینی بنایا جاسکے۔

    آئیندہ الیکشن کے لیے فریم ورک پر بات چیت کے لیے تیار ہیں، فواد چوہدری

    وسیم اختر نے کہا کہ کہیں پولنگ کے دوران کچے کے ڈاکو عملے کو اغوا کرکے لے جارہے ہیں تو کہیں ہنگامے ہورہے ہیں، ادارے سیکورٹی کو مزید سخت کریں تاکہ انتخابات پر سوالیہ نشان نہ لگے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کے دوران بتایا کہ سندھ حکومت کے ساتھ معاہدے پر پیش رفت نہیں کررہی، جب تک بلدیاتی ایکٹ پر کام نہیں ہوگا ایم کیو ایم حکومت میں اور کوئی عہدہ نہیں لے گی۔

    الیکشن مہم میں سرکاری مشینری کا بے دریغ استعمال کیا گیا،علی…

    ادھرسندھ کے 14 اضلاع میں پہلے مرحلے کے بلدیاتی انتخابات میں متعدد پولنگ اسٹیشنز پر ہنگامہ آرائی، پولنگ بوتھ غائب کرنے، دھاندلی اور پولنگ عملے کو اغوا کرنے کی اطلاعات ہیں جب کہ ٹنڈو آدم میں پی ٹی آئی کے امیدوار کا بھائی جاں بحق ہوگیا۔

    سندھ کے 14 اضلاع میں پہلے مرحلے کے بلدیاتی انتخابات کے لیے پولنگ کا عمل جاری ہے، 5331 نشستوں پر 21298 امیدوار مدمقابل ہیں جب کہ 946 نشستوں پر امیدوار پہلے ہی بلامقابلہ کامیاب قرار پاچکے ہیں۔

    منظور وسان کی آئندہ انتخابات میں عمران خان کے بارے میں پیشگوئی

    سکھر، لاڑکانہ، شہید بے نظیر آباد اور میرپورخاص ڈویژن کے جن 14 اضلاع میں پولنگ ہوگی ان میں جیکب آباد، قمبر شہداد کوٹ، شکار پور، لاڑکانہ، کشمور، کندھ کوٹ، گھوٹکی، خیر پور، شکارپور، نوشہرو فیروز، شہید بے نظیر آباد، سانگھڑ، میرپور خاص، عمر کوٹ اور تھر پارکر شامل ہیں۔
    الیکشن کمیشن کی جانب سے 1985 پولنگ اسٹیشنز کو انتہائی حساس اور 3448 کو حساس قرار دیا گیا ہے، بلدیاتی انتخابات کے لیے 1 لاکھ 2 ہزار 682 افراد پر مشتمل انتخابی عملہ خدمات انجام دے رہا

  • سندھ بلدیاتی الیکشن:مختلف مقامات پر ہنگامہ آرائی،متعدد افراد زخمی

    سندھ بلدیاتی الیکشن:مختلف مقامات پر ہنگامہ آرائی،متعدد افراد زخمی

    نواب شاہ،یونین کمیٹی 6 وار ڈ 1 نادر شاہ ڈسپنسری پولنگ اسٹیشن پرپولنگ کا عمل بند کر دیا گیا-

    باغی ٹی وی :نواب شاہ میں ایک سیاسی جماعت کے امیدوار کا نشان تبدیل کر دیا گیا جس کے بعد سیاسی جماعت کے کارکنوں نے پولنگ اسٹیشن کو بند کردیا اور کشیدگی کی وجہ سے پولیس کی بھاری نفری طلب کرلی گئی –
    https://twitter.com/Akhtar_Writes08/status/1540927201868402688?s=20&t=TjSnDYz9j56BGg3bQFnarA

    امیدوار نے کہا کہ نواب شاہ میں جنرل کونسلر کے نشست کے آزاد امیدوار کا انتخابی نشان تبدیل، زرداری کا ووٹ میرے وارڈ میں ہے ، مجھے بیٹھ جانے کیلئے کئی آفرز ہوئیں ، 5 نوکریاں دینے کا کہا لیکن میں نہیں بیٹھا رات 12بجے کے بعد میرا نشان تبدیل ہوگیا۔


    کندھ کوٹ وراڈ نمبر 10 کی پولنگ اسٹیشن پر 2سیاسی جماعتوں کے کارکنوں میں تصادم کے دوران کرسیوں اور لاٹھیوں کے وار سے20سے زائد افراد زخمی ہو گئے اور تصادم کے دوران سیکڑوں موٹرسائیکلیں توڑ دی گئیں-

    کندھ کوٹ میں یوسی ددڑ کی پولنگ اسٹیشن ٹوڑی بنگلو پر مبینہ طور پر 10پولنگ اہلکار اغوا ہو گئے مسلح افراد نے ووٹرز کو حراساں کرنے کیلئے ہوائی فائرنگ کی اور عملہ اغوا کرلیا-

    دوسری جانب گھوٹکی، ڈہرکی ہائی اسکول کی لیڈیز پولنگ اسٹیشن پر مرد ایجنٹ بٹھانے پر ووٹرز نے احتجاج کیا گھوٹکی،پولنگ اسٹیشن پر ووٹنگ کا عمل روک دیا گیا کشیدگی کے باعث پولیس پہنچ گئی-

    رانی پور کے وارڈ نمبر 5 علی آباد وسان میں آزاد امیدوار کو غلط نشان الاٹ ہونے پر ووٹنگ کا عمل روک دیا گیا۔

    خیرپور کی میونسپل کمیٹی وارڈ نمبر 27 میں بھی امیدوار کو غلط نشان الاٹ ہونے پر پولنگ کا عمل ایک گھنٹے تک رکا رہا تاہم پریزائڈنگ افسر کی مداخلت کے بعد ووٹنگ کا عمل شروع کیا گیا۔

    جیکب آباد وارڈ نمبر 2 کے پولنگ اسٹیشن جلال الدین روڈ میں ووٹنگ کا عمل تاخیر سے شروع ہوا جس کی وجہ الیکشن کمیشن کی جانب سے لسٹ مہیا نہ کیا جانا تھا۔


    دوسری جانب پی ٹی آئی رہنما علی حیدر زیدی نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ سابق وزیراعلیٰ ارباب غلام رحیم سے ابھی بات ہوئی!ان کے بیٹے ارباب عنایت اللہ پر ابھی زرداری مافیا کے غنڈوں نے تھرپارکر کے علاقے کلوئی، مٹھی میں پولنگ سٹیشن پر حملہ کیا قانون نافذ کرنے والے ادارے، ای سی پی کہیں نظر نہیں آئے، سوائے سندھ پولیس کے جو دراصل حملہ آوروں کی حفاظت کر رہی ہے!

    سندھ میں بلدیاتی الیکشن کا پہلا مرحلہ ،سندھ کے 14 اضلاع میں بلدیاتی انتخابات کیلئے پولنگ جاری ہے الیکشن کمیشن سندھ کے مطابق مجموعی طور پر ایک کروڑ13لاکھ سے زائد امیدوار حق رائے دہی استعمال کرینگے،ترجمان الیکشن کمیشن کے مطابق سندھ بلدیاتی انتخابات کیلئے 9023 پولنگ اسٹیشن قائم کئے گئے ہیں،مردوں کے لیے 1910 پولنگ اسٹیشنز بنائے گئے ہیں،چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ انتخابات کی نگرانی کر رہے ہیں-

    الیکشن کمشنر سندھ اعجاز انور چوہان نے اپنے دفتر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ بلدیاتی انتخابات میں پولیس کے ساتھ رینجرز کوئیک رسپانس کیلیے موجود ہوگی، فوج سے بھی رابطہ ہے، الیکشن شفاف بنانے کیلیے کیمرے لگائے گئے ہیں اور سیکیورٹی کا موثر سسٹم وضح کیا گیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ بدامنی پھیلانے والوں کےخلاف سخت کارروائی ہوگی۔ ڈسکہ کا معاملہ سب کے سامنے ہے, امیدواروں کے ساتھ ملی بھگت کرنے والے عملے کے خلاف بھی ایکشن لیا جائے گا۔

    قبل ازیں چیف الیکشن کمشنر نے الیکشنز کے حوالے سے جاری بیان میں کہا ہے کہ تمام ووٹرز بلاخوف وخطر اپنا قومی فریضہ ادا کریں،پولنگ میں مداخلت کو برداشت نہیں کیا جائے گا،کسی بھی خلاف ورزی پر فوری ایکشن لیا جائے گا-

    چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ اسلام آباد میں مرکزی مانیٹرنگ و شکایت سیل قائم کیا گیا ہے،کراچی اور کے پی کے میں صوبائی مانیٹرنگ و شکایت سیل قائم کیا گیا ہے انہوں نے ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسرز اور مانیٹرنگ ٹیموں کو چوکس رہنے کی ہدایت کی ہے-

    چیف الیکشن کمشنر نے ہدایت کی کہ سیکیورٹی ادارے پر امن پولنگ کو یقینی بنائیں،بد امنی اور خلل ڈالنے والوں کے خلاف فوری طور پر کارروائی کی جائے گی-

    واضح رہے کہ ووٹرز کو پُرامن ماحول فراہم کرنے کے لئے سیکیورٹی کے خاص انتظامات کئے گئے ہیں لاڑکانہ ڈویژن کے 5 اضلاع جیکب آباد، کشمور، شکارپور، لاڑکانہ اور شہداد کوٹ کے عوام آج اپنے بلدیاتی نمائندے منتخب کریں گے۔

    سکھر ڈویژن کے 3 اضلاع خیرپور، سکھر اور گھوٹکی، شہید بے نظیر آباد ڈویژن کے 3 اضلاع شہید بے نظیرآباد، سانگھڑ، نوشہرو فیروز اور میرپور خاص ڈویژن کے 3 اضلاع میرپور خاص، عمرکوٹ اور تھرپارکر کے عوام بھی ووٹ ڈالیں گے۔

    الیکشن کمیشن کے مطابق پولنگ صبح 9 سے شام 5 بجے تک بغیر کسی وقفے کے جاری رہے گی، مختلف کیٹیگریوں کی 5331 نشستوں پر 21298 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوگا جبکہ 946 نشستوں پر امیدوار پہلے ہی بلامقابلہ کامیاب قرار پاچکے ہیں۔

    14 اضلاع میں ووٹرز کی کل تعداد 1 کروڑ 14 لاکھ 92 ہزار 680 ہے جن کے لیے 2 کروڑ 95 لاکھ بیلٹ پیپرز چھاپے گئے ہیں، 14 اضلاع میں 9290 ہزار پولنگ اسٹیشنز اور 29970 پولنگ بوتھ بنائے گئے ہیں۔

    الیکشن کمیشن کی جانب سے 1985 پولنگ اسٹیشنز کو انتہائی حساس اور 3448 کو حساس قرار دیا گیا ہے، بلدیاتی انتخابات کے لیے 1 لاکھ 2 ہزار 682 افراد پر مشتمل انتخابی عملہ خدمات انجام دے رہا ہے۔

    الیکشن کمیشن نے پولنگ کے انتظامات مکمل کر لئے ہیں جبکہ مختلف ڈویژن سے ایک ہزار ایک امیدوار بلا مقابلہ منتخب ہوچکے ہیں سکھر، لاڑکانہ، شہید بینظیر آباد اور میرپورخاص ڈویژن میں بلدیاتی انتخابات کا عمل جاری ہے سندھ کے 14اضلاع میں 21 ہزار 298 امیدوار مدمقابل ہیں –

    دوسری جانب سوات کے صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی کے 7 میں ضمنی انتخاب ،پولنگ کا عمل شروع ہو گیا ہے –

    خیرپور میں 3 میونسپل کمیٹی ،20 ٹاون کمیٹی اور 88 ضلع کونسل کے نشستوں پر انتخابی دنگل سج گیا ،پیپلزپارٹی ،جی ڈی اے ،تحریک انصاف اور آزاد امیدواروں میں کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے-

    جیکب آباد، 44 یونین کونسلز کے ارکان میں سے 135 امیدوار بلا مقابلہ کامیاب ہو چکے ہیں،بلدیاتی انتخابات میں 456 نشستوں پر 711 امیدوار قسمت آزمائیں گے 31 وارڈز میں سے 29 پر 198 امیدواراپنی قسمت آزمارہے ہیں-

    قمبرمیں 111 پولنگ اسٹیشنز انتہائی حساس ،117حساس جبکہ 312نارمل قرار ددیئے گئے،الیکشن کمیشن کی جانب سے ضلع بھر میں 589پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں-

    جیکب آباد میں 44 یونین کونسلز کے ارکان میں سے 135 امیدوار بلا مقابلہ کامیاب ہو چکے ہیں،31 وارڈز میں سے 29 پر 198 امیدوار اپنی قسمت آزمارہے ہیں،میونسپل کمیٹیز ، ممبر ضلع کونسلز اور جنرل کونسلرز کی نشستوں پر 21 ہزار 298 امیدوار مدمقابل ہیں،887یونین کونسلز میں چیئرمین اور وائس چیئرمین کیلئے3ہزار سے زائد امیدوار میدان میں ہیں ،3ہزار 548 جنرل ممبرز کی نشستوں کیلئے9 ہزار 744 امیدوار مدمقابل ہیں،ضلع کونسل کی 794 نشستوں پر 2ہزار604 امیدوار میدان میں ہیں،پولنگ کا عمل شام5 بجے تک جاری رہے گا خیرپور اور عمرکوٹ میں خصوصی افراد بھی ووٹ کاسٹ کرے پولنگ اسٹیشن پہنچے-

  • سندھ بار کونسل کا ہائیکورٹ میں ججز کی تقرری کی سفارش پر تحفظات کا اظہار

    سندھ بار کونسل کا ہائیکورٹ میں ججز کی تقرری کی سفارش پر تحفظات کا اظہار

    کراچی: ججز کی تقرری کی سفارش پر تحفظات کا اظہار،اطلاعات کے مطابق سندھ بار کونسل نے ہائیکورٹ میں ججز کی آسامیوں پر تقرری کی سفارش پر تحفظات کا اظہار کردیا ہے۔

    ججز تقرری کے معاملے پرجسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا چیف جسٹس کو خط

    رپورٹ کے مطابق ممبر جوڈیشل کمیشن حیدر امام ایڈووکیٹ نے چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال کو اس حوالے سے خط بھی لکھ دیا ہے، جس میں سندھ بار کونسل نے موقف اختیار کیا ہے کہ ججز کی تقرری کی سفارشات جوڈیشل کمیشن کا اجتماعی اختیار ہے۔

    عدلیہ اورججز پرانگلیاں اٹھانا، ججز پر الزامات لگانا بند کریں،جس پراعتراض ہے اس کا…

    انہوں نے کہا کہ یہ اختیار کسی ایک فرد کو نہیں دیا جاسکتا کہ وہ اپنی پسند کے مطابق سفارشات دے، لیکن چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے مشاورت سے طے 2 وکلا کو سیاسی بنیادوں پر فہرست سے نکال دیا ہے۔

    صدارتی ریفرنس کی سماعت کیلیے لارجر بینچ کی تشکیل ،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا چیف جسٹس…

    حیدر امام نے خط میں چیف جسٹس سے کہا ہے کہ ججز کی تقرری کیلئے جوڈیشل کمیشن کے ہر رکن کو نام تجویز کرنے کا حق دیا جائے۔خیال رہے کہ سندھ ہائیکورٹ میں تقرری کیلئے کمیشن کا اجلاس 28 جون کو طلب کیا گیا ہے۔

    سب چاہتے ہیں کہ قابل ججز آئیں، ججز نہیں ملتے ،سیٹیں خالی رہتی ہیں،چیف جسٹس

  • کراچی پولیس چیف نے شہر میں اسٹریٹ کرائمز کو سب سے بڑا چیلنج قرار دیدیا

    کراچی پولیس چیف نے شہر میں اسٹریٹ کرائمز کو سب سے بڑا چیلنج قرار دیدیا

    کراچی :کراچی پولیس چیف جاوید عالم اوڈھو نے شہر میں اسٹریٹ کرائمز کو سب سے بڑا چیلنج قرار دے ، حال ہی میں تعینات کراچی پولیس چیف جاوید عالم اوڈھو کا کہنا تھا کہ کراچی میں موجود سب سے بڑا چیلنج اسٹریٹ کرائمز ہے، دوسرا بڑا مسئلہ شہریوں کی موٹرسائیکلیں چوری اور چھیننا ہے، نوکری پیشہ آدمی کی موٹرسائیکل چلی جائے تو اس کی جمع پونجی چلی جاتی ہے۔ جاوید اوڈھونےکہا کہ منشیات خاص طور پر آئس سے نوجوان نسل تباہ ہورہی ہے اور یہ بھی سنگین مسئلہ ہے۔

    کراچی پولیس چیف نے بتایا کہ کراچی کا سماجی اور ثقافتی ماحول تبدیل ہو گیا ہے اور یہاں بہت سے نئے لوگ آگئے ہیں، آنے والے یہ افراد شہری آبادکاری کے مختلف مراحل میں ہیں اور ان کی سوچ اورطریقہ کار ان کے آبائی علاقوں کی سوچ بیان کرتا ہے۔ جاوید اوڈھو نے بتایا کہ خیبرپختونخوا کے قبائلی علاقوں، اندرون بلوچستان اور اندرون سندھ سے اور جنوبی پنجاب سے لوگ کراچی آئے ہیں، اب یہ ایک نیا چیلنج ہے، کراچی آپریشن سے پہلے ٹارگٹ کلنگ ضرور تھی لیکن قتل کی شرح کم تھی اس کی بڑی وجہ غیر قانونی ہتھیاروں کا آنا اور معاشرے میں تشدد اور رہن سہن کا قبول کرنا ہے۔

    کراچی پولیس چیف نے مزید بتایا کہ تقریباً 60 ہزار کے قریب پولیس کی نفری ہے جو کراچی کے مختلف یونٹس میں بٹی ہوئی ہے، پولیس کے انٹیلی جنس سسٹم کو بہتر بنانا ہے، شہر میں بہت سے گینگز ہیں اور عادی جرائم پیشہ افراد کی تعداد بہت زیادہ ہے، ہماری کوتاہیاں بھی ہیں لیکن انھیں ضمانت مل جاتی ہے۔ جاویداوڈھو نےکہا کہ منشیات ڈیلرز، غیر قانونی اسلحہ ڈیلرز ، لینڈ مافیا اور واٹر مافیا اس شہر کے بڑے مسائل ہیں اور جب تک ان مافیاز کا سد باب نہیں ہوگا شہر میں امن قائم نہیں ہوسکتا۔

    کراچی پولیس چیف جاوید عالم اوڈھو نےکہا کہ شہر میں ہونے والے جرائم مائیکرو اور میکرو اکانومی کو بیان کرتے ہیں۔ کراچی پولیس چیف نے مزید کہا کہ منشیات کا مسئلہ صرف پولیس حل نہیں کرسکتی، اس میں سب سے اہم کردار اہلخانہ کا ہے پھر تعلیمی اداروں اور معاشرے کی اپنی ذمہ داریاں ہیں، سب کو مل کر کام کرنا ہوگا، اس کے تدارک کے لیے منشیات بحالی مراکز بھی اہم ہیں۔ لینڈ مافیا اور پولیس کے گٹھ جوڑ کے سوال پر کراچی پولیس چیف جاوید اوڈھو نےکہا کہ لینڈ مافیا کا زیادہ تر تعلق ریونیو ریکارڈ سے ہےتاہم پولیس میں جو بھی ملوث ہے اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔

  • کراچی:این اے 240 کے ضمنی الیکشن کے بعد سندھ میں  بڑی سیاسی تبدیلی کی تیاری

    کراچی:این اے 240 کے ضمنی الیکشن کے بعد سندھ میں بڑی سیاسی تبدیلی کی تیاری

    غیر مقامی سیاسی جماعتوں کو کراچی کے الیکشن میں شکست کیسے دی جائے کراچی کی مقامی جماعتوں نے حکمتیں عملی پر کام شروع کر دیا-

    باغی ٹی وی : کراچی کے حلقے این اے 240 کے ضمنی الیکشن کے بعد سندھ میں بڑی سیاسی تبدیلی کی تیاری ہو رہی ہے، پی ایس پی قیادت اور کراچی کی سیاسی جماعتوں کے اہم رہنمائوں کے درمیان رابطے تیز ہو گئے-

    دہشت گردی اور بدامنی کے واقعات کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل اور احتجاج پر غور کیا جا رہا ہے پی ایس پی قیادت نے اتوار کو ہنگامی جنرل ورکز اجلاس طلب کرلیا-

    زرائع کے مطابق کارکنان اجلاس میں پی ایس پی قیادت اہم اعلانات کرے گی کراچی کی اہم سیاسی جماعتوں نے غور کرنا شروع کر دیا کہ آئندہ الیکشن میں اتحاد کیسے ممکن ہوگا –

    رحیم یارخان میں کانگو وائرس کا ایک مشتبہ مریض جاں بحق

  • بجلی کی بچت: پنجاب میں بھی رات 9 بجے مارکیٹیں بند کرنے کا فیصلہ

    بجلی کی بچت: پنجاب میں بھی رات 9 بجے مارکیٹیں بند کرنے کا فیصلہ

    سندھ کے بعد پنجاب میں بھی رات 9 بجے مارکیٹیں بند کردی جائیں گی-

    باغی ٹی وی : ذرائع کے مطابق پنجاب میں بھی بجلی بچت پلان پر عمل کرنےکا فیصلہ کیا گیا ہے حکومت نے تاجر تنظیموں اور چیمبرز سے مشاورت مکمل کرلی ہے، اگلے ہفتے سے پنجاب میں بجلی بچت پلان پر عمل کرانےکا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    سندھ حکومت کے حکم کی خلاف ورزی، کلفٹن میں 4 ریسٹورینٹس سیل

    ذرائع کے مطابق پنجاب میں بھی رات 9 بجےمارکیٹیں بندکردی جائیں گی، پہلےمرحلے میں یہ پابندی 2 ماہ کےلیےلگائی جائےگی، ریسٹور ینٹس بھی جلد بندکرنےکی تجویز پر غور جاری ہے۔

    صدر لاہور چیمبر نعمان کبیرکا کہنا ہےکہ قومی مفاد کے فیصلوں پر ساتھ ہیں، بچت پلان پر عمل سے بجلی اور پیٹرول کی بچت ہوگی۔

    واضح رہےکہ گزشتہ روز محکمہ داخلہ سندھ نے تمام بازار، مارکیٹیں، شاپنگ مال اور دکانیں رات 9 بجے بند کرنےکا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا تمام شادی ہال، بینکوئٹ میں شادی اور دیگر تقاریب رات 10:30 بجے بند کرنے کا حکم دیا گیا تھا جبکہ تمام ہوٹل، کافی شاپ اور کیفے را ت 11 بجے بند کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا تھا-

    ملک کے بیشترعلاقوں میں بارش اور گرد آلود ہوائیں چلنے کا امکان

    میڈیکل اسٹور، اسپتال، پیٹرول پمپ،سی این جی اسٹیشن، بیکریز اور دودھ کی دکانوں کو اس پابندی سے استثنیٰ حاصل ہے نوٹیفکیشن میں کہنا تھا کہ حکومت نےتوانائی بحران سے نمٹنےکے لیے کاروباری اوقات محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور نئے کاروباری اوقات کا اطلاق فوری ہوگا جب کہ یہ فیصلہ ایک مہینے کے لیے کیا گیا ہے۔

    لانگ مارچ کیس:پی ٹی آئی کے 9 رہنماؤں کی عبوری ضمانتیں منظور

  • سندھ کا بجٹ پیش ، تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ،پولیس کانسٹیبل کا گریڈ بڑھا دیا گیا

    سندھ کا بجٹ پیش ، تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ،پولیس کانسٹیبل کا گریڈ بڑھا دیا گیا

    وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ایک ہزار 713 ارب کا سال 23-2022 کے لیے ٹیکس فری خسارے کا بجٹ پیش کردیا۔ سندھ اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے لیے صوبائی حکومت کی مجموعی وصولیوں ایک ہزار 679 ارب 73 کروڑ 48 لاکھ جبکہ اخراجات ایک ہزار 713 ارب 58 کروڑ 31 لاکھ روپے ہوں گے جو 33 ارب کے خسارے کو ظاہر کرتا ہے۔

    مراد علی شاہ نے بجٹ تقریر میں بتایا کہ مجموعی طور پر محصولات کی وصولیاں 1,679,734.8 ملین ہوں گی جس میں 1.055 ارب روپے وفاقی منتقلی، 374.5 ارب روپے کی صوبائی وصولیاں (167.5 ارب صوبائی ٹیکس وصولیاں جن میں سروسز پر جی ایس ٹی، 180 ارب سروسز پر صوبائی سیلز ٹیکس اور 27,000 ملین صوبائی نان ٹیکس وصولی)، 51,132.8 ملین روپے موجودہ کیپٹل وصولی، 51,132.8 ملین روپے کی کرنٹ کیپیٹل وصولی، 105,567.5 ملین روپے دیگر ٹرانسفرز جیسے کہ غیر ملکی پراجیکٹ امداد، وفاقی گرانٹس اور غیر ملکی گرانٹس اور 20,000 ملین روپے کیش بیلنس اور صوبے کے پبلک اکاؤنٹس شامل ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی ٹیکس جمع کرنے والے ادارے سندھ بورڈ آف ریونیو 180 ارب روپے، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈپارٹمنٹ 1.20 ارب روپے اور بورڈ آف ریونیو 30 ارب روپے وصولی کے اہداف حاصل کریں گے۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے لیے موجودہ ریونیو اخراجات 1,199,445.4 ملین روپے ہوں گے جس میں موجودہ سرمائے کے اخراجات 54.48 ارب روپے، ترقیاتی پورٹ فولیو 459.65 ارب روپے ہوں گے جس میں 332.165 ارب روپے صوبائی سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی)، 30 ارب روپے ضلع اے ڈی پی، اور 91.467 ارب فارن اسسٹنس پروجیکٹ (FAP) اور 6.02 ارب دیگر وفاقی گرانٹس شامل ہیں۔

    وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق صوبائی حکومت نے دوران مالی سال کے 11 ماہ (جولائی تا مئی) میں 732 ارب روپے کے نتیجے میں 716 ارب روپے وصول کیے ہیں جو 16 ارب روپے کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔

    مراد علی شاہ نے مزید کہا کہ ان کی حکومت نے مذکورہ مدت کے دوران 19.7 ارب روپے کے نتیجے میں 45 ارب روپے براہ راست منتقلی اور OZT میں 18.9 ارب روپے وصول کیے۔

    صوبائی حکومت نے سالانہ ترقیاتی پروگرام 23-2022 کے لیے 332.165 ارب روپے مختص کیے ہیں جبکہ یہ رواں سال کے دوران 222.5 ارب روپے ہے۔ ضلعی اے ڈی پی کا حجم 30 ارب روپے رکھا گیا ہے جیسا کہ رواں مالی سال کے دوران کیا گیا۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ 4158 اسکیمیں جن میں 2506 جاری اور 1652 نئی اسکیمیں شامل ہیں، کے لیے 332.165 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ جاری 2506 اسکیموں کے لیے 76 فیصد فنڈز یعنی 253.146 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں اور 1652 نئی اسکیموں کے لیے 24 فیصد فنڈز یعنی 79.019 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے اعلان کیا کہ مالی سال 23-2022 میں 1510 اسکیمیں مکمل کی جائیں گی.وزیراعلیٰ سندھ نے 26.850 ارب روپے کے غریبوں کے حامی، سماجی تحفظ اور معاشی استحکام کے پیکیج کا اعلان کیا۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے اعلان کیا کہ ایڈہاک ریلیف الاؤنسز 2016، 2017، 2018، 2019 اور 2021 کو وفاقی حکومت کے ملازمین کے لیے قابل قبول شرح پر ضم کیا جا رہا ہے اور بنیادی تنخواہ اسکیل 2022 پر نظر ثانی کی جا رہی ہے جبکہ سندھ حکومت کے سرکاری ملازمین کے لیے وفاقی حکومت کی طرز پر بنائے گئے پیٹرن کو ہی متعارف کروایا جا رہا ہے۔انہوں نے یکم جولائی 2022 سے سرکاری ملازمین کے بنیادی تنخواہوں میں 15 فیصد ایڈہاک ریلیف الاؤنس کا بھی اعلان کیا۔

    وزیراعلیٰ نے کہا کہ گریڈ 1 سے 16 کے سرکاری ملازمین کی بنیادی تنخواہ میں 33 فیصد اور گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے سرکاری ملازمین کے لیے 30 فیصد ایڈہاک ادا کیا جائے گا جبکہ ریلیف الاؤنسز 2013، 2015، 2016، 2017، 2018، 2019، 2020 اور 2021 یکم جولائی 2022 سے ختم کیا جا رہا ہے۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سندھ حکومت کے پنشنرز کو پہلے ہی فروری 2022 تک وفاقی حکومت کے پنشنرز کے نتیجے میں 22.5 فیصد اضافہ مل رہا ہے اس لیے سندھ حکومت یکم جولائی 2022 سے پنشنرز کو خالص پنشن سے 5 فیصد اضافہ کیا جائے گا۔

    مراد علی شاہ کے مطابق مارچ 2022 میں وفاقی حکومت کی جانب سے خالص پنشن میں 10 فیصد اضافے اور یکم جولائی 2022 سے 15 فیصد اضافے کے اعلان کے بعد وفاقی حکومت کے پنشنرز کے نتیجے میں خالص پنشن پر حکومت سندھ کے پنشنرز کو اب بھی 12.5 فیصد زیادہ ملیں گے۔وزیراعلیٰ سندھ نے پولیس کانسٹیبل کو گریڈ 5 سے اپ گریڈ کر کے گریڈ 7 میں کرنے کا اعلان کیا۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے ٹول مینوفیکچرنگ سروسز کو ایس ایس ٹی سے مستثنیٰ کرنے کا اعلان کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ ’ریکروٹنگ ایجنٹس‘ کے لیے 5 فیصد کم کردہ SST کی شرح اگلے دو سال یعنی 30 جون، 2024 تک جاری رہے گی۔ یہ ریلیف بیرون ملک کام کرنے کے خواہشمند پاکستانیوں کے لیے تجویز کیا گیا ہے
    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ کیبل ٹی وی آپریٹرز کی طرف سے فراہم کردہ خدمات پر 10 فیصد کی کمی کی شرح سے ٹیکس عائد کیا گیا تھا، موجودہ ریلیف کو 30 جون 2024 کو ختم ہونے والی دو سال کی مزید مدت کے لیے بڑھانے کی تجویز ہے۔

    کیبل ٹی وی آپریٹرز کو استثنیٰ دینے کی تجویز ہے، بشمول دیہی علاقوں کے کیبل ٹی وی آپریٹرز کو پیمرا لائسنس کے تحت ’R‘ زمرہ کے ایس ایس ٹی سے 30 جون 2023 تک مستثنیٰ رکھا جائے گا۔ ہوم شیفز سے فوڈ ڈیلیوری چینلز (جیسے فوڈ پانڈا، چیتے لاجسٹکس وغیرہ) کے ذریعے موصول ہونے والے کمیشن چارجز پر ایس ایس ٹی کی شرح 30 جون 2024 کو ختم ہونے والے دو سالوں کے لیے 13 فیصد سے کم کر کے 8 فیصد کر دی گئی ہے۔

    دیگر تمام معاملات میں کمیشن ایجنٹس کے ذریعہ فراہم کردہ یا فراہم کی جانے والی خدمات SST کے لیے 13 فیصد لاگو رہیں گی۔ ہیلتھ انشورنس خدمات پر موجودہ چھوٹ 30 جون 2023 تک ایک سال کی مدت کے لیے مزید جاری رہے گی۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ان کی حکومت نے تعلیم کے شعبے کو اپنی اولین ترجیح پر رکھا ہے، اس کے لیے 326.80 ارب مختص کیے گئے ہیں جو بجٹ کے کل اخراجات کا 25 فیصد سے زیادہ بنتا ہے۔

    سندھ حکومت نے کم از کم سات اضلاع کورنگی، کراچی غربی، کیماڑی، ملیر، ٹنڈو محمد خان، ٹنڈو الہیار اور سجاول میں ایک ایک مکمل یونیورسٹی یا ایک تسلیم شدہ پبلک یونیورسٹی کا کیمپس قائم کرنے کی پالیسی اپنائی ہے۔

    کورنگی میں ٹیکنالوجی اینڈ اسکل، ووکیشنل/ انڈسٹریل ڈویلپمنٹ یونیورسٹی ہوگی، جبکہ کراچی ویسٹ اور کیماڑی میں اس یونیورسٹی کے ذیلی کیمپسز ہوں گے۔

    آئندہ مالی سال 23-2022 کے لیے محکمہ داخلہ بشمول سندھ پولیس اور جیلوں کے لیے کل مختص رقم کو رواں مالی سال کے دوران 119.98 ارب سے 124.873 ارب روپے تک بڑھا دیا گیا ہے۔

    آئندہ مالی سال 23-2022 کے لیے آبپاشی کے بجٹ کو 21.231 ارب روپے سے بڑھا کر 24.091 ارب روپے کر دیا گیا ہے۔ اے ڈی پی 23-2022 میں محکمہ زراعت اور آبپاشی کے لیے مختص رقم 36.2 ارب روپے ہے۔

    واٹر اینڈ سیوریج سیکٹر کو مالی سال 23-2022 میں 224.675 ارب دیے گئے ہیں، شہر کی دو بڑی اسکیموں کو آنے والے مالی سال کے دوران عمل میں لایا جائے گا۔

    ان میں 9.423 ارب روپے سے گجر، محمود آباد اور اورنگی نالہ کے متاثرین کی دوبارہ آباد کاری اور 511.724 ارب روپے کی لاگت سے گریٹر کراچی بلک واٹر اسکیم K-IV اضافے کا کام شامل ہیں۔

    سندھ حکومت نے اس شعبے کے بجٹ کو اگلے مالی سال 23-2022 کے لیے 8 ارب سے بڑھا کر 12 ارب کردیا ہے۔

    حکومت سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے آپریشنز کو اگلے مالی سال میں دیگر اضلاع تک بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہے جن میں حیدرآباد، قاسم آباد، کوٹری، سکھر سٹی اور روہڑی شامل ہیں۔

    خریداری کا عمل پہلے ہی مکمل ہو چکا ہے اور اس سال کے آخر میں آپریشن شروع ہو جائے گا۔ SSWMB کی توسیعی کارروائیوں کے پیشِ نظر کام کیا جائے گا۔

    آئندہ مالی سال 23-2022 کے بجٹ میں محکمہ سماجی تحفظ کے لیے 15.435 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔بزرگ شہریوں، یتیموں اور غریبوں کی بہبود اور اسے بہتر بنانے کے لیے اگلے مالی سال 23-2022 سے کئی سماجی پروگرام شروع کیے جا رہے ہیں اور انہیں مالی اعانت فراہم کی جا رہی ہے۔

    قبل ازیں سندھ کی کابینہ نے 23-2022ء کے لیے 1 اعشاریہ 71 ٹریلین روپے کا ٹیکس فری بجٹ منظور کر لیا۔ وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیرِ صدارت صوبائی کابینہ کا اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں تمام صوبائی وزراء، مشیر، معاونینِ خصوصی، چیف سیکریٹری، پرنسپل سیکریٹری اور دیگر متعلقہ افسران شریک ہوئے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سندھ کے وزیرِ اعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ یہ غریبوں کا بجٹ ہے، جس میں سماجی تحفظ اور معاشی استحکام کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں۔

    ا