Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • سپریم کورٹ، نومئی کے ملزمان کی درخواست ضمانت پر سماعت ملتوی

    سپریم کورٹ، نومئی کے ملزمان کی درخواست ضمانت پر سماعت ملتوی

    سپریم کورٹ، نو مئی کے 6 ملزمان کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے پنجاب حکومت کو نوٹس جاری کردیا،عدالت نے آئندہ سماعت پر کیس کا ریکارڈ بھی طلب کر لیا،جسٹس جمال مندوخیل کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی، جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملزمان نے املاک کو کیا نقصان پہنچایا، کیا ملزمان سے اسلحہ برآمد ہوا، ملزمان پر کیا دفعات لگائی گئی ہیں،وکیل ملزمان نے کہا کہ تعزیرات پاکستان کی جتنی شقیں ہیں ساری لگا دی گئی ہیں،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ انسداد دہشت گردی کی دفعات بھی کیا لگائی گئی ہیں،وکیل ملزمان نے کہا کہ جی وہ دفعات بھی شامل کی گئی ہیں، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ واقعہ نو مئی کا ہے لیکن ایف آئی آر دس مئی کو درج ہوئی،وکیل ملزمان نے کہا کہ ملزمان کسی سیاسی جماعت کے عہدیدار نہیں بلکہ دکاندار ہیں

    جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج سے شناخت کرکے ملزمان کو پکڑا گیا، کیا ملزمان سے انکے موبائل فونز برآمد کیے گئے، وکیل ملزما ن نے کہا کہ عدالت نوٹس کرکے مکمل ریکارڈ منگوا لے،عدالت نے مزید سماعت غیر معینہ مدت تک کیلئے ملتوی کردی

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    ججز کی خالی آسامیوں پر تقرری کیلئے رولز میں ترامیم پر غور کررہے ہیں،چیف جسٹس

    میرے لیے قانون میں خصوصی رعایت ملنا باعثِ شرم ہے،چیف جسٹس

    میرے فیصلہ کیخلاف نظر ثانی دائر ہو تو خوش ہوتا ہوں،چیف جسٹس

    واضح رہے کہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کارکنان نے فوجی تنصیبات پر ملک بھر میں حملے کئے تھے، شرپسند عناصر کو گرفتار کیا جا چکا ہے، گرفتار افراد کا کہنا ہے منظم منصوبہ بندی کے تحت حملے کئے گئے، شرپسند افراد نے ویڈیو بیان بھی جاری کئے ہیں جس میں انہوں نے اعتراف کیا کہ یہ سب منصوبہ بندی کے تحت ہوا، پی ٹی آئی رہنما بھی گرفتار ہیں تو اس واقعہ کے بعد کئی رہنما پارٹی چھوڑ چکے ہیں.

     سانحہ نو مئی کے چھے مقدمات میں اہم پیشرفت

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    سانحہ نو مئی نائن زیرو، بلاول ہاؤس یا رائے ونڈ سے پلان ہوتا تو پھر ردعمل کیا ہوتا؟ بلاول بھٹوزرداری

    یہ لوگ منصوبہ کرچکے ہیں نو مئی کا واقعہ دوبارہ کروایا جائے

  • سپریم کورٹ میں موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے اقدامات پر سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری

    سپریم کورٹ میں موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے اقدامات پر سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری

    اسلام آباد: سپریم کورٹ نے وفاق اور صوبوں سے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنےکے اقدامات پر سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا-

    باغی ٹی وی : سپریم کورٹ میں موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے اتھارٹی قائم نہ کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی، جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا۔

    تحریری حکم نامے میں کہا گیا ہےکہ پاکستان دنیا کا پانچواں موسمیاتی تبدیلی کے خطرے سے دوچار ملک ہے، موسمیاتی تبدیلی کے باعث ممکنہ تباہی کے ممالک میں پاکستان کا 23 واں نمبر ہے، موسمیاتی تبدیلی کے باعث سیلاب اور زلزلے طوفانی بارشوں جیسے ممکنہ تباہی کے مسائل ہو سکتے ہیں، 2022 میں موسمیاتی تبدیلی اور سیلاب کی تباہی سے پاکستان کو 14.9 ارب ڈالرز کا نقصان ہوا۔

    بیوی کو قتل کر کے سالی سے شادی کرنے والا شخص 38 سال بعد پٔکڑاگیا

    سپریم کورٹ نے وفاق اور صوبائی حکومتوں سے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے اقدامات اور چیلنجز پر جوابات طلب کرلیا، عدالت نے ایس ڈی پی آئی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور ڈبلیو ڈبلیو ایف کے سی ای او حماد نقی خان سے معاونت بھی طلب کی ہے، عدالت نے اٹارنی جنرل، چاروں صوبائی ایڈووکیٹ جنرلز کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت21 مارچ تک ملتوی کردی۔

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج کاروبار کا مثبت دن رہا

  • یہ کس قسم کے آئی جی ہیں؟ان کو ہٹا دیا جانا چاہئے،چیف جسٹس برہم

    یہ کس قسم کے آئی جی ہیں؟ان کو ہٹا دیا جانا چاہئے،چیف جسٹس برہم

    سپریم کورٹ میں صحافیوں کو ایف آئی اے نوٹسز اور ہراساں کئے جانے کیخلاف کیس کی سماعت ہوئی،

    صحافیوں پر حملے کے مقدمات میں آئی جی کی غیرتسلی بخش کارکردگی رہی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے آئی جی اسلام آباد پر شدید برہمی کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ ایک کرائم کی ریکارڈنگ موجود ہے ان ملزمان کا سراغ نہیں لگا سکے؟اٹارنی جنرل صاحب،یہ کس قسم کے آئی جی ہیں؟ان کو ہٹا دیا جانا چاہئے،چار سال ہو گئے اور آپ کو کتنا وقت چاہئے؟کیا آپ کو 4صدیاں چاہئیں؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے آئی جی اسلام آباد سے کہا کہ پورا ملک آپ کی کارکردگی دیکھ رہا ہے، آپ کے رویے سے لگتا ہے کہ آپ سہولت کاری کر رہے ہیں، کسی صحافی کو گولی مار دو، کسی پر تشدد کرو، کسی کو اٹھا لو، سیف سٹی کیمرے خراب ہو جاتے ہیں

    دوران سماعت سپریم کورٹ میں اسد علی طور کی گرفتاری کا تذکرہ بھی ہوا،بیرسٹر صلاح الدین نے عدالت کو بتایا اسد علی طور اس وقت جیل میں ہیں تو چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا "وہ جیل میں کیوں ہیں؟” وکیل نے بتایا ان پر اعلیٰ حکومتی شخصیات کا وقار مجروح کرنے کا الزام ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسد طور پر جو دفعات لگائی گئیں وہ کیسے بنتی ہیں؟ کیا ہم نے صحافیوں کیخلاف کوئی شکایت کی تھی؟ججوں کا نام لیکر آپ نے نوٹس بھیج دیئے؟ہمارا کندھا استعمال کر کے کام اپنا نکال رہے ہیں؟

    کیا ہم اب عدلیہ کو بدنام کرنے پر ایف آئی اے کے خلاف کارروائی کروا سکتے ہیں؟چیف جسٹس
    بیرسٹر صلاح الدین نے استدعا کی کہ صحافیوں کے خلاف مقدمات کے اندراج سے پہلے ہی جے آئی ٹی قائم کی گئی، اس جے آئی ٹی کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیا جائے، جے آئی ٹی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار شامل ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیوں ناں ایف آئی اے کو توہینِ عدالت کا نوٹس دیں، سپریم کورٹ کے کسی جج نے ایف آئی اے کو شکایت کی نہ رجسٹرار نے، سپریم کورٹ کا نام استعمال کر کے تاثر دیا گیا جیسے عدلیہ کے کہنے پر کارروائی ہوئی، اس طرح تو عوام میں عدلیہ کا امیج خراب ہو گا، کیا ہم اب عدلیہ کو بدنام کرنے پر ایف آئی اے کے خلاف کارروائی کروا سکتے ہیں؟ ایف آئی اے کے متعلقہ افسر خود عدلیہ کی بد نامی کا باعث بن رہے ہیں،

    چیف جسٹس اور ریاستی اداروں کے خلاف غلط معلومات کی تشہیر، ایف آئی اے حرکت میں آ گئی

    طلال چوہدری ،عائشہ رجب علی کو ٹکٹ نہ ملنے پر "تنظیم سازی” سوشل میڈیا پر زیر بحث

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    سوشل میڈیا پر فوج مخالف پروپیگنڈہ کےخلاف سینیٹ میں قراردادمنظور

    سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد کی تشہیر،یورپی ممالک سے 40 پاکستانی ڈی پورٹ

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

  • اسلامی تعلیمات کا غلط مفہوم لیتے ہوئے خواتین کو تعلیم سے محروم رکھا گیا،چیف جسٹس

    اسلامی تعلیمات کا غلط مفہوم لیتے ہوئے خواتین کو تعلیم سے محروم رکھا گیا،چیف جسٹس

    جوڈیشل اکیڈمی، خواتین کے عالمی دن کے موقع پر عدلیہ میں خواتین کے کردار پر تقریب سےخطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ ہم ایک اسلامی معاشرےمیں رہتےہیں

    چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کا کہنا تھا کہ اقتداراعلیٰ کااختیاراللہ تعالیٰ کےپاس ہے،اسلام میں خواتین کو بہت اہمیت دی گئی ہے،اسلام میں خواتین کوتمام بنیادی حقوق دیئے گئے ہیں،ہمارے دین میں خواتین کا بہت احترام ہے،آئین کےمنافی کوئی قانون سازی نہیں ہونی چاہیے،اسلامی تعلیمات کا غلط مفہوم لیتے ہوئے خواتین کو تعلیم سے محروم رکھا گیا، اسلام نے خواتین کو اعلی مرتبے پر فائز کیا ہے، حدیث ہے کہ جنت ماں کے قدموں تلے ہے

    عدلیہ میں خواتین کی شرح پچاس فیصد ہونی چاہیے، جسٹس منصور علی شاہ
    جوڈیشل اکیڈمی، خواتین کے عالمی دن کے موقع پر عدلیہ میں خواتین کے کردار پر تقریب سے جسٹس منصور علی شاہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خواتین آگے بڑھتی ہیں تو معاشرہ آگے بڑھتا ہے،خواتین کی ترقی معاشرے کی ترقی ہے، خواتین کے حقوق بھی برابر ہیں، معاشرے کی بیداری کیلئے خواتین کی بیداری ضروری ہے، عدلیہ میں خواتین کی شرح پچاس فیصد ہونی چاہیے،خیبر پختونخواہ کی ماتحت عدلیہ میں خواتین ججز کی تعداد 30 فیصد ہے، سپریم کورٹ میں خواتین ججز کی تعداد 2 ہے ،بلوچستان ہائیکورٹ مین کوئی خاتون جج نہیں ،ہمیں عدلیہ میں خواتین تعداد بڑھانا ہوگا ،

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    ججز کی خالی آسامیوں پر تقرری کیلئے رولز میں ترامیم پر غور کررہے ہیں،چیف جسٹس

    میرے لیے قانون میں خصوصی رعایت ملنا باعثِ شرم ہے،چیف جسٹس

    میرے فیصلہ کیخلاف نظر ثانی دائر ہو تو خوش ہوتا ہوں،چیف جسٹس

    انتخابا ت کالعدم کرنے کی درخواست واپس، درخواست گزار کو پیش کریں ،چیف جسٹس

    الزام لگانا حق ،ثبوت بھی پیش کر دیں، چیف جسٹس کا کمشنر کے الزامات پر ردعمل

    سپریم کورٹ، وکیل کی چیف جسٹس سے تلخ کلامی،وکیل کو روسٹرم سے ہٹا دیا گیا

    تنقید کی بناء پر صحافیوں کو جاری نوٹس فوری واپس لیےجائیں،چیف جسٹس کا حکم

    چیف جسٹس اور ریاستی اداروں کے خلاف غلط معلومات کی تشہیر، ایف آئی اے حرکت میں آ گئی

  • ججز کی خالی آسامیوں پر تقرری کیلئے رولز میں ترامیم پر غور کررہے ہیں،چیف جسٹس

    ججز کی خالی آسامیوں پر تقرری کیلئے رولز میں ترامیم پر غور کررہے ہیں،چیف جسٹس

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ کے ایک فیصلے سے الیکشن پھر ڈی ریل ہو سکتے تھے

    سپریم کورٹ کے جسٹس سردار طارق مسعود کی ریٹائرمنٹ پر فل کورٹ کا انعقاد کیا گیا ،تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ جسٹس سردار طارق مسعود کی عدالت زیادہ فیصلے سنانے کیلئے مشہور ہے ،جسٹس سردار طارق کہتے تھے 40سے 50 کیس میری عدالت میں لگا دیں،سپریم کورٹ میں ججز کی خالی آسامیوں پر تقرری کیلئے رولز میں ترامیم پر غور کررہے ہیں۔

    "ابھی نہ جائو چھوڑ کر کہ دل ابھی بھرا نہیں”چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جسٹس سردار طارق مسعود کی ریٹائرمنٹ کے موقع پر فل کورٹ ریفرنس میں گانے کے بول گا دیئے۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ فوجی عدالتوں میں انٹرا کورٹ اپیلوں میں میری رائے میں جسٹس طارق پر غیر ضروری اعتراض کیا گیا، جسٹس سردار طارق مسعود نے فوجی عدالتوں کے معاملے پر اپنے نوٹ میں کوئی رائے نہیں دی تھی، جسٹس سردار طارق مسعود نے اعتراض ہونے پر بینچ میں بیٹھنے سے انکار کیا،جسٹس سردار طارق مسعود نے پریکٹس پروسیجر کمیٹی میں بڑا اہم کردار ادا کیا،جسٹس سردار طارق مسعود کا پس منظر میں بھی ایک کردار ہے، وہ لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس بننے کے حقدار تھے، جسٹس سردار طارق مسعود کو چیف جسٹس نہ بنا کر صوبے کا نقصان ہوا، اس کا فائدہ سپریم کورٹ کو ہوا کیونکہ یہ سپریم کورٹ آگئے ،بطورجج میرےخلاف ریفرنس لایا گیا، میرےخلاف ریفرنس بےبنیاد ثابت ہوا، ریفرنس درست ہوتا تو جسٹس سردارطارق چیف جسٹس پاکستان ہوتے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ لاہور ہائیکورٹ کے ایک فیصلے سے الیکشن پھر ڈی ریل ہو سکتے تھے، ہم نے چھٹیوں پر جانے سے پہلے رات کو بیٹھ کر اس آرڈر کے خلاف کیس سنا، ہم تب وہ کیس تین سینئر ججز پر مشتمل بینچ بنا کر سننا چاہتے تھے، جسٹس اعجاز الاحسن نے بیٹھنے سے انکار کردیا تھا، ہم نے ان کے بعد دوسرے سینئر جج کو ساتھ بٹھایا اور رات 12 بجے فیصلہ سنایا، ایسا نہ ہوتا تو صدر پاکستان اور الیکشن کمیشن کی دی تاریخ پر الیکشن ڈیل ریل ہوسکتے تھے،

    عدلیہ کی آزادی میں جج کا تمام طاقتور حلقوں سے بلاخوف ہونا بھی شامل ہے،جسٹس سردار طارق مسعود
    جسٹس سردار طارق مسعود نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کو بہت اصول پسند پایا،قاضی فائز عیسی کو کبھی اپنے اصولوں سے پیچھے ہٹتا نہیں دیکھا،فراہمی انصاف کییےتمام ججز کی سپورٹ پر انکا شکرگزار ہوں،مکمل اطمینان کیساتھ یہاں سے جا رہا ہوں،میں نے چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کو اصول پسند پایا ہے، جب ان پر ریفرنس دائر ہوا تو ساتھی ججز سے پوچھتا تھا کہ کیا کوئی شخص قاضی صاحب کی معاشی یا اخلاقی جانبداری پر سوال اٹھا سکتا ہے؟ تو جواب نفی میں ملتا تھا یہی وجہ ہے کہ اللہ نے ان کو سرخرو کیا،عدلیہ کی آزادی میں جج کا تمام طاقتور حلقوں سے بلاخوف ہونا بھی شامل ہے، جج کی تعیناتی مدت ملازمت طاقتور حلقوں کی قبولیت پر منحصر ہو گی تو عدلیہ کی آزادی بے معانی جملہ بن کر رہ جائیگی،

    میرے لیے قانون میں خصوصی رعایت ملنا باعثِ شرم ہے،چیف جسٹس

    میرے فیصلہ کیخلاف نظر ثانی دائر ہو تو خوش ہوتا ہوں،چیف جسٹس

    انتخابا ت کالعدم کرنے کی درخواست واپس، درخواست گزار کو پیش کریں ،چیف جسٹس

    الزام لگانا حق ،ثبوت بھی پیش کر دیں، چیف جسٹس کا کمشنر کے الزامات پر ردعمل

    سپریم کورٹ، وکیل کی چیف جسٹس سے تلخ کلامی،وکیل کو روسٹرم سے ہٹا دیا گیا

    تنقید کی بناء پر صحافیوں کو جاری نوٹس فوری واپس لیےجائیں،چیف جسٹس کا حکم

    چیف جسٹس اور ریاستی اداروں کے خلاف غلط معلومات کی تشہیر، ایف آئی اے حرکت میں آ گئی

    طلال چوہدری ،عائشہ رجب علی کو ٹکٹ نہ ملنے پر "تنظیم سازی” سوشل میڈیا پر زیر بحث

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    سوشل میڈیا پر فوج مخالف پروپیگنڈہ کےخلاف سینیٹ میں قراردادمنظور

    سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد کی تشہیر،یورپی ممالک سے 40 پاکستانی ڈی پورٹ

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

  • بھٹو کیس اور انصاف میں تاخیر

    بھٹو کیس اور انصاف میں تاخیر

    ذوالفقار علی بھٹو کو چار دہائیاں قبل پھانسی دی گئی تھی، بارہ برس قبل اس وقت کے صدر آصف زرداری کی جانب سے دائر صدارتی ریفرنس کے جواب میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے حال ہی میں ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ’ کیس میں فیئر ٹرائل اور مناسب عمل کے تقاضے پورے نہیں کیے گئے ،

    سپریم کورٹ کا متفقہ فیصلہ چار دہائیوں کی تاخیر سے آیا ۔ آصف علی زرداری کی جانب سے ایک دہائی قبل دائر کیے گئے اس ریفرنس کی سماعت جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس سردار طارق مسعود، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس امین الدین خان، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس یحییٰ آفریدی ، جسٹس محمد علی مظہرپر مشتمل بنچ نے کی،

    اگرچہ سپریم کورٹ کا فیصلہ اس کی انصاف پسندی کے لیے قابل تعریف ہے، لیکن یہ طویل عرصے سے گزرے ہوئے آدمی کو زندہ نہیں کر سکتا۔ بھٹو، جسے لاہور ہائی کورٹ نے محمد خان قصوری کے قتل کا مجرم قرار دیا تھا، ان کی اپیل کو مسترد کر دیا تھا۔

    تاریخ کو دیکھیں تو ڈکٹیٹر ضیاء نے ان تمام ججوں کو برطرف کر دیا جنہوں نے فوجی قبضے کو جائز قرار دیتے ہوئے وفاداری کا حلف اٹھانے سے انکار کر دیا تھا۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اس کیس پر اپنی رائے دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ’’ہمیں… اپنی ماضی کی غلطیوں کا مقابلہ عاجزی کے ساتھ، خود احتسابی کے جذبے کے ساتھ، اور انصاف کو یقینی بنانے کے ہمارے عزم کے ثبوت کے طور پر کرنا چاہیے۔ غیر متزلزل سالمیت اور قانون کی وفاداری کے ساتھ خدمت کی جانی چاہئے۔ جب تک ہم اپنی ماضی کی غلطیوں کو تسلیم نہیں کرتے تب تک ہم خود کو درست نہیں کر سکتے اور صحیح سمت میں ترقی نہیں کر سکتے۔

    اس فیصلے کا اہم عنصر اعلیٰ ترین عدالت کی جانب سے ایک ناقص فیصلے کے اعتراف میں مضمر ہے، جو کہ منصفانہ ٹرائل کے متحمل ہونے میں ناکام رہا۔ اس اعتراف سے امید پیدا ہوتی ہے کہ چیف جسٹس عدالتی نظام میں انتہائی ضروری اصلاحات کا آغاز کریں گے۔

  • سپریم کورٹ نے  ذوالفقار علی بھٹو ریفرنس کی سماعت کا اردو ترجمہ جاری کر دیا

    سپریم کورٹ نے ذوالفقار علی بھٹو ریفرنس کی سماعت کا اردو ترجمہ جاری کر دیا

    اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے ذوالفقار علی بھٹو ریفرنس کی سماعت کا اردو ترجمہ جاری کردیا۔

    باغی ٹی وی: گزشتہ روز ذوالفقار علی بھٹو صدارتی ریفرنس کے معاملے پر سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی تھی، سپریم کورٹ آف پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو ریفرنس کیس کی سماعت چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 9 رکنی لارجر بینچ نے کی، جس میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عدالت عظمیٰ کی رائے سنائی تھی، ا پنی رائے دیتے ہوئے عدالت عظمیٰ نے کہا تھا کہ ذوالفقار علی بھٹو کو شفاف ٹرائل کا حق نہیں دیا گیا۔

    چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا تھا کہ تمام ججز کی متفقہ رائے ہے، ججز بلاتفریق فیصلہ کرتے ہیں، عدلیہ میں خود احتسابی ہونی چاہیے۔ عدلیہ ماضی کی غلطی کو تسلیم کیے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتی، سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کا لاہور ہائی کورٹ میں ٹرائل فوجی آمر ضیا الحق کے دور میں ہوا۔

    چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ ’کیا کوئی معاہدہ بھی ہو چکا تھا؟‘ اس پر رضا ربانی نے کہا کہ ’معاہدے پر دستخط ہونا باقی تھے لیکن پھر مارشل لاء نافذ کر دیا گیا، 24 جولائی کو ایف ایس ایف کے انسپکٹرز کو گرفتار کیا گیا، 25 اور 26 جولائی کو ان کے اقبالِ جرم کے بیانات آ گئے، مارشل لاء دور میں زیرِ حراست ان افراد کے بیانات لیے گئے، اس وقت مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر، چیف جسٹس پاکستان، قائم مقام چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کا ٹرائی اینگل تھا، ذوالفقار علی بھٹو کی برییت سے تینوں کی جاب جا سکتی تھی‘۔

    اس موقع پر جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ ’رضا ربانی آپ کہہ سکتے ہیں کہ حسبہ بل میں عدالتی رائے بائنڈنگ تھی‘؟ چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے پوچھا کہ ’حسبہ بل میں کتنے جج صاحبان تھے؟‘ جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ’حسبہ بل کے صدارتی ریفرنس میں بھی 9 جج صاحبان تھے‘، چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ’ہم بھی 9 ہی جج ہیں، کوئی اختلاف بھی کر سکتا ہے‘۔

    اس پر رضا ربانی نے کہا کہ ’اس وقت جج جج نہیں تھے، مختلف مارشل لاء ریگولیشن کے تحت کام کر رہے تھے، مارشل لاء ریگولیشن کے باعث ڈیو پراسس نہیں دیا گیا، بیگم نصرت بھٹو نے بھٹو کی نظر بندی کو چیلنج کیا تھا، اسی روز مارشل لاء ریگولیشن کے تحت چیف جسٹس یعقوب کو عہدے سے ہٹا دیا گیا‘۔

  • میرے لیے قانون میں خصوصی رعایت ملنا باعثِ شرم ہے،چیف جسٹس

    میرے لیے قانون میں خصوصی رعایت ملنا باعثِ شرم ہے،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ آف پاکستان میں ملک بھر میں ممنوعہ اسلحے کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس میں کہا ہے کہ ممنوعہ اسلحہ لائسنس رکھنے کی کیٹیگری میں میری اجازت کے بغیر میرا نام بھی شامل کیا گیا، میرے لیے قانون میں خصوصی رعایت ملنا باعثِ شرم ہے۔چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سماعت کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر اٹارنی جنرل کو طلب کر لیا۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں نے اس معاملے پر ایک خط بھی لکھا تھا جس کا جواب نہیں دیا گیا، کلاشنکوف کوئی کھلونا یا کنگھی نہیں ہوتی، پبلک سرونٹ کا مقصد عوام کی خدمت کرنا ہوتا ہے، اسکولوں میں جائیں تو وہاں سیکیورٹی گارڈز اسلحہ لیے کھڑے ہوتے ہیں، غریب کے بچوں کے اسکولوں کے باہر تو گارڈز نہیں ہوتے، اسلحہ اٹھائے شخص کے بارے میں کیسے پتہ چلے گا کہ وہ دہشت گرد ہے یا نہیں، شام کو اسلام آباد میں دیکھیں کیا ہوتا ہے۔

    جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ کیا پارلیمنٹ کے ارکان کو بھی اجازت ہے کہ وہ اپنی ٹیبل پر اسلحہ رکھ کر بیٹھیں؟ جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ شادی کی تقریبات میں اسلحے کی نمائش کی جاتی ہے۔چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ امید ہے نئی حکومت اس معاملے پر کواقدامات اٹھائے گی، کوئی بھی ملک کے عوام کا نہیں سوچتا، سوشل میڈیا پر اسلحے کی نمائش کی ویڈیوز موجود ہیں، اسلحہ لیے بڑی مشہور شخصیات کی سوشل میڈیا پر ویڈیوز موجود ہیں، ہم کسی کا نام لے کر اسے شرمندہ نہیں کرنا چاہتے، ہم نے اپنے بچوں کے مستقبل کو محفوظ بنانا ہے، آئی جی بھی پولیس کے قافلے کے ساتھ سفر کرتا ہے، کب تک قانون کے ساتھ مذاق ہوتا رہے گا؟ جب بم پھٹ رہے ہوں تو دیواریں اونچی کر دی جاتی ہیں۔

    امریکہ بہادر کا فیصلہ آگیا، کاکڑ اور ہمنوا پریشان

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • ذوالفقار علی بھٹو کو سزا آئین  وقانون کے مطابق نہیں تھی،سپریم کورٹ

    ذوالفقار علی بھٹو کو سزا آئین وقانون کے مطابق نہیں تھی،سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ میں ذوالفقار علی بھٹوکیس سے متعلق صدارتی ریفرنس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے رائے سنادی

    سپریم کورٹ کے نو رکنی بنچ نے متفقہ طور پر صدارتی ریفرنس میں رائے دی،سپریم کورٹ نے صدارتی ریفرنس میں پوچھے گئے سوالات کے جواب دے دیئے،سپریم کورٹ نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کی بھٹو کیس میں کاروائی بنیادی انسانی حقاق کے مطابق نہیں تھی،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے رائے سناتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کی رائے اس معاملے پر متفق ہے، ہم ججز پابند ہیں کہ قانون کے مطابق فیصلہ کریں، سپریم کورٹ کی رائے متفقہ ہو گی، جب تک غلطیاں تسلیم نہ کریں خود کو درست نہیں کر سکتے، ریفرنس میں 5 سوالات اٹھائے گئے ہیں، ذوالفقار علی بھٹو کو آئین کے مطابق فیئر ٹرائل کا موقع نہیں ملا، بھٹو کے ٹرائل میں بنیادی حق پر عمل نہیں کیا گیا،بھٹو کیس میں فئر ٹرائل کے تقاضے پورے نہیں ہوئے، ذوالفقار علی بھٹو کو سزا آئین وقانون کے مطابق نہیں تھی،

    سپریم کورٹ نے کہا کہ ذولفقار علی بھٹو ٹرائل میں قانونی راستہ نہیں اپنایا گیا،لاہور ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ میں فئیر ٹرائل اور آئینی تقاضوں کو پورا نہیں کیا گیا،ذولفقار علی بھٹو کی سزائے موت کے فیصلے کو ختم نہیں کر سکتے،سپریم کورٹ کے نو رکنی لارجر بینچ نے مختصر رائے سنا دی،تفصیلی وجوہات بعد میں جاری کی جائینگی،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسی سربراہی میں 9 رکنی لارجر بینچ نے 4 مارچ کو صدارتی ریفرنس پر رائے محفوظ کی تھی جو اب سنا دی گئی ہے،جسٹس طارق مسعود، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس امین الدین، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس مسرت ہلالی لارجر بینچ کا حصہ تھے

    چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری سپریم کورٹ میں موجود تھے، پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان،فیصل کریم کنڈی و دیگر بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے،

    عدالت نے مانا ہے شہید ذوالفقار علی بھٹو کو فئیر ٹرائل کا موقع نہیں ملا،بلاول
    عدالتی فیصلے کے بعد پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ عدالت نے مانا ہے شہید ذوالفقار علی بھٹو کو فئیر ٹرائل کا موقع نہیں ملا،تفصیلی فیصلے کے بعد اپنے وکلاء سے بات کریں گے،عدالت نے مانا ہے شہید ذوالفقار علی بھٹو کو فئیر ٹرائل کا موقع نہیں ملا،سپریم کورٹ نے کہا کہ ماضی کی غلطیوں کو درست کرنے کے لئے یہ فیصلہ سنا رہے ہیں،اس فیصلے کی وجہ سے پاکستان ترقی کر سکے گا،اس فیصلے کی وجہ سے پاکستان کی عوام انصاف کی امید رکھے بیٹھے تھے،اس فیصلے کے بعد عوام کو اس ادارے سے انصاف کی امید ہو گی،اس فیصلے کے بعد نظام صحیح سمت میں چلنا شروع ہو جائے گا،

    شہید بھٹو کے ساتھ ٹرائل میں فیصلہ بدلنے کیلئے تعصب کیا گیا،شیری رحمان
    قبل ازیں پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امید ہے عدالت سے انصاف ملے گا،تاریخ عدالتی رائے کو یاد رکھے گی،چیف جسٹس اور 9 رکنی بینچ نے بڑے تحمل سے سب کو سنا،
    شہید بھٹو کے ساتھ ٹرائل میں فیصلہ بدلنے کیلئے تعصب کیا گیا،شہید بھٹو کے کیس میں عدالت نے ماتھے پر کاری ضرب لگائی،انصاف اور قانون کی حکمرانی کے بغیر کوئی نظام نہیں چل سکتا،ایک مقبول نمائندے کا عدالتی ٹرائل کے ذریعے قتل کیا گیا،چاہتے ہیں عدالت اس بات کو تسلیم کرے کہ فیصلے میں غلطی ہوئی ،ذوالفقار بھٹو نے ڈکٹیٹر سے سمجھوتہ کرنے سے منع کیا تھا،امید ہے لوگ بلاول بھٹو کی مفاہمت کی سیاست کو سمجھیں گے،آصف زرداری ایک بارپھر صدر کی کرسی پر بیٹھیں گے،پیپلزپارٹی کی حمایت پر تمام اتحادیوں کے شکرگزار ہیں.

    تاریخی غلطی کا ازالہ ممکن نہیں لیکن سنگین غلطی کے اعتراف سے ایک نئی روایت قائم ہوئی ،وزیراعظم
    وزیر اعظم شہباز شریف نےسابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو شفاف ٹرائل نہ ملنے کی سپریم کورٹ کی رائے پر بلاول بھٹو زرداری، نامزد صدر آصف علی زرداری، پی پی پی قیادت اور کارکنوں کو مبارک دی ہے، وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ تاریخی غلطی کا ازالہ ممکن نہیں لیکن سنگین غلطی کے اعتراف سے ایک نئی تاریخ ایک نئی روایت قائم ہوئی ہے. عدالت سے ہونے والی زیادتی کو عدالت کا درست کرنا مثبت پیش رفت ہے.بھٹو ریفرنس میں سپریم کورٹ کی متفقہ رائے قومی سطح پر تاریخ کو درست تناظر میں سمجھنے میں مددگار ہو گی. ماضی کی غلطیوں کی درستگی اور تلخیوں کے خاتمہ سے ہی قومی اتحاد اور ترقی کا عمل تیز ہوسکتا ہے.

    ذوالفقار علی بھٹو سے متعلق عدالتی ریفرنس پر سپریم کورٹ کی رائے پر پی ٹی آئی کا ردّعمل سامنے آیا ہے، ترجمان پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کے معاملے میں اس حقیقت تک پہنچتے پہنچتے کہ انہیں فیئر ٹرائل نہیں ملا سپریم کورٹ کو 50 سال لگ گئے،بانی پی ٹی آئی کو فیئر ٹرائل کے بنیادی دستوری حق کی دستیابی کیلئے کیا اب قوم کو مزید 50 سال انتظار کرنا ہوگا، ذوالفقار علی بھٹو کے معاملے میں عدالتی رائے صرف اسی صورت میں معنی خیز ہو سکتی ہے کہ عدالتِ عظمیٰ آج لاقانونیت کی راہ روکنے کیلئے پوری قوت سے بروئے کار آئے، فراہمی انصاف کا آفاقی اصول ہے کہ ”انصاف میں تاخیر انصاف کا قتل ہے“، بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ سمیت تحریک انصاف کے اسیر قائدین اور ہزاروں بے گناہ کارکنان کو قیدِ ناحق سے فوراً رہا کیا جائے اور فیئرٹرائلز کے ذریعے ان کے خلاف جھوٹے مقدمات کے فیصلے کئے جائیں،

    دعا کرتے ہیں کہ ایسی ناانصافی دوبارہ نہ ہو ،فاطمہ بھٹو کا صدارتی ریفرنس رائے پر ردعمل
    سابق وزیر اعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی و چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کی پوتی فاطمہ بھٹو نے بھٹو سزائے موت ریفرنس کیس میں عدالتی رائے پر ردعمل دیا ہے، سوشل میڈیا پر فاطمہ بھٹو کا کہنا تھا کہ آج سپریم کورٹ نے پاکستان کے پہلے جمہوری طور پر منتخب وزیر اعظم کے خلاف کی گئی تاریخی ناانصافی کا اعتراف کیا ہے، ہم عدالت کے متفقہ فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہیں، ہم دعا کرتے ہیں کہ ایسی ناانصافی دوبارہ نہ ہو تاکہ اس ملک کے شہری، یہ جان کر خود کو محفوظ سمجھیں، ملکی نظامِ انصاف میں تاخیرتو ممکن ہے لیکن پاکستان اور اس کے بچوں سے کبھی انصاف سے انکار نہیں کیا جائے گا،

    جس کیس میں بھٹو کو سزا دی گئی، اس ایف آئی آر میں نامزد ہی نہیں کیا گیا تھا،عدالتی معاون

    سپریم کورٹ میں ذوالفقار بھٹو کی پھانسی پر صدارتی ریفرنس کی سماعت جاری

    واضح رہے کہ سابق صدر آصف زرداری نے اپریل 2011 میں صدارتی ریفرنس سپریم کورٹ میں دائر کیا تھا، جس کے بعد ذوالفقار بھٹو سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سپریم کورٹ میں 6 سماعتیں ہوئیں، اس وقت سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اپنی سربراہی میں 11 رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا تھا جس نے 3 جنوری 2012 سے 12 نومبر 2012 تک کیس کی 6 سماعتیں کیں لیکن کوئی فیصلہ نہ دیا، صدارتی ریفرنس پر آخری سماعت 9 رکنی لارجر بینچ نے کی تھی، اب تقریباً 11 برس کے طویل عرصے بعد ریفرنس دوبارہ سماعت کے لیے مقرر کیا گیا تھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں بینچ نے سماعت مکمل کی ہے جس پر فیصلہ آج سنا دیا گیا

     پیپلز پارٹی نے 108 صفحات پر مشتمل تحریری جواب سپریم کورٹ میں جمع کروا دیا

    بھٹو صدارتی ریفرنس کی گزشتہ سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری 

    ہمارا بھٹو تو واپس نہیں آئے گا، ہمیں امید ہے غلط فیصلے کو غلط کہا جائے گا

    سپریم کورٹ کے ہاتھ 40 برسوں سے شہید ذوالفقار علی بھٹو کے لہو سے رنگے ہوئے

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

  • بھٹو صدارتی ریفرنس،سپریم کورٹ کل اپنی رائے سنائے گی

    بھٹو صدارتی ریفرنس،سپریم کورٹ کل اپنی رائے سنائے گی

    سپریم کورٹ بھٹو صدارتی ریفرنس پر اپنی رائے کل سنائے گی

    سپریم کورٹ نے رائے سنانے کیلئے تمام فریقین کو نوٹسز جاری کردئیے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی سربراہی میں 9 رکنی لارجر بینچ نے 4 مارچ کو صدارتی ریفرنس پر رائے محفوظ کی تھی،،جسٹس طارق مسعود، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس امین الدین، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس مسرت ہلالی لارجر بینچ کا حصہ تھے

    صدارتی ریفرنس کی سماعت کے دوران رضا ربانی نے دلائل دیئے،رضا ربانی نے کہا کہ بھٹو کیس کے وقت لاہور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ آئین کے تحت کام نہیں کر رہے تھے، اس وقت ملک میں مارشل لاء نافذ تھا، بنیادی انسانی حقوق معطل تھے، اس وقت استغاثہ جنرل ضیاء تھے، اس وقت اپوزیشن اور حکومت کے درمیان نئے الیکشن کے لیے معاملات طے ہو چکے تھے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا کوئی معاہدہ بھی ہو چکا تھا؟رضا ربانی نے کہا کہ معاہدے پر دستخط ہونے باقی تھے لیکن پھر مارشل لاء نافذ کر دیا گیا، 24 جولائی کو ایف ایس ایف کے انسپکٹرز کو گرفتار کیا گیا، 25 اور 26 جولائی کو ان کے اقبالِ جرم کے بیانات آ گئے، مارشل لاء دور میں زیرِ حراست ان افراد کے بیانات لیے گئے، اس وقت مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر، چیف جسٹس پاکستان، قائم مقام چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کا ٹرائی اینگل تھا، ذوالفقار علی بھٹو کی برییت سے تینوں کی جاب جا سکتی تھی،

    جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ رضا ربانی آپ کہہ سکتے ہیں کہ حسبہ بل میں عدالتی رائے بائنڈنگ تھی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ حسبہ بل میں کتنے جج صاحبان تھے؟جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حسبہ بل کے صدارتی ریفرنس میں بھی 9 جج صاحبان تھے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم بھی 9 ہی جج ہیں، کوئی اختلاف بھی کر سکتا ہے،رضا ربانی نے کہا کہ احمد رضا قصوری پر حملوں کے 1976 تک چھ مقدمات درج ہوئے کسی ایف آئی آر میں بھٹو کو نامزد نہیں کیا گیا،رضا ربانی نے کہا کہ اس وقت جج جج نہیں تھے، مختلف مارشل لاء ریگولیشن کے تحت کام کر رہے تھے، مارشل لاء ریگولیشن کے باعث ڈیو پراسس نہیں دیا گیا، بیگم نصرت بھٹو نے بھٹو کی نظر بندی کو چیلنج کیا تھا، اسی روز مارشل لاء ریگولیشن کے تحت چیف جسٹس یعقوب کو عہدے سے ہٹا دیا گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ رضا ربانی صاحب آپ کتنا وقت لیں گے؟ ہم نے آج سماعت مکمل کرنی ہے، جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ آپ ہمیں پھانسی کے بعد منظر عام پر آنے والے تعصب کے حقائق کی تفصیلات تحریری طور پر دے دیں

    رضا ربانی کے دلائل مکمل ہو گئے، آصفہ بھٹو، بختاور بھٹو اور صنم بھٹو کے وکیل رضا ربانی نے دلائل مکمل کر لیے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے استفسار کیا کہ کیا سپریم کورٹ صدارتی ریفرنس میں مختصر رائے بھی دے سکتی ہے؟عدالتی معاون رضا ربانی نے کہا کہ عدالت ایسا کر سکتی ہے، سپریم کورٹ مکمل انصاف کی فراہمی کیلئے آرٹیکل 187 کا استعمال کرسکتی ہے، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر ہم نے آرٹیکل 187کا استعمال کیا وہ رائے کے بجائے فیصلہ ہوجائے گا،

    جس کیس میں بھٹو کو سزا دی گئی، اس ایف آئی آر میں نامزد ہی نہیں کیا گیا تھا،عدالتی معاون

    سپریم کورٹ میں ذوالفقار بھٹو کی پھانسی پر صدارتی ریفرنس کی سماعت جاری

    واضح رہے کہ سابق صدر آصف زرداری نے اپریل 2011 میں صدارتی ریفرنس سپریم کورٹ میں دائر کیا تھا، جس کے بعد ذوالفقار بھٹو سے متعلق صدارتی ریفرنس پر اب تک سپریم کورٹ میں 6 سماعتیں ہوچکی ہیں، اس وقت سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اپنی سربراہی میں 11 رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا تھا جس نے 3 جنوری 2012 سے 12 نومبر 2012 تک کیس کی 6 سماعتیں کیں لیکن کوئی فیصلہ نہ دیا، صدارتی ریفرنس پر آخری سماعت 9 رکنی لارجر بینچ نے کی تھی، اب تقریباً 11 برس کے طویل عرصے بعد ریفرنس دوبارہ سماعت کے لیے مقرر کیا گیا تھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں بینچ نے سماعت مکمل کی ہے جس پر فیصلہ کل سنایا جائے گا

     پیپلز پارٹی نے 108 صفحات پر مشتمل تحریری جواب سپریم کورٹ میں جمع کروا دیا

    بھٹو صدارتی ریفرنس کی گزشتہ سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری 

    ہمارا بھٹو تو واپس نہیں آئے گا، ہمیں امید ہے غلط فیصلے کو غلط کہا جائے گا

    سپریم کورٹ کے ہاتھ 40 برسوں سے شہید ذوالفقار علی بھٹو کے لہو سے رنگے ہوئے

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی