Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • انٹراپارٹی انتخابات، لگتا ہے پی ٹی آئی فیصلے پر نظرثانی چاہتی ہی نہیں تھی، چیف جسٹس

    انٹراپارٹی انتخابات، لگتا ہے پی ٹی آئی فیصلے پر نظرثانی چاہتی ہی نہیں تھی، چیف جسٹس

    سپریم کورٹ ،پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن نظرثانی اپیل پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی،جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی تین رکنی بینچ کا حصہ ہیں ،سپریم کورٹ نے کیس کے فریقین کو نوٹس جاری کر رکھے ہیں،پی ٹی آئی وکیل حامد خان نے گزشتہ روز فیملی مصروفیت کے باعث التواء کی درخواست دائر کی تھی ،13جنوری 2024کو سپریم کورٹ نے متفقہ فیصلے میں پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا تھا

    وکیل نے کہا کہ حامد خان کی جانب سے التوا کی درخواست آئی ہے ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ان کی درخواست میں فیملی مصروفیات کے بارے میں لکھا، سرکاری وکیل نے کہا کہ عدالت چاہے تو ہفتے کو سماعت مقرر کردے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پھر یہ کہیں گے کہ ہفتےکو کیس کی سماعت مقرر کرلیتےہیں،پہلے ایسا ہوتا تھا کہ سینیئر وکلا عدالتوں کا دفاع کرتے تھے ،ہماری ایک جج کی ہارٹ سرجری ہوئی ہے اس کے باوجود وہ یہاں بیٹھی ہیں، سرکاری وکیل نے کہا کہ اس درخواست میں جو گراؤنڈ دی گئی ہے وہ نامناسب ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پھر ہیڈ لائینز بن جاتی ہیں ، تنقید کریں لیکن سچ بھی بولیں،ان کے اس کیس میں پانچ وکلا ہیں، ایک کی التوا کی درخواست ہے باقیوں نے نہیں دی ، 13 جنوری کو پی ٹی آئی انٹراپارٹی الیکشن کیس کا فیصلہ دیا مگر نظرثانی درخواست 6 فروری کو دائر ہوئی، لگتا ہے پی ٹی آئی فیصلے پر نظرثانی چاہتی ہی نہیں تھی، متاثرہ فریق تو فیصلے کے خلاف فوری نظرثانی درخواست دائر کرتا ہے، حیران کُن طور پر نظرثانی درخواست اتنی تاخیر سے دائر کی گئی اور جلد سماعت کی درخواست بھی نہیں دی،پی ٹی آئی کی طرف سے التواء مانگنا تاخیری حربہ ہے، کیس ملتوی کر دیتے ہیں لیکن سچ تو بولیں،پی ٹی آئی انٹرپارٹی انتخابات سے متعلق ہمارے فیصلے کی جان بوجھ کر غلط تشریح کی گئی،

    اب تو جلوس نکالو ڈنڈے مارو یہ حیثیت رہ گئی ہے وکیلوں کی، دوسروں پر تنقید کرتے ہیں اپنے گریبان میں جھانکیں ،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے دوران سماعت بار بار مداخلت پر وکیل کی سرزنش کر دی ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ مجھے بات کرنے دیں ،ہم اپنے زمانے میں سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ جج بول رہا ہو اور ہم بیچ میں بولیں ،اب تو جلوس نکالو ڈنڈے مارو یہ حیثیت رہ گئی ہے وکیلوں کی، دوسروں پر تنقید کرتے ہیں اپنے گریبان میں جھانکیں ،مہذب معاشروں میں اختلاف رائے رکھنے کا بھی ایک طریقہ کار ہوتا ہے.

    انٹرا پارٹی الیکشن اور پی ٹی آئی کے انتخابی نشان بلا نظرثانی کیس میں حامد خان کی التواء کی درخواست منظور کر لی گئی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی بنچ نے نظرثانی درخواست کی سماعت 21 اکتوبر تک ملتوی کر دی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ انصاف کے تقاضوں کے تحت کیس ملتوی کر رہے ہیں التوا کی درخواست منظور نہیں کررہے حامد خان کی ذات کیلئے کیس ملتوی نہیں کریں گے۔

  • آرٹیکل 63اے نظر ثانی کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری

    آرٹیکل 63اے نظر ثانی کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری

    اسلام آباد: سپریم کورٹ نے آرٹیکل 63اے نظر ثانی کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا-

    باغی ٹی وی : فیصلہ چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے تحریر کیا ہے جو کہ 23 صفحات پر مشتمل ہے فیصلے میں سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ صدارتی ریفرنس عارف علوی نے سپریم کورٹ بھیجا تھا، صدارتی ریفرنس میں کابینہ سے منظوری یا وزیراعظم کی ایڈوائز کا کوئی حوالہ منسلک نہیں کیا گیا، سپریم کورٹ نے ایک آئینی درخواست کی سماعت کے دوران سابق اٹارنی جنرل خالد جاوید خان کا بیان ریکارڈ کیا۔

    فیصلے میں بتایا گیا کہ سابق اٹارنی جنرل نے کہا ہم آرٹیکل 63اے کے بارے میں ایک ریفرنس لا رہے ہیں، سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل دو رکنی بنچ نے حکم نامے میں لکھوایا ریفرنس اور آئینی درخواست کو یکجا کیا جائے، اسلام آباد کے شہری نے دو روز قبل سینیٹر فیصل ابڑو کے خلاف درخواست دی تھی، شہری کی درخواست پر سینیٹ سیکرٹریٹ نے ریفرنس الیکشن کمیشن کو بجھوایا، حیران کُن طور پر صدر مملکت اس وقت بیچ میں آئے میں جب وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کے معاملے پر سیاسی جھگڑا چل رہا تھا۔

    ڈالر کی قیمت میں مزید اضافہ،پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی کا رجحان

    سپریم کورٹ نے کہا کہ جسٹس منیب اختر ریگولر مقدمات کیلئے دستیاب تھے لیکن نظر ثانی بنچ میں شامل نہیں ہوئے، 27ماہ بعد نظر ثانی سماعت کیلئے مقرر ہوئی، معاملے پر جلد بازی کا الزام مکمل طور پر بے بنیاد ہے، سابق چیف جسٹس عمر عطابندیال نے پورے دور میں نظر ثانی سماعت کیلئے مقرر نہیں کی، جسٹس منیب اختر نے بھی سابق چیف جسٹس عمر عطابندیال کو نظر ثانی سماعت کیلئے مقرر کرنے کی یاد دہانی نہیں کرائی۔

    صدر مملکت کا چینی سفارتخانے کا دورہ

  • پی ٹی آئی کی  انٹرا پارٹی کیس کی سماعت ملتوی کرنے کی درخواست دائر

    پی ٹی آئی کی انٹرا پارٹی کیس کی سماعت ملتوی کرنے کی درخواست دائر

    پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ میں انٹرا پارٹی کیس کی سماعت ملتوی کرنے کی درخواست دائر کردی

    پی ٹی آئی نے دائر درخواست میں موقف اختیار کیا کہ چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی بنچ نے کل جمعہ کو سماعت کرنی ہے، جمعہ کے روز ایڈووکیٹ حامد خان کی لاہور میں فیملی مصروفیت ہے، ایڈووکیٹ حامد خان پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن کیس میں پیش نہیں ہوسکتے، مخالف وکلاء کو بذریعہ ایڈووکیٹ آن ریکارڈ ایڈووکیٹ حامد خان کی عدم دستیابی بارے آگاہ کردیا گیا ہے، پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن نظرثانی کیس کی سماعت ملتوی کی جائے،

    واضح رہے کہ چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی نے کل جمعہ کو کیس کی سماعت کرنی ہے

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان

    عمران خان اور جیل سپرنٹنڈنٹ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

  • سپریم کورٹ،ڈیم فنڈ کی رقم 11 ارب سے 23 ارب ہو گئی

    سپریم کورٹ،ڈیم فنڈ کی رقم 11 ارب سے 23 ارب ہو گئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ڈیمز فنڈ کیس کی سمماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں بہت سے کام بغیر آئین اور قانون کے ہی ہو جاتے ہیں۔

    ڈیمز فنڈز کیس کی سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سماعت کی،دوران سماعت ایڈیشل اٹارنی آڈیٹر جنرل نے بتایا کہ سپریم کورٹ ڈیمز فنڈز کی رقم اپنے پاس نہیں رکھ سکتی، سپریم کورٹ کے حکم نامے کے تحت وزیراعظم چیف جسٹس ڈیمز فنڈز اکاؤنٹ کھولا گیا، رجسٹرار سپریم کورٹ اکاؤنٹ کی دیکھ بھال کرتا تھا، تحقیقات سے علم ہوا کہ ڈیمز فنڈز اور مارک اپ میں بے قاعدگی نہیں ہوئی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا اکاؤنٹ کا عنوان نامناسب ہے، ہمیشہ پریکٹس رہی آئین و قانون کے بجائے عدالتی فیصلوں کو فوقیت نہیں دینی چاہیے .

    وکیل واپڈا نے عدالت میں کہا کہ ہم نے 2018 سے لیکر اب تک 19 عمل درآمد رپورٹس جمع کرائیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہم نظرثانی نہیں سن رہے، دیکھ رہے ہیں سپریم کورٹ فنڈز رکھ سکتی ہے یا نہیں،سابق اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے عدالت میں کہا کہ فنڈز کے اکاؤنٹ کا نام تبدیل ہونے پر کوئی اعتراض نہیں، اخبارات میں آجکل بہت کچھ چھپ رہا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا نہ آپ کو عدالت میں اخبار پڑھنے دیں گے نہ ہی یہاں اخبار پڑھیں گے، سیاسی باتوں کے بجائے آئین کے تحت معاونت کریں،خالد جاوید خان نے کہا کہ ڈیمز فنڈز کو حکومت کے استعمال کے بجائے ڈیمز کیلئے ہی استعمال ہونا چاہیے، جب ڈیمز فنڈز کیس چل رہا تھا اس وقت آرٹیکل 184کی شق 3 کے اختیار کا پھیلاؤ پورے ملک تک تھا، جبکہ ایڈیشنل آڈیٹر جنرل کا کہنا تھا ڈیمز فنڈز پبلک اکاؤنٹ میں گئے تو مارک اپ نہیں لیا جاسکتا۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ فنڈز پبلک اکاؤنٹ سے مارک اپ کیلئے پرائیویٹ بینکوں میں رکھے جاسکتے ہیں، جس پر ایڈیشنل آڈیٹر جنرل کا کہنا تھا 37 سالہ ملازمت میں ایسا کبھی نہیں دیکھا، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا ہم ڈیمز بنانے سے متعلق سپریم کورٹ کے حکم نامے کی طرف نہیں جائیں گے۔

    وکیل متاثرین کا کہنا تھا تھرڈ پارٹی تنازعات بھی اس کیس سے جڑے ہوئے ہیں، جس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ نے اس وقت نظرثانی دائر نہیں کی، جب سپریم کورٹ میں عجیب و غریب چیزیں ہو رہی ہوتی ہیں اس وقت کوئی اعتراض نہیں کرتا،لیگل ایڈوائزر اسٹیٹ بینک نے عدالت کو بتایا کہ ڈیمز فنڈ میں اس وقت 23 ارب روپے سے زائد رقم موجود ہے، فنڈ میں آنے والی رقم 11 ارب اس پر مارک اپ 12 ارب روپے سے زائد ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اسٹیٹ بینک کے حکام سے استفسار کیا مارک اپ کون ادا کرتا ہے؟ جس پر ایڈیشنل آڈیٹر جنرل غفران میمن کا کہنا تھا مارک اپ ٹی بلز کےذریعے حکومت ادا کرتی ہے، ڈیمز فنڈ کی مکمل تحقیقات کی ہیں، کوئی خردبرد نہیں ہوئی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ حکومت اپنے آپ کو کیسے اور کیوں مارک اپ دے رہی ہے؟ جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے کہا کہ مارک اپ اس پیسے پر دیا جاتا ہے جو حکومت استعمال کرتی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حکومت پر مارک اپ کا بوجھ ڈال کر خوش ہو رہے کہ 11 ارب روپے سے بڑھ کر 23 ارب ہو گئے، یہ تو آنکھوں میں دھول جھونکنے والی بات ہے، کیا سپریم کورٹ ڈیمز فنڈ میں موجود رقم رکھ سکتی ہے؟ایڈیشنل آڈیٹر جنرل نے جواب میں کہا کہ ڈیمز فنڈ کی رقم حکومت کے پبلک اکاؤنٹ کے ذریعے واپڈا کو جانی چاہیے۔

    جسٹس نعیم افغان نے ریمارکس دیتے ہوئےکہا کہ حکومت کی مالی حالت ٹھیک نہیں، اگر رقم واپڈا کو دی ہی نہیں تو کیا ہو گا؟چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ سپریم کورٹ کس دائرہ اختیار میں ڈیمز تعمیر کی پیشرفت رپورٹ مانگتی رہی؟وکیل واپڈا سعد رسول کا کہنا تھا عدالت کا مقصد صرف ڈیمز کی تعمیر کے حکم پر عملدرآمد یقینی بنانا تھا، جس پر چیف جسٹس نے کہا عمل درآمد بینچ کی تشکیل کا آئین میں کوئی ذکر ہے؟ واپڈا کے وکیل نے بتایا کہ آئین میں عمل درآمد بینچ کا ذکر نہیں لیکن کوئی پابندی بھی نہیں ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا پاکستان میں بہت سے کام بغیر آئین اور قانون کے ہی ہو جاتے ہیں،سابق اٹارنی جنرل خالد جاوید کا کہنا تھا عمل درآمد بینچ کا تصور کراچی بدامنی کیس سے شروع ہوا تھا، جس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا میں نے حلف آئین کی بالادستی اور عمل درآمد کا اٹھایا تھا عدالتی فیصلوں کا نہیں،سپریم کورٹ نے ڈیم فنڈز کیس کی سماعت جمعہ تک ملتوی کر دی۔

    واضح رہے کہ جولائی 2018 میں اس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے ملک بھر میں پانی کی قلت پر از خود نوٹس لیتے ہوئے مختلف ڈیمز کی تعمیر کے لیے ڈیم فنڈز کے قیام کا اعلان کیا، اس ضمن میں انہوں نے چیف جسٹس اور پرائم منسٹر ڈیم فنڈ کے نام سے ایک بینک اکاؤنٹ بھی بنایا تھا، جس میں پاکستان سمیت دنیا بھرسے پاکستانیوں نے عطیات جمع کرائے تھے۔

    ایک نمبر کا بدمعاش اور تلنگا ڈاکٹر ریاض،دہشتگردوں سے تعلق،ایجنسیوں پر الزام

    پی آئی اے کا جنازہ ہے،ذرا دھوم سے نکلے،مرحوم کیلیے بہت دعائیں

    ثابت ہو گیا حسنہ واجد بھارت کی "کٹھ پتلی” تھی.مبشر لقمان

    190 ملین پاؤنڈ کیس،عمران کے گلے کا پھندہ،واضح ثبوت،بچنا ناممکن

    فیض حمید جیو نیوز کو بند کرنا چاہتے تھے،پی ٹی آئی ٹوٹ پھوٹ کا شکار،اگلا چیئرمین کون

    ماہ رنگ بلوچ کون،دو نمبر انقلاب اور بھیانک چہرہ

    پاکستان کی بدترین شکست،ڈریسنگ روم میں لڑائی،محسن نقوی ناکام ترین چیئرمین

    جنرل عاصم منیرنے ڈنڈا اٹھا لیا، فیض حمید گواہ،اب باری خان کی

  • سوشل میڈیا لائیکس اور ڈسلائیکس کیلئے اداروں سے کھیلا جا رہا ہے،چیف جسٹس

    سوشل میڈیا لائیکس اور ڈسلائیکس کیلئے اداروں سے کھیلا جا رہا ہے،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ،مارگلہ ہلز نیشنل پارک سے متعلق توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی

    عدالت نےریسٹورنٹ کے مالک کیخلاف توہین عدالت کا نوٹس واپس لے لیا،عدالت نے حکم امتناع دینے والے جج کا معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ کو بھجوا دیا،عدالت نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ دیکھے کیا معاملے پر کوئی ایکشن لینے کی ضرورت ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سول جج سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل در آمد روک رہے ہیں،کیا سول جج نے حکم امتناع دیکر توہین عدالت کی؟اس قسم کے ججز کیخلاف کارروائی ہونی چاہیے،جسٹس شاہد بلال نے کہا کہ جج انعام اللہ نے دعویٰ پر حکم امتناع جاری کیا؟دعویٰ کی کورٹ فیس جمع نہیں ہوئی،دعویٰ کورٹ فیس ادائیگی کے بغیر قابل سماعت نہیں تھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سول جج کو کیسے معلوم ہوا کہ درخواست گزار درجہ اے کا ٹھیکیدار ہے،جسٹس شاہد بلال نے کہا کہ پنجاب کی ماتحت عدلیہ میں بھی یہی ہوتا ہے،وکلا جج کو دعوی پڑھنے نہیں دیتے اور حکم امتناع لے لیتے ہیں۔

    کیا سوشل میڈیا اداروں اور ججز کو گالیاں دینے کیلئے ہے؟چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جج کو پہلے دیکھنا چاہیے دعوی پر ریلیف بنتا بھی ہے یا نہیں۔عدالت کیخلاف سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا کیا گیا،سپریم کورٹ نے یکم اکتوبر کو رپورٹ طلب کی،دو اکتوبر کو درخواست گزارنے اپنا دعویٰ واپس لے لیا،آئین کے تحت ایگزیکٹو اور عدلیہ سپریم کورٹ کا حکم ماننے کے پابند ہیں،بظاہر حکم امتناع عدالتی احکامات کی نفی کرنے کیلئے جاری کیا گیا،کیا سوشل میڈیا اداروں اور ججز کو گالیاں دینے کیلئے ہے؟کہا گیا کہ ریسٹورنٹ خالی کرانے سے ملازمین بے روز گار ہو گئے،پھر جنگل کو لکڑیاں کاٹنے والوں کو دیدیں؟ لکڑیاں کاٹنے والوں کا کاروبار چل جائے گا،کیا مارگلہ ہلز میں کمر شل سرگرمیوں کا معاملہ میڈیا یا پارلیمنٹ میں اٹھایا گیا؟توپوں کا رخ ججز کی طرف کر دیا جاتا ہے،آرڈر پر اٹیک کی بجائے اداروں پر حملہ آور ہوجاتے ہیں،یہاں اوقات کار کی بات کی جاتی ہے،بتا دیا کریں فلاں کیس کب اور کس بینچ کے سامنے لگنا ہے،

    کیا اب پارلیمنٹ، عدلیہ اور میڈیا میں گینگسٹر ازم سے فیصلے ہونگے؟چیف جسٹس
    وکیل احسن بھون نے کہا کہ آرٹیکل 63اے نظر ثانی سننے کی کئی درخواستیں کی گئیں،آرٹیکل 63اے نظر ثانی کیس ڈھائی سال بعد سماعت کیلئے مقرر ہوئی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو ریفرنس زیر التواپڑا رہا کسی نے نہیں سنا،کیا اب پارلیمنٹ، عدلیہ اور میڈیا میں گینگسٹر ازم سے فیصلے ہونگے؟انتخابات کا فیصلہ 13 دن میں دیا ،انتخابات کرانے کے فیصلے پر کسی نے گالی نہیں دی،انتخابات کیس میں کسی نے ٹائمنگ کا سوال نہیں اٹھایا،سوشل میڈیا لائیکس اور ڈسلائیکس کیلئے اداروں سے کھیلا جا رہا ہے،

    چیف جسٹس کی وائرل فیک ویڈیو،ایف آئی اے کا کاروائی کا فیصلہ

    خواتین کو وراثت سے محروم کرنے کا کلچر ختم ہونا چاہیے، چیف جسٹس

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ میرے کیس نہ سنیں،عمران خان کی پھر درخواست

    اکثریتی ججز کی وضاحت، چیف جسٹس کا بڑا فیصلہ،جواب مانگ لیا

    کچھ صحافی تو بک جاتے ہیں، خرید لو چند پیسے دے کر،چیف جسٹس کے ریمارکس

    لاہور:پاکستان کوکلئیر ویلفیئر آرگنائزیشن کا پہلا باضابطہ اجلاس،اہم فیصلے کئے گئے

    پیدائشی سماعت سے محروم بچوں کے کامیاب آپریشن کے بعد”پاکستان زندہ باد” کے نعرے

    معذوری کا شکار طالبات کی ملی دارالاطفال گرلز ہائی سکول راجگڑھ آمد،خصوصی تقریب

    مثبت دلائل دیں سراہیں گے لیکن گالم گلوچ کسی طور برداشت نہیں کرینگے،چیف جسٹس

    چیف جسٹس نے قانون سازی کے ذریعے ایکسٹینشن کی حامی بھرلی ،رانا ثناء اللہ

    اسرائیل نیازی گٹھ جوڑ بے نقاب،صیہونی لابی عمران کو بچانے کیلئے متحرک

    عمران خان بطور وزیراعظم اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کیلئے تیار تھے،دعویٰ آ گیا

  • پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات،سماعت 11 اکتوبر کو ہوگی، بینچ تشکیل

    پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات،سماعت 11 اکتوبر کو ہوگی، بینچ تشکیل

    سپریم کورٹ میں پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) کے انٹرا پارٹی انتخابات سے متعلق فیصلے پر نظرثانی کی درخواست سماعت کیلئے مقرر کر دی گئی۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ میں آئندہ ہفتے کے لیے 7 بینچ تشکیل دے دیا گیا، نظر ثانی درخواست 11 اکتوبر کو ساڑھے 11 بجے سماعت کے لیے مقرر کر دی گئی ہے۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی اسپیشل بینچ سماعت کرے گا، 3 رکنی اسپیشل بینچ میں جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی شامل ہیں۔بینچ نمبر ایک جسٹس قاضی فائز عیسیٰ جسٹس نعیم اختر افغان اورجسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل ہوگا۔بینچ نمبر دو جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس عقیل عباسی پر مشتمل ہوگا۔بینچ نمبر تین جسٹس منیب اختر اور جسٹس اطہر من اللہ پر مشتمل ہوگا۔

    بینچ نمبر چار جسٹس امین الدین خان، جسٹس محمد علی مظہراور جسٹس عرفان سعادت خان پر مشتمل ہوگا۔بینچ نمبر پانچ جسٹس جمال خان مندوخیل ، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس ملک شہزاد احمد خان پر مشتمل ہوگا۔بینچ نمبر چھ جسٹس حسن اظہر رضوی جسٹس شاہد وحید پر مشتمل ہوگا۔بینچ نمبر سات جسٹس سردار طارق مسعود اور جسٹس مظہر عالم میاں خیل پر مشتمل ہوگا۔ججز کمیٹی نے آئندہ ہفتے کے لیے ججز روسٹر جاری کر دیا.

    بلوائیوں میں شامل خیبرپختونخوا پولیس کے 6 اہلکار ڈی چوک سے گرفتار

    کراچی کی ترقی کے لیے سالانہ تقریباً 1000 ارب روپے درکار ہیں، وزیراعلیٰ سندھ

  • آرٹیکل 63 اے: چیف جسٹس کسی کو بینچ میں بیٹھنے پر مجبور نہیں کر سکتے

    آرٹیکل 63 اے: چیف جسٹس کسی کو بینچ میں بیٹھنے پر مجبور نہیں کر سکتے

    اسلام آباد: سپریم کورٹ نے آرٹیکل 63 اے نظرثانی کیس کی گزشتہ روز کی سماعت کا حکم نامہ جاری کردیا۔

    باغی ٹی وی : حکم نامے میں کہا گیا کہ نظرثانی کی درخواست 3 روز زائد المیعاد ہے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور فاروق ایچ نائیک نے زائد المیعاد ہونے کی مخالفت نہیں کی جبکہ علی ظفر کی جانب سے نظرثانی درخواست زائد المیعاد ہونے پر اس کی مخالفت کی گئی،یہ واضح ہے کہ فیصلے کی وجوہات کے بغیر نظرثانی نہیں مانگی جا سکتی کیونکہ تفصیلی فیصلہ جاری ہونے پر ہی غلطی کی وجوہات سامنے آسکتی ہیں لیکن 63 اے کی نظرثانی تین ماہ اور 21 دن تفصیلی فیصلہ جاری ہونے سے پہلے دائر کی گئی، بانی پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر کو متعدد متفرق درخواستوں پر دلائل کی اجازت دی گئی، علی ظفر نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت مانگی، جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو ملاقات کے لیے عدالتی ہدایات جاری کی گئیں۔

    حکم نامے میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ بار کی درخواست پر 19 مارچ کو سیاسی جماعتوں اور متعلقہ فریقین کو نوٹسز جاری کیے گئے، عدالتی آرڈر کے بعد صدر عارف علوی نے صدارتی ریفرنس سپریم کورٹ میں دائر کیا، صدارتی ریفرنس اور 184 کی درخواستیں یکجا کر کے سنی گئیں، سابق چیف جسٹس نے 24 مارچ کو سماعت کے لیے 5 رکنی بینچ تشکیل دیا، 14 اپریل کو بانی پی ٹی آئی نے بابر اعوان کے ذریعے آئینی درخواست سپریم کورٹ میں دائر کی، بابر اعوان نے نشاندہی نہیں کی کہ 11 سال سے زیر التواء بھٹو ریفرنس پر پہلے سماعت کی جائے، ڈاکٹر بابر اعوان بھٹو ریفرنس کیس میں بھی وکیل تھے۔

    سپریم کورٹ کے حکم نامے میں مزید کہا گیا کہ صدر وفاق کے اتحاد کی علامت اور عوام کی نمائندگی کرتے ہیں، آئین یا قانون میں صدارتی ریفرنس میں تمام شہریوں کو نوٹس جاری کرنا ضروری نہیں ، عمران خان کے وکیل کے اعتراضات قابل جواز نہیں، نظرثانی درخواست آؤٹ آف ٹرن مقرر ہونے کا جواز درست نہیں، اس لیے مسترد کیا جاتا ہے، بینچ کی تشکیل پر بانی پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر نے اعتراض اٹھایا، چیف جسٹس نے اپنے جوابی خط میں بینچ تشکیل سے متعلق وضاحت کی حالانکہ چیف جسٹس قانونی طور پر وضاحت دینے کے پابند نہیں، جسٹس منیب اختر نے بینچ میں شامل ہونے پر اپنی عدم دستیابی سے آگاہ کیا، جسٹس منصور علی شاہ نے بھی بینچ میں شامل ہونے سے انکار کیا، جسٹس منصور کے انکار کے بعد جسٹس نعیم اختر افغان کو بینچ میں شامل کیا گیا ، بینچ کی دوبارہ تشکیل پریکٹس اینڈ پروسیجز قانون کے مطابق ہے، سپریم کورٹ، پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی یا چیف جسٹس کسی کو بینچ میں بیٹھنے پر مجبور نہیں کر سکتے، یہ اعتراض بھی مسترد کیا جاتا ہے، بانی پی ٹی آئی کے وکیل نے صدارتی آرڈیننس کی قانونی حیثیت کو چیلنج کیا، چیلنج کرنے کے ساتھ علی ظفر نے آرڈیننس کے تحت عدالتی کاروائی کی ریکارڈنگ اور ٹراسکرپٹ تیار کرنے کا بھی کہا۔

  • سپریم کورٹ کے باہر پی ٹی آئی وکلا  کا احتجاج،چیف جسٹس کیخلاف شدید نعرے بازی

    سپریم کورٹ کے باہر پی ٹی آئی وکلا کا احتجاج،چیف جسٹس کیخلاف شدید نعرے بازی

    اسلام آباد: بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی ہدایت پر سپریم کورٹ کے باہر پی ٹی آئی وکلا نے احتجاج کرتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسی کیخلاف شدید نعرے بازی کی۔

    باغی ٹی وی : احتجاج کے پیش نظر اسلام آباد میں ریڈ زون کو سیل کردیا گیا اور راستوں پر کنٹینرز رکھ دیے گئے جس کی وجہ سے ایکسپریس ہائی وے پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں ،پی ٹی آئی کے وکلاء رکاوٹیں عبور کرکے احتجاج کیلئے سپریم کورٹ کے باہر پہنچے تو اس موقع پر پولیس کی بھاری نفری نے ایکشن لیا، اسلام آباد ہائی کورٹ سے وکلا کی ریلی سپریم کورٹ کے باہر پہنچی جہاں انہوں نے چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف نعرے بازی کی ، وکلا قاضی فائز عیسی کا پتلا بھی ساتھ لائے ہیں۔

    بیرسٹر گوہر نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کی ذمہ داری ہے عوام کے حقوق کا تحفظ کرے، عدلیہ کو جب بھی تقسیم کرنے کی کوشش ہوئی وکلاء باہر آئے ہیں، مجوزہ آئینی ترمیم غیر آئینی ہے، پورے ملک کو کنٹینرستان بنادیا گیا ہے۔

  • جسٹس منصور علی شاہ کےتمام مقدمات ڈی لسٹ  کر دیئے گئے

    جسٹس منصور علی شاہ کےتمام مقدمات ڈی لسٹ کر دیئے گئے

    اسلام آباد: جسٹس منصور علی شاہ کی عدم حاضری پر مقرر کیے گئے مقدمات ڈی لسٹ کر دیئے گئے-

    باغی ٹی وی : جسٹس منصور علی شاہ کے سپریم کورٹ نہ آنے کے باعث ان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کے سامنے مقرر کیے گئے مقدمات ڈی لسٹ کر دیے گئے جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس عقیل عباسی پر مشتمل تین رکنی بینچ نے کیسز سننے تھے،جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس عقیل عباسی پر مشتمل دو رکنی بینچ کو کیسز منتقل کیے گئے، دو رکنی بینچ نے کورٹ روم پر چھ میں کیسز سننے تھے لیکن دو رکنی بینچ کچھ دیر بیٹھ کر اٹھ گیا۔

    پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس 2024: درخواستوں کے قابل سماعت ہونے سے متعلق دلائل طلب

    آرٹیکل 63 اے: نظرثانی اپیلوں پر تیسری سماعت آج ہو گی

    ایران کی جانب سے اگلا حملہ اس سے کہیں زیادہ تکلیف دہ ہوگا،ایرانی سپریم …

  • آرٹیکل 63 اے: چیف جسٹس نے بیرسٹر علی ظفر کو عمران خان سے ملنے کی اجازت دیدی

    آرٹیکل 63 اے: چیف جسٹس نے بیرسٹر علی ظفر کو عمران خان سے ملنے کی اجازت دیدی

    اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان میں آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے خلاف نظرثانی اپیلوں پر سماعت آج ہو رہی ہے سماعت کے دوران پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وکیل سید مصطفین کاظمی اور چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے درمیان تلخ کلامی ہوئی،جس پر چیف جسٹس نے پی ٹی آئی وکیل کو کمرہ عدالت سےباہر نکالنے کا حکم دیا-

    باغی ٹی وی : چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا 5 رکنی لارجر بینچ سماعت کررہا ہے، جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس نعیم اختر افغان، جسٹس مظہر عالم میاں خیل بینچ کا حصہ ہیں۔

    یاد رہے کہ گزشتہ روز جسٹس منیب اختر کی بینچ میں شمولیت سے انکار کے بعد نیا بینچ تشکیل دیا گیا، ججز کمیٹی نے جسٹس منیب اختر کی جگہ جسٹس نعیم اختر افغان کو بینچ کا حصہ بنایا۔

    سماعت کے آغاز پر 63 اے تفصیلی فیصلے سے متعلق رجسٹرار کی رپورٹ پیش کی گئی جس کے مطابق کیس کا تفصیلی فیصلہ 14 اکتوبر 2022 کو جاری ہوا،صدر سپریم کورٹ بار شہزاد شوکت روسٹرم پر آگئے، چیف جسٹس نے شہزاد شوکت سے استفسار کیا کہ آپ کے دلائل تو مکمل ہو چکے تھے۔

    صدر سپریم کورٹ بار نے عدالت کو بتایا کہ تفصیلی فیصلے کے انتظار میں نظرثانی دائر کرنے میں تاخیر ہوئی، مختصر فیصلہ آ چکا تھا لیکن تفصیلی فیصلے کا انتظار کررہے تھے،جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ عام بندے کا کیس ہوتا تو بات اور تھی، کیا سپریم کورٹ بار کو بھی پتہ نہیں تھا نظرثانی کتنی مدت میں دائر ہوتی ہے۔

    شہزاد شوکت نے کہا کہ مفادِ عامہ کے مقدمات میں نظرثانی کی تاخیر کو نظر انداز کیا جاسکتا ہے، مفادِعامہ کے مقدمات کو جلد مقرر بھی کیا جاسکتا ہے، نظرثانی 2 سال سے سماعت کے لیے مقرر نہیں ہوئی تھی۔

    اس موقع پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان کے وکیل علی ظفر روسٹرم پر آگئے اور انہوں نے کہا کہ نظرثانی درخواست تاخیر سے دائر ہوئی جس کے باعث مقرر نہیں ہوئی، میں پہلے ایک بیان دے دوں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت میں بیان نہیں گزارشات سنتے ہیں، بیان ساتھ والی عمارت پارلیمنٹ میں جا کر دیں۔

    علی ظفر نے کہا کہ نظرثانی درخواست تاخیر سے دائر ہوئی جس کے باعث مقرر نہیں ہوئی، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ بتائیں نظرثانی فیصلے کے خلاف ہوتی یا اس کی وجوہات کے خلاف ہوتی؟ وکیل علی ظفر نے کہا کہ کل کے دلائل بہت میٹھے تھے، جس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ آج کے دلائل کل سے بھی زیادہ میٹھے ہوں گے۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ یعنی آپ کو کل کے دلائل پسند آئے تھے، جسٹس نعیم افغان نے کہا کہ شیریں اور تلخ کی ملاوٹ سے ہی ذائقہ بنتا ہے،وکیل علی ظفر نے کہا کہ میں بتانا چاہتا ہوں کہ آج میں تلخ دلائل دوں گا، میں نے درخواست دائر کی لیکن سپریم کورٹ آفس نے منظور نہیں کی، جس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ ہمیں درخواست کا بتا دیں، آپ نے صبح دائر کی ہوگی۔

    عمران خان کے وکیل نے کہا کہ مجھے دلائل دینے کے لیے وقت درکار ہے، مجھے بانی پی ٹی آئی سے کیس پر مشاورت کرنی ہے، آپ نے کہا تھا آئینی معاملہ ہے، وہ سابق وزیرِ اعظم ہیں، درخواست گزار بھی ہیں، ان کو آئین کی سمجھ بوجھ ہے، ان کو معلوم ہے کیا کہنا ہے کیا نہیں، مجھے اجازت دیں کہ ان سے معاملے پر مشاورت کرلوں۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ اپنے دلائل شروع کریں، جس پر وکیل علی ظفر نے کہا کہ یعنی آپ میری بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی درخواست مسترد کر رہے ہیں، جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ آپ کل بھی ملاقات کر سکتے تھے، جس پر علی ظفر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان جیل میں ہیں۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے مشاورت کرنی تھی تو کل بتاتے، عدالت کوئی حکم جاری کر دیتی، ماضی میں ویڈیو لنک پر بانی پی ٹی آئی عمران خان کو بلایا تھا، وکلا کی ملاقات بھی کرائی تھی، وکیل علی ظفر نے چیف جسٹس سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ مجھے یقین تھا آپ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی درخواست منظور نہیں کریں گے۔

    کیس کی سماعت کے دوران پی ٹی آئی وکیل مصطفین کاظمی روسٹرم پر آگئے، چیف جسٹس نے استفسار کیا آپ کس کی طرف سے ہیں، جس پر انہوں نے جواب دیا کہ میں پی ٹی آئی کی نمائندگی کر رہا ہوں، چیف جسٹس نے ہدایت دی کہ آپ بیٹھ جائیں اگر آپ نہیں بیٹھ رہے تو پولیس اہلکار کو بلا لیتے ہیں جس پر مصطفین کاظمی نے کہا کہ آپ کر بھی یہی سکتے ہیں، باہر ہمارے 500 وکیل کھڑے ہیں، دیکھتے ہیں کیسے ہمارے خلاف فیصلہ دیتے ہیں۔

    اس موقع پر مصطفین کاظمی ایڈووکیٹ نے بینچ میں شریک 2 ججز جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس مظہر عالم میاں خیل پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ 5 رکنی لارجر بینچ غیر آئینی ہے، 2 ججز کی شمولیت غیر آئینی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پی ٹی آئی وکیل مصطفین کاظمی کو کمرہ عدالت سے باہرنکالنے کا حکم دے دیا اور عدالت میں سول کپڑوں میں موجود پولیس اہلکاروں کو ہدایت دی کہ اس جینٹل مین کو باہر نکالیں۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ کیا ملکی اداروں کو اس طرح دھمکا کر چلانا چاہتے ہیں؟ میرا قصور صرف یہ ہے کہ میں نے ہمیشہ برداشت کا مظاہرہ کیا، میری عدم برداشت کی ایسی تربیت ہی نہیں ہے، سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے کتنے اراکین پارلیمنٹ کو جیل بھیجا ذرا بتائیں، کوئی جتنا مرضی برا بھلا کہتا رہے ہم کیس چلائیں گے۔

    چیف جسٹس بولے کہ ہم اپنی توہین برداشت نہیں کریں گے، جسٹس مظہر عالم میاں نے کہا کہ عدالت میں کھڑے ہو کر سیاسی باتیں نہ کریں، جب کہ وکیل طیب مصطفین کاظمی کمرہ عدالت سے باہر چلے گئے۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا بیرسٹر علی ظفر صاحب یہ کیا ہورہا ہے؟ آپ آئیں اور ہمیں بے عزت کریں، ہم یہ ہرگز برداشت نہیں کریں گے، علی ظفر نے جواب دیا میں تو بڑے آرام سے بحث کررہا تھا اور آپ بھی آرام سے سن رہے رہے تھے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ججز سے بدتمیزی کا یہ طریقہ اب عام ہوگیا ہے، کمرہ عدالت سے یوٹیوبرز باہر جاکر اب شروع ہوجائیں گے۔

    جسٹس جمال نے کہا کہ یہ ٹرینڈ بن چکا ہے فیصلہ پسند نہ ہو تو عدالتی بنچ پر ہی انگلیاں اٹھانا شروع کر دو، ہم یہاں عزت کیلئے بیٹھے ہیں یہ کوئی طریقہ نہیں ہے جس کے دل میں جو آتا ہے کہتا چلا جاتا ہے ہم پیسوں کے لیے جج نہیں بنے، آپ کو پتا ہے جتنی جج کی تنخواہ بنتی ہے اتنا تو وکیل ٹیکس دے دیتا ہے آئینی اداروں کو دھمکیاں لگانے کا سلسلہ بند کریں۔

    جسٹس جمال نے کہا کہ کہا جاتا ہے عدلیہ میں دو گروپ بنے ہوئے ہیں کیا ہم قومی اسمبلی یا سینیٹ کے ممبران ہیں جو گروپنگ کریں گے؟ اگر کوئی جاہل یا ان پڑھ ایسی بات کرے تو سمجھ بھی آتا ہے یہ جو شخص یہاں آیا تھا میں نے اسے سپریم کورٹ میں اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا، یہ شخص شکل سے تو خاندانی لگ رہا تھا، کیا یہ اپنے بزرگوں کو بھی ایسے ہی کہتا ہوگا؟ ہم اپنی نوجوان نسل کو کس طرف لے کر جا رہے ہیں؟ چند لوگ ملک یا اداروں میں ہیں جو چاہتے ہیں پاکستان اسی طرح چلایا جائے جو ہمدردی تھی وہ بھی شاید آپ کو اب نہ ملے۔

    چیف جسٹس نے بیرسٹر علی ظفر کو دلائل جاری رکھنے کی ہدایت کی علی ظفر نے کہا کہ اس کیس میں ہمیں کوئی نوٹس تک نہیں دیا گیا، کل عدالت نے جو طریقہ اپنایا وہ غیر قانونی ہے، ایک ہی دن سب کو اکٹھا کر کے کہہ دیا کہ کون کون نظر ثانی کی حمایت کرتا ہے؟ اس کیس میں فریقین کو نوٹس جاری کرنا ضروری تھا بیرسٹر علی ظفر نے بینچ پر اعتراض کیا کہ یہ بینچ قانونی نہیں ہے یہ بینچ ترمیمی آرڈیننس کے مطابق بھی درست نہیں اب میرے دلائل سخت ہوں گے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کے لہجے میں آج تک تلخی نہیں دیکھی علی ظفر نے کہا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر کیس میں یہ عدالت فیصلہ دے چکی چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کی جماعت نے اس ایکٹ کی مخالفت کی تھی علی ظفر نے کہا کہ دلائل میں کسی نے کیا کہا وہ اہم نہیں آپ کا فیصلہ اہم ہے۔

    جسٹس جمال نے کہا کہ آپ کی جماعت کل پارلیمنٹ میں موجودہ آرڈیننس کو ختم کرنے کا بل لاسکتی ہے، کل آپ کی جماعت ایسا قانون بنا دے تو کیا میں کہہ سکتا ہوں یہ ججز کی پسند یا ناپسند کی بات نہیں، قانون معطل تھا، اس کے باوجود میں نے چیف جسٹس بن کر دو سینئر ججز سے مشاورت کی۔

    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ جسٹس منصور نے آپ کا حوالہ بھی دیا جب آپ سینئر جج تھے، آپ بھی ایک عرصے تک چیمبر ورک پر چلے گئے تھے،چیف جسٹس نے کہا کہ میرے اعمال میں شفافیت تھی سمجھتا تھا قانون کو بل کی سطح معطل نہیں ہونا چاہیے، کیا ہم فل کورٹ میٹنگ بلا کر ایک قانون کو ختم کر سکتے ہیں؟ میری نظر میں میرے کولیگ نے جو لکھا وہ آئین اور قانون کے دائرے میں نہیں تھا، کل میں میٹنگ میں بیٹھنا چھوڑ دوں تو کیا سپریم کورٹ بند ہو جائے گی؟

    جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ کل میرے کزن نے مجھے کہا سپریم کورٹ تو برباد ہو گئی ہے، میں نے پوچھا کیا وجہ ہے؟ کزن نے کہا پریکٹس اینڈ پروسیجر کی وجہ سے سپریم کورٹ برباد ہوئی، میں نے کزن سے پوچھا کیا آپ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر پڑھا ہے، اس نے کہا نہیں، ہم لوگوں کو قانون پڑھا نہیں سکتے، صرف ضمیر کے مطابق قانون کے تحت فیصلے کرسکتے ہیں۔

    علی ظفر نے کہا کہ جسٹس منیب 30 ستمبر کو بینچ کا حصہ نہیں بنے جسٹس منیب کی غیر موجودگی میں بینچ کو بیٹھنا نہیں چاہیے تھا۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ علی ظفر صاحب آپ ججز کا انتخاب خود نہیں کرسکتے ایسا طرز عمل تباہ کن ہے، کیا ماضی میں یہاں سینیارٹی پر بینچ بنتے رہے؟ آپ نے بار کی جانب سے کبھی شفافیت کی کوشش کیوں نہ کی؟ 63 اے پر آپ کا ریفرنس آیا، فوری سنا گیا، اُس وقت 10 سال پرانا بھٹو ریفرنس زیر التوا تھا، بابر اعوان دونوں ریفرنسز میں بطور وکیل پیش ہوئے، شفافیت کا تقاضا تھا بابر اعوان پہلے دن کہتے پہلے پرانا ریفرنس سنیں۔

    پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ پہلے یہ فیصلہ کیا جائے کہ یہ بنچ قانونی ہے پہلے یہ طے ہوجائے پھر میں دلائل دوں گا۔

    چیف جسٹس نے بینچ کی تشکیل پر اعتراض مسترد کردیا اور کہا کہ آپ نے کہا فیصلہ سنادیں تو ہم نے سنا دیا ہم سب کا مشترکہ فیصلہ ہے بینچ کے اعتراض کو مسترد کرتے ہیں،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ بینچ تشکیل دینے والی کمیٹی کے ممبران بینچ کا حصہ ہیں، وہ خود کیسے بینچ کی تشکیل کو قانونی قرار دے سکتے ہیں؟

    چیف جسٹس نے کہا کہ اگر ایسا ہو تو ججز کمیٹی کے ممبران کسی بینچ کا حصہ ہی نہ بن سکیں، آپ ہمیں باتیں سناتے ہیں تو پھر سنیں بھی، ہم پاکستان بنانے والوں میں سے ہیں توڑنے والوں میں سے نہیں، ہم نے وہ مقدمات بھی سنے جو کوئی سننا نہیں چاہتا تھا، پرویز مشرف کا کیس بھی ہم نے سنا۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر سے کہا کہ آپ نے بہت کوشش کی ہم ناراض ہو جائیں ہم کم از کم آپ سے ناراض نہیں ہوں گے،وکیل پیپلز پارٹی فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ویسے جس انداز میں آج دلائل دیے گئے میری رائے مزید پختہ ہوچکی کہ ملک میں آئینی عدالت بننی چاہیے،چیف جسٹس پاکستان نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ میں اس پر کچھ نہیں کہوں گا۔

    چیف جسٹس نے بیرسٹر علی ظفر کو عمران خان سے ملنے کی اجازت دی اور کہا کہ وہ اس وقت سے لے کر صبح دس بجے تک جب چاہیں ملاقات کرسکتے ہیں، کوئی مسئلہ ہو تو علی ظفر ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے فون پر فوری رابطہ کریں، عدلیہ میں شفافیت آچکی آمرانہ دور گزر چکا اور آمرانہ دور کو سپورٹ کرنے والا دور بھی گزرچکا، اب نہ اداروں میں آمرانہ دور آئے گا اور نہ ملک میں۔

    جسٹس جمال نے کہا کہ پتا نہیں ہم کل رہتے بھی ہیں یا نہیں، اگر ججز کمیٹی میں ایک ممبر انکار کردے تو کیا ہونا چاہیے آپ تجویز دے دیں، ہم وہ تجویز آنے والے چیف جسٹس پاکستان تک پہنچا دیں گے، فی الحال تو ہماری رائے یہی ہے کہ دو ججز کی کمیٹی اپنے امور جاری رکھ سکتی ہے۔

    وکیل بانی پی ٹی آئی بیرسٹر ظفر نے کہا کہ فیصلہ لکھنے والے جج کو بنچ میں ضرور ہونا چاہیے،چیف جسٹس نے کہا کہ کیا ہمارے پاس ایسا اختیار ہے ہم کسی کو پکڑ کر بینچ میں بٹھا سکیں؟

    جسٹس جمال نے کہا کہ اگر کوئی خود بینچ میں نہ آنا چاہے تو کیا ہم جرگہ لے کر چلے جائیں؟ بتائیں ہم کیا کریں؟ اس پر علی ظفر نے کہا کہ عدالت کو اس کیس میں جلدی کیا ہے؟

    چیف جسٹس نے کہا کہ تقریباً ڈھائی سال بعد کیس لگ رہا ہے اور آپ اسے جلدی کہہ رہے ہیں؟ طویل سماعت کے باوجود آپ نے کیس کے میرٹس پر ایک لفظ بھی نہیں کہا، فرض کریں ایک وزیراعظم اپنے دفتر کو ذاتی مفادات کیلئے استعمال کرے، اس وزیراعظم کے اپنے ممبران اسے ہٹانا چاہیں تو اس فیصلے سے وہ راستہ بند کردیا گیا ہے، اس عدالتی فیصلے کی موجودی میں تو اپوزیشن بھی عدم اعتماد کی تحریک نہیں لاسکے گی پارلیمنٹ اگر خود سے چاہے تو آرٹیکل 63 اے اور آرٹیکل 136 کو ختم کردے۔

    علی ظفر نے کہا کہ میری استدعا ہے کہ اس ادارے سپریم کورٹ کیلئے کچھ کریں، میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرنا چاہتا ہوں،جسٹس جمال نے کہا کہ چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ صاحب نے بہت کوششیں کیں، ملاقات کیلئے اکیلے جائیں جلوس لے کر نہ جائیے گا۔

    وکیل پیپلز پارٹی فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ امریکا، برطانیہ، آسٹریلیا میں فلور کراسنگ کا تصور ہے، ان ممالک کا ماننا ہے کہ فلور کراسنگ سے جمہوریت مضبوط ہوتی ہے،چیف جسٹس نے فاروق نائیک سے کہا کہ ایسی باتیں نہ کریں کہیں آپ کو آپ کی پارٹی نکال نہ دے۔

    فاروق نائیک نے کہا کہ میری ایک بار صدر آصف زرداری سے ملاقات ہوئی انھوں نے کہا ایسا قانون نہ بنانا جو کل تمھارے آگے آئے،جسٹس جمال نے کہا کہ آپ پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین ہیں کیا آپ نے وکیل کے کنڈکٹ کا نوٹس لیا ؟ اس پر فاروق نائیک نے یقین دہانی کرائی کہ عدالت سے بدتمیزی کرنے والے وکیل کو نوٹس جاری کیا جائے گا۔

    بعدازاں کیس کی سماعت کل ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کردی گئی۔