Baaghi TV

Tag: سندھ

  • عیدکےبعد سندھ کادورہ کروں گا:وزیراعظم کی ارکان اسمبلی      کوبڑے پُراعتماد اندازمیں نصیحت:سب حیران رہ گئے

    عیدکےبعد سندھ کادورہ کروں گا:وزیراعظم کی ارکان اسمبلی کوبڑے پُراعتماد اندازمیں نصیحت:سب حیران رہ گئے

    اسلام آباد:رمضان المبارک کے بعد سندھ کا دورہ کروں گا:وزیراعظم کی ارکان اسمبلی کوبڑے پُراعتماد اندازمیں نصیحت:سب حیران رہ گئے ،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے موجودہ سیاسی صورتحال پر مشاورت کے لیے پارٹی رہنماؤں کو بنی گلالہ بلا لیا۔

    ذرائع کے مطابق اپوزیشن کی جانب سے عدم اعتماد کی تحریک جمع کرائے جانے کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی صورتحال کے تناظر میں وزیراعظم کی پارٹی رہنماؤں سے اہم ملاقات ہو گی۔ وزیراعظم کی کراچی سے واپسی پر بنی گالہ میں اجلاس ہو گا جس میں ارکان پارلیمنٹ سے ملاقاتیں بھی کی جائیں گی۔ وزیراعظم سے بلوچستان عوامی پارٹی کے ارکان بھی ملاقات کریں گے۔

    وزیراعظم عدم اعتماد سمیت سیاسی صورتحال ، پنجاب اور مرکز میں اپوزیشن کو ناکام بنانے کے لیے حکمت عملی پر بھی غور کریں گے۔

    وزیر اعظم عمران خان نے آج شہر قائد میں اپوزیشن کو زبردست جواب دینے کے لیے بھرپور دن گزارا، وزیر اعظم جب گورنر ہاؤس میں پی ٹی آئی اراکین قومی و صوبائی اسمبلی سے ملاقات کر رہے تھے، تو سندھ میں اپنی حکمت عملی سے متعلق بات چیت کے ساتھ ساتھ ان کے آپس میں ایک دل چسپ مکالمہ بھی ہوا۔

    وزیر اعظم نے اراکین سے کہا میں رمضان میں اور عید کے بعد اندرون سندھ جاؤں گا، آپ سب مخالفین کے آگے ڈٹ کر کھڑے رہیں، وزیر اعظم کے اراکین کو دیے گئے اس پیغام کے جواب میں انھوں نے کہا ‘وزیر اعظم صاحب، ہم سب آپ کے ساتھ ہیں، آپ نے گھبرانا نہیں ہے۔

    ذرائع کے مطابق کپتان کی اس قدر پراعتماد گفتگو نے ارکان اسمبلی کو اس قدر اطمنان دیا کہ کپتان کے کراچی سے آنے کے بعد پی ٹی آئی ارکان کپتان کے حوصلے اور اطمنان کو دیکھ کریہ کہنے پرمجبور ہوگئے کہ ہمارا کپتان اپوزیشن کی سازشوں کو ناکام بناتےہوئے یہ جنگ بھی جیتے گا

  • عدم اعتماد: اپوزیشن کے8اراکین نےعمران خان کوووٹ دینے کا وعدہ کرلیا:مزید آرہے ہیں :گورنرسندھ

    عدم اعتماد: اپوزیشن کے8اراکین نےعمران خان کوووٹ دینے کا وعدہ کرلیا:مزید آرہے ہیں :گورنرسندھ

    اسلام آباد:عدم اعتماد: اپوزیشن کے8اراکین نےپاکستان کوووٹ دینے کا وعدہ کرلیا:مزید آرہے ہیں :گورنرسندھ نے اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کا اعلان کرتے ہوئے بڑا پیغام جاری کیا ہے ، ان کا کہنا تھا کہ موجودہ سیاسی صورتحال اور تحریک عدم اعتماد کے آنے کے بعد اپوزیشن کے 8 اراکین نے حکومت کا ساتھ دینے کی یقین دہانی کرا دی ہے۔

    حکومتی ذرائع کے مطابق اپوزیشن کے 8 اراکین نے وفاقی وزراء سے ملاقاتیں کی، 6 اراکین اسمبلی نے گزشتہ روز وزراء سے ملاقات کی جبکہ 2 اراکین اسمبلی کی آج وفاقی وزراء سے ملاقات ہوئی ہے۔

    اس حوالے سے ذرائع نے مزید بتایا کہ اپوزیشن کے اراکین نے ملاقات میں عدم اعتماد تحریک میں حزب اختلاف کا ساتھ نہ دینے کی یقین دہانی کروائی ہے۔

    نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر سندھ عمران اسماعیل نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد میں اپوزیشن کے 10 سے 15 ارکان وزیراعظم کو ووٹ دیں گے، چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف ناکامی کی طرح اس بار بھی پی ڈی ایم کو منہ کی کھانا پڑے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان نے ناراض ارکان سے رابطوں کا ٹاسک دیا ہے، علیم خان سمیت پارٹی کے اہم رہنماؤں سے مثبت گفتگو ہوئی ہے۔

    خیال رہے کہ اپوزیشن نے وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد اور قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے کے لئے ریکوزیشن جمع کرادی ہے۔

    بیرونی قوتیں پاکستان میں سیاست سیاست کھیل رہی ہیں:میرا ووٹ پاکستان کے لیےہے:جےیوآئی ایم این اے کے ممبر قومی اسمبلی نے حقائق سے پردہ اٹھا کرپاکستان کے خلاف عالمی سازشوں کو بے نقاب کردیا ، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ جمعیت علماے اسلام کے ایک ایم این اے نے انکشاف کیا ہے کہ اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کے پیچھے بیرونی ہاتھ ہے۔

    ذرائع کے مطابق جے یو آئی کے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ایک رکن قومی اسمبلی نے حکومت کو اپنی حمایت کی یقین دہانی کرا دی ہے۔ ایم این نے کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کے پیچھے بیرونی ہاتھ ہے، ایسی کسی تحریک کا حصہ نہیں بن سکتا جو بیرونی ہاتھوں میں کھیلے۔

    واضح رہے کہ ملکی سیاست میں اس وقت ایک ہلچل مچی ہوئی ہے، اپوزیشن نے وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد اور اسمبلی کا اجلاس بلانے کی ریکوزیشن اسمبلی سیکریٹریٹ میں جمع کرا دی ہے، جس پر 100 سے زائد ارکان کے دستخط موجود ہیں۔

    دوسری طرف حکومت پُر اعتماد نظر آ رہی ہے، ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کے 8 ایم این ایز نے حکومت کو ساتھ دینے کی یقین دہانی کرائی ہے، 2 اپوزیشن رہنماؤں نے منسٹر انکلیو میں وفاقی وزرا سے کچھ دیر قبل اہم ملاقات بھی کی۔

    ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ تحریک عدم اعتماد کو ناکام بنانے کے لیے حکومت کی جانب سے اپوزیشن کے مزید ارکان سے بھی رابطے جاری ہیں۔

  • جلد سندھ کی عوام کوپی پی کی غلامی سےنجات مل جائے گی:شاہ محمود قریشی

    جلد سندھ کی عوام کوپی پی کی غلامی سےنجات مل جائے گی:شاہ محمود قریشی

    کراچی:پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی ابتدا کراچی میں ہوئی، پیپلزپارٹی کی انتہا کراچی میں ہوگی، اندرون سندھ میں بہت بڑی تبدیلی دیکھ رہاہوں۔

    سندھ حقوق مارچ قافلے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ لوگ 15 سالہ پیپلزپارٹی کے اقتدار سے مایوس ہوچکے ہیں، 2023 سندھ کےعوام کا سال ہوگا اور سندھ میں پی ٹی آئی کی حکومت بن سکتی ہے، سندھ حکومت بنیادی مسائل حل نہیں کرسکتی ، کراچی کا کچرا سندھ حکومت سے اٹھتا نہیں اور یہ اسلام آباد فتح کرنے نکلے ہیں، پہلے سندھ کا آئینہ تو دیکھیں۔

    وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ عوامی مارچ میں سرکاری وسائل استعمال ہو رہے ہیں،مارچ میں سب کچھ ہے لیکن عوام نہیں ہے، ہم بت گرانے نکلے ہیں، آؤ ہمارے ساتھ چلو، کراچی میں ہم نے سب سے بڑا بت توڑا اور عمران خان نے اس بت کو گرایا۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ اقتدارکی باریاں لینے والے ملک سے مخلص نہیں، روٹی، کپڑا، مکان کے ساتھ ایمان بھی چاہیے، انہوں نے بھٹو کی سیاست کو دفن، زر اورزرداری کی سیاست کو فروغ دیا، کراچی نے ایک خاموش انقلاب برپا کیا، سندھ میں لوٹ مار میں اضافہ ہوا، لیکن ہم تیر کو توڑ کر سندھ کو جوڑیں گے۔

  • سندھ کی جیلوں سے آوازیں آنے لگیں

    سندھ کی جیلوں سے آوازیں آنے لگیں

    کراچی :بلاول بھٹو اسلام آباد کے متلاشی:پیچھے سے سندھ کی جیلوں سے آوازیں آنے لگیں،طلاعات کے مطابق سندھ کی جیلوں میں درجنوں افراد جرمانے اور ضمانت کی رقم ادا نہ کرنے کی وجہ سے قید ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

    نجی سماجی تنظیم کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق سندھ کی جیلوں میں درجنوں ایسے افراد قید ہیں جو جرمانے اور ضمانت کی رقم نہ کرسکنے کی وجہ سے قید ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق سندھ کی جیلوں میں جرمانے اور ضمانت کی رقم ادا نہ کرنے کی وجہ سے کم از کم 75 ملزمان ہیں۔

    سینٹرل جیل کراچی میں 16 ، ڈسٹرکٹ جیل ملیر میں 39، نوشہرو فیروز ڈسٹرکٹ جیل میں 4 اور شکار پور جیل میں 15 یاسے قیدی موجود ہیں جن کی درخواست ضمانت منظور ہوچکی ہیں لیکن وہ ضمانت کی رقم ادا نہ کرسکنے کی وجہ سے تاحال قید ہیں۔

    سندھ کی جیلوں میں آزادی کے منتظر ان ملزمان کی اکثریت منشیات اور گٹکا ماوا ایکٹ سمیت دیگر چھوٹے جرائم میں بند ہیں۔سماجی تنظیم کے جسٹس ہیلپ لائن کے سربراہ ندیم شیخ کا کہنا ہے کہ ان قیدیوں کی ضمانت پر رہائی کے لیے 26 لاکھ 90 ہزار روپے کا بندوبست کرلیا گیا ہے۔

    ندیم شیخ کا کہنا تھا کہ پہلے مرحلے میں سندھ کی جیلوں سے قیدیوں کو رہائی دلوائی جائے گی، دوسرے مرحلے میں دیگر صوبوں کے قیدیوں کی رہائی کے لیے کوششیں کی جائیں گی۔

  • اسلام آباد کوفتح کرنے والوں کےلیے محکمہ صحت سندھ کا پیغام آگیا

    اسلام آباد کوفتح کرنے والوں کےلیے محکمہ صحت سندھ کا پیغام آگیا

    کراچی: اسلام آباد کوفتح کرنے والوں کےلیےمحکمہ صحت سندھ کا پیغام آگیا،اطلاعات کے مطابق ایک طرف چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری وزیراعظم عمران خان کی حکومت کوعدم استحکام کا شکارکرنے کے لیے گھر سے نکل پڑے ہیں اور دوسری طرف اسی اثنا میں محکمہ صحت سندھ کا پیغآم آگیا ہے کہ حیدر آباد اور میر پور خاص ڈویژن کے سرکاری اسپتالوں میں بچوں کے لیے ایک بھی وینٹی لیٹر موجود نہیں، پورے سندھ سے وینٹی لیٹر سپورٹ کے لیے بچے کراچی بھیجے جاتے ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق محکمہ صحت سندھ نے اعتراف کیا ہے کہ حیدر آباد اور میر پور خاص ڈویژن کے سرکاری اسپتالوں میں بچوں کے لیے ایک بھی وینٹی لیٹر موجود نہیں، ٹھٹہ، بدین اور تھر پارکر کے اسپتالوں میں وینٹی لیٹرز موجود نہیں۔

    ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ پیدائشی امراض کا شکار بچوں کو ہنگامی بنیادوں پر وینٹی لیٹرز کی ضرورت ہوتی ہے، جبکہ محکمہ سندھ کا کہنا ہے کہ حیدر آباد اور میرپور خاص کے تمام اضلاع سے بچے وینٹی لیٹر سپورٹ کے لیے کراچی بھیجے جاتے ہیں۔

     

    لیاقت یونیورسٹی اسپتال حیدر آباد کے میڈیکل سپریٹنڈنٹ کا کہنا ہے کہ اسپتال میں بچوں کے لیے وینٹی لیٹر موجود نہیں ہے، اسی مہینے بچوں کا آئی سی یو شروع کر دیں گے۔

    ڈسٹرکٹ اسپتال تھر پارکر کے حکام کا بھی کہنا ہے کہ تھر پارکر کے کسی اسپتال میں بچوں کے لیے وینٹی لیٹر موجود نہیں، وینٹی لیٹر کی ضرورت والے بچوں کو کراچی بھیجتے ہیں۔

    دوسری جانب ڈائریکٹر قومی ادارہ برائے امراض اطفال کراچی ڈاکٹر ناصر سلیم کا کہنا ہے کہ سندھ بھر سے وینٹی لیٹر سپورٹ کے لیے بچے کراچی بھیجے جاتے ہیں، ہمارے پاس بچوں کے لیے صرف 25 وینٹی لیٹر ہیں۔ پورے سندھ اور بلوچستان سے بچے ہمارے پاس بھیجے جاتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ دور دراز کے علاقوں سے آنے والے بچے یقیناً راستے میں ہی انتقال کر جاتے ہوں گے، ہر ضلعی اسپتال میں بچوں کے لیے وینٹی لیٹر ہونا ضروری ہے۔

  • اسلام آباد میں  لشکرکشی کی دھمکیاں دینے والوپہلے اپنے گھر کی فکرکریں:شاہ محمود قریشی

    اسلام آباد میں لشکرکشی کی دھمکیاں دینے والوپہلے اپنے گھر کی فکرکریں:شاہ محمود قریشی

    عمر کوٹ: سندھ والو بہت جلد بھٹوکریسی سے تمہاری جان چھوٹ جائےگی:شاہ محمود قریشی کا عمرکوٹ میں خطاب ،اطلاعات کے مطابق وائس چیئرمین پاکستان تحریک انصاف شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے اندر کوئی گروپ نہیں، جس نے پی ٹی آئی اور مجھے چھوڑنا ہے آج چھوڑ جائے۔

    تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کا سندھ حقوق مارچ آج عمرکوٹ پہنچا، جہاں پی ٹی آئی رہنما اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پرجوش خطاب کیا۔

    اپنے خطاب میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ 2013میں بھی کہا تھا کہ اوپر اللہ نیچے بلا ، مگر بلا نظر نہیں آیا کیونکہ 2013 میں بلے کے پیچھے کچھ بلیاں لگی تھیں جو بلے کا حق کھا گئی تھیں، اب ایسا نہیں ہوگا، عمرکوٹ والو، کیا اس بلی کو مزید میاؤ میاؤ کی اجازت دو گے؟اگر آپ تبدیلی لائیں گے تو ٹھپہ کس پر لگائیں گے؟ بلے پر۔

    وزیر خارجہ نے سال دو ہزار تیرہ کا تذکرہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس روز آصف زرداری نے کہا کہ شاہ محمود قریشی کو جیتنے نہیں دینا چاہے پولنگ اسٹیشنزکو آگ لگادو، آصف زرداری کے حکم پر 25پولنگ اسٹیشنز کو آگ لگائی گئی ، یہ تماشا نہ ہوتا تو وہ سیٹ بلے نے نکال لی تھی۔

    شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہم ہار گئے یا ہرائے گئے وہ جیت گئے ہم نے مبارکباد دی، فرق اتنا ہے کہ تم نوٹ سے جیتے ہو ووٹ سے نہیں، ہم نے ہار کر بھی ترقیاتی کاموں کاجال بچھایا وہ جیت کر بھی منہ موڑ گئے، آج تھر کے 16لاکھ خاندانوں کو صحت کارڈ دےدیا ہے جبکہ وزیراعلیٰ سندھ نے صحت کارڈ کی مخالفت کی تھی۔

     

    عمر کوٹ کی عوام کو مخاطب کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ تھر والوں پر الزام لگاتے ہیں کہ یہ بکتے ہیں ،یہ تہمت ہے، عمرکوٹ والوں سے کہتا ہوں کہ زرداری سے گھبرانا نہیں، آپ لوگوں کے بارے میں دو ہزار تیرہ میں بھی کہا گیا کہ یہ لوگ دبے ہوئے ہیں کچلے ہوئے یہ مقابلہ نہیں کرسکیں گے مگر آپ نے ثابت کر دکھایا تھا۔

    شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ 2013میں بھی کہا تھا اوپر اللہ نیچے بلا ، مگر بلہ نظر نہیں آیا کیونکہ 2013 میں بلے کے پیچھے کچھ بلیاں لگی تھیں جو بلے کا حق کھا گئی تھیں، اب ایسا نہیں ہوگا، عمرکوٹ والو، کیا اس بلی کو مزید میاؤ میاؤ کی اجازت دو گے؟اگر آپ تبدیلی لائیں گے تو ٹھپہ کس پر لگائیں گے؟ بلے پر۔

    اپنے خطاب میں شاہ محمود قریشی نے واضح الفاظ میں کہا کہ تحریک انصاف کے اندر کوئی گروپ نہیں، جس نے پی ٹی آئی اور مجھے چھوڑنا ہے آج چھوڑ جائے۔

    چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بلاول تقریر کر رہا ہوتا ہے تو پیچھے سے عمران خان کی آواز آتی ہے ‘آپ نے گھبرانا نہیں ہے’ کیونکہ بچہ گھبرا رہا ہوتا ہے، کیونکہ چھاؤں کا پلا ہوا دھوپ میں کیسے کھڑا ہو سکتا ہے؟

  • سندھ میں ڈاکوؤں کا وقت ختم ہونے والا ہے،اسد عمر

    سندھ میں ڈاکوؤں کا وقت ختم ہونے والا ہے،اسد عمر

    وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اور سربراہ این سی او سی اسد عمر نے کہا ہے کہ اب صوبے میں ڈاکوؤں کا وقت ختم ہونے والا ہے۔

    باغی ٹی وی : رتوڈیرو میں سندھ حقوق مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے اسد عمر کا کہنا تھا کہ سندھ کے عوام چاہتے ہیں صوبے کے حالات بہتر ہوں، ان ڈاکوؤں کے اقتدار کا وقت ختم ہونے والا ہے کیونکہ عمران خان سندھ کے عوام کے ساتھ کھڑا ہے زرداری کے ظلم کا نشانہ بننے والوں اور سندھ کی دھرتی کے سپوتوں کو جلد انصاف ملے گا-

    قبل ازیں مرکزی سیکرٹری جنرل تحریک انصاف و وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا تھا کہ جب تک زرداری مافیا سے نجات نہیں ملتی سندھ کو اس کا حق نہیں مل سکتا سندھ قدرتی وسائل سے مالا مال ہے، زراعت کے لیے زرخیز زمین بھی ہے سندھ کے پاس دریا، ساحل سمندر، بندرگاہ، پاکستان کا سب سے بڑا صنعتی، مالیاتی اور تجارتی شہر کراچی سب ہونے کے باوجود بھی عوام پریشان حال ہیں۔جب تک زرداری مافیا سے نجات نہیں ملتی، سندھ کو اس کا حق نہیں ملے گا۔

    قبل ازیں وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پیپلزپارٹی کو مناظرے کا چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ ہم تین سال کا حساب دے دیتے ہیں پیپلز پارٹی 15سال کا حساب دے، سندھ میں 15سالوں سے پیپلز پارٹی کی حکومت ہے سندھ کے مسائل حل نہیں ہوئے، یہ کون سی سیاست ہے مخالف کو گولی کی نظر کر دیا جائے، صوبے میں فائر بریگیڈ والے پیپلز پارٹی کے جھنڈے لگا رہے ہیں۔

    بجلی کی قیمت میں فی یونٹ فیول ایڈجسٹمنٹ کی رقم حکومت ادا کرے گی،حماد اظہر

    انہوں نے کہا کہ قمبر میں تبدیلی دیکھ رہا ہوں، لاڑکانہ کی زمین پر پی ٹی آئی کے جھنڈے زیادہ دکھائی دے رہے ہیں۔ سندھ میں بہت جلد تبدیلی آئے گی پاکستان تحریک انصاف کا سندھ حقوق مارچ پہلی مارچ کو لاڑکانہ سے روانہ ہوکر خیرپور قومی شاہراہ پہنچے گا۔

    وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کی قیادت میں مارچ کراچی کےلئے نوشہروفیروز کی قومی شاہراہ سے گزرے گا اور اس دوران پی پی کا لانگ مارچ بھی یہاں پہنچے گا، قومی شاہراہ کی ایک سڑک پر کھلاڑی تو دوسری سڑک پر جیالے ہوں گے-

    میرے خطاب سے پہلے عوام کو خوش خبری کیوں سنائی؟ وزیراعظم پرویز خٹک سے سخت ناراض

    کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا تھا کہ وقت آگیا ہے کہ پیپلز پارٹی کو ’’کرپشن‘‘ کا احتساب کیا جائے میں پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ ہمارے حقوق کا حساب دیں سندھ کے لوگ 15 سال سے “تکلیف” کا شکار ہیں۔

    اس سے قبل وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے صوبے کے باسیوں سے پی پی پی کی حکومت سے نجات کے لیے پی ٹی آئی کے مارچ میں شامل ہونے کی اپیل کی تھی سندھ کے لوگوں کو زرداری مافیا سے نجات کے لیے پی ٹی آئی کے سندھ حق مارچ کے لیے نکلنا چاہیے،” انہوں نے ایک ٹوئٹ میں ان پر زور دیا کہ وہ وفاق کے ساتھ کھڑے ہوں اور علاقائی سطح پر جانے والی جماعتوں کو مسترد کریں۔

    زرداری مافیا سے نجات ملے گی تو سندھ کرے گا ترقی اورہوگی خوشحالی:اسد عمر

  • اگرحکومت ہمارے 38 مطالبات مان لےتوہماری حکومت سے کوئی لڑائی نہیں:پاکستان پیپلزپارٹی

    اگرحکومت ہمارے 38 مطالبات مان لےتوہماری حکومت سے کوئی لڑائی نہیں:پاکستان پیپلزپارٹی

    کراچی :اگرحکومت ہمارے 38 مطالبات مان لے توہماری حکومت سے کوئی لڑائی نہیں:پاکستان پیپلزپارٹی نے وزیراعظم عمران خان کی طرف ہاتھ بڑھا دیا، اطلاعات کے مطابق پاکستان پیپلزپارٹی نے عوامی مارچ کے 38 مطالبات کے نکات کو جاری کردیا اور کہا کہ اگر حکومت ہمارے یہ مطالبات مان لیتی ہے تو ہمیں حکومت پرکوئی اعتراض‌ نہیں اور نہ ہی ہماری کوئی لڑائی ہے

    ہاکستان پیپلزپارٹی کی طرف سے جومطالبات پیش کیئے گئے ہیں ان کی تفصیل کچھ یوں‌ ہے ،

    حکومت ہر سطح پر ایماندارانہ اور آزادانہ انتخابات کروائے جائیں،

    1973 کے آئین کے مطابق حکومت کا نظم و نسق چلایا جائے،

    1973 کے آئین میں دئیے گئے مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ کے جدا جدا اختیارات کے اصولوں کی پاسداری کی جائے،

    تمام اداروں کے اپنی اپنی آ ئینی حدود میں رہتے ہوئے کارکردگی اور اختیارات ہوں،

    پارلیمنٹ اور کمیٹی سسٹم کا استحکام اور پائیداری کی جائے،

    اعلی عد لیہ کے ججوں کی تقرری کے سلسلے میں پارلیمانی کمیٹی کے 1973 کے آئین میں دئے گئے کردار کا ازسر نو تعین کیا جائے، پ

    آزاد الیکشن کمیشن آف پاکستان کا قیام کیا جائے، پی پی پی عوامی مارچ کا مطالبہ

    قانون کی حکمرانی کو یقینی بنایا جائے، پی پی پی عوامی مارچ کا مطالبہ

    ایک آزاد اور قابل احتساب عد لیہ کو ممکن بنایا جائے، پی پی پی عوامی مارچ کا مطالبہ

    ملک بھر کے تمام مزدوروں کو سندھ کی طرز پر یونین سازی کا حق دیا جائے، پی پی پی عوامی مارچ کا مطالبہ

    طلبا کے لئے یونین سازی کا حق اور طالبعلموں کی فلاح و بہبود کےامور میں ان کا فیصلہ ساز کردار تسلیم کیا جائے،

    آزادی اظہار کے حق کو یقینی بنایا جائے،

    پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں باضابطہ اور غیر اعلانیہ دونوں قسم کی سنسر شپ کا خاتمہ کیا جائے،

    میڈیا کمیشن کی رپورٹ کی سفارشات کے مطابق پیمرا کی آزادی کے لئے نئی قانون سازی کی جائے،

    سائبر کرائم قانون کی تمام غیر منصفانہ اور جابرانہ دفعات کا خاتمہ کیا جائے،

    تمام پبلک اداروں میں ڈیٹا کے تحفظ کے لئے نئی قانون سازی کی جائے،

    تمام ضرورت مند مردوں اور خواتین کے لئے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی توسیع اور اصلاح کی جائے،

    ایک مساوات کمیشن کا قیام کیا جائے جو صوبوں کی مشاورت سے تمام خواتین اور اقلیتوں کے لئے منصفانہ اجرت اور روزگار پالیسی مرتب کرے،

    خواتین کے خلاف تشدد، گھریلو تشدد، تیزاب کے حملوں اور جنسی طور پر ہراساں کرنے کے قوانین پر لازمی عملدر آمد کو یقینی بنایا جائے،

    تمام پبلک مقامات ، پبلک ٹرانسپورٹ اور پبلک سہولیات میں خواتین، بچوں اور خصوصی اقلیتوں کے افراد کا باسہولت داخلہ یقینی بنایا جائے،

    16 سال کی عمر تک بچوں کی آئین میں دی گئی شق کے مطابق لازمی تعلیم کو ایک مقررہ مدت کے اندر اندر یقینی بنایا جائے،

    قابل استطاعت صحت اور علاج معالجے کے حقوق کی فراہمی کو سرکاری اور منظور شدہ نجی شعبے کے اسپتالوں کے نیٹ ورک کے ذریعے یقینی بنایا جائے،

    ان خواتین کے لئے جنہیں زچہ اور بچہ کے سلسلے کی مفت خدمات اور نقد معاوضے کی ضرورت ہے ایک مقررہ مدت کے اندر اندر ان حقوق کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے،

    اقلیتوں کی جبری تبدیلی مذہب کی روک تھام کے لئے موثر قانون سازی اور اس پر عملدرآمد کیا جائے،

    صوبائی خودمختاری اور آئین کی اٹھارویں ترمیم اور آئین کی دیگر شقوں کے تحت دئے گئے صوبائی حقوق مثلا نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ کے مقررہ مدت پر اجرا کی گارنٹی دی جائے،

    بلوچستان کے عوام کے پاکستان کے آئین کے تحت دئیے گئے حقوق کی یقینی فراہمی اور ان کی فیصلہ سازی کی آزادی کو یقینی بنانے کے لئے قومی اتفاق رائے پیدا کیا جائے،

    ایسے افراد کے سوا جن پر خطرناک نوعیت کے الزامات ہیں تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی کو یقینی بنانا اور سیاسی گفت و شنید کے ذریعے بلوچ سیاسی رہنماوں کو ملک میں واپس لانے اور ان کو مرکزی سیاسی دھارے میں شامل کرنے پر قومی اتفاق رائے پیدا کیا جائے،

    آئین کے آرٹیکل 158 کے تحت تیل اور گیس پیدا کرنے والے صوبوں کو ان کی تیل اور گیس کی پیداوارپر اپنی ضروریات پوری کرنے کے ترجیحی حقوق کو موثر بنایا جائے،

    پر تشدد انتہا پسندی کی بیخ کنی کے لئے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے،

    جنوبی پنجاب کے عوام کی شناخت اور ان کی خواہشات کے مطابق جنوبی پنجاب کے نئے صوبے کا قیام اور اس علاقے کو نظر انداز کئے جانے اور اس کی پسماندگی کا خاتمہ کیا جائے،

    گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کے علاقہ جات کی مالیاتی خودمختاری اور ان کو ان کے ریونیو اور مرکز سے تفویض کردہ مالی وسائل پر مکمل اختیار دیا جائے،

    مزدوروں کو قابل گزارہ اجرت کی ادائیگی کا حق دیا جائے،

    تمام مزدوروں بشمول ان مزدورں کے جو معیشت کے ان فارمل شعبوں ، کنٹریکٹ لیبر ، اپنے گھر سے کام ، گھریلو ملازمین اور موسمی مزدورہیں سوشل سیکیورٹی کا تحفظ فراہم کیا جائے،

    زرعی شعبے کے مزدوروں اور چھوٹے کسانوں پر لیبر قوانین ، کم سے کم اجرت کے قانون ، سوشل سیکیورٹی اور زیادہ سے زیادہ کام کے اوقات کے قوانین کا اطلاق کیا جائے،

    اس وقت سندھ واحد صوبہ ہے جس میں خواتین کھیت مزدوروں کو رجسٹر کرنے اور اان کو قانونی تحفظ اور حقوق فراہم کرنے کے لئے قانون پاس کیا گیا ہے، ان قوانین کو تمام ملک میں لاگو کیا جائے،

    زرعی اجناس کی قیمتوں اور ان پر سبسڈی کے لئے ایک نیا فریم ورک تشکیل دیا جائے جس سے قومی پیمانے پر غذائی تحفظ کے حق کی پاسداری، مستحکم نرخوں اور شہری اور دیہی عوام کی یکساں آمدنی کو یقینی بنایا جائے،

    غریب طبقات کے لئے رہائش کی فراہمی کے حق اور ان کو جبری طور پر گھر سے بے دخل کرنے کے خلاف قانون سازی کی جائے،

    کچی آبادیوں اور انتہائی پسماندہ علاقوں کو ریگولرائز کرنے اور ان کو بنیادی شہری سہولتیں فراہم کرنے کے لئے قانونی فریم ورک کی تیاری کی جائے،

    یاد رہے کہ اس پہلے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ عمران خان نےعوام کے ووٹ اور پیٹ پر ڈاکا مارا، کٹھ پتلی کے گھر جانے کا وقت آ گیا، ہمارا عوامی مارچ حکومت کے خلاف اعلان جنگ ہے۔

    لانگ مارچ کی روانگی سے قبل خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ قائد عوام اور شہید بینظیر کے نامکمل مشن کو مکمل کرنے کیلئے نکلے ہیں، ہرپاکستانی کےحقوق کا تحفظ کریں گے۔ عمران خان نے معیشت کا بیڑہ غرق کر دیا، کرپشن ختم کرنے کا وعدہ کیا مگر ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کے مطابق عمران خان حکومت کرپشن کے تمام ریکارڈ توڑ چکی۔

    یہ پاکستان کی کرپٹ ترین حکومت ہے۔ موجودہ حکومت اٹھارویں ترمیم کوختم کررہی ہے، این ایف سی ایوارڈ نہیں دے رہی۔ وفاقی حکومت نے سندھ حکومت کے ہاتھ باندھے ہوئے ہیں، سندھ حکومت کم وسائل کیساتھ زیادہ محنت کر کے صوبے کی خدمت کر رہی ہے، عمران کو بھگائیں گے تو تمام صوبوں کو ان کا حق ملے گا، اب وقت آ گیا کہ ہم وفاقی حکومت کے خلاف عدم اعتماد لیکر آئیں۔ عمران خان نےانسانی حقوق پرحملہ کرچکے،اب ہم برداشت نہیں کرسکتے، ہم یہاں سے نکلیں گے تو بنی گالا سے چیخیں آئیں گی، اسلام آباد پہنچ کر اس حکومت پر حملہ کریں گے۔

  • زرداری مافیا سے نجات ملے گی تو سندھ کرے گا ترقی اورہوگی خوشحالی:اسد عمر

    زرداری مافیا سے نجات ملے گی تو سندھ کرے گا ترقی اورہوگی خوشحالی:اسد عمر

    کراچی : زرداری مافیا سے نجات ملے گی تو سندھ کرے گا ترقی اورہوگی خوشحالی:اطلاعات کے مطابق مرکزی سیکرٹری جنرل تحریک انصاف و وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا ہے کہ جب تک زرداری مافیا سے نجات نہیں ملتی سندھ کو اس کا حق نہیں مل سکتا۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے جاری کردہ ٹوئٹ پیغام میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے لکھا ہے کہ سندھ قدرتی وسائل سے مالا مال ہے، زراعت کے لیے زرخیز زمین بھی ہے۔

    جاری کردہ پیغام میں انہوں نے لکھا کہ سندھ کے پاس دریا، ساحل سمندر، بندرگاہ، پاکستان کا سب سے بڑا صنعتی، مالیاتی اور تجارتی شہر کراچی سب ہونے کے باوجود بھی عوام پریشان حال ہیں۔انہوں نے مزید لکھا کہ جب تک زرداری مافیا سے نجات نہیں ملتی، سندھ کو اس کا حق نہیں ملے گا۔

    دوسری طرف کل سے پی ٹی آئی نے گھوٹکی سے پی پی پی حکومت کے خلاف سندھ حقوق مارچ کا آغاز کردیا ہے کارکنوں کا قافلہ انصاف ہاؤس سکھر سے گھوٹکی کے لیے روانہ ہوا جس کی قیادت پی ٹی آئی سندھ کے صدر علی زیدی اور جنرل سیکریٹری مبین جتوئی نے سکھر میں کارکنوں کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کے بعد کی۔

    مارچ سکھر پہنچنے کے بعد آج شکارپور، کشمور اور جیکب آباد کی طرف روانہ ہوچکا ہے۔ مارچ کے شرکاء کا شکارپور، کشمور اور جیکب آباد میں مقامی رہنما استقبال کرنے والے ہیں‌۔

     

     

    کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ پیپلز پارٹی کو ’’کرپشن‘‘ کا احتساب کیا جائے۔“میں پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ ہمارے حقوق کا حساب دیں،” انہوں نے مزید کہا کہ سندھ کے لوگ 15 سال سے “تکلیف” کا شکار ہیں۔

    قریشی نے مزید کہا کہ وہ وزیر اعظم عمران خان کو پیغام دیں گے کہ سندھی تیار ہیں اور وہ جلد دورہ کریں کیونکہ لوگ ان کے استقبال کے لیے تیار ہیں۔

    اپنے استقبال کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے وزیر نے لکھا: “پی ٹی آئی کے قافلے کا تاریخی استقبال اور سندھ حق مارچ کا شاندار آغاز کرپٹ حکمرانوں سے نجات کی تحریک کے لیے سندھ کے عوام کی حمایت کا واضح پیغام ہے۔

     

    اس سے قبل وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے صوبے کے باسیوں سے پی پی پی کی حکومت سے نجات کے لیے پی ٹی آئی کے مارچ میں شامل ہونے کی اپیل کی تھی۔

    انہوں نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ “سندھ کے لوگوں کو زرداری مافیا سے نجات کے لیے پی ٹی آئی کے سندھ حق مارچ کے لیے نکلنا چاہیے،” انہوں نے ایک ٹوئٹ میں ان پر زور دیا کہ وہ وفاق کے ساتھ کھڑے ہوں اور علاقائی سطح پر جانے والی جماعتوں کو مسترد کریں۔

  • پی ٹی آئی کا "سندھ حقوق مارچ” روانگی کے لئے تیار:عوام استقبال کرنے کے لیے تیار

    پی ٹی آئی کا "سندھ حقوق مارچ” روانگی کے لئے تیار:عوام استقبال کرنے کے لیے تیار

    گھوٹکی: پی ٹی آئی کا "سندھ حقوق مارچ” روانگی کے لئے تیار:،عوام استقبال کرنے کے لیے تیار،اطلاعات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے ‘سندھ حقوق مارچ’ کا آغاز آج سے کیا جارہا ہے، مارچ کے لئے کارکنان میں زبردست جوش وخروش پایا جاتا ہے۔

    پی ٹی ائی سندھ کے ذرائع کے مطابق سندھ حقوق مارچ کا آغاز آج سندھ پنجاب سرحد ‘کموں شہید’ سے ہوگا، مارچ کی قیادت وائس چیئرمین پی ٹی آئی شاہ محمود قریشی اور علی زیدی کرینگے، گھوٹکی میں ہیلی پیڈ تیار کیا جاچکا ہے۔لوگوں میں بہت زیادہ خوشی پائی جارہی ہے اور یہ بھی اطلاعات ہیں کہ پی پی کے ستائے لوگ پی ٹی آئی کے اس مارچ سے بڑے خوش دکھائی دیتے ہیں‌

     

    دوسری طرف اسی حوالے سے یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اوباڑو میں پی ٹی آئی رہنما عبدالرحمان چاچڑ کے انتقال پر تعزیت بھی کرینگے۔ادھر ذرائع کے مطابق مارچ کو خوش آمدید کہنے کے لئے شہر بھر میں جگہ جگہ استقبالیہ کیمپ لگائے جاچکے ہیں، کارکنان میں زبردست جوش وخروش پایا جاتا ہے اور کارکنان پارٹی ترانوں پر والہانہ رقص کررہے ہیں۔

    جہاں ایک طرف وائش چیئرمین پی ٹی آئی شاہ محمود قریشی متحرک ہیں تو دوسری طرف وفاقی وزیر علی زیدی اور سینئر رہنما مبین جتوئی انصاف ہاؤس سکھر سے ریلی میں شریک ہونگے۔

     

     

    مارچ کے شرکا کا پہلا پڑاؤ سکھر’ انصاف ہاؤس’ ہوگا، جہاں ایک عظیم الشان جلسے کا انعقاد کیا جائے گا، جلسے سے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سمیت پی ٹی آئی قیادت خطاب کرے گی، جلسے کی تمام تیاریاں مکمل کرلیں گئیں ہیں۔

    صدر پاکستان تحریک انصاف سندھ علی زیدی نے رات گئے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ سندھ کے عوام کے ساتھ رابطے کے لیے اسی کنٹینر پر نکل رہے ہیں جو 126دن کے دھرنے کے لیے استعمال کیا تھا، انشااللہ سندھ کے لوگوں کو زرداری مافیا سے آذاد کرائینگے۔

     

    وفاقی وزیر اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما علی زيدی نے مارچ کے روٹ کے حوالے سے بتایا کہ سندھ حکومت کے خلاف 27 فروری کو گھوٹکی سے مارچ شروع کیا جائے گا، جو سکھر روانہ ہوگا، 27 فروری کو ہم شکارپور، کشمور اور جیکب آباد پہنچیں گے، 28 فروری کو قمبر شہداد کوٹ اور لاڑکانہ جائیں گے۔

     

    روٹ کے مطابق یکم مارچ کو پی ٹی آئی کا مارچ خیرپور، نوشہروفیروز اور نواب شاہ میں پڑاؤ ڈالے گا، جس کے بعد مارچ کی اگلی منزل 2 مارچ کو سانگھڑ اور میرپورخاص ہوگی۔سندھ حقوق مارچ 3 مارچ کو عمر کوٹ، تھر پارکر اور بدین پہنچے گا اور وہاں رات قیام کے بعد 4 مارچ کو ٹنڈو محمد جام ، ٹنڈو الہٰ یار اور مٹیاری جائے گا۔

    مارچ یہاں سے اپنی اگلی منزل حیدرآباد 5 مارچ کو پہنچے گا، چھ مارچ کو پی ٹی آئی کا مارچ اختتامی مراحلے میں داخل ہوتے ہوئے جامشورو اور وہاں سے واپس کراچی آئے گا۔