Baaghi TV

Tag: سوشل میڈیا

  • ڈیٹنگ سائٹس،سوشل میڈیا،اپنے پیسے”دل” کو کیسے دھوکہ بازوں سے بچائیں؟

    ڈیٹنگ سائٹس،سوشل میڈیا،اپنے پیسے”دل” کو کیسے دھوکہ بازوں سے بچائیں؟

    آن لائن ڈیٹنگ سائٹس،سوشل میڈیا پر دھوکہ ہی دھوکہ، دھوکہ بازوں نے کئی خواتین کو لوٹ لیا،

    ڈیٹنگ ویب سائٹس اور سوشل میڈیا کا فائدہ اُٹھا کر دھوکہ باز اپنے فائدے کے لیے لوگوں سے روابط قائم کرتے ہیں۔ بعد ازاں آن لائن لوٹ مار کرتے ہیں،ڈیٹنگ ایپس پر "اعتماد کا دھوکہ” اُس وقت ہوتا ہے جب کوئی فراڈی شخص اپنی شناخت چھپاتے ہوئے، ایک جعلی آن لائن پروفائل بنا کر اپنے شکار کو ایک رومانی تعلق کے تحت اپنے اعتماد میں لیتا ہے۔ ایک بار یہ تعلق قائم ہونے کے بعد، اکثر متعدد افراد کے ساتھ آن لائن روابط استوار کرنے کے بعد، فراڈی شخص اپنے شکار کو ذاتی معلومات فراہم کرنے کے لیے مجبور کرتا ہے تاکہ وہ ان کی شناخت چوری کر سکے یا پھر پیسے مانگے۔

    اگر آپ جاننا چاہتے ہیں کہ کس طرح اپنے پیسے اور دل کو دھوکہ دہی سے بچایا جا سکتا ہے، تو سب سے اہم بات یہ ہے کہ کبھی بھی کسی ایسے شخص کو پیسے یا گفٹ کارڈ نہ بھیجیں جس سے آپ نے پہلے کبھی ملاقات نہ کی ہو۔ یہ درخواست ایک اسکیم کی نشانی ہو سکتی ہے۔

    ڈیٹنگ ایپس اور سوشل میڈیا پر بات چیت کے دوران ان علامات کو نظر انداز نہ کریں
    ملک سے باہر رہنے یا کام کرنے کا دعویٰ
    اگر آپ کا نیا دوست یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ کسی فوجی دستے کا حصہ ہے اور بیرون ملک تعینات ہے، یا پھر وہ تیل کی کسی پلیٹ فارم پر کام کرتا ہے یا بین الاقوامی تنظیم کے لیے ڈاکٹر ہے، تو یہ ایک اہم اشارہ ہو سکتا ہے کہ آپ کسی جعلساز کے ساتھ بات کر رہے ہیں۔ باہر کے ملک میں کام کرنے والی ملازمتیں اس کی شناخت کو تصدیق کرنا مشکل بنا دیتی ہیں۔

    جلدی محبت کا اظہار کرنا
    فراڈی شخص اکثر ابتدائی ملاقات کے چند دنوں یا ہفتوں بعد ہی "میں تم سے محبت کرتا ہوں” یا شادی کی پیشکش کر دیتا ہے۔ یہ دھوکہ باز جذباتی کمزوری کا فائدہ اُٹھا کر ذاتی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

    غیر مناسب تصاویر یا ویڈیوز کی درخواست کرنا
    تعلقات کی ابتداء کے بعد، آپ سے جلد ہی غیر مناسب تصاویر یا ویڈیوز مانگ سکتا ہے۔ اس کا مقصد آپ کو کسی نہ کسی طریقے سے بلیک میل کرنا یا فائل تیار کرنا ہو سکتا ہے۔

    پیسوں، گفٹ کارڈز یا دیگر تحفوں کی درخواست کرنا
    ڈیٹنگ ایپس یا سوشل میڈیا پر ملنے والا دوست،فراڈیا آپ سے پیسے بھیجنے، الیکٹرانک گفٹ کارڈز خریدنے، یا دیگر ایسی چیزوں کی درخواست کر سکتا ہے جن کا سراغ لگانا مشکل ہوتا ہے۔ یہ درخواستیں اکثر اس وقت کی جاتی ہیں جب وہ آپ سے یہ کہتے ہیں کہ انہیں بل ادا کرنے، کسی مشکل سے نکلنے یا آپ سے ملاقات کے لیے پیسوں کی ضرورت ہے۔

    اگر آپ کسی شخص کی جانب سے ان علامات میں سے کسی کا سامنا کرتے ہیں تو فوری طور پر رابطہ بند کر دیں اور اس کو رپورٹ کریں۔ آپ اپنے علاقے کے پولیس اسٹیشن، ایف آئی اے ،سائبر کرائم، پی ٹی اے کو اس دھوکہ دہی کی اطلاع دے سکتے ہیں۔ اگر آپ نے پیسہ یا گفٹ کارڈ بھیجے ہیں، تو اپنی تمام بات چیت کے ریکارڈ (ای میل، ٹیکسٹ میسجز، ڈیٹنگ ایپ کے پیغامات وغیرہ) کو محفوظ رکھیں تاکہ پولیس تفتیش کر سکے اور دھوکہ دہی کرنے والے کا پتہ لگا سکے۔

    ڈیٹنگ ایپس یا سوشل میڈیا کے بارے میں آگاہی اور احتیاطی تدابیر پر عمل کرتے ہوئے، آپ اپنے پیسے اور دل کو دھوکہ دہی سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔

    66 سالہ خاتون "پیار” کے چکر میں ڈیٹنگ ایپس پر "لٹ” گئی

    ڈیٹنگ ایپس،ہم جنس پرستوں کے لئے بڑا خطرہ بن گئیں

    خواتین کو بیہوش کر کے جنسی زیادتی ،ویڈیو بنانے والا ڈاکٹر گرفتار

  • غلط ہے توحکومت 9 سال سے ہم سے انٹرنیٹ کیوں بند کرواتی ہے، چیئرمین پی ٹی اے

    غلط ہے توحکومت 9 سال سے ہم سے انٹرنیٹ کیوں بند کرواتی ہے، چیئرمین پی ٹی اے

    پاکستان ٹیلی کمیونیکشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے چیئرمین حفیظ الرحمان نے کہا ہے کہ آج پہلی بار پتہ چلا کہ انٹرنیٹ کی بندش غلط ہوتی ہے۔

    سینیٹر پلوشہ خان کی زیرِ صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا اجلاس ہوا، اجلاس میں وزارت آئی ٹی اور پی ٹی اے نے انٹرنیٹ کی بندش اور اس سے متعلق مسائل پر بریفنگ دی۔چیئرمین پی ٹی اے نے مزید بتایا کہ پی ٹی اے کو روزانہ سوشل میڈیا پر مواد کی 500 شکایات موصول ہوتی ہیں، جس پر پی ٹی اے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو مواد بلاک کرنے کی درخواست کرتا ہے۔ تاہم، اجلاس کے دوران مختلف سینیٹرز نے انٹرنیٹ کی بندش کے قانونی پہلوؤں پر سوالات اٹھائے اور اس حوالے سے پی ٹی اے کے موقف کو چیلنج کیا۔

    سینیٹر کامران مرتضیٰ نے اجلاس کے دوران کہا کہ "ایکٹ میں کہاں لکھا ہے کہ کسی خاص علاقے میں انٹرنیٹ بلاک کرنا ہے؟” اس پر ممبر لیگل وزارت آئی ٹی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایکٹ میں کسی خاص علاقے میں انٹرنیٹ بند کرنے کا ذکر نہیں ہے۔ اس کے بعد چیئرمین پی ٹی اے حفیظ الرحمان نے وضاحت دی کہ رولز میں یہ ذکر کیا گیا ہے کہ وزارت داخلہ پی ٹی اے کو انٹرنیٹ کی بندش کی ہدایت دے سکتی ہے۔

    سینیٹر کامران مرتضیٰ نے سوال اٹھایا کہ اگر ایکٹ میں انٹرنیٹ بند کرنے کا جواز نہیں دیا گیا تو پی ٹی اے اس عمل کو کیسے قانونی بنا سکتا ہے؟ جس پر چیئرمین پی ٹی اے نے جواب دیا کہ اگر یہ غلط ہوتا تو حکومت نو سال سے پی ٹی اے کو انٹرنیٹ بند کرنے کی ہدایت کیوں دیتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ تاریخ اور وقت بتا سکتے ہیں جب انٹرنیٹ بند کیا گیا تھا۔سینیٹر ہمایوں مہمند نے اس بات پر زور دیا کہ رولز میں صرف سوشل میڈیا پر مواد کے حوالے سے بات کی گئی ہے، تاہم انٹرنیٹ کی بندش کے بارے میں کسی واضح ذکر کا فقدان ہے۔ اس پر چیئرمین پی ٹی اے نے کہا کہ اس حوالے سے حتمی قانونی رائے وزارت قانون اور وزارت داخلہ دے سکتی ہے۔چیئرمین پی ٹی اے نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے حکم پر کئی بار سوشل میڈیا ایپس بند کی گئی ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا 8 فروری کو ہونے والے الیکشن کے دوران انٹرنیٹ کی بندش بھی غلط تھی ، سپریم کورٹ کے حکم پر انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا ایپس کو بند کیا گیا۔بلوچستان میں ڈیجیٹل ہائی وے بنانا پڑے گا،انٹرنیٹ کی فراہمی کے لئے ڈیجیٹل ہائی وے بنانے پڑیں گے جب تک ڈیجیٹل ہائی وے نہیں بنائیں گے انٹرنیٹ ٹھیک نہیں ہوگا،صوبائی حکومتوں سے درخواست کریں کہ سہولت فراہم کریں یہاں تو کام شروع کرتے ہیں لوگ عدالت میں چلے جاتے ہیں

    سینیٹر کامران مرتضیٰ نے سوال کیا کہ کیا رولز ایکٹ سے آگے جا سکتے ہیں؟ اگر سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے تو کیا وزارت نے اس پر نظرثانی دائر کی ہے؟ اس پر سیکریٹری آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام نے بتایا کہ رولز کئی سال پہلے بنے تھے اور ان میں انٹرنیٹ کی بندش کے حوالے سے کسی نئی ترمیم یا نظرثانی کی ضرورت ہو سکتی ہے۔

    اس اجلاس میں مختلف سینیٹرز اور حکومتی اداروں کے نمائندگان کے درمیان بحث کا محور انٹرنیٹ کی بندش کے حوالے سے قانون، حکومت کی ہدایات اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کے اثرات تھے۔ اس بات پر اتفاق ہوا کہ اس معاملے پر مزید قانونی وضاحت کی ضرورت ہے، جس کے لیے وزارت قانون اور وزارت داخلہ کی مشاورت ضروری ہو گی۔یہ اجلاس اس بات کا غماز ہے کہ انٹرنیٹ کی بندش اور سوشل میڈیا پر مواد کی نگرانی ایک پیچیدہ قانونی اور انتظامی مسئلہ ہے جسے واضح قوانین اور ضوابط کی ضرورت ہے تاکہ اس حوالے سے آئندہ میں کسی قسم کی ابہام کی صورتحال پیدا نہ ہو۔

    قومی اسمبلی اجلاس،پیپلز پارٹی اراکین کی سست انٹرنیٹ پر حکومت پر سخت تنقید

    انٹرنیٹ اہم ضرورت لیکن پاکستان میں اس کی اسپیڈ کم ہے،شزہ فاطمہ

    انٹرنیٹ کی بندش،سست رفتاری نے پاکستانیوں کو پریشان کر دیا

    انٹرنیٹ کی سست رفتاری کا اثر فری لانسرز پر، کام میں 70 فیصد کمی

  • سوشل میڈیا کی دوستی،بھارتی نوجوان پاکستان پہنچ گیا

    سوشل میڈیا کی دوستی،بھارتی نوجوان پاکستان پہنچ گیا

    بھارت کی ریاست اتر پردیش کے ضلع علی گڑھ سے تعلق رکھنے والے ایک 30 سالہ نوجوان بادل بابو نے سوشل میڈیا پر پاکستانی لڑکی سے محبت میں گرفتار ہو کر غیر قانونی طور پر سرحد پار کی اور پاکستان پہنچ گیا۔

    بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، بادل بابو نے فیس بک پر ایک پاکستانی لڑکی سے دوستی کی تھی، جس کے بعد وہ اس لڑکی سے ملنے کے لیے سرحد عبور کر کے پاکستان پہنچا۔ پاکستانی حکام نے اُسے گرفتار کر لیا ہے اور اس وقت اس سے تفتیش جاری ہے۔رپورٹ کے مطابق، بادل بابو نے پاکستانی حکام کو بتایا کہ اس کی ملاقات اس پاکستانی لڑکی سے فیس بک پر ہوئی تھی، اور وہ اُسی سے ملنے کے لیے پاکستان آیا تھا۔ پاکستانی حکام اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ بادل بابو نے کس طرح سرحد پار کی اور کیا اس کے پاس قانونی دستاویزات تھے یا نہیں۔

    اس واقعہ نے ایک اور بار یہ سوال اٹھایا ہے کہ سوشل میڈیا اور آن لائن پلیٹ فارمز پر ہونے والی محبتوں کے باعث لوگ اپنی زندگیوں کو خطرے میں ڈال کر سرحدوں کو پار کرتے ہیں۔یہ پہلا واقعہ نہیں ہے جب کسی نے سوشل میڈیا کے ذریعے محبت کے نتیجے میں سرحد پار کی ہو۔ اس سے پہلے بھی متعدد افراد نے ایسی محبتوں کے نتیجے میں غیر قانونی طور پر سرحد عبور کی ہیں۔ سال 2023 میں، سیما حیدر نامی پاکستانی خاتون نے پب جی گیم پر بھارتی لڑکے سے دوستی کی اور اس کے بعد وہ اپنے چار بچوں کے ساتھ نیپال کے راستے بھارت پہنچ گئیں، جس کے بعد بھارتی پولیس نے انہیں گرفتار کر لیا تھا۔

    اسی سال، 19 سالہ پاکستانی لڑکی اقرا جیوانی کی دوستی 25 سالہ بھارتی شہری ملائم سنگھ یادیو سے آن لائن گیم کے ذریعے ہوئی۔ اس دوستی کے بعد دونوں نے نیپال میں شادی کر لی۔ اس طرح کے واقعات سوشل میڈیا کی محبتوں کے حوالے سے ایک نیا رجحان بن گئے ہیں جہاں افراد اپنی زندگیوں کے فیصلے آن لائن تعلقات کے نتیجے میں کرتے ہیں۔

    پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات ہمیشہ کشیدہ رہے ہیں، اور سرحد پار محبت کی کہانیاں دونوں ممالک میں خبریں بن چکی ہیں۔ گزشتہ سال ایک بھارتی لڑکی انجو نے فیس بک پر دوستی کے بعد پاکستان آ کر دیر بالا میں پاکستانی نوجوان نصر اللہ سے نکاح کیا تھا۔ ایسے واقعات معاشرتی اور سیاسی سطح پر دونوں ممالک میں بحث کا موضوع بنتے ہیں۔

    ان واقعات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ سوشل میڈیا نے محبت اور تعلقات کے تصور کو نئی جہت دی ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان تعلقات کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مشکلات بھی سامنے آئی ہیں۔ سرحدوں کے پار جانے والے افراد کو قانونی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور بعض اوقات ان کی زندگیاں خطرے میں بھی آ جاتی ہیں۔پاکستانی حکام اس وقت بادل بابو کی تفتیش کر رہے ہیں اور یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا وہ کسی اور مقصد کے لیے سرحد پار کر کے آیا تھا یا صرف محبت کی وجہ سے ایسا کیا۔ اس واقعہ نے ایک بار پھر اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ سوشل میڈیا کا اثر افراد کی ذاتی زندگیوں پر کتنا گہرا ہوتا جا رہا ہے۔

    مری میں بارش متوقع،پنجاب میں دھند،سندھ میں موسم سرد،خشک

    جاپانی فحش فلموں کی اداکارہ کی دورہ لاہور کی تصاویر وائرل

  • ٹرمپ کی نامزد کابینہ کو بیانات دینے سے روک دیا گیا

    ٹرمپ کی نامزد کابینہ کو بیانات دینے سے روک دیا گیا

    امریکا کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کابینہ کے نامزد ارکان کو سوشل میڈیا پر بیانات دینے سے روک دیا گیا
    امریکا کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی کابینہ میں شامل ہونے والے ممکنہ ارکان کو سخت ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ اپنے ناموں کی توثیق کے عمل سے قبل سوشل میڈیا پر کسی قسم کے بیانات یا تبصرے نہ کریں۔

    یہ ہدایات ٹرمپ کی انتخابی مہم کی منیجر سوسی وائلز نے جاری کیں، جو کہ ٹرمپ کے وائٹ ہاؤس کی نئی چیف آف اسٹاف ہوں گی۔ انہوں نے ایک میمو میں کابینہ کے ارکان کو متنبہ کیا کہ وہ وائٹ ہاؤس کے نئے قانونی مشیر، ڈیوڈ وارنگٹن کی اجازت کے بغیر سوشل میڈیا پر کوئی پوسٹ یا بیان نہ دیں۔مذکورہ میمو میں کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا کے ذریعے کسی بھی غیر مناسب یا متنازعہ بیان سے بچنا ضروری ہے تاکہ کابینہ کی توثیق کے عمل میں کسی قسم کی مشکلات یا رکاوٹیں پیدا نہ ہوں۔

    یہ فیصلہ اس بات کا غماز ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اپنے نامزد کابینہ ارکان کے ہر اقدام پر سخت نگرانی رکھے گی، خاص طور پر ایسے مواقع پر جب ان کی توثیق کا عمل شروع ہونے والا ہو۔نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈیوڈ وارنگٹن کو وائٹ ہاؤس کے نئے کاونسل کے طور پر منتخب کیا ہے، جو کابینہ کے ارکان کی قانونی مشاورت کا ذمہ دار ہوں گے۔

    اس سے قبل سوشل میڈیا پر ایلون مسک اور وویک رام سوامی کے درمیان ایچ ون بی ویزا کی قانونی حیثیت پر بحث چھڑی تھی۔ مسک اور رام سوامی دونوں نے ایچ ون بی ویزا کی حمایت کی تھی، جبکہ اسٹیو بینن اور ٹرمپ کے دیگر قریبی ساتھیوں نے اس ویزا کے خلاف اپنی مخالفت ظاہر کی تھی۔ یہ بحث اس بات کو مزید پیچیدہ بناتی ہے کہ نئے کابینہ ارکان کو ایسی حساس موضوعات پر غیر رسمی بیانات دینے سے گریز کرنا ہوگا۔

    ٹرمپ کی انتظامیہ کا یہ اقدام اس بات کا اشارہ ہے کہ سوشل میڈیا کا استعمال کابینہ کے ارکان کے لیے ایک حساس مسئلہ بن چکا ہے، اور حکومت کی ساکھ کو برقرار رکھنے کے لیے یہ ضروری سمجھا جا رہا ہے کہ ہر بیان یا موقف کا بغض سے تجزیہ کیا جائے۔کابینہ کی توثیق کا عمل اگلے ہفتے شروع ہونے کا امکان ہے، اور اس وقت تک یہ ممکنہ ارکان سوشل میڈیا پر اپنی کسی بھی پوسٹ سے گریز کرتے ہوئے اپنی توثیق کی کوششوں کو سست روی سے آگے بڑھائیں گے۔

    کراچی،پولیس افسر کے بیٹے کی گاڑی کی ٹکر سے خاتون زخمی

    پاک روس مضبوط ہوتے رشتے اور امریکی پابندیاں

  • سوشل میڈیا کی دوستی،  منڈی بہاؤالدین پہنچنے والا بھارتی گرفتار

    سوشل میڈیا کی دوستی، منڈی بہاؤالدین پہنچنے والا بھارتی گرفتار

    سوشل میڈیا پر دوستی کی ایک اور حیران کن داستان سامنے آئی ہے، جہاں ہمسایہ ملک بھارت کا رہائشی مجنوں اپنی لیلیٰ کو پانے کے لیے پاکستانی سرزمین تک پہنچ گیا۔

    بھارتی شہری بادل بابو ولد کرپال سنگھ، جو کہ بھارت کے صوبہ پنجاب کے علاقے سے تعلق رکھتا ہے، سوشل میڈیا پر نواحی گاؤں مونگ کی رہائشی لیلیٰ کے ساتھ دوستی کی تھی۔بتایا گیا ہے کہ بادل بابو کی لیلیٰ کے ساتھ سوشل میڈیا پر تعلقات اتنے بڑھ گئے کہ وہ اپنی محبوبہ سے ملنے کے لیے پاکستان پہنچ آیا۔ اس نے بغیر کسی قانونی سفری دستاویزات کے پاکستان کی سرحد عبور کی اور مونگ کے قریب ایک مقام پر قیام کیا۔جب مقامی لوگوں کو اس بھارتی شہری کی موجودگی کا علم ہوا، تو انھوں نے فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی۔ پولیس تھانہ صدر نے فوری کارروائی کرتے ہوئے بادل بابو کو گرفتار کر لیا اور اسے حوالات میں بند کر دیا۔ پولیس نے اس کے خلاف فارن ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔

    مقدمہ سب انسپکٹر غلام رضا کی مدعیت میں درج کیا گیا، جس میں کہا گیا کہ گرفتار بھارتی شہری پولیس کو پاکستان میں قیام کے حوالے سے کوئی قانونی دستاویزات فراہم نہیں کر سکا۔ پولیس حکام کے مطابق بادل بابو کے خلاف کارروائی جاری ہے اور اسے قانونی کارروائی کے بعد عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

    یہ واقعہ سوشل میڈیا کے ذریعے پیدا ہونے والی محبت اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے قانونی مسائل کی عکاسی کرتا ہے، جو کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں پیچیدگیاں پیدا کر سکتے ہیں۔ پولیس حکام نے عوام کو اس بات کا مشورہ دیا ہے کہ وہ غیر قانونی طریقے سے کسی دوسرے ملک جانے کی کوشش نہ کریں، کیونکہ ایسا عمل نہ صرف قانون کے خلاف ہے بلکہ اپنی زندگی کو بھی خطرے میں ڈال سکتا ہے۔مقامی عوام اس واقعے کو ایک سنگین صورتحال کے طور پر دیکھ رہے ہیں، کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان سیکیورٹی اور سفری قوانین کی سختی کے باوجود ایسی کوششوں کا ہونا ایک سنگین نوعیت کی بات ہے۔

    جنوبی کوریا،طیارہ حادثے میں شکار مسافر کی آخری گفتگو

    سابق امریکی صدر جمی کارٹر کی وفات،جوبائیڈن سمیت سابق صدور کا اظہار تعزیت

  • سوشل میڈیا پر جھوٹا پروپیگنڈا ، 11 ملزمان کو نوٹسز جاری

    سوشل میڈیا پر جھوٹا پروپیگنڈا ، 11 ملزمان کو نوٹسز جاری

    سوشل میڈیا پر جھوٹا پروپیگنڈا ، آئی جی اسلام آباد نے11 ملزمان کو نوٹسز جاری کر دیے

    نوٹسز ملزم صبغت اللہ ورک، محمد ارشد، عطاالرحمان، اظہر مشوانی ، عروسہ ندیم شاہ ، محمد علی ملک ، شاہ زیب ورک، موسی ورک ، اکرام کٹھانہ، تقویم صدیق اور محمد نعمان افضل کو جاری کئے گئے , نوٹس میں جے آئی ٹی نے ملزمان کو 24 دسمبر کو طلب کر رکھا ہے۔ ان ملزمان نےسوشل میڈیا پر جھوٹے پروپگنڈےکے ذریعے پاکستان میں انتشار پھیلایا۔ وفاقی حکومت نے سوشل میڈیا پر جرائم کی روک تھام کے لئے ایکٹ 2016 کے سیکشن 30 کے مطابق آئی جی پولیس کے ماتحت ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل دی۔ جے آئی ٹی ملزمان اور ان کے ساتھیوں کے پسِ پردہ مقاصد کا تعین کرنے کے لیے معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔ مزید مجرموں کی شناخت اور ان کے خلاف قابل اطلاق قوانین کے تحت کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔ جے آئی ٹی کے پاس ملزمان کے خلاف ٹھوس شواہد بھی موجود ہیں۔

    سوشل میڈیا کے غلط استعمال میں پی ٹی آئی کے لیڈر کا ہاتھ ہے،شرجیل میمن

    قرآن کے نام پر سوشل میڈیاپر فراڈ

    نازیبا ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ٹک ٹاکر مناہل ملک کی سوشل میڈیا پر واپسی

    سوشل میڈیا پر نازیبا تصاویر کے ذریعےخاتون کو بلیک میل کرنیوالا گرفتار

    سوشل میڈیا پر پروپیگنڈہ، ایف آئی اے متحرک،154مقدمے،30 گرفتار

  • ایک اور ملک کا ٹک ٹاک پر پابندی کا اعلان

    ایک اور ملک کا ٹک ٹاک پر پابندی کا اعلان

    البانیہ کی حکومت نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹک ٹاک پر پابندی لگانے کا اعلان کر دیا۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق رپورٹ کے مطابق گزشتہ ماہ ایک نوجوان طالب علم نے اپنے ساتھی کو چاقو کی وار کر کے قتل کر دیا تھا۔ جس کی وجہ ٹاک ٹاک تھی۔ جھگڑے کا آغاز ٹک ٹاک پر ہونے والی بحث سے ہوا تھا۔ البانوی حکومت نے ٹک ٹاک کی وجہ سے نوجوان کے قتل کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا۔اس واقعے کے بعد حکام نے والدین اور اساتذہ کے ساتھ متعدد میٹنگز کیں۔ جس کے بعد ٹک ٹاک پر پابندی لگانے کا اعلان کر دیا گیا۔البانوی وزیر اعظم ادی رام نے اس حوالے سے کہا کہ ہم ایک سال کے لیے ٹک ٹاک کو مکمل بند کر رہے ہیں۔ اور اس پابندی کا آغاز سال نو سے ہو گا۔وزیر اعظم کے اعلان کے بعد ٹک ٹاک حکام نے البانوی حکومت سے پابندی پر وضاحت طلب کر لی۔ اور کہا کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ متاثرہ نوجوانوں کے ٹک ٹاک پر اکاؤنٹس تھے۔

    پاورسیکٹرکیلئے مزید 50 ارب سے زائد سبسڈی کافیصلہ

    انگلینڈ کا چیمپئنز ٹرافی کے لیےاسکواڈ کا اعلان

    آرمی چیف کا جنوبی وزیرستان کا دورہ، جوانوں سے ملاقات

  • نازیبا ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ٹک ٹاکر مناہل ملک کی سوشل میڈیا پر واپسی

    نازیبا ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ٹک ٹاکر مناہل ملک کی سوشل میڈیا پر واپسی

    پاکستان کی مشہور ٹک ٹاکر اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ مناہل ملک، نے نازیبا ویڈیو وائرل ہونے کے بعد دوبارہ سوشل میڈیا پر اپنی سرگرمیاں شروع کر دی ہیں۔

    گزشتہ ماہ مناہل ملک کی مبینہ نامناسب ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں، جس کے بعد ان کی شہرت میں کچھ مشکلات آئیں اور انہوں نے سوشل میڈیا سے مکمل طور پر کنارہ کشی کا اعلان کیا تھا۔ ان ویڈیوز کے پھیلنے کے بعد، مناہل ملک نے اپنے مداحوں سے معافی مانگتے ہوئے کہا تھا کہ وہ لوگوں کے رویوں سے اتنی تنگ آ چکی ہیں کہ وہ اندر سے مر چکی ہیں اور اس صورتحال نے ان کو سوشل میڈیا کو چھوڑنے پر مجبور کر دیا تھا۔اس دوران، مناہل ملک نے اپنی ذہنی صحت اور ذاتی زندگی کی اہمیت پر بھی بات کی تھی اور اپنے مداحوں سے درخواست کی تھی کہ وہ ان کے فیصلے کا احترام کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’میں نے جو فیصلہ کیا وہ میری ذاتی بہتری کے لیے تھا اور میں چاہتی ہوں کہ اس مشکل وقت میں مجھے اکیلا چھوڑا جائے۔‘‘

    لیکن حالیہ دنوں میں، مناہل ملک نے اپنے انسٹاگرام سٹوری پر ایک پیغام جاری کیا، جس میں انہوں نے سوشل میڈیا پر دوبارہ واپس آنے کا اعلان کیا۔ مناہل ملک نے کہا کہ ’’کبھی کبھی انسان کو تھوڑا وقفہ لینا پڑتا ہے تاکہ وہ اپنی زندگی اور سمت کا دوبارہ جائزہ لے سکے، لیکن اب میں واپس آ چکی ہوں اور نئی توانائی کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہوں۔‘‘مجھے امید ہے کہ آپ سب خیر خیریت سے ہوں گے، بہت لوگوں سے غلطیاں ہوتی ہیں لیکن سب نے بس میری غلطیوں کو دیکھا، یہ نہیں دیکھا کہ میں کیسی انسان ہوں،خیر میری وجہ سے میرے فینز بہت ڈسٹرب تھے کہ مناہل تم کو واپس آنا ہوگا اور میری فیملی بھی کہتی تھی کہ مجھے واپس آنا چاہیے، یہ دُنیا کسی کو جینے نہیں دے گی، بس شریف وہ ہیں جن کے گناہ چھپے ہوئے ہیں،مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں کہ کوئی میرے بارے میں کیا سوچ رہا ہے، مجھے بہت لوگ باتیں کریں گے لیکن اب میں وہ مناہل ہوں جو بہت مضبوط ہے، اس کو کسی کی بکواس باتوں سے اب فرق نہیں پڑتا،

    مناہل ملک کی واپسی کے اعلان نے سوشل میڈیا پر ہلچل مچا دی ہے اور ان کے مداحوں نے خوشی کا اظہار کیا ہے۔ مناہل ملک نے اپنی واپسی کے ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا کہ وہ اب اپنی سوشل میڈیا سرگرمیوں کو زیادہ محتاط اور مثبت انداز میں جاری رکھیں گی۔ان کی واپسی نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا کہ سوشل میڈیا کی دنیا میں اتار چڑھاؤ آنا معمول کی بات ہے، اور کئی بار اس میں ایک نئی شروعات کی ضرورت ہوتی ہے۔ مناہل ملک کی یہ واپسی اس بات کا بھی غماز ہے کہ ذاتی زندگی اور ذہنی سکون کی اہمیت کو تسلیم کیا جانا چاہیے، اور کسی بھی مشکل کا سامنا کرنے کے بعد انسان کو خود کو دوبارہ کھڑا کرنے کا حق حاصل ہے۔

    طیارے میں جوڑےکا "جنسی عمل”فلائٹ کریو نے ویڈیو لیک کر دی

    ٹک ٹاکر مریم فیصل کی بھی نازیبا ویڈیو لیک

    ٹک ٹاکر کنول آفتاب کی بھی "نازیبا” ویڈیو لیک

    برہنہ ویڈیو لیک کا سلسلہ نہ تھم سکا، ایک اور ٹک ٹاکر کی ویڈیو لیک

    17 ملین سے زائد لائکس والی ٹک ٹاکر سومل کی بھی نازیبا ویڈیو لیک

    ویڈیو لیک کا خطرہ،بچاؤ کیسے؟آپ کی حفاظت آپ کے اپنے ہاتھ میں

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

  • دو بھگوڑے، بے شرم چوہے،معصوم نوجوانوں کو گمراہ کرنا چھوڑ دو۔شیر افضل مروت

    دو بھگوڑے، بے شرم چوہے،معصوم نوجوانوں کو گمراہ کرنا چھوڑ دو۔شیر افضل مروت

    پی ٹی آئی رہنما شیر افضل مروت نے بیرون ممالک میں بیٹھ کر سوشل میڈیا پر تنقید کرنے والے پی ٹی آئی رہنماؤں پر کڑی تنقید کی ہے

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک پیغام میں شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ سوشل میڈیا پر بدنام زمانہ دو بھگوڑوں کے دفاع میں ایک بار پھر مہم چل رہی ہے۔ وہی گالم گلوچ، رگ و پے میں خون کے وہی عکس، وہی گندگی، پی ٹی آئی کے ہمدرد ہونے کا جھوٹا دعویٰ کرنے والے۔ کچھ نے دعویٰ کیا ہے کہ میری اچھی امیج کو پیش کرنے اور مجھے ہیرو بنانے میں ان کا کردار ہے۔ میں ان سے پوچھتا ہوں کہ انہوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے ایسے کتنے ہیرو بنائے ہیں۔ مجھے ایک نام بتائیں؟ درحقیقت مجھے ایسے عناصر نے ہمیشہ ٹرول کیا ہے اور فرضی کہانیوں کے ذریعے میری ساکھ کو نقصان پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کی ہے۔ میں اب تک ان تمام اکاونٹس کو کھل کر جواب دوں گا جو ان دو برطرف دغابازوں کا دفاع کر رہے ہیں۔ وہ یہ سمجھنے میں ناکام رہے ہیں کہ اگر خوف کے اندھیرے کے دوران مجھے کوئی چیز خوفزدہ نہیں کر سکتی تھی تو پھر چند دھوکے باز مجھے بلیک میل کیسے کر سکتے ہیں۔

    شیر افضل مروت نے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ میں ہمیشہ ایسے گندے انڈوں سے ہر پلیٹ فارم پر لڑوں گا جو پی ٹی آئی اور اس کی قیادت کے لیے بدنامی کا باعث بنے ہیں۔ وہ بے شرم چوہے ہیں جو صرف پادنا ہی کر سکتے ہیں۔ ان کی اخلاقیات ان کی رگوں میں دوڑتے ہوئے گندے خون کی عکاسی کرتی ہیں۔ میں انہیں چیلنج کرتا ہوں کہ وہ پاکستان آنے کی ہمت کریں اور پھر لوگوں کو گالی دینے کی جرات کریں۔ ظالم کی آنکھوں میں جھانکنے کی ہمت نہیں تو معصوم نوجوانوں کو گمراہ کرنا چھوڑ دو۔ آپ کے دن گنے جا چکے ہیں اور جلد ہی آپ کو سوشل میڈیا پر اپنا حق مل جائے گا۔

    سوشل میڈیا پر نازیبا تصاویر کے ذریعےخاتون کو بلیک میل کرنیوالا گرفتار

    کپڑے بدلنے کے دوران سوشل میڈیا انفلوائنسر کا قیمتی بیگ چوری

    سوشل میڈیا پر وائرل تصاویر میں شامی باغی رہنما کے ساتھ خوبصورت لڑکی کون؟

    سوشل میڈیا پر پروپیگنڈہ، ایف آئی اے متحرک،154مقدمے،30 گرفتار

    سوشل میڈیا پر شرانگیزی پھیلانے والے مزید 7ملزمان کیخلاف مقدمات درج

  • سوشل میڈیا صارفین کی تعداد سے متعلق اعداد و شمار جاری

    سوشل میڈیا صارفین کی تعداد سے متعلق اعداد و شمار جاری

    اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ملک میں سوشل میڈیا صارفین کی تعداد سے متعلق اعداد و شمار جاری کردئیے۔

    باغی ٹی وی: پی ٹی اے کی رپورٹ کے مطابق جنوری 2024 تک فیس بک صارفین کی تعداد 6کروڑ4لاکھ ریکارڈ کی گئی اور فیس بک کے مرد صارفین 76 فیصد اور خواتین صارفین 24 فیصد ہیں جبکہ جنوری 2024 تک ملک میں یوٹیوب صارفین کی تعداد 7 کروڑ 17 لاکھ ریکارڈ کی گئی جن میں مرد صارفین 72 فیصد اور خواتین صارفین 28 فیصد ہیں۔

    اسی طرح ملک میں جنوری 2024 ٹک ٹاک صارفین کی تعداد 5کروڑ 44 لاکھ ریکارڈ ہوئی، مرد ٹک ٹاک صارفین 78 فیصد اور خواتین ٹک ٹاک صارفین 22 فیصد ہیں،جبکہ جنوری 2024 تک انسٹاگرام صارفین کی تعداد 1 کروڑ 73 لاکھ ریکارڈ کی گئی جن میں مرد صارفین 64 فیصد، خواتین صارفین 36 فیصد ہیں۔

    قبل ازیں پی ٹی اے کی سالانہ رپورٹ 2024 کی لانچنگ تقریب میں خطاب کرتے ہوئے چئیرمین پی ٹی اے حفیظ الرحمان کا کہنا تھا کہ ہم پہلے بھی واضح طور پر یہ کہہ چکے ہیں کہ ہم وی پی این کو بلاک کرسکتے ہیں لیکن ہم ایسا نہیں کریں گے آج تک کسی وی پی این کو بلاک نہیں کیا گیا،یہ وہ دور نہیں ہے جب ہم کچھ چھپائیں تو وہ چھپ جائے گا، بلکہ اب تمام معلومات عوامی سطح پر دستیاب ہیں۔