Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • آرٹیکل 63 اے کیس: آج کل سپریم کورٹ میں کچھ بھی بند دروازوں کے پیچھے نہیں ہورہا،چیف جسٹس

    آرٹیکل 63 اے کیس: آج کل سپریم کورٹ میں کچھ بھی بند دروازوں کے پیچھے نہیں ہورہا،چیف جسٹس

    اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان میں آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے فیصلے کے خلاف نظرثانی اپیلوں پر سماعت کے دوران سابق وزیراعظم عمران خان کے وکیل نے سپریم کورٹ کے نئے بینچ کی تشکیل پر اعتراض عائد کردیا-

    باغی ٹی وی : چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا 5 رکنی لارجر بینچ آرٹیکل 63 اے نظرثانی اپیلوں پر سماعت سماعت کر رہا ہے، جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس مظہر عالم میاں خیل لارجر بینچ میں شامل ہیں۔

    سماعت کے آغاز پر صدر سپریم کورٹ بار شہزاد شوکت اور پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر روسٹرم پر آگئے ،بانی پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل علی ظفر نے بینچ کی تشکیل پر اعتراض اٹھا دیا،چیف جسٹس نے کہا کہ ہم آپ کو بعد میں سنیں گے ابھی آپ بیٹھ جائیں، جس پر علی ظفر نے کہا کہ ہمیں بینچ کی تشکیل نو پر اعتراض ہے، اس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ سے کہا ہے کہ آپ کو بعد میں سنیں گے، ہم چیزوں کو اچھے انداز میں چلانا چاہتے ہیں آپ بیٹھ جائیں۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ جو ہوا ہے، وہ کورٹ میں بتادوں، کل جسٹس منیب اختر کو خط لکھا، اُنہوں نے وہ پوزیشن برقراررکھی، میں نے جسٹس منصورعلی شاہ کو کمیٹی میں بلایا، وہ نہیں آئے، ان کے سیکرٹری سے رابطہ کیا تو اُن کے اسٹاف نے اُن سے رابطہ کیا، اسٹاف نے بتایا کہ جسٹس منصور علی شاہ بینچ میں شامل نہیں ہوں گے۔

    چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ ہمارے پاس کوئی آپشن نہیں بچا، میں نہیں چاہتا دوسرے بینچز کو ڈسٹرب کیا جائے، نعیم افغان کو نئے لارجر بینچ میں شامل کرلیا گیا، پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کے آج کے اجلاس کے منٹس جاری کیے، کمیٹی کے منٹس سپریم کورٹ ویب سائٹ پربھی اپ لوڈ کردیے گئے ہیں آج کل سب کومعلوم ہے سپریم کورٹ میں کیا چل رہا ہے، آج کل سپریم کورٹ میں کچھ بھی بند دروازوں کے پیچھے نہیں ہورہا، اب لارجر بینچ مکمل ہے کارروائی شروع کی جائے۔

    سپریم کورٹ بار کے وکیل اور صدر شہزاد شوکت نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ 18 مارچ کو سپریم کورٹ بار نے درخواست دائر کی، 21 مارچ کو 4 سوالات پر مبنی صدارتی ریفرنس بھجوایا گیا، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کیا ریفرنس اور آپ کی درخواستوں کو ایک ساتھ سنا جاسکتا تھا؟۔

    سپریم کورٹ بار کے وکیل نے کہا کہ 27 مارچ اس وقت کے وزیراعظم نے ایک ریلی نکالی، جس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سیاسی معاملات پر بات نہ کریں۔

    شہزاد شوکت نے کہا کہ اس کیس میں صدارتی ریفرنس بھی تھا اور184/3 کی درخواستیں بھی تھیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ریفرنس پر رائے اور 184/3 دو الگ الگ دائرہ اختیار ہیں، دونوں کو یکجا کرکے فیصلہ کیسے دیا جا سکتا ہے؟ صدراتی ریفرنس پر صرف رائے دی جاسکتی ہے، فیصلہ نہیں دیا جاسکتا، کیا دونوں دائرہ اختیار مختلف نہیں ہیں؟ صدارتی ریفرنس پر صرف صدر کے قانونی سوالات کا جواب دیا جاتا ہے، صدراتی ریفرنس پر دی رائے پر عمل نہ ہو تو صدر کے خلاف توہین کی کارروائی تو نہیں ہوسکتی،میں سرپرائزڈ ہوں کہ کیسے دو حدود ایک ساتھ کلب کی گئیں، اس وقت پی ٹی آئی کی جانب سے درخواست دی گئی، اس وقت حکومت کس کی تھی؟

    چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے سپریم کورٹ بار کے وکیل شہزاد شوکت سے استفسار کیا کہ اس وقت صدر پاکستان کون تھا؟ جس پر شہزاد شوکت نے بتایا کہ اس وقت عارف علوی صدر مملکت تھے،چیف جسٹس نے کہا کہ وہی حکومت بطورِ حکومت بھی اس کیس میں درخواست گزار تھی، شہزاد شوکت نے آرٹیکل 63 اے پڑھ کر سنا دیا۔

    چیف جسٹس نے پوچھا کہ صدر کی جانب سے قانونی سوالات کیا اٹھائے گئے تھے؟ جس پر وکیل سپریم کورٹ بار نے بتایا کہ صدر پاکستان نے ریفرنس میں 4 سوالات اٹھائے تھے، آرٹیکل 63 اے کے تحت خیانت کے عنصر پر رائے مانگی گئی، عدالت نے کہا آرٹیکل 63 اے کو اکیلا کرکے نہیں دیکھا جا سکتا، عدالت نے قراردیا کہ سیاسی جماعتیں جمہوریت کے لیے اہم ہیں، عدالت نے قراردیا کہ پارٹی پالیسی سے انحراف سیاسی جماعتوں کے لیے کینسر ہے۔

    چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا فیصلے میں منحرف ارکان کو ڈی سیٹ کرنے کا بھی لکھا گیا؟ جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ منحرف ارکان کا ووٹ کاسٹ نہیں ہوگا ڈی سیٹ کرنے کا حکم فیصلے میں نہیں۔

    چیف جسٹس قاضی فائزعیسی نے کہا کہ آئین میں تحریک عدم اعتماد،وزیراعظم اوروزیراعلی کا انتخاب اورمنی بل کی وضاحت موجود ہے، جب آئین واضح ہے تو اس میں اپنی طرف سے کیسے کچھ شامل کیا جاسکتا ہے۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ برطانیہ میں حال ہی میں ایک ہی جماعت نے اپنے وزیراعظم تبدیل کیے، اس دوران جماعت نے ہاؤس میں اکثریت بھی نہیں کھوئی۔

    شہزاد شوکت نے کہا کہ فیصلے میں کہاگیا انحراف کرپٹ پریکٹس جیسا ہے، فیصلے میں کہاگیاکہ کوئی ایک مثال موجود نہیں جس میں انحراف ضمیر کی آواز پر کیا گیا ہو، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کسی کے ضمیر کا معاملہ طے کرنا مشکل ہے، کیا فیصلہ آرٹیکل 95 اور 163 کو متاثر نہیں کرتا؟ کیا پارلیمانی نظام کو صدارتی نظام میں بدلنے جیسا نہیں؟

    چیف جسٹس نے کہا کہ جو لوگ سیاسی جماعتیں بدلتے رہتے ہیں انہیں ضمیر والا سمجھیں یا نہیں، فیصلے سے اختلاف کرنے والا جج بھی باضمیر ہوگا یا نہیں، ہم کون ہوتے ہیں کہنے والے کہ تم باضمیر نہیں ہو۔

    صدر سپریم کورٹ بار شہزاد شوکت نے دلائل دیے کہ فیصلے میں رضا ربانی کا حوالہ بھی دیاگیا کہ انہوں نے ضمیر کیخلاف جاکر پارٹی کو ووٹ دیا، پارٹی سربراہ اور پارلیمانی پارٹی سربراہ الگ الگ ہدایات دیں تو کیا ہوگا؟ ایسے میں تعین کیسے کیا جاسکتا ہے کہ کس کی ہدایات ماننا ضمیر کی آواز ہوگا؟

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ آرٹیکل62/1ایف پر جسٹس منصورعلی شاہ کا فیصلہ موجود ہے،فیصلے میں وضاحت موجود ہے نااہلی سے متعلق کونسی شقیں ازخود نافذ ہوتی ہیں اورکونسی نہیں۔

    وکیل شہزادشوکت نے استدعا کی کہ گزارش ہےکہ فیصلے کو واپس لیاجائے، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ بتائیں فیصلے میں کیا غلط ہے؟ شہزادشوکت نے جواب دیا کہ یہ فیصلہ آئین دوبارہ لکھنے جیسا ہے۔

    جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ فیصلہ صرف یہ نہیں کہتا آپ کا ووٹ گنا نہیں جائے گا، فیصلہ کہتا ہے پارٹی کہے تو ووٹ لازمی کرنا ہے، پارٹی کےکہنے پر ووٹ نہ کرنے پر رکن کے خلاف کارروائی کا کہاں گیا ہے؟ نظرثانی درخواست کب دائر ہوئی۔

    شہزاد شوکت نے بتایا کہ 2022 میں نظرثانی درخواست دائر کی، چیف جسٹس نے کہا کہ عابد زبیری بھی جب صدر سپریم کورٹ بار بنے تو اپیل واپس نہیں لی، سپریم کورٹ بار کے دونوں گروپ نظرثانی درخواست پر قائم رہے، چلیں تسلی ہوئی کہ نظرثانی بار سیاست کی وجہ سے نہیں تھی شہزاد شوکت نے جواب دیا کہ نظرثانی خالصتاً آئینی مسئلہ ہی تھا۔

    وفاقی حکومت اور پیپلزپارٹی نے نظرثانی اپیل کی حمایت کردی چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے کہا کہ نظرثانی کی مخالف کون کررہا ہے؟

    عمران خان کے وکیل علی ظفر نے عدالت کو دیا کہ بانی پی ٹی آئی کا وکیل ہوں لیکن نوٹس تاحال موصول نہیں ہوا، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ ویسے بتادیں آپ نظر ثانی کے حامی ہیں یا مخالف ہیں؟

    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ میں نظر ثانی کی مخالفت کروں گا، پیپلزپارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ووٹ نہ گنا جانا آئین میں نہیں لکھا، اگر ووٹ گنا ہی نہیں جائے گا تو مطلب ہے میں نے کچھ غلط نہیں کیا، انحراف کا اطلاق تب ہوگا جب ووٹ گنا جائے گا۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ فیصلے میں جن ملکوں کے فیصلوں کا حوالہ ہے ان ممالک میں انحراف کی سزا کا بھی بتائیں، فریقین یہ بھی بتائیں کیا صدارتی ریفرنس اور 184/3 کی درخواستوں کو یکجا کیا جاسکتا ہے، پارلیمانی جمہوریت کی ماں برطانیہ ہے وہاں کی صورتحال بتائیں، نظر ثانی منظور ہونا یہ نہیں ہوتا کہ فیصلہ غلط ہے، وجوہات غلط ہوتی ہیں، نظرثانی کا دائرہ بہت محدود ہوتا ہے، آپ فیصلے کا نتیجہ نہیں صرف وجوہات دیکھ سکتے ہیں۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ کیس کی سماعت ملتوی کردیتے ہیں، جو وکلا رہ گئے ہیں، ان کے دلائل کل سنیں گے،بعد ازاں، سپریم کورٹ نے آرٹیکل 63 اے نظرثانی کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی۔

    واضح رہے کہ 17 مئی 2022 کو سپریم کورٹ نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق صدارتی ریفرنس پر فیصلے میں کہا تھا کہ منحرف رکن اسمبلی کا پارٹی پالیسی کے برخلاف دیا گیا ووٹ شمار نہیں ہوگا جبکہ تاحیات نااہلی یا نااہلی کی مدت کا تعین پارلیمان کرے۔

    اس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 5 رکنی بنچ نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق صدارتی ریفرنس کی سماعت کی تھی اور فیصلہ 2 کے مقابلے میں 3 کی برتری سے سنایا گیا تھا۔

    بینچ میں شامل جسٹس مظہر عالم میاں خیل اور جسٹس جمال خان مندوخیل نے اکثریتی فیصلے سے اختلاف کیا تھا جبکہ سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر نے منحرف رکن کا ووٹ شمار نہ کرنے اور اس کی نااہلی کا فیصلہ دیا تھا۔ آرٹیکل 63 اے کی تشریح کا اکثریتی فیصلہ جسٹس منیب اختر نے تحریر کیا تھا۔

    اس معاملے پر مختلف نظرثانی کی درخواستیں دائر کی گئی تھیں لیکن ان درخواستوں پر سماعت نہیں ہوئی تھی۔

    آرٹیکل 63 کیا ہے؟

    آرٹیکل 63 اے آئین پاکستان کا وہ آرٹیکل جو فلور کراسنگ اور ہارس ٹریڈنگ روکنے کے لیے متعارف کرایا گیا تھا جس کا مقصد اراکین اسمبلی کو اپنے پارٹی ڈسپلن کے تابع رکھنا تھا کہ وہ پارٹی پالیسی سے ہٹ کر کسی دوسری جماعت کو ووٹ نہ کر سکیں اور اگر وہ ایسا کریں تو ان کے اسمبلی رکنیت ختم ہو جائے۔

    فروری 2022 میں سابق صدر ڈاکٹر عارف علوی نے آئین کے آرٹیکل 186 کے تحت ایک صدارتی ریفرنس کے ذریعے سے سپریم کورٹ آف پاکستان سے سوال پوچھا کہ جب ایک رکن اسمبلی اپنی پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ ڈالتا ہے تو وہ بطور رکن اسمبلی نااہل ہو جاتا ہے، لیکن کیا کوئی ایسا طریقہ بھی ہے کہ اس کو ووٹ ڈالنے سے ہی روک دیا جائے۔

  • آرٹیکل 63 اے کیس: نیا بینچ تشکیل، جسٹس نعیم اختر افغان شامل

    آرٹیکل 63 اے کیس: نیا بینچ تشکیل، جسٹس نعیم اختر افغان شامل

    اسلام آباد: سپریم کورٹ پریکٹس پروسیجر کمیٹی نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے خلاف نظر ثانی اپیلوں پر سماعت کے لیے نیا بینچ تشکیل دے دیا-

    باغی ٹی وی : ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ کی 3 رکنی پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کا اجلاس صبح 9 بجے ہوا، چیف جسٹس قاضی فاٸز عیسیٰ اور جسٹس امین الدین خان جسٹس منصور علی شاہ کا انتظار کرتے رہے تاہم کمیٹی کے تیسرے ممبر اور سپریم کورٹ سینئر جج جسٹس منصور علی شاہ آج بھی اجلاس میں شریک نہ ہوئے اور نہ کوئی پیغام بھیجا۔

    دوسری جانب ججز کمیٹی نے 63 اے کی تشریح کے معاملے پر نیا بینچ تشکیل دے دیا، جس میں جسٹس منیب اختر کی جگہ جسٹس نعیم اختر افغان کو 5 رکنی بنچ میں شامل کیا گیا ہے جبکہ رجسٹرار سپریم کورٹ نے نیا روسٹر جاری کردیاچیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے جسٹس منصور علی شاہ کا نام تجویز کیا مگر جسٹس مصنور علی شاہ کے کمیٹی اجلاس میں شرکت نہ کرنے پر جسٹس نعیم اختر افغان کو بینچ میں شامل کرلیا گیا جبکہ جسٹس نعیم اختر افغان کی شمولیت سے سپریم کورٹ کا 5 رکنی لارجر بینچ مکمل ہوگیا۔

    آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے معاملے پر قائم نیا بینچ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں قائم کیا گیا ہے جس میں جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس نعیم اختر افغان اور مظہر عالم خان شامل ہیں۔

    دوسری جانب سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی اجلاس کے میٹنگ منٹس جاری کردیے گئے ہیں جس کے مطابق 63 اے نظرثانی سماعت کے لیے 5 رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا گیا ہے، جسٹس منیب اختر نے خط میں بینچ میں بیٹھنے کے لیے وجوہات کے ساتھ عدم دستیابی کا اظہار کیا۔

    میٹنگ منٹس کے مطابق آج 9 بجے پریکٹس پروسیجر کمیٹی کا اجلاس بلایا گیا، جسٹس منصور شاہ کے چیمبر اسٹاف سے رابطہ کیا لیکن جسٹس منصور نے کمیٹی اجلاس میں شرکت نہیں کی، انہوں نے رابطے پر بینچ میں شمولیت سے بھی انکار کیا، کمیٹی نے اجلاس میں بینچ تشکیل کے لیے جسٹس نعیم اختر افغان کو شامل کرنے کا فیصلہ کیا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز چیف جسٹس قاضی فائز عسیٰ کی سربراہی میں 4 رکنی بینچ نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے فیصلے کے خلاف نظرثانی اپیلوں پر سماعت کی تھی، لارجر بینج کے رکن جسٹس منیب اختر نے موجودہ پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کے بنائے بینچ میں بیٹھنے سے انکار کردیا تھا۔

  • آرٹیکل 63 اے   نظرثانی اپیل:سٹس منیب اختر  کا  شمولیت سے انکار

    آرٹیکل 63 اے نظرثانی اپیل:سٹس منیب اختر کا شمولیت سے انکار

    اسلام آباد: سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس منیب اختر نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے فیصلے پر نظرثانی اپیلوں پر تشکیل کردہ لارجر بنچ میں شمولیت سے انکار کردیا-

    باغی ٹی وی : آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے فیصلے پر نظرثانی اپیلوں پر سماعت سپریم کورٹ میں شروع ہوئی تو چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، جسٹس امین الدین، جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس مظہر عالم کمرہ عدالت پہنچے تاہم جسٹس منیب اختر کمرہ عدالت میں نہیں آئے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 4 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس مظہر عالم میاں خیل بینچ میں شامل تھے۔

    چیف جسٹس پاکستان نے اٹارنی جنرل کو روسٹرم پر بلا لیا اور کہا کہ کیس کے حوالے سے لارجر بینچ آج بنا تھا، کیس کا فیصلہ ماضی میں 5 رکنی بینچ نے سنایا تھا،جسٹس منیب اختر نے رجسٹرار سپریم کورٹ کو خط تحریر کر دیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جسٹس منیب اختر کا خط پڑھ کر سنایا۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ قانون کا تقاضا ہے نظرثانی اپیل پر سماعت وہی بینچ کرے، سابق چیف جسٹس کی جگہ میں نے پوری کی، جسٹس اعجازالاحسن کی جگہ جسٹس امین الدین کو شامل کیا گیا، ہم جسٹس منیب اختر سے درخواست کریں گے کہ بینچ میں بیٹھیں۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ جسٹس منیب نے لکھا ہے کہ میں آج اس کیس میں شامل نہیں ہوسکتا، انہوں نے لکھا ہے کہ ان کا خط اس نظر ثانی کیس میں ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم ابھی اٹھ رہے ہیں، جسٹس منیب اختر کو درخواست کررہے ہیں کہ وہ بنچ میں شامل ہوں، جسٹس منیب اختر نے آج مقدمات کی سماعت کی ہے وہ ٹی روم میں بھی موجود تھے ان کا آج کی سماعت میں شامل نہ ہونا ان کی مرضی تھی، ہم کل دوبارہ اس نظرثانی کیس کی سماعت کریں گے، امید کرتے ہیں کہ جسٹس منیب اختر کل سماعت میں شامل ہوں۔

    انہوں نے کہا کہ ہم جسٹس منیب کو راضی کرنے کی کوشش کریں گے ورنہ بینچ کی تشکیل نو ہو گی، امید ہے جسٹس منیب اختر دوبارہ بینچ میں شامل ہو جائیں گے، جسٹس منیب اختر بینچ میں شامل ہوتے ہیں یا نہیں، دونوں صورتوں میں کل کیس کی سماعت ہوگی۔

    جسٹس منیب اختر نے اپنے خط میں لکھا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی نے یہ بینچ تشکیل دیا ہے، کمیٹی کے تشکیل کردہ بینچ کا حصہ نہیں بن سکتا بینچ میں بیٹھنے سے انکار نہیں کر رہا، بینچ میں شامل نہ ہونے کا غلط مطلب نہ لیا جائے اور میرے خط کو نظر ثانی کیس ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ جسٹس منیب کا خط عدالتی فائل کا حصہ نہیں بن سکتا، ایسے خط کو عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنانے کی روایت نہیں ہے مناسب ہوتا جسٹس منیب اختر بینچ میں آکر اپنی رائے دیتے، میں نے اختلافی رائے کو ہمیشہ حوصلہ افزائی کی ہے، نظر ثانی کیس 2 سال سے زائد عرصہ سے زیر التوا ہے 63 اے کا مقدمہ بڑا اہم ہے، جسٹس منیب اختر رائے کا احترام ہے لیکن ایک بار بینچ بن چکا ہو تو کیس سننے سے معذرت صرف عدالت میں ہی ہو سکتی ہے۔

    دوران سماعت پی ٹی آئی کے سینیٹر بیرسٹر علی ظفر روسٹرم پر آگئے اور انہوں نے کمیٹی پر تحفظات کا اظہار کردیا اور کہا کہ کمیٹی تب ہی بینچ بنا سکتی ہے جب تینوں ممبران موجود ہوں، بعدازاں سپریم کورٹ نے آرٹیکل 63 اے تشریح کے فیصلے پر نظرثانی اپیلوں پر سماعت کل صبح ساڑھے 11 بجے تک ملتوی کر دی۔

  • سپریم کورٹ  کی انتظامی کمیٹی کے اجلاس کی کارروائی کے منٹس جاری

    سپریم کورٹ کی انتظامی کمیٹی کے اجلاس کی کارروائی کے منٹس جاری

    اسلام آباد: پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کے تحت سپریم کورٹ آف پاکستان کی انتظامی کمیٹی کے اجلاس کی کارروائی کے منٹس جاری کردیئے گئے-

    باغی ٹی وی:سپریم کورٹ کی جانب سے جاری انتظامی کمیٹی کے 23 ستمبر کو منعقدہ اجلاس کی کارروائی کے منٹس میں بتایا گیا ہے کہ چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس امین الدین خان شامل ہوئے جبکہ 20 ستمبر کے اجلاس میں جسٹس منصور علی شاہ کی عدم دستیابی کے باعث نہ ہوسکا تھا۔

    اجلاس کے منٹس میں بتایا گیا کہ سیکرٹری کمیٹی نے اراکین کو جسٹس منصور کے خط بارے میں آگاہ کیا، پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی ایکٹ کے تحت ہنگامی مقدمات 14 روزمیں سنے جانے ہیں اس لیے درج ذیل فیصلے کیے گئےکمیٹی اجلاس میں متعدد پرانے مقدمات مقرر کرنے کے فیصلے کیے گئے، جن میں 63 اے کو 30 ستمبر کو بھی مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا، 63 اے کے لیے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا۔

    اتحادی حکومتوں میں مسائل ہوتے ہیں، گلے شکوؤں کو دور کریں گے، فیصل کریم کنڈی

    آڈیو لیکس کیس میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس نعیم اختر افغان کو کمیشن ممبر ہونے کی بنا پر شامل نہیں کیا گیا، آڈیو لیکس کیس جسٹس منیب اختر سے متعلقہ ہونے کی بنا پر انہیں شامل نہیں کیا گیا، تمام لارجر بینچ مقدمات کو ساڑھے گیارہ بجے مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

    اسرائیل کسی بھی وقت ایران پر حملہ کرسکتا ہے،نیتن یاہو

  • تحریک انصاف کو مخصوص نشتوں کا ریلیف نہیں دیا جا سکتا،الیکشن کمیشن

    اسلام آباد: الیکشن کمیشن نے نظرثانی کیس میں اضافی گزارشات سپریم کورٹ میں جمع کرا دی، گزارشات میں الیکشن کمیشن کی جانب سے کہا گیا ہے کہ تحریک انصاف کو مخصوص نشتوں کا ریلیف نہیں دیا جا سکتا۔

    باغی ٹی وی : الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ سے فیصلہ پر عمل روکنےکی استدعا کی، الیکشن کمیشن نے موقف اپنایا کہ سپریم کورٹ کافیصلہ مفروضوں پر مبنی ہے الیکشن کمیشن نظرثانی پر فیصلہ ہونے تک حکم امتناع دیا جائے، سپریم کورٹ تشریح کی آڑمیں آئین کودوبارہ نہیں لکھ سکتی،عدالت نےاپنے 12 جولائی کے احکامات سے انحراف کیا، آزاد ارکان کی سیاسی جماعت میں شمولیت کی معیاد تین دن ہے، سپریم کورٹ نے ارکان کو 15 دن دیکر آئین کے الفاظ کو بدل دیا۔

    الیکشن کمیشن نے کہا کہ آزاد ارکان نے سنی اتحاد کونسل میں شمولیت کے بیان حلفی جمع کرائے عدالتی فیصلہ میں ارکان کے بیان حلفیوں کو مکمل نظر انداز کردیا گیا، اگر بیرسٹر گوہر کے سرٹیفکیٹس درست بھی مان لیں تو پی ٹی آئی ارکان کی تعداد 39 نہیں بنتی، امیداروں کی جانب سے سیکشن 66 کےتحت پارٹی وابستگی کے ڈیکلریشن جمع نہیں کرائے گئے۔

    گزارشات میں الیکشن کمیشن کی جانب سے کہا گیا ہے کہ رولز 94 انتخابی نشان والی سیاسی جماعت کیلئے ہے، تحریک انصاف نے ججز چیمبر میں جو دستاویزات جمع کرائی وہ کبھی اوپن کورٹ میں پیش نہیں کی گئی۔ تحریک انصاف کو مخصوص نشتوں کا ریلیف نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ تحریک انصاف نے کسی فورم پر اپنے حق کا دعوی نہیں کیا سپریم کورٹ فل کورٹ کا فیصلہ ہے کہ دعوی نہ کرنے والے کو پارٹی یا ریلیف نہیں دیا جا سکتا۔

  • پارلیمنٹ کا قانون یا سپریم کورٹ کا فیصلہ،کس پر عمل کریں؟ الیکشن کمیشن کی درخواست

    پارلیمنٹ کا قانون یا سپریم کورٹ کا فیصلہ،کس پر عمل کریں؟ الیکشن کمیشن کی درخواست

    سپریم کورٹ ،تحریک انصاف کو مخصوص نشستیں دینے کا معاملہ ،الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ سے وضاحت کیلئے ایک بار پھر رجوع کر لیا

    الیکشن کمیشن کی درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ الیکشن ترمیمی ایکٹ آنے کے بعد عدالتی فیصلے پر رہنمائی کی جائے،12 جولائی کے مختصر فیصلے پر جب وضاحت مانگی گئی تب نیا ایکٹ موجود نہیں تھا، پارلیمنٹ نے الیکشن ترمیمی ایکٹ کی صورت میں اب قانون بنا دیا ہے،بتایا جائے پارلیمنٹ کے قانون پر یا سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کریں،

    قبل ازیں سپریم کورٹ کے آٹھ ججز کی وضاحت کےبعد ذرائع الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ نے مخصوص نشستوں پر اپنا مختصر فیصلہ 12 جولائی 2024 کو سنایا تھا۔ اس کے جواب میں، الیکشن کمیشن نے قانونی مدت کے اندر، یعنی 25 جولائی 2024 کو، اپنی سی ایم اے (CMA) دائر کی تھی۔ تاہم تقریباً 2 ماہ کے بعد، 14 ستمبر 2024 کو سپریم کورٹ نے سی ایم اے پر حکم جاری کیا۔الیکشن کمیشن سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کرتے ہوۓ کسی قسم کی تاخیر کا ذمہ دار نہیں ہے۔الیکشن کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے اور وہ اپنے خلاف کسی بھی قسم کی دھمکی کو قبول نہیں کرے گا۔ آئینی اداروں کے ساتھ اس طرح کا برتاؤ قطعی طور پر نامناسب ہے۔

    سپریم کورٹ،مخصوص نشتوں پر 8 ججز کی وضاحت ، ڈپٹی رجسٹرار نے سوال اٹھا دیا

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کی وضاحت کی درخواست پر تحریری وضاحت جاری کی ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے 4صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کردیا، الیکشن کی وضاحت کی درخواست تاخیری حربہ قرار دیدیا۔مخصوص نشستوں کے کیس میں اکثریتی فیصلہ دینے والے سپریم کورٹ کے 8 ججز نے وضاحت جاری کردی ہے،سپریم کورٹ میں مخصوص کے کیس میں الیکشن کمیشن اور پاکستان تحریک انصاف کی درخواستوں پر 8 رکنی بینچ نے وضاحت جاری کردی ،اکثریتی فیصلہ دینے والے ججوں نے وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا کہ 12 جولائی کے فیصلے میں کوئی ابہام نہیں ہے ،جسٹس منصور علی شاہ نے تحریری فیصلہ میں کہا کہ الیکشن کمیشن کی وضاحت کی درخواست عدالتی فیصلہ پر عمل در آمد کے راستہ میں رکاوٹ ہے،درخواست درست نہیں،الیکشن کمیشن نے خود بیرسٹر گوہر کو پارٹی چیئرمین تسلیم کیا،الیکشن کمیشن وضاحت کے نام پر اپنی پوزیشن تبدیل نہیں کر سکتا،تحریک انصاف سیاسی جماعت تھی اور ہے، پارٹی سرٹیفکیٹ جمع کروانے والے پی ٹی آئی کے امیدوار ہیں،مخصوص نشستوں کے کیس میں اکثریتی فیصلہ دینے والے 8 ججوں نے ابہام کو ختم کرنے کیلئے تحریری آرڈر جاری کردیا

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا سپریم کورٹ کے فیصلے پر ردعمل: مخصوص نشستوں کے حوالے سے قانونی اور آئینی سوالات اٹھائے

    مخصوص سیٹوں بارے پارلیمان کی قانون سازی،عوام حمایت میں کھڑی ہو گئی

    مخصوص نشستوں کے سپریم کورٹ فیصلے پر پیپلز پارٹی نے کی نظرثانی اپیل دائر

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے مخصوص نشستوں کے کیس کا محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے نشستیں تحریک انصاف کو دینے کا حکم دیا تھا، تحریک انصاف مقدمہ میں فریق نہیں تھی، سنی اتحاد کونسل اور الیکشن کمیشن فریق تھے، سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پی ٹی آئی نے خوشی کا اظہار کیا تھا جبکہ حکومتی رہنماؤں نے سخت تحفظات کا اظہار کیا تھا

    دوسری جانب سپریم کورٹ،مخصوص نشستوں کے فیصلے پر نظرثانی درخواست دائر کر دی گئی ہے،مسلم لیگ ن نے نظر ثانی کی درخواست دائر کی،مسلم لیگ ن نے 12 جولائی کے فیصلے پر حکم امتناع کی بھی استدعا کر دی ،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ 12 جولائی کے فیصلے پر نظر ثانی کرے، سپریم کورٹ 12 جولائی کے فیصلے کو واپس لے، کیس کے حتمی فیصلے تک سپریم کورٹ فیصلے پر حکم امتناعی دیا جائے،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں سنی اتحاد کونسل، حامدرضا اور الیکشن کمیشن سمیت 11 پارٹیوں کو فریق بنایاگیا ہے ،

    پی ٹی آئی پرپابندی،رہنماؤں کیخلاف آرٹیکل 6کے تحت کاروائی،عطا تارڑ کا بڑا اعلان

    لڑائی شروع،کیا ایمرجنسی لگ سکتی؟جمعہ پھر بھاری،کپتان جیت گیا

    مخصوص نشستوں پر سپریم کورٹ کا فیصلہ،ملک ایک اور آئینی بحران سے دوچار

    حکومت کو کوئی خطرہ نہیں،معاملہ تشریح سے آگے نکل گیا،وفاقی وزیر قانون

    سپریم کورٹ کا فیصلہ، سیاسی جماعتوں کا ردعمل،پی ٹی آئی خوش،حکومتی اتحاد پریشان

    عمران خان نے آخری کارڈ کھیل دیا،نواز شریف بھی سرگرم

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    "بھولے بابا” کا عام آدمی سے خود ساختہ بابا بننے کا سفر ،اربوں کے اثاثے

    اصلی ولن آئی ایم ایف یا حکومت،بے حس اشرافیہ نے عوام پر بجلی گرا دی

    کرکٹ میں سٹے بازی اور سپاٹ فکسنگ،پاک بھارت میچ میں‌کتنے کا جوا؟

  • تحریک انصاف نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی آرڈیننس چیلنج کر دیا

    تحریک انصاف نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی آرڈیننس چیلنج کر دیا

    تحریک انصاف نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی آرڈیننس چیلنج کر دیا
    بیرسٹر گوہر کی جانب سے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی گئی ، درخواست میں کہا گیا ہے کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی آرڈیننس کالعدم قرار دیا جائے،ترمیمی آرڈیننس عدلیہ کی آزادی اور قانون و آئین کے برخلاف ہے، سپریم کورٹ قرار دے چکی کہ آرڈیننس ایمرجنسی حالات میں ہی جاری ہوسکتا ہے،ایسی کوئی ایمرجنسی صورتحال نہیں تھی کہ آرڈیننس جاری کیا جاتا، آرڈیننس کے اجراء کی کوئی وجوہات بھی نہیں بتائی گئیں؟ درخواست پر فیصلے تک آرڈیننس کو معطل کیا جائے،پی ٹی آئی نے آرڈیننس سے پہلے والی ججز کمیٹی بحال کرنے کی بھی استدعا کر دی

    پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی آرڈیننس سپریم کورٹ میں چیلنج

    جسٹس منصور علی شاہ کا پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی میں عدم شرکت، چیف جسٹس کو خط

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ میرے کیس نہ سنیں،عمران خان کی پھر درخواست

    واضح رہے کہ صدرِمملکت آصف علی زرداری نے پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس پر دستخط کر دیے تھے، وزیرِ اعظم شہباز شریف اور وفاقی کابینہ نے سپریم کورٹ ترمیمی پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس منظور کر لیا تھا،وفاقی کابینہ نے سرکولیشن کے ذریعے پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس منظور کیا تھا،آرڈیننس کے مطابق بینچ عوامی اہمیت اور بنیادی انسانی حقوق کو مدِنظر رکھتے ہوئے مقدمات کو دیکھے گا، ہر کیس کو اس کی باری پر سنا جائے گا ورنہ وجہ بتائی جائے گی،ترمیمی آرڈیننس میں کہا گیا ہے کہ ہر کیس اور اپیل کو ریکارڈ کیا جائے گا اور ٹرانسکرپٹ تیار کیا جائے گا،تمام ریکارڈنگ اور ٹرانسکرپٹ عوام کے لیے دستیاب ہو گا،پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کمیٹی مقدمات مقرر کرے گی، کمیٹی چیف جسٹس، سینئر ترین جج اور چیف جسٹس کے نامزد جج پر مشتمل ہوگی،آرڈیننس میں پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے سیکشن 3 میں ترمیم شامل ہے، پریکٹس اینڈ پروسیجرایکٹ میں سیکشن 7 اے اور7 بی کو شامل کیا گیا ہے،آرڈیننس میں موجود ہے کہ سماعت سے قبل مفاد عامہ کی وجوہات دینا ہوں گی، سیکشن 7 اے کے تحت ایسے مقدمات جو پہلے دائر ہونگے انہیں پہلے سنا جائے گا، اگر کوئی عدالتی بینچ اپنی ٹرن کے بر خلاف کیس سنے گا تو وجوہات دینا ہونگی۔

    پاکستان بار کا پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی آرڈیننس کے اجرا پر شدید تحفظات کا اظہار

    پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کیس،جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس شاہد وحید کا اختلافی نوٹ

    پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ ،جسٹس یحییٰ آفریدی کا اضافی نوٹ جاری

    پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری

    بریکنگ،سپریم کورٹ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کو قانونی قرار دے دیا

  • چیف جسٹس کی وائرل فیک ویڈیو،ایف آئی اے کا کاروائی کا فیصلہ

    چیف جسٹس کی وائرل فیک ویڈیو،ایف آئی اے کا کاروائی کا فیصلہ

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ذریعے فیک ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کا معاملہ،ایف آئی اے نےویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کرنیوالے افراد کےخلاف تحقیقات شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے جو فیک ہے، آئی اے سے بنائی گئی ہے، ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ بیکری میں ایک شخص چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے ساتھ بدتمیزی کر رہا ہے، اس فیک ویڈیو کو پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ سوشل میڈیا پر پھیلا رہے ہیں، اب ایف آئی اے نے کاروائی کا فیصلہ کیا ہے

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک صارف نے پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ بتایا جا رہا ہے کہ چیف جسٹس قا ضی فائزعیسی اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ بدتمیزی کی ویڈیو آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ذریعے تیار کی گئی ،اس کو وائرل کرنے والے اور ،شیئر کرنے والے سب کے سب اخلاقی طور پر پسماندہ اور ذہنی مریض ہیں ۔

    صحافی مطیع اللہ جان کہتے ہیں کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسی اور انکے اہل خانہ کیساتھ عوامی جگہ پر ایک شھری کی کسی بھی وجہ سے بدزبانی اور بدتمیزی انتہائی قابلِ مذمت ہے، اور اِس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر شئیر کرنے والے بھی اِس بدزبانی اور بدتمیزی کو پروان چڑھانے میں برابر کے مجرم ہیں، ایسے ملزمان کیخلاف آئین اور قانون کیمطابق ٹھوس کاروائی ہونی چاہئیے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر صحافی نوید شیخ کہتے ہیں کہ جس نے یہ ویڈیو بنائی ، جو اس میں … رہا ہے ، جس نے اسکو جاری کیا اور جو جو اس کی حمایت کر رہے ہیں دنیا کا کوئی بھی اور ملک ہوتا ان سب پر قانون کا اطلاق لازمی ہوتا۔ بلکہ ان سب کو نشان عبرت بنا دیا جاتا ۔ حالیہ ہم نے برطانیہ میں دیکھا ہے بس ہمارے ادارے دھنیا پی کر سو رہے ہیں۔

  • خواتین کو وراثت سے محروم کرنے کا کلچر ختم ہونا چاہیے، چیف جسٹس

    خواتین کو وراثت سے محروم کرنے کا کلچر ختم ہونا چاہیے، چیف جسٹس

    سپریم کورٹ نے بیوہ شمیم اختر کو فوری وراثتی جائیداد منتقل کرنے کا حکم دے دیا

    جھوٹی گواہیوں اور بوگس مقدمہ بازی پر مخالف فریقین کو پانچ لاکھ روپے کا جرمانہ کر دیا گیا، دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ وراثت کے سادہ مقدمہ کو پیچیدہ بنا دیا گیا،خواتین کو وراثت سے محروم کرنے کا کلچر ختم ہونا چاہیے، بوگس اور جعلی گواہیاں دینے پر فریقین کے خلاف کاروائی ہونی چاہیے،26 سال سے مقدمہ بازی بہت ہوچکی، چاہتے ہیں فریقین بیوہ کا حق مار کر مزید گناہ نہ کریں،جو چاہتا ہے جائیداد دبا کر رکھ لیتا ہے، وکلا کو بھی ایسے جھوٹے مقدمات نہیں لینے چاہیے،آج گناہوں کا اعتراف کریں گے تو آخرت کی سزا سے بچیں گے،

    شمیم اختر کے شوہر مہربان کا انتقال 1998 میں ہوا،مہربان کی دوسری بیوی اکثر جان کے بھتیجوں نے جائیداد تحفے میں دینے کا کلیم کر رکھا تھا

    آپریشن گولڈ سمتھ، اسرائیلی اخبار نے عمران خان کا "حقیقی چہرہ” دکھا دیا

    اسرائیل نیازی گٹھ جوڑ بے نقاب،صیہونی لابی عمران کو بچانے کیلئے متحرک

    عمران خان بطور وزیراعظم اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کیلئے تیار تھے،دعویٰ آ گیا

    عمران خان اور پی ٹی آئی نے ملک دشمنی میں تمام حدیں پار کر دیں

    امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی

    آپریشن گولڈ سمتھ کی کمر ٹوٹ گئی،انتشاری ٹولہ ایڑھیاں رگڑے گا

    تحریک انصاف کی ملک دشمنی ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئی

    14 سال سے خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی سرکار،اربوں بجٹ وصول،کارکردگی زیرو

    عمران پر جیل میں تشدد ہوا،مجھے مرد اہلکار نے…بشریٰ بی بی نے سنگین الزام عائد کر دیا

  • پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس درخواست قابل سماعت یا نہیں؟ فیصلہ محفوظ

    پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس درخواست قابل سماعت یا نہیں؟ فیصلہ محفوظ

    لاہور ہائیکورٹ ، سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس 2024 کے خلاف درخواست کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کرلیا گیا

    لاہور ہائیکورٹ میں سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس 2024 کے خلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی، سماعت لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس مس عالیہ نیلم نے کی،دوران سماعت چیف جسٹس عالیہ نیلم نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ گراؤنڈز بتائیں آرڈیننس کیوں غیر قانونی ہے؟وکیل درخواست گزار نے کہا کہ کوئی ایمرجنسی کی صورتحال نہیں تھی جس کے باعث یہ آرڈیننس جاری کیا گیا، اسمبلی بھی موجود تھی مگر اس کے باوجود آرڈیننس لایا گیا، آرڈیننس آنے کے بعد نئی کمیٹی تشکیل دی گئی،پہلے بھی پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ لایا گیا، پہلے تمام اختیارات چیف جسٹس کے پاس ہوتے تھے

    وفاقی حکومت کے وکیل نے پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس کے خلاف درخواست پر اعتراض کیا اور کہا کہ آرڈیننس سپریم کورٹ اور سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج ہوچکا ہے،سندھ ہائیکورٹ نے فیصلہ بھی محفوظ کر رکھا ہے، عدالت اس درخواست کو مسترد کرے،عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد درخواست کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا

    واضح رہے کہ رجسٹرار آفس نے شہری منیر احمد کی درخواست پر اعتراض عائد کیا تھا کہ یہ درخواست لاہور ہائیکورٹ میں نہیں اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کی جاسکتی ہے

    پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی آرڈیننس سپریم کورٹ میں چیلنج

    جسٹس منصور علی شاہ کا پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی میں عدم شرکت، چیف جسٹس کو خط

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ میرے کیس نہ سنیں،عمران خان کی پھر درخواست

    واضح رہے کہ صدرِمملکت آصف علی زرداری نے پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس پر دستخط کر دیے تھے، وزیرِ اعظم شہباز شریف اور وفاقی کابینہ نے سپریم کورٹ ترمیمی پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس منظور کر لیا تھا،وفاقی کابینہ نے سرکولیشن کے ذریعے پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس منظور کیا تھا،آرڈیننس کے مطابق بینچ عوامی اہمیت اور بنیادی انسانی حقوق کو مدِنظر رکھتے ہوئے مقدمات کو دیکھے گا، ہر کیس کو اس کی باری پر سنا جائے گا ورنہ وجہ بتائی جائے گی،ترمیمی آرڈیننس میں کہا گیا ہے کہ ہر کیس اور اپیل کو ریکارڈ کیا جائے گا اور ٹرانسکرپٹ تیار کیا جائے گا،تمام ریکارڈنگ اور ٹرانسکرپٹ عوام کے لیے دستیاب ہو گا،پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کمیٹی مقدمات مقرر کرے گی، کمیٹی چیف جسٹس، سینئر ترین جج اور چیف جسٹس کے نامزد جج پر مشتمل ہوگی،آرڈیننس میں پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے سیکشن 3 میں ترمیم شامل ہے، پریکٹس اینڈ پروسیجرایکٹ میں سیکشن 7 اے اور7 بی کو شامل کیا گیا ہے،آرڈیننس میں موجود ہے کہ سماعت سے قبل مفاد عامہ کی وجوہات دینا ہوں گی، سیکشن 7 اے کے تحت ایسے مقدمات جو پہلے دائر ہونگے انہیں پہلے سنا جائے گا، اگر کوئی عدالتی بینچ اپنی ٹرن کے بر خلاف کیس سنے گا تو وجوہات دینا ہونگی۔

    پاکستان بار کا پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی آرڈیننس کے اجرا پر شدید تحفظات کا اظہار

    پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کیس،جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس شاہد وحید کا اختلافی نوٹ

    پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ ،جسٹس یحییٰ آفریدی کا اضافی نوٹ جاری

    پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری

    بریکنگ،سپریم کورٹ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کو قانونی قرار دے دیا