Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • فوجی عدالتوں میں سولین کے ٹرائل کیخلاف اپیلوں پر حکمنامہ

    فوجی عدالتوں میں سولین کے ٹرائل کیخلاف اپیلوں پر حکمنامہ

    سپریم کورٹ: فوجی عدالتوں میں سویلین کے ٹرائل کیخلاف انٹرا کورٹ اپیلوں پر گزشتہ سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری کردیا

    حکمنامہ میں کہا گیا ہے کہ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا کی درخواست واپس لینے پر نمٹائی جاتی ہے،اٹارنی جنرل نے آگاہ کیا ٹوٹل 105 ملزمان زیر حراست ہیں،15 سے 20 افراد کے مقدمات میں، کچھ کیسز بری ہونے کے قابل ہیں،اور کچھ کم سزا یافتہ ہیں،اٹارنی جنرل کے مطابق کم سزایافتہ ملزمان کو رعایت بھی دی جائے گی،اٹارنی جنرل کی خصوصی عدالتوں کے محفوظ شدہ فیصلے سنانے کی استدعا کی جیسے منظور کیا جاتا ہے،اٹارنی جنرل کی بری ہونے والے یا کم سزا والے ملزمان کا فیصلہ سنانے کی استدعا پر کسی نے مخالفت نہیں کی، رہائی پانے والے افراد کی لسٹ آئندہ سماعت سے قبل عدالت جمع کروائی جائے ،آئندہ سماعت اپریل کے چوتھے ہفتے تک ملتوی کی جاتی ہے

    فوجی عدالتوں میں ٹرائل کالعدم کرنے کا تفصیلی فیصلہ جاری

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    چلڈرن ہسپتال کا کوکلیئر امپلانٹ کے تمام اخراجات برداشت کرنے کافیصلہ،ڈاکٹر جاوید اکرم

    صنم جاوید کی سینیٹ کیلیے نامزدگی،طیبہ راجہ پھٹ پڑیں

    سیاسی جماعتوں کے سینئیر رہنما سینیٹ ٹکٹ سے محروم

    پنجاب میں بڑا معرکہ،سات سینیٹر بلا مقابلہ منتخب

    فوجی عدالتوں سے 15 سے 20 ملزمان کی رہائی کا امکان ہے،اٹارنی جنرل

  • 6ججزکا خط،سپریم کورٹ  کے   فل کورٹ اجلاس  کا اعلامیہ جاری

    6ججزکا خط،سپریم کورٹ کے فل کورٹ اجلاس کا اعلامیہ جاری

    اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ کے 6ججزکا خط ، سپریم کورٹ کے فل کورٹ اجلاس نے اعلامیہ جاری کر دیا-

    باغی ٹی وی : اعلامیے کے مطابق ‏چیف جسٹس کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے 6 ججز کا خط 26 مارچ کو موصول ہوا، ‏ہائیکورٹ کے ججز کی جانب سے خط 25 مارچ کو لکھا گیا،‏ چیف جسٹس نے معاملے پر اسلام آباد ہائیکورٹ اور دیگر ججز کے ساتھ افطار پر ملاقات کی، ‏ججز سے ملاقات چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی رہائش گاہ پر ہوئی-

    ‏اعلامیے کے مطابق تمام ججز کے تحفظات کو ڈھائی گھنٹے تک ایک، ایک کر کے سنا گیا، 27مارچ کو چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل اور وزیر قانون سے ملاقات کی ، ‏ چیف جسٹس نے صدرسپریم کورٹ بار اور پاکستان بار کے سینئر ممبرز سے ملاقاتیں بھی کیں، 27مارچ کو شام 4 بجے چیف جسٹس نے فل کورٹ میٹنگ طلب کی –

    وفاقی حکومت نے ججز کے خط پر تحقیقات کرنے کا اعلان کردیا

    اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ ‏ فل کورٹ کی میٹنگ میں ہائیکورٹ کے ججز کے لکھے گئے خط پر تبادلہ خیال کیا گیا، اتفاق رائے سے فیصلہ ہوا کہ چیف جسٹس کو وزیراعظم سے ملاقات کرنی چاہیے،‏ وزیراعظم نے وزیر قانون اور اٹارنی جنرل کے ہمراہ چیف جسٹس، سینئر جج اور رجسٹرار سے ملاقات کی ،چیف جسٹس نے کہا کہ ‏ ججز کے معاملات اور عدالتی امور میں ایگزیکٹو کی مداخلت کو برداشت نہیں کیا جائے گا،‏ کسی بھی صورتحال میں عدلیہ کی آزادی پر سمجھوتا نہیں کیا جائے گا-

    چیف جسٹس سے ملاقات ختم،وزیراعظم سپریم کورٹ سے روانہ

    اعلامیے میں کہا گیا کہ چیف جسٹس ، عدلیہ کی آزادی، قانون کی حکمرانی اور مضبوط جمہوریت کا بنیادی ستون ہے، وزیراعظم اور چیف جسٹس کی ملاقات کے دوران انکوائری کمیشن بنانے کی تجویز دی گئی، انکوائری کمیشن کسی نیک نام ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں قائم کرنے کی تجویز دی گئی، ‏ طے پایا وفاقی کابینہ کے اجلاس کے ذریعے انکوائری کمیشن کی تشکیل کی منظوری دی جائیگی-

    اسلام آباد ہائیکورٹ ججز کے خط پر چیف جسٹس کی زیر صدارت اجلاس ختم

    ‏ اعلامیے میں کہا گیا کہ ملاقات میں وزیراعظم نے یقین دلایا آزاد عدلیہ کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جائیں گے، عدلیہ کی آزادی کیلئے فیض آباد دھرنا کیس کے پیراگراف 53 کے مطابق قانون سازی کی جائیگی، وزیراعظم سے ملاقات کے بعد چیف جسٹس نے دوبارہ فل کورٹ میٹنگ بلائی، فل کورٹ میٹنگ کے اندر وزیراعظم سے کی گئی ملاقات کی تفصیلات بتائی گئیں-

  • چیف جسٹس سے ملاقات ختم،وزیراعظم سپریم کورٹ سے روانہ

    چیف جسٹس سے ملاقات ختم،وزیراعظم سپریم کورٹ سے روانہ

    وزیر اعظم شہبا زشریف سپریم کورٹ پہنچ گئے

    وزیراعظم اور چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی ملاقات ہوئی، ملاقات میں وزیر قانون اعظم نزیر تارڑ اور اٹارنی جنرل آف پاکستان بیرسٹر منصور اعوان بھی شامل ہیں،جسٹس منصور شاہ بھی ملاقات میں موجودتھے، وزیراعظم شہباز شریف ججز گیٹ سے داخل ہوئے۔ملاقات میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے چھ ججز کی جانب سے سپریم جوڈیشل کونسل کو لکھے گئے خط کے حوالہ سے غور و خوض کیا گیا، وزیراعظم شہباز شریف اور چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے درمیان ملاقات ختم ہو گئی،وزیراعظم سپریم کورٹ سے روانہ ہو گئے

    شہباز شریف کیساتھ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی ملاقات غیر آئینی اور دھوکہ ہے،اعتزاز احسن
    دوسری جانب پیپلز پارٹی کے رہنما ممتاز قانوندان اعتراز احسن کا کہنا ہے کہ شہباز شریف کیساتھ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی ملاقات غیر آئینی اور دھوکہ ہے اس موڑ پہ ملنا جب 6 ججز نے انکی اور خفیہ ایجنسیوں کی مداخلت کے بارے میں انکو خط لکھا ہے،چھ ججز کے خط پر چیف جسٹس کو سوموٹو لینا چاہیے یہ معاملہ بہت سنگین ہے چیف جسٹس کی ذمہ داری ہے ججز کو تحفظ دیں- اگر اس معاملے کو ایسے ہی چھوڑ دیا تو پھر جو فیصلہ آئے گا دنیا بولے گی انکی عدالتیں اداروں کے کہنے پر فیصلہ کرتی ہیں-

    اسلام آباد ہائیکورٹ ججز کی جانب سے لکھے گئے خط پر سپریم کورٹ کا فل کورٹ اجلاس گزشتہ روز چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی زیر صدارت دو گھنٹے سے زائد جاری رہنے کے بعد ختم ہو ا،یہ بیٹھک آج دوبارہ ہوگی،جس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کے خط اور اس کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال کی آئینی و قانونی حیثیت پر غور کیا جائے گا-

    واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے 6 ججز نے سپریم جوڈیشل کونسل کو خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ ہم جسٹس ریٹائرڈ شوکت عزیز صدیقی کے تحقیقات کرانے کے مؤقف کی مکمل حمایت کرتے ہیں، اگر عدلیہ کی آزادی میں مداخلت ہو رہی تھی تو عدلیہ کی آزادی کو انڈر ما ئن کرنے والے کون تھے؟ ان کی معاونت کس نے کی؟ سب کو جوابدہ کیا جائے تاکہ یہ عمل دہرایا نہ جا سکے، ججز کے کوڈ آف کنڈکٹ میں کوئی رہنمائی نہیں کہ ایسی صورتحال کو کیسے رپورٹ کریں۔خط میں ججز نے سپریم جوڈیشل کونسل سے رہ نمائی مانگی ہے، پوچھا ہے کہ ایگزیکٹو بشمول انٹیلی جنس ایجنسیز ارکان کی کارروائیوں پر رپورٹ اور ردعمل سے متعلق جج کی کیا ڈیوٹی ہے؟ یہ کارروائیاں ایک جج کے سرکاری کام میں مداخلت کے برابر ہیں۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ ججز کے خط پر چیف جسٹس کی زیر صدارت اجلاس ختم

    ایسا لگتا تحریک انصاف کے اشارے پر ججز نے خط لکھا،سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    ججزکا خط،اسلام آباد ،لاہور ہائیکورٹ بار،اسلام آبا بار،بلوچستان بار کا ردعمل

    عدالتی معاملات میں مداخلت، اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کا سپریم جوڈیشل کونسل کو خط

    ججز کا خط،انکوائری ہو،سپریم کورٹ میں اوپن سماعت کی جائے، بیرسٹر گوہر

    ججز کا خط ،پاکستان بار کونسل کا انکوائری کا مطالبہ

  • فوجی عدالتوں سے 15 سے 20 ملزمان کی رہائی کا امکان ہے،اٹارنی جنرل

    فوجی عدالتوں سے 15 سے 20 ملزمان کی رہائی کا امکان ہے،اٹارنی جنرل

    سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلنز کا ٹرائل کالعدم قرار دینے کیخلاف اپیلوں پر سماعت ہوئی
    جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں چھ رکنی بینچ نے سماعت کی،جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس شاہد، جسٹس مسرت ہلالی جسٹس عرفان سعادت خان بینچ میں شامل ہیں،اٹارنی جنرل نے فوجی عدالتوں سے 15 سے 20 ملزمان کو رہا کیے جانے کا امکان ظاہر کر دیا ، اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ بریت اور کم سزا والوں کو رعایت دیکر رہا کیا جائے گا،مجموعی طور پر 105 ملزمان فوج کی تحویل میں ہیں،بریت اور کم سزا والوں کو رعایت دیکر رہا کیا جائے گا،ملزمان کی رہائی کیلئے تین مراحل سے گزرنا ہوگا،پہلا مرحلہ محفوظ شدہ فیصلہ سنایا جانا دوسرا اسکی توثیق ہوگی،تیسرا مرحلہ کم سزا والوں کو آرمی چیف کی جانب سے رعایت دینا ہوگا،اٹارنی جنرل نے خصوصی عدالتوں کو محفوظ شدہ فیصلے سنانے کی اجازت دینے کی استدعا کر دی ، جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ اگر اجازت دی بھی تو اپیلوں کے حتمی فیصلے سے مشروط ہوگی،

    جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ فوجی عدالتوں سے جنہیں رہا کرنا ہے اُن کے نام بتا دیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ جب تک عدالتوں سے فیصلے نہیں آ جاتے نام نہیں بتا سکتا، جن کی سزا ایک سال ہے انہیں رعایت دیدی جائے گی،جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ پھر رہائی کا فیصلہ عید سے پہلے ہونا چاہیے تاکہ اپنوں کے ساتھ عید گزاریں، اعتزاز احسن نے کہا کہ اٹارنی جنرل کی بات سن کر مایوسی ہوئی ہے،

    سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں کو محفوظ شدہ فیصلے سنانے کی مشروط اجازت دے دی ،عدالت نے کہا کہ صرف ان کیسز کے فیصلے سنائے جائیں جن میں نامزد افراد عید سے پہلے رہا ہوسکتے ہیں، اٹارنی جنرل نے یقین دہانی کرائی کہ کم سزا والوں کو قانونی رعایتیں دی جائیں گی، فیصلے سنانے کی اجازت اپیلوں پر حتمی فیصلے سے مشروط ہوگی، عدالت نے اٹارنی جنرل کو عملدرآمد رپورٹ رجسٹرار کو جمع کرانے کی ہدایت کر دی ،مزید سماعت اپریل کے تیسرے ہفتے میں ہوگی،

    فوجی عدالتوں میں ٹرائل کالعدم کرنے کا تفصیلی فیصلہ جاری

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    چلڈرن ہسپتال کا کوکلیئر امپلانٹ کے تمام اخراجات برداشت کرنے کافیصلہ،ڈاکٹر جاوید اکرم

    صنم جاوید کی سینیٹ کیلیے نامزدگی،طیبہ راجہ پھٹ پڑیں

    سیاسی جماعتوں کے سینئیر رہنما سینیٹ ٹکٹ سے محروم

    پنجاب میں بڑا معرکہ،سات سینیٹر بلا مقابلہ منتخب

  • نومئی واقعہ، جیل سے رہا ہونے والے ملزمان پھر گرفتار

    نومئی واقعہ، جیل سے رہا ہونے والے ملزمان پھر گرفتار

    نو مئی کے مقدمے میں اڈیالہ جیل سے رہا ہونے والے ملزمان کو پھر گرفتار کر لیا گیا

    سپریم کورٹ نے نو مئی کے مقدمے کے ملزمان کی ضمانت منظور کی تھی، پانچ ملزمان کو رہا کیا گیا تو انہیں دوبارہ گرفتار کر لیا گیا،پولیس حکام کے مطابق رہا ہونے والے ملزمان کو 16 ایم پی او کے احکامات کے تحت گرفتار کیا گیا ہے، ڈی سی راولپنڈی نے ایم پی او کے تحت احکامات جاری کئے ہیں،پانچوں گرفتار ملزمان کے خلاف تھانہ نیو ٹاؤن میں 9 مئی کا مقدمہ درج ہے۔

    سپریم کورٹ نے 20 مارچ کو ملزمان کی ضمانت منظور کی تھی اور ملزمان کو انسداد دہشت گردی عدالت میں مچلکے جمع کرانے کے بعد گزشتہ رات اڈیالہ جیل سے رہا کیا گیا تھا،

    واضح رہے کہ نو مئی کو عمران خان کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کارکنان نے ملک بھر میں جلاؤ گھیراؤ کیا تھا، عسکری تنصیات پر حملے کئے تھے، منظم منصوبہ بندی کے تحت شہدا کی یادگاروں کو نشانہ بنایا گیا تھا

  • سپریم کورٹ نے ایف آئی اے کو صحافیوں  کی گرفتاری سے روک دیا

    سپریم کورٹ نے ایف آئی اے کو صحافیوں کی گرفتاری سے روک دیا

    اسلام آباد: سپریم کورٹ نے صحافیوں کو ہراساں کرنے کی درخواست پر وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کو آئندہ سماعت تک صحافیوں کو گرفتار کرنے سے روک دیا –

    باغی ٹی وی : سپریم کورٹ میں صحافیوں کو ایف آئی اے نوٹسز اور ہراساں کیے جانے کیخلاف کیس کی سماعت ہوئی، سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی،پریس ایسوسی ایشن کے وکیل صلاح الدین عدالت میں پیش ہوئے۔

    بیرسٹر صلاح الدین نے دلائل میں کہا کہ ایف آئی اے پیکا ایکٹ کے غلط استعمال کی عادی ہو چکی،بیرسٹر صلاح الدین نے جسٹس اطہر من اللہ کے ہائیکورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیا اور کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ پیکا سیکشن 20 کی ایک جز کو کالعدم قرار دے چکی۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا اسلام آباد ہائی کورٹ کا یہ رپورٹٹڈ فیصلہ ہے؟ اس پر صلاح الدین نے کہا کہ صرف مختصر حکم نامے میں اس سیکشن کو کالعدم کیا گیا، چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا اس کا تفصیلی فیصلہ بھی آیا تھا؟ تو بیرسٹر صلاح الدین نے کہا کہ مجھے نہیں لگتا تفصیلی فیصلہ آیا۔

    نو تشکیل یافتہ پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی کی افتتاحی بورڈ میٹن

    چیف جسٹس نے پوچھا اس فیصلے میں ایک پورا آرڈیننس بھی کالعدم کیا گیا؟ جس پر وکیل نے کہا کہ وہ ایک نیا آرڈیننس آرہا تھا اسے کالعدم کیا گیا تھا،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اس فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا؟ جس پر وکیل نے جواب دیا کہ میرے خیال میں یہ فیصلہ چیلنج نہیں کیا حتمی ہو چکا، پرائیویسی میں مداخلت کے نام پر صحافیوں کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ غلط استعمال تو بہترین قسم کے قانون کا بھی ہو جاتا ہے، آپ پرائیویسی کو کوالیفائی کیسے کریں گے؟ جسٹس اطہر من اللہ کے ہائی کورٹ والے فیصلے میں پرائیویسی پر بات نہیں کی گئی ہے، آپ چاہتےہیں ہم 184 /3 میں سنتے ہوئے اس کی تشریح کریں؟-

    سینیٹ انتخابات،محسن نقوی، احد چیمہ،حامد خان سمیت سات بلامقابلہ منتخب

    بیرسٹر صلاح الدین نے کہا کہ یہ معاملہ سیکشن 24 ، سائبر اسٹاکنگ سے متعلق ہے، یہ اس میں شامل ہے، جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدالت کسی شق کو کالعدم کر سکتی ہے یا اس کی تشریح کر سکتی ہے وکیل نے کہا کہ نوازشریف اور بانی پی ٹی آئی کے دور میں صحافیوں کےخلاف اس قانون کا استعمال ہوا، موجودہ دور میں پھر اسی معاملے پر آپ کے سامنے ہوں۔

    چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ ایف آئی اے کو تعلیم تو دے سکتے ہیں کہ اس قانون کا مقصد کیا ہے، وکیل نے کہا کہ ایف آئی اے صحافی کو ایسے گرفتار نہیں کر سکتی، ایف آئی اے خود سے مقدمہ درج نہیں کر سکتی، شکایت کا مدعی ایف آئی اے کا اپنا افسر ہے۔

    ججز کا خط،چیف جسٹس کی سربراہی میں فل کورٹ اجلاس

    چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا اس معاملے میں قانون کی خلاف ورزی کی گئی؟ یہ تو ضابطہ فوجداری کی دفعہ 160 کے تحت نوٹس ہیں، یہ تو ایف آئی آر کے اندراج سے پہلے کا نوٹس ہے، ایسا نوٹس تو کل کو مجھے مل سکتا ہے، آپ کیوں خود سے تصور کر رہے ہیں وہ ایف آئی آر درج کریں گے؟ کئی بار اوپر سے بہت پریشر آجاتا ہے، افسر پریشر ہٹانے کے لیے نوٹس دے دیتا ہے مگر ایف آئی آر نہیں کاٹتا، گرفتار بھی نہیں کرتا، اس نوٹس میں تو وہ بطور گواہ بھی کسی کو بلا سکتے ہیں، اگر کوئی چیز آپ غیر قانونی دکھائیں گے تو ہی اسے ہم کالعدم کریں گے، ہم ایک قانونی عمل کو کالعدم نہیں کریں گے۔

    جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیے کہ ایف آئی آر کے اندراج کا معاملہ پہلے آتا ہے، طلبی بعد میں، چیف جسٹس نے کہا کہ کیا پھر آپ یہ چاہتے ہیں نوٹس 160 کی جگہ سیکشن 157 کا ہونا چاہیے؟اس پر بیرسٹر صلاح الدین نے کہا کہ اگر ایف آئی آر درج ہو چکی ہو تو ہی نوٹس آسکتا ہے-

    بالٹی مور،جہاز حادثہ،ڈوبنے والوں میں چھ بھارتی شہری شامل

    بعد ازاں عدالت نے آئندہ سماعت تک ایف آئی اے کو صحافیوں کی گرفتاری سے روکتے ہوئے کیس کی سماعت 2 اپریل تک ملتوی کر دی۔

  • ججز کا خط،چیف جسٹس کی سربراہی میں فل کورٹ اجلاس

    ججز کا خط،چیف جسٹس کی سربراہی میں فل کورٹ اجلاس

    اسلام آبادہائی کورٹ ججز کے خط کے معاملے پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں فل کورٹ اجلاس شروع ہو گیا ہے.

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی زیر صدارت فل کورٹ اجلاس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کے خط کا جائزہ لیا جارہا ہے، اجلاس میں جسٹس منصور علی شاہ،جسٹس منیب اختر اور جسٹس جمال مندوخیل شریک ہیں، جسٹس امین الدین،جسٹس شاہد وحید،جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس حسن اظہر رضوی بھی موجود ہیں،جسٹس یحیٰ آفریدی،عرفان سعادت اورجسٹس محمد علی مظہر،جسٹس مسرت ہلالی بھی شریک ہیں،جسٹس عائشہ صدیقی اور جسٹس نعیم اختر افغان بھی فل کورٹ اجلاس میں موجود ہیں،

    میڈیارپورٹس کے مطابق اس معاملے پر اٹارنی جنرل کی چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے ملاقات ہوئی ہے،ملاقات میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کے حوالے سے لکھے گئے خط پر غور کیا گیا۔

    سپریم کورٹ میں فل کورٹ اجلاس سے قبل میٹنگ روم کی سکیورٹی کلیئرنس کا کام جاری ہے،بم ڈسپوزل سکواڈ کا عملہ سکریننگ کیلئے پہنچ گیا

    ججز کا خط،پاکستان بار کونسل کا اجلاس 5 اپریل کو طلب
    دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ کے چھ ججز کا خط، پاکستان بار کونسل نے ہنگامی اجلاس دس روز بعد طلب کرلیا،پاکستان بار کونسل نے ججز کے خط پر اہم اجلاس طلب کرلیا ،پاکستان بار کونسل کا اجلاس 5 اپریل کو طلب کیا گیا ،اجلاس میں ہائیکورٹ ججز کے خط کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر غور کیا جائے گا

    ایسا لگتا تحریک انصاف کے اشارے پر ججز نے خط لکھا،سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    ججزکا خط،اسلام آباد ،لاہور ہائیکورٹ بار،اسلام آبا بار،بلوچستان بار کا ردعمل

    عدالتی معاملات میں مداخلت، اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کا سپریم جوڈیشل کونسل کو خط

    ججز کا خط،انکوائری ہو،سپریم کورٹ میں اوپن سماعت کی جائے، بیرسٹر گوہر

  • فوجی عدالتوں میں سویلین ٹرائل کیخلاف انٹراکورٹ اپیلیں 28 مارچ تک ملتوی

    فوجی عدالتوں میں سویلین ٹرائل کیخلاف انٹراکورٹ اپیلیں 28 مارچ تک ملتوی

    اسلام آباد: سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کالعدم قرار دینے کیخلاف اپیلوں پر سماعت ہوئی-

    باغی ٹی وی : سپریم کورٹ میں ملٹری کورٹس میں سویلینز کے ٹرائل کالعدم قرار دینے کے خلاف اپیلوں پر سماعت جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 6 رکنی بینچ نے کی، سماعت کے آغاز میں درخواست گزار جسٹس ریٹائرڈ جواد ا یس خواجہ کے وکیل نے بینچ پر اعترا ض اٹھاتے ہوئے کہا کہ بینچ کے ممبران پر ہمارا اعتراض ہے بینچ بڑا ہونا چاہیے تھا۔

    جواد ایس خواجہ کے وکیل نے 9 رکنی بینچ بنانے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ اس کیس میں یہ تاثرنہیں جانا چاہیے کہ فیصلے کا دار و مدار بینچ تشکیل پر تھا،ملزمان زیر حراست ہیں، ان کے اہلخانہ عدالتی کارروائی میں شامل ہونا چاہتے ہیں لہٰذا عدالت اہلخانہ کو سماعت دیکھنے کی اجازت دے، یہ سوال باقی نہیں رہنا چاہیے کہ 9 رکنی بینچ ہوتا تو فیصلہ مختلف ہوتا، یہ اس ادارے پر عوام کے اعتبار کا معاملہ ہے، عدالت کمیٹی کو 9 رکنی بینچ تشکیل دینے کا کہے۔

    احد چیمہ کے دو بیٹوں کی فیس معا فی کا معاملہ، ایچی سن کالج کے …

    دوسری طرف خیبرپختونخوا حکومت نے فوجی عدالتوں میں سویلنزکا ٹرائل کالعدم قرار دینے کے خلاف اپیلیں واپس لینے کی استدعا کی کے پی حکومت کے وکیل نے کہا انٹراکورٹ اپیلیں واپس لینا چاہتے ہیں، صوبائی کابینہ کی قرارداد عدالت میں پیش کردی ہے۔

    سپریم کورٹ ججز نے خیبرپختونخوا حکومت کے وکیل سے کہا کہ کابینہ قرارداد پر تو اپیلیں واپس نہیں کر سکتے، مناسب ہوگا کہ آپ اپیلیں واپس لینے کیلئے باضابطہ درخواست دائرکریں۔

    فوجی عدالتوں کے خلاف درخواست گزاروں نے نجی وکلا پربھی اعتراض اٹھایا، وکیل فیصل صدیقی نے کہا سرکاری اداروں کی جانب سے اٹارنی جنرل نے 5 اپیلیں دائرکر رکھی ہیں جبکہ بعض وزارتوں کی جانب سے نجی وکلا کی خدمات حاصل کی گئی ہیں، اٹارنی جنرل نے خود اپیلیں دائرکی ہیں تو عوام کا پیسہ نجی وکلا پر کیوں خرچ ہو۔

    گیس کی قیمت میں حالیہ اضافے پر وزیراعظم برہم

    وکیل احمد حسین نے کہا کہ بینچ کی تشکیل کیلئے مناسب ہوگا کہ معاملہ دوبارہ ججزکمیٹی کوبھیجا جائے، پہلے بھی 9 رکنی بینچ تشکیل دینے کی استدعا کی تھی جس پر جسٹس محمد علی مظہر نے کہا پہلے 9 رکنی بینچ بن جاتا تو آج اپیلوں پر سماعت ممکن نہ ہوتی، سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ نے متفقہ فیصلہ دے کر ٹرائل کالعدم قرار دیا ہے اور اگر 6 رکنی بینچ اب اسے 4-2 سے کالعدم قرار دے تو یہ متنازع ہو جائے گا اور عدلیہ پر عوامی اعتماد کیلئے ضروری ہے کہ فیصلہ متنازع نہ ہو۔

    سماعت کے دوران عدالت نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ وہ زیرحراست افراد کے مقدمات کی تفصیلات داخل کریں اور بتائیں کہ 103 افراد میں سے کتنے افراد کی بریت بنتی ہے اورکتنے لوگ بےگناہ ہیں،بعد ازاں سپریم کورٹ نے کیس کی مزید سماعت جمعرات 28 مارچ تک ملتوی کر دی۔

    غزہ بچاؤ مارچ ،دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر سابق سینیٹر مشتاق احمدکیخلاف مقدمہ درج

  • صحافیوں کو جاری نوٹسز سے متعلق کیس،اگرگزشتہ درخواست پر فیصلہ ہو جاتا تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا،چیف جسٹس

    صحافیوں کو جاری نوٹسز سے متعلق کیس،اگرگزشتہ درخواست پر فیصلہ ہو جاتا تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا،چیف جسٹس

    اسلام آباد: سپریم کورٹ میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی جانب سے صحافیوں کو جاری نوٹسز سے متعلق کیس میں چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اگرگزشتہ درخواست پر فیصلہ ہو جاتا تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا-

    باغی ٹی وی : ایف آئی اے کی جانب سے صحافیوں کو جاری نوٹسز سے متعلق کیس کی سماعت سپریم کورٹ میں جاری ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں جسٹس محمد علی مظہر اورجسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل 3 رکنی بینچ کررہا ہے، سماعت کے آغاز پراٹارنی جنرل منصور عثمان اور وکیل بیرسٹرصلاح الدین روسٹرم پر آ گئے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ اگرگزشتہ درخواست پر فیصلہ ہو جاتا تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا، جو لوگ پیچھے ہٹ گئے انکی بھی کمزوری ہے۔ ہم نے 2021 میں ازخود نوٹس لیا تھا، اُس وقت صحافیوں کو ہراساں کیا گیا اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا،اس وقت یہ معاملہ2 رکنی سے 5 رکنی بنچ کے سامنے چلا گیا، کہا گیا صرف چیف جسٹس سوموٹو نوٹس لے سکتے ہیں وہ معاملہ ایف آئی اے نوٹس ملنے سے زیادہ سنگین تھا۔

    بیرسٹرصلاح الدین نے کہا کہ دونوں معاملات کی اپنی اپنی سنگینی ہے، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ دونوں کو ایک جیسا سنگین نہیں کہہ سکتے، ایف آئی اے نوٹس مکمل غیر قانونی بھی ہو چیلنج ہو سکتے ہیں، الزام تو لگایا جاتا ہے مگر عدالت پیش ہو کر موقف نہیں دیا جاتا-

    چیف جسٹس فائز عیسیٰ نے ایڈووکیٹ حیدر وحید سے مکالمہ کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ آپ میڈیا ریگولیشن کی بات کر رہے ہیں، ہم عدالت کو استعمال نہیں ہونے دیں گے، اس عدالت کو کسی کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، کیا آپ کا ’فریڈم آف پریس‘ کا کیس ہے یا کوئی اور ایجنڈا ہے؟ عمران شفقت کے خلاف ایف آئی آر کس حکومت کے دور میں ہوئی؟ –

    اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ اس وقت بانی تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی حکومت تھی، عمران شفقت نے ریاستی اداروں اور عہدداروں کے بارے وی لاگ کیے تھے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ ہم بھی جانتے ہیں کہ ایف آئی آر کیسے ہوتی ہے، لوگ ماضی کو جلد بھول جاتے ہیں، کیا عمران شفقت پر کوئی ٹھوس کیس ہے؟ کوئی سنجیدہ جرم تھا یا پھر صرف تنگ کرنے کے لیے ایف آئی آر کاٹی گئی، اٹارنی جنرل نے کہا کہ عمران شفقت نے کوئی سنجیدہ جرم نہیں کیا، میرے خیال میں اس کیس میں ایسا کچھ نہیں ہے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ آپ کی درخواست میں مختلف درخواست گزار ہیں، آپ کو مفت مشورہ ہے پہلے اپنے مؤکل سے ملاقات کر لیا کریں، چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ ریاست سے پوچھ رہا ہوں کہ صحافیوں کیخلاف فوجداری جرم بنتا تھا؟ جواب میں اٹارنی جنرل نے کہا کہ میرے خیال میں کوئی فوجداری جرم نہیں بنتا تھا۔

    دریں اثنا ایف آئی اے نے صحافی عمران شفقت اور عامر میر کے خلاف مقدمات واپس لینے کی یقین دہانی کرا دی چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ بیرسٹر صلاح الدین، آپ کی درخواست کیا ہے؟ بیرسٹر صلاح الدین نے جواب دیا کہ پریس ایسوسی ایشن سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ ایسوسی ایشن کی درخواست ہے، میں مطیع اللہ جان اور ابصار عالم کی بھی نمائندگی کر رہا ہوں، ایف آئی اے انکوائری درج کرنے کے بعد گرفتاری کا اختیار رکھتی ہے، اس اختیار کو میڈیا اور صحافیوں کی آواز دبانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

    چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا ہم کسی ایف آئی آر کو درج ہونے سے روک سکتے ہیں؟ ایف آئی آر غلط ہو سکتی ہے مگر اسے کیس ٹو کیس ہی دیکھا جائے گا، پاکستان میں میڈیا اور صحافیوں کے ساتھ کیا ہوا اس پر تو کتابیں لکھی جاسکتی ہیں، بیرسٹر صلاح الدین نے کہا کہ پیکا کی ایک سیکشن 20 ہے جسے بار بار غلط استعمال کیا جاتا ہے، بعد ازاں عدالت نے صحافیوں کو ہراساں کرنے کے خلاف کیس کی سماعت 27 مارچ تک ملتوی کردی۔

  • سپریم کورٹ, جسٹس شوکت صدیقی کی برطرفی کا فیصلہ غیر قانونی قرار

    سپریم کورٹ, جسٹس شوکت صدیقی کی برطرفی کا فیصلہ غیر قانونی قرار

    سپریم کورٹ نے سابق جج جسٹس شوکت صدیقی کی برطرفی کا فیصلہ غیر قانونی قرار دے دیا ہے

    سپریم کورٹ نے فیصلہ غیرقانونی قرار دیتے ہوئے کالعدم کر دیا،سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو ریٹائرڈ جج تصور کیا جائے،سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ نے فیصلہ سنایا،عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہےکہ جسٹس شوکت صدیقی بطور جج اسلام آباد ہائیکورٹ ریٹائرڈ اور تمام مراعات وپینشن کے حقدارہوں گے، انہیں پینشن سمیت تمام مراعات ملیں گی، فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کیس تاخیر سے مقرر ہونے کیوجہ سے شوکت عزیز صدیقی کی عمر 62 سال پوری ہو چکی، عمر پوری ہونے کی وجہ سے شوکت عزیز صدیقی کو عہدے پر بحال نہیں کیا جاسکتا،سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ شوکت عزیز صدیقی کے سابق آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید پر لگائے گئے الزامات سنگین نوعیت کے تھے جن کی تحقیقات سپریم جوڈیشل کونسل کو کرنا چاہیے تھی،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں جسٹس امین الدین، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس حسن رضوی اور جسٹس عرفان سعادت پر مشتمل 5 رکنی بینچ نے شوکت صدیقی کی آئینی درخواستوں پر سماعت 23 جنوری 2024 کو مکمل کی تھی،

    تین سال بیت گئے،ریٹائرمنٹ کی تاریخ گزرچکی اب تو کیس سن لیں،

    سوچ بھی نہیں سکتا کہ بنچ کا کوئی رکن جانبدار ہے،سابق جج شوکت عزیز صدیقی

    جسٹس شوکت صدیقی ملکی تاریخ کے دوسرے جج ہیں جن کے خلاف آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی کی گئی ہے  اس سے قبل 1973 میں لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت علی کو بدعنوانی کے الزامات ثابت ہونے پر عہدے سے ہٹایا گیا تھا۔

    اکتوبر 2018 میں سپریم جوڈیشل کونسل کی سفارش پر صدر مملکت کی منظوری کے بعد وزارت قانون نے متنازع خطاب پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو عہدے سے ہٹانے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے سینیئر جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے 21 جولائی 2018 کو راولپنڈی بار میں خطاب کے دوران حساس اداروں پر عدالتی کام میں مداخلت کا الزام عائد کیا تھا

    مولانا جذبات میں بہہ گئے، بڑا اعتراف،سیاسی کھیل فیصلہ کن مرحلے میں داخل

    پی ٹی آئی والے کم ازکم علما کے قدموں میں تو بیٹھ گئے،کیپٹن ر صفدر