Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • تحریک انصاف نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی آرڈیننس چیلنج کر دیا

    تحریک انصاف نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی آرڈیننس چیلنج کر دیا

    تحریک انصاف نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی آرڈیننس چیلنج کر دیا
    بیرسٹر گوہر کی جانب سے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی گئی ، درخواست میں کہا گیا ہے کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی آرڈیننس کالعدم قرار دیا جائے،ترمیمی آرڈیننس عدلیہ کی آزادی اور قانون و آئین کے برخلاف ہے، سپریم کورٹ قرار دے چکی کہ آرڈیننس ایمرجنسی حالات میں ہی جاری ہوسکتا ہے،ایسی کوئی ایمرجنسی صورتحال نہیں تھی کہ آرڈیننس جاری کیا جاتا، آرڈیننس کے اجراء کی کوئی وجوہات بھی نہیں بتائی گئیں؟ درخواست پر فیصلے تک آرڈیننس کو معطل کیا جائے،پی ٹی آئی نے آرڈیننس سے پہلے والی ججز کمیٹی بحال کرنے کی بھی استدعا کر دی

    پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی آرڈیننس سپریم کورٹ میں چیلنج

    جسٹس منصور علی شاہ کا پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی میں عدم شرکت، چیف جسٹس کو خط

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ میرے کیس نہ سنیں،عمران خان کی پھر درخواست

    واضح رہے کہ صدرِمملکت آصف علی زرداری نے پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس پر دستخط کر دیے تھے، وزیرِ اعظم شہباز شریف اور وفاقی کابینہ نے سپریم کورٹ ترمیمی پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس منظور کر لیا تھا،وفاقی کابینہ نے سرکولیشن کے ذریعے پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس منظور کیا تھا،آرڈیننس کے مطابق بینچ عوامی اہمیت اور بنیادی انسانی حقوق کو مدِنظر رکھتے ہوئے مقدمات کو دیکھے گا، ہر کیس کو اس کی باری پر سنا جائے گا ورنہ وجہ بتائی جائے گی،ترمیمی آرڈیننس میں کہا گیا ہے کہ ہر کیس اور اپیل کو ریکارڈ کیا جائے گا اور ٹرانسکرپٹ تیار کیا جائے گا،تمام ریکارڈنگ اور ٹرانسکرپٹ عوام کے لیے دستیاب ہو گا،پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کمیٹی مقدمات مقرر کرے گی، کمیٹی چیف جسٹس، سینئر ترین جج اور چیف جسٹس کے نامزد جج پر مشتمل ہوگی،آرڈیننس میں پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے سیکشن 3 میں ترمیم شامل ہے، پریکٹس اینڈ پروسیجرایکٹ میں سیکشن 7 اے اور7 بی کو شامل کیا گیا ہے،آرڈیننس میں موجود ہے کہ سماعت سے قبل مفاد عامہ کی وجوہات دینا ہوں گی، سیکشن 7 اے کے تحت ایسے مقدمات جو پہلے دائر ہونگے انہیں پہلے سنا جائے گا، اگر کوئی عدالتی بینچ اپنی ٹرن کے بر خلاف کیس سنے گا تو وجوہات دینا ہونگی۔

    پاکستان بار کا پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی آرڈیننس کے اجرا پر شدید تحفظات کا اظہار

    پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کیس،جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس شاہد وحید کا اختلافی نوٹ

    پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ ،جسٹس یحییٰ آفریدی کا اضافی نوٹ جاری

    پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری

    بریکنگ،سپریم کورٹ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کو قانونی قرار دے دیا

  • چیف جسٹس کی وائرل فیک ویڈیو،ایف آئی اے کا کاروائی کا فیصلہ

    چیف جسٹس کی وائرل فیک ویڈیو،ایف آئی اے کا کاروائی کا فیصلہ

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ذریعے فیک ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کا معاملہ،ایف آئی اے نےویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کرنیوالے افراد کےخلاف تحقیقات شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے جو فیک ہے، آئی اے سے بنائی گئی ہے، ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ بیکری میں ایک شخص چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے ساتھ بدتمیزی کر رہا ہے، اس فیک ویڈیو کو پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ سوشل میڈیا پر پھیلا رہے ہیں، اب ایف آئی اے نے کاروائی کا فیصلہ کیا ہے

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک صارف نے پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ بتایا جا رہا ہے کہ چیف جسٹس قا ضی فائزعیسی اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ بدتمیزی کی ویڈیو آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ذریعے تیار کی گئی ،اس کو وائرل کرنے والے اور ،شیئر کرنے والے سب کے سب اخلاقی طور پر پسماندہ اور ذہنی مریض ہیں ۔

    صحافی مطیع اللہ جان کہتے ہیں کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسی اور انکے اہل خانہ کیساتھ عوامی جگہ پر ایک شھری کی کسی بھی وجہ سے بدزبانی اور بدتمیزی انتہائی قابلِ مذمت ہے، اور اِس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر شئیر کرنے والے بھی اِس بدزبانی اور بدتمیزی کو پروان چڑھانے میں برابر کے مجرم ہیں، ایسے ملزمان کیخلاف آئین اور قانون کیمطابق ٹھوس کاروائی ہونی چاہئیے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر صحافی نوید شیخ کہتے ہیں کہ جس نے یہ ویڈیو بنائی ، جو اس میں … رہا ہے ، جس نے اسکو جاری کیا اور جو جو اس کی حمایت کر رہے ہیں دنیا کا کوئی بھی اور ملک ہوتا ان سب پر قانون کا اطلاق لازمی ہوتا۔ بلکہ ان سب کو نشان عبرت بنا دیا جاتا ۔ حالیہ ہم نے برطانیہ میں دیکھا ہے بس ہمارے ادارے دھنیا پی کر سو رہے ہیں۔

  • خواتین کو وراثت سے محروم کرنے کا کلچر ختم ہونا چاہیے، چیف جسٹس

    خواتین کو وراثت سے محروم کرنے کا کلچر ختم ہونا چاہیے، چیف جسٹس

    سپریم کورٹ نے بیوہ شمیم اختر کو فوری وراثتی جائیداد منتقل کرنے کا حکم دے دیا

    جھوٹی گواہیوں اور بوگس مقدمہ بازی پر مخالف فریقین کو پانچ لاکھ روپے کا جرمانہ کر دیا گیا، دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ وراثت کے سادہ مقدمہ کو پیچیدہ بنا دیا گیا،خواتین کو وراثت سے محروم کرنے کا کلچر ختم ہونا چاہیے، بوگس اور جعلی گواہیاں دینے پر فریقین کے خلاف کاروائی ہونی چاہیے،26 سال سے مقدمہ بازی بہت ہوچکی، چاہتے ہیں فریقین بیوہ کا حق مار کر مزید گناہ نہ کریں،جو چاہتا ہے جائیداد دبا کر رکھ لیتا ہے، وکلا کو بھی ایسے جھوٹے مقدمات نہیں لینے چاہیے،آج گناہوں کا اعتراف کریں گے تو آخرت کی سزا سے بچیں گے،

    شمیم اختر کے شوہر مہربان کا انتقال 1998 میں ہوا،مہربان کی دوسری بیوی اکثر جان کے بھتیجوں نے جائیداد تحفے میں دینے کا کلیم کر رکھا تھا

    آپریشن گولڈ سمتھ، اسرائیلی اخبار نے عمران خان کا "حقیقی چہرہ” دکھا دیا

    اسرائیل نیازی گٹھ جوڑ بے نقاب،صیہونی لابی عمران کو بچانے کیلئے متحرک

    عمران خان بطور وزیراعظم اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کیلئے تیار تھے،دعویٰ آ گیا

    عمران خان اور پی ٹی آئی نے ملک دشمنی میں تمام حدیں پار کر دیں

    امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی

    آپریشن گولڈ سمتھ کی کمر ٹوٹ گئی،انتشاری ٹولہ ایڑھیاں رگڑے گا

    تحریک انصاف کی ملک دشمنی ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئی

    14 سال سے خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی سرکار،اربوں بجٹ وصول،کارکردگی زیرو

    عمران پر جیل میں تشدد ہوا،مجھے مرد اہلکار نے…بشریٰ بی بی نے سنگین الزام عائد کر دیا

  • پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس درخواست قابل سماعت یا نہیں؟ فیصلہ محفوظ

    پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس درخواست قابل سماعت یا نہیں؟ فیصلہ محفوظ

    لاہور ہائیکورٹ ، سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس 2024 کے خلاف درخواست کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کرلیا گیا

    لاہور ہائیکورٹ میں سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس 2024 کے خلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی، سماعت لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس مس عالیہ نیلم نے کی،دوران سماعت چیف جسٹس عالیہ نیلم نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ گراؤنڈز بتائیں آرڈیننس کیوں غیر قانونی ہے؟وکیل درخواست گزار نے کہا کہ کوئی ایمرجنسی کی صورتحال نہیں تھی جس کے باعث یہ آرڈیننس جاری کیا گیا، اسمبلی بھی موجود تھی مگر اس کے باوجود آرڈیننس لایا گیا، آرڈیننس آنے کے بعد نئی کمیٹی تشکیل دی گئی،پہلے بھی پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ لایا گیا، پہلے تمام اختیارات چیف جسٹس کے پاس ہوتے تھے

    وفاقی حکومت کے وکیل نے پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس کے خلاف درخواست پر اعتراض کیا اور کہا کہ آرڈیننس سپریم کورٹ اور سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج ہوچکا ہے،سندھ ہائیکورٹ نے فیصلہ بھی محفوظ کر رکھا ہے، عدالت اس درخواست کو مسترد کرے،عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد درخواست کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا

    واضح رہے کہ رجسٹرار آفس نے شہری منیر احمد کی درخواست پر اعتراض عائد کیا تھا کہ یہ درخواست لاہور ہائیکورٹ میں نہیں اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کی جاسکتی ہے

    پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی آرڈیننس سپریم کورٹ میں چیلنج

    جسٹس منصور علی شاہ کا پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی میں عدم شرکت، چیف جسٹس کو خط

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ میرے کیس نہ سنیں،عمران خان کی پھر درخواست

    واضح رہے کہ صدرِمملکت آصف علی زرداری نے پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس پر دستخط کر دیے تھے، وزیرِ اعظم شہباز شریف اور وفاقی کابینہ نے سپریم کورٹ ترمیمی پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس منظور کر لیا تھا،وفاقی کابینہ نے سرکولیشن کے ذریعے پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس منظور کیا تھا،آرڈیننس کے مطابق بینچ عوامی اہمیت اور بنیادی انسانی حقوق کو مدِنظر رکھتے ہوئے مقدمات کو دیکھے گا، ہر کیس کو اس کی باری پر سنا جائے گا ورنہ وجہ بتائی جائے گی،ترمیمی آرڈیننس میں کہا گیا ہے کہ ہر کیس اور اپیل کو ریکارڈ کیا جائے گا اور ٹرانسکرپٹ تیار کیا جائے گا،تمام ریکارڈنگ اور ٹرانسکرپٹ عوام کے لیے دستیاب ہو گا،پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کمیٹی مقدمات مقرر کرے گی، کمیٹی چیف جسٹس، سینئر ترین جج اور چیف جسٹس کے نامزد جج پر مشتمل ہوگی،آرڈیننس میں پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے سیکشن 3 میں ترمیم شامل ہے، پریکٹس اینڈ پروسیجرایکٹ میں سیکشن 7 اے اور7 بی کو شامل کیا گیا ہے،آرڈیننس میں موجود ہے کہ سماعت سے قبل مفاد عامہ کی وجوہات دینا ہوں گی، سیکشن 7 اے کے تحت ایسے مقدمات جو پہلے دائر ہونگے انہیں پہلے سنا جائے گا، اگر کوئی عدالتی بینچ اپنی ٹرن کے بر خلاف کیس سنے گا تو وجوہات دینا ہونگی۔

    پاکستان بار کا پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی آرڈیننس کے اجرا پر شدید تحفظات کا اظہار

    پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کیس،جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس شاہد وحید کا اختلافی نوٹ

    پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ ،جسٹس یحییٰ آفریدی کا اضافی نوٹ جاری

    پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری

    بریکنگ،سپریم کورٹ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کو قانونی قرار دے دیا

  • پنجاب الیکشن ٹربیونلز کیس،چیف جسٹس کی بینچ سے الگ ہونے کی استدعا مسترد

    پنجاب الیکشن ٹربیونلز کیس،چیف جسٹس کی بینچ سے الگ ہونے کی استدعا مسترد

    سپریم کورٹ ، پنجاب الیکشن ٹربیونلز کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نےسماعت کی،جسٹس امین الدین اور جسٹس جمال خان مندوخیل بنچ میں شامل ہیں،جسٹس عقیل عباسی اور جسٹس نعیم اختر افغان بھی پانچ رکنی لارجر بینچ کا حصہ ہیں، عدالت نے گزشتہ سماعت پر ٹربیونلز کو کام کرنے سے روک دیا تھا ،عدالت نے چیف الیکشن کمشنر کو چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ سے مشاورت کی بھی ہدایت کی تھی

    وکیل حامد خان نے کہا کہ مائی لارڈ ہم نے ایک درخواست دینی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ سینئر وکیل ہیں ہمارے لیے آپ قابل احترام ہیں،پہلے آرڈر پڑھنے دیں،آپ براہ مہربانی اپنی نشت پر براجمان رہیئے، ہم آپ کو بعد میں سنیں گے،وکیل درخواست گزار حامد خان نے کہا کہ ہم آپ کے کیس سننے پر اعتراض ہے،میں آپ کی بینچ میں شمولیت پر اعتراض اٹھانا چاہتا ہوں، سلمان اکرم راجہ نے چیف جسٹس قاضی فائز عیسی پر اعتراض کر دیا،چیف جسٹس فائز عیسٰی نے الیکشن ٹریبیونل کے کیس میں بنچ سے الگ ہونے کی سلمان اکرم راجہ ایڈووکیٹ کی استدعا مسترد کر دی ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ نے اگر کیس سے الگ ہونا ہے تو ہو جائیے ہمیں کوئی اعتراض نہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سلمان اکرم راجہ کے وکیل حامد خان کو اپنی جگہ پر بیٹھنے کا مشورہ دے دیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے حامد خان کو روسٹرم سے ہٹنے کی ہدایت کر دی اور کہا کہ کیس سے الگ ہونا ہے تو ہو جائیں ہمیں کیس چلانے دیں۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے ریڈر کو اعتراض کی درخواست لینے سے ہی روک دیا، حامد خان کمرہِ عدالت سے ہی چلے گئے

    لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس کے ساتھ مشاورت کے بعد الیکشن ٹریبونلز کا مسئلہ حل ہو گیا ہے، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے چار ٹربیونل ججز برقرار رکھے باقی چار الیکشن کمیشن مقرر کرے گا، پنجاب میں الیکشن ٹربیونلز میں سے 4 موجودہ ججز قائم رہیں گے، 4 الیکشن کمیشن مقرر کرے گا۔ وکیل الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ میں بتا دیا۔

    ایک درخواست کر کر کے تھک گیا ہوں لیکن کسی نے زحمت نہیں کی، آئین کو دیکھیں آئین کیا کہتاہے،چیف جسٹس
    جسٹس عقیل عباسی نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے تحریری جواب کے مطابق ہائیکورٹ کی مشاورت سے مسئلہ حل ہو گیا،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے 4 ٹربیونلز قائم رکھے باقی چار الیکشن کمیشن مقرر کرے گا،جسٹس عقیل عباسی نے کہا کہ اس کا مطلب کہ الیکشن کمیشن اور چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ میں معاملات طے پا گئے،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ جی بالکل چونکہ قانون بدل گیا تھا اس لیے اب نئے چار ٹربیونلز الیکشن کمیشن مقرر کرے گا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کی مدت 5 سال ہے جو بڑھ نہیں سکتی،اسٹے آرڈر والے کیسز بھی سپریم کورٹ میں آتے ہیں، جو معاملات عدالت کے نہیں انہیں آپس میں حل کریں، ایک درخواست کر کر کے تھک گیا ہوں لیکن کسی نے زحمت نہیں کی، آئین کو دیکھیں آئین کیا کہتاہے،آئین کی کتاب ہے لیکن آئین کو کوئی پڑھنا گوارا نہیں کرتا،

    جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ اختلاف اس بات پر آیا تھا کہ الیکشن کمیشن نے ہائیکورٹ کے بھیجے گئے ناموں پر انکار کیا،الیکشن کمیشن کے پاس اختیار ہے لیکن ٹریبونل کے لیے ججز کی تعیناتی ہائیکورٹس کی مشاورت سے ہوتی ہے، ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کوئی معمولی انسان تو نہیں،الیکشن کمیشن اور ہائیکورٹس دونوں اداروں کے لیے عزت ہے،ٹریبونل میں ججز کی تعیناتی پر پسند نا پسند کی بات اب ختم ہونی چاہیے،

    اگر ججز کی تعداد کیسز کو دیکھتے ہوئے کم ہوئی تو غیر منصفانہ ہوگا،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ٹریبونل کی تعداد کا انحصار کیسز پر ہے، کیسز کو دیکھتے ہوئے ججز کی تعداد پر فیصلہ کریں، اگر ججز کی تعداد کیسز کو دیکھتے ہوئے کم ہوئی تو غیر منصفانہ ہوگا،مجھے نہیں معلوم بلوچستان یا پنجاب میں کتنے کیسز زیر التوا ہیں،آج کل ڈالر کمانے کیلئے جھوٹ بولا جاتا ہے،ڈالرز کی وجہ سے اب میڈیا رپورٹنگ درست نہیں ہوتی، آج کل غلط رپورٹنگ ہو رہی ہے لیکن سپریم کورٹ کا میڈیا سیل نہیں کہ ہم وضاحت جاری کرتے رہیں،سلمان اکرم راجہ اپنے وکیل حامدخان کے ساتھ دوبارہ کمرہ عدالت میں واپس آگئے

    کیا آپ الیکشن ٹربیونلز کیلئے اپنی مرضی کے جج چاہتے ہیں؟ چیف جسٹس کا سلمان اکرم راجہ سے مکالمہ
    الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کو ایک ہفتے میں پنجاب ٹربیونلز کے نوٹیفکیشن جاری کرنے کی یقین دہانی کرا دی،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ قانون کے مطابق نوٹیفکیشن 45دن میں جاری ہونا لازمی ہے، الیکشن کمیشن کے پاس تاخیر کی کوئی گنجائش نہیں ہے،سلمان اکرم راجہ روسٹرم پر آ گئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جو خط چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کو لکھ وہ ہمیں دکھا دیں،سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے رجسٹرار کو بتایا، ایسا ہی میکنزم ہوتاہے، چیف جسٹس نے کہا کہ کس نے بتایا چیف جسٹس ہائیکورٹ نے رجسٹرار کو خط لکھا؟ آپ کو بتا دوں سپریم کورٹ کے جج کا آرڈر رجسٹرار نے نہیں مانا، آپ کو معلوم ہوگا کدھر ریفر کر رہا ہوں،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ بات آگے بڑھانے کی ضرورت نہیں، دونوں کی ملاقات ہوگئی، دونوں مان گئے، ہائیکورٹ نے کس قانون کے تحت نوٹیفکیشن جاری کیا، کیا ہائیکورٹ نوٹیفیکیشن جاری کرسکتاہے؟سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ وقت کم تھا، انتخابات سر پر تھے، ریٹائرڈ ججز کی تعیناتی میں نے ہائیکورٹ میں چیلنج کی ہوئی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر ہائیکورٹ میں ریٹائرڈ ججز کی تعیناتی چیلنج کی ہوئی تو یہاں بات نہ کریں، سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ اگر ہائیکورٹ ججز کے نام دے تو الیکشن کمیشن کو انکار کرنے پر ٹھوس وجوہات بتانی چاہیے،

    سلمان اکرم راجہ کے بار بار بیچ جملے میں بولنے پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ برہم ہو گئے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ بار بار میرے بات کرنے کے بیچ نہ بولیں، سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کے حکم پر الیکشن کمیشن کو عملدرآمد کرنا چاہیے تھا،سپریم کورٹ لاہور ہائیکورٹ کے حکم پر کوئی فیصلہ دیئے بغیر معاملہ ختم نہیں کر سکتی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا آپ اپنی مرضی کے ججز ٹربیونلز کیلئے چاہتے ہیں،جب لاہور ہائیکورٹ اور الیکشن کمیشن میں مشاورت ہو چکی تو مزید کیا کرنا چاہیے،آپ چاہتے ہیں ٹربیونلز کا معاملہ ختم ہی نہ ہو،سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ہائیکورٹ کا حکم کالعدم یا برقرار رکھے بغیر یہ کیس ختم نہیں ہو گا،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا ہم عدالتی فیصلوں پر انحصار کریں یا آئین پر؟ سپریم کورٹ کے فیصلوں پر ہم پابند نہیں،پارلیمنٹ کی مدت مکمل ہونے تک اسٹے آرڈر کی اجازت نہیں دیں گے، عدالت آئین کی پابند ہے، مجھے سروکار نہیں کسی جج نے کیا فیصلہ دیا ہے، الیکشن کمیشن کو آئین پر پابند کروائیں گے،سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں پر سپریم کورٹ پابند نہیں لیکن ہائیکورٹس پابند ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آئین بہت پیچیدہ کتاب ہے جو صرف ایک دانا شخص ہی سمجھ سکتا ہے،

    جسٹس منصور علی شاہ کا پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی میں عدم شرکت، چیف جسٹس کو خط

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ میرے کیس نہ سنیں،عمران خان کی پھر درخواست

    پاکستان بار کا پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی آرڈیننس کے اجرا پر شدید تحفظات کا اظہار

    پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کیس،جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس شاہد وحید کا اختلافی نوٹ

    پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ ،جسٹس یحییٰ آفریدی کا اضافی نوٹ جاری

    پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری

    بریکنگ،سپریم کورٹ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کو قانونی قرار دے دیا

  • پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی آرڈیننس سپریم کورٹ میں چیلنج

    پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی آرڈیننس سپریم کورٹ میں چیلنج

    پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی آرڈیننس سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا

    چوہدری احتشام الحق ایڈووکیٹ نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی ،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی کہ ترمیمی آرڈیننس کو آئین سے متصادم قرار دیا جائے، آرڈیننس کے تحت ہونے والے تمام اقدامات کو کالعدم قرار دیا جائے، درخواست پر فیصلے تک پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی آرڈیننس کو معطل کیا جائے، آرڈیننس کا اجراء پارلیمانی جمہوریت کے خلاف ہے،سپریم کورٹ بھی قرار دے چکی کہ آرڈیننس صرف ہنگامی حالات میں ہی جاری ہوسکتا،

    جسٹس منصور علی شاہ کا پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی میں عدم شرکت، چیف جسٹس کو خط

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ میرے کیس نہ سنیں،عمران خان کی پھر درخواست

    واضح رہے کہ صدرِمملکت آصف علی زرداری نے پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس پر دستخط کر دیے تھے، وزیرِ اعظم شہباز شریف اور وفاقی کابینہ نے سپریم کورٹ ترمیمی پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس منظور کر لیا تھا،وفاقی کابینہ نے سرکولیشن کے ذریعے پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس منظور کیا تھا،آرڈیننس کے مطابق بینچ عوامی اہمیت اور بنیادی انسانی حقوق کو مدِنظر رکھتے ہوئے مقدمات کو دیکھے گا، ہر کیس کو اس کی باری پر سنا جائے گا ورنہ وجہ بتائی جائے گی،ترمیمی آرڈیننس میں کہا گیا ہے کہ ہر کیس اور اپیل کو ریکارڈ کیا جائے گا اور ٹرانسکرپٹ تیار کیا جائے گا،تمام ریکارڈنگ اور ٹرانسکرپٹ عوام کے لیے دستیاب ہو گا،پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کمیٹی مقدمات مقرر کرے گی، کمیٹی چیف جسٹس، سینئر ترین جج اور چیف جسٹس کے نامزد جج پر مشتمل ہوگی،آرڈیننس میں پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے سیکشن 3 میں ترمیم شامل ہے، پریکٹس اینڈ پروسیجرایکٹ میں سیکشن 7 اے اور7 بی کو شامل کیا گیا ہے،آرڈیننس میں موجود ہے کہ سماعت سے قبل مفاد عامہ کی وجوہات دینا ہوں گی، سیکشن 7 اے کے تحت ایسے مقدمات جو پہلے دائر ہونگے انہیں پہلے سنا جائے گا، اگر کوئی عدالتی بینچ اپنی ٹرن کے بر خلاف کیس سنے گا تو وجوہات دینا ہونگی۔

    پاکستان بار کا پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی آرڈیننس کے اجرا پر شدید تحفظات کا اظہار

    پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کیس،جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس شاہد وحید کا اختلافی نوٹ

    پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ ،جسٹس یحییٰ آفریدی کا اضافی نوٹ جاری

    پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری

    بریکنگ،سپریم کورٹ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کو قانونی قرار دے دیا

  • مخصوص نشستوں کا فیصلہ،سلمان اکرم راجا نے ججز کی سہولتکاری بے نقاب کر دی

    مخصوص نشستوں کا فیصلہ،سلمان اکرم راجا نے ججز کی سہولتکاری بے نقاب کر دی

    سپریم کورٹ آف پاکستان نےمخصوص نشستوں سے متعلق کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری تو کردیا ہے مگر اس فیصلے کے بعد اس تاثر کو تقویت ملی ہے کہ اعلیٰ عدلیہ میں سیاسی ججز کا ایک گروہ موجود ہے جو بانی پی ٹی آئی اور اس کی جماعت کی سہولت کاری کر رہا ہے۔ اس کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں اور تازہ ترین ثبوت پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجا کا ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے یہ کہنا بھی ہے کہ جسٹس اطہر من اللہ نے مجھے سے پوچھا تھا کہ اگر ہم یہ مخصوص نشستیں پی ٹی آئی کو دیدیں تو آپ کو کوئی اعتراض تو نہیں ہوگا جس میں سلمان اکرم راجا نے کہا کہ مجھے اس پر کیا اعتراض ہوسکتا ہے۔

    اس کیس کا جب مختصر فیصلہ دیا گیا تھا تو اس وقت بھی قانونی حلقوں نے یہ بات بڑے واضح انداز میں کہی تھی کہ یہ ایسا فیصلہ ہے جس میں پی ٹی آئی کیلئے سہولت کاری نظر آرہی ہے۔ قانونی ماہرین نے یہ بھی کہا تھا کہ جب اعلیٰ عدلیہ کسی سیاسی جماعت کیلئے سہولت کاری کا کام شروع کردے تو پھر انصاف کا قتل ہوتا ہے اور اس تفصیلی فیصلہ میں ایسا نظر آیا ہے۔

    قانونی ماہرین نے اب تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد بھی کہا کہ ہم نے پہلے بھی کا تھا کہ اور اب بھی اپنی اس بات پر قائم ہیں کہ مخصوص نشستوں کے فیصلے میں اعلیٰ عدلیہ کے سیاسی ججز نے آئین کو ری رائٹ کرکے پی ٹی آئی کے حق میں فیصلہ دیا ہے ۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ باتیں مفروضوں کی بنیاد پر نہیں کی جا رہی ہیں آئین کے مطابق نظر آتا ہے کہ پی ٹی آئی کی سیاسی ججز کی جانب سے سہولت کاری کی گئی ہے۔

    قانونی ماہرین کہتے ہیں کہ سہولت کاری کی سب سے بڑی مثال یہ ہے کہ الیکشن ایکٹ کے سیکشن 66 اور سیکشن 104 میں ترمیم کے بعد سپریم کورٹ کا حکم قابل عمل نہیں ہے۔ سپریم کورٹ کا ماضی میں خیال تھا کہ اگر سپریم کورٹ کا فیصلہ سابقہ قانون پر دیا جاتا ہے اور قانون میں ترمیم کی جاتی ہے تو فیصلہ قابل عمل نہیں ہوگا۔

    قانونی ماہرین کے مطابق سلمان اکرم راجا کے مذکورہ بالا بیان کے بعد افسوس کی بات یہ ہے کہ جج بھی تاثر کے لحاظ سے’’ میرے جج، تیرے جج ‘‘بن کر ہی دکھا رہے ہیں۔ ججوں کو تو صرف اور صرف آئین اور قانون کے مطابق انصاف کرنا چاہیے۔

    قانونی ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے اگر جج کا نام سن کریہ اندازہ ہو جائے کہ اُس کا فیصلہ کس سیاسی دھڑے کے حق میں اور کس سیاسی دھڑے کے خلاف ہوگا تو پھر یہ انصاف تو نہ ہوا۔ مگر جسٹس اطہر من اللہ کے حوالے سے جو بات سلمان اکرم راجا نے کی ہے وہ تو اس سے بھی آگے کا معاملہ ہے یعنی ایک اہم ترین کیس کا فیصلہ آنے سے قبل اس بینچ میں شامل جج یہ پوچھ رہا ہے کہ اگر ہم آپ کے حق میں فیصلہ دیدیں تو آپ کو کوئی اعتراض تو نہیں ہوگا۔ اس سے بڑھ کر اس کیس میں پی ٹی آئی کی سہولت کاری کی اور کیا مثال ہوسکتی ہے۔

    قانونی ماہرین یہ سوال بھی کر رہے ہیں سلمان اکرم راجا نے جو بات ٹی وی چینل میں کی ہے کیا جسٹس اطہر من اللہ اس کی وضاحت کرینگے۔۔۔۔۔؟

    جسٹس منصور علی شاہ کی جانب سے اختلافی نوٹ لکھنے والے ججز کے حوالے سے تو سخت ریمارکس سامنے آئے ہیں کیا اب جسٹس اطہر من اللہ کے حوالے سے سلمان اکرم راجا کے بیان پر وہ کچھ کہنا پسند کرینگے۔

    خیبر پختونخواہ بدانتظامی،کرپشن کی وجہ سے لاقانونیت کی لپیٹ میں.تحریر:ڈی جے کمال مصطفیٰ

    آپریشن گولڈ سمتھ، اسرائیلی اخبار نے عمران خان کا "حقیقی چہرہ” دکھا دیا

    اسرائیل نیازی گٹھ جوڑ بے نقاب،صیہونی لابی عمران کو بچانے کیلئے متحرک

    عمران خان بطور وزیراعظم اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کیلئے تیار تھے،دعویٰ آ گیا

    عمران خان اور پی ٹی آئی نے ملک دشمنی میں تمام حدیں پار کر دیں

    امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی

    آپریشن گولڈ سمتھ کی کمر ٹوٹ گئی،انتشاری ٹولہ ایڑھیاں رگڑے گا

    تحریک انصاف کی ملک دشمنی ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئی

    14 سال سے خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی سرکار،اربوں بجٹ وصول،کارکردگی زیرو

    عمران پر جیل میں تشدد ہوا،مجھے مرد اہلکار نے…بشریٰ بی بی نے سنگین الزام عائد کر دیا

  • سپریم کورٹ، مخصوص نشستوں کے کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری

    سپریم کورٹ، مخصوص نشستوں کے کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری

    سپریم کورٹ نے مخصوص نشستوں کے کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا.

    70 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جسٹس منصور علی شاہ نے تحریر کیا.مخصوص نشستوں سے متعلق اکثریتی فیصلہ اردو زبان میں بھی جاری کرنے کا حکم دیا گیا، فیصلے میں عدالت نے کہا کہ اردو ترجمہ کو کیس ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے ،تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہیں تحریک انصاف کو مخصوص نشستیں دی جائیں.جو ارکان جس جماعت سے وابستگی کا حلف نامہ دیتے ہیں انہیں اس جماعت کا تصور کیا جائے گا،یہ مخصوص نشستیں تحریک انصاف کی ہی بنتی ہیں – الیکشن کمیشن کا یکم مارچ کا فیصلہ آئین سے متصادم ہے،بطور ایک آئینی ادارہ الیکشن کمیشن ۸ فروری ۲۰۲۴ کو صاف شفاف انتخابات کرانے میں ناکام رہا ہے۔ آئین صرف ایک حکومتی بلیوپرنٹ نہیں بلکہ عوام کی حاکمیت یقینی بنانے پر مبنی دستاویز ہے،آئین سیاسی جماعت بنانے اور عوام کی اس میں شمولیت کا حق دیتا ہے،عوام کی نمائندگی ہی دراصل جمہوریت ہے،انتخابی نشان نہ دینا سیاسی جماعت کے انتخاب لڑنے کے قانونی و آئینی حق کو متاثر نہیں کرتا، آئین یا قانون سیاسی جماعت کو انتخابات میں امیدوار کھڑے کرنے سے نہیں روکتا، پاکستان تحریک انصاف ایک سیاسی جماعت ہے، ،الیکشن میں بڑا اسٹیک عوام کا ہوتا ہے،انتخابی تنازعہ بنیادی طور پر دیگر سول تنازعات سے مختلف ہوتا ہے،یہ سمجھنے کی بہت کوشش کی کہ سیاسی جماعتوں کے نظام پر مبنی پارلیمانی جمہوریت میں اتنے آزاد امیدوار کیسے کامیاب ہو سکتے ہیں؟اس سوال کا کوئی تسلی بخش جواب نہیں دیا گیا،پی ٹی آئی کیمطابق ووٹرز نے ان کے پی ٹی آئی امیدوار ہونے کی وجہ سے انہیں ووٹ دیا،

    ستر صفحات کے تفصیلی فیصلے میں 8 ججز کا سپریم کورٹ کے 2 ججز کی اپنے بارہ جولائی کے فیصلے کو غیر آئینی قرار دینے کے ریمارکس پر سخت تنقید
    تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ افسوس ہے کہ دو ججز (جسٹس امین الدین خان اور جسٹس نعیم اختر افغان) نے 3 اگست 2024 کے اختلافی نوٹ میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر نامناسب تنقید کی ،جسٹس امین الدین اور جسٹس نعیم اختر افغان کاُعمل سپریم کورٹ کے ججز کے منصب کے عین منافی تھا،اس طرح ساتھی ججز کے بارے میں رائے دینا سپریم کورٹ کی ساکھ کو متاثر کرنے کے مترادف ہے، قانونی معاملات پر ہر جج اپنی رائے دینے کا حق رکھتا ہے، جس انداز میں 2 ججز نے اکثریتی فیصلے کو غلط کہا، یہ نظام انصاف میں خلل ڈالنے کے مترادف ہے،

    الیکشن کمیشن 2024 کے انتخابات میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہا ہے سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ
    سپریم کورٹ نے تفصیلی فیصلے میں سب سے زیادہ زیرِبحث سوال کہ جو درخواست میں استدعا ہی نہیں کی گئی تھی وہ ریلیف دیدیا گیا کا جواب دیا ہے،تفیصلی فیصلے میں کہا گیا کہ پشاور ہائیکورٹ کے پاس آرٹیکل 199 میں وہ اختیار موجود نہیں جو سپریم کورٹ کے پاس مکمل انصاف کرنے کیلئے آرٹیکل 187 میں ہے. الیکشن کمیشن کے پاس آرٹیکل 218(3) میں اختیار تھا کہ الیکشن صاف اور شفاف ہوں، پشاور ہائیکورٹ اختیار نہ ہونے کے باعث پی ٹی آئی کی درخواست نہ ہوتے ہوئے صاف شفاف انتخابات پر مکمل انصاف کا وہ فیصلہ نہیں کر سکتی تھی جو سپریم کورٹ یا الیکشن کمیشن کر سکتے تھے، پشاور ہائیکورٹ جو کر سکتی تھی اور اس میں ناکام ہوئی وہ یہ ہے کہ وہ الیکشن کمیشن کو معاملہ دوبارہ فیصلہ کرنے کیلئے ریمانڈ بیک کر سکتی تھی،

    سپریم کورٹ کے تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ یہ وضاحت کرنا چاہتے ہیں کہ پی ٹی آئی، جسے اس کیس میں ریلیف دیا گیا ہے، ہمارے سامنے ایک درخواست کے ساتھ آئی ہے،اسے اس کیس میں فریق کے طور پر شامل کیا جا سکے۔عام سول مقدمات کے طریقہ کار کے مطابق، پہلے شامل کرنے کی درخواست کا فیصلہ کیا جاتا ہے اور درخواست گزار کو باقاعدہ طور پر کیس میں فریق بنایا جاتا ہے،اس سے پہلے کہ اسے کسی قسم کا ریلیف دیا جائے۔ جیسا کہ اس فیصلے کے آغاز میں وضاحت کی گئی ہے، یہ ایک عام سول کیس نہیں ہے بلکہ اعلیٰ ترین نوعیت کا مقدمہ ہے، جہاں جمہوریت آئین کی ایک اہم خصوصیت اور عوام (ووٹرز) کے اپنے نمائندے منتخب کرنے کے بنیادی حق کو محفوظ، دفاع کرنا ہے،تاکہ ریاست کے قانون ساز اور انتظامی اداروں کے نمائندوں کا انتخاب ہو سکے۔ پہلے پی ٹی آئی کی درخواست کو منظور کرنے اور پھر اسے ریلیف دینے کی رسمی کارروائی کی زیادہ اہمیت نہیں ہے، جب عدالت کی توجہ عوام (ووٹرز) کے حقِ رائے دہی کے تحفظ پر ہو، جو آئین کے آرٹیکل 17(2) اور 19 کے تحت ضمانت شدہ ہے، اس سے زیادہ کسی بھی سیاسی جماعت کا حق چاہے وہ سنی اتحاد کونسل ہو یا پی ٹی آئی یا کوئی اور جماعت۔درحقیقت، خاص طور پر اس قسم کے مقدمات کے لیے، جہاں عوام کے حقوق شامل ہوں، نہ کہ صرف ان فریقوں کے جو عدالت کے سامنے ہیں، کسی بھی نظامِ انصاف میں طریقہ کار کا مناسب مقام لوگوں کو ان کے حقوق دینے میں مدد فراہم کرنا ہے، نہ کہ اس میں رکاوٹ ڈالنا،88 جب عدالت اپنے عمومی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے مکمل انصاف فراہم کرتی ہے، تو یہ عدالت کسی بھی تکنیکی یا عملی قاعدے سے معذور نہیں ہوتی.

    سپریم کورٹ نے تفصیلی فیصلے میں کہا کہ الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کے 80میں سے 39ایم این ایز کو تحریک انصاف کا رکن ظاہر کیا، الیکشن کمیشن کو کہا وہ باقی 41ایم این ایز کے 15روز کے اندر دستخط شدہ بیان حلفی لیں، الیکشن کمیشن مخصوص نشستوں پر تحریک انصاف کے امیدواروں کو نوٹیفائی کرے، تمام آزاد ارکان پی ٹی آئی کے ممبر ہیں اگر سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل نہ ہوا تو یہ آئین شکنی ہوگی. جو سیاسی جماعت ایک مرتبہ رجسٹر ہوجائے اسے ڈی لسٹ کرنے کا الیکشن کمشین کو اختیار نہیں،سپریم کورٹ کا انتخابی شفافیت کی نگرانی میں کردار جمہوری عمل میں عوام کے اعتماد کو برقرار رکھنے کے لیے انتہائی اہم ہے،عدالت کا "مکمل انصاف” کرنے کا اختیار اس کے آئینی اختیارات میں ایک اہم ہتھیار ہے۔اس اختیار کے ذریعے عدالت جمہوریت کو زوال پذیر ہونے سے روکنے اور مؤثر طریقے سے عوام کے حقوق کا تحفظ کر سکتی ہے۔انتخابی انصاف سے انکار کرنا اور انتخابی شفافیت کو متاثر کرنا جمہوریت کی قانونی حیثیت کو کمزور کر دے گا۔

    سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی ویمن ونگ کی صدر کنول شوذب کی درخواست کو غیر ضروری قرار دے دیا،سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ کرنا تھا کہ کونسی سیاسی جماعت کو کتنی مخصوص نشستیں مل سکتی ہیں،ان نشستوں پر سیاسی جماعتوں کی جانب سے نامزد کردہ افراد کا انفرادی حق نہیں ہوتا،الیکشن کمیشن ملک میں جمہوری عمل کا ضامن اور حکومت کا چوتھا ستون ہے، الیکشن کمیشن 8 فروری 2024 میں اپنا یہ کردار ادا کرنے میں ناکام رہا۔الیکشن کمیشن بنیادی فریق مخالف کے طور پر کیس لڑتا رہا، الیکشن کمیشن کا بنیادی کام صاف شفاف انتخابات کرانا ہے،الیکشن کمیشن کیجانب سے انتخابی عمل میں نمایاں غلطیوں کے باعث عدالتی مداخلت ضروری ہو جاتی ہے،

    سپریم کورٹ نےبلے کے انتخابی نشان چھیننے کی کارروائی پر تحفظات کا اظہارکیا،عدالت نے مخصوص نشستیں الاٹ کرنے کیلئے بنائی گئی انتخابی رولز کی شق 94 بھی کالعدم قرار دے دی،تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ بلے کے نشان والے کیس میں پارٹی کے آئینی حقوق واضح کر دیئے جاتے تو ابہام پیدا ہی نہ ہوتا،الیکشن کمیشن نے بھی اپنے حکمنامہ میں پی ٹی آئی کے آئینی حقوق واضح نہیں کیے،عدالت اور الیکشن کمیشن کو مدنظر رکھنا چاہیے تھا کہ انتخابی شیڈیول جاری ہو چکا ہے،پارٹی کے اندرونی معاملے پر شہریوں کے ووٹ کے بنیادی حقوق کو ختم نہیں کیا جا سکتا،بلے کے نشان کا فیصلہ نظرثانی میں زیرالتوا ہے اس لئے اس پر رائے نہیں دے سکتے،

    سپریم کورٹ نے الیکشن رولز کی شق 94 کو غیرآئینی قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دے دیا کہا رول 94 آئین اور الیکشن ایکٹ 2017 سے متصادم ہے، رول 94 مخصوص نشستوں کی الاٹمنٹ کے طریقہ کار سے متعلق ہے، انتخابی رولز الیکشن ایکٹ کے مطابق ہی بنائے جا سکتے ہیں، انتخابی رولز میں ایسی چیز شامل نہیں کی جا سکتی جو الیکشن ایکٹ میں موجود ہی نہ ہو، رول 94 کی وضاحت میں لکھا گیا ہے کہ سیاسی جماعت اسے تصور کیا جائے گا جس کے پاس انتخابی نشان ہو، رول 94 کی وضاحت آئین کے آرٹیکل 51(6) اور الیکشن ایکٹ کی شق 106 سے متصادم ہے، انتخابی نشان نہ ہونے پر مخصوص نشستیں نہ دینا الیکشن کمیشن کی جانب سے اضافی سزا ہے، واضح قانون کے بغیر کسی کو سزا نہیں دی جا سکتی،آئین میں دیے گئے حقوق کو کم کرنے یا قدغن لگانے والے قوانین کا جائزہ تنگ نظری سے ہی لیا جا سکتا ہے،جمہوریت میں انفرادی یا اجتماعی حقوق میں کم سے کم مداخلت یقینی بنانی چاہیے، انٹراپارٹی انتخابات نہ کرانے کی سزا انتخابی نشان واپس لینے سے زیادہ کچھ نہیں،انتخابی نشان واپس لئے جانے کا مطلب یہ نہیں کہ سیاسی جماعت کے آئینی حقوق ختم ہوگئے،

    اکثریتی ججز کی وضاحت، چیف جسٹس کا بڑا فیصلہ،جواب مانگ لیا

    آئینی ترامیم، اسپیکر قومی اسمبلی کی حکومت و اپوزیشن کو مصالحت کی پیشکش

    سپریم کورٹ فیصلے پر عمل کیا جائے،اسپیکر کے پی اسمبلی کا خط

    قومی اسمبلی،تحریک انصاف کا ایک بھی رکن نہیں،پارٹی پوزیشن جاری

    مخصوص نشستیں الاٹ کی جائیں،اسپیکر سندھ اسمبلی کا الیکشن کمیشن کوخط

    سپریم کورٹ،مخصوص نشتوں پر 8 ججز کی وضاحت ، ڈپٹی رجسٹرار نے سوال اٹھا دیا

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا سپریم کورٹ کے فیصلے پر ردعمل: مخصوص نشستوں کے حوالے سے قانونی اور آئینی سوالات اٹھائے

    مخصوص سیٹوں بارے پارلیمان کی قانون سازی،عوام حمایت میں کھڑی ہو گئی

    مخصوص نشستوں کے سپریم کورٹ فیصلے پر پیپلز پارٹی نے کی نظرثانی اپیل دائر

    مخصوص نشستوں پر سپریم کورٹ کا فیصلہ،ملک ایک اور آئینی بحران سے دوچار

    حکومت کو کوئی خطرہ نہیں،معاملہ تشریح سے آگے نکل گیا،وفاقی وزیر قانون

    سپریم کورٹ کا فیصلہ، سیاسی جماعتوں کا ردعمل،پی ٹی آئی خوش،حکومتی اتحاد پریشان

  • سپریم کورٹ،این اے 97 دوبارہ گنتی کی درخواست دو رکنی بینچ کو بھجوا دی گئی

    سپریم کورٹ،این اے 97 دوبارہ گنتی کی درخواست دو رکنی بینچ کو بھجوا دی گئی

    حلقہ این اے 97 میں دوبارہ گنتی سے متعلق علی گوہر کی نظرثانی درخواست پر سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے نظرثانی درخواست مرکزی کیس سننے والے دو رکنی بینچ کو بھیج دی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیس پہلے دو رکنی بینچ نے سنا تھا، اسی بینچ کے سامنے نظرثانی درخواست سماعت کیلئے مقرر کر دیتے ہیں،چیف جسٹس نے وکیل درخواست گزار سے سوال کیا کہ کب تک کیس دوبارہ سماعت کیلئے مقرر کیا جائے؟وکیل درخواست گزار نے کہا کہ جمعہ کو کیس دوبارہ لگا دیں،

    عدالت نےعلی گوہر کی نظرثانی درخواست جمعہ کو سماعت کیلئے مقرر کرنے کاحکم دے دیا،جسٹس امین الدین اور جسٹس نعیم اختر افغان پر مشتمل دو رکنی بینچ نے مرکزی کیس سنا تھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی،این اے 97 میں ن لیگ کے امیدوار علی گوہر بلوچ نے نظر ثانی درخواست دائر کر رکھی ہے۔یاد رہے 21 اگست کو ری کاونٹنگ درخواست مسترد کی گئی تھی۔

    جو مرضی کر لیں، لوگ نکل کر پی ٹی آئی کوووٹ دیں گے،عمران خان کا پیغام علیمہ کی زبانی

    عمران خان پر لگی دفعات پر سزائے موت ہو سکتی ہے،علیمہ خان کا پھر بیان

    جج کے پیچھے پولیس کھڑی ہوتی تا کہ جج کو ڈرایا جائے،علیمہ خان

    جس کیس سے متعلق کوئی بات نہ کر سکیں اس پر کیا کہیں،علیمہ خان

    شیر افضل مروت کی لاٹری نکل آئی، نواز کا دکھڑا،علیمہ کی پنکی سے چھیڑچھاڑ

    پی ٹی آئی چیئرمین کیسا ہو، بشریٰ بی بی جیسا ہو،علیمہ باجی کا پارٹی پر قبضہ نامنظور ،نعرے لگ گئے

  • سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کا اجلاس شام چار بجے ہونے کا امکان

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کا اجلاس شام چار بجے ہونے کا امکان

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کا اجلاس شام چار بجے ہونے کا امکان ہے

    اجلاس کے ایجنڈے میں آرٹیکل 63 اے نظرثانی درخواستوں کو سماعت کیلئے مقرر کرنا شامل ہے، آرٹیکل 63 اے کی تشریح کا اکثریتی فیصلہ جسٹس منیب اختر نے تحریر کیا تھا ،اکثریتی فیصلے میں کہا گیا تھا کہ پارٹی پالیسی کیخلاف ڈالا گیا ووٹ شمار نہیں ہوگا ،اجلاس میں مبینہ آڈیو لیکس کیس بھی شامل ہے،مبینہ آڈیو لیکس کیخلاف سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی پانچ رکنی بینچ نے حکم امتناع دیا تھا ،مبینہ آڈیو لیکس کیخلاف کیس ایک سال سے زائد عرصہ سے زیر التوا ہے

    صدارتی آرڈیننس کے بعد جسٹس امین الدین خان کو تین رکنی کمیٹی کا حصہ بنایا گیا تھا،چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ اور سینیئر ترین جج جسٹس منصور علی شاہ بھی کمیٹی کے ممبر ہیں

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ میرے کیس نہ سنیں،عمران خان کی پھر درخواست

    واضح رہے کہ صدرِمملکت آصف علی زرداری نے پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس پر دستخط کر دیے تھے، وزیرِ اعظم شہباز شریف اور وفاقی کابینہ نے سپریم کورٹ ترمیمی پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس منظور کر لیا تھا،وفاقی کابینہ نے سرکولیشن کے ذریعے پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس منظور کیا تھا،آرڈیننس کے مطابق بینچ عوامی اہمیت اور بنیادی انسانی حقوق کو مدِنظر رکھتے ہوئے مقدمات کو دیکھے گا، ہر کیس کو اس کی باری پر سنا جائے گا ورنہ وجہ بتائی جائے گی،ترمیمی آرڈیننس میں کہا گیا ہے کہ ہر کیس اور اپیل کو ریکارڈ کیا جائے گا اور ٹرانسکرپٹ تیار کیا جائے گا،تمام ریکارڈنگ اور ٹرانسکرپٹ عوام کے لیے دستیاب ہو گا،پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کمیٹی مقدمات مقرر کرے گی، کمیٹی چیف جسٹس، سینئر ترین جج اور چیف جسٹس کے نامزد جج پر مشتمل ہوگی،آرڈیننس میں پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے سیکشن 3 میں ترمیم شامل ہے، پریکٹس اینڈ پروسیجرایکٹ میں سیکشن 7 اے اور7 بی کو شامل کیا گیا ہے،آرڈیننس میں موجود ہے کہ سماعت سے قبل مفاد عامہ کی وجوہات دینا ہوں گی، سیکشن 7 اے کے تحت ایسے مقدمات جو پہلے دائر ہونگے انہیں پہلے سنا جائے گا، اگر کوئی عدالتی بینچ اپنی ٹرن کے بر خلاف کیس سنے گا تو وجوہات دینا ہونگی۔

    پاکستان بار کا پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی آرڈیننس کے اجرا پر شدید تحفظات کا اظہار

    پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کیس،جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس شاہد وحید کا اختلافی نوٹ

    پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ ،جسٹس یحییٰ آفریدی کا اضافی نوٹ جاری

    پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری

    بریکنگ،سپریم کورٹ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کو قانونی قرار دے دیا