Baaghi TV

Tag: سندھ

  • کراچی:بلدیاتی انتخابات کےدوسرے مرحلے کا شیڈول جاری

    کراچی:بلدیاتی انتخابات کےدوسرے مرحلے کا شیڈول جاری

    کراچی:شہرقائد میں بلدیاتی انتخابات کا سلسلہ پھر سے شروع ہوچکا ہے اور اس سلسلے میں الیکشن کمیشن نے بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کا نظر ثانی شدہ شیڈول جاری کردیا ہے۔الیکشن کمیشن کی طرف سے اس سلسلے میں تمام ہدایات بھی جاری کردی گئی ہیں

    سندھ میں بلدیاتی انتخابات میں پی ٹی آئی کا حشر خیبرپختونخوا سے بھی برا ہوگا،سعید…

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ الیکشن کمیشن کے مطابق بلدیاتی انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کی تاریخ میں 4 دن کی توسیع کردی گئی ہے، اب کاغذات نامزدگی 15 جون تک جمع کرائے جاسکتے ہیں۔

    سندھ میں فوری بلدیاتی انتخابات کیلئے درخواست جمع

    الیکشن کمیشن نے بتایا کہ امیدواروں کی ابتدائی فہرست 16 جون کو جاری کی جائے گی جبکہ 17 سے 19 جون تک کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کی جائے گی۔الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ کاغذات نامزدگی مسترد یا منظور کرنے کے خلاف 20 سے 22 جون تک اپیل کی جاسکے گی۔علاوہ ازیں 27 جون کو نظرثانی شدہ فہرستیں آویزاں کی جائیں گے جبکہ 28جون کو کاغذات نامزدگی واپس لیے جاسکیں گے اور 29 جون کو انتخابی نشانات الاٹ کیے جائیں گے۔

    یاد رہے کہ اس سے پہلے سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے کے لیے فوج اور رینجرز طلب کرلی گئی ہے۔صوبائی الیکشن کمشنر نے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) رینجرز سندھ کو مراسلہ ارسال کردیا۔مراسلے کے متن میں کہا گیا ہے کہ سندھ کے 14 اضلاع میں بلدیاتی الیکشن کے لیے پولنگ 26 جون کو شیڈول ہے۔اس میں یہ بھی بتایا گیا کہ بلدیاتی الیکشن کے لیے 9 ہزار 290 سے زائد پولنگ اسٹیشنز بنائے جانے ہیں۔

    وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ کا سندھ میں بلدیاتی انتخابات کرانے کا اعلان

    صوبائی الیکشن کمشنر نے مراسلے میں بتایا کہ فوج اور رینجرز کے اہلکار پولنگ اسٹیشنز کے باہر تعینات ہوں گے۔اس میں یہ بھی بتایا گیا کہ حساس ترین پولنگ اسٹیشنز میں سی سی ٹی وی کیمرے لگائے جائیں گے۔

    واضح رہے کہ 24 جولائی کو بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کا انعقاد ہوگا اور 28 جولائی کو بلدیاتی انتخابات کے نتائج جاری کیے جائیں گے۔

  • سندھ حکومت کا عوام پر کچرا اٹھانے کی فیس لاگو کرنے کا منصوبہ

    سندھ حکومت کا عوام پر کچرا اٹھانے کی فیس لاگو کرنے کا منصوبہ

    سندھ حکومت عوام پر روزانہ کوڑا کرکٹ اٹھانے کیلئے کچرا فیس عائد کرنے پر غور کر رہی ہے۔اس پیشرفت کی تصدیق سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ (ایس ایس ڈبلیو ایم بی) کے منیجنگ ڈائریکٹر زبیر احمد چنہ نے کی ہے۔

    کراچی کے سپر اسٹور میں آتشزدگی کا واقعہ ، سندھ حکومت نے تحقیقاتی کمیٹی قائم کردی

    منیجنگ ڈائریکٹر ایس ایس ڈبلیو ایم بی کا کہنا ہے کہ بورڈ سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ (ایس ایس جی سی ایل) کے ساتھ بات چیت کررہا ہے تاکہ کوڑا اٹھانے کے چارجز ان کے ماہانہ بلوں میں شامل کئے جائیں۔البتہ ایس ایس جی سی ایل نے اپنے یوٹیلیٹی بلوں میں کچرا اٹھانے کے چارجز شامل کرنے سے انکار کردیا ہے۔

    زبیر چنہ کا کہنا ہے کہ سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ نے کچرا اٹھانے کی فیس کی وصولی کیلئے اپنا ریونیو سیل بنانے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کیلئے ورلڈ بینک سے موبائل سافٹ ویئر ایپلی کیشن کیلئے منظوری بھی حاصل کرلی گئی ہے۔زبیر چنہ نے موبائل ایپلی کیشن سے متعلق بریفنگ میں بتایا کہ طریقۂ کار تھوڑا مشکل ہے، لیکن بورڈ نے ریونیو اکٹھا کرنے کی ایپلی کیشن کے بنانے پر کام شروع کردیا ہے۔ اس کے ذریعے عوام سے کچرا فیس کی وصولی کی جائے گی۔

    ریونیو اکٹھا کرنے کے پورے نظام کو چلانے کیلئے ورلڈ بینک کی منظوری کے ساتھ ایک سافٹ ویئر تیار کیا جانا ہے، اس سافٹ ویئر کی تخمینی لاگت تقریباً 40 سے 50 ملین (چار سے 5 کروڑ) روپے ہے۔

    سندھ حکومت کی جیالہ فورس نے پی ٹی آئی کو نیزے پر رکھا ہوا ہے:بلال غفار

    یہ نظام کیسے کام کریگا؟
    ایس ایس ڈبلیو ایم بی کے منیجنگ ڈائریکٹر زبیر چنہ نے گاربیج فیس کلیکشن سسٹم سے متعلق بتایا کہ سب سے پہلے موبائل ایپلی کیشن تیار کی جائے گی اور اسے ریونیو اکٹھا کرنے والے مرکزی سیل سے منسلک کیا جائے گا۔

    کوڑا کرکٹ جمع کرنے کی فیس کیسے لی جائے گی؟
    کسی خاص علاقے میں بورڈ نے ایک ایسے شخص کو نامزد کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو مذکورہ علاقے میں معروف ہو اور اس کے آس پاس کم از کم 10 سال سے رہ رہا ہو۔ وہ شخص، جس کا اس مخصوص علاقے میں نچلی سطح پر رابطہ ہے، وہ سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کا نمائندہ ہوگا، جو رہائشی یونٹوں سے کوڑا کرکٹ کی فیس لینے کا مجاز ہوگا۔

    ایس ایس ڈبلیو ایم بی اس شخص کو ایک آئی ڈی جاری کریگا اور اسے موبائل سافٹ ویئر میں اپ لوڈ کرے گا، جیسے ہی ایس ایس ڈبلیو ایم بی کا نمائندہ کسی بھی گھر سے کوڑا کرکٹ کی فیس جمع کرے گا تو سسٹم اس کی نشاندہی کرے گا۔

    منشیات فروشی کے خلاف سندھ حکومت نے اپنی حکمت عملی تبدیل کر لی

    کچرا فیس جمع کرنے کی ذمہ داری لینے والا شخص بورڈ کے پاس 10 لاکھ روپے کی بینک گارنٹی جمع کرائے گا۔ بورڈ اس فرد کو بینکوں سے 10 لاکھ روپے تک کا مائیکرو فنانسنگ قرض لینے میں مدد کریگا۔سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ نے پہلے ہی مذکورہ سفارش کی منظوری دے دی ہے اور بینک اس سلسلے میں قرضے جاری کرنے پر متفق ہیں۔

    ابتدائی طور پر بورڈ نے رہائشی یونٹس کیلئے کچرے کی فیس کا ڈھانچہ تجویز کیا ہے۔ اسے 3 اقسام کم آمدنی والے علاقے، درمیانی آمدنی والے علاقے اور زیادہ آمدنی والے علاقے میں تقسیم کیا گیا ہے، جس میں کچرا اٹھانے کی فیس 100 روپے سے 300 روپے تک رکھی گئی ہے۔

    کم آمدنی والے علاقوں کیلئے کچرا اٹھانے کی فیس 100 روپے ماہانہ، درمیانی آمدنی والے علاقوں کیلئے ماہانہ 200 روپے اور زیادہ آمدنی والے علاقوں کیلئے یہ فیس ماہانہ 300 روپے ہوگی۔ایس ایس ڈبلیو ایم بی کی کچرا اٹھانے کی فیس 6 کنٹونمنٹ بورڈز پر لاگو نہیں ہوگی، کیونکہ ان کے پاس کچرا اٹھانے کا اپنا نظام اور ملازمین ہیں۔

    صنعتی اکائیوں کیلئے فیس کا ڈھانچہ درج ذیل ہے۔
    صنعتی صارفین کو بھی 3 کیٹیگریز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ چھوٹے صنعتی یونٹوں کیلئے 2000 سے 4000 روپے ہے، درمیانی صنعتی اکائیوں کیلئے چار ہزار سے 6 ہزار اور بڑی صنعتی اکائیوں سے 6 ہزار سے 10 ہزار روپے وصول کئے جائیں گے۔

    یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ کے ایم سی پہلے ہی اپنے بلوں میں میونسپل یوٹیلیٹی چارجز اور ٹیکسز کی وصولی کیلئے کے الیکٹرک سے رابطے میں ہے۔تاہم ابھی تک اس معاملے پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا، کیونکہ اسے سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا گیا ہے۔

    درخواست گزار نجیب الدین نے درخواست میں استدعا کی ہے کہ عدالت سندھ حکومت کی جانب سے کے الیکٹرک کے بلوں کے ذریعے کے ایم سی، ایم یو سی ٹی ٹیکس کی وصولی کے فیصلے کو کالعدم قرار دے۔ان کا کہنا ہے کہ یہ ایک بلاجواز عمل ہے اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے دوران عوام کی جیبوں پر اضافی بوجھ ہے۔

  • سندھ :جعلی ڈومیسائل پر دیگر صوبوں سے800 سے زائد اساتذہ بھرتی ہونےکا انکشاف

    سندھ :جعلی ڈومیسائل پر دیگر صوبوں سے800 سے زائد اساتذہ بھرتی ہونےکا انکشاف

    کراچی : سندھ بھر میں جعلی ڈومیسائل پر دیگر صوبوں سے 800 سے زائد اساتذہ بھرتی کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔میر پور خاص کے ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن کے مطابق سندھ بھر میں دیگرصوبوں کے 800 اساتذہ بھرتی کیےگئے، 291 پرائمری اور 509 جونیئر اسکول ٹیچرز بھرتی ہوئے۔

    ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن کے مطابق میرپورخاص میں24 اور سانگھڑ میں 37 دیگر صوبوں کے امیدوار بھرتی ہوئے،کراچی ایسٹ میں سب سے زیادہ 118 بھرتیاں ہوئیں، باقی بھرتیاں دیگر علاقوں میں کی گئیں۔انہوں نے بتایا کہ اسکینڈل سامنے آنےکے بعد تمام تعیناتیاں روک دی گئی ہیں اور معاملہ سیکرٹری تعلیم کی شکایات کمیٹی کے سپردکردیا گیا ہے۔

    سندھ میں انٹر بورڈز کے امتحانات کی تاریخوں کا اعلان کردیا گیا۔صوبائی وزیر تعلیمی بورڈز اسماعیل راہو نے سندھ میں انٹرامتحانات کی تاریخوں کا اعلان کیا ہے۔اسماعیل راہو کے مطابق لاڑکانہ، میرپورخاص، سکھر اور شہید بینظیر آباد میں انٹر امتحانات 10جون سے ہوں گے۔صوبائی وزیر کے مطابق کراچی میں 18جون اور حیدرآباد میں 15 جون سے انٹر امتحانات شروع ہوں گے۔

    دوسری جانب راولپنڈی میں بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن نےملتوی امتحانات کی نئی ڈیٹ شیٹ جاری کردی ہے۔

    ترجمان تعلیمی بورڈ راولپنڈی کے مطابق پرچے 11 سے 16 جون تک ہوں گے، ہائر ایجوکیشن پنجاب نے پیپرلیک ہونے پر 5 پرچےمنسوخ کر دیے تھے۔ ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن کا مزید کہنا ہےکہ تمام ڈپٹی کمشنرز کو اساتذہ کے ڈومیسائل اور پی آرسی کی تصدیق کے لیے لکھ دیا گیا ہے۔

    ادھر

  • سندھ انفارمیشن کمیشن کے لئے چیف انفارمیشن کمشنر اور انفارمیشن کمشنر زکی تقرری کر دی گئی

    سندھ انفارمیشن کمیشن کے لئے چیف انفارمیشن کمشنر اور انفارمیشن کمشنر زکی تقرری کر دی گئی

    سندھ انفارمیشن کمیشن کے لئے چیف انفارمیشن کمشنر اور انفارمیشن کمشنر زکی تقرری کر دی گئی ۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سندھ انفارمیشن کمیشن کے لئے چیف انفارمیشن کمشنر اور انفارمیشن کمشنر زکی تقرری کر دی گئی۔
    اس تقرری میں محکمہ اطلاعات نے وزیر اعلیٰ سندھ کی منظوری سے نوٹیفیکیشن جاری کر دیا۔
    اس مقصد کیلئے نصرت حسین سندھ انفارمیشن کمیشن کے چیف انفارمیشن کمشنر مقرر کر دیے گئے ۔

    صائمہ آغا ایڈووکیٹ اور شاہد جتوئی بھی انفارمیشن کمشنرز ہوں گے۔یہ کمیشن سندھ ٹرانسپرنسی اینڈ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2016 کے تحت قائم کیا گیا ہے۔

    مزید یہ کہ اس میں یہ یقین دہانی بھی کرائی گئی کہ کمیشن مختلف سرکاری اداروں کی جانب سے معلومات کی عدم فراہمی کی شکایات کا ازالہ کرے گا۔

    اس کمیشن میں اس بات کو بھی واضح کیا گیا کہ چیف انفارمیشن کمشنر اور کمشنرز کی مدت تین سال ہوگی۔

  • بینظیر نشونما اور تعلیمی وظیفہ پروگرام کرنا چاہتے ہیں :وزیراعلیٰ سندھ

    بینظیر نشونما اور تعلیمی وظیفہ پروگرام کرنا چاہتے ہیں :وزیراعلیٰ سندھ

    کراچی:اب صوبے میں ترقی کا ایک نیا دور شروع ہوگا ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ سندھ حکومت، وفاقی حکومت سے مل کر بینظیر نشونما اور تعلیمی وظیفہ پروگرام کرنا چاہتی ہے۔

    تفصیلات کے مطابق سید مراد علی شاہ سے وفاقی وزیر برائے محکمہ تخفیف غربت اور سماجی تحفظ شازیہ مری اور انکے وفد کی ملاقات ہوئی، وفد میں سیکریٹری بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ڈاکٹر عصمت طاہرہ، ڈی جی نیشنل سوشل اکنامک رجسٹری (این ایس ای آر) نوید اکبر، ڈی جی سندھ بی این آئی ایس پی ثمر تالپور، ڈائرکٹر بیت المال ڈاکٹر عدنان، تخفیف غربت گروپ کے رہنما احمد علی خٹک شریک ہوئے۔

     

    یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ اس موقع پر وزیراعلیٰ کے ساتھ وزیر تعلیم سید سردار شاہ، معاون خصوصی برائے سماجی شعبہ حارث گزدر، چیف سیکریٹری سہیل راجپوت، چیئرمین پی اینڈ ڈی حسن نقوی، سیکریٹری صحت ذوالفقار شاہ، سیکریٹری تعلیم اکبر لغاری، اسپشل سیکریٹری وزیراعلیٰ سندھ رحیم شیخ شریک تھے۔

    ادھر اس سلسلے میں بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر شازیہ مری نے کہا کہ بینظیر کارڈ کے ذریعے کیش ٹرانسفر پروگرام 2018 میں شروع کیا گیا، نیشنل پاورٹی اسکور کارڈ کی سروے 11-2010 میں کی گئی تھیں۔انہوں نے کہا کہ نیشنل سوشل اکنامک رجسٹری نے سندھ میں 7.744 ملین ہاؤس ہولڈ کو کور کیا ہے، 101 تحصیل سطح پر ڈیسک قائم کی گئی ہے تاکہ رہ جانے والے گھر بھی شامل ہوسکیں، نادرا کی شہریت رجسٹری کے ذریعے تصدیق کی جارہی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ سات ہزار تین ماہ میں مستحق خواتین کو اے ٹی ایم کے ذریعے دیتے ہیں، سندھ میں ابھی تک 425.445 ارب روپے 2.9 ملین خواتین کو دیئے جاچکے ہیں، بینظیر تعلیمی وظیفہ پروگرام کے تحت پورے ملک میں پرائمری سے کلاس 12 تک وظیفہ ملتے ہیں۔شازیہ مری نے مزید کہا کہ ابھی تک 2021592 طلباء کو وظیفہ مل چکا ہے۔

    وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ اس پروگرام کو آگے بڑھانے کیلئے صوبائی محکمہ تعلیم کے ساتھ مل کر کام کیا جائے، سندھ حکومت، وفاقی حکومت سے مل کر بینظیر نشو نما اور تعلیمی وظیفہ پروگرام کرنا چاہتی ہے، سندھ حکومت کی تعلیم ان پروگرامز کا جائزہ لے گی تاکہ اسکو مل کر شروع کیا جائے۔

    پنجاب سے ڈی سیٹ پی ٹی آئی کے منحرف ارکان کا سپریم کورٹ میں اپیل کا فیصلہ

    خواتین پر تشدد کروانے پر عوام میں شدید غصہ پایا جاتا ہے:عمران خان

    عمران خان کی سی پی این ای کے نو منتخب عہدیداران کو مبارکباد

    مریم نواز کی ایک اور آڈیو لیک

  • سندھ حکومت نے ایس بی سی اے سے غیر قانونی تعمیرات کیخلاف اختیارات واپس لے لئے

    سندھ حکومت نے ایس بی سی اے سے غیر قانونی تعمیرات کیخلاف اختیارات واپس لے لئے

    کراچی: سندھ حکومت نے ایس بی سی اے سے غیر قانونی تعمیرات کیخلاف اختیارات واپس لے لئے۔

    باغی ٹی وی : محکمہ سروسز، جنرل ایڈمنسٹریشن اینڈ کوآڑڈی نیشن کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی ایک بار پھر کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کے سپرد کردی گئی ہے جبکہ سپرویژن کمیٹی، ضلعی ڈیمولیشن کمیٹی اور سب لیول کمیٹی تشکیل دے دی گئی۔

    سپرویژن کمیٹی کمشنر کراچی کی سربراہی میں کام کرے گی اور اس حوالے سے قائم کردہ کمیٹی میں ایڈیشنل آئی جی، ڈی جی ایس بی سی اے، چیئرمین آباد سمیت قانون نافذ کرنے والے ادارے شامل ہیں۔

    بحیثیت اپوزیشن لیڈرمیری 2018 میں چارٹر آف اکانومی کی تجویز کو نظر انداز کیا گیا،شہباز شریف

    واضح رہے کہ قبل ازیں سندھ ہائیکورٹ نےلیاقت آباد نمبر 2 میں غیر قانونی تعمیرات سے متعلق درخواست پر ایس بی سی اے کے 6 افسران کےخلاف مقدمہ درج کرکے رپورٹ پیش کرنےکا حکم دیا تھاجسٹس سید حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ کے روبرو لیاقت آباد نمبر 2 میں قانونی تعمیرات کیخلاف درخواست کی سماعت کی تھی عدالت عالیہ نے درخواست پر بڑا حکم جاری کردیا اور ذمہ دار ایس بی سی اے افسران کو جاری کردہ شوکاز نوٹس ناکافی قرار دے دیا تھا-

    بلوچستان کے 32 اضلاع میں بلدیاتی انتخابات ،پولنگ کا عمل شروع

    عدالت نے تمام ذمہ دار افسران کیخلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیتے ہوئےایس بی سی اے نے 6 افسران کو غیر قانونی تعمیرات کا ذمہ دار قرار دیا تھاغیر قانونی تعمیرات کے ذمہ دار افسران میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایاز شہاب، سینئر انسپکٹر زبیر مرتضی، انسپکٹر کلیم احمد، ڈپٹی ڈائریکٹر شکیل جمالی، انسپکٹر فرقان یار خان اور ساجد علی بخاری شامل ہیں۔

    لانگ مارچ میں ناکامی،پی ٹی آئی کی ایڈوائزری کونسل نے رپورٹ جاری کر دی

    جسٹس سید حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیئے تھے کہ عدالت نے ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا تھا، شوکاز نوٹس جیسی معمولی سی کارروائی ناکافی ہے عدالت نے حکام کو ایس بی سی اے افسران کیخلاف مقدمہ درج کرکے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا-

    درخواست گزار مریم خاتون نے دائر درخواست میں موقف اپنایا تھا کہ پلاٹ نمبر 2/606 پر خلاف قانون گراؤنڈ پلس 6 منزلہ تعمیرات کر دی گئی ہیں۔

    عمران خان دوبارہ فساد کی کوشش کی تو جیل کا ٹچ دیکر حوالات بھیج دینگے: حمزہ شہبازکا…

  • حلیم عادل شیخ کی رہائشگاہ پر پولیس کا دوبارہ چھاپہ

    حلیم عادل شیخ کی رہائشگاہ پر پولیس کا دوبارہ چھاپہ

    اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ کی رہائشگاہ پر پولیس نے دوبارہ چھاپہ مارا۔

    ترجمان اپوزیشن لیڈر کی جانب سے جری بیان میں کہا گیا ہے کہ پی پی کے چہیتے اے ایس آئی فیضان کریم، نجی کپڑوں میں ملبوس افراد اور پولیس اہلکاروں نے چھاپہ مارا، اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ اپنے گھر پر موجود نہیں تھے۔

    ترجمان کا کہنا تھا کہ پولیس فیملی میمبران کو ہراساں کررہی ہے، اہلکاروں نے گھر پر حلیم عادل شیخ کے متعلق معلومات لی۔ ایک گھنٹے بعد دوبارہ آئیں گے، پولیس اہلکار کہہ کر واپس روانہ ہوگئے۔

    ترجمان اپوزیشن لیڈر کا مزید کہنا تھا کہ سندھ حکومت کی ایما پر پولیس انتقامی کاروائیوں میں مصروف ہے۔

    خیال رہے کہ انسداد دہشت گردی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور اپوزیشن لیڈر سندھ حلیم عادل شیخ سمیت 3 ملزمان کی عبوری ضمانتیں منظور کی تھیں‌۔عدالت نے پولیس کو حلیم عادل شیخ اور ان کے ساتھیوں کو گرفتار کرنے سے روکنے کا حکم دیا تھا ۔

    عدالت نے ملزمان کو 50، 50 ہزار روپے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا، ساتھ ہی پراسیکیوٹر اور پولیس سے 21 مئی کو جواب طلب کیا۔پولیس کے مطابق حلیم عادل شیخ و دیگر پر 40 ایکڑ سرکاری زمین پر قبضہ کرنے کا الزام ہے۔

    درخواست گزار کا کہنا ہے کہ حلیم عادل شیخ اور ان کے ساتھیوں کے خلاف گلشن معمار تھانے میں نیا مقدمہ درج کیا گیا۔

    حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ مراد علی شاہ وزیر اعلیٰ کم آصف علی زرداری کے منشی زیادہ ہیں۔

    وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے بیان پر قائد حزب اختلاف سندھ حلیم عادل شیخ نے رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ مراد علی شاہ وزیر اعلیٰ کم آصف علی زرداری کے منشی زیادہ ہیں، کہتے ہیں لیڈر آف اپوزیشن پر کوئی غیر قانونی کارروائی نہیں ہوگی۔

    انہوں نے کہا کہ مراد علی شاہ آپ نے مجھ پر گھوٹکی میں جھوٹا مقدمہ بنایا جس میں باعزت بری ہوا جبکہ عمرکوٹ میں آپ لوگوں نے جھوٹا مقدمہ بنایا اس میں بھی باعزت بری ہوا۔

  • پولیس حلیم عادل شیخ کی گرفتاری کیلئے ان کے گھر پہنچ گئی

    پولیس حلیم عادل شیخ کی گرفتاری کیلئے ان کے گھر پہنچ گئی

     

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما علی حیدر زیدی نے دعویٰ کیا ہے کہ سندھ پولیس اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ کو گرفتار کرنے کے لیے ان کے گھر کے باہر موجود ہے۔

    اپنے ٹویٹر پیغام میں انہوں نے اطلاع دی کہ سندھ پولیس نے حلیم عادل شیخ کے گھر کا گھیراؤ کرلیا ہے۔

    علی زیدی کے مطابق بظاہر پولیس کمانڈوز کے ساتھ 6 موبائل موجود ہیں۔

     

     

    دوسری جانب فواد چوہدری نے بھی علی زیدی کے ٹویٹ کی تصدیق کرتے ہوئے پیغام جاری کیا ہے کہ پولیس موبائلز حلیم عادل شیخ کے گھر انہیں گرفتار کرنے پہنچی ہیں۔

    اس حوالے سے حلیم عادل شیخ نے بھی کئی ٹویٹس کی ہیں۔ جن میں اس اقدام کو سندھ حکومت کی دہشت گردی قرار دیا گیا ہے۔

     

     

    اپوزیشن لیڈر سندھ کا کہنا ہے کہ ہم غیر محفوظ ہیں، ہمارے گھروں پر ریڈ ماری جارہی ہے۔

     

     

     

     

    خیال رہے کہ   انسداد دہشت گردی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور اپوزیشن لیڈر سندھ حلیم عادل شیخ سمیت 3 ملزمان کی عبوری ضمانتیں منظور کی ہیں۔

    عدالت نے پولیس کو حلیم عادل شیخ اور ان کے ساتھیوں کو گرفتار کرنے سے روکنے کا حکم دیا تھا ۔

    عدالت  نے  ملزمان کو 50، 50 ہزار روپے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا، ساتھ ہی پراسیکیوٹر اور پولیس سے 21 مئی کو جواب طلب کیا۔

    پولیس کے مطابق حلیم عادل شیخ و دیگر پر 40 ایکڑ سرکاری زمین پر قبضہ کرنے کا الزام ہے۔

    درخواست گزار کا کہنا ہے کہ حلیم عادل شیخ اور ان کے ساتھیوں کے خلاف گلشن معمار تھانے میں نیا مقدمہ درج کیا گیا۔

    انسداد دہشت گردی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور اپوزیشن لیڈر سندھ حلیم عادل شیخ سمیت 3 ملزمان کی عبوری ضمانت منظور کرلی۔

    اپوزیشن لیڈر سندھ حلیم عادل شیخ ضمانت کے لیے انسداد دہشت گردی عدالت پہنچے۔

    عدالت نے پولیس کو حلیم عادل شیخ اور ان کے ساتھیوں کو گرفتار کرنے سے روک دیا۔

    عدالت نے ملزمان کو 50، 50 ہزار روپے مچلکے جمع کروانے کا حکم دیا، عدالت نے پراسیکیوٹر اور پولیس سے 21 مئی کو جواب طلب کرلیا۔

    پولیس کے مطابق حلیم عادل شیخ و دیگر پر 40 ایکڑ سرکاری زمین پر قبضہ کرنے کا الزام ہے۔

    درخواست گزار کا کہنا ہے کہ حلیم عادل شیخ اور ان کے ساتھیوں کے خلاف گلشن معمار تھانے میں نیا مقدمہ درج کیا گیا۔

  • پانی کی منصفانہ تقسیم:سندھ حکومت کا رینجرز کی خدمات حاصل کرنےکا فیصلہ

    پانی کی منصفانہ تقسیم:سندھ حکومت کا رینجرز کی خدمات حاصل کرنےکا فیصلہ

    کراچی:پانی کی غیر منصفانہ تقسیم روکنے کےلیے سندھ حکومت کا رینجرز کی خدمات حاصل کرنےکا فیصلہ:سندھ حکومت کی جانب پانی کی غیر منصفانہ تقسیم کی روک تھام کے لئے رینجرز کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔

    سندھ حکومت نے سندھ کے تقریباً تمام پانی کے کینالوں پر پانی کی منصفانہ تقسیم کے لئے رینجرز کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔سندھ حکومت کی ہدایات پر سندھ کے محکمہ داخلہ نے ڈی جی رینجرز سندھ سے سندھ کے مختلف پانی کینالز پر رینجرز کی تعیناتی کے لئے خط لکھ دیا۔

    خط میں بتایا گیا ہے کہ صوبے اور ملک بھر میں پانی کی شدید کمی کے سبب صوبے بھر میں پانی کی منصفانہ تقسیم کے لئے اریگیشن ایکٹ 1979 کی شق 27 سی کے تحت بندوبست کیا گیا۔روٹیشن پالیسی پر عمل درآمد کی کوشش کے دوران صوبے کے مختلف کینالز پر محکمہ آبپاشی کے عملے، ضلعی انتظامیہ اور پولیس پر پانی چوروں کی جانب سے حملے کئے گئے ہیں۔

    صورتحال سے نمٹنے کے لئے ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ آبپاشی حکام نے رینجرز کی تعیناتی کی گزارش کی ہے، تاکہ پانی کی منصفانہ تقسیم میں رکاوٹ نہ آ سکے۔

    خط میں سندھ کے پھلیلی کینال، اکرم واھ، گونی کینال ڈویژن، روھڑی کینال سرکل، نصیر واھ، ھالا واھ، داد ڈویژن، کے بی فیڈر سمیت تقریباً تمام پانی کی کینالز پر رینجرز کی تعیناتی کا کہا گیا ہے۔اس سے قبل سندھ حکومت کی گزارش پر مئی کے پہلے ھفتے میں تھر ڈویژن کے جمرائو اور مٹھرائو کینالز پر رینجرز تعینات ہو چکی ہے۔

  • عمران اسماعیل کا وفاقی وزیر آبپاشی سے مستعفی ہونے کا مطالبہ

    عمران اسماعیل کا وفاقی وزیر آبپاشی سے مستعفی ہونے کا مطالبہ

    کراچی: سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل نے وفاقی وزیر آبپاشی سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر دیا-

    باغی ٹی وی : سابق گورنر سندھ اورپاکستان تحریک انصاف کے رہنما عمران اسماعیل نے کہا کہ بتایا جائے سندھ کے حکمرانوں کے نام سے غیرقانونی نہریں کس دور میں بنیں ؟ پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے وڈیروں کی زمینیں آباد ہیں کیونکہ سندھ کے پانی پر ڈاکہ ڈالنے والے سندھ کے ہی حکمران ہیں۔

    عمران اسماعیل نے کہا کہ وفاقی وزیر آبپاشی سندھ کے پانی سے وڈیروں کی زمینیں آباد کر رہے ہیں اور سندھ میں پانی کی مصنوعی قلت پیدا کر کے زمینیں ہڑپنے کی کوشش کی جا رہی ہے صوبے کا آدھے سے زیادہ رقبے پر حکمران جماعت کے سربراہ قبضہ کر چکے ہیں اور چھوٹے کاشت کاروں کا پانی بند کر کے ان کی زمینیں بنجر بنائی جا رہی ہیں۔

    سابق گورنر سندھ نے کہا کہ پی ٹی آئی کے خلاف احتجاج کرنے والوں کے گلے آج کیوں بند ہو گئے ہیں جبکہ سندھ کی عوام اور سندھ کے خلاف ہر سازش کی زمہ دار پیپلز پارٹی ہے۔

    حکومت نے پیکا ایکٹ کی شق 20 کی بحالی کیلئےسپریم کورٹ میں دائر پٹیشن واپس لے لی

    دوسری جانب پی ٹی آئی کے رہنما اسد عمر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر لکھا کہ امپورٹڈ کٹھ پتلیوں کا ہر دعویٰ جھوٹا اور ہر قدم ملک پر بھاری پڑ رہا ہے۔ مہنگائی میں کمی کا دعویٰ بھی پیٹ پھاڑ کر لوٹی دولت واپس نکلوانے والی بڑھکوں جیسا ہے۔


    انہوں نے کہا کہ ایک ماہ میں افراط زر کی شرح 11 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی اور وزیر اعظم کپڑے بیچ کر عوام کو سستا آٹا دینے جیسی شعبدہ بازیاں کررہے ہیں یہ نااہل گلدستہ جب تک حکومت میں رہے گا معیشت کا بیڑا غرق کرے گا نااہل امپورٹڈ کٹھ پتلیوں نے معیشت کا بیڑہ تو غرق کرنا ہی ہے لیکن معیشت کا بیڑہ غرق ہونے کے ساتھ ان کی اپنی سیاست بھی دفن ہو جانی ہے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کا آج دورہ راولپنڈی کا امکان