Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • سپریم کورٹ نے  ذوالفقار علی بھٹو ریفرنس کی سماعت کا اردو ترجمہ جاری کر دیا

    سپریم کورٹ نے ذوالفقار علی بھٹو ریفرنس کی سماعت کا اردو ترجمہ جاری کر دیا

    اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے ذوالفقار علی بھٹو ریفرنس کی سماعت کا اردو ترجمہ جاری کردیا۔

    باغی ٹی وی: گزشتہ روز ذوالفقار علی بھٹو صدارتی ریفرنس کے معاملے پر سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی تھی، سپریم کورٹ آف پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو ریفرنس کیس کی سماعت چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 9 رکنی لارجر بینچ نے کی، جس میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عدالت عظمیٰ کی رائے سنائی تھی، ا پنی رائے دیتے ہوئے عدالت عظمیٰ نے کہا تھا کہ ذوالفقار علی بھٹو کو شفاف ٹرائل کا حق نہیں دیا گیا۔

    چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا تھا کہ تمام ججز کی متفقہ رائے ہے، ججز بلاتفریق فیصلہ کرتے ہیں، عدلیہ میں خود احتسابی ہونی چاہیے۔ عدلیہ ماضی کی غلطی کو تسلیم کیے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتی، سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کا لاہور ہائی کورٹ میں ٹرائل فوجی آمر ضیا الحق کے دور میں ہوا۔

    چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ ’کیا کوئی معاہدہ بھی ہو چکا تھا؟‘ اس پر رضا ربانی نے کہا کہ ’معاہدے پر دستخط ہونا باقی تھے لیکن پھر مارشل لاء نافذ کر دیا گیا، 24 جولائی کو ایف ایس ایف کے انسپکٹرز کو گرفتار کیا گیا، 25 اور 26 جولائی کو ان کے اقبالِ جرم کے بیانات آ گئے، مارشل لاء دور میں زیرِ حراست ان افراد کے بیانات لیے گئے، اس وقت مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر، چیف جسٹس پاکستان، قائم مقام چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کا ٹرائی اینگل تھا، ذوالفقار علی بھٹو کی برییت سے تینوں کی جاب جا سکتی تھی‘۔

    اس موقع پر جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ ’رضا ربانی آپ کہہ سکتے ہیں کہ حسبہ بل میں عدالتی رائے بائنڈنگ تھی‘؟ چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے پوچھا کہ ’حسبہ بل میں کتنے جج صاحبان تھے؟‘ جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ’حسبہ بل کے صدارتی ریفرنس میں بھی 9 جج صاحبان تھے‘، چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ’ہم بھی 9 ہی جج ہیں، کوئی اختلاف بھی کر سکتا ہے‘۔

    اس پر رضا ربانی نے کہا کہ ’اس وقت جج جج نہیں تھے، مختلف مارشل لاء ریگولیشن کے تحت کام کر رہے تھے، مارشل لاء ریگولیشن کے باعث ڈیو پراسس نہیں دیا گیا، بیگم نصرت بھٹو نے بھٹو کی نظر بندی کو چیلنج کیا تھا، اسی روز مارشل لاء ریگولیشن کے تحت چیف جسٹس یعقوب کو عہدے سے ہٹا دیا گیا‘۔

  • میرے لیے قانون میں خصوصی رعایت ملنا باعثِ شرم ہے،چیف جسٹس

    میرے لیے قانون میں خصوصی رعایت ملنا باعثِ شرم ہے،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ آف پاکستان میں ملک بھر میں ممنوعہ اسلحے کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس میں کہا ہے کہ ممنوعہ اسلحہ لائسنس رکھنے کی کیٹیگری میں میری اجازت کے بغیر میرا نام بھی شامل کیا گیا، میرے لیے قانون میں خصوصی رعایت ملنا باعثِ شرم ہے۔چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سماعت کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر اٹارنی جنرل کو طلب کر لیا۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں نے اس معاملے پر ایک خط بھی لکھا تھا جس کا جواب نہیں دیا گیا، کلاشنکوف کوئی کھلونا یا کنگھی نہیں ہوتی، پبلک سرونٹ کا مقصد عوام کی خدمت کرنا ہوتا ہے، اسکولوں میں جائیں تو وہاں سیکیورٹی گارڈز اسلحہ لیے کھڑے ہوتے ہیں، غریب کے بچوں کے اسکولوں کے باہر تو گارڈز نہیں ہوتے، اسلحہ اٹھائے شخص کے بارے میں کیسے پتہ چلے گا کہ وہ دہشت گرد ہے یا نہیں، شام کو اسلام آباد میں دیکھیں کیا ہوتا ہے۔

    جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ کیا پارلیمنٹ کے ارکان کو بھی اجازت ہے کہ وہ اپنی ٹیبل پر اسلحہ رکھ کر بیٹھیں؟ جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ شادی کی تقریبات میں اسلحے کی نمائش کی جاتی ہے۔چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ امید ہے نئی حکومت اس معاملے پر کواقدامات اٹھائے گی، کوئی بھی ملک کے عوام کا نہیں سوچتا، سوشل میڈیا پر اسلحے کی نمائش کی ویڈیوز موجود ہیں، اسلحہ لیے بڑی مشہور شخصیات کی سوشل میڈیا پر ویڈیوز موجود ہیں، ہم کسی کا نام لے کر اسے شرمندہ نہیں کرنا چاہتے، ہم نے اپنے بچوں کے مستقبل کو محفوظ بنانا ہے، آئی جی بھی پولیس کے قافلے کے ساتھ سفر کرتا ہے، کب تک قانون کے ساتھ مذاق ہوتا رہے گا؟ جب بم پھٹ رہے ہوں تو دیواریں اونچی کر دی جاتی ہیں۔

    امریکہ بہادر کا فیصلہ آگیا، کاکڑ اور ہمنوا پریشان

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • ذوالفقار علی بھٹو کو سزا آئین  وقانون کے مطابق نہیں تھی،سپریم کورٹ

    ذوالفقار علی بھٹو کو سزا آئین وقانون کے مطابق نہیں تھی،سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ میں ذوالفقار علی بھٹوکیس سے متعلق صدارتی ریفرنس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے رائے سنادی

    سپریم کورٹ کے نو رکنی بنچ نے متفقہ طور پر صدارتی ریفرنس میں رائے دی،سپریم کورٹ نے صدارتی ریفرنس میں پوچھے گئے سوالات کے جواب دے دیئے،سپریم کورٹ نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کی بھٹو کیس میں کاروائی بنیادی انسانی حقاق کے مطابق نہیں تھی،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے رائے سناتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کی رائے اس معاملے پر متفق ہے، ہم ججز پابند ہیں کہ قانون کے مطابق فیصلہ کریں، سپریم کورٹ کی رائے متفقہ ہو گی، جب تک غلطیاں تسلیم نہ کریں خود کو درست نہیں کر سکتے، ریفرنس میں 5 سوالات اٹھائے گئے ہیں، ذوالفقار علی بھٹو کو آئین کے مطابق فیئر ٹرائل کا موقع نہیں ملا، بھٹو کے ٹرائل میں بنیادی حق پر عمل نہیں کیا گیا،بھٹو کیس میں فئر ٹرائل کے تقاضے پورے نہیں ہوئے، ذوالفقار علی بھٹو کو سزا آئین وقانون کے مطابق نہیں تھی،

    سپریم کورٹ نے کہا کہ ذولفقار علی بھٹو ٹرائل میں قانونی راستہ نہیں اپنایا گیا،لاہور ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ میں فئیر ٹرائل اور آئینی تقاضوں کو پورا نہیں کیا گیا،ذولفقار علی بھٹو کی سزائے موت کے فیصلے کو ختم نہیں کر سکتے،سپریم کورٹ کے نو رکنی لارجر بینچ نے مختصر رائے سنا دی،تفصیلی وجوہات بعد میں جاری کی جائینگی،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسی سربراہی میں 9 رکنی لارجر بینچ نے 4 مارچ کو صدارتی ریفرنس پر رائے محفوظ کی تھی جو اب سنا دی گئی ہے،جسٹس طارق مسعود، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس امین الدین، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس مسرت ہلالی لارجر بینچ کا حصہ تھے

    چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری سپریم کورٹ میں موجود تھے، پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان،فیصل کریم کنڈی و دیگر بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے،

    عدالت نے مانا ہے شہید ذوالفقار علی بھٹو کو فئیر ٹرائل کا موقع نہیں ملا،بلاول
    عدالتی فیصلے کے بعد پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ عدالت نے مانا ہے شہید ذوالفقار علی بھٹو کو فئیر ٹرائل کا موقع نہیں ملا،تفصیلی فیصلے کے بعد اپنے وکلاء سے بات کریں گے،عدالت نے مانا ہے شہید ذوالفقار علی بھٹو کو فئیر ٹرائل کا موقع نہیں ملا،سپریم کورٹ نے کہا کہ ماضی کی غلطیوں کو درست کرنے کے لئے یہ فیصلہ سنا رہے ہیں،اس فیصلے کی وجہ سے پاکستان ترقی کر سکے گا،اس فیصلے کی وجہ سے پاکستان کی عوام انصاف کی امید رکھے بیٹھے تھے،اس فیصلے کے بعد عوام کو اس ادارے سے انصاف کی امید ہو گی،اس فیصلے کے بعد نظام صحیح سمت میں چلنا شروع ہو جائے گا،

    شہید بھٹو کے ساتھ ٹرائل میں فیصلہ بدلنے کیلئے تعصب کیا گیا،شیری رحمان
    قبل ازیں پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امید ہے عدالت سے انصاف ملے گا،تاریخ عدالتی رائے کو یاد رکھے گی،چیف جسٹس اور 9 رکنی بینچ نے بڑے تحمل سے سب کو سنا،
    شہید بھٹو کے ساتھ ٹرائل میں فیصلہ بدلنے کیلئے تعصب کیا گیا،شہید بھٹو کے کیس میں عدالت نے ماتھے پر کاری ضرب لگائی،انصاف اور قانون کی حکمرانی کے بغیر کوئی نظام نہیں چل سکتا،ایک مقبول نمائندے کا عدالتی ٹرائل کے ذریعے قتل کیا گیا،چاہتے ہیں عدالت اس بات کو تسلیم کرے کہ فیصلے میں غلطی ہوئی ،ذوالفقار بھٹو نے ڈکٹیٹر سے سمجھوتہ کرنے سے منع کیا تھا،امید ہے لوگ بلاول بھٹو کی مفاہمت کی سیاست کو سمجھیں گے،آصف زرداری ایک بارپھر صدر کی کرسی پر بیٹھیں گے،پیپلزپارٹی کی حمایت پر تمام اتحادیوں کے شکرگزار ہیں.

    تاریخی غلطی کا ازالہ ممکن نہیں لیکن سنگین غلطی کے اعتراف سے ایک نئی روایت قائم ہوئی ،وزیراعظم
    وزیر اعظم شہباز شریف نےسابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو شفاف ٹرائل نہ ملنے کی سپریم کورٹ کی رائے پر بلاول بھٹو زرداری، نامزد صدر آصف علی زرداری، پی پی پی قیادت اور کارکنوں کو مبارک دی ہے، وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ تاریخی غلطی کا ازالہ ممکن نہیں لیکن سنگین غلطی کے اعتراف سے ایک نئی تاریخ ایک نئی روایت قائم ہوئی ہے. عدالت سے ہونے والی زیادتی کو عدالت کا درست کرنا مثبت پیش رفت ہے.بھٹو ریفرنس میں سپریم کورٹ کی متفقہ رائے قومی سطح پر تاریخ کو درست تناظر میں سمجھنے میں مددگار ہو گی. ماضی کی غلطیوں کی درستگی اور تلخیوں کے خاتمہ سے ہی قومی اتحاد اور ترقی کا عمل تیز ہوسکتا ہے.

    ذوالفقار علی بھٹو سے متعلق عدالتی ریفرنس پر سپریم کورٹ کی رائے پر پی ٹی آئی کا ردّعمل سامنے آیا ہے، ترجمان پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کے معاملے میں اس حقیقت تک پہنچتے پہنچتے کہ انہیں فیئر ٹرائل نہیں ملا سپریم کورٹ کو 50 سال لگ گئے،بانی پی ٹی آئی کو فیئر ٹرائل کے بنیادی دستوری حق کی دستیابی کیلئے کیا اب قوم کو مزید 50 سال انتظار کرنا ہوگا، ذوالفقار علی بھٹو کے معاملے میں عدالتی رائے صرف اسی صورت میں معنی خیز ہو سکتی ہے کہ عدالتِ عظمیٰ آج لاقانونیت کی راہ روکنے کیلئے پوری قوت سے بروئے کار آئے، فراہمی انصاف کا آفاقی اصول ہے کہ ”انصاف میں تاخیر انصاف کا قتل ہے“، بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ سمیت تحریک انصاف کے اسیر قائدین اور ہزاروں بے گناہ کارکنان کو قیدِ ناحق سے فوراً رہا کیا جائے اور فیئرٹرائلز کے ذریعے ان کے خلاف جھوٹے مقدمات کے فیصلے کئے جائیں،

    دعا کرتے ہیں کہ ایسی ناانصافی دوبارہ نہ ہو ،فاطمہ بھٹو کا صدارتی ریفرنس رائے پر ردعمل
    سابق وزیر اعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی و چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کی پوتی فاطمہ بھٹو نے بھٹو سزائے موت ریفرنس کیس میں عدالتی رائے پر ردعمل دیا ہے، سوشل میڈیا پر فاطمہ بھٹو کا کہنا تھا کہ آج سپریم کورٹ نے پاکستان کے پہلے جمہوری طور پر منتخب وزیر اعظم کے خلاف کی گئی تاریخی ناانصافی کا اعتراف کیا ہے، ہم عدالت کے متفقہ فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہیں، ہم دعا کرتے ہیں کہ ایسی ناانصافی دوبارہ نہ ہو تاکہ اس ملک کے شہری، یہ جان کر خود کو محفوظ سمجھیں، ملکی نظامِ انصاف میں تاخیرتو ممکن ہے لیکن پاکستان اور اس کے بچوں سے کبھی انصاف سے انکار نہیں کیا جائے گا،

    جس کیس میں بھٹو کو سزا دی گئی، اس ایف آئی آر میں نامزد ہی نہیں کیا گیا تھا،عدالتی معاون

    سپریم کورٹ میں ذوالفقار بھٹو کی پھانسی پر صدارتی ریفرنس کی سماعت جاری

    واضح رہے کہ سابق صدر آصف زرداری نے اپریل 2011 میں صدارتی ریفرنس سپریم کورٹ میں دائر کیا تھا، جس کے بعد ذوالفقار بھٹو سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سپریم کورٹ میں 6 سماعتیں ہوئیں، اس وقت سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اپنی سربراہی میں 11 رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا تھا جس نے 3 جنوری 2012 سے 12 نومبر 2012 تک کیس کی 6 سماعتیں کیں لیکن کوئی فیصلہ نہ دیا، صدارتی ریفرنس پر آخری سماعت 9 رکنی لارجر بینچ نے کی تھی، اب تقریباً 11 برس کے طویل عرصے بعد ریفرنس دوبارہ سماعت کے لیے مقرر کیا گیا تھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں بینچ نے سماعت مکمل کی ہے جس پر فیصلہ آج سنا دیا گیا

     پیپلز پارٹی نے 108 صفحات پر مشتمل تحریری جواب سپریم کورٹ میں جمع کروا دیا

    بھٹو صدارتی ریفرنس کی گزشتہ سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری 

    ہمارا بھٹو تو واپس نہیں آئے گا، ہمیں امید ہے غلط فیصلے کو غلط کہا جائے گا

    سپریم کورٹ کے ہاتھ 40 برسوں سے شہید ذوالفقار علی بھٹو کے لہو سے رنگے ہوئے

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

  • بھٹو صدارتی ریفرنس،سپریم کورٹ کل اپنی رائے سنائے گی

    بھٹو صدارتی ریفرنس،سپریم کورٹ کل اپنی رائے سنائے گی

    سپریم کورٹ بھٹو صدارتی ریفرنس پر اپنی رائے کل سنائے گی

    سپریم کورٹ نے رائے سنانے کیلئے تمام فریقین کو نوٹسز جاری کردئیے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی سربراہی میں 9 رکنی لارجر بینچ نے 4 مارچ کو صدارتی ریفرنس پر رائے محفوظ کی تھی،،جسٹس طارق مسعود، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس امین الدین، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس مسرت ہلالی لارجر بینچ کا حصہ تھے

    صدارتی ریفرنس کی سماعت کے دوران رضا ربانی نے دلائل دیئے،رضا ربانی نے کہا کہ بھٹو کیس کے وقت لاہور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ آئین کے تحت کام نہیں کر رہے تھے، اس وقت ملک میں مارشل لاء نافذ تھا، بنیادی انسانی حقوق معطل تھے، اس وقت استغاثہ جنرل ضیاء تھے، اس وقت اپوزیشن اور حکومت کے درمیان نئے الیکشن کے لیے معاملات طے ہو چکے تھے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا کوئی معاہدہ بھی ہو چکا تھا؟رضا ربانی نے کہا کہ معاہدے پر دستخط ہونے باقی تھے لیکن پھر مارشل لاء نافذ کر دیا گیا، 24 جولائی کو ایف ایس ایف کے انسپکٹرز کو گرفتار کیا گیا، 25 اور 26 جولائی کو ان کے اقبالِ جرم کے بیانات آ گئے، مارشل لاء دور میں زیرِ حراست ان افراد کے بیانات لیے گئے، اس وقت مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر، چیف جسٹس پاکستان، قائم مقام چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کا ٹرائی اینگل تھا، ذوالفقار علی بھٹو کی برییت سے تینوں کی جاب جا سکتی تھی،

    جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ رضا ربانی آپ کہہ سکتے ہیں کہ حسبہ بل میں عدالتی رائے بائنڈنگ تھی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ حسبہ بل میں کتنے جج صاحبان تھے؟جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حسبہ بل کے صدارتی ریفرنس میں بھی 9 جج صاحبان تھے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم بھی 9 ہی جج ہیں، کوئی اختلاف بھی کر سکتا ہے،رضا ربانی نے کہا کہ احمد رضا قصوری پر حملوں کے 1976 تک چھ مقدمات درج ہوئے کسی ایف آئی آر میں بھٹو کو نامزد نہیں کیا گیا،رضا ربانی نے کہا کہ اس وقت جج جج نہیں تھے، مختلف مارشل لاء ریگولیشن کے تحت کام کر رہے تھے، مارشل لاء ریگولیشن کے باعث ڈیو پراسس نہیں دیا گیا، بیگم نصرت بھٹو نے بھٹو کی نظر بندی کو چیلنج کیا تھا، اسی روز مارشل لاء ریگولیشن کے تحت چیف جسٹس یعقوب کو عہدے سے ہٹا دیا گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ رضا ربانی صاحب آپ کتنا وقت لیں گے؟ ہم نے آج سماعت مکمل کرنی ہے، جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ آپ ہمیں پھانسی کے بعد منظر عام پر آنے والے تعصب کے حقائق کی تفصیلات تحریری طور پر دے دیں

    رضا ربانی کے دلائل مکمل ہو گئے، آصفہ بھٹو، بختاور بھٹو اور صنم بھٹو کے وکیل رضا ربانی نے دلائل مکمل کر لیے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے استفسار کیا کہ کیا سپریم کورٹ صدارتی ریفرنس میں مختصر رائے بھی دے سکتی ہے؟عدالتی معاون رضا ربانی نے کہا کہ عدالت ایسا کر سکتی ہے، سپریم کورٹ مکمل انصاف کی فراہمی کیلئے آرٹیکل 187 کا استعمال کرسکتی ہے، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر ہم نے آرٹیکل 187کا استعمال کیا وہ رائے کے بجائے فیصلہ ہوجائے گا،

    جس کیس میں بھٹو کو سزا دی گئی، اس ایف آئی آر میں نامزد ہی نہیں کیا گیا تھا،عدالتی معاون

    سپریم کورٹ میں ذوالفقار بھٹو کی پھانسی پر صدارتی ریفرنس کی سماعت جاری

    واضح رہے کہ سابق صدر آصف زرداری نے اپریل 2011 میں صدارتی ریفرنس سپریم کورٹ میں دائر کیا تھا، جس کے بعد ذوالفقار بھٹو سے متعلق صدارتی ریفرنس پر اب تک سپریم کورٹ میں 6 سماعتیں ہوچکی ہیں، اس وقت سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اپنی سربراہی میں 11 رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا تھا جس نے 3 جنوری 2012 سے 12 نومبر 2012 تک کیس کی 6 سماعتیں کیں لیکن کوئی فیصلہ نہ دیا، صدارتی ریفرنس پر آخری سماعت 9 رکنی لارجر بینچ نے کی تھی، اب تقریباً 11 برس کے طویل عرصے بعد ریفرنس دوبارہ سماعت کے لیے مقرر کیا گیا تھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں بینچ نے سماعت مکمل کی ہے جس پر فیصلہ کل سنایا جائے گا

     پیپلز پارٹی نے 108 صفحات پر مشتمل تحریری جواب سپریم کورٹ میں جمع کروا دیا

    بھٹو صدارتی ریفرنس کی گزشتہ سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری 

    ہمارا بھٹو تو واپس نہیں آئے گا، ہمیں امید ہے غلط فیصلے کو غلط کہا جائے گا

    سپریم کورٹ کے ہاتھ 40 برسوں سے شہید ذوالفقار علی بھٹو کے لہو سے رنگے ہوئے

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

  • رمضان میں ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری سے گریز کریں،اسلامی نظریاتی کونسل

    رمضان میں ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری سے گریز کریں،اسلامی نظریاتی کونسل

    اسلامی نظریاتی کونسل کا236 واں اجلاس ہوا۔ اجلاس میں چیئرمین ڈاکٹر قبلہ ایاز سمیت ان 12 ممبران کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا، جن کی مدت رکنیت 18 اپریل 2024کو مکمل ہو رہی ہے۔ ان ممبران میں ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی، پیر ابو الحسن محمد شاہ، صاحب زادہ محمد حسان حسیب الرحمٰن، مولانا محمد حامد الحق حقانی، مولانا محمد حسین اکبر، مولانا ضیاء اللہ شاہ بخاری، پیر زادہ جنید امین، حافظ محمد طاہر اشرفی، مفتی محمد زبیر، سید محمد حبیب عرفانی اور مولانا نسیم علی شاہ صاحب شامل ہیں۔

    کونسل نے اپنے اجلاس میں قادیانیوں کے بارے میں سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کا جائزہ بھی لیا۔ یہ فیصلہ ریویو پٹیشن کے بعد اسلامی نظریاتی کونسل کو رائے کے لئے ارسال کیا گیا تھا۔ کونسل نے فیصلے کی ان شقوں کی نشان دہی کی، جن سے ابہامات پیدا ہوئے۔ کونسل نے فیصلے کو جامع بنانے کے لئے تجاویز پیش کیں، جو سپریم کورٹ کو پیش کی جائیں گی۔

    کونسل نے نگران وزیر اعظم جناب انوار الحق کاکڑ کے خط کے جواب میں حکومت کو تجویز دی کہ گلگت بلتستان میں امن و امان کو یقینی بنانے کے لئے ایک مؤثر علماء بورڈ تشکیل دیا جائے، جو مستقلاً کام جاری رکھے اور علاقے میں ہم آہنگی اور روداری کو فروغ دے، کیونکہ گلگت بلتستان حساس علاقہ ہے اور سی پیک کا روٹ ہے، اس وجہ سے اس علاقے کا امن و امان ہماری معیشت کی بہتری کے لئے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔

    کونسل نے تاجروں سے اپیل کی کہ رمضان شریف کے مقدس مہینے میں اسلامی روایت یعنی انفاق کو عام کریں، ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری سے گریز کریں۔

  • پرویز مشرف کیخلاف خصوصی عدالت کالعدم قرار دینے کے خلاف اپیل پر تفصیلی فیصلہ جاری

    پرویز مشرف کیخلاف خصوصی عدالت کالعدم قرار دینے کے خلاف اپیل پر تفصیلی فیصلہ جاری

    سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ ججز کو بادشاہوں کی طرح لامحدود اختیارات حاصل نہیں، قانون کی حدود میں رہ کر فیصلے کرتے ہیں

    سابق صدر پرویز مشرف (مرحوم) کے خلاف خصوصی عدالت کالعدم قرار دینے کے خلاف اپیل پر سپریم کورٹ نے اپنا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا۔ جسٹس منصور علی شاہ کے تحریر کردہ تفصیلی فیصلے میں سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کے خلاف خصوصی عدالت کالعدم قرار دینے کا لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ غیر آئینی قرار دے دیا،عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ خصوصی عدالت کو کالعدم قرار د ے کر لاہور ہائیکورٹ نے پورے عدالتی نظام کو نیچا دکھایا،مصطفیٰ ایکٹ کیس کے فیصلے کا اطلاق خصوصی عدالت پر نہیں کیا جا سکتا۔ خصوصی عدالت کی شق 9 کے تحت ملزم کا ٹرائل غیر حاضری میں بھی ہو سکتا ہے۔ ہائیکورٹ نے مشرف کو وہ ریلیف بھی دیا جو مانگا ہی نہیں گیا۔

    سپریم کورٹ کے فیصلے میں مزید کہا گیا کہ خصوصی عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل صرف سپریم کورٹ ہی میں ہو سکتی ہے۔ مشرف کے ٹرائل کیخلاف سپریم کورٹ سے 2 مرتبہ رجوع کیا گیا، ججوں کو بادشاہوں کی طرح لامحدود اختیار نہیں ہوتے بلکہ وہ قانون کی حدود میں رہ کر فیصلے کرتے ہیں۔ ججوں کو غیر متزلزل خود مختار صوابدیدی اختیار حاصل نہیں ہوتے بلکہ وہ قانون کے محافظ ہوتے ہیں۔ ججز کو چاہیے کہ وہ طے شدہ قانون اور اصول کے تحت فیصلے کریں۔ ججز کو ذاتی مفاد اور ذاتی خواہشات کے بجائے طے شدہ عدالتی نظائر اور قانون کے مطابق فیصلے کرنے چاہییں، لاہور ہائیکورٹ نے فیصلے میں کہا کیوں کہ مشرف نے پی سی او جی ایچ کیو راولپنڈی سے جاری کیا اس لیے لاہور ہائی کورٹ کیس سن سکتی ہے۔ سپریم کورٹ پی سی او کو غیر آئینی قرار دے چکی ہے۔ پرویز مشرف کیخلاف غداری کی شکایت اسلام آباد میں درج ہوئی.

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

    پرویز مشرف کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کے حوالہ سے کیس کی سماعت

    پرویز مشرف کی نااہلی کے خلاف دائر درخواست خارج

    عدالتی سوال ہے کہ ملزم کی وفات پر کیا اپیل غیر موثر نہیں ہوئی؟

  • سپریم کورٹ، بھٹو صدارتی ریفرنس ،سماعت مکمل ،فیصلہ محفوظ

    سپریم کورٹ، بھٹو صدارتی ریفرنس ،سماعت مکمل ،فیصلہ محفوظ

    سپریم کورٹ میں سابق وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو صدارتی ریفرنس کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 9 رکنی بینچ نےسماعت کی،جسٹس طارق مسعود، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس امین الدین، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس مسرت ہلالی لارجر بینچ کا حصہ ہیں۔

    صدارتی ریفرنس کی سماعت کے دوران رضا ربانی نے دلائل دیئے،رضا ربانی نے کہا کہ بھٹو کیس کے وقت لاہور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ آئین کے تحت کام نہیں کر رہے تھے، اس وقت ملک میں مارشل لاء نافذ تھا، بنیادی انسانی حقوق معطل تھے، اس وقت استغاثہ جنرل ضیاء تھے، اس وقت اپوزیشن اور حکومت کے درمیان نئے الیکشن کے لیے معاملات طے ہو چکے تھے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا کوئی معاہدہ بھی ہو چکا تھا؟رضا ربانی نے کہا کہ معاہدے پر دستخط ہونے باقی تھے لیکن پھر مارشل لاء نافذ کر دیا گیا، 24 جولائی کو ایف ایس ایف کے انسپکٹرز کو گرفتار کیا گیا، 25 اور 26 جولائی کو ان کے اقبالِ جرم کے بیانات آ گئے، مارشل لاء دور میں زیرِ حراست ان افراد کے بیانات لیے گئے، اس وقت مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر، چیف جسٹس پاکستان، قائم مقام چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کا ٹرائی اینگل تھا، ذوالفقار علی بھٹو کی برییت سے تینوں کی جاب جا سکتی تھی،

    جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ رضا ربانی آپ کہہ سکتے ہیں کہ حسبہ بل میں عدالتی رائے بائنڈنگ تھی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ حسبہ بل میں کتنے جج صاحبان تھے؟جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حسبہ بل کے صدارتی ریفرنس میں بھی 9 جج صاحبان تھے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم بھی 9 ہی جج ہیں، کوئی اختلاف بھی کر سکتا ہے،رضا ربانی نے کہا کہ احمد رضا قصوری پر حملوں کے 1976 تک چھ مقدمات درج ہوئے کسی ایف آئی آر میں بھٹو کو نامزد نہیں کیا گیا،رضا ربانی نے کہا کہ اس وقت جج جج نہیں تھے، مختلف مارشل لاء ریگولیشن کے تحت کام کر رہے تھے، مارشل لاء ریگولیشن کے باعث ڈیو پراسس نہیں دیا گیا، بیگم نصرت بھٹو نے بھٹو کی نظر بندی کو چیلنج کیا تھا، اسی روز مارشل لاء ریگولیشن کے تحت چیف جسٹس یعقوب کو عہدے سے ہٹا دیا گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ رضا ربانی صاحب آپ کتنا وقت لیں گے؟ ہم نے آج سماعت مکمل کرنی ہے، جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ آپ ہمیں پھانسی کے بعد منظر عام پر آنے والے تعصب کے حقائق کی تفصیلات تحریری طور پر دے دیں

    رضا ربانی کے دلائل مکمل ہو گئے، آصفہ بھٹو، بختاور بھٹو اور صنم بھٹو کے وکیل رضا ربانی نے دلائل مکمل کر لیے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے استفسار کیا کہ کیا سپریم کورٹ صدارتی ریفرنس میں مختصر رائے بھی دے سکتی ہے؟عدالتی معاون رضا ربانی نے کہا کہ عدالت ایسا کر سکتی ہے، سپریم کورٹ مکمل انصاف کی فراہمی کیلئے آرٹیکل 187 کا استعمال کرسکتی ہے، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر ہم نے آرٹیکل 187کا استعمال کیا وہ رائے کے بجائے فیصلہ ہوجائے گا،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم نے محمود مسعود کے بارے میں پوچھا تھا، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہم ریکارڈ ڈھونڈ رہے ہیں، نادرا کے پاس بھی پرانا ریکارڈ نہیں ہے، تین وزارتوں کو ہم نے ریکارڈ کے حصول کیلئے لکھا ہے،بھٹو کیس میں پرائیویٹ کمپلینٹ 1977 میں دائر کی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ قتل 1974 کا تھا آپ نے اتنا وقت کیوں لیا؟ احمد رضا قصوری نے کہا کہ پہلے کیس بند ہوگیا تھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیس بھی کافی پہلے بند ہوا آپ تبھی کیوں نہیں گئے کہ ناانصافی ہوگئی، آپ نے تین سال کیوں لیے تھے اس کا جواب کیا ہوگا؟ احمد رضا قصوری نے کہا کہ اس وقت زوالفقار علی بھٹو وزیراعظم تھے صورتحال ہی ایسی تھی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کے اور کتنے بہن بھائی موجود تھے 1974 میں؟ احمد رضا قصوری نے کہا کہ ہم چھ بھائی ہیں کوئی بہن نہیں ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کا ایک اچھی اثر رسوخ ،تعلقات اور وسائل والا خاندان تھا، آپ جیسا بااثر خاندان کیسے کمپلینٹ فائل کرنے میں اثر لیتا رہا؟جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ نے انکوائری بند ہونے کا آرڈر بھی چیلنج نہیں کیا تھا،

    ذوالفقار علی بھٹو صدارتی ریفرنس پر کارروائی مکمل،سپریم کورٹ نے رائے محفوظ کر لی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آج نہیں، مگر کسی روز دوبارہ شاید اپنا فیصلہ سنانے بیٹھیں،

    جس کیس میں بھٹو کو سزا دی گئی، اس ایف آئی آر میں نامزد ہی نہیں کیا گیا تھا،عدالتی معاون

    سپریم کورٹ میں ذوالفقار بھٹو کی پھانسی پر صدارتی ریفرنس کی سماعت جاری

    واضح رہے کہ سابق صدر آصف زرداری نے اپریل 2011 میں صدارتی ریفرنس سپریم کورٹ میں دائر کیا تھا، جس کے بعد ذوالفقار بھٹو سے متعلق صدارتی ریفرنس پر اب تک سپریم کورٹ میں 6 سماعتیں ہوچکی ہیں، اس وقت سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اپنی سربراہی میں 11 رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا تھا جس نے 3 جنوری 2012 سے 12 نومبر 2012 تک کیس کی 6 سماعتیں کیں لیکن کوئی فیصلہ نہ دیا، صدارتی ریفرنس پر آخری سماعت 9 رکنی لارجر بینچ نے کی تھی، اب تقریباً 11 برس کے طویل عرصے بعد ریفرنس دوبارہ سماعت کے لیے مقرر کیا گیا

     پیپلز پارٹی نے 108 صفحات پر مشتمل تحریری جواب سپریم کورٹ میں جمع کروا دیا

    بھٹو صدارتی ریفرنس کی گزشتہ سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری 

    ہمارا بھٹو تو واپس نہیں آئے گا، ہمیں امید ہے غلط فیصلے کو غلط کہا جائے گا

    سپریم کورٹ کے ہاتھ 40 برسوں سے شہید ذوالفقار علی بھٹو کے لہو سے رنگے ہوئے

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

  • سپریم کورٹ نے سی ڈی اے کو شہتوت کے درخت کاٹنے کی اجازت دے دی

    سپریم کورٹ نے سی ڈی اے کو شہتوت کے درخت کاٹنے کی اجازت دے دی

    سپریم کورٹ، ایف نائن پارک میں درختوں کی کٹائی پر ازخود نوٹس کی سماعت ہوئی

    عدالت نے سی ڈی اے کو شہتوت کے درخت کاٹنے کی اجازت دے دی، عدالت نے حکم دیا کہ شہتوت کے درختوں کی کٹائی کے وقت سی ڈی اے کا عملہ موجودگی یقینی بنائے، یقینی بنایا جائے کہ شہتوت کے علاوہ کوئی اور درخت نہ کاٹا جائے، عدالت نے فریقین سے بطور مبصر تعیناتی کیلئے ماہرین کے نام اور تجاویز تین دن میں طلب کر لیں،

    سی ڈی اے حکام نے عدالت میں کہا کہ ایف نائن پارک میں شہتوت کے درخت کاٹے گئے ہیں،پولن الرجی کے پھیلاؤ کی وجہ سے شہتوت کے درخت کاٹے جا رہے ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کاٹے گئے درختوں کی لکڑی کہاں ہے؟ سی ڈی اے حکام نے کہا کہ لکڑی ٹھیکیدار لے کر جاتا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے استفسار کیا کہ سی ڈی اے کے شعبہ ماحولیات میں کتنا عملہ ہے؟ ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل ماحولیات عرفان عظیم نے کہا کہ سی ڈی اے کے پاس 4500 مالی اور افسران ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ شہتوت کی درخت اتنے ہی برے ہیں تو لگائے ہی کیوں گئے؟ سی ڈی اے حکام نے کہا کہ اسلام آباد کے قیام کے وقت چائنہ سے شہتوت کا بیج لاکر جہاز سے شہر میں پھینکا گیا تھا، شہتوت کی جگہ ماحول دوست درخت لگائے جا رہے ہیں،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ واک کرتے ہوئے کچھ سوکھے تنے اکھاڑ کر نیا درخت لگانا چاہتا تھا، مجھے بتایا گیا کہ یہ کام صرف سی ڈی اے کر سکتا ہے آپ نہیں،جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چائنہ نے ہمیں مضر صحت بیج دے دیا تو کیا وہاں الرجی نہیں ہوتی؟ماہر ماحولیات رضا بھٹی نے کہا کہ چائنہ میں شہتوت کنٹرولڈ ماحول میں لگایا گیا ہے عوامی مقامات پر نہیں،عدالت نے مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی

    سپریم کورٹ نے سی ڈی اے کو آئندہ سماعت تک درختوں کی کٹائی سے روک دیا

    کمشنر راولپنڈی کے دھاندلی کے الزامات، سیاسی جماعتوں کا ردعمل

    خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی نہیں یہودی لابی کی جیت ہوئی،عائشہ گلالئی

    ہاں ،ہم سے دھاندلی کروائی گئی،کمشنر پنڈی مستعفی،سب بے نقاب کر دیا

    مریم نواز کو وزیراعلی کا پروٹوکول مل گیا

    امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا استعفی مسترد

    مولانا جذبات میں بہہ گئے، بڑا اعتراف،سیاسی کھیل فیصلہ کن مرحلے میں داخل

    پی ٹی آئی والے کم ازکم علما کے قدموں میں تو بیٹھ گئے،کیپٹن ر صفدر

  • سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس،مظاہر نقوی کیخلاف گواہوں کے بیان ریکارڈ

    سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس،مظاہر نقوی کیخلاف گواہوں کے بیان ریکارڈ

    چیئرمین سپریم جوڈیشل کونسل جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی زیر صدارت جوڈیشل کونسل کا اجلاس ہوا۔
    اجلاس میں نجی بینک کے منیجر نے پانچ پانچ کروڑ روپے مالیت کے بینک ڈرافٹ کا ریکارڈ کونسل میں پیش کردیا، کونسل کی کارروائی میں گواہ چودھری شہباز کو بھی پیش کیا گیا، کونسل کے اراکین نے گواہ سے سوال کیا کہ آپ کی مرحوم اہلیہ بسمہ وارثی کا کوئی کیس مظاہر نقوی کی عدالت میں کبھی زیر سماعت رہا؟ اس پر چودھری شہباز نے کہا کہ بطور جج لاہور ہائی کورٹ مظاہر نقوی کی عدالت میں میری اہلیہ کا چیک ڈس آنر کا کیس چلتا رہا،کیپیٹل سمارٹ سٹی اور لاہور سمارٹ سٹی کے مالک زاہد رفیق نے حلف پر اپنا بیان ریکارڈ کرایا اور کہا کہ میری آٹھ کمپنیاں ہیں، گزشتہ چار دہائیوں سے تعمیرات کے شعبے سے وابستہ ہوں، لینڈ پروائیڈر راجہ صفدر کے ذریعے مظاہر نقوی سے ملاقات ہوئی۔ کونسل نے ادائیگی سے متعلق سوال کیا تو زاہد توفیق نے بتایا کہ ہم نے ادائیگی راجہ صفدر کو کی،مظاہر نقوی سے ملاقاتوں کے سوال پر زاہد توفیق نے کہا کہ دو بار مظاہر نقوی کے گھر جاکر ان سے ملاقات کی، مظاہر نقوی کے دونوں بیٹوں کو جانتا ہوں، ہماری کمپنی نے ماہانہ ڈیڑھ لاکھ روپے مظاہر نقوی کے بیٹوں کی لاء فرم کو ادا کئے، مظاہر نقوی کی صاحب زادی کو ایمرجنسی میں لندن میں پیسوں کی ضرورت تھی جس پر راجہ صفدر نے مجھے ادائیگی کرنے کا کہا، میں نے دبئی میں اپنے ایک دوست کے ذریعے مظاہر نقوی کی بیٹی کو پانچ ہزار پاونڈز لندن بھجوائے، لندن بھیجی گئی پانچ ہزار پاونڈز کی رقم ہمیں واپس نہیں کی گئی۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کیا راجہ صفدر نے کبھی کسی اور جج سے آپ کی ملاقات کرائی؟ جس پر زاہد توفیق نے انکار کیا اور کہا کہ 16 اپریل 2019ءکو پانچ سو مربع گز کے دو پلاٹس مظاہر نقوی کے دونوں بیٹوں کو دیے، فی پلاٹ کی مالیت 54 لاکھ روپے تھی، صرف دس فیصد رقم ادا ہوئی، دونوں پلاٹس مظاہر نقوی کے دونوں بیٹوں کو ٹرانسفر ہو چکے ہیں۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صدقہ تو اپنی جیب سے دیا جاتا ہے راجہ صفدر دوسروں کی جیب سے پیسے نکال کر صدقہ کیوں بانٹتا تھا؟ زاہد توفیق نے بتایا کہ ہم دوستوں کو فائدہ دیتے رہتے ہیں، سمارٹ سٹی لاہور میں سو مربع گز کے دو کمرشل پلاٹس مظاہر نقوی کے دونوں بیٹوں کو دیے، فی پلاٹ کی مالیت 80لاکھ روپے تھی، مظاہر نقوی کے بیٹوں نے دونوں کمرشل پلاٹس بیچ دیے اور کتنے میں بیچے؟ علم نہیں، مظاہر نقوی کے ایک بیٹے کی شادی میں شرکت کی تھی،پراسیکیوٹر عامر رحمان نے کہا کہ الائیڈ پلازا کے بارے میں مظاہر نقوی کے خلاف ریکارڈ سے کچھ ثابت نہیں ہوا۔چیئرمین جوڈیشل کونسل قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ مظاہر نقوی صاحب چاہیں تو اپنے وکیل کے ذریعے گواہان پر جرح کر سکتے ہیں یہ بات آج دوبارہ کہہ رہے ہیں،اگر کوئی پیش نہ ہوا تو یہ سمجھا جائے گا، دفاع کیلئے کچھ ہے ہی نہیں،کونسل نے اجلاس کی کارروائی کل تک ملتوی کردی اور زاہد توفیق کو ہدایت دی کہ وہ کل متعلقہ دستاویزات پیش کریں

    واضح رہے کہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سپریم کورٹ کے جج جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کا استعفیٰ منظور کر لیا, جسٹس مظاہر نقوی نے گزشتہ روز استعفیٰ دیا تھا جو صدر مملکت نے منظور کر لیا تھا،

    جسٹس مظاہر نقوی پر الزام ہے کہ انہوں نے بطور سپریم کورٹ جج اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے اپنی آمدن سے زیادہ مہنگی لاہور میں جائیدادیں خریدی ہیں لہذا سپریم جوڈیشل کونسل اس کو فروخت کرے اور اعلیٰ عدلیہ کے جج کے خلاف کارروائی کرے۔

    یاد رہے کہ ملک کی بار کونسلز نے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کی آڈیو لیک کے معاملے پر سپریم کورٹ کے جج مظاہر نقوی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرنے کا اعلان کیا تھا۔ جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف بلوچستان بار کونسل سمیت دیگر نے ریفرنسز دائر کر رکھے ہیں۔

    ریفرنس میں معزز جج کے عدالتی عہدے کے ناجائز استعمال کی بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں جبکہ معزز جج کے کاروباری، بااثر شخصیات کے ساتھ تعلقات بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ ریفرنس میں معزز جج کےعمران خان اور پرویز الہیٰ وغیرہ کے ساتھ بالواسطہ اور بلاواسطہ خفیہ قریبی تعلقات کی بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔

    جسٹس مظاہر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل پر اٹھائے اعتراضات

    ہائیکورٹ نے کیس نمٹا کرتعصب کا مظاہرہ کیا،عمران خان کی سپریم کورٹ میں درخواست

    جسٹس مظاہر نقوی نے جوڈیشل کونسل کے جاری کردہ دونوں شوکاز نوٹس چیلنج کردیئے

    ،اگر کوئی جج سپریم کورٹ کی ساکھ تباہ کر کے استعفی دے جائے تو کیا اس سے خطرہ ہمیں نہیں ہوگا؟

  • عارف علوی پرعہدہ چھوڑنے کے بعد مقدمات بنیں گے،بلاول

    عارف علوی پرعہدہ چھوڑنے کے بعد مقدمات بنیں گے،بلاول

    چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس ادارے پر کوئی داغ لگا ہو وہ دھونا چائیے ،

    بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ کوئی مضبوط فیصلہ دیا جائے ،وکلاء یہ ثابت کر رہے ہیں کہ ذولفقار علی بھٹو کا قتل ٹھیک نہیں تھا،آئین قانون اور فیکٹس پر بات ہو رہی ہے، ہم چاہتے ہیں کہ تمام ادارے اپنے دائرے میں رہ کر کام کریں سب سے پہلے اس ملک کے سیاستدان کو فیصلہ کرنا ہو گا،آصف زرداری کو صدر مملکت منتخب کرائیں گے،میں حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں، سنی اتحاد کونسل نے ہم سے بات کرنے سے انکار کیا،سنی اتحاد کونسل کے شکر گزار ہیں مریم نواز اور مراد علی شاہ کو بلا مقابلہ وزیر اعلی بنوا چکے، مجھے بھی ابھی تک راضی کرنے کی کوشش تک نہیں کی کہ میں شہباز شریف کو وزیراعظم کا ووٹ نہ دوں، بس پھر آپ بھی خوش رہیں میں بھی خوش رہتا ہوں

    سب سے زیادہ غلطیاں اس شخص نے کیں جو آج اڈیالہ میں ہے،بلاول
    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ سیاستدانوں کو ایک دوسرے کی عزت کرنی ہو گی،اگر صدر عارف علوی اپنی آئینی ذمہ داری پوری نہیں کریں گے تو سپیکر اپنی ذمہ داری پوری کریں گے،عارف علوی پرعہدہ چھوڑنے کے بعد مقدمات بنیں گے،پہلا مقدمہ آئین توڑنے کا بنے گا، پاکستان پیپلز پارٹی صرف اپنے بارے میں نہیں سوچتی ،ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم اپنے ممبر لے کر اسمبلی میں بیٹھیں گے،اگر ہم یہ کہتے کہ ہم ان کے ساتھ نہیں بیٹھیں گے تو اس کا نتیجہ کیا ہوتا ،پی ٹی آئی کا مسئلہ یہ ہے کہ یہ اپنی غلطی نہیں مانتے ، سب سے زیادہ غلطیاں اس شخص نے کیں جو آج اڈیالہ میں ہے،آج جو شخص اڈیالہ جیل میں ہے، اگر وہ اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنے کےلئے تیار نہیں تو زرداری نے جومفاہمت کی بات کی ہے وہ کیسے ہو گی، تحریک انصاف اپنی غلطیاں ماننے کو تیار ہی نہیں،

    بلاول بھٹو کا اپنے خلاف دھاندلی کا الزام لگانے والوں کے خلاف قانونی کاروائی کا فیصلہ

    میں وزیراعظم کا امیدوار نہیں،کابینہ کا حصہ نہیں البتہ وزیراعظم کوووٹ دیں گے، بلاول

    نومئی جیسا واقعہ دوہرانے کی تیاری، سخت ایکشن ہو گا، محسن نقوی کی وارننگ

    آر او کے دفاتر میں دھاندلی کی گئی، پولیس افسران معاون تھے،سلمان اکرم راجہ

    دادا کی پوتی کے نام پر ووٹ مانگنے والے ماہابخاری کا پورا خاندان ہار گیا

    پی ٹی آئی کو مرکز اور دو صوبوں میں موقع نہ دیا گیا تو حکومت نہیں چل سکتی،بابر اعوان