Baaghi TV

Tag: سوشل میڈیا

  • ٹرمپ کی نامزد کابینہ کو بیانات دینے سے روک دیا گیا

    ٹرمپ کی نامزد کابینہ کو بیانات دینے سے روک دیا گیا

    امریکا کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کابینہ کے نامزد ارکان کو سوشل میڈیا پر بیانات دینے سے روک دیا گیا
    امریکا کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی کابینہ میں شامل ہونے والے ممکنہ ارکان کو سخت ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ اپنے ناموں کی توثیق کے عمل سے قبل سوشل میڈیا پر کسی قسم کے بیانات یا تبصرے نہ کریں۔

    یہ ہدایات ٹرمپ کی انتخابی مہم کی منیجر سوسی وائلز نے جاری کیں، جو کہ ٹرمپ کے وائٹ ہاؤس کی نئی چیف آف اسٹاف ہوں گی۔ انہوں نے ایک میمو میں کابینہ کے ارکان کو متنبہ کیا کہ وہ وائٹ ہاؤس کے نئے قانونی مشیر، ڈیوڈ وارنگٹن کی اجازت کے بغیر سوشل میڈیا پر کوئی پوسٹ یا بیان نہ دیں۔مذکورہ میمو میں کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا کے ذریعے کسی بھی غیر مناسب یا متنازعہ بیان سے بچنا ضروری ہے تاکہ کابینہ کی توثیق کے عمل میں کسی قسم کی مشکلات یا رکاوٹیں پیدا نہ ہوں۔

    یہ فیصلہ اس بات کا غماز ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اپنے نامزد کابینہ ارکان کے ہر اقدام پر سخت نگرانی رکھے گی، خاص طور پر ایسے مواقع پر جب ان کی توثیق کا عمل شروع ہونے والا ہو۔نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈیوڈ وارنگٹن کو وائٹ ہاؤس کے نئے کاونسل کے طور پر منتخب کیا ہے، جو کابینہ کے ارکان کی قانونی مشاورت کا ذمہ دار ہوں گے۔

    اس سے قبل سوشل میڈیا پر ایلون مسک اور وویک رام سوامی کے درمیان ایچ ون بی ویزا کی قانونی حیثیت پر بحث چھڑی تھی۔ مسک اور رام سوامی دونوں نے ایچ ون بی ویزا کی حمایت کی تھی، جبکہ اسٹیو بینن اور ٹرمپ کے دیگر قریبی ساتھیوں نے اس ویزا کے خلاف اپنی مخالفت ظاہر کی تھی۔ یہ بحث اس بات کو مزید پیچیدہ بناتی ہے کہ نئے کابینہ ارکان کو ایسی حساس موضوعات پر غیر رسمی بیانات دینے سے گریز کرنا ہوگا۔

    ٹرمپ کی انتظامیہ کا یہ اقدام اس بات کا اشارہ ہے کہ سوشل میڈیا کا استعمال کابینہ کے ارکان کے لیے ایک حساس مسئلہ بن چکا ہے، اور حکومت کی ساکھ کو برقرار رکھنے کے لیے یہ ضروری سمجھا جا رہا ہے کہ ہر بیان یا موقف کا بغض سے تجزیہ کیا جائے۔کابینہ کی توثیق کا عمل اگلے ہفتے شروع ہونے کا امکان ہے، اور اس وقت تک یہ ممکنہ ارکان سوشل میڈیا پر اپنی کسی بھی پوسٹ سے گریز کرتے ہوئے اپنی توثیق کی کوششوں کو سست روی سے آگے بڑھائیں گے۔

    کراچی،پولیس افسر کے بیٹے کی گاڑی کی ٹکر سے خاتون زخمی

    پاک روس مضبوط ہوتے رشتے اور امریکی پابندیاں

  • سوشل میڈیا کی دوستی،  منڈی بہاؤالدین پہنچنے والا بھارتی گرفتار

    سوشل میڈیا کی دوستی، منڈی بہاؤالدین پہنچنے والا بھارتی گرفتار

    سوشل میڈیا پر دوستی کی ایک اور حیران کن داستان سامنے آئی ہے، جہاں ہمسایہ ملک بھارت کا رہائشی مجنوں اپنی لیلیٰ کو پانے کے لیے پاکستانی سرزمین تک پہنچ گیا۔

    بھارتی شہری بادل بابو ولد کرپال سنگھ، جو کہ بھارت کے صوبہ پنجاب کے علاقے سے تعلق رکھتا ہے، سوشل میڈیا پر نواحی گاؤں مونگ کی رہائشی لیلیٰ کے ساتھ دوستی کی تھی۔بتایا گیا ہے کہ بادل بابو کی لیلیٰ کے ساتھ سوشل میڈیا پر تعلقات اتنے بڑھ گئے کہ وہ اپنی محبوبہ سے ملنے کے لیے پاکستان پہنچ آیا۔ اس نے بغیر کسی قانونی سفری دستاویزات کے پاکستان کی سرحد عبور کی اور مونگ کے قریب ایک مقام پر قیام کیا۔جب مقامی لوگوں کو اس بھارتی شہری کی موجودگی کا علم ہوا، تو انھوں نے فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی۔ پولیس تھانہ صدر نے فوری کارروائی کرتے ہوئے بادل بابو کو گرفتار کر لیا اور اسے حوالات میں بند کر دیا۔ پولیس نے اس کے خلاف فارن ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔

    مقدمہ سب انسپکٹر غلام رضا کی مدعیت میں درج کیا گیا، جس میں کہا گیا کہ گرفتار بھارتی شہری پولیس کو پاکستان میں قیام کے حوالے سے کوئی قانونی دستاویزات فراہم نہیں کر سکا۔ پولیس حکام کے مطابق بادل بابو کے خلاف کارروائی جاری ہے اور اسے قانونی کارروائی کے بعد عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

    یہ واقعہ سوشل میڈیا کے ذریعے پیدا ہونے والی محبت اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے قانونی مسائل کی عکاسی کرتا ہے، جو کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں پیچیدگیاں پیدا کر سکتے ہیں۔ پولیس حکام نے عوام کو اس بات کا مشورہ دیا ہے کہ وہ غیر قانونی طریقے سے کسی دوسرے ملک جانے کی کوشش نہ کریں، کیونکہ ایسا عمل نہ صرف قانون کے خلاف ہے بلکہ اپنی زندگی کو بھی خطرے میں ڈال سکتا ہے۔مقامی عوام اس واقعے کو ایک سنگین صورتحال کے طور پر دیکھ رہے ہیں، کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان سیکیورٹی اور سفری قوانین کی سختی کے باوجود ایسی کوششوں کا ہونا ایک سنگین نوعیت کی بات ہے۔

    جنوبی کوریا،طیارہ حادثے میں شکار مسافر کی آخری گفتگو

    سابق امریکی صدر جمی کارٹر کی وفات،جوبائیڈن سمیت سابق صدور کا اظہار تعزیت

  • سوشل میڈیا پر جھوٹا پروپیگنڈا ، 11 ملزمان کو نوٹسز جاری

    سوشل میڈیا پر جھوٹا پروپیگنڈا ، 11 ملزمان کو نوٹسز جاری

    سوشل میڈیا پر جھوٹا پروپیگنڈا ، آئی جی اسلام آباد نے11 ملزمان کو نوٹسز جاری کر دیے

    نوٹسز ملزم صبغت اللہ ورک، محمد ارشد، عطاالرحمان، اظہر مشوانی ، عروسہ ندیم شاہ ، محمد علی ملک ، شاہ زیب ورک، موسی ورک ، اکرام کٹھانہ، تقویم صدیق اور محمد نعمان افضل کو جاری کئے گئے , نوٹس میں جے آئی ٹی نے ملزمان کو 24 دسمبر کو طلب کر رکھا ہے۔ ان ملزمان نےسوشل میڈیا پر جھوٹے پروپگنڈےکے ذریعے پاکستان میں انتشار پھیلایا۔ وفاقی حکومت نے سوشل میڈیا پر جرائم کی روک تھام کے لئے ایکٹ 2016 کے سیکشن 30 کے مطابق آئی جی پولیس کے ماتحت ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل دی۔ جے آئی ٹی ملزمان اور ان کے ساتھیوں کے پسِ پردہ مقاصد کا تعین کرنے کے لیے معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔ مزید مجرموں کی شناخت اور ان کے خلاف قابل اطلاق قوانین کے تحت کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔ جے آئی ٹی کے پاس ملزمان کے خلاف ٹھوس شواہد بھی موجود ہیں۔

    سوشل میڈیا کے غلط استعمال میں پی ٹی آئی کے لیڈر کا ہاتھ ہے،شرجیل میمن

    قرآن کے نام پر سوشل میڈیاپر فراڈ

    نازیبا ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ٹک ٹاکر مناہل ملک کی سوشل میڈیا پر واپسی

    سوشل میڈیا پر نازیبا تصاویر کے ذریعےخاتون کو بلیک میل کرنیوالا گرفتار

    سوشل میڈیا پر پروپیگنڈہ، ایف آئی اے متحرک،154مقدمے،30 گرفتار

  • ایک اور ملک کا ٹک ٹاک پر پابندی کا اعلان

    ایک اور ملک کا ٹک ٹاک پر پابندی کا اعلان

    البانیہ کی حکومت نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹک ٹاک پر پابندی لگانے کا اعلان کر دیا۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق رپورٹ کے مطابق گزشتہ ماہ ایک نوجوان طالب علم نے اپنے ساتھی کو چاقو کی وار کر کے قتل کر دیا تھا۔ جس کی وجہ ٹاک ٹاک تھی۔ جھگڑے کا آغاز ٹک ٹاک پر ہونے والی بحث سے ہوا تھا۔ البانوی حکومت نے ٹک ٹاک کی وجہ سے نوجوان کے قتل کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا۔اس واقعے کے بعد حکام نے والدین اور اساتذہ کے ساتھ متعدد میٹنگز کیں۔ جس کے بعد ٹک ٹاک پر پابندی لگانے کا اعلان کر دیا گیا۔البانوی وزیر اعظم ادی رام نے اس حوالے سے کہا کہ ہم ایک سال کے لیے ٹک ٹاک کو مکمل بند کر رہے ہیں۔ اور اس پابندی کا آغاز سال نو سے ہو گا۔وزیر اعظم کے اعلان کے بعد ٹک ٹاک حکام نے البانوی حکومت سے پابندی پر وضاحت طلب کر لی۔ اور کہا کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ متاثرہ نوجوانوں کے ٹک ٹاک پر اکاؤنٹس تھے۔

    پاورسیکٹرکیلئے مزید 50 ارب سے زائد سبسڈی کافیصلہ

    انگلینڈ کا چیمپئنز ٹرافی کے لیےاسکواڈ کا اعلان

    آرمی چیف کا جنوبی وزیرستان کا دورہ، جوانوں سے ملاقات

  • نازیبا ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ٹک ٹاکر مناہل ملک کی سوشل میڈیا پر واپسی

    نازیبا ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ٹک ٹاکر مناہل ملک کی سوشل میڈیا پر واپسی

    پاکستان کی مشہور ٹک ٹاکر اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ مناہل ملک، نے نازیبا ویڈیو وائرل ہونے کے بعد دوبارہ سوشل میڈیا پر اپنی سرگرمیاں شروع کر دی ہیں۔

    گزشتہ ماہ مناہل ملک کی مبینہ نامناسب ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں، جس کے بعد ان کی شہرت میں کچھ مشکلات آئیں اور انہوں نے سوشل میڈیا سے مکمل طور پر کنارہ کشی کا اعلان کیا تھا۔ ان ویڈیوز کے پھیلنے کے بعد، مناہل ملک نے اپنے مداحوں سے معافی مانگتے ہوئے کہا تھا کہ وہ لوگوں کے رویوں سے اتنی تنگ آ چکی ہیں کہ وہ اندر سے مر چکی ہیں اور اس صورتحال نے ان کو سوشل میڈیا کو چھوڑنے پر مجبور کر دیا تھا۔اس دوران، مناہل ملک نے اپنی ذہنی صحت اور ذاتی زندگی کی اہمیت پر بھی بات کی تھی اور اپنے مداحوں سے درخواست کی تھی کہ وہ ان کے فیصلے کا احترام کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’میں نے جو فیصلہ کیا وہ میری ذاتی بہتری کے لیے تھا اور میں چاہتی ہوں کہ اس مشکل وقت میں مجھے اکیلا چھوڑا جائے۔‘‘

    لیکن حالیہ دنوں میں، مناہل ملک نے اپنے انسٹاگرام سٹوری پر ایک پیغام جاری کیا، جس میں انہوں نے سوشل میڈیا پر دوبارہ واپس آنے کا اعلان کیا۔ مناہل ملک نے کہا کہ ’’کبھی کبھی انسان کو تھوڑا وقفہ لینا پڑتا ہے تاکہ وہ اپنی زندگی اور سمت کا دوبارہ جائزہ لے سکے، لیکن اب میں واپس آ چکی ہوں اور نئی توانائی کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہوں۔‘‘مجھے امید ہے کہ آپ سب خیر خیریت سے ہوں گے، بہت لوگوں سے غلطیاں ہوتی ہیں لیکن سب نے بس میری غلطیوں کو دیکھا، یہ نہیں دیکھا کہ میں کیسی انسان ہوں،خیر میری وجہ سے میرے فینز بہت ڈسٹرب تھے کہ مناہل تم کو واپس آنا ہوگا اور میری فیملی بھی کہتی تھی کہ مجھے واپس آنا چاہیے، یہ دُنیا کسی کو جینے نہیں دے گی، بس شریف وہ ہیں جن کے گناہ چھپے ہوئے ہیں،مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں کہ کوئی میرے بارے میں کیا سوچ رہا ہے، مجھے بہت لوگ باتیں کریں گے لیکن اب میں وہ مناہل ہوں جو بہت مضبوط ہے، اس کو کسی کی بکواس باتوں سے اب فرق نہیں پڑتا،

    مناہل ملک کی واپسی کے اعلان نے سوشل میڈیا پر ہلچل مچا دی ہے اور ان کے مداحوں نے خوشی کا اظہار کیا ہے۔ مناہل ملک نے اپنی واپسی کے ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا کہ وہ اب اپنی سوشل میڈیا سرگرمیوں کو زیادہ محتاط اور مثبت انداز میں جاری رکھیں گی۔ان کی واپسی نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا کہ سوشل میڈیا کی دنیا میں اتار چڑھاؤ آنا معمول کی بات ہے، اور کئی بار اس میں ایک نئی شروعات کی ضرورت ہوتی ہے۔ مناہل ملک کی یہ واپسی اس بات کا بھی غماز ہے کہ ذاتی زندگی اور ذہنی سکون کی اہمیت کو تسلیم کیا جانا چاہیے، اور کسی بھی مشکل کا سامنا کرنے کے بعد انسان کو خود کو دوبارہ کھڑا کرنے کا حق حاصل ہے۔

    طیارے میں جوڑےکا "جنسی عمل”فلائٹ کریو نے ویڈیو لیک کر دی

    ٹک ٹاکر مریم فیصل کی بھی نازیبا ویڈیو لیک

    ٹک ٹاکر کنول آفتاب کی بھی "نازیبا” ویڈیو لیک

    برہنہ ویڈیو لیک کا سلسلہ نہ تھم سکا، ایک اور ٹک ٹاکر کی ویڈیو لیک

    17 ملین سے زائد لائکس والی ٹک ٹاکر سومل کی بھی نازیبا ویڈیو لیک

    ویڈیو لیک کا خطرہ،بچاؤ کیسے؟آپ کی حفاظت آپ کے اپنے ہاتھ میں

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

  • دو بھگوڑے، بے شرم چوہے،معصوم نوجوانوں کو گمراہ کرنا چھوڑ دو۔شیر افضل مروت

    دو بھگوڑے، بے شرم چوہے،معصوم نوجوانوں کو گمراہ کرنا چھوڑ دو۔شیر افضل مروت

    پی ٹی آئی رہنما شیر افضل مروت نے بیرون ممالک میں بیٹھ کر سوشل میڈیا پر تنقید کرنے والے پی ٹی آئی رہنماؤں پر کڑی تنقید کی ہے

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک پیغام میں شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ سوشل میڈیا پر بدنام زمانہ دو بھگوڑوں کے دفاع میں ایک بار پھر مہم چل رہی ہے۔ وہی گالم گلوچ، رگ و پے میں خون کے وہی عکس، وہی گندگی، پی ٹی آئی کے ہمدرد ہونے کا جھوٹا دعویٰ کرنے والے۔ کچھ نے دعویٰ کیا ہے کہ میری اچھی امیج کو پیش کرنے اور مجھے ہیرو بنانے میں ان کا کردار ہے۔ میں ان سے پوچھتا ہوں کہ انہوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے ایسے کتنے ہیرو بنائے ہیں۔ مجھے ایک نام بتائیں؟ درحقیقت مجھے ایسے عناصر نے ہمیشہ ٹرول کیا ہے اور فرضی کہانیوں کے ذریعے میری ساکھ کو نقصان پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کی ہے۔ میں اب تک ان تمام اکاونٹس کو کھل کر جواب دوں گا جو ان دو برطرف دغابازوں کا دفاع کر رہے ہیں۔ وہ یہ سمجھنے میں ناکام رہے ہیں کہ اگر خوف کے اندھیرے کے دوران مجھے کوئی چیز خوفزدہ نہیں کر سکتی تھی تو پھر چند دھوکے باز مجھے بلیک میل کیسے کر سکتے ہیں۔

    شیر افضل مروت نے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ میں ہمیشہ ایسے گندے انڈوں سے ہر پلیٹ فارم پر لڑوں گا جو پی ٹی آئی اور اس کی قیادت کے لیے بدنامی کا باعث بنے ہیں۔ وہ بے شرم چوہے ہیں جو صرف پادنا ہی کر سکتے ہیں۔ ان کی اخلاقیات ان کی رگوں میں دوڑتے ہوئے گندے خون کی عکاسی کرتی ہیں۔ میں انہیں چیلنج کرتا ہوں کہ وہ پاکستان آنے کی ہمت کریں اور پھر لوگوں کو گالی دینے کی جرات کریں۔ ظالم کی آنکھوں میں جھانکنے کی ہمت نہیں تو معصوم نوجوانوں کو گمراہ کرنا چھوڑ دو۔ آپ کے دن گنے جا چکے ہیں اور جلد ہی آپ کو سوشل میڈیا پر اپنا حق مل جائے گا۔

    سوشل میڈیا پر نازیبا تصاویر کے ذریعےخاتون کو بلیک میل کرنیوالا گرفتار

    کپڑے بدلنے کے دوران سوشل میڈیا انفلوائنسر کا قیمتی بیگ چوری

    سوشل میڈیا پر وائرل تصاویر میں شامی باغی رہنما کے ساتھ خوبصورت لڑکی کون؟

    سوشل میڈیا پر پروپیگنڈہ، ایف آئی اے متحرک،154مقدمے،30 گرفتار

    سوشل میڈیا پر شرانگیزی پھیلانے والے مزید 7ملزمان کیخلاف مقدمات درج

  • سوشل میڈیا صارفین کی تعداد سے متعلق اعداد و شمار جاری

    سوشل میڈیا صارفین کی تعداد سے متعلق اعداد و شمار جاری

    اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ملک میں سوشل میڈیا صارفین کی تعداد سے متعلق اعداد و شمار جاری کردئیے۔

    باغی ٹی وی: پی ٹی اے کی رپورٹ کے مطابق جنوری 2024 تک فیس بک صارفین کی تعداد 6کروڑ4لاکھ ریکارڈ کی گئی اور فیس بک کے مرد صارفین 76 فیصد اور خواتین صارفین 24 فیصد ہیں جبکہ جنوری 2024 تک ملک میں یوٹیوب صارفین کی تعداد 7 کروڑ 17 لاکھ ریکارڈ کی گئی جن میں مرد صارفین 72 فیصد اور خواتین صارفین 28 فیصد ہیں۔

    اسی طرح ملک میں جنوری 2024 ٹک ٹاک صارفین کی تعداد 5کروڑ 44 لاکھ ریکارڈ ہوئی، مرد ٹک ٹاک صارفین 78 فیصد اور خواتین ٹک ٹاک صارفین 22 فیصد ہیں،جبکہ جنوری 2024 تک انسٹاگرام صارفین کی تعداد 1 کروڑ 73 لاکھ ریکارڈ کی گئی جن میں مرد صارفین 64 فیصد، خواتین صارفین 36 فیصد ہیں۔

    قبل ازیں پی ٹی اے کی سالانہ رپورٹ 2024 کی لانچنگ تقریب میں خطاب کرتے ہوئے چئیرمین پی ٹی اے حفیظ الرحمان کا کہنا تھا کہ ہم پہلے بھی واضح طور پر یہ کہہ چکے ہیں کہ ہم وی پی این کو بلاک کرسکتے ہیں لیکن ہم ایسا نہیں کریں گے آج تک کسی وی پی این کو بلاک نہیں کیا گیا،یہ وہ دور نہیں ہے جب ہم کچھ چھپائیں تو وہ چھپ جائے گا، بلکہ اب تمام معلومات عوامی سطح پر دستیاب ہیں۔

  • ریاست مخالف ،جھوٹا بیانیہ،پروپیگنڈہ،وی لاگرز،یوٹیوبرز،صحافیوں پر مقدمہ درج

    ریاست مخالف ،جھوٹا بیانیہ،پروپیگنڈہ،وی لاگرز،یوٹیوبرز،صحافیوں پر مقدمہ درج

    ڈی چوک احتجاج ،یوٹیوبر،وی لاگرز،صحافیوں کیخلاف ریاست مخالف جھوٹا بیانہ بنانےکےمقدمات درج کر لئے گئے

    ایف آئی اےسائبرکرائم ونگ کی جانب سے ہرمیت سنگھ،احمد نورانی، عبدالقادر،حسنین رفیق، سلمان درانی، عمران کھٹانہ،مریم شفقت ملک اور رضوان احمد خان و دیگر کیخلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے،یہ مقدمات ‘پیکا ایکٹ’ کی شق 9، 10، 11 اور 24 کے تحت ایف آئی اے سائبر کرائم اسلام آباد میں درج کیے گئے ہیں۔ ہرمیت سنگھ پر درج مقدمے کی ایف آئی آر سامنے آئی ہے

    درج مقدمے کے متن کے مطابق ملزم پر الزام ہے کہ اس نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ @HarmeetSinghPk کے ذریعے پاکستان کے ریاستی اداروں اور سیکیورٹی ایجنسیز کے خلاف جھوٹے اور تخریبی مواد کو فروغ دیا، جس سے ملک میں خوف اور دہشت پھیلانے کی کوشش کی گئی۔مقدمہ 6 دسمبر 2024 کو ایف آئی اےسائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر، اسلام آباد میں درج کیا گیا۔ اس رپورٹ کے مطابق، ہرمیت سنگھ نے اپنی ٹویٹر پروفائل کے ذریعے پاکستان کے ریاستی اداروں اور سیکیورٹی ایجنسیز کے خلاف جھوٹا اور اشتعال انگیز مواد پھیلایا۔ یہ مواد عوام کو تشویش، خوف اور دہشت میں مبتلا کرنے کے لیے تخلیق کیا گیا تھا تاکہ عوام کو ریاستی اداروں اور سیکیورٹی ایجنسیز کے خلاف اکسا کر ان کے خلاف جرائم کا ارتکاب کرایا جا سکے۔ ہرمیت سنگھ پر الزام ہے کہ اس نے پریونشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 کی دفعہ 9، 10، 11 اور 24 کے تحت جرائم کا ارتکاب کیا۔ اس کے علاوہ، پاکستان پینل کوڈ (PPC) کی دفعہ 505 کے تحت بھی اس کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے، کیونکہ اس نے عوام میں دہشت اور خوف پھیلانے کی کوشش کی اور ریاست کے مختلف اداروں کے درمیان عداوت پیدا کرنے کی سازش کی۔

    ایف آئی اے کے سب انسپکٹر محمد وسیم خان نے رپورٹ درج کرنے کے بعد فوری طور پر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ اس کیس میں ہرمیت سنگھ کے ٹویٹر پروفائل کے ذریعے پھیلائے گئے مواد کا جائزہ لیا جا رہا ہے، جس میں ریاستی اداروں اور سیکیورٹی ایجنسیز کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سنگھ نے 24 سے 27 نومبر 2024 کے دوران کئی مرتبہ اپنے ٹویٹس کے ذریعے عوام کو بدامنی اور تشویش میں مبتلا کرنے کی کوشش کی تھی۔ سنگھ کے خلاف اس مقدمے کی تحقیقات جاری ہیں اور متعلقہ اداروں کو ایف آئی آر کی کاپیاں ارسال کر دی گئی ہیں تاکہ ان کے خلاف مزید قانونی کارروائی کی جا سکے۔

    پاکستان کے حکومتی اور سیکیورٹی اداروں نے سوشل میڈیا پر پروپیگنڈہ کے خلاف سخت ردعمل دیا اور کہا کہ اس قسم کے تخریبی مواد کو پھیلانے والوں کے خلاف بھرپور کارروائی کی جائے گی تاکہ ملک کی سیکیورٹی اور امن و امان کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنایا جا سکے۔پاکستان میں سائبر کرائم کے حوالے سے قوانین بہت سخت ہیں اور اس طرح کے جرائم میں ملوث افراد کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    سوشل میڈیا پر پروپیگنڈہ، ایف آئی اے متحرک،154مقدمے،30 گرفتار

    سوشل میڈیا پر پروپیگنڈہ،اظہر مشوانی سمیت دیگر ملزمان کو نوٹس جاری

    سوشل میڈیا پر جرائم، ایف آئی اے سائبر کرائم کو کارروائی کا اختیار مل گیا

    سوشل میڈیا پر شرانگیزی پھیلانے والے مزید 7ملزمان کیخلاف مقدمات درج

    سوشل میڈیا پر جھوٹے بیانات،پروپیگنڈہ،مزید 7 ملزمان پر مقدمہ

    سوشل میڈیا پر پولیس کے خلاف چلانے والی جھوٹی مہم کا پردہ فاش

    fia

  • سوشل میڈیا پر پروپیگنڈہ، ایف آئی اے متحرک،154مقدمے،30 گرفتار

    سوشل میڈیا پر پروپیگنڈہ، ایف آئی اے متحرک،154مقدمے،30 گرفتار

    ایف آئی اے سائبر کرائم راولپنڈی نے ریاستی اداروں، بالخصوص افواج پاکستان کے خلاف سوشل میڈیا پر پراپیگنڈہ پھیلانے والے ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔

    ایف آئی اے کی جانب سے جاری کی گئی تفصیلات کے مطابق ملزم کی شناخت الیاس اعوان کے نام سے ہوئی ہے، جسے راولپنڈی میں چھاپہ مار کارروائی کے دوران گرفتار کیا گیا۔ایف آئی اے حکام کے مطابق، ملزم ریاستی اداروں کے خلاف جھوٹی معلومات اور ڈس انفارمیشن سوشل میڈیا پر پھیلانے میں ملوث تھا۔ اس کارروائی کے دوران ملزم کے قبضے سے موبائل فون اور دیگر اہم شواہد بھی برآمد ہوئے ہیں، جن کی مدد سے تحقیقات جاری ہیں۔ایف آئی اے نے مزید کہا ہے کہ ملزم سے ابتدائی تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے اور اس کے دیگر ساتھیوں کے خلاف بھی چھاپہ مار کارروائیاں جاری ہیں۔

    دوسری جانب ایف آئی اے سائبر ونگ لاہور اور پنجاب نے سوشل میڈیا پر جھوٹا پروپیگنڈہ کرنے والے 30 ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ ملزمان احتجاج اور لاشوں کے حوالے سے جھوٹے دعوے پھیلا رہے تھے۔ ایف آئی اے نے لاہور اور پنجاب بھر میں اس حوالے سے 71 ایف آئی آرز درج کی ہیں، جبکہ ملک بھر میں سائبر ونگ نے مجموعی طور پر 154 مقدمات کا اندراج کیا ہے۔ایف آئی اے سائبر ونگ کی ٹاسک فورس نے بتایا کہ اس وقت 249 انکوائریاں زیر تفتیش ہیں، جن کے بارے میں مزید مقدمات درج کیے جائیں گے۔ اسلام آباد میں 52 ایف آئی آرز، کراچی میں 16، سکھر میں 4 اور حیدرآباد میں 7 ایف آئی آرز درج کی گئی ہیں۔

    یہ کارروائیاں اس بات کا غماز ہیں کہ ایف آئی اے سائبر ونگ ملک بھر میں سوشل میڈیا پر پھیلنے والی جھوٹی معلومات اور پراپیگنڈے کے خلاف سخت اقدامات اٹھا رہا ہے، تاکہ عوام کو غلط معلومات سے بچایا جا سکے اور ریاستی اداروں کی عزت و توقیر کو محفوظ رکھا جا سکے۔

    سوشل میڈیا پر پروپیگنڈہ،اظہر مشوانی سمیت دیگر ملزمان کو نوٹس جاری

    سوشل میڈیا پر جرائم، ایف آئی اے سائبر کرائم کو کارروائی کا اختیار مل گیا

    سوشل میڈیا پر شرانگیزی پھیلانے والے مزید 7ملزمان کیخلاف مقدمات درج

    سوشل میڈیا پر شرانگیزی پھیلانے والے مزید 13 ملزمان کیخلاف مقدمات

    سوشل میڈیا پر جھوٹے بیانات،پروپیگنڈہ،مزید 7 ملزمان پر مقدمہ

    سوشل میڈیا پر پولیس کے خلاف چلانے والی جھوٹی مہم کا پردہ فاش

  • سوشل میڈیا پر پروپیگنڈہ،اظہر مشوانی سمیت دیگر ملزمان کو نوٹس جاری

    سوشل میڈیا پر پروپیگنڈہ،اظہر مشوانی سمیت دیگر ملزمان کو نوٹس جاری

    آئی جی اسلام آباد نے سوشل میڈیا پر بدنیتی پر مبنی مہم چلانے والے ملزمان کو نوٹسز جاری کر دیے ہیں۔

    ملزمان میں صبغت اللہ ورک، محمد ارشد، عطاالرحمن، اظہر مشوانی، کومل آفریدی، عروسہ ندیم شاہ اور ایم علی ملک شامل ہیں، جن پر الزام ہے کہ انہوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے پاکستان میں افراتفری اور انتشار پھیلانے کی کوشش کی۔جے آئی ٹی (جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم) نے ان تمام ملزمان کو 13 دسمبر 2024 کو طلب کر لیا ہے، اور نوٹسز میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ انہیں اس دن تفتیش کے لیے حاضر ہونا ہوگا۔ سوشل میڈیا پر یہ بدنیتی پر مبنی مہم ملک میں انتشار اور بد امنی کی وجہ بنی، جس کا مقصد عوامی امن و سکون کو متاثر کرنا تھا۔

    وفاقی حکومت نے سوشل میڈیا پر جرائم کی روک تھام کے لیے پی کی اے ایکٹ 2016 کے سیکشن 30 کے تحت ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دی ہے۔ جے آئی ٹی کی تشکیل کا مقصد ملزمان اور ان کے ساتھیوں کے پسِ پردہ مقاصد کی تحقیقات کرنا ہے تاکہ ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکے۔ذرائع کے مطابق، جے آئی ٹی کے پاس ملزمان کے خلاف ٹھوس شواہد موجود ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انہوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے پاکستان میں بد امنی اور انتشار پھیلانے کے لیے پروپیگنڈا کیا۔ جے آئی ٹی اس وقت اس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے اور اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ کس طرح یہ مہم ملک کے اندر امن و سکون کے لیے خطرہ بن گئی۔

    جے آئی ٹی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ تحقیقات کا دائرہ وسیع کیا جا رہا ہے اور مزید مجرموں کی شناخت کی جا رہی ہے جو اس مہم میں ملوث ہو سکتے ہیں۔ ان کے خلاف قابل اطلاق قوانین کے تحت سخت کارروائی کی جائے گی۔ اس حوالے سے مزید قانونی کارروائیاں جاری ہیں اور ملزمان کے خلاف ٹھوس شواہد کی بنیاد پر قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔

    آئی جی اسلام آباد نے اس معاملے کی تحقیقات کی نگرانی کرتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ ملزمان کے خلاف بلا تاخیر کارروائی کریں تاکہ اس طرح کی بدنیتی پر مبنی مہموں کا سدباب کیا جا سکے۔ پولیس نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر اس طرح کے مواد کی نشاندہی کریں اور فوری طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو آگاہ کریں تاکہ ملوث افراد کے خلاف فوری کارروائی کی جا سکے۔

    سوشل میڈیا پر جرائم، ایف آئی اے سائبر کرائم کو کارروائی کا اختیار مل گیا

    سوشل میڈیا پر شرانگیزی پھیلانے والے مزید 7ملزمان کیخلاف مقدمات درج

    سوشل میڈیا پر شرانگیزی پھیلانے والے مزید 13 ملزمان کیخلاف مقدمات

    سوشل میڈیا پر جھوٹے بیانات،پروپیگنڈہ،مزید 7 ملزمان پر مقدمہ

    سوشل میڈیا پر پولیس کے خلاف چلانے والی جھوٹی مہم کا پردہ فاش

    پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا بھی "وڑ”گیا