Baaghi TV

Tag: سوشل میڈیا

  • مذاکرات کے باوجود پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا پر ریاست مخالف پراپیگنڈا جاری

    مذاکرات کے باوجود پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا پر ریاست مخالف پراپیگنڈا جاری

    حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے درمیان مذاکراتی عمل کا آغاز ہونے کے باوجود، تحریک انصاف کی جانب سے سوشل میڈیا پر ریاست مخالف پراپیگنڈا بدستور جاری ہے۔

    حکومت نے قومی مسائل کے حل، استحکام کی بحالی اور جمہوری اصولوں کے تحفظ کے لئے پی ٹی آئی سے مذاکرات کی پیشکش کی، جبکہ آرمی چیف کی جانب سے 9 مئی کے فسادات میں ملوث 19 سزا یافتہ پی ٹی آئی کارکنوں کو معافی دے کر خیرسگالی کا پیغام دیا گیا۔ یہ اقدام مفاہمت کے عزم کو ظاہر کرتا ہے اور مذاکرات کے لئے سازگار ماحول فراہم کرتا ہے۔اس فیصلے کو ریاست کی کمزوری کے طور پر نہیں، بلکہ کشیدگی کم کرنے کے لئے ایک خیرسگالی کے اقدام کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ یہ اقدام ریاست کے متوازن رویے کی عکاسی کرتا ہے، جو احتساب کو متاثر کئے بغیر مفاہمت کو ترجیح دیتا ہے۔ اس سے ریاست کے اعتماد اور برداشت کا اظہار ہوتا ہے اور یہ ایسے اقدامات کی مثال بناتا ہے جو قومی اتحاد کو فروغ دیتے ہیں، قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھتے ہیں اور مستقبل میں غیر قانونی سرگرمیوں کو روکتے ہیں۔

    دوسری جانب، پی ٹی آئی کے کارکنوں نے ریاستی اداروں کو نشانہ بنانے اور بیرونی حمایت حاصل کرنے کے لئے سوشل میڈیا پر ایک اینٹی ریاست مہم چلائی۔ پی ٹی آئی نے بانی پی ٹی آئی کی وزیراعظم کے عہدے سے ہٹانے کے لئے امریکہ کو ذمہ دار ٹھہرانے سے لے کر امریکی انتظامیہ سے روابط استوار کرنے تک، اپنے بیانیہ میں تبدیلی کی۔ اس کے علاوہ، پی ٹی آئی کی جانب سے ریاستی اداروں کے خلاف چلائی جانے والی مہم ان کے ارادوں اور مستقل مزاجی پر سوالات اٹھاتی ہے۔

    مذاکرات کے دوران پی ٹی آئی نے سیاسی نقصان اور این آر او کے الزامات کے خوف سے تحریری چارٹر آف ڈیمانڈز جمع کرانے سے گریز کیا۔ تاہم، پی ٹی آئی کے اہم مطالبات میں عمران خان اور زیر حراست دیگر ارکان کی رہائی کے ساتھ ساتھ 9 مئی اور 26 نومبر کے فسادات کے حوالے سے عدالتی کمیشن کی تشکیل شامل ہے۔ حکومت نے شفافیت اور آئینی مطابقت کو یقینی بنانے کے لئے پی ٹی آئی کے مطالبات پر قانونی جائزہ لینے اور اتحادی شراکت داروں سے مشاورت کا وعدہ کیا ہے۔

    حکومت کا مقصد احتساب کو برقرار رکھتے ہوئے جمہوری شمولیت کو فروغ دینا اور مستقبل میں پرتشدد سیاسی سرگرمیوں کو روکنا ہے۔ پی ٹی آئی کے مذاکرات کار موجودہ حکومت کو عوامی مینڈیٹ سے محروم قرار دیتے ہوئے بات چیت کو آئینی اور گورننس کے مسائل حل کرنے کی ضرورت قرار دیتے ہیں، جبکہ حکومتی نمائندے یہ مؤقف رکھتے ہیں کہ 9 مئی کے فسادات کے لئے احتساب قومی سلامتی اور ریاستی اداروں کے تحفظ کے لئے ضروری ہے۔

    حکومت کا متوازن رویہ پی ٹی آئی کی پراپیگنڈا مہم کو بے اثر کرنے کی کوشش کرتا ہے، تاکہ اتحاد کا احساس پیدا ہو اور سیاسی کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔ پی ٹی آئی کی جانب سے ریاستی اداروں کے خلاف مسلسل مہم چلانا قومی اتحاد کو نقصان پہنچا رہی ہے اور سیاسی فائدے کو پاکستان کے استحکام اور ترقی پر ترجیح دی جا رہی ہے۔ پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا پر پراپیگنڈا اور غلط معلومات کی تشہیر پاکستان کے استحکام اور ادارہ جاتی سالمیت کے لئے ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے۔”ڈراپ سائٹ نیوز”، جو متنازع اور سنسنی خیز کہانیاں شائع کرنے کے لئے جانا جاتا ہے، پی ٹی آئی کے اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیے کو بڑھاوا دے رہی ہے۔ یہ خبریں من گھڑت سیاسی انتقام اور حکومتی زیادتیوں کے بیانیے پر مرکوز ہیں، جس سے پی ٹی آئی کی طرف سے ریاست کے خلاف چلائی جانے والی مہم کی شدت میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ سزا یافتہ پی ٹی آئی کارکنوں کو معاف کرنے کا ایک سنجیدہ اقدام ہے، جو مذاکرات کے عمل کو فروغ دینے اور قومی استحکام کو یقینی بنانے کی کوشش ہے۔

    مذاکرات کے دوران پی ٹی آئی کا دوہرا رویہ، جس میں ایک طرف اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ اور دوسری طرف بیرونی مداخلت کی کوششیں شامل ہیں، مذاکراتی عمل کو پیچیدہ بناتا ہے۔ دونوں فریقوں کی کامیابی کا انحصار پاکستان کے جمہوری مستقبل اور قومی مفادات کو ذاتی یا سیاسی ایجنڈوں پر ترجیح دینے کے حقیقی عزم پر ہے۔ اگر پی ٹی آئی اور حکومت دونوں مل کر ملک کے قومی مفادات کو اہمیت دیں، تو مذاکراتی عمل میں کامیابی کے امکانات روشن ہو سکتے ہیں۔حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکراتی عمل ایک نازک موڑ پر ہے، جہاں دونوں طرف سے سنجیدہ عزم کی ضرورت ہے۔ حکومت کے متوازن رویے اور پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا پراپیگنڈا مہم کے درمیان ایک توازن قائم کرنا ضروری ہے تاکہ پاکستان کی سیاسی استحکام اور قومی مفادات کو یقینی بنایا جا سکے۔

    کرکٹ آسٹریلیا نے سنیل گواسکر کو اختتامی تقریب میں نہ بلانے کی غلطی تسلیم کر لی

    ن لیگ اور پیپلزپارٹی نے ملکی مفاد کو ہمیشہ مقدم رکھا.احسن اقبال

  • سوشل میڈیا پر پیار، 10 سالہ لڑکی اور 16 سالہ لڑکے کی بھاگنے کی کوشش

    سوشل میڈیا پر پیار، 10 سالہ لڑکی اور 16 سالہ لڑکے کی بھاگنے کی کوشش

    بھارتی ریاست گجرات کے دھنسورا گاؤں میں ایک 10 سالہ لڑکی اور 16 سالہ لڑکے نے سوشل میڈیا ایپ انسٹاگرام پر دوستی کرنے کے بعد اپنے گھروں سے فرار ہونے کی کوشش کی۔ پولیس نے دونوں کو ایک قریبی گاؤں سے گرفتار کر لیا، جب لڑکی کے والدین نے اس کی گمشدگی کی رپورٹ درج کرائی۔

    31 دسمبر 2024 کو 10 سالہ لڑکی جو کہ پانچویں جماعت کی طالبہ تھی، اپنے گھر سے لاپتہ ہو گئی۔ اس کے والدین نے کئی گھنٹوں تک اپنی بیٹی کو تلاش کیا لیکن اس کا کوئی سراغ نہیں مل سکا، جس کے بعد انہوں نے پولیس میں شکایت درج کرائی اور اغوا کا الزام لگایا۔پولیس تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ دونوں بچے انسٹاگرام پر ایک دوسرے سے رابطے میں تھے اور دونوں ایک دوسرے کے ساتھ محبت میں مبتلا ہو گئے تھے۔ اس دوران، 31 دسمبر کو انہوں نے اپنے تین دوستوں کی مدد سے گھر چھوڑنے کا منصوبہ بنایا اور فرار ہو گئے۔پولیس نے لڑکی کی تلاش کے دوران معلوم کیا کہ وہ اپنی والدہ کے موبائل فون سے انسٹاگرام استعمال کرتی تھی اور اسی ایپ پر اس کی ملاقات لڑکے سے ہوئی تھی، جو دوسرے گاؤں میں رہتا تھا۔ دونوں اکثر فون پر بات چیت کرتے اور ایک دوسرے سے محبت کا اظہار کرتے تھے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ لڑکی کے والد کو سوشل میڈیا کے بارے میں کوئی معلومات نہیں تھیں اور انہیں اس بات کا اندازہ بھی نہیں تھا کہ ان کی بیٹی انسٹاگرام پر کسی لڑکے سے بات کر رہی تھی۔ پولیس نے لڑکی کو قریبی گاؤں سے بازیاب کر لیا اور اسے اس کے خاندان کے حوالے کر دیا۔

    پولیس کے مطابق لڑکی کے والدین کی جانب سے شکایت کے بعد مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔ پولیس نے اس بات پر زور دیا کہ والدین کو اپنے بچوں کی آن لائن سرگرمیوں پر نظر رکھنی چاہیے تاکہ اس طرح کے واقعات سے بچا جا سکے۔

    یہ واقعہ ایک اور بار سوشل میڈیا کی اثرات اور بچوں کی حفاظت کے حوالے سے سوالات اٹھاتا ہے۔ بھارت میں گزشتہ سال مدھیہ پردیش میں بھی ایک 15 سالہ لڑکی نے 27 سالہ شخص کے ساتھ فرار ہو کر اپنے والدین کو دھمکی دی تھی کہ اگر شادی کی اجازت نہ دی گئی تو وہ مزید اقدام اٹھائیں گے۔ اس واقعہ نے بھی سوشل میڈیا پر بچوں کی غیر محفوظ سرگرمیوں کے بارے میں تشویش پیدا کی تھی۔ایک حالیہ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ مدھیہ پردیش میں تقریباً 10 میں سے 4 نابالغ لڑکیاں جو اپنے والدین کو اطلاع دیے بغیر گھر چھوڑ دیتی ہیں، ان کا تعلق گھریلو مسائل سے ہوتا ہے۔ یہ مسائل ان بچوں کو اس طرح کے اقدام پر مجبور کرتے ہیں۔

    یہ واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ سوشل میڈیا کا بڑھتا ہوا استعمال بچوں کے لیے ایک خطرہ بن سکتا ہے، خاص طور پر جب وہ اپنی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے لیے اپنے والدین کے ساتھ رابطے میں نہیں رہتے۔ والدین اور اساتذہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کو سوشل میڈیا کے صحیح استعمال اور اس کے ممکنہ خطرات کے بارے میں آگاہ کریں تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات سے بچا جا سکے۔

    ڈیٹنگ ایپس پر 700 خواتین سے پیسہ بٹورنے والا 23 سالہ نوجوان گرفتار

    ڈیٹنگ سائٹس،سوشل میڈیا،اپنے پیسے”دل” کو کیسے دھوکہ بازوں سے بچائیں؟

    66 سالہ خاتون "پیار” کے چکر میں ڈیٹنگ ایپس پر "لٹ” گئی

    ڈیٹنگ ایپس،ہم جنس پرستوں کے لئے بڑا خطرہ بن گئیں

  • سوشل میڈیا کا لالچی گدھ ،معید پیر زادہ

    سوشل میڈیا کا لالچی گدھ ،معید پیر زادہ

    سوشل میڈیا نے دنیا بھر میں مقبولیت اور شہرت کے نئے مواقع فراہم کیے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس پر ایسے افراد بھی ہیں جو صرف منفعت اور شہرت کے پیچھے بھاگتے ہیں۔

    معید پیر زادہ، جو خود کو ایک مقبول سوشل میڈیا شخصیت کے طور پر پیش کرتے ہیں، کا شمار انہی افراد میں کیا جا سکتا ہے جو سوشل میڈیا کی دنیا میں صرف اپنی شہرت اور مالی فوائد کے لیے سرگرم رہتے ہیں۔معید پیر زادہ نہ صرف پاکستان سے بھاگ چکے ہیں بلکہ بیرون ملک بیٹھ کر سوشل میڈیا کے ذریعے پاکستان اور ملکی سلامتی کے اداروں کے خلاف پروپیگنڈہ کرتے نظر آتے ہیں جس کا مقصد انتشار پھیلانا اور مال بنانا ہے

    سوشل میڈیا ایک ایسا پلیٹ فارم بن چکا ہے جہاں پر لوگ اپنی زندگی کی مختلف پہلووں کو شیئر کرتے ہیں، اور بعض افراد اسے اپنے کاروبار اور شہرت کو بڑھانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ معید پیر زادہ بھی اس جال کا حصہ بن چکے ہیں، معید پیر زادہ کی سوشل میڈیا پر سرگرمیاں ملک دشمنی پر مبنی ہوتی ہیں وہ ملکی سلامتی کے اداروں کے خلاف بات کرتا نظر آئے گا اور انتشاری جماعت کی ترجمانی کرتے ہوئے انکی داد وصول کرے گا.معید پیر زادہ کی سوشل میڈیا پر موجودگی کا مقصد اکثر اپنی ذاتی شہرت بڑھانا اور اس کے ذریعے مالی فائدہ حاصل کرنا نظر آتا ہے۔ انہوں نے مختلف ویڈیوز اور پوسٹس کے ذریعے ملک دشمنی ہر مبنی اپنی سرگرمیوں کو پیش کیا، اور پی ٹی آئی کے ساتھ ہمدردی دکھائی تا کہ وہ زیادہ مال بنا سکے ان کا مقصد صرف اور صرف شہرت اور مالی فوائد حاصل کرنا ہے۔

    سوشل میڈیا پر ایسی شخصیتوں کا وجود جو صرف شہرت اور مالی فوائد کی لالچ میں مبتلا ہوں،اور اسکے لئے ملک دشمنی سے بھی باز نہ آئیں ایسے افراد کو قانونی دائرے کے شکنجے میں لاکر سخت کاروائی کرنے کی ضرورت ہے۔ سوشل میڈیا ایک دو دھاری تلوار ہے۔ جہاں ایک طرف یہ لوگوں کو نئے مواقع فراہم کرتا ہے، وہیں دوسری طرف اس کا غلط استعمال بھی ہو سکتا ہے۔ معید پیر زادہ جیسے افراد اس بات کا زندہ ثبوت ہیں کہ کس طرح سوشل میڈیا کو ذاتی منفعت کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، لیکن ہمیں اس بات کا بھی دھیان رکھنا چاہیے کہ اس کے اثرات کا سامنا کبھی نہ ہو۔

    سوشل میڈیا کا لالچی گدھ ،معید پیر زادہ

    عمران خان جیل میں پاؤں پکڑنے کو تیار

    پارا چنار میں امن معاہدے کو سبو تاژ کرنے کی کوشش کرنے والا حاجی کریم پی ٹی آئی کا حامی

  • ڈیٹنگ ایپس پر 700 خواتین سے پیسہ بٹورنے والا 23 سالہ نوجوان گرفتار

    ڈیٹنگ ایپس پر 700 خواتین سے پیسہ بٹورنے والا 23 سالہ نوجوان گرفتار

    ایک نوجوان نے اپنے آپ کو امریکی ماڈل کے طور پر پیش کیا اور مختلف ڈیٹنگ ایپس پر 700 سے زیادہ خواتین کو چکر دے کر ان سے پیسہ بٹورا۔

    اس نوجوان کا نام تُشّار سنگھ بشٹ ہے، جو 23 سال کا ہے اور دلی کے شاکر پور علاقے سے تعلق رکھتا ہے۔ تُشّار نے اپنی روزانہ کی نوکری میں نجی کمپنی میں ٹیکنیکل ریکروٹر کے طور پر کام کیا، جبکہ رات کو وہ ایک امریکی ماڈل کی جعلی شخصیت اختیار کرتا تھا اور بھارت میں روحانی سفر پر آنے کا بہانہ کرتا تھا۔ تُشّار سنگھ بشٹ نے بزنس ایڈمنسٹریشن میں بیچلر کی ڈگری حاصل کی تھی اور گزشتہ تین سالوں سے نوئیڈا کی ایک نجی کمپنی میں ٹیکنیکل ریکروٹر کے طور پر کام کر رہا تھا۔ اس کا والد ایک ڈرائیور ہے، والدہ گھریلو خاتون ہیں اور اس کی بہن گڑگاؤں میں کام کرتی ہے۔ اس کے باوجود کہ تُشّار کے پاس ایک اچھی نوکری تھی، اس نے لالچ اور خواتین کے ساتھ اپنی بے ہودہ خواہشات کو پورا کرنے کے لیے سائبر کرائم کی دنیا میں قدم رکھا۔

    دھوکہ دہی کا طریقہ کار
    تُشّار نے ایک ایپ کے ذریعے ایک ورچوئل بین الاقوامی موبائل نمبر حاصل کیا اور پھر اس نمبر کا استعمال کرتے ہوئے مشہور ڈیٹنگ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسے بمل اور اسنیپ چیٹ پر جعلی پروفائلز بنائیں۔ اس نے اپنے آپ کو ایک امریکی فری لانس ماڈل کے طور پر پیش کیا، جو بھارت کے روحانی دورے پر تھا۔ تُشّار نے ایک برازیلی ماڈل کی تصاویر اور کہانیاں چوری کر کے ان کا استعمال کیا اور ان تصاویر کے ذریعے اپنی جعلی شخصیت کو حقیقت کا روپ دیا۔

    تُشّار کا ہدف خواتین تھیں جن کی عمریں 18 سے 30 سال کے درمیان تھیں۔ وہ ان خواتین سے ڈیٹنگ ایپس پر دوستی کرتا اور پھر ان سے ذاتی معلومات، فون نمبر اور عریاں تصاویر یا ویڈیوز مانگتا۔ ان خواتین کو اس بات کا علم نہیں تھا کہ تُشّار ان تصاویر کو اپنے فون میں محفوظ کر لیتا ہے۔ شروع میں یہ سب سرگرمیاں ذاتی تفریح کے طور پر کی جا رہی تھیں، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ یہ ایک منظم دھوکہ دہی اور بلیک میلنگ کی اسکیم میں بدل گئیں۔

    بلیک میلنگ اور پیسوں کا مطالبہ
    تُشّار ان عریاں تصاویر یا ویڈیوز کو بلیک میل کے طور پر استعمال کرتا تھا۔ اگر کوئی خاتون اس سے پیسہ دینے سے انکار کرتی تو وہ ان تصاویر کو آن لائن شیئر کرنے یا ڈیپ ویب پر فروخت کرنے کی دھمکیاں دیتا۔ اس نے بلیمل ایپس جیسے بمل، اسنیپ چیٹ اور واٹس ایپ پر 700 سے زائد خواتین کو اپنے جال میں پھنسایا۔

    ایک متاثرہ خاتون کا کیس
    ایک متاثرہ خاتون، جو دہلی یونیورسٹی کی دوسری سال کی طالبہ تھی، نے 13 دسمبر 2024 کو سائبر پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی۔ اس کا کہنا تھا کہ اس کی ملاقات تُشّار سے جنوری 2024 میں بمل پر ہوئی تھی، جہاں اس نے اپنے آپ کو امریکی ماڈل کے طور پر پیش کیا تھا۔ اس کے بعد دونوں کے درمیان واٹس ایپ اور اسنیپ چیٹ پر ذاتی بات چیت ہونے لگی، اور متاثرہ خاتون نے تُشّار کو اپنی ذاتی تصاویر اور ویڈیوز بھیج دیں۔ جب اس نے تُشّار سے ملنے کا کہا تو وہ مختلف بہانوں سے گریز کرتا رہا، اور پھر ایک دن اس نے اس کی ذاتی ویڈیوز بھیج کر پیسے مانگنا شروع کر دیے۔

    پولیس نے مغربی دہلی کے سائبر پولیس اسٹیشن میں ایک ٹیم تشکیل دی، جس کی نگرانی ای سی پی اروند یادو کر رہے تھے۔ ٹیکنیکل تجزیہ اور انٹیلیجنس کی مدد سے پولیس نے تُشّار کی سرگرمیوں کا سراغ لگایا اور اس کی شناخت کی۔ پولیس نے شاکر پور میں چھاپہ مارا اور تُشّار کو گرفتار کر لیا۔چھاپے کے دوران پولیس نے اس کے موبائل فون سے متعلقہ ڈیٹا، ایک ورچوئل بین الاقوامی موبائل نمبر، اور 13 مختلف بینکوں کی کریڈٹ کارڈز برآمد کیں۔ پولیس نے دہلی اور اس کے آس پاس کی خواتین کے ساتھ تُشّار کی 60 سے زائد واٹس ایپ چیٹس بھی ضبط کیں۔ ابتدائی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی کہ شکایت کنندہ کے علاوہ کم از کم چار دیگر خواتین نے بھی تُشّار سے اسی طرح کی بلیک میلنگ کا سامنا کیا تھا۔ تفتیش میں دو بینک اکاؤنٹس کی نشاندہی ہوئی جو تُشّار کے ساتھ جڑے ہوئے تھے۔ ایک اکاؤنٹ میں اس کی متاثرہ خواتین سے وصول کیے گئے پیسوں کے ریکارڈ ملے، جبکہ دوسرے اکاؤنٹ کی تفصیلات ابھی زیر تحقیقات ہیں۔تُشّار کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ اس کے دیگر ممکنہ شکاروں کا پتہ چلایا جا سکے۔

    ڈیٹنگ سائٹس،سوشل میڈیا،اپنے پیسے”دل” کو کیسے دھوکہ بازوں سے بچائیں؟

    66 سالہ خاتون "پیار” کے چکر میں ڈیٹنگ ایپس پر "لٹ” گئی

    ڈیٹنگ ایپس،ہم جنس پرستوں کے لئے بڑا خطرہ بن گئیں

  • ڈیٹنگ سائٹس،سوشل میڈیا،اپنے پیسے”دل” کو کیسے دھوکہ بازوں سے بچائیں؟

    ڈیٹنگ سائٹس،سوشل میڈیا،اپنے پیسے”دل” کو کیسے دھوکہ بازوں سے بچائیں؟

    آن لائن ڈیٹنگ سائٹس،سوشل میڈیا پر دھوکہ ہی دھوکہ، دھوکہ بازوں نے کئی خواتین کو لوٹ لیا،

    ڈیٹنگ ویب سائٹس اور سوشل میڈیا کا فائدہ اُٹھا کر دھوکہ باز اپنے فائدے کے لیے لوگوں سے روابط قائم کرتے ہیں۔ بعد ازاں آن لائن لوٹ مار کرتے ہیں،ڈیٹنگ ایپس پر "اعتماد کا دھوکہ” اُس وقت ہوتا ہے جب کوئی فراڈی شخص اپنی شناخت چھپاتے ہوئے، ایک جعلی آن لائن پروفائل بنا کر اپنے شکار کو ایک رومانی تعلق کے تحت اپنے اعتماد میں لیتا ہے۔ ایک بار یہ تعلق قائم ہونے کے بعد، اکثر متعدد افراد کے ساتھ آن لائن روابط استوار کرنے کے بعد، فراڈی شخص اپنے شکار کو ذاتی معلومات فراہم کرنے کے لیے مجبور کرتا ہے تاکہ وہ ان کی شناخت چوری کر سکے یا پھر پیسے مانگے۔

    اگر آپ جاننا چاہتے ہیں کہ کس طرح اپنے پیسے اور دل کو دھوکہ دہی سے بچایا جا سکتا ہے، تو سب سے اہم بات یہ ہے کہ کبھی بھی کسی ایسے شخص کو پیسے یا گفٹ کارڈ نہ بھیجیں جس سے آپ نے پہلے کبھی ملاقات نہ کی ہو۔ یہ درخواست ایک اسکیم کی نشانی ہو سکتی ہے۔

    ڈیٹنگ ایپس اور سوشل میڈیا پر بات چیت کے دوران ان علامات کو نظر انداز نہ کریں
    ملک سے باہر رہنے یا کام کرنے کا دعویٰ
    اگر آپ کا نیا دوست یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ کسی فوجی دستے کا حصہ ہے اور بیرون ملک تعینات ہے، یا پھر وہ تیل کی کسی پلیٹ فارم پر کام کرتا ہے یا بین الاقوامی تنظیم کے لیے ڈاکٹر ہے، تو یہ ایک اہم اشارہ ہو سکتا ہے کہ آپ کسی جعلساز کے ساتھ بات کر رہے ہیں۔ باہر کے ملک میں کام کرنے والی ملازمتیں اس کی شناخت کو تصدیق کرنا مشکل بنا دیتی ہیں۔

    جلدی محبت کا اظہار کرنا
    فراڈی شخص اکثر ابتدائی ملاقات کے چند دنوں یا ہفتوں بعد ہی "میں تم سے محبت کرتا ہوں” یا شادی کی پیشکش کر دیتا ہے۔ یہ دھوکہ باز جذباتی کمزوری کا فائدہ اُٹھا کر ذاتی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

    غیر مناسب تصاویر یا ویڈیوز کی درخواست کرنا
    تعلقات کی ابتداء کے بعد، آپ سے جلد ہی غیر مناسب تصاویر یا ویڈیوز مانگ سکتا ہے۔ اس کا مقصد آپ کو کسی نہ کسی طریقے سے بلیک میل کرنا یا فائل تیار کرنا ہو سکتا ہے۔

    پیسوں، گفٹ کارڈز یا دیگر تحفوں کی درخواست کرنا
    ڈیٹنگ ایپس یا سوشل میڈیا پر ملنے والا دوست،فراڈیا آپ سے پیسے بھیجنے، الیکٹرانک گفٹ کارڈز خریدنے، یا دیگر ایسی چیزوں کی درخواست کر سکتا ہے جن کا سراغ لگانا مشکل ہوتا ہے۔ یہ درخواستیں اکثر اس وقت کی جاتی ہیں جب وہ آپ سے یہ کہتے ہیں کہ انہیں بل ادا کرنے، کسی مشکل سے نکلنے یا آپ سے ملاقات کے لیے پیسوں کی ضرورت ہے۔

    اگر آپ کسی شخص کی جانب سے ان علامات میں سے کسی کا سامنا کرتے ہیں تو فوری طور پر رابطہ بند کر دیں اور اس کو رپورٹ کریں۔ آپ اپنے علاقے کے پولیس اسٹیشن، ایف آئی اے ،سائبر کرائم، پی ٹی اے کو اس دھوکہ دہی کی اطلاع دے سکتے ہیں۔ اگر آپ نے پیسہ یا گفٹ کارڈ بھیجے ہیں، تو اپنی تمام بات چیت کے ریکارڈ (ای میل، ٹیکسٹ میسجز، ڈیٹنگ ایپ کے پیغامات وغیرہ) کو محفوظ رکھیں تاکہ پولیس تفتیش کر سکے اور دھوکہ دہی کرنے والے کا پتہ لگا سکے۔

    ڈیٹنگ ایپس یا سوشل میڈیا کے بارے میں آگاہی اور احتیاطی تدابیر پر عمل کرتے ہوئے، آپ اپنے پیسے اور دل کو دھوکہ دہی سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔

    66 سالہ خاتون "پیار” کے چکر میں ڈیٹنگ ایپس پر "لٹ” گئی

    ڈیٹنگ ایپس،ہم جنس پرستوں کے لئے بڑا خطرہ بن گئیں

    خواتین کو بیہوش کر کے جنسی زیادتی ،ویڈیو بنانے والا ڈاکٹر گرفتار

  • غلط ہے توحکومت 9 سال سے ہم سے انٹرنیٹ کیوں بند کرواتی ہے، چیئرمین پی ٹی اے

    غلط ہے توحکومت 9 سال سے ہم سے انٹرنیٹ کیوں بند کرواتی ہے، چیئرمین پی ٹی اے

    پاکستان ٹیلی کمیونیکشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے چیئرمین حفیظ الرحمان نے کہا ہے کہ آج پہلی بار پتہ چلا کہ انٹرنیٹ کی بندش غلط ہوتی ہے۔

    سینیٹر پلوشہ خان کی زیرِ صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا اجلاس ہوا، اجلاس میں وزارت آئی ٹی اور پی ٹی اے نے انٹرنیٹ کی بندش اور اس سے متعلق مسائل پر بریفنگ دی۔چیئرمین پی ٹی اے نے مزید بتایا کہ پی ٹی اے کو روزانہ سوشل میڈیا پر مواد کی 500 شکایات موصول ہوتی ہیں، جس پر پی ٹی اے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو مواد بلاک کرنے کی درخواست کرتا ہے۔ تاہم، اجلاس کے دوران مختلف سینیٹرز نے انٹرنیٹ کی بندش کے قانونی پہلوؤں پر سوالات اٹھائے اور اس حوالے سے پی ٹی اے کے موقف کو چیلنج کیا۔

    سینیٹر کامران مرتضیٰ نے اجلاس کے دوران کہا کہ "ایکٹ میں کہاں لکھا ہے کہ کسی خاص علاقے میں انٹرنیٹ بلاک کرنا ہے؟” اس پر ممبر لیگل وزارت آئی ٹی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایکٹ میں کسی خاص علاقے میں انٹرنیٹ بند کرنے کا ذکر نہیں ہے۔ اس کے بعد چیئرمین پی ٹی اے حفیظ الرحمان نے وضاحت دی کہ رولز میں یہ ذکر کیا گیا ہے کہ وزارت داخلہ پی ٹی اے کو انٹرنیٹ کی بندش کی ہدایت دے سکتی ہے۔

    سینیٹر کامران مرتضیٰ نے سوال اٹھایا کہ اگر ایکٹ میں انٹرنیٹ بند کرنے کا جواز نہیں دیا گیا تو پی ٹی اے اس عمل کو کیسے قانونی بنا سکتا ہے؟ جس پر چیئرمین پی ٹی اے نے جواب دیا کہ اگر یہ غلط ہوتا تو حکومت نو سال سے پی ٹی اے کو انٹرنیٹ بند کرنے کی ہدایت کیوں دیتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ تاریخ اور وقت بتا سکتے ہیں جب انٹرنیٹ بند کیا گیا تھا۔سینیٹر ہمایوں مہمند نے اس بات پر زور دیا کہ رولز میں صرف سوشل میڈیا پر مواد کے حوالے سے بات کی گئی ہے، تاہم انٹرنیٹ کی بندش کے بارے میں کسی واضح ذکر کا فقدان ہے۔ اس پر چیئرمین پی ٹی اے نے کہا کہ اس حوالے سے حتمی قانونی رائے وزارت قانون اور وزارت داخلہ دے سکتی ہے۔چیئرمین پی ٹی اے نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے حکم پر کئی بار سوشل میڈیا ایپس بند کی گئی ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا 8 فروری کو ہونے والے الیکشن کے دوران انٹرنیٹ کی بندش بھی غلط تھی ، سپریم کورٹ کے حکم پر انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا ایپس کو بند کیا گیا۔بلوچستان میں ڈیجیٹل ہائی وے بنانا پڑے گا،انٹرنیٹ کی فراہمی کے لئے ڈیجیٹل ہائی وے بنانے پڑیں گے جب تک ڈیجیٹل ہائی وے نہیں بنائیں گے انٹرنیٹ ٹھیک نہیں ہوگا،صوبائی حکومتوں سے درخواست کریں کہ سہولت فراہم کریں یہاں تو کام شروع کرتے ہیں لوگ عدالت میں چلے جاتے ہیں

    سینیٹر کامران مرتضیٰ نے سوال کیا کہ کیا رولز ایکٹ سے آگے جا سکتے ہیں؟ اگر سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے تو کیا وزارت نے اس پر نظرثانی دائر کی ہے؟ اس پر سیکریٹری آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام نے بتایا کہ رولز کئی سال پہلے بنے تھے اور ان میں انٹرنیٹ کی بندش کے حوالے سے کسی نئی ترمیم یا نظرثانی کی ضرورت ہو سکتی ہے۔

    اس اجلاس میں مختلف سینیٹرز اور حکومتی اداروں کے نمائندگان کے درمیان بحث کا محور انٹرنیٹ کی بندش کے حوالے سے قانون، حکومت کی ہدایات اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کے اثرات تھے۔ اس بات پر اتفاق ہوا کہ اس معاملے پر مزید قانونی وضاحت کی ضرورت ہے، جس کے لیے وزارت قانون اور وزارت داخلہ کی مشاورت ضروری ہو گی۔یہ اجلاس اس بات کا غماز ہے کہ انٹرنیٹ کی بندش اور سوشل میڈیا پر مواد کی نگرانی ایک پیچیدہ قانونی اور انتظامی مسئلہ ہے جسے واضح قوانین اور ضوابط کی ضرورت ہے تاکہ اس حوالے سے آئندہ میں کسی قسم کی ابہام کی صورتحال پیدا نہ ہو۔

    قومی اسمبلی اجلاس،پیپلز پارٹی اراکین کی سست انٹرنیٹ پر حکومت پر سخت تنقید

    انٹرنیٹ اہم ضرورت لیکن پاکستان میں اس کی اسپیڈ کم ہے،شزہ فاطمہ

    انٹرنیٹ کی بندش،سست رفتاری نے پاکستانیوں کو پریشان کر دیا

    انٹرنیٹ کی سست رفتاری کا اثر فری لانسرز پر، کام میں 70 فیصد کمی

  • سوشل میڈیا کی دوستی،بھارتی نوجوان پاکستان پہنچ گیا

    سوشل میڈیا کی دوستی،بھارتی نوجوان پاکستان پہنچ گیا

    بھارت کی ریاست اتر پردیش کے ضلع علی گڑھ سے تعلق رکھنے والے ایک 30 سالہ نوجوان بادل بابو نے سوشل میڈیا پر پاکستانی لڑکی سے محبت میں گرفتار ہو کر غیر قانونی طور پر سرحد پار کی اور پاکستان پہنچ گیا۔

    بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، بادل بابو نے فیس بک پر ایک پاکستانی لڑکی سے دوستی کی تھی، جس کے بعد وہ اس لڑکی سے ملنے کے لیے سرحد عبور کر کے پاکستان پہنچا۔ پاکستانی حکام نے اُسے گرفتار کر لیا ہے اور اس وقت اس سے تفتیش جاری ہے۔رپورٹ کے مطابق، بادل بابو نے پاکستانی حکام کو بتایا کہ اس کی ملاقات اس پاکستانی لڑکی سے فیس بک پر ہوئی تھی، اور وہ اُسی سے ملنے کے لیے پاکستان آیا تھا۔ پاکستانی حکام اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ بادل بابو نے کس طرح سرحد پار کی اور کیا اس کے پاس قانونی دستاویزات تھے یا نہیں۔

    اس واقعہ نے ایک اور بار یہ سوال اٹھایا ہے کہ سوشل میڈیا اور آن لائن پلیٹ فارمز پر ہونے والی محبتوں کے باعث لوگ اپنی زندگیوں کو خطرے میں ڈال کر سرحدوں کو پار کرتے ہیں۔یہ پہلا واقعہ نہیں ہے جب کسی نے سوشل میڈیا کے ذریعے محبت کے نتیجے میں سرحد پار کی ہو۔ اس سے پہلے بھی متعدد افراد نے ایسی محبتوں کے نتیجے میں غیر قانونی طور پر سرحد عبور کی ہیں۔ سال 2023 میں، سیما حیدر نامی پاکستانی خاتون نے پب جی گیم پر بھارتی لڑکے سے دوستی کی اور اس کے بعد وہ اپنے چار بچوں کے ساتھ نیپال کے راستے بھارت پہنچ گئیں، جس کے بعد بھارتی پولیس نے انہیں گرفتار کر لیا تھا۔

    اسی سال، 19 سالہ پاکستانی لڑکی اقرا جیوانی کی دوستی 25 سالہ بھارتی شہری ملائم سنگھ یادیو سے آن لائن گیم کے ذریعے ہوئی۔ اس دوستی کے بعد دونوں نے نیپال میں شادی کر لی۔ اس طرح کے واقعات سوشل میڈیا کی محبتوں کے حوالے سے ایک نیا رجحان بن گئے ہیں جہاں افراد اپنی زندگیوں کے فیصلے آن لائن تعلقات کے نتیجے میں کرتے ہیں۔

    پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات ہمیشہ کشیدہ رہے ہیں، اور سرحد پار محبت کی کہانیاں دونوں ممالک میں خبریں بن چکی ہیں۔ گزشتہ سال ایک بھارتی لڑکی انجو نے فیس بک پر دوستی کے بعد پاکستان آ کر دیر بالا میں پاکستانی نوجوان نصر اللہ سے نکاح کیا تھا۔ ایسے واقعات معاشرتی اور سیاسی سطح پر دونوں ممالک میں بحث کا موضوع بنتے ہیں۔

    ان واقعات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ سوشل میڈیا نے محبت اور تعلقات کے تصور کو نئی جہت دی ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان تعلقات کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مشکلات بھی سامنے آئی ہیں۔ سرحدوں کے پار جانے والے افراد کو قانونی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور بعض اوقات ان کی زندگیاں خطرے میں بھی آ جاتی ہیں۔پاکستانی حکام اس وقت بادل بابو کی تفتیش کر رہے ہیں اور یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا وہ کسی اور مقصد کے لیے سرحد پار کر کے آیا تھا یا صرف محبت کی وجہ سے ایسا کیا۔ اس واقعہ نے ایک بار پھر اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ سوشل میڈیا کا اثر افراد کی ذاتی زندگیوں پر کتنا گہرا ہوتا جا رہا ہے۔

    مری میں بارش متوقع،پنجاب میں دھند،سندھ میں موسم سرد،خشک

    جاپانی فحش فلموں کی اداکارہ کی دورہ لاہور کی تصاویر وائرل

  • ٹرمپ کی نامزد کابینہ کو بیانات دینے سے روک دیا گیا

    ٹرمپ کی نامزد کابینہ کو بیانات دینے سے روک دیا گیا

    امریکا کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کابینہ کے نامزد ارکان کو سوشل میڈیا پر بیانات دینے سے روک دیا گیا
    امریکا کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی کابینہ میں شامل ہونے والے ممکنہ ارکان کو سخت ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ اپنے ناموں کی توثیق کے عمل سے قبل سوشل میڈیا پر کسی قسم کے بیانات یا تبصرے نہ کریں۔

    یہ ہدایات ٹرمپ کی انتخابی مہم کی منیجر سوسی وائلز نے جاری کیں، جو کہ ٹرمپ کے وائٹ ہاؤس کی نئی چیف آف اسٹاف ہوں گی۔ انہوں نے ایک میمو میں کابینہ کے ارکان کو متنبہ کیا کہ وہ وائٹ ہاؤس کے نئے قانونی مشیر، ڈیوڈ وارنگٹن کی اجازت کے بغیر سوشل میڈیا پر کوئی پوسٹ یا بیان نہ دیں۔مذکورہ میمو میں کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا کے ذریعے کسی بھی غیر مناسب یا متنازعہ بیان سے بچنا ضروری ہے تاکہ کابینہ کی توثیق کے عمل میں کسی قسم کی مشکلات یا رکاوٹیں پیدا نہ ہوں۔

    یہ فیصلہ اس بات کا غماز ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اپنے نامزد کابینہ ارکان کے ہر اقدام پر سخت نگرانی رکھے گی، خاص طور پر ایسے مواقع پر جب ان کی توثیق کا عمل شروع ہونے والا ہو۔نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈیوڈ وارنگٹن کو وائٹ ہاؤس کے نئے کاونسل کے طور پر منتخب کیا ہے، جو کابینہ کے ارکان کی قانونی مشاورت کا ذمہ دار ہوں گے۔

    اس سے قبل سوشل میڈیا پر ایلون مسک اور وویک رام سوامی کے درمیان ایچ ون بی ویزا کی قانونی حیثیت پر بحث چھڑی تھی۔ مسک اور رام سوامی دونوں نے ایچ ون بی ویزا کی حمایت کی تھی، جبکہ اسٹیو بینن اور ٹرمپ کے دیگر قریبی ساتھیوں نے اس ویزا کے خلاف اپنی مخالفت ظاہر کی تھی۔ یہ بحث اس بات کو مزید پیچیدہ بناتی ہے کہ نئے کابینہ ارکان کو ایسی حساس موضوعات پر غیر رسمی بیانات دینے سے گریز کرنا ہوگا۔

    ٹرمپ کی انتظامیہ کا یہ اقدام اس بات کا اشارہ ہے کہ سوشل میڈیا کا استعمال کابینہ کے ارکان کے لیے ایک حساس مسئلہ بن چکا ہے، اور حکومت کی ساکھ کو برقرار رکھنے کے لیے یہ ضروری سمجھا جا رہا ہے کہ ہر بیان یا موقف کا بغض سے تجزیہ کیا جائے۔کابینہ کی توثیق کا عمل اگلے ہفتے شروع ہونے کا امکان ہے، اور اس وقت تک یہ ممکنہ ارکان سوشل میڈیا پر اپنی کسی بھی پوسٹ سے گریز کرتے ہوئے اپنی توثیق کی کوششوں کو سست روی سے آگے بڑھائیں گے۔

    کراچی،پولیس افسر کے بیٹے کی گاڑی کی ٹکر سے خاتون زخمی

    پاک روس مضبوط ہوتے رشتے اور امریکی پابندیاں

  • سوشل میڈیا کی دوستی،  منڈی بہاؤالدین پہنچنے والا بھارتی گرفتار

    سوشل میڈیا کی دوستی، منڈی بہاؤالدین پہنچنے والا بھارتی گرفتار

    سوشل میڈیا پر دوستی کی ایک اور حیران کن داستان سامنے آئی ہے، جہاں ہمسایہ ملک بھارت کا رہائشی مجنوں اپنی لیلیٰ کو پانے کے لیے پاکستانی سرزمین تک پہنچ گیا۔

    بھارتی شہری بادل بابو ولد کرپال سنگھ، جو کہ بھارت کے صوبہ پنجاب کے علاقے سے تعلق رکھتا ہے، سوشل میڈیا پر نواحی گاؤں مونگ کی رہائشی لیلیٰ کے ساتھ دوستی کی تھی۔بتایا گیا ہے کہ بادل بابو کی لیلیٰ کے ساتھ سوشل میڈیا پر تعلقات اتنے بڑھ گئے کہ وہ اپنی محبوبہ سے ملنے کے لیے پاکستان پہنچ آیا۔ اس نے بغیر کسی قانونی سفری دستاویزات کے پاکستان کی سرحد عبور کی اور مونگ کے قریب ایک مقام پر قیام کیا۔جب مقامی لوگوں کو اس بھارتی شہری کی موجودگی کا علم ہوا، تو انھوں نے فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی۔ پولیس تھانہ صدر نے فوری کارروائی کرتے ہوئے بادل بابو کو گرفتار کر لیا اور اسے حوالات میں بند کر دیا۔ پولیس نے اس کے خلاف فارن ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔

    مقدمہ سب انسپکٹر غلام رضا کی مدعیت میں درج کیا گیا، جس میں کہا گیا کہ گرفتار بھارتی شہری پولیس کو پاکستان میں قیام کے حوالے سے کوئی قانونی دستاویزات فراہم نہیں کر سکا۔ پولیس حکام کے مطابق بادل بابو کے خلاف کارروائی جاری ہے اور اسے قانونی کارروائی کے بعد عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

    یہ واقعہ سوشل میڈیا کے ذریعے پیدا ہونے والی محبت اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے قانونی مسائل کی عکاسی کرتا ہے، جو کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں پیچیدگیاں پیدا کر سکتے ہیں۔ پولیس حکام نے عوام کو اس بات کا مشورہ دیا ہے کہ وہ غیر قانونی طریقے سے کسی دوسرے ملک جانے کی کوشش نہ کریں، کیونکہ ایسا عمل نہ صرف قانون کے خلاف ہے بلکہ اپنی زندگی کو بھی خطرے میں ڈال سکتا ہے۔مقامی عوام اس واقعے کو ایک سنگین صورتحال کے طور پر دیکھ رہے ہیں، کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان سیکیورٹی اور سفری قوانین کی سختی کے باوجود ایسی کوششوں کا ہونا ایک سنگین نوعیت کی بات ہے۔

    جنوبی کوریا،طیارہ حادثے میں شکار مسافر کی آخری گفتگو

    سابق امریکی صدر جمی کارٹر کی وفات،جوبائیڈن سمیت سابق صدور کا اظہار تعزیت

  • سوشل میڈیا پر جھوٹا پروپیگنڈا ، 11 ملزمان کو نوٹسز جاری

    سوشل میڈیا پر جھوٹا پروپیگنڈا ، 11 ملزمان کو نوٹسز جاری

    سوشل میڈیا پر جھوٹا پروپیگنڈا ، آئی جی اسلام آباد نے11 ملزمان کو نوٹسز جاری کر دیے

    نوٹسز ملزم صبغت اللہ ورک، محمد ارشد، عطاالرحمان، اظہر مشوانی ، عروسہ ندیم شاہ ، محمد علی ملک ، شاہ زیب ورک، موسی ورک ، اکرام کٹھانہ، تقویم صدیق اور محمد نعمان افضل کو جاری کئے گئے , نوٹس میں جے آئی ٹی نے ملزمان کو 24 دسمبر کو طلب کر رکھا ہے۔ ان ملزمان نےسوشل میڈیا پر جھوٹے پروپگنڈےکے ذریعے پاکستان میں انتشار پھیلایا۔ وفاقی حکومت نے سوشل میڈیا پر جرائم کی روک تھام کے لئے ایکٹ 2016 کے سیکشن 30 کے مطابق آئی جی پولیس کے ماتحت ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل دی۔ جے آئی ٹی ملزمان اور ان کے ساتھیوں کے پسِ پردہ مقاصد کا تعین کرنے کے لیے معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔ مزید مجرموں کی شناخت اور ان کے خلاف قابل اطلاق قوانین کے تحت کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔ جے آئی ٹی کے پاس ملزمان کے خلاف ٹھوس شواہد بھی موجود ہیں۔

    سوشل میڈیا کے غلط استعمال میں پی ٹی آئی کے لیڈر کا ہاتھ ہے،شرجیل میمن

    قرآن کے نام پر سوشل میڈیاپر فراڈ

    نازیبا ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ٹک ٹاکر مناہل ملک کی سوشل میڈیا پر واپسی

    سوشل میڈیا پر نازیبا تصاویر کے ذریعےخاتون کو بلیک میل کرنیوالا گرفتار

    سوشل میڈیا پر پروپیگنڈہ، ایف آئی اے متحرک،154مقدمے،30 گرفتار