Baaghi TV

Tag: سوشل میڈیا

  • اظہر مشوانی کے بھائی کو رات گئے گرفتار کیا گیا، عمر ایوب

    اظہر مشوانی کے بھائی کو رات گئے گرفتار کیا گیا، عمر ایوب

    تحریک انصاف کے رہنما عمر ایوب نے کہا ہے کہ رات پونے تین بجے اظہر مشوانی کے گھر پر ریڈ کیا گیا، ان کے پروفیسر بھائی کو سی ٹی ڈی اور سادہ لباس میں ملبوس افراد نے گرفتار کیا،

    عمر ایوب کا کہنا تھا کہ اس کی ہم مذمت کرتے ہیں پاکستان میں اظہار رائے کی آزادی ہے،آئین میں کوئی ہائیبرڈ سسٹم نہیں ہے جمہوریت میں آزادی اظہار رائے پر پابندی نہیں لگا سکتے،ہماری سوشل میڈیا کی ٹیم کے لوگوں کو 2021 میں آئی ایس پی آر سے ایوارڈ ملے ہیں،تحریک انصاف کے کارکنان کا صرف یہ قصور ہے کہ وہ اپنے قائد کے پیچھے کھڑے ہیں، عالیہ حمزہ،صنم جاوید،اظہر مشوانی کے بھائی کو فورا رہا کیا جائے،

    دوسری جانب پی ٹی آئی سوشل میڈیا ایکٹوسٹ اظہر مشوانی نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ” انکے دونوں بڑے بھائیوں پروفیسر مظہر اور پروفیسر ظہور مشوانی کو رات 2:50 بجے ہمارے گھر ٹاؤن شپ لاہور سے درجنوں سی ٹی ڈی کے یونیفارم اور سادہ کپڑوں میں ملبوس افراد اٹھا کر لے گئے ہیں میرے کسی فیملی ممبر کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں اور تمام افراد درس و تدریس کے شعبے سے تعلق رکھتے ہیں”۔

    تحریک انصاف کے رہنما شبلی فراز کاکہنا ہے کہ پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ٹیم ہماری پارٹی کا ہراول دستہ ہے، ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں، اظہر مشوانی کے گھر رات کو جو کچھ ہوا قابل مذمت ہے، اظہر مشوانی کے بھائی کو رہا کیا جائے، سوشل میڈیا کی آواز کو چپ نہیں کروایا جا سکتا.سچ کو روک نہیں سکتے وہ سامنے آ کر ہی رہے گا.

    عدالت نے کہا کہ میں کیوں ایسا حکم جاری کروں جو سسٹم ہے اسی کے مطابق کیس فکس ہوگا،

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے 

     بنی گالہ میں سارے سودے ہوتے تھے کہا گیا میرا تحفہ میری مرضی

    عمران خان جیل میں شاہانہ زندگی گزار رہے ہیں، وفاقی وزیر اطلاعات

    عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر توہین عدالت کی درخواست، نوٹس جاری

    اب بتا رہا ہوں پاکستان میں سری لنکا والا کام ہونے جا رہا ، کوئی ڈیل کی بات نہیں ہو رہی، عمران خان

    اظہر مشوانی کے بھائیوں کو کل تک عدالت پیش کرنے کا حکم
    بانی پی ٹی آئی کے فوکل پرسن اظہر مشوانی کے بھائیوں کے اغواء کیخلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی،جسٹس سید شہباز رضوی نے آئی جی پنجاب اور سی ٹی ڈی کو مغویوں کو بازیاب کر کے پیش کرنے کا حکم دے دیا، عدالت نے کل تک پروفیسر ظہور اور پروفیسر مظہر کو پیش کرنے کا حکم دے دیا، درخواست گزاروں کی طرف سے سکمان اکرم راجہ، چوہدری اشتیاق اے خان اور ابوزر سلمان نیازی پیش ہوئے. جسٹس سید شہباز رضوری نے کہا کہ آپ نے پہلے پولیس کو کیوں درخواست نہیں دی، وکیل نے کہا کہ اس سے پہلے بھی 100 دن تک گرفتار رکھاانکے والد کو بھی اٹھا کر لے گئے،انکے والد کی طرف سے درخواست دائر کی ہے، سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، اظہر مشوانی عمران خان کے فوکل پرسن تھے ،جسٹس شہباز رضوری نے کہا کہ آپ کے پاس دوسرا فورم تھا اس سے کیوں رجوع نہیں کیا، وکیل نے کہا کہ انکے خلاف کوئی چارج نہیں، سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، اس سے پہلے بھی 100 دن رکھا گیا،پھر چھوڑ دیا، عدالت نے استفسار کیا کہ 100 دن کس کے پاس رہے، وکیل نے کہا کہ وہ ڈسکلوز نہیں کرتے، خود ہی چھوڑ دیا تھا، عدالت نے کہا کہ وہ نہیں کرتے تو آپ کو تو پتہ ہے، وکیل نے کہا کہ لے کر سی ٹی ڈی والے گئے تھے لیکن بعد میں نہیں پتہ چلا کہاں رکھا ،عدالت نے آئی جی پنجاب کو سی ٹی ڈی کو کل تک پیش کرنے کا حکم دے دیا

    اظہر مشوانی کے 2 بھائیوں کی بازیابی کےلیے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر
    ‏تحریک انصاف سوشل میڈیا انچارج اظہر مشوانی کے 2 بھائیوں کی بازیابی کےلیے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائرکر دی گئی،درخواست والد قاضی حبیب الرحمن کیجانب سے دائر کی گئی ہے،دائر درخواست میں آئی جی پنجاب، سی ٹی ڈی سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے،درخواست سلمان اکرم راجہ،ایڈوکیٹ ابوزر سلمان خان نیازی کی وساطت سے دائر کی گئی ہے،درخواست میں کہا گیا کہ پروفیسر ظہور اور پروفیسر مظہر کو رات گئے گھر سے اغواء کیا گیا، سادہ لباس اور پولیس یونفارم میں ملبوس اہلکاروں نے حراست میں لیا، اغواء کرنے والوں نے نہیں بتایا کہ انہیں کیوں لے کر جا رہے ہیں، اس سے قبل پروفیسر ظہور کو 100 سے زائد غیر قانونی حراست میں رکھا گیا، عدالت پروفیسر ظہور اور پروفیسر مظہر کو بازیاب کروانے کا حکم دے،

  • شہر قائد،سوشل میڈیا کے ذریعے اسلحہ فروخت کرنیوالے گرفتار

    شہر قائد،سوشل میڈیا کے ذریعے اسلحہ فروخت کرنیوالے گرفتار

    شہر قائد کراچی میں سوشل میڈیا کے ذریعے اسلحہ کی فروخت کا انکشاف ہوا ہے
    پولیس نے کاروائی کرتے ہوئے سوشل میڈیا کے ذریعے اسلحہ فروخت کرنے والے دو ملزمان کو گرفتار کیا ہے،پولیس حکام کے مطابق ملزمان کراچی و اندرون سندھ اسلحہ سوشل میڈیا کے ذریعے فروخت کر کے سپلائی کرتے تھے، پولیس نے ملزمان کے قبضے میں سے ایک کلاشنکوف، 4 برسٹڈ ممنوعہ پستول اور 9 ایم ایم پستول برآمد کیے ہیں

    پولیس حکام کے مطابق ملزمان نے اسلحہ کی فروخت کیلیے سوشل میڈیا کا استعمال کیا تھا، ملزم محمد احمد اعوان نے فیس بک اور واٹس اپ کے ذریعے کلاشنکوف پسند کی اور رقم ایزی پیسہ کے ذریعے بھجوائی، ملزم محمد احمد درہ آدم پشاور کے اسلام شاہ کے لیے کام کرتا ہے،ملزمان کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب ملزم اسلحہ محمد احمد اعوان کے سپرد کر رہا تھا،ملزم زبیر احمد اعوان نے کلاشنکوف اور ایک لاکھ تیس ہزار گولیاں بھی منگوائی تھیں اور شوقیہ اعوان بھی کنندہ کروایا تھا ،پولیس حکام کے مطابق گرفتار ملزم محمد افضل اس سے قبل تھانہ ماڈل کالونی کراچی سے بھی اسلحہ کی اسمگلنگ میں گرفتار کیا جاچکا ہے اور عدالت سے ضمانت پر ہے۔

    دوسری جانب ویسٹ، تھانہ پیرآباد پولیس نے ہوائی فائرنگ کرکے بزرگ خاتون کو زخمی کرنے والے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ملزم فرنٹیئر کالونی مسلم محلہ میں شادی کی تقریب کے دوران ہوائی فائرنگ کررہا تھا۔ ملزم کی فائرنگ سے 64 سالہ خاتون عمرن النساء زوجہ سرفراز کلائی پر گولی لگنے سے زخمی ہوگئی تھی۔پولیس نے اطلاع ملتے ہی بروقت کاروائی کرتے ہوئے ملزم وکیل احمد ولد فضل کریم کو غیر قانونی اسلحہ سمیت گرفتار کرلیا۔گرفتار ملزم سے فائرنگ میں استعمال ہونے والا 9 ایم ایم پسٹل بمعہ 03 میگزین اور ایمونیشن کے برآمد کرلیا گیا۔گرفتار ملزم کے خلاف ضابطے کے تحت مقدمات درج کرکے مزید تفتیش کا آغاز کردیا گیا ہے۔

    علاوہ ازیں ویسٹ، تھانہ گلش معمار پولیس نے اسٹریٹ کرمنل ملزم کو چھینی گئی موٹرسائیکل سمیت گرفتار کرلیا۔ پولیس نے اسنیپ چیکنگ کے دوران کاروائی کرکے ملزم فیض اللّٰہ ولد سردار خان کو گرفتار کیا۔ گرفتار ملزم کے قبضے سے غیر قانونی اسلحہ بمعہ ایمونیشن اور زیراستعمال موٹرسائیکل برآمد کرلی گئی۔برآمدہ موٹرسائیکل نمبری KQE-4963 اسلحہ کے زور پر چھینی گئی تھی، واردات کا مقدمہ الزام نمبر 223/2024 بجرم دفعہ 392/397/34 تھانہ گلشن معمار میں درج ہے۔گرفتار ملزم کے خلاف مزید سندھ اسلحہ ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرکے تفتیش کا آغاز کردیا گیا ہے۔

    فوجی عدالتوں میں ٹرائل کالعدم کرنے کا تفصیلی فیصلہ جاری

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    چلڈرن ہسپتال کا کوکلیئر امپلانٹ کے تمام اخراجات برداشت کرنے کافیصلہ،ڈاکٹر جاوید اکرم

    صنم جاوید کی سینیٹ کیلیے نامزدگی،طیبہ راجہ پھٹ پڑیں

    سیاسی جماعتوں کے سینئیر رہنما سینیٹ ٹکٹ سے محروم

  • سوشل میڈیا پر ریاست مخالف مواد شیئر کرنے والوں کیخلاف کریک ڈاون شروع، دو ملزمان  گرفتار

    سوشل میڈیا پر ریاست مخالف مواد شیئر کرنے والوں کیخلاف کریک ڈاون شروع، دو ملزمان گرفتار

    راولپنڈی: راولپنڈی سے ایف آئی اے نے دو ملزمان کو گرفتار کرلیا۔

    باغی ٹی وی : افواج پاکستان، اداروں اور اہم قومی شخصیات کیخلاف پرو پیگنڈا میں ملوث افراد کے حوالے سے ایف آئی اے کی انکوائری جاری تھی، جس کے مکمل ہونے کے بعد اب اس رپورٹ کی روشنی میں گرفتاریوں کا عمل شروع کر دیا گیا ہے، ایف آئی اے کی ٹیموں نے راولپنڈی میں مختلف مقامات پر چھاپے مارے اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ریاست مخالف مواد شیئر کرنے میں ملوث دو ملزمان کو گرفتار کر لیا۔

    ایف آئی اے حکام کےمطابق گرفتار ملزمان مسلح افواج کے خلاف من گھڑت اور فرضی خبریں پھیلانےمیں ملوث تھےگرفتار ملزمان میں یاسر عرفات اور عرفان عباس شامل ہیں جنھیں روات اور گوجرخان کے علاقوں سے گرفتار کیا گیا، ایف آئی اے حکام کے مطابق ملزمان کو گرفتار کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا۔

    عدت نکاح کیس : پی ٹی آئی وکلا کا خاور مانیکا پر احاطہ عدالت میں …

    واضح رہے کہ ملکی اداروں اور شخصیات کیخلاف سوشل میڈیا پر پراپیگنڈا مہم چلانے والوں کیخلاف تحقیقات شروع کردی گئی ہیں ایف آئی اے نے سوشل میڈیا مہم چلانے والے افراد سے تحقیقات شروع کرتے ہوئے سوشل میڈیا مہم میں شامل افراد سے بیانات لینے کا مرحلہ بھی شروع کر دیا ہے-

    وفاقی حکومت نے شاعر اور صحافی احمد فرہاد کی گرفتاری ظاہر کر دی

  • حساس معلومات لیک کرنے پرسوشل میڈیا صارفین کے گرد گھیرا تنگ

    حساس معلومات لیک کرنے پرسوشل میڈیا صارفین کے گرد گھیرا تنگ

    فیک خبریں، سیکرٹ دستاویزات،سوشل میڈیا صارفین کے گرد حکومت نے گھیرا تنگ کر لیا

    وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے ٹویٹر پر پوسٹ کی ہے جس میں انکا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے حساس اور خفیہ معلومات کی غیر مجاز تشہیر، خاص طور پر، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر خفیہ دستاویزات (خصوصا جن دستاویزات پہ سیکرٹ بھی لکھا ھو )کی کھلے عام نمائش کا سخت نوٹس لیا ہے۔ اس طرح کی معلومات کا پھیلاؤ پاکستان کے سٹریٹجک اور اقتصادی مفادات کو زک پہنچانے کے علاوہ اسکے دوست اور برادر ممالک کے ساتھ تعلقات کو بھی شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اس تناظر میں وفاقی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ان تمام افراد کے خلاف آفیشل سیکرٹس ایکٹ 2023 کے تحت مقدمات درج کئے جائیں جو خفیہ معلومات یا دستاویزات کے افشاء کرنے یا پھیلانے میں بالواسطہ یا بلاواسطہ ملوث پائے جائیں گے۔ اس جرم کی سزا دو سال قید اور جرمانے کی صورت میں بھگتنا ہو گی۔

    سوشل میڈیا پر مہم،جسٹس محسن اختر کیانی کا بھی کاروائی کیلیے خط

    سوشل میڈیا پر دوستی،پھر عریاں تصاویر،پھر زیادتی،کم عمر لڑکیاں‌بنتی ہیں زیادہ شکار

    سوشل میڈیا پر رابطہ،دبئی ویزے کے چکر میں خاتون عزت لٹوا بیٹھی

    مذہبی، مسلکی، لسانی منافرت پھیلانے والے 462 سوشل میڈیا اکاونٹس بند

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم بند ہوا، مفصل جواب جمع کروائیں، عدالت

    سینیٹ اجلاس،سوشل میڈیا پر پابندی کے حوالے سے قرارداد واپس

    انتخابات کے دوران سوشل میڈیا پر مذموم مہم چلانے والوں کیخلاف کاروائی کا فیصلہ

  • لڑکی کی آئی ڈی بنا کر کمسن لڑکوں کو پھنسا کر بدفعلی کرنیوالا ملزم گرفتار

    لڑکی کی آئی ڈی بنا کر کمسن لڑکوں کو پھنسا کر بدفعلی کرنیوالا ملزم گرفتار

    سوشل میڈیا کا استعمال احتیا ط سے، لڑکی کی آئی ڈی بنا کر لڑکوں سے دوستی کر کے انہیں ملاقات کے لئے بلا کر بدفعلی کا نشانہ بنا دیا گیا

    واقعہ پنجاب کے شہر اوکاڑہ میں پیش آیا، پولیس نے کاروائی کرتے ہوئے گینگ کے سرغنہ کو گرفتار کیا ہے جبکہ دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لئے چھاپے مارے جا رہے ہیں، پولیس حکام کے مطابق ملزمان لڑکی بن کر کمسن بچوں سے فیس بک پر بات چیت کرتے، دوستی کرتے اور پھر انہیں ملاقات کے لئے بلاتے، بچے ملنے آتے تو انہیں بدفعلی کا نشانہ بنایا جاتا اور انکی ویڈیو بھی بنا لی جاتیں، ان نازیبا ویڈیو سے پھر بچوں کو بلیک میل کیا جاتا تھا،اوکاڑہ پولیس نے گینگ کے سرغنہ کو گرفتار کیا ہے،

    ملزمان کم عمر لڑکوں کو لڑکی کے نام سے واٹس ایپ ،فیس بک اور انسٹاگرام پر پھنساتے تھے، ملزمان نے جعلی فیس بک آئی ڈی اوکاڑہ کے باپ کے نام سے بھی بنا رکھی تھی، ملزمان متعدد لڑکوں کے ساتھ زیادتی کر چکے ہیں، ملزمان میں سخاوت،سرور، رمضان و دیگر شامل ہیں،پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کے ساتھیوں کی گرفتاری کے لیےپولیس کی اسپیشل ٹیم کام کر رہی ہے جلد دیگر ملزمان کو گرفتار کر لیا جائے گا

    پولیس نے والدین سے اپیل کی ہے کہ سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہوئے بچوں کی نگرانی کیا کریں وہ کس سے بات کر رہے ہیں اور کس سے رابطے میں ہیں، والدین کی ذمہ داری ہے وہ بچوں پر چیک رکھیں،تا کہ بچے مجرمانہ سرگرمیوں کے ذمہ دار افراد کے ہتھے نہ چڑھیں.

    ہنی ٹریپ،لڑکی نے دوستوں کی مدد سے نوجوان کیا اغوا

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    طالبات کو نقاب کی اجازت نہیں،لڑکے جینز نہیں پہن سکتے،کالج انتظامیہ کیخلاف احتجاج

    امجد بخاری کی "شادی شدہ” افراد کی صف میں شمولیت

    مجھے مسلم لیگ ن کے حوالے سے نہ بلایا جائے میں صرف مسلمان ہوں،کیپٹن ر صفدر

    سرکاری اداروں کا یہ کام ہے کہ کرپٹ افسران کو بچانے کی کوشش کرے؟چیف جسٹس برہم

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

  • سوشل میڈیا پر مہم،جسٹس محسن اختر کیانی کا بھی کاروائی کیلیے خط

    سوشل میڈیا پر مہم،جسٹس محسن اختر کیانی کا بھی کاروائی کیلیے خط

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے بھی توہین عدالت کی کارروائی کے لیے چیف جسٹس کو خط لکھ دیا ہے

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے سینئر ترین جج محسن اختر کیانی نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق کو خط لکھا ہے جس میں اپنے خلاف سوشل میڈیا پر چلنے والی بدنیتی پر مبنی مہم پر توہین عدالت کی کارروائی کی درخواست کی ہے۔

    قبل ازیں اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس بابر ستار نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کو اپنے خلاف سوشل میڈیا مہم پر توہین عدالت کی کارروائی کے لیے خط لکھا تھا جس پر فیصلہ کیا گیا کہ خط کو توہین عدالت میں تبدیل کرکے کارروائی کی جائے گی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے دو جج صاحبان کے خطوط پر آج بینچ تشکیل کیے جانے کا امکان ہے

    واضح رہے کہ جسٹس بابر ستار کی امریکی شہریت سے متعلق سوشل میڈیا پر مہم چلائی گئی تھی، اسلام آباد ہائی کورٹ نے تردید جاری کی تھی کہ جسٹس بابر ستار کے پاس پاکستان کے علاوہ کسی ملک کی شہریت نہیں، سوشل میڈیا پر جسٹس بابر ستار کے خلاف ہتک آمیز اور بے بنیاد مہم چلائی جارہی ہے۔جسٹس بابر ستار کے پاس پاکستان کے علاوہ کسی اور ملک کی شہریت نہیں۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے اعلامیہ کے مطابق جسٹس بابر ستار کے گرین کارڈ کا اس وقت کے چیف جسٹس کو علم تھا۔جسٹس بابر ستار کے جج بننے کے بعد ان کے بچوں نے پاکستانی سکونت اختیار کی۔1992 میں جسٹس بابر ستار کی والدہ نے سکول کھولا جس کے وہ لیگل ایڈوائزر رہے اور فیس وصول کی۔غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل فرد کی وجہ سے جسٹس بابر ستار نے کو امریکہ کا مستقل ریڈیڈنسی کارڈ ملا تھا۔ 2005 میں جسٹس بابر ستار امریکی نوکری چھوڑ کر پاکستان آگئے اور تب سے پاکستان میں کام کر رہے ہیں

    آڈیو لیکس کیس،جسٹس بابر ستار پر اعتراض کی درخواست جرمانے کے ساتھ خارج

    عدالت سے غلط بیانی کی تو اس کے اثرات بھگتنا ہوں گے ،آڈیو لیکس کیس میں ریمارکس

    آڈیو لیک، کمیٹی تشکیل ، سات روز میں تحقیقات مکمل کرنے کا حکم

    آڈیو لیک،عمران خان کیخلاف سخت کاروائی کی قرارداد اسمبلی میں جمع

    ہیکرز نے دعوی کیا ہے کہ اب مزید آڈیو جمعہ کو جاری کی جائیں گی

    عمران خان کا جھوٹا بیانیہ سب نے دیکھ لیا،آڈیو کے بعد بھی یوٹرن لے سکتے ہیں،عظمیٰ بخاری

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

  • یوم آزادی صحافت، پاکستان میں ایک سال میں 4 صحافی قتل،104 مقدمے

    یوم آزادی صحافت، پاکستان میں ایک سال میں 4 صحافی قتل،104 مقدمے

    عالمی یوم آزادی صحافت کے موقع پر فریڈم نیٹ ورک نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں ایک برس میں چار صحافی قتل ہوئے جبکہ 104 سے زائد مقدمے صحافیوں پر درج کئے گئے

    تین مئی ، دنیا بھر میں عالمی یوم آزادی صحافت کے طور پر منایا جاتا ہے،تاہم پاکستان میں صحافت ، خطرناک ترین ہوتی جا رہی ہے، صحافیوں کو دھمکیاں، مقدمے، دباؤ، گرفتاریاں سب کچھ برداشت کرنا پڑتا ہے، ریاستی جبر اور غیر ریاستی عناصر کی مبینہ کارروائیوں کے سبب پاکستان میں آزادی صحافت اور رائے کی آزادی کو شدید خطرات لاحق ہیں

    پاکستان دنیا کے ان 3 ممالک میں شامل ہے جہاں پیکا کے کالے قانون کے تحت کسی آن لائن فورم پر رائے دینے پر بھی مقدمات درج کر لیے جاتے ہیں جب کہ دنیا کے باقی ممالک میں ہتک کے قوانین کے تحت کارروائی کی جاتی ہے، عالمی یوم صحافت پر پاکستانی صحافتی برادری اس بات کا عہد کرتی ہے کہ کسی بھی دباؤ کے باوجود آزاد انہ اور ذمہ دارانہ سچ عوام تک پہنچاتے رہیں گے ۔ غیر جانبدار اور آزاد صحافت کسی بھی ملک کی ترقی کی ضامن ہوتی ہے،اسی لیے صحافت کو ریاست کا چوتھا ستون قرار دیا جاتا ہے۔

    میڈیا کی ذمہ داری ہے وہ صحافتی اخلاقیات کی پابندی کرے.صدر مملکت
    صدر مملکت آصف زرداری نے آزادی صحافت کے عالمی دن پر پیغام میں کہا ہے کہ صحافیوں کو ڈر اور خوف سے پاک ماحول فراہم کرنے کی ضرورت ہے، صحافیوں کی سیکورٹی اور سلامتی کیلئےموثر اقدامات کی ضرورت ہے.پاکستان کا آئین آزادی صحافت کی ضمانت دیتا ہے.میڈیا کی بھی ذمہ داری ہے وہ صحافتی اخلاقیات کی پابندی کرے. میڈیا کو جعلی خبروں کے سدباب کیلئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے.میڈیا عالمی تشویش کے مسائل پر بیداری پیدا کرنے میں تعمیری کردار ادا کرے. موسمیاتی تبدیلی کے خطرے سے بچانے میں میڈیا کا کردار اہم ہے

    میڈیا اور تمام فریقین کو درست اطلاعات کیلئے ملکرکام کرنا ہوگا.وزیراعظم
    آزادی صحافت کے عالمی دن کے موقع پر وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو سلام، حریت فکر کے محافظوں کو خراج تحسین.غزہ میں جان قربان کرنے والے مرد وخواتین صحافی انسانیت کے ہیروہیں.جبر سے لڑنا اور سچائی کو سامنے لانا ہی اس دن کا پیغام ہے.صحافت اور اظہار کی آزادی جمہوریت کی بنیاد ہے.میڈیا اور تمام فریقین کو درست اطلاعات کیلئے ملکرکام کرنا ہوگا.میڈیا اور اظہار آزادی پر پختہ یقین رکھتے ہیں.میڈیا انڈسٹری کی بہتری کیلئے بھرپور کردار ادا کریں گے،

    صحافیوں نے ہمیشہ جمہوریت کی نگہبانی اور نگرانی کی ،شرجیل میمن
    سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے آزادی صحافت کے دن پر پیغام میں کہا ہے کہ ملک میں جمہوریت کے لئے صحافیوں کی قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جا سکتا، صحافیوں نے ہمیشہ جمہوریت کی نگہبانی اور نگرانی کی ہے، شہید بی بی کے ویژن کے تحت حکومت سندھ نے ہمیشہ آزاد صحافت، تعمیری مکالمے اور باہمی افہام و تفہیم کو فروغ دیا ہے، صحافیوں کے تحفظ کے لئے سب سے پہلے پروٹیکشن آف جرنلسٹس کمیشن کا قیام پیپلز پارٹی کا کارنامہ ہے،اظہار آزادی کو پاکستان پیپلز پارٹی نے ہمیشہ اپنی ترجیحات میں رکھا ہے,صحافیوں کی فلاح و بہبود کو ترجیح دینا چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور صدر آصف علی زرداری کا ویژن ہے,حکومت سندھ اور صحافیوں کے درمیان تعاون اور اشتراک کی متعدد مثالیں موجود ہیں،پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت نے عوامی مفادات اور جمہوری نظریات کے حصول کے لیے ہمیشہ آزاد صحافت کی وکالت کی ہے، حکومتوں کو جوابدہ بنانے اور احتساب و شفافیت کو یقینی بنانے میں صحافی بھائیوں کا ہمیشہ اہم کردار رہا ہے،

    آزاد میڈیا کے بغیر مضبوط جمہوریت اور موثر انصاف کا تصور نا ممکن ہے، خالد مسعود سندھو
    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے یومِ صحافت کے دن کے موقع پر صحافی برادری کے نام اپنے پیغام میں کہا ہے کہ صحافتی برادری ریاست کے چوتھا ستون کی اہمیت رکھتی ہے اور ملک میں مظلوم کی آواز کو حاکم تک پہنچانے کا سب سے معتبر طریقہ آزادی صحافت ہے ، آزادی صحافت ہی جمہوریت اور انصاف کی بنیاد ہے اور انسانی حقوق کی جان ہے آزادی صحافت کے لئے صحافیوں کی جدوجہد اور بے شمار قربانیاں لائق تحسین ہیں،پاکستان صحافیوں کے لیے خطرناک ترین ممالک میں سے ایک ہیں جہاں آئے روز صحافیوں پر تشدد اور ان کو شہید کیا جاتا ہے آزاد میڈیا کے بغیر مضبوط جمہوریت اور موثر انصاف کا تصور نا ممکن ہے، معاشرے کی اجتماعی اصلاح اور قوم کو اجتماعی شعور دینے میں میڈیا اور صحافیوں کا کردار ہمیشہ سے بہترین رہا ہے صحافت کے اس اہم کردار کے پیش نظر پاکستان مرکزی مسلم لیگ میڈیا کی مکمل آزادی پر نہ صرف یقین رکھتی ہے بلکہ اس مقصد کے لئے صحافیوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے اور اپنے دورِ حکومت میں صحافیوں کے لیے نٸی ہاٶسنگ سوساٸٹیوں و دیگر تمام سہولیات کو فراہم کرنے کا وعدہ کرتی ہے تاکہ صحافی برادری کی معاشی پریشانیوں میں خاطر خواہ کمی ہو سکے

    آزادی صحافت کےلئے احساس ذمہ داری ضروری امرہے۔وزیراعلیٰ پنجاب
    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے آزادی صحافت کے عالمی دن پر آزاری اظہار کے لئے کوشاں صحافیوں کو خراج تحسین پیش کیا،وزیر اعلیٰ مریم نواز نےآزادی اظہار کیلئے شہید ہونے والے برصغیر کے پہلے صحافی مولوی محمد باقر کو سلام پیش کیا،وزیر اعلیٰ مریم نواز نےدور آمریت میں حریت فکر کا علم بلند کرنے والے ہر صحافی کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ میڈیا نے اجتماعی شعور بیدار کرنے کیلئے ناقابل فراموش کردار ادا کیا۔مثبت تبدیلی کے لئے آزادی صحافت کےلئے احساس زمہ داری ضروری امرہے۔ شفافیت ،صحت مند جمہوریت اور باشعور عوام کے لئے اذادی اظہار ضروری امر ہے۔حکومت پنجاب صحافت اور صحافیوں کی فلاح و بہبود کیلئے ممکنہ اقدامات کر رہی ہے۔

    موجودہ دور صحافت اور صحافیوں کے لئے مشکل ترین دور ہے،جان محمد رمضان
    پی ایف یو جے آفیشل کے صدر جان محمد رمضان کا کہنا ہے کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج آزادی صحافت کا دن منایا جا رہا ہے، اقوام متحدہ کی جانب سے 3 مئی کو ہر سال آزادی صحافت کا دن منایا جاتا ہے، جس کا مقصد صحافت کے بنیادی اصولوں کی موجودہ صورتحال پر اعتماد کا اظہار کرنا اور دنیا میں صحافت کی موجودہ صورتحال کی شکل کو پیش کرنا ہے، اس دن کو منانے کا مقصد صحافتی فرائض کے دوران قتل،زخمی یا متاثر ہونے والے صحافیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی اور انہیں خراج عقیدت و تحسین پیش کرنا ہے، صحافت آزادی رائے کا اظہار اور ریاست کے چار ستونوں میں سے ایک اہم ستون ہے،مگر آج ریاست کا یہی ستون نازک دور سے گزر رہا ہے اور اسے کئی چیلنجز کا سامنا ہے، انقلابی رہنما نیلسن منڈیلا نے کہا تھا کہ صحافت جمہوریت کا ستون ہے،خیالات و نظریات کا آزادانہ اظہار اور تنقید و اختلاف رائے کا حق کسی بھی جمہوری معاشرے کے بنیادی اصول ہوتے ہیں، صحافی اور صحافت کی ایک کٹھن تاریخ ہے لیکن موجودہ دور صحافت اور صحافیوں کے لئے مشکل ترین دور ہے جو تمام صحافیوں کو متحد ہوکر ان چیلنجز سے نمٹنا ہوگا

    حقوق کے ساتھ ساتھ صحافتی قدروں اور خبر کی تصدیق کو بھی مدِنظر رکھنا چاہیئے،شازیہ مری
    آزادی صحافت کے عالمی دن پر پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی ترجمان شازیہ مری کا کہنا ہے کہ آزادیِ صحافت کیلے جدوجہد پر تمام صحافیوں کو سلام پیش کرتے ہیں،کٹھن اور مشکل مراحل کے باوجود پاکستان کے صحافیوں نے حق اور سچ کا علم بلند رکھا، سلام ہے ان صحافیوں کو جنہوں نے آمرانہ دور میں سچ لکھنے پر کوڑے کھائے، آمریت کے خلاف جدوجہد میں جیلیں کاٹنے اور کوڑے کھانے والے صحافیوں کو تاریخ ہمیشہ سنہری حروف میں یاد رکھے گی، جن صحافیوں نے سچ کی تلاش میں اپنی جانیں گنوا دیں انہیں سرخ سلام پیش کرتے ہیں، ملک میں جمہوریت اور آئین کی بحالی کے لیئے صحافیوں نے ہمیشہ ہراول دستےکا کردار ادا کیا، آزادیِ اظہارِ رائے اور صحافیوں کے جائز حقوق پر پیپلز پارٹی کا موقف ہمیشہ ایک رہا ہے، آزادیِ اظہارِ رائے پر کوئی سمجھوتا برداشت نہیں، آزادیِ اظہارِ رائے کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے زمہ داری سے سچ کو سامنے لانے والے صحافی خراج کے مستحق ہیں، حقوق کے ساتھ ساتھ صحافتی قدروں اور خبر کی تصدیق کو بھی مدِنظر رکھنا چاہیئے،پیپلز پارٹی مشکل کی ہر گھڑی میں اپنے صحافی بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ کھڑی رہی ہے اور ہمیشہ کھڑی رہے گی،

    حکومتی نااہلی،سماعت سے محروم سینکڑوں بچوں کا مستقل معذور ہونے کا خدشہ

    معذوری کا شکار طالبات کی ملی دارالاطفال گرلز ہائی سکول راجگڑھ آمد،خصوصی تقریب

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    وفاقی حکومت کی طرف سے پاکستان بیت المال کو سماعت وگویائی سے محروم بچوں کے لیے فنڈز نہ مل سکے ،

    سماعت سے محروم بچے چلا رہے ہیں ریسٹورینٹ، صدر مملکت بھی وہاں پہنچ گئے، کیا کہا؟

    ویلڈن پاک فوج، سماعت سے محروم افراد سننے اور بولنے لگے

    چلڈرن ہسپتال کا کوکلیئر امپلانٹ کے تمام اخراجات برداشت کرنے کافیصلہ،ڈاکٹر جاوید اکرم

    صحافی اور صحافتی اداروں کو غیرقانونی دباؤ سے آزاد کریں، ایسوسی ایشن آف الیکٹرانک میڈیا ایڈیٹرز اینڈ نیوز ڈائریکٹرز
    آزادی صحافت کے عالمی دن کے موقع پر ایسوسی ایشن آف الیکٹرانک میڈیا ایڈیٹرز اینڈ نیوز ڈائریکٹرز کا کہنا ہے کہ پاکستان میں صحافی اور صحافتی ادارے کٹھن حالات سے گزر رہے ہیں، ریاستی اور غیر ریاستی عناصر کی جانب سے ٹیلی ویژن پروگراموں کو رکوانا نشریات بند کرانا، صحافیوں کی برطرفی کیلئے غیرضروری دباؤ غیر قانونی مطالبات سمیت انہیں متعدد پابندیوں اور چینلجز کا سامنا رہا ہے اور اس میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ صحافیوں بالخصوص خواتین صحافیوں کی کردار کشی بھی اسی مہم کا حصہ ہے جس میں سیاسی جماعتوں کے کارکنان بھی شامل ہیں، ان تمام چیزوں کا مقصد صحافیوں کو دباؤ میں لاکر اظہار رائے پر قدغن لگانا ہے،صحافیوں کو ایف آئی اے اور دیگر اداروں کی جانب سے نوٹسز کا اجرا اور سوشل میڈیا پر غیرقانونی پابندیاں، اہم مواقع پر موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بند کرنا، متعدد سیاسی اور غیرسیاسی سرگرمیوں کی کوریج رکوانا، پیمرا کے غیر قانونی نوٹسز سب کا مقصد عوام کو معلومات کے حق سے محروم رکھنا ہے جو جمہوری معاشروں کی روح کے صریحاً خلاف ہے، صحافیوں کے اغوا،جبری گمشدگیوں اور جھوٹے مقدمات کی بھی ایک طویل فہرست ہے جس سے ملک میں صحافیوں کو درپیش چیلنجز کی عکاسی ہوتی ہے،پاکستان صحافیوں کیلئے ان خطرناک ترین ممالک میں شامل ہے جہاں اپنے فرائض کی ادائیگی کے دوران متعدد صحافی شہید اور تاحیات معذوری کا شکار ہوئے، ان تمام صحافیوں کی قربانیوں نے ہمارے ارادوں اور عزم کو مزید مستحکم کیا ہے، آزاد اور ذمہ دار میڈیا ریاست، اس کے تمام اداروں اور عوام کے مفاد میں ہے، میڈیا پر قدغنیں لگانے والوں کو پچھتاوے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا اور تاریخ کا یہ سبق سب کو یاد رکھنا چاہیے،ایمنڈ نے صدر اور وزیراعظم سمیت تمام ریاستی اداروں اور سیاسی جماعتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ ملک میں اظہار رائے کی آزادی کو یقینی بنانے کیلئے اپنا کردار ادا کریں، پرنٹ، الیکٹرانک اور بالخصوص سوشل میڈیا سے متعلق کسی بھی قانون سازی سے قبل ایڈیٹرز، نیوز ڈائریکٹرز اور صحافتی تنظیموں سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیں اور غیرقانونی اور غیر آئینی اقدامات کا راستہ بند کریں، صحافی اور صحافتی اداروں کو غیرقانونی دباؤ سے آزاد کریں تاکہ وہ غیرجانب دارانہ اور شفاف ماحول میں اپنے فرائض سرانجام دے سکیں۔

    صحافی برادری کے ساتھ مل کر تعلیمی چیلنجز کا احاطہ کریں گے۔ وزیر تعلیم
    وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے آزادی صحافت کے عالمی دن کے موقع پر پاکستانی صحافیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی صحافی اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر پیشہ ورانہ امور سرانجام دے رہے ہیں۔ پاکستان کے تعلیمی و دیگر مسائل اجاگر کرنے کے حوالے سے صحافیوں کے کردار کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے ملاقات کے دوران انہوں نے مزید کہا کہ تعلیمی و دیگر مافیا کے خطرات کے باوجود صحافی بے باک انداز میں مسائل اجاگر کرتے ہوئے ارباب اختیار کی توجہ مبذول کروا رہے ہیں۔ وزیر تعلیم نے کہا کہ پریس فریڈم کے چیلنجز کے باوجود میڈیا ورکرز کی رپورٹنگ ارباب اختیار کیلئے معاون ثابت ہو رہی ہے۔ انہوں نے فرائض کی ادائیگی میں شہید ہونے والے میڈیا ورکرز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے مزید کہا کہ صحافیوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانے کیلئے کوشاں ہیں۔ وزیر تعلیم نے میڈیا ورکرز سے تعلیمی و سماجی مسائل اجاگر کرنے اور ان مسائل کے حل کیلئے حکومت کا ساتھ دینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ صحافی بھائیوں کے ساتھ مل کر تعلیمی چیلنجز کا احاطہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی اصلاحات لانے کیلئے تمام سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کر رہے ہیں۔ اس ضمن میں صحافی برادری کی آراء کا بھی خیر مقدم کیا جائے گا۔ وزیر تعلیم نے تعلیمی ایشو کو ہائی لائٹ کرنے کے حوالے سے تعلیمی رپورٹرز کی کاوشوں کو بھی سراہا اور کہا کہ ایجوکیشن رپورٹرز کے ساتھ مل کر تعلیمی نظام میں درستی لائی جائے گی۔

    صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کےلیے اقدامات عمل میں لائے جائیں،فیصل آباد یونین آف جرنلسٹس
    فیصل آباد یونین آف جرنلسٹس کے زیراہتمام عالمی یوم آزادی صحافت کے حوالے سے ریلی نکالی گئی جس کی قیادت گروپ لیڈر ایف یو جے و مرکزی نائب صدر پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس رانا حبیب الرحمٰن، ممبر فیڈرل ایگزیکٹو کونسل معراج ملک، صدر فیصل آباد یونین آف جرنلسٹسں ساجد خاں، جنرل سیکرٹری میاں کاشف فرید، سابق صدر غلام دستگیر، خاورشفیق رندھاوا نے کی۔اس موقع پر نائب صدور خادم حسین گل، عبدالصبور، جوائنٹ سیکرٹری رباب چیمہ، انفارمیشن سیکرٹری میاں محمد ذیشان، ایگزیکٹو ممبران رانا راشدالعارفین، ظفراللہ خاں، سکندر بٹ، حمزہ شیخ، عدیل مان، ابرار اعوان، محمود احمد، ملک عرفان، شکیل جاوید، اخترعباس اختر، میاں رمضان، اشرف خاں، ملک ظہور، آصف سخی ممبران امنان راجپوت، رانا فیصل، شاہد بٹ، رانا عمران ودیگر نے شرکت کی۔ ریلی ایف یو جے کیمپ آفس سے شروع ہوکر چوک گھنٹہ گھر اختتام پذیر ہوئی۔ اس موقع پر گروپ لیڈر و مرکزی نائب صدر پی ایف یو جے رانا حبیب الرحمٰن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں 3 مئی عالمی یوم آزادی صحافت کا دن صحافیوں کو خراج تحسین پیش کرنے کےلیے منایا جاتا ہے مگر افسوس کہ ملک پاکستان میں ریاست کے چوتھے ستون صحافت کو مکمل آزادی حاصل نہیں ہے صحافیوں کو اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران تشدد کا نشانہ بنانے اور ڈرانے دھمکانے کے ساتھ ساتھ انکے خلاف جھوٹے و بے بنیاد مقدمات درج کیے جاتے ہیں لیکن ہمارے صحافی بھائی تمام تر خطرات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے دلیری اور بہادری کیساتھ حق، سچ کو بلند کررہے ہیں جبکہ حق کا ساتھ دینے پر آج تک فیصل آباد سمیت دنیا بھر میں درجنوں صحافیوں کو ناحق قتل بھی کیا گیا ہے۔ ان تمام تر مشکلات کے باوجود پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے قائدین رانا عظیم اور جی ایم جمالی کی قیادت میں ایف یو جے نے ہمیشہ صحافت پر قدغن لگانے والوں کیخلاف بھرپور مزاحمت کی جس کے باعث آج ہم ایک جگہ پر یکجا نظر آرہے ہیں۔ صدر ایف یو جے ساجد خاں نے کہا کہ موجودہ حالات کے تناظر میں صحافت دن بدن خطرات سے دوچار ہورہی ہے صحافیوں کیجانب سے کرپشن اور بے ضابطگیوں کو بے نقاب کرنے پر کرپٹ عناصر اور مافیا کیطرف سے ان کی منشاء کے مطابق حقائق کو دکھانے اور بیان کرنے کےلیے دباؤ ڈالا جاتاہے گزشتہ دنوں بھی ایف یو جے کے جوائنٹ سیکرٹری عبد الباسط راجپوت نے تھانہ پیپلزکالونی کی ذیلی چوکی طارق آباد کے انچارج رانا ساجد کی خلاف قانون ملزم کو تشدد کا نشانہ بنانے اور مبینہ رشوت وصول کرکے اسے چھوڑنے کی خبر نشر کی جس پر چوکی انچارج نے صحافی کو ہراساں کرنے کےلیے رپٹ درج کردی جس کی وجہ سے ایف یو جے کے ممبران سمیت صحافی برادری میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے مگر ہم اپنے اتحاد اور اتفاق سے ان اوچھے ہتھکنڈوں کو ناکام بنادیں گے جبکہ صحافی برادری جرات کیساتھ عام آدمی کی آواز بلند کرتے رہیں گے۔ جنرل سیکرٹری میاں کاشف فرید نے کہا کہ ریاست کے چوتھے ستون صحافت کی آزادی کےلیے حکومت کیطرف سے قانون سازی تو کی جاتی ہے مگر ان قوانین پر عمل در آمد نہیں کیاجاتا جس کے نتیجہ میں آئے روز صحافیوں پر تشدد کے واقعات رونما ہورہے ہیں اور صحافیوں کیخلاف گھیرا تنگ کیا جارہا ہے۔ ہم حکومت وقت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کےلیے اقدامات عمل میں لائے جائیں۔
    media fsd

  • سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا اور افواہوں کا تدارک ضروری ہے،وزیر اطلاعات

    سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا اور افواہوں کا تدارک ضروری ہے،وزیر اطلاعات

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا اور افواہوں کا تدارک ضروری ہے

    وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل حقوق کے تحفظ کے لئے کام ضروری ہے.وزیر اعظم شہباز شریف کا دورہ سعودی عرب انتہائی کامیاب دورہ رہا،سعودی کاروباری شخصیات کا ایک بڑا وفد پاکستان آ رہا ہے، دہائیوں میں اتنا کامیاب دورہ سعودی عرب کا نہیں دیکھا گیا. سعودی وزراءکے ساتھ میٹنگز کا سلسلہ دو دن جاری رہا. دو دن میں سعودی عرب کے وزراءاور اہم شخصیات سے 12 اعلیٰ سطحی اجلاس ہوئے. تمام افراد نے پاکستان کے ساتھ کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا. ایک ماہ کے اندر وزیراعظم کی سعودی ولی عہد سے دو ملاقاتیں ہوئیں. عید کے فوری بعد سعودی وزیر خزانہ اپنے متعلقہ وزراءکے ساتھ پاکستان آئے اور یہاں سرمایہ کاری کے حوالے سے بات چیت ہوئی. حالیہ دورہ سعودی عرب کے بعد اگلے چند روز میں سعودی کاروباری شخصیات کا ایک بڑا وفد پاکستان آ رہا ہے. سعودی ولی عہد کی ہدایت پر سعودی وزراءنے پاکستان کے لئے جامع پروگرام مرتب کیا. پاک سعودی تعلقات کے اندر ایک نیا آغاز ہے. وزیراعظم کے تاریخی دورہ کے نتائج آنا شروع ہو گئے ہیں. اگلے چند روز میں سعودی عرب کا اعلیٰ اختیاراتی وفد پاکستان آ رہا ہے. یہ ہماری کامیاب خارجہ پالیسی کا نتیجہ ہے. وفود کے تبادلوں کا سلسلہ جاری رہے گا.

    وفاقی وزیر عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر آن لائن ہراسمنٹ اور فیک نیوز کے حوالے سے ایک مہم دیکھنے میں آئی. ایسی مہمات کے حوالے سے حکومت کو تجاویز دی جائیں. آن لائن سمیت ہر قسم کی ہراسمنٹ کا خاتمہ ضروری ہے. آن لائن ہراسمنٹ کے تدارک کے لئے عوام مخصوص اتھارٹی کا مطالبہ کر رہے ہیں. ڈیجیٹل حقوق کے تحفظ کے لئے اس وقت کوئی قانون موجود نہیں. ڈیجیٹل حقوق کے تحفظ کے لئے کام ضروری ہے. سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا اور افواہوں کا تدارک ضروری ہے. سوشل میڈیا پر ٹرینڈز کی روک تھام کے لئے اقدامات ضروری ہیں. ڈیجیٹل رائٹس کو سمجھنے کے لئے عوام کو آگاہی دینا ہوگی،

    وزیراعظم نے ایف بی آر میں اصلاحات کا بیڑا اٹھایا ہے، وزیر قانون
    وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں تبادلوں پر بہت شور مچا ہے، پوسٹنگ ٹرانسفر میرٹ پر کی جا رہی ہے،اس ساری کارروائی میں مقصد کسی کو کرپٹ ثابت کرنا نہیں،وزیراعظم نے ایف بی آر میں اصلاحات کا بیڑا اٹھایا، ٹیکس چوری، اسمگلنگ اور انوائسنگ کے مسائل ہیں، 2700 ارب روپے سے زائد ٹیکس کیسز عدالتوں میں زیرِ التوا ہیں، عدالتوں میں زیر التوا ٹیکس سے متعلق کیسوں کے فوری فیصلے ہونے چاہئیں ، پارلیمنٹ نے ٹیکس ٹربیونل سے متعلق پہلا قانون پاس کیا ہے، قانون کے تحت 2 کروڑ والے معاملے کمشنر کے پاس جائیں گے، دو کروڑ روپے سے اوپر کے معاملات ٹربیونل میں جائیں گے،آئی ایم ایف ٹیکس چوری روکنے کا کہتا ہے، آئی ایم ایف کہتا ہے محکموں کی گورننس بہتر کریں

    دوسری جانب حکومت نے ڈیجیٹل حقوق کے تحفظ کے لیے قانون سازی کا فیصلہ کیا ہے،اس ضمن میں وزیراعظم شہباز شریف سے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور وزیر اطلاعات عطاء تارڑ کی ملاقات ہوئی ہے، وزیراعظم نے دونوں وفاقی وزراء سے ڈیجیٹل حقوق کے تحفظ پر بل لانے سے متعلق مشاورت کی، ڈیجیٹل حقوق کے تحفظ سے متعلق قانون سازی کے لیے مسودہ تیار کر لیا گیا ہے، بل جلد پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا، ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ ڈیجیٹل رائٹس کی خلاف ورزی روکنے کے لیے موزوں فورم نہیں ہے اسی لئے حکومت نے ڈیجیٹل حقوق کے تحفظ کے لیے پارلیمنٹ کے ذریعے قانون سازی کا فیصلہ کیا ہے

  • اسرائیل کا پیسہ استعمال کرنیوالے عمران خان نے ایمانداری کا ماسک لگایا ہوا تھا،شرجیل میمن

    اسرائیل کا پیسہ استعمال کرنیوالے عمران خان نے ایمانداری کا ماسک لگایا ہوا تھا،شرجیل میمن

    پیپلز پارٹی کے رہنما سندھ کے سینئر صوبائی وزیر،وزیراطلاعات شرجیل انعام میمن کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف ٹی آئی سوشل میڈیا کی دہشتگرد جماعت ہے

    شہر قائد کراچی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ پاکستان کیخلاف سازش میں عمران خان کا بڑا کردار ہے،جس شخص کا ٹریک ریکارڈ اچھا نہیں تھا اس کو وزیراعظم بنا کر مسلط کیا گیا،عمران خان نے ایک ارب روپے ہیلی کاپٹر کے استعمال پر خرچ کئے، عمران خان نے ایمانداری کا ماسک لگایا ہوا تھا تاہم اس نے بھارت اور اسرائیل کے پیسے سیاست میں استعمال کئے،تحریک انصاف نے نوجوان نسل کے ذہنوں میں زہر گھولا، تحریک انصاف کے ٹرولز نے اداروں، افراد اور فیملیز کیخلاف ٹرولنگ کی،عمران خان کے پاس سازشی ٹول ہے، اس نے جنرل باجوہ کو کہا تھا کہ تاحیات توسیع دینے کو تیار ہوں،اس نے جنرل باجوہ اور ادارے کیخلاف سازش شروع کی

    شرجیل میمن کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی سوشل میڈیا کی دہشتگرد جماعت ہے، پی ٹی آئی نے جھوٹے پروپیگنڈا کرائے ،تحریک انصاف نے پارلیمنٹ میں شرمناک رویہ اختیار کیا گالم گلوچ کی،عمران خان اداروں کو بلیک میل کررہا ہے،عمران خان کے خلاف اوپن اینڈ شٹ کیسز ہیں،الزام لگایا جارہا ہے بیوی کو زہر دیا گیا، میڈیکل رپورٹ کچھ اور بتا رہی ہے، ایک سزا یافتہ ملزم جیل بیٹھ کر ٹکٹیں بانٹ رہا ہے،جیل میں بیٹھ کر وزیراعلیٰ سے ملاقاتیں کررہاہے،یہ شخص انتخابات کیلئے جیل میں بیٹھ کر امیدوار چن رہا ہے۔

    دوسری جانب تحریک انصاف کی جانب سے عمران خان کی رہائی کیلئےریلی کے انعقاد پر شہر قائد کراچی کی ٹیپو سلطان پولیس نے تین رہنماؤں سمیت 80 سے 90 کارکنوں کے خلاف مقدمہ درج کرلیا، مقدمے میں ہنگامہ آرائی، بلوا، املاک کو نقصان پہنچانے سمیت دیگر دفعات شامل کی گئی ہیں جبکہ مقدمہ الزام نمبر 136/2024 سرکار مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔مقدمے میں پی ٹی آئی کے رہنما فہیم خان، عطا اللہ اور عالمگیر نامزد کیا گیا ہے،ایف آئی آر کے متن میں کہا گیاہے کہ پولیس انصاف ہائوس کے باہر شاہراہ فیصل پر سیکیورٹی کے لئے موجود تھی،پی ٹی آئی رہنماؤں نے کارکنوں کے ہمراہ شاہراہ فیصل، ائیرپورٹ سے صدر جانے والا ٹریک بلاک کیا،گزرنے والی گاڑیوں پر پتھراؤ کیا گیا،پولیس نے حکمت عملی سے کارکنوں کو منتشر کیا

    مریم نواز کا آٹھ سو کا سوٹ،لاہوری صحافی نے عظمیٰ بخاری سے مدد مانگ لی

    مریم نواز تو شجر کاری مہم بھی کارپٹ پر واک کرکے کرتی ہے،بیرسٹر سیف

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    مہنگائی،غربت،عید کے کپڑے مانگنے پر باپ نے بیٹی کی جان لے لی

    پسند کی شادی کیلئے شوہر،وطن ،مذہب چھوڑنے والی سیماحیدر بھارت میں بنی تشدد کا نشانہ

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

  • سوشل میڈیا پر دوستی،پھر عریاں تصاویر،پھر زیادتی،کم عمر لڑکیاں‌بنتی ہیں زیادہ شکار

    سوشل میڈیا پر دوستی،پھر عریاں تصاویر،پھر زیادتی،کم عمر لڑکیاں‌بنتی ہیں زیادہ شکار

    سوشل میڈیا کا استعمال، کم عمر لڑکیوں کے ساتھ زیادتی کی وجہ بن رہا ہے، والدین بچوں کی نگرانی و تریبت کریں،ملائشین پولیس نے کم عمر لڑکیوں کے ساتھ زیادتی کے بڑھتے واقعات پر والدین کو مشورہ دے دیا

    ملائشیا میں پچھلے تین سالوں میں کم عمر لڑکیوں کے ساتھ عصمت دری کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور پولیس کا خیال ہے کہ ان میں سے زیادہ تر کی ابتدا سوشل میڈیا کے ذریعے ہوئی جس میں واٹس ایپ جیسی چیٹ ایپلی کیشنز بھی شامل ہیں۔پولیس افسر سیتی کمسیہ حسن جو خواتین اور بچوں کے حوالہ سے ہونے والے جرائم کو دیکھتی ہیں کا کہنا ہے کہ جن بچیوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات پیش آئے انہوں نے بتایا کہ سوشل میڈیا کے ذریعے ہی رابطہ ہوا تھا،

    زیادتی کا شکار ہونے والی کم عمر لڑکیوں کی اکثریت نے تفتیشی افسران کو بتایا کہ وہ ذاتی طور پر ملنے سے پہلے مجرموں کو سوشل میڈیا جیسے آن لائن چیٹ فورم کے ذریعے جانتی تھیں۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان لڑکیوں کی سوشل میڈیا پر ان ملزمان کے ساتھ بات چیت ہوئی، دوستی ہوئی پھر ملزمان کی جانب سے ڈیمانڈ پر لڑکیاں عریاں تصاویر بھیجتی رہیں۔ اس کے بعد ملاقات کا مرحلہ آتا ہے جس کے نتیجے میں ان لڑکیوں کی عصمت دری کی جاتی ہے،

    پولیس کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 2021 میں کم عمر لڑکیوں کے ساتھ ریپ کے 1,299 واقعات رپورٹ ہوئے، جو 2022 میں بڑھ کر 1,388 اور 2023 میں 1,590 ہو گئے۔ کم عمر لڑکیوں کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کے واقعات بھی بڑھتے ہوئے رحجان پر ہیں، 2021 میں 61 واقعات رپورٹ ہوئے، جبکہ 2021 میں یہ تعداد 120 تھی۔ اور 2023 میں 104۔

    سیتی کامسیہ کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا کا استعمال بچوں کے جنسی استحصال کے مواد کو اسی جنسی رجحان والے دوسرے افراد تک پھیلانے کے لیے بھی کیا جاتا ہے۔ گرومنگ کے مسئلے سے نمٹنے میں والدین کا کردار بہت اہم ہے۔بچوں میں سائبر کی دنیا میں حدود طے کرنے کی ضرورت پیدا کریں۔ انہیں یاد دلائیں کہ وہ آزادانہ طور پر کسی سے بات چیت نہ کریں یا ان کے رسم و رواج، ثقافتوں اور مذاہب کی طرف سے ممنوعہ کاموں میں ملوث نہ ہوں۔انہوں نے والدین کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے بچوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں، خاص طور پر ٹیلی کمیونیکیشن گیجٹس اور آلات کے استعمال میں۔ سب سے اہم بات، والدین کو اپنے بچوں میں مضبوط اقدار کو فروغ دینا چاہیے تاکہ وہ کسی بھی ایسی سرگرمی سے باز آجائیں جو اخلاقی اور مذہبی اصولوں کے خلاف ہو۔

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    سوشل میڈیا پر رابطہ،دبئی ویزے کے چکر میں خاتون عزت لٹوا بیٹھی

    مذہبی، مسلکی، لسانی منافرت پھیلانے والے 462 سوشل میڈیا اکاونٹس بند

    غریدہ فاروقی کیخلاف سوشل میڈیا پر مہم، حکومت کا نوٹس

    عدالت کا سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے فحش مواد ہٹانے کا حکم

    اس کے ساتھ ساتھ، والدین کو اپنے بچوں کی خود آگاہی میں اضافہ کرنا چاہیے تاکہ وہ جدید ترین مواصلاتی آلات کا استعمال کرتے ہوئے پیڈو فائلز کے استحصال سے بچ سکیں۔بچوں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ان کی فلاح و بہبود کے لیے کیا خطرہ ہے اور اپنی حفاظت کیسے کی جائے،

    شہر یار آفریدی پی ٹی آئی قیادت پر پھٹ پڑے

    ایک اور مدرسہ، ایک اور جنسی سیکنڈل،ایک دو نہیں ،کئی بچوں سے بدفعلی

    واش روم میں نہاتی خاتون کی موبائل سے ویڈیو بنانے والا پولیس اہلکار پکڑا گیا

    گھناؤنا کام کرنیوالی خواتین پولیس کے ہتھے چڑھ گئیں

    پشاور کی سڑکوں پر شرٹ اتار کر گاڑی میں سفر کرنیوالی لڑکی کی ویڈیو وائرل

    دولہا کے سب ارمان مٹی میں مل گئے، دلہن نے کیوں کیا اچانک انکار؟

    شادی شدہ خاتون سے معاشقہ،نوجوان کے ساتھ کی گئی بدفعلی،خاتون نے بنائی ویڈیو

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ مبشر لقمان کے جہاز تک کیسے پہنچی؟ حقائق مبشر لقمان سامنے لے آئے