Baaghi TV

Tag: سوشل میڈیا

  • ریاست کیخلاف پروپیگنڈہ،شناخت کیلئے ٹاسک فورس قائم

    ریاست کیخلاف پروپیگنڈہ،شناخت کیلئے ٹاسک فورس قائم

    وزیراعظم شہباز شریف کے احکامات پر پاکستان کے خلاف پروپیگنڈے اور جھوٹے الزامات کا سامنا کرنے والی شخصیات و عناصر کی شناخت کے لیے ایک جوائنٹ ٹاسک فورس قائم کردی گئی ہے۔ یہ ٹاسک فورس مختلف سیکیورٹی اور تحقیقاتی اداروں کے اعلیٰ افسران پر مشتمل ہے اور اس کا مقصد حالیہ احتجاجات اور نازیبا پروپیگنڈے میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کرنا ہے۔

    وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق یہ جوائنٹ ٹاسک فورس پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے چیئرمین کی سربراہی میں تشکیل دی گئی ہے۔ اس ٹاسک فورس میں 10 اہم اداروں کے نمائندے شامل ہیں، جن میں پاکستان کی ایجنسیوں کے افسران بھی شامل ہیں۔ٹاسک فورس کی سربراہی چیئرمین پی ٹی اے کریں گے جبکہ آئی ایس آئی، ایم آئی کا رکن، ڈی آئی جی اسلام آباد پولیس،ڈائریکٹر ایف آئی اے سائبر کرائم،جوائنٹ ڈائریکٹر آئی بی ،جوائنٹ سیکرٹری وزارت داخلہ،وزارت اطلاعات کا رکن ٹاسک فورس کے اراکین میں شامل کیے گئے ہیں

    جوائنٹ ٹاسک فورس کا بنیادی مقصد حالیہ احتجاجات کے دوران پاکستان کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈہ پھیلانے والے افراد کی نشاندہی کرنا ہے۔ یہ ٹاسک فورس سوشل میڈیا، ویب سائٹس اور دیگر میڈیا پلیٹ فارمز پر پھیلائے جانے والے جھوٹے پروپیگنڈے کو ٹریک کرے گی تاکہ ملوث عناصر کا پتہ چلایا جا سکے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکے۔ٹاسک فورس کو اپنے کام کے لیے 10 دن کی مہلت دی گئی ہے، اس دوران وہ اس پروپیگنڈے میں ملوث افراد کے بارے میں مکمل تحقیق کرے گی اور اپنی سفارشات حکومت کو پیش کرے گی۔ حکومت اس رپورٹ کی بنیاد پر آئندہ کے لیے ضروری اقدامات کرے گی تاکہ پاکستان کے خلاف پھیلائے جانے والے جھوٹے پروپیگنڈے کو روکا جا سکے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ حکومت ملک میں انتشار اور بدامنی پھیلانے والے افراد کے خلاف سخت کارروائی کرے گی۔ پاکستان کی سالمیت اور عزت کا دفاع کرنے کے لیے تمام متعلقہ ادارے مل کر کام کریں گے اور پروپیگنڈے کو بے نقاب کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔

    social

    پی ٹی آئی کا ایک اور گھناؤنا دھندہ،پولیس افسران کیخلاف مہم، ایکشن کی ضرورت

    پاکستان میں سوشل میڈیا پر فحش مواد دیکھنےکا رجحان بڑھنے لگا

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک نے دیا مداحوں کو پیغام

    پولیس لائن حملہ،دہشتگرد کی سوشل میڈیا سے ہوئی بھرتی،سیکورٹی اداروں کی بڑی کامیابی

    بھارت میں سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کیلئے اختیارات فوج کے سپرد

    عوام کو سوشل میڈیا کے ذریعے ریاست کیخلاف اکسانے والا گرفتار

    سوشل میڈیا پروپیگنڈہ،افواہیں پھیلانے والوں کے گرد گھیرا تنگ،اہم منظوری

    سوشل میڈیا لائیکس اور ڈسلائیکس کیلئے اداروں سے کھیلا جا رہا ہے،چیف جسٹس

  • افسران کی تربیت کیلئے بھارتی فوج نے ڈیجیٹل پلیٹ فارم شروع کر دیا

    افسران کی تربیت کیلئے بھارتی فوج نے ڈیجیٹل پلیٹ فارم شروع کر دیا

    بھارتی فوج نے "ایکلاویا” آن لائن ڈیجیٹل پلیٹ فارم کا آغاز کر دیا

    بھارت کی فوج کے سربراہ جنرل اپندر دویدی نے "ایکلاویا” نامی آن لائن تعلیمی پلیٹ فارم کا آغاز کیا۔ یہ اقدام بھارتی فوج کی "تبدیلی کی دہائی” کی حکمت عملی کے تحت اٹھایا گیا ہے، جیسا کہ بھارتی چیف آف آرمی اسٹاف کی جانب سے وژن پیش کیا گیا ہے، اور 2024 کو بھارتی فوج کا "ٹیکنالوجی کو اپنانے کا سال” قرار دیا گیا ہے۔

    "ایکلاویا” ایک جدید سافٹ ویئر پلیٹ فارم ہے جسے بھارتی فوج کی ہیڈکوارٹر آرمی ٹریننگ کمانڈ کے زیر اہتمام اور آرمی وار کالج کے تعاون سے تیار کیا گیا ہے۔ اس پلیٹ فارم کو "بھاسکرچاریا نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اسپیس ایپلیکیشنز اینڈ جیو انفارمیٹکس” (BISAG-N) گاندھی نگر کے تعاون سے بغیر کسی خرچ کے تیار کیا گیا ہے، اور اس میں فوجی نظام اطلاعات کے ڈائریکٹوریٹ جنرل کی معاونت بھی شامل ہے۔یہ پلیٹ فارم آرمی ڈیٹا نیٹ ورک پر ہوسٹ کیا گیا ہے اور اس کا ڈھانچہ ایسا ہے کہ یہ بھارتی فوج کے مختلف تربیتی اداروں کو ایک ساتھ مربوط کر سکتا ہے، ہر ادارہ متعدد کورسز کی میزبانی کے قابل ہے۔ اس پلیٹ فارم پر پہلے ہی بھارتی فوج کے 17 کیٹیگری ‘اے’ تربیتی اداروں کے 96 کورسز موجود ہیں۔

    "ایکلاویا” پلیٹ فارم پر تین اقسام کے کورسز موجود ہیں:
    پری-کورس تیاری کی کیپسولز: یہ وہ مواد ہے جو مختلف کیٹیگری ‘اے’ تربیتی اداروں میں آف لائن کورسز کے دوران استعمال ہوتا ہے۔ اس کا مقصد بنیادی مواد کو آن لائن منتقل کرنا ہے تاکہ جسمانی کورسز میں زیادہ جدید مواد شامل کیا جا سکے اور اس کا فوکس عملی اطلاق پر ہو۔

    مخصوص تقرری یا اسائنمنٹ کے حوالے سے کورسز: یہ کورسز خصوصی اسائنمنٹس پر پوسٹنگ کے دوران افسران کو متعلقہ میدان میں تربیت فراہم کرنے کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں۔ مثال کے طور پر، معلوماتی جنگ، دفاعی اراضی کے انتظام، مالی منصوبہ بندی، نظم و ضبط، پرووسٹ، وغیرہ جیسے شعبوں میں تربیت دی جائے گی۔

    پروفیشنل ڈیولپمنٹ سوئٹ: اس کیٹگری میں اسٹریٹجی، آپریشنل آرٹ، قیادت، تنظیمی رویہ، مالیات، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز وغیرہ پر کورسز شامل ہیں۔

    "ایکلاویا” کا "نالج ہائی وے”
    اس پلیٹ فارم میں ایک "نالج ہائی وے” کی خصوصیت بھی شامل ہے، جس کے ذریعے مختلف تحقیقی مضامین، جریدے، اور آرٹیکلز ایک واحد ونڈو کے تحت دستیاب ہوں گے۔ اس کا مقصد فوجی افسران کو مسلسل پیشہ ورانہ تعلیم حاصل کرنے میں مدد فراہم کرنا ہے، جس سے موجودہ جسمانی کورسز کی بھاری تعداد کو کم کیا جا سکے گا اور ان میں نئے اور ابھرتے ہوئے تصورات کو شامل کیا جا سکے گا۔

    "ایکلاویا” پلیٹ فارم بھارتی فوج میں پیشہ ورانہ تعلیم کی سطح کو بلند کرنے، افسران کو جدید جنگی نظریات اور تکنیکی مہارتوں سے لیس کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ اس کے ذریعے فوجی افسران کی تربیت کو نہ صرف معیاری بنایا جائے گا بلکہ وہ نئی تقرریوں اور اسائنمنٹس کے لیے بھی بہتر طور پر تیار ہوں گے۔یہ پلیٹ فارم افسران کو ان کی خدمات کے دوران کبھی بھی کسی بھی کورس کے لیے رجسٹر کرنے کی آزادی فراہم کرتا ہے، جس سے ان کے سیکھنے کے مواقع میں اضافہ ہوتا ہے اور وہ اپنی مہارتوں کو بہتر طور پر نکھار سکتے ہیں۔

    پیسے دے کر کہا گیا دھرنے میں جا کر آگ لگانی ،گرفتار شرپسندوں کے انکشاف

    پی ٹی آئی مظاہرین کے تشدد سے متاثرہ پنجاب رینجرز کے جوانوں کے انکشافات

    سروسز بیچنے والیوں سے مجھے یہ فتوی نہیں چاہیے،سلمان اکرم راجہ کا بشریٰ کو جواب

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کے حوالے سے جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب

    احتجاج ،ناکامی کا ذمہ دار کون،بشریٰ پر انگلیاں اٹھ گئیں

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کا دعویٰ فیک نکلا،24 گھنٹے گزر گئے،ایک بھی ثبوت نہیں

    مظاہرین کی اموات کی خبر پروپیگنڈہ،900 سے زائد گرفتار

    شرپسند اپنی گاڑیاں ، سامان اور کپڑے چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں ،عطا تارڑ

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

    انتشار،بدامنی پی ٹی آئی کا ایجنڈہ،بشریٰ بی بی کی "ضد”پنجاب نہ نکلا

  • پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا بھی "وڑ”گیا

    پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا بھی "وڑ”گیا

    پاکستان تحریک انصاف کی سیاسی حکمت عملی میں دھرنوں، جلسوں، اور مظاہروں کا کردار ہمیشہ اہم رہا ہے، مگر حالیہ دنوں میں نہ صرف پی ٹی آئی احتجاجی سرگرمیاں کمزور پڑتی نظر آ رہی ہیں بلکہ سوشل میڈیا پر بھی پارٹی کا وہ اثر نظر نہیں آ رہا جو ماضی میں ہوتا تھا۔

    پی ٹی آئی نے ماضی میں سوشل میڈیا کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا۔ ان کے بیانیے کی ترویج اور مخالفین پر تنقید کے لیے یہ پلیٹ فارم مرکزی ہتھیار کے طور پر استعمال ہوا۔ یہ ایک ایسی جماعت کے طور پر ابھری جو روایتی میڈیا کی بجائے ڈیجیٹل میدان میں کامیابی کے جھنڈے گاڑنے میں مہارت رکھتی تھی۔ تاہم حالیہ دنوں میں نہ صرف زمینی احتجاج میں کمی دیکھی جا رہی ہے بلکہ سوشل میڈیا پر بھی پارٹی کا رنگ پھیکا پڑتا دکھائی دے رہا ہے۔ وہ جماعت جو ٹویٹر پر ٹرینڈز بناتی تھی، فیس بک پر لاکھوں کی ریچ حاصل کرتی تھی، اور یوٹیوب پر لاکھوں ویوز جمع کرتی تھی، آج کل کمزور دکھائی دے رہی ہے۔پی ٹی آئی اب سوشل میڈیا پر وہ بیانیہ بنانے میں کامیاب نہیں ہو پا رہی جو پہلے بناتی تھی،پی ٹی آئی کی پارٹی کی اندرونی تقسیم اور اہم رہنماؤں کی گرفتاری یا خاموشی ممکنہ وجوہات ہو سکتی ہیں،حکومتی سطح پر سوشل میڈیا پر عائد کردہ ممکنہ پابندیوں کی وجہ سے بھی پی ٹی آئی سوشل میڈیا ٹیم مشکلات کا شکار ہے،انتشار اور نفرت کی سیاست کی وجہ سے عوام، خاص طور پر نوجوان، ماضی کی طرح سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کی سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لے رہے جس کی وجہ سے پی ٹی آئی سوشل میڈیا پر بہت پیچھے جا چکی ہے

    پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا محاذ پر اثر کم ہونے کی وجوہات میں تنظیمی مسائل، حکومتی دباؤ، اور عوامی دلچسپی میں کمی شامل ہو سکتی ہے وہیں پی ٹی آئی رہنماؤں کے آپسی اختلافات، علیمہ، بشریٰ کی لڑائی، گنڈا پور ،بشری کی لڑائیاں اور پارٹی رہنماؤں کی ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی کی وجہ سے بھی سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کارکنان مایوس ہو چکے ہیں،کارکنان کو سمجھ نہیں آتی کہ وہ کس کے بیانئے کو لے کر چلیں،عمران خان تو جیل میں ہیں اور ان سے ملاقاتیں کرنے والے پارٹی رہنماؤں کا مؤقف الگ الگ ہوتا ہے، جس سے پی ٹی آئی کو بیانیہ بنانے میں مشکل پیش آتی ہے.

    عمران خان کی جانب سے "فائنل کال” پنجاب میں "مس کال” بن گئی

    پی ٹی آئی احتجاج،خیبر پختونخوا سے 12 سو سے زائد چھوٹی بڑی گاڑیاں،شرکا کی تعداد

    برطانیہ،عمران خان کی رہائی کیلئے پی ٹی آئی کا تاریخی احتجاج

    پی ٹی آئی احتجاج،قیادت بشریٰ بی بی نے سنبھال لی،کینٹینر پر چڑھ گئیں

    پی ٹی آئی احتجاج، بشریٰ تو آ گئیں، علیمہ خان منظر سے غائب

    اسلام آباد، مظاہرین پتھراؤ سے متعدد پولیس اہلکار زخمی

    24 نومبردن ختم،لاہورسے نہ قافلہ نکلا نہ کوئی بڑا مظاہرہ

    سپریم کورٹ پر حملہ کرنے والوں کو سزا مل جاتی تو نومئی نہ ہوتا، مبشرلقمان

    بشریٰ کو خون چاہیے،مولانا کو 3 میسج کس نے بھجوائے؟

    بشریٰ کا خطاب،عمران خان تو”وڑ” گیا. مبشر لقمان

    خود گرفتاریاں دے رہے،پی ٹی آئی قیادت کہیں نظر نہیں آرہی،مصدق ملک

    گاڑیوں میں بیٹھیں،تیز چلیں، خان کو لئے بغیر واپس نہیں آنا، بشریٰ بی بی کا شرکا سے خطاب

  • سیاسی میدان  میں شکست،پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا پر اشتعال انگیزی

    سیاسی میدان میں شکست،پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا پر اشتعال انگیزی

    پی ٹی آئی کی جانب سے 24 نومبر کی احتجاجی کال سے ایک دن قبل اعلیٰ سرکاری افسران کے خلاف ایک منظم سوشل میڈیا مہم چلائی۔ یہ مہم آئی جی اسلام آباد علی رضا رضوی، آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور، سی سی پی او لاہور، اور ڈی آئی جی لیاقت ملک کے خلاف مختلف پلیٹ فارمز پر چلائی گئی۔ پی ٹی آئی کے تمام آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹس بشمول واٹس ایپ، ٹوئٹر، فیس بک، تھریڈز، اور انسٹاگرام پر یہ مہم جاری رہی۔ اس مہم کا مقصد ان افسران کو تحریک انصاف کے خلاف ہونے والے مبینہ تشدد کا ذمہ دار ٹھہرانا تھا اور عوام کو ان کے خلاف اکسایا گیا۔

    پولیس افسران کے خلاف اس سوشل میڈیا مہم میں تحریک انصاف نے صرف اور صرف احتجاج کی کال اور سکیورٹی انتظامات کو ٹارگٹ کرنے کے لیے ان پولیس افسران پر تنقید کر کے کمزوری کا ثبوت دیا۔ تحریک انصاف نے ان افسران پر بے بنیاد الزامات لگائے اور ان کے خلاف اشتعال انگیز بیانات دیے، جو قانونی طور پر "ڈیفیمیشن” اور "انسائٹمنٹ ٹو وائلنس” کے زمرے میں آتا ہے۔

    پی ٹی آئی کی جانب سے پولیس افسران کے خلاف سوشل میڈیا پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ ریاستی ادارے اس مہم کے خلاف ایکشن کیوں نہیں لے رہے۔ جب ایک سیاسی جماعت سرکاری افسران کو نشانہ بنا کر عوام میں انتشار پھیلانے کی کوشش کر رہی ہے تو کیا ریاست اس مہم کے ماسٹر مائنڈز کے خلاف کوئی کارروائی کرے گی؟سیاسی جماعت سوشل میڈیا کے ذریعے انتشار پھیلا رہی ہے تو کیا ریاست ایسی سیاسی جماعت کے آفیشل اکاؤنٹ سے چلنے والی کمپین کے خلاف ایکشن لے گی یا نہیں؟ اگر ریاست ان مہمات کے خلاف ایکشن نہیں لیتی تو یہ آئندہ کے لیے ایک خطرناک مثال بن سکتی ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک صارف ابوبکر نے لکھا کہ ریاستی ادارے کب تک خاموش تماشائی بنے رہیں گے؟‼️پی ٹی آئی کی جانب سے سوشل میڈیا پر بہادر پولیس افسران کی تصاویر اس طرح شیئر کی جا رہی ہیں جیسے وہ دہشت گرد ہوں۔ یہ نہ صرف ان افسران بلکہ ان کے خاندانوں کو بھی خطرے میں ڈال رہا ہے۔ایک جماعت ملک کے محافظوں کو نشانہ بنا کر پاکستان کو مذاق بنا رہی ہے، اور اب تو افسران کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔

    نعمان قیصر کا ایکس پر کہنا تھا کہ پی ٹی آئی اب سیاسی میدان میں شکست کھانے کے بعد ریاستی اداروں کے اعلی افسران و عہدیداران کے خلاف گھٹیا مہم اور ذاتی دشمنی جیسے حملے کر رہی ہے،زیر نظر ملاحظہ کر سکتے ہیں کہ پولیس افسران کی تصاویر پی ٹی آئی آفیشل سائٹ سے ایسے شئر کی جا رہی ہیں جیسے یہ دہشت گرد ہوں

    https://twitter.com/NomanqaiserS/status/1860390047545196722

    عدنان کہتے ہیں کہ پی ٹی آئی کے ڈیجیٹل گینگ کی ایک اور سازش،پولیس کو بدنام کرنے کے لیے بہادر افسران کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کر کے جھوٹا پروپیگنڈا پھیلانے کی کوشش۔

    بلوچستان کے سابق نگران وزیر اطلاعات جان اچکزئی کہتے ہیں کہ ان پیغامات کی وجہ یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے آفیشل واٹس ایپ گروپ اور دیگر پلیٹ فارمز نے ان پولیس افسران کے خلاف ایک منفی مہم چلائی۔
    ہمیں پوچھنے کی ضرورت ہے کہ کیا یہ کیلے کی ریاست ہے جہاں کوئی بھی ریاستی اہلکاروں کو دھمکا سکتا ہے / ہراساں کر سکتا ہے اور اس کی کو ہی پکڑ نہیں۔ ریاست کے خلاف اس گھناؤنے جرم کے مرتکب افراد کے خلاف ٹھوس کارروائی کیوں نہیں کی جاتی؟

    پی ٹی آئی کا ایک اور گھناؤنا دھندہ،پولیس افسران کیخلاف مہم، ایکشن کی ضرورت

    پاکستان میں سوشل میڈیا پر فحش مواد دیکھنےکا رجحان بڑھنے لگا

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک نے دیا مداحوں کو پیغام

    پولیس لائن حملہ،دہشتگرد کی سوشل میڈیا سے ہوئی بھرتی،سیکورٹی اداروں کی بڑی کامیابی

    بھارت میں سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کیلئے اختیارات فوج کے سپرد

    عوام کو سوشل میڈیا کے ذریعے ریاست کیخلاف اکسانے والا گرفتار

    سوشل میڈیا پروپیگنڈہ،افواہیں پھیلانے والوں کے گرد گھیرا تنگ،اہم منظوری

    سوشل میڈیا لائیکس اور ڈسلائیکس کیلئے اداروں سے کھیلا جا رہا ہے،چیف جسٹس

  • پی ٹی آئی کا ایک اور گھناؤنا دھندہ،پولیس افسران کیخلاف مہم، ایکشن کی ضرورت

    پی ٹی آئی کا ایک اور گھناؤنا دھندہ،پولیس افسران کیخلاف مہم، ایکشن کی ضرورت

    تحریک انصاف باز نہ آئی،ملک دشمن اقدامات پی ٹی آئی کا وطیرہ بن چکے اداروں کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے چلائی جانے لگی،پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا ہینڈلز نے پنجاب اور اسلام آباد کے سینئر پولیس افسران کے خلاف ایک منظم مہم کا آغاز کیا ہے۔ اس مہم کا مقصد ریاستی اداروں کو بدنام کرنا اور ان افسران کو دھمکیاں دینا ہے۔پی ٹی آئی کی جانب سے پولیس افسران کے خلاف مہم واٹس ایپ، فیس بک، ایکس،تھریڈز،پر چلائی جا رہی ہے،پی ٹی آئی کی جانب سے آئی جی پنجاب عثمان انور،آئی جی اسلام آبادعلی رضا رضوی،ڈی آئی جی لیاقت ملک، سی سی پی او لاہوربلال صدیق کمیانہ کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلائی جا رہی ہے

    اطلاعات کے مطابق، پی ٹی آئی کے واٹس ایپ گروپس اور دیگر آن لائن فورمز کے ذریعے پولیس افسران کے خلاف جھوٹے الزامات اور پروپیگنڈہ مواد پھیلایا جا رہا ہے۔ اس مہم کا مقصد پولیس افسران کی عزت کو مجروح کرنا اور ریاستی اداروں کے وقار کو نقصان پہنچانا ہے۔ یہ صورتحال ایک سنگین سوال اٹھاتی ہے کہ کیا پاکستان ایک "بنانا ریپبلک” بن چکا ہے، جہاں کوئی بھی بغیر کسی خوف کے ریاستی اہلکاروں کو دھمکیاں دے سکتا ہے اور ان کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈہ کر سکتا ہے؟ کیا اس گھناونے جرم کے مرتکب افراد کے خلاف سخت کارروائی نہیں ہونی چاہیے؟ریاست کو چاہیے کہ وہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لے اور ان عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کرے جو ریاستی افسران کو ہراساں کرنے اور ریاستی اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچانے میں ملوث ہیں۔ یہ وقت ہے کہ سخت اقدامات کے ذریعے یہ پیغام دیا جائے کہ قانون سے کوئی بالاتر نہیں۔پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا ہینڈلر اور مہم چلانے والوں کے خلاف کاروائی ہونی چاہئے، تا کہ آئندہ ایسے واقعات نہ ہو سکیں

    پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا ونگ کی جانب سے چلائی جانے والی اس مہم میں پولیس افسران کی تصاویر بھی شیئر کی گئی ہیں،پولیس افسران کے خلاف پی ٹی آئی سوشل میڈیا کی یہ منظم مہم قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ساکھ کو متاثر کرنے کی کوشش ہے، جو کسی صورت قابل قبول نہیں ہے سوشل میڈیا پر جعلی مواد پھیلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی ضرورت ہے.

    یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ پی ٹی آئی نے کسی کے خلاف سوشل میڈیا مہم چلائی ہو، پی ٹی آئی کی جانب سے اداروں کے خلاف متعدد بار مہم چلائی جا چکی ہے اور وہ انتہائی ڈھٹائی کے ساتھ یہ کام کرتے ہیں،کبھی عدالتوں کے خلاف، کبھی پاک فوج کے خلاف،کبھی پولیس کے خلاف، کبھی میڈیا کے خلاف، کوئی بھی پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا ونگ سے محفوظ نہیں ہے

  • پی ٹی آئی نے احتجاج والے دن انٹرنیٹ اور موبائل سروس کی بندش کا  حل نکال لیا

    پی ٹی آئی نے احتجاج والے دن انٹرنیٹ اور موبائل سروس کی بندش کا حل نکال لیا

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 24 نومبر کے احتجاج کے پیش نظر اسلام آباد، خیبرپختونخوا اور پنجاب کے مختلف اضلاع میں انٹرنیٹ اور موبائل سروس جزوی معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،لیکن پی ٹی آئی نے اس کا حل بھی نکال لیا ہے۔

    باغی ٹی وی: میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ 22 نومبر سے موبائل انٹرنیٹ سروس پر فائر وال ایکٹو کر دی جائے گی جس سے انٹرنیٹ کی رفتار سست ہو جائے گی اور سوشل میڈیا ایپس پر ویڈیوز اور آڈیو ڈاؤن لوڈ نہیں ہو سکیں گی،جبکہ وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں موبائل سروس بند کرنے کا فیصلہ کل رات تک کیا جائےگا،لیکن پی ٹی آئی کے کارکنان نے اس کا حل بھی نکال لیا ہے۔
    https://x.com/QasimKhanSuri/status/1859459852017467455
    سابق ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری نے موبائل اور انٹرنیٹ سروس معطل ہونے کی صورت میں دو ایپلیکیشنز ”BRIAR“ اور ”Bridgefy“ بتائی ہیں جن کے ذریعے ممبران آپس میں رابطہ کر سکتے ہیں،ان ایپس میں اکاؤنٹ بنانے کے لیے نہ تو آپ کو اپنا فون نمبر دینا ہے نہ ہی ای میل ایڈریس، بلکہ آپ فرضی نام بھی استعمال کر سکتے ہیں۔
    suri
    انہوں نے مزید کہا کہ یہ ایپ بلیوٹوتھ کے ذریعے کمیونیکیٹ کرتی ہے اس کی زیادہ سے زیادہ رینج 100 میٹر یا 300 فٹ ہوتی ہے جتنے زیادہ لوگوں کے پاس یہ ایپ ہو گی اتنی دور تک آپ کی پہنچ ہوگی،فون کی سیٹنگ میں جاکر بلوٹوتھ Bluetooth آن کرنا لازمی ہے
    یہ ایپ صرف اینڈرائڈ کے لیے میسر ہے، آئی فون یوزرز Bridgefy ایپ استعمال کر سکتے ہیں-

    انہوں نے ایپ میں کانٹیکٹس ایڈ کرنے کے لیے کچھ اسکرین شاٹس بھی شئیر کئے-
    sm
    دوسری جانب پی ٹی آئی کے ایک کارکن شفقت ایاز نے بھی ایپلی کیشن ”Bridgefy“ کا ذکر کیا ،ایاز شفقت نے ”ایکس“ پر لکھا کہ ’یہ ایپلی کیشن ایپل اور پلے اسٹور دونوں پہ موجود ہے اسے ابھی ڈاؤن لوڈ کریں اور اپنے دوستوں کو بھی اطلاع کریں۔‘
    https://x.com/ShafqatAyaz_PTI/status/1859294293527232919

  • بچوں کے لیے انٹرنیٹ کا استعمال محفوظ بنانا بہت اہم ہے،شزہ فاطمہ

    بچوں کے لیے انٹرنیٹ کا استعمال محفوظ بنانا بہت اہم ہے،شزہ فاطمہ

    وزیرمملکت آئی ٹی شزا فاطمہ نےتقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ دورٹیکنالوجی کادور ہے.

    شزہ فاطمہ کا کہنا تھا کہ سائبرسکیورٹی سے متعلق عوام میں آگاہی پیدا کرناضروری ہے.آن لائن پلیٹ فارمزپربچوں کے حوالے سے کئی طرح کے چیلنجزموجود ہیں. سوشل میڈیاکا مثبت استعمال یقینی بنانے کی ضرورت ہے. حکومت نوجوانوں کی فلاح وبہبوداورانہیں بااختیاربنانے سے متعلق متعددپروگراموں پر عمل پیراہے.الیکٹرانک وڈیجیٹل میڈیاکی مثبت استعمال کے حوالے سے آگاہی کیلئے مشترکہ کوششیں درکارہیں.سائبرکرائمز سے متعلق شکایات کے لیے متعددپلیٹ فارمزموجود ہیں.سوشل میڈیا کی دنیا میں بچوں کے لیے انٹرنیٹ کا استعمال محفوظ بنانا بہت اہم ہے.ڈیجیٹل سیفٹی بہت ضروری ہے.ٹیکنالوجی کی دنیا میں جدت کے ساتھ ساتھ کچھ چیلنجز کا بھی سامنا ہے. بچوں کا انٹرنیٹ کا استعمال محدود کرنا ہوگا.بچوں کا سکرین ٹائم کنٹرول کرنابہت ضروری ہے .سوشل میڈیا کو استعمال کرنے کے لئے باقاعدہ پالیسیاں وضع کرنا ہونگی.سوشل میڈیا کے زیادہ استعمال سے چھوٹی عمر کے بچوں کی ذہنی صحت پر اثر پڑتا ہے.جنسی استحصال اور خود کشی جیسے کیسز سامنے آرہے ہیں،

    آرمی چیف کا ”آئیڈیاز 2024“ کا دورہ

    پی ٹی آئی کو بڑا دھچکا،احتجاج کیلئے سرکاری مشینری،افراد،وسائل پر پابندی

    پی ٹی آئی احتجاج، انٹرنیٹ،موبائل سروس بند کرنے کا فیصلہ

    پولیس چھاپے کے دوران چھت سے گرنے والے پی ٹی آئی کارکن کی موت

  • سوشل میڈیا کے استعمال سے متعلق اسلامی نظریاتی کونسل کے اجلاس کا اعلامیہ جاری

    سوشل میڈیا کے استعمال سے متعلق اسلامی نظریاتی کونسل کے اجلاس کا اعلامیہ جاری

    اسلام آباد: اسلامی نظریاتی کونسل نے سوشل میڈیا کے استعمال سے متعلق اپنی رائے جاری کردی-

    باغی ٹی وی: اسلامی نظریاتی کونسل کا اجلاس علامہ ڈاکٹر محمد راغب حسین نعیمی کی زیرصدارت منعقد ہوا، جس میں علامہ حافظ محمد طاہر محمود اشرفی، ملک اللہ بخش کلیار، جسٹس( ر) الطاف ابراہیم قریشی ، علامہ ڈاکٹر عبدالغفور راشد، محمد جلال الدین ایڈووکیٹ، علامہ ملک محمد یوسف اعوان، مفتی محمد زبیر،علامہ پیر شمس الرحمٰن مشہدی، علامہ سید افتخار حسین نقوی، پروفیسرڈاکٹر مفتی انتخاب احمد اور صاحبزادہ محمد حسان حسیب الرحمٰن شریک ہوئے جب کہ ڈاکٹر عزیر محمود الازہری اور فریدہ رحیم نے آن لائن شرکت کی۔

    اجلاس میں شریک تمام اراکین کونسل نے اتفاق رائے سے اتفاق کیا کہ سوشل میڈیا اپنے خیالات و آرا کے اظہار کا موثر ترین ذریعہ ہے،اس کو بجا طورپر اچھے اور عمدہ مقاصد کےلیے بھی استعمال کیاجا سکتا ہے اور منفی و غلط مقاصد کے لیے بھی اس کا استعمال ممکن ہے ایک مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اس کا استعمال اسلامی تعلیمات کی پیروی میں کرے-

    سوشل میڈیا کو اسلامی تعلیمات کے فروغ،اخلاق و کردار کی تعمیر ،تعلیم وتربیت کی ترویج و ترقی، تجارتی مقصد، ملکی امن و سلامتی کے استحکام اور دیگر جائز مقاصد کیلئے استعمال کرے سوشل میڈیا کو توہین و گستاخی،جھوٹ،فریب،دھو کہ دہی،غیر اخلاقی مقاصد ،بدامنی،فرقہ واریت ، انتہا پسندانہ اقدامات اور دیگر غیر قانونی و غیر شرعی مقاصد کے فروغ کیلئے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔

    اعلامیے کے مطابق عمومی مشاہدہ ہے کہ انٹرنیٹ کے استعمال کے دوران دوران مختلف مقاصد کے حصول کے لیے وی پی این ایپ استعمال کی جاتی ہے ،کوئی وی پی این، سافٹ وئیر یا کوئی بھی ایپ بذات خود ناجائز یا غیر شرعی نہیں ہوتا، بلکہ ان کے درست اور غلط استعمال پر شرعی حکم کا دارومدار ہوتا ہے، اگر توہین،گستاخی،بدامنی، انارکی اور ملکی سلامتی کے خلاف کا مواد احصول یا پھیلاؤ ہو تو بلا شبہ ایسا استعمال شرعی لحاظ سے ناجائز ٹھہرے گااور حکومت وقت کو اختیار حاصل ہو گا کہ ایسے ناجائز استعمال کے انسداد کیلئے اقدامات کرے۔

    اعلامیے میں کہا گیا کہ اگر وی پی این کے استعمال سے کوئی جائز مقصد حاصل کرنا پیش نظر ہو، جیسا کہ بات چیت کیلئے کسی ایپ کا استعمال یا تعلیمی و تجارتی مقاصد کے لیے استعمال درست اور جائز ہوگا اور اس حوالے سے حکومت کے قوانین پر عمل کرنا چاہیے جیسا کہ حکومت نے وی پی این کی رجسٹریشن شروع کر دی ہے، لہٰذا رجسٹرڈ وی پی این کے استعمال کو ترجیح دی جائے،غیر رجسٹرڈ وی این استعمال کر نے سے حتی الامکان اجتناب کیا جائے۔

    اعلامیے کے مطابق ایک اسلامی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شہریوں کیلئے درج بالا جائز مقاصد کے حصول کو آسان بنائے،اور ناجائز مقاصد کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال کو روکنے کے لیے اقدامات کرے،میڈیا و سوشل میڈیا سے متعلق تمام حکومتی ادارے اس حوالے سے فعال کردار کریں اور اس سلسلے میں استعمال ہونے والے تمام پلیٹ فارمز اور ایپس کی نگرانی کریں، آئین کے آرٹیکل 19 کے مطابق اسلام کی عظمت، ملکی سالمیت، امن عامہ، تہذیب اور مناسب قانونی پابندیوں کے تابع ہر شہری کوتقریر ،اظہار خیال، پریس کی آزادی اورمعلومات تک رسائی کا حق دیا گیا ہے ۔

    اعلامیے کے مطابق سوشل میڈیا اور ٹیکنا لوجی کے دیگر جدید ذرائع کی اہمیت سےانکار ممکن نہیں اور ان کا مثبت استعمال وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے، لہذا ان جدید ذرائع کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے انتظامی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے کو نسل سمجھتی ہے کہ جدید ذرائع پر محض پابندی عائد کرنامسائل کاحل نہیں، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ ان ذرائع کے مثبت استعمال کو ممکن بنانے یا ان کا مناسب متبادل پیش کرنے کے لیے بھی اقدامات کئے جائیں جبکہ کونسل نے ماہرین کے ساتھ مشاورت کے ذریعے اس موضوع پر شرعی حوالے سے مزید تحقیقی کام کرنے کا بھی فیصلہ کیا۔

    دوسری جانب چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر راغب نعیمی نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وی پی این کو کسی نے غیر شرعی یا ناجائز نہیں کہا،ہمارے جاری کردہ بیان میں ٹائپنگ کی غلطی ہوئی ا ہمارے جاری کردہ بیان میں ’’نہیں ‘‘ نہ لکھنے کے سبب غلط فہمی پیدا ہوئی،سوشل میڈیا کو اسلامی تعلیمات کے فروغ، ملکی سلامتی کیلئے استعمال ہونا چاہیے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ سوشل میڈیا کوتوہین آمزید مواد،انتہا پسندانہ اقدامات کیلئے استعمال نہیں کرنا چاہیے،وی پی این یا کوئی اور ایسا سوشل میڈیا پلیٹ فارم غیر شرعی نہیں ،جدید ذرائع سے انکار ممکن نہیں مگر ان کا مثبت استعمال لازم ہے،رجسٹرڈ وی پی این کا استعمال ہی شرعی طور پر درست ہوگا،آئین کے تحت ہر شخص کو معلومات تک رسائی کاحق حاصل ہے ،جدید ذرائع پر پابندی مسائل کا حل نہیں البتہ مناسب متبادل ہونا چاہیے،آزادی اظہار رائے تسلیم شدہ اصول ہے اس کو بھی یقینی بنایا جائے،کونسل نے ماہرین سے مزید مشاورت کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔

  • ٹک ٹاک  پر مختلف سکلز ،مقامی زبانوں میں تعلیم دی جا سکتی ہے،شزہ فاطمہ

    ٹک ٹاک پر مختلف سکلز ،مقامی زبانوں میں تعلیم دی جا سکتی ہے،شزہ فاطمہ

    وزیر مملکت آئی ٹی شزہ فاطمہ سے ٹک ٹاک کے وفد کی ملاقات ہوئی ہے

    ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور اور سوشل میڈیا پر معیاری مواد کے حوالے سے گفتگو کی گئی، وفد نے وزیر مملکت کو ٹک ٹاک کے پاکستان میں اقدام اور مستقبل کے پروگرامز پربریفنگ دی، ٹک ٹاک کے وفد نے ڈائریکٹر پبلک پالیسی مسٹر ایمر گیلن کی قیادت میں ملاقات کی.

    وزیر مملکت برائے آئی ٹی شزہ فاطمہ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ٹک ٹاک کے بہت زیادہ صارفین ہیں.سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر معیاری مواد کا ہونا بہت اہم ہے.ٹک ٹاک پلیٹ فارم کا تعلیمی مقاصد کیلئے بھی استعمال چاہتے ہیں.ٹک ٹاک پلیٹ فارم پر مختلف سکلز ،مقامی زبانوں میں تعلیم دی جا سکتی ہے.وزارت آئی ٹی ٹک ٹاک کو مکمل سپورٹ فراہم کرے گی.وفد نے وزیر مملکت کو یقین دہانی کروائی کہ ٹک ٹاک پر معیاری اور سود مند مواد یقینی بنایا جائے گا، ٹک ٹاک وفد نے وزارت آئی ٹی کے ذیلی اداروں کے ساتھ ملکرکام کرنے میں دلچسپی کا اظہار کیا.

    17 ملین سے زائد لائکس والی ٹک ٹاکر سومل کی بھی نازیبا ویڈیو لیک

    چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل

  • نوجوان نسل سوشل میڈیا کو اچھے کاموں کےلئے استعمال کرے، شرجیل میمن

    نوجوان نسل سوشل میڈیا کو اچھے کاموں کےلئے استعمال کرے، شرجیل میمن

    حیدرآباد، سندھ کے سینئر وزیر، وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ نوجوان نسل سوشل میڈیا کو اچھے کاموں کےلئے استعمال کرے، مایوس نہ ہوں، اچھے دن آنے والے ہیں

    اسرا یونیورسٹی میں ورلڈ سسٹینبل ٹرانسپورٹ ڈے کی مناسبت سے تقریب کا انعقاد کیا گیا،اسرا یونیورسٹی کی جانب سے پائیدار ٹرانسپورٹ کے عالمی دن کی مناسبت سے ایک خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں صوبائی وزیر اطلاعات و ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت اہم ترقیاتی منصوبوں پر کام کر رہی ہے، نوجوانوں کو باعزت روزگار دینے کیلئے جلد پروگرام لائیں گے، پاکستان کا بڑا مسئلہ بجلی کا ہے جس کا حل بھی سندھ حکومت نے دیا،تھر کے کوئلے سے سستی بجلی بنائی جارہی ہے، حیدرآباد میں آج پولیس افسران سے ملوں گا، میں نے کہا تھا کہ میڈیا کے دوست بھی کمیٹی میں آ جائیں، جہاں نشہ مل رہا میں ساتھ چلنے کو تیار ہوں، منشیات کے خاتمے کے لئے جان بھی گئی تو اللہ کی امانت ہے

    حکومتوں کو گن پوائنٹ کے ذریعے یرغمال نہیں بنایا جا سکتا، شرجیل میمن
    شرجیل میمن کا مزید کہنا تھا کہ 24 نومبر کو پھر انتشار پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہے، طلبا کو سیاست میں آنا چاہئے، سیاست بری چیز نہیں لیکن چند لوگ جو سیاست کو آلودہ کرتے ہیں وہ بری چیز ہے، 24 نومبر والی کال بھی میں سمجھتا ہوں کہ اس سے کچھ نہیں ہو گا، حکومتوں کو گن پوائنٹ کے ذریعے یرغمال نہیں بنا سکتے،ڈونلڈ ٹرمپ کو مبارک ہو، امریکی عوام نے انہیں چنا، جو ہمارے دوست خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ وہ صدر اس لئے بنا کہ کسی کو چھڑائے گا تو اس خوش فہمی سے نکلیں، یہ وہی لوگ جو کسی کے غلام نہیں کے نعرے لگاتے تھے اب امریکی غلامی میں کیوں جا رہے، امریکہ کے لئے اپنا مفاد ہے وہ اپنے ملک کے لئے کام کریں گے،

    بدمعاشی کرکے ریاست سے اپنی باتیں نہیں منوائی جاسکتیں،شرجیل میمن

    غیر قانونی بس اڈوں کیخلاف آپریشن سے کراچی کے ٹریفک دباؤ میں کمی آئی، شرجیل میمن

    پی ٹی آئی احتجاج کی کال انارکی پھیلانے کی کوشش ہے، شرجیل میمن

    اب کوئی بھی غیر رجسٹرڈ گاڑی سڑکوں پر نہیں چل سکے گی،شرجیل میمن

    شرجیل میمن نے 26ویں ترمیم کو بلاول بھٹو کا دور اندیش اقدام قرار دیا

    چاہتے ہیں کہ دعوے کم اور کام زیادہ کر کے دکھائیں،شرجیل میمن

    عمران خان اسرائیل ایجنٹ نہیں بلکہ اسرائیلی حکومت کا حصہ ہے، شرجیل میمن

    پی ٹی آئی ہمیشہ آمریت کی آلہ کار رہی ہے،شرجیل میمن