Baaghi TV

Tag: سیاست

  • بڑھکیں نہیں مسائل حل ہونے چاہئے،تجزیہ: شہزاد قریشی

    بڑھکیں نہیں مسائل حل ہونے چاہئے،تجزیہ: شہزاد قریشی

    بین الاقوامی سیاست میں تبدیلی کے نقارے بج اٹھے ہیں امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان تیل کی پیداوار کو لے کر کشیدہ تعلقات مزید کشیدہ ہو گئے ہیں۔ سعودی عرب اور دیگر اوپیکس ممالک نے امریکی صدر کے انتباہ کو نظر انداز کر دیا ہے۔ اس وقت امریکہ اور شاہی خاندان کے تعلقات انتہائی سرد مہری کا شکار ہیں۔ خدشہ ہے کہ عالمی دنیا کی معیشت پر اس کے اثرات پڑیں گے۔ سعودی عرب اور امریکہ کے کشیدہ تعلقات کے اثرات عرب ممالک کے ساتھ ساتھ پاکستان، بھارت سمیت اس خطے پر بھی پڑیں گے۔ تاہم عالمی دنیا کی بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال کی خبر رکھنے کے باوجود ہمارے حکمران اور اپوزیشن کے سیاستدان حلال ہے یا حرام ہے کی بحث میں پڑے ہیں،

    حکمران عمران کا مارچ کدھر سے آئے گا کدھر جائے گا کی بحث کر رہے ہیں جبکہ عمران خان خفیہ لانگ مارچ کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ دنیا میں کیا ہو رہا ہے کیا ہونے جا رہا ہے اس سے بے خبر ہمارے سیاستدانوں نے وطن عزیز کو کن بین الاقوامی مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے پس پشت ڈال دیا ہے۔ معذرت کے ساتھ وطن عزیز کے راہزنوں اورر قزاقوں نے اپنی تجوریاں اپنے ذاتی خزانے بھرنے کے لئے ملک اور عوام کے مسائل سے آنکھیں بندکر لی ہیں۔حیرانگی کی بات ملک بحرانوں کا شکار ہے ہمارے سیاستدان اس بحث میں پڑے ہیں نیا آرمی چیف کون ہوگا کون ہونا چاہئے کیسا ہونا چاہئے ؟ ایسے کاموں میں ہاتھ ڈال رہے ہیں جو ان کا کام ہی نہیں ۔

    ملک کا آئین کیا کہتا ہے آئین کے مطابق اور سنیارٹی کے مطابق کون نیا آرمی چیف ہوگا اور پھر یہ معاملہ خالصتاً خود آرمی کا ہے کسی سیاسی جماعت کا نہیں اور نہ ہی ہونا چاہئے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک کی تمام سیاسی جماعتیں وسیع تر ملکی اور قومی مفاد میں مل کر ماضی میں اپنے تئیں غلطیوں کا اعتراف کریں مکمل منصفانہ اور غیر جانبدارانہ انتخابات کی راہ ہموار کریں۔ کرپشن، بدعنوانی ،ذاتی مفادات ،اقربا پروری کو بالائے طاق رکھ کر قومی خدمت کا تہیہ کریں تمام آئینی ادارے اپنی حدود میں رہ کر قائداعظم کے تصور کردہ اصولوں کے مطابق ملکی نظام کو چلائیں ۔ ملک آج بھی بحرانوں کے گرداب سے نکل سکتا ہے۔ پرانی پنجابی فلموں کی طرح مرکزی حکومت اور اپوزیشن بڑھکیں مارنا چھوڑ دیں۔ ملک اور قوم کے مسائل کو حل کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ ریاست بھی تھک چکی ہے ریاست اب اس طرز سیاست کرنے والوں کی بڑھک بازی کا بوجھ برداشت کرنے سے قاصر ہے۔

  • مسلح افواج نے خود کو سیاست سے دور کرلیا، آرمی چیف

    مسلح افواج نے خود کو سیاست سے دور کرلیا، آرمی چیف

    مسلح افواج نے خود کو سیاست سے دور کرلیا، آرمی چیف

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ افواج پاکستان سیاست سے دور ہیں اور دور ہی رہیں گی، مسلح افواج اسی طرح رہنا چاہتی ہیں

    امریکا کے دورے کے دوران واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے میں ظہرانے کی تقریب میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے شرکت کی، اس موقع پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی معیشت کو بحال کرنا معاشرے کے ہر فرد کی ترجیح ہونی چاہیے، مضبوط معیشت کے بغیر قوم اپنے ٹارگٹ حاصل نہیں کرسکے گی اور مضبوط معیشت کے بغیر سفارتکار ی نہیں ہوسکتی

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ امریکا کے دورے پر ہیں جہاں ان کی جوبائیڈن انتظامیہ کے سینئر حکام سے ملاقاتیں جاری ہیں ،ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف کی امریکا کی قومی سلامتی کے مشیر جیکب سلیوان اور نائب وزیرخارجہ وینڈی روتھ شرمین سے بھی ملاقاتیں ہوئی ہیں

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے دوسری تین سالہ مدت پوری ہونے کے حوالہ سے کہا کہ وہ ریٹائرڈ ہو جائیںگے،انہوں نے سفارتخانے میں خطاب بھی کیا اور مہمانوں سے غیر رسمی بات چیت بھی کی،

    علاوہ ازیں مقامی میڈیا نے آرمی چیف کے ہمراہ ڈی جی آئی، سی جی ایس، اور ڈی جی ایم او کے دورہ امریکہ کی غلط خبر دی ہے

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    عمران خان نے کل اداروں کے خلاف زہر اگلا ہے،وزیراعظم

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

  • نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کی کارکردگی سوالات کے گھیرے میں؟ — نعمان سلطان

    نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کی کارکردگی سوالات کے گھیرے میں؟ — نعمان سلطان

    ناگہانی آفات اور مسائل سے نبٹنے کے لئے حکومت نے نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کا قیام کیا، جس کا سربراہ کوئی بھی سول یا فوجی افسر ہو سکتا ہے۔

    این ڈی ایم اے کے قیام کا بنیادی مقصد ناگہانی آفات کی صورت میں اداروں میں رابطے کے فقدان کی وجہ سے ہونے والے نقصانات کی شرح کو کم کرنا، ختم کرنا اور تمام اداروں کا انفرادی کے بجائے اجتماعی کام کرنا تاکہ اداروں کے وسائل تقسیم یا ضائع ہونے کے بجائے مرکزیت کی وجہ سے تمام متاثرین میں برابر تقسیم ہوں۔

    ملک میں معمول سے زیادہ بارشیں ہونے اور ان کی وجہ سے سیلاب آنے کی پیش گوئی پہلے سے ہی محکمہ موسمیات نے کر دی تھی، ظاہری بات ہے ملک میں مناسب مقامات پر ڈیم نہ ہونے کی وجہ سے ہم ان سیلابی ریلوں کو مینج نہیں کر سکتے تھے ۔

    اس صورت حال میں این ڈی ایم کی پہلی ترجیح تمام متعلقہ محکموں کی میٹنگ بلا کر انہیں ہنگامی صورتحال کے لئے تیار رہنے اور ان کی ذمہ داریوں کے بارے میں انہیں پیشگی آگاہ کرنا اور انہیں ان ذمہ داریوں کے لئے ضروری وسائل پیشگی اکٹھے کرنے کی ہدایات دینا تھی۔

    اس کے بعد این ڈی ایم اے کو متعلقہ محکموں کو ہدایت کرنا تھی کہ وہ سروے کریں کہ سیلاب آنے کی صورت میں کن علاقوں میں کٹ لگا کر سیلابی علاقوں کا رخ وہاں موڑا جائے تا کہ مالی نقصان یا انفراسٹرکچر کا نقصان کم سے کم ہو۔

    پھر این ڈی ایم اے کا کام سیلاب سے متوقع متاثرہ علاقوں کے رہائشی تمام لوگوں (جن کے شناختی کارڈ پر اس علاقے کا پتا "ایڈریس ” ہو) کو قریب ترین محفوظ مقامات پر منتقل کرنا ہے، متاثرین کو رہائش ترجیحی بنیادوں پر تمام سرکاری اور نجی اسکولز میں، اس کے بعد سرکاری عمارتوں میں اور سب سے آخر میں کھلے میدانوں میں خیمہ بستیاں لگا کر فراہم کرنا ہے ۔

    اس کے بعد متاثرین کو جن علاقوں میں منتقل کیا گیا ہو وہاں موجود بنکوں کو پابند کیا جائے کہ متاثرین کے اکاؤنٹ بائیو میٹرک کھولے جائیں اور انہیں بنک لاکر فراہم کئے جائیں اور اے ٹی ایم کارڈ فراہم کئے جائیں تا کہ امدادی کیمپوں سے جو نقدی اور قیمتی سامان چوری ہونے کا خدشہ یا شکایات ہوتی ہیں، وہ نہ ہوں اور متاثرین حسب ضرورت اے ٹی ایم کارڈ سے پیسے نکلوا سکیں ۔

    اس کے بعد متاثرین کو ان کے کوائف کے مطابق روزانہ راشن فراہم کیا جائے جبکہ نجی تنظیموں کو پابند کیا جائے کہ وہ متاثرین کو راشن حکومت کے تعاون سے فراہم کرے تا کہ راشن ضائع نہ ہو، امدادی کیمپوں میں میڈیکل کیمپ لگائے جائیں اور ادویات کی فراہمی یقینی بنائی جائے ۔

    متاثرین کو امدادی کیمپوں میں منتقل کرنے اور ان کی خوراک و ادویات کا انتظام کرنے کے بعد این ڈی ایم اے کی ذمہ داری تھی کہ وہ سیلابی پانی اترنے کے بعد کوائف کے مطابق اور اپنے دستیاب وسائل کے مطابق (بین الاقوامی اور حکومتی امداد) لوگوں کے ملکیتی مکانات کم از کم اسٹرکچر بنا کر دے اور لوگوں کی فصلوں کا جو نقصان ہوا اس کے انہیں نقد پیسے دے تاکہ وہ بحالی کے بعد دوبارہ حالات سازگار ہونے پر اپنی فصلیں دوبارہ کاشت کر سکیں ۔

    مکانات کی ملکیت اور فصلوں کو ہونے والے نقصانات کا تخمینہ این ڈی ایم اے متعلقہ اداروں کے ذریعے پہلے سے ہی لگوا سکتا تھا، متاثرین کی بحالی کے بعد این ڈی ایم اے کی ذمہ داری حکومت کو تمام متاثرین کا ڈیٹا فراہم کرنا ہے تاکہ اس ڈیٹا کی بنیاد پر حکومت متاثرین کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے لئے مناسب امداد دے۔

    این ڈی ایم اے کے ان قبل از وقت اقدامات کی وجہ سے سیلاب آنے کی وجہ سے جانی نقصان بالکل بھی نہیں ہونا تھا جبکہ مالی نقصان کم سے کم ہونا تھا، اکثر لوگ نقدی اور قیمتی اشیاء گھروں میں رکھتے ہیں امدادی کیمپوں میں ان کی چوری یا گمشدگی کا خدشہ ہوتا ہے جو کہ بنک میں رکھنے کی وجہ سے محفوظ ہو جاتیں ہیں ۔

    سیلابی پانی میں گھرے لوگوں کو امداد پہنچانا مشکل ہوتی ہے جبکہ تمام لوگوں کی امدادی کیمپوں میں منتقلی کی وجہ سے تمام متاثرین کو ان کے خاندان کی تعداد کے مطابق امدادی راشن بغیر کسی دشواری کے باعزت طریقے سے ملتا ہے ۔

    انفرادی حیثیت میں امداد جمع کرنے سے اس میں خردبرد کا امکان ہوتا ہے جبکہ حکومتی تعاون کی وجہ سے اس امداد کا بھی ریکارڈ ہوتا ہے اور امدادی کیمپوں میں کوائف کی بنیاد پر متاثرین کی منتقلی کی وجہ سے پیشہ ور اور جعلی متاثرین کا معلوم ہو جاتا ہے۔

    امدادی کیمپوں میں خوراک اور ادویات کی فراہمی تک تمام کام این ڈی ایم اے اپنے وسائل اور مخیر حضرات کے تعاون سے بآسانی کر سکتی تھی جبکہ متاثرین کی بحالی اور انہیں اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے لئے وسائل بین الاقوامی برادری سے ملنے والی امداد اور حکومتی اور مخیر حضرات کے تعاون سے فراہم کر سکتی تھی۔

    این ڈی ایم اے کے قیام کا مقصد اور تمام متعلقہ اداروں کو اس کے ماتحت کرنے کا مقصد اور وہ اپنے وسائل کو بروئے کار لا کر کیا اقدامات کر سکتی تھی اور ان کے فوائد کیا تھے وہ سب آپ کو بتا دئیے۔

    اب سوال یہ ہے کہ کیا این ڈی ایم اے نے اپنی ذمہ داریاں ٹھیک طرح سے پوری کیں یا وہ بھی ہماری قوم کے لئے ایک سفید ہاتھی ہے؟

    اس سوال کا جواب آپ کی صوابدید پر چھوڑتا ہوں ۔

  • سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے سب کو سیاست سے بالاتر ہو کر ساتھ چلنا چاہئے،گورنر پیجاب

    سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے سب کو سیاست سے بالاتر ہو کر ساتھ چلنا چاہئے،گورنر پیجاب

    گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمان نے گورنر ہائوس لاہور میں سیلاب زندگان کی امداد کے لئے فلڈ ریلف فنڈ کے حوالے سے منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سیلاب زدگان کے لیے وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتیں ایک ساتھ کام کر رہی ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ سیلاب متاثرین کی مدد اور بحالی کے لیے سب کو سیاست سے بالاتر ہو کر بلا تفریق ساتھ چلنا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت سیلاب متاثرین کی حتی المقدور امداد فراہم کرنے کے لئے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کو مزید تیز کرنے کی ہدایت کی ہے ۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر نگرانی سیلابی ریلوں میں اپنی جانوں کی بازی ہارنے والوں کے لواحقین کو اب تک 80فیصد امدادی چیک دیئے جا چکے ہیں۔

    گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمان نے کہا کہ اس وقت ہمارا ملک شدید بارشوں اور سیلاب کے باعث مختلف علاقوں میں تباہی اور بدحالی سے دوچار ہے ۔ انہوں نے کہا کہ صاحب ثروت افراد اور مالی وسعت رکھنے والے طبقے پر لازم ہے کہ وہ آزمائش اور مصیبت کی اس گھڑی میں اپنے بھائیوں کی بھر پور مدد کریں۔ انہوں نے کہا کہ قوموں پر مشکل وقت آتے رہتے ہیں وہی قومیں اپنی منزل حاصل کرتی ہیں جو اتحاد و یگانگت اور قوت ارادی کے ساتھ آگے بڑھتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ مشکل کی اس گھڑی میں مخیر حضرات، فلاحی تنظیموں سمیت تمام لوگوں کو آگے آنا ہوگا اور ہم وطنوں کی بڑھ چڑھ کر مدد کرنا ہوگی۔
    اس موقع پر گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمان نے مخیر حضرات کے سیلاب زدگان کی مدد اور بحالی کے حوالے سے کام کو سراہتے ہوئے کہا کہ کاروباری برادری نے ہمیشہ فلاح و بہبود کے کاموں میں اپنا حصہ ڈالا ہے ۔اس موقع پر گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمان نے 31مئی 2022سے اب تک اپنی تمام تنخواہ سیلاب متاثریں کے لئے دینے کا اعلان بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ بطور چانسلر انہوں نے یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کو بھی ہدایت کی ہے کہ طلبا اور فیکلٹی ممبرز سیلاب زدگان کے لیے امدادی سامان اور ریلیف فنڈز اکٹھا کرنے میں کردار ادا کریں۔
    گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمان نے آخر میں مخیر حضرات کے تعاون سے سیلاب زدگان کیلئے 14 امدادی ٹرک بھی روانہ کیے۔اس موقع پر حذیفہ رفیق اور شاہد حسن شیخ بھی موجود تھے۔
    ٭٭٭٭
    دریں اثنا گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمان نے آج پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں اور پرائیویٹ یونیورسٹیوں کو مراسلے کے ذریعے ہدایت کی ہے کہ جنوبی پنجاب اور بلوچستان کے سیلاب متاثرین کے لیے فوری فلڈ ریلیف مہم شروع کی جائے ۔انہوں نے تاکید کی ہے کہ یونیورسٹی فیکلٹی اور طلبا سیلاب متاثرین کے لیے فنڈز، کپڑے، خوراک اور ضروری سامان اکٹھا کریں۔گورنر پنجاب نے کہا کہ سیلاب متاثرین کے لیے اکٹھا کیا گیا فنڈ وزیراعظم پاکستان اور وزیراعلی پنجاب ریلف فنڈ میں جمع کرایا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ جامعات فنڈز اپنے ترجیحی میکنزم کے ذریعے بھی سیلاب زدگان کے لیے استعمال کر سکتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ مشکل حالات کی اس گھڑی میں اپنے سیلاب زدگان بہن، بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہونا ہمارا قومی فریضہ ہے۔

  • چہرے بدلے باقی کچھ نہیں بدلا، تجزیہ : شہزاد قریشی

    چہرے بدلے باقی کچھ نہیں بدلا، تجزیہ : شہزاد قریشی

    رواں سال ملک میں جمہوریت کے لئے فیصلہ کن سال ہے اب یہ جمہوریت کے دعویداروں پر ہے کہ وہ کس طرح جمہوریت کی کشتی جو اس وقت ہچکولے کھا رہی ہے اس کو بچا پائیں گے یا پھر خود اس کشتی کو ڈبو دیں گے یہ جانتے ہوئے کہ ملک غیر جمہوری صدموں سے دوچار رہا ہے اس کے باوجود آج ایک بار پھر جمہوریت اور جمہوری ادارے ایک پھر سوالیہ نشان بنے ہوئے ہیں۔

    جمہوری عمل کا فقدان ہماری تاریخ کا سب سے بڑا المیہ ہےملک کی تمام سیاسی جماعتیں اور سیاسی جماعتوں کے سربراہان سے سوال ہے کہ ہر بار جمہوریت ایک سوالیہ نشان بن جاتی ہے کیوں؟ آج تک جمہوری عمارت مکمل نہیں ہوسکی ا س پر غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے۔

    ہر نئے آنے والے نے عوامی حاکمیت کا نعرہ لگایا کسی نے عوام کی دہلیز پر انصاف پہنچانے کا دعویٰ کیا کوئی کشکول توڑنے کی بات کرتا رہا۔ کوئی قانون کی حکمرانی کا نعرہ لگاتا رہا۔ کوئی اسلامی نفاذ کا نعرہ لگاتا رہا۔ کوئی غربت مٹائو کا نام دیتا رہا۔ کوئی روٹی کپڑا مکان کا خواب دکھاتا رہا لیکن حقیقت اس کے برعکس نکلتی رہی اقتدار حاصل کرنے کے بعد ان کے لب و لہجہ تبدیل ہوتے رہے۔ دعوئوں اور وعدوں کی جگہ مجبور یوں، تکبر اور غرور کی حدوں کو عبور کرتے رہے۔

    آج کا منظر نامہ بھی پرانی سیاسی تاریخ کے منظر نامے سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ عوام کی اکثریت آج بھی مستحکم جمہوری نظام کی تلاش میں ہیں۔ عمران خان کی حکومت کے بعد پی ڈی ایم کی حکومت کا نعرہ غربت مکائو کا نعرہ چند مہینوں میں ہی بے نقاب ہو گیا تمام خواب قوم کی پلکوں سے پھسل کر زمین پر آگرے یوں محسوس ہوتا ہے چہرے بدلے ہیں کچھ نہیں بدلا۔

    عمران خان کے جانے کے بعد بھی کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ غربت، بیروزگاری، مہنگائی، بھوک افلاس عوام کی حالت پہلے سے بھی بدتر کر دی ہے۔ عمران حکومت اگر عوام کو لولی پاپ دیتی رہی تو یہ پی ڈی ایم کی حکومت اپنی ناکام پالیسیوں کا سارا ملبہ پچھلی حکومت پر ڈال رہی ہے۔ تاہم عوام کی تقدیر اور نصیب کے دامن کسی فقیر کے کاسہ گدائی کی طرح خالی کے خالی ہی رہے۔

    پوری قوم بند گلی میں کھڑی ہےاسےراستہ نہیں مل رہامسلم لیگ (ن) کی موجودہ لیڈر شپ ہو یا پیپلزپارٹی کی پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کی۔ ملک اور قوم کے مسائل سے نکالنا ان کے بس کی بات نہیں مسلم لیگ (ن) کے قائدنوازشریف اس ملک کے تین بار وزیراعظم رہ چکے جو محمد شہبازشریف کے پاس وہ تجربہ نہیں جو نوازشریف کے پاس ہےنوازشریف ستمبر میں وطن واپسی کی خبریں قیاس آرائیوں پر مبنی ہیں۔

  • عمران خان کا مقابلہ نواز شریف ہی کر سکتا ہے:تجزیہ:۔ شہزاد قریشی

    عمران خان کا مقابلہ نواز شریف ہی کر سکتا ہے:تجزیہ:۔ شہزاد قریشی

    موجودہ حالات میں فہم و فراست اور سوجھ بوجھ کا مظاہرہ ہی ملک میں جمہوریت کو دوام اور جمہوری اداروں کے مستقبل کو محفوظ بنا سکتا ہے۔ باقی تمام راستے غلط ہیں۔ جمہوریت میں سیاسی رونقیں ہونی چاہئیں بلکہ عروج پر ہونا چاہئے۔ بلاشبہ عمران خان کی تحریک انصاف حقیقت ہے افسانہ نہیں لیکن آصف علی زرداری کی قیادت میں اس جماعت کو دیوار سے لگانے کی جو کوشش کی جا رہی ہے اور جن راستوں کا انتخاب کیا جا رہا ہے کیا وہ راستہ جمہوری ہے؟ تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو بھٹو کو ایک عدالتی فیصلے کے ذریعے پھانسی لگا دی گئی تھی کیا تادم تحریر آج کی پیپلزپارٹی بھٹو کے نام سے ووٹ حاصل نہیں کر رہی؟ کیا بھٹو کی جماعت کو کوئی طاقت ختم کر سکی؟

    مشکل وقت،جذبے سے کام لینا ہو گا،تجزیہ : شہزاد قریشی

    بلاشبہ عمران خان بھٹو نہیں لیکن ملک میں اس وقت تحریک انصاف کو مقبولیت حاصل ہے بالخصوص نوجوان طبقہ عمران خان کو اپنا ہیرو سمجھتا ہے جس میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں جن میں شہباز شریف سمیت مولانا فضل الرحمٰن، آصف علی زرداری، عوام میں کتنے مقبول ہیں؟ مسلم لیگ (ن) میں آج بھی نوازشریف اور ان کی بیٹی مریم نواز مقبول ترین ہیں آج بھی اگر نوازشریف پنجاب میں خود موجود ہوں تو وہ عمران کا سیاسی اور جمہوری طریقے سے مقابلہ کر سکتے ہیں۔ نوازشریف کی مقبولیت کا اندازہ 1990ء سے لے کر 1993ء تک بخوبی لگایا جا سکتا ہے نوازشریف کی کامیاب سیاسی حکمت عملی نے پنجاب میں کسی دوسری جماعت کو کامیاب نہیں ہونے دیا۔

    عمران خان کے بیانیہ پر ن لیگ کیسے حاوی ہو سکتی؟ تجزیہ :شہزاد قریشی

    پیپلزپارٹی کے سنجیدہ اور بھٹو کے قریبی دوستوں کو یاد ہوگا پیپلزپارٹی کے وجود کو ختم کرنے کے لئے ایم کیو ایم معرض وجود میں آئی کیا صوبہ سندھ میں پیپلزپارٹی کے وجود کو ختم کیا گیا؟ اس لئے آصف علی زرداری کو تاریخ سے سبق حاصل کرنا ہوگا ۔ان دنوں ملکی سیاست میں پردے کے پیچھے بہت کچھ جاری ہے چلئے عمران خان کو مائنس کر دیا گیا، وہ نااہل ہو گیا لیکن کیا نوازشریف کو نااہل اور سزا دے کر ان کی جماعت کو ختم کر دیا گیا نوازشریف آج بھی عوام میں مقبول ہیں۔ کیا مریم نواز کو سزا دی گئی کیا مریم نواز کی مقبولیت ختم ہو گئی۔

    سیاسی انتشار کی وجہ قیادت کا فقدان، تجزیہ: شہزاد قریشی

    بھٹو کا نام ختم ہو گیا کیا محترمہ بے نظیر بھٹو آج بھی عوام کے دلوں اور دماغ میں زندہ نہیں؟ اسی طرح عمران کا سیاسی مقابلہ کرنے کے بجائے جن راستوں کاانتخاب پی ڈی ایم کر رہی ہے اس سے عمران خان کی عوامی مقبولیت میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ جس طرح بھٹو اوران کی بیٹی موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس کا استقبال کیا بہت کم سیاستدان ہیں جو اس طرح کے بہادر ہیں۔ عمران خان بھی معلو م نہیں کتنا بہادر ہے تاہم ان کا سیاسی مقابلہ نوازشریف ہی کر سکتا ہے ۔ وطن عزیز میں سیاستدانوں کا رویہ سیاست کو مقتل گاہ کی طرف لے کر جا رہا ہے ۔

  • سیاست میں عزت و احترام کے قائل ہیں،چودھری پرویزالٰہی

    سیاست میں عزت و احترام کے قائل ہیں،چودھری پرویزالٰہی

    وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی سے سیکرٹری جنرل وفاق المدارس العربیہ پاکستان مولانا محمد حنیف جالندھری اور سیالکوٹ سے رکن پنجاب اسمبلی احسن سلیم بریارنے ملاقات کی.

    آسمانی طاقت اور عوام عمران خان کے ساتھ ہیں،شیخ رشید

    ٰمولانا محمد حنیف جالندھری نے نکاح نامے میں ختم نبوتؐ کے حلف نامے کی شق شامل کرنے پر وزیر اعلی چودھری پرویزالٰہی کے مثالی اقدام کو سراہا

    مولانا محمد حنیف جالندھری نے کہا کہ آپ کا یہ احسن اقدام دین کی بڑی خدمت ہے، اقدام انتہائی قابل قدر ہے جو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا،صوبے میں مذہبی رواداری اور ہم آہنگی کے فروغ کیلئے آپ کی سربراہی میں پنجاب حکومت نے بہترین اقدامات کئے ہیں۔

     

    پنجاب حکومت کا شریف خاندان سے تمام اضافی سیکیورٹی واپس لینےکا فیصلہ

     

    چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ نکاح رجسٹرار کو ختم نبوت ﷺ کے حلف نامے والے نئے فارم فراہم کرنے کے لئے متعلقہ محکمے کو ہدایات جاری کردی ہیں، نئے فارم نہ دینے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ نیا نکاح فارم استعمال نہ کرنے والے نکاح رجسٹرار کو 1 ماہ قید اور جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔

    چودھری پرویزالٰہی نے مذید کہا کہ یوم عاشور پر مذہبی رواداری کے فروغ کے علماء کرام کے کردار کے معترف ہیں۔پنجاب حکومت تمام مکاتب فکر کے علماء کرام کے مثالی تعاون کو تحسین کی نظر سے دیکھتی ہے۔علماء کرام کے تعاون اور حکومتی اقدامات کے باعث امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی ہے،حافظ عمار یاسر اور رمیش خان بھی اس موقع پر موجود تھے

    علاوہ ازیں وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الہٰی سے سیالکوٹ سے رکن پنجاب اسمبلی احسن سلیم بریارنے ملاقات کی ہے.پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما سلیم بریار اور صوبائی وزیر راجہ بشارت بھی اس موقع پر موجود تھے

    وزیراعلی پنجاب چودھری پرویز الہٰی نے کہا کہ ووٹ کو عزت دو کا کھوکھلا نعرہ اپنی موت آپ مرچکا ہے، پاکستان میں صرف دیانتداری کی ہی سیاست چلے گی،عوام نے ضمنی انتخابات میں پی ڈی ایم اے کی منفی سیاست کو دفن کر دیا، سیاست میں عزت و احترام کے قائل ہیں،آپ سب میری ٹیم ہیں، مل کر صوبے کے عوام کی خدمت کرنی ہے، جلد سیالکوٹ کا دورہ کروں گا-

  • گلیاں ہو جاون سُنجیاں — حسام درانی

    گلیاں ہو جاون سُنجیاں — حسام درانی

    پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اتنے اتار چڑھاو ہیں کے سیاست کے طالبعلم سیاسیات میں پی ایچ ڈی کرنے کے بعد بھی اس سوچ میں ہوتے ہیں کے کونسا سسٹم ملک عزیز میں چل رہا ہے، برصغیر میں ایک وقت میں جہاں گاندھی جیسا زیرک سیاست دان تھا تو دوسری جانب قائد اعظم سواسیر کی شکل میں سامنے تھے، لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا رہا انکے پیشرو اس قابل ہی نا تھے کے وہ گاندھی یا قائد کی وراثت کو آگے لے جاتے جسکا نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔

    خیر بات کرتے ہیں پاکستان کی تو حالیہ لاٹ میں موجود سیاست دانوں کے بارے میں کچھ کہنا سورج کو چراغ دیکھانے کے برابر ہے مطلب ” اللہ دے اور بندہ لے”

    پاکستان کی سیاست میں سب سے بڑا کردار ہمیشہ سے ہے عدلیہ کا رہا ہے، بطور سیاست کے طالبعلم کے احقر ہمیشہ عدلیہ کو ایک ایسے مقام پر دیکھتا رہا جس کے باے میں بات کرنا یا غلط سوچنا بقول لکھاری

    ” اس مقام پر فرشتوں کے پر جلتے ہیں”

    لیکن 1947 سے لے کر تا دم تحریر الحمداللہ عدلیہ نے ہمیشہ نظریہ ضرورت کو ہی پاکستان کی سیاست میں رائج کیا، اور ہمیشہ وقت کے بادشاہ کا ساتھ دیا جیسے ایک وقت میں یورپ چرچ کے طابع تھا ویسے ہی مقننہ ہمیشہ سے ہی عدلیہ کے طابع رہی بلکہ حالیہ دنوں میں تو کسی بھی قسم کی قانون سازی کی سہولت بھی مقننہ سے لے کر عدلیہ نے اپنے پاس رکھ لی اور دے پر دے فیصلوں کے بعد یہ کہتے نظر آئے کے اگر ہمارا کوئی فیصلہ غلط تھا تو اسکو درست کرنے کا ہمیں پورا اختیار حاصل ہے، خیر” دروخ با گردن راوی” سانوں کی تے تینوں کی۔۔۔

    ویسے آجکل جو حالات ہم دیکھ رہے ہیں وہ بطور صحافی یا ٹی وی پروگرام پروڈیوسر گزشتہ 9 سال سے دیکھ رہے ہیں، اگر سہوا کچھ قلم سے الفاظ تحریر بھی ہو جائیں تو ڈر لگ جاتا ہے کے کہیں تو ہین عدالت کے مرتکب نا ہو جائیں، کہیں کسی ادارے کا فون نا آ جائے کہیں ہتک سیاسی کے ذمرے میں نا آ جائیں اور اگر ان تما م سے بچ جائیں تو توہین مذہب اور توہین ریاست کی انتہائی گہری اور لمبی چوڑی کھائی سامنے نظر آ رہی ہوتی ہے۔۔

    میرا یار بوٹی اکثر مجھے کہا کرتا ہے کے اگر تم چاہتے ہو کے لوگ تمہاری بات سنیں تو کچھ نا بولو، چاہتے ہو کے لوگ تمہارے کہے پر عمل کریں تو کچھ نا لکھو، پہلے تو اس بات کی سمجھ نہیں آتی تھی لیکن اب آہستہ آہستہ بات کی سمجھ آ تی جا رہی ہے، لیکن میرا یار خاص ایجنٹ ایکس ہمیشہ ایک ہی بات کرتا ہے کے انسان جب تک زندہ ہے اسکو کھرک رہتی ہے ۔۔۔۔ آگے آپ سب سمجھ دار ہیں
    بات تو کہیں کی کہیں نکل گئی ، قصہ مختصر یہ کے ” گھسن نیڑے یا رب نیڑے” ویسے تو اس وقت ملک میں عدلیہ ہی سب سے ہاٹ فیورٹ ہے یار لوگ اسکی کے فیصلوں پر لڈیاں ڈالتے ہیں اور ساجا، ماجا گاما اپنا ساڑ نکالتے ہیں، لیکن جو بھی ہے ہر دو فریق جو کبھی فاعل، یا مفعول کی حالت میں رہتے ہیں کچھ دنوں کے بعد اپنا بابا اوپر رکھنے کے لئے تکڑی والے بابا کے پاس پہنچ جاتے ہیں اب تکڑی والے بابا کی مرضی وہ جسکی روٹی میں سے حصہ نکال کر خود کھا لے یا دوسرے پلڑے میں رکھ دے، اس معاملے میں کبھی میرا یار بوٹی خوش ہوتا ہے یا پھر میرا یار ایجنٹ ایکس نہال، لیکن ہر دوصورت میں ہمارے پاس بیچنے کے لئے منجن وافر مقدار میں موجود ہوتا ہے۔

    لیکن اگر بات حق و سچ کی ہو تو میرا ہیرو تمہارا ولن ، مطلب جو چیز میرے حق میں ہو وہ ہی سچ ہے اور باقی سب جھوٹ، اب اگر حالیہ حالات کو دیکھا جائے تو تمامتر ملکی سیاسی جماعتیں ، تمامتر ہائیکورٹس و سپریم کورٹس کی بار کونسلز ، اور 12 ججز ایک جانب لیکن ہم خیال تکڑی والے بابے سمیت ایک سیاسی پارٹی ایک جانب۔

    2018 کے اوائل میں بھی حالات ایسے ہی تھے جب اس وقت کے بابے نے چن چن کر تمامتر ممکنہ رکاوٹوں کو یا تو جیل کی ہوا کھلائی یا انکو اس قابل ہی نا چھوڑا کے وہ کسی ایک مطلب ایک کے مقابلے میں نا آ سکیں ، وہ سابقہ بابا جی اپنے ہر فیصلہ کے بعد کسی کوفیض یاب کرنے کے بعد کہا کرتے تھے کے انکے فیصلے تاریخ کا حصہ بنتے ہیں اور جب کوئی ناہنجار انکے سامنے انکے ہی کسی پرانے فیصلہ کا حوالہ دیا کرتا تھا تو اسکی کھنچائی کر دی جاتی تھی کے تم ہوتے کون ہو میرے سابقہ فیصلے کو میرے سانے دہرانے والے اس وقت اس فیصلہ کی ضرورت تھی اب نہیں

    ایک وہ وقت تھا اور اب ایک یہ وقت ہے جب قاضی القضاء اس بات کو خود ہی دہرانے پر مجبور ہو گئے ہیں کے وہ نہایت پرہیزگار، عبادت گزار و متقی ہیں وہ جو بھی فیصلہ کریں وہ وقت کی ضرورت ہے ابھی حالیہ دنوں میں جب انکو کہا گیا کے جناب اپکا سابقہ فیصلہ یہ تھا تو انہوں نے فرمایا بے شک وہ فیصلہ غلط تھا لیکن وہ اس وقت ضروری تھا اور اب جو فیصلہ دے رہا ہوں وہ اس وقت کی ضروت ہے۔۔۔
    بقول میرے منشی کے ” بگے نک آلے کتورے دی جوٹھ حلال اے”

    اور تکڑی والے بابا جی کے حالیہ معرکتہ آلارا فیصلہ کے بعد سامنے آئی۔۔۔

    اب بابا جی نے بنواس لے لیا ہے اور سوہنا ہر سو یہ گاتا پھر رہا ہے ۔۔

    گلیاں ہو جان سنجیاں تے وچ مرزا یار پھرے

  • قومی سلامتی کے اداروں پر ذمّہ داری بڑھ گئی: تجزیہ:-شہزاد قریشی

    قومی سلامتی کے اداروں پر ذمّہ داری بڑھ گئی: تجزیہ:-شہزاد قریشی

    ملکی معیشت اور سیاست کے افق پر غیر یقینی کے بادل گہرے ہو گئے ۔ جاری سیاسی رسہ کشی اور اقتدار کی جنگ نے ایک خطرناک نہج اختیار کرلی۔ جس پر قومی سلامتی کے اداروں پر بہت بڑی ذمہ داری آن پڑی ہے۔ سیاسی کشمکش کے زہریلے اثرات نہ صرف معیشت بلکہ مقتدر حلقوں کی صفوں میں سرایت کرتے جا رہے ہیں۔

    وقت آن پڑا ہے کہ مقتدر حلقے اور سیاسی زعماء سرجوڑ کر بیٹھیں۔ ماضی کی غلطیوں، غلط فیصلوں، کوتاہیوں کو خلوص دل سے تسلیم کر کے اور کروا کے مستقبل میں اپنی حدود اور قیود کا نئے سرے سے تعین کریں اور فیصلہ کریں ملک میں معاشی استحکام ہو۔ ذاتی پسند ناپسند اپنی مرضی کے ججوں، جرنیلوں، دوسرے اہم اداروں میں تعیناتیوں کی دوڑ میں ہم آج اس مقام پر کھڑے ہیں۔ اگر اس وقت بھی اقتدار اور اقرباء کی حوس کو لگام نہ ڈالی گئی اور جج میرا جنرل میرا وزیراعظم میرا وزیراعلیٰ میرا چیئرمین۔ میرا میم ڈی میرا وزیر خارجہ میرا وروزیر خزانہ کی رٹ جاری رہی تو ملک اور عوام کو اس کا مزید نقصان ہو سکتا ہے۔

    اس وقت ایک اخلاص محبت الوطنی اور سچائی کے جذبے کی ضرورت ہے جو ذاتیات سے بلند ہو کر اعلیٰ ذہانت اور بے لوث قیادت کے ساتھ وطن عزیز کو سیاسی و معاشی منجدھار سے نکالے اب مزید تاخیر کی گنجائش نہیں ملکی سیاسی گلیاروں میں افواہ پھیلانا روزمرہ کا معمول بن چکا ہے۔ ملکی قومی سلامتی کے اداروں کو اپنی اصلاح کرنے کا پیغام دینا ہرذی شعور پاکستانی کا حق ہے مگر تواتر کے ساتھ پاک فوج اور ملکی سلامتی کے اداروں پر تنقید ملک کمزور کرنے کے مترادف ہے۔

    ملکی حالات کے پیش نظر سیاستدانوں کو قومی سلامتی کے اداروں پر الزام تراشی سے گریز کرنا چاہئے۔ عراق، لیبیا، شام، افغانستان ، آج اگر کھنڈرات کی شکل اختیار کر چکے ہیں ان ممالک میں قومی سلامتی کے اداروں کو متنازعہ بنایا گیا عالمی طاقتوں نے کمزور قومی سلامتی کے اداروں کو دیکھ کر ان ممالک کا حشر نشر کر دیا آج یہ ممالک عبرت کا نشان ہیں ان ممالک کو دیکھ کر ہمارے سیاستدانوں کو اقتدار کی حوس میں اپنے قومی سلامتی کے اداروں کو متنازعہ بنانے سے گریز کرنا چاہئے۔ ہم اپنے جن قومی سلامتی کے اداروں کو متنازعہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں اگر کسی باہوش بھارتی سے پوچھیں تو وہ ڈرتا بھی انہی اداروں سے ہے۔

  • 17 جولائی کو لوٹے کی سیاست ہمیشہ کے لئے دفن کردیں گے،یاسمین راشد

    17 جولائی کو لوٹے کی سیاست ہمیشہ کے لئے دفن کردیں گے،یاسمین راشد

    پاکستان تحریک انصاف سنٹرل پنجاب کی صدر ڈاکٹر یاسمین راشد ، جنرل سیکٹری حماد اظہر ، امیدوار ملک نواز اعوان عمر ڈار شبیر سیال اور نادر بھٹی نے بابر چوک یوسی 229 پی پی 168 میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہے 11 کرپٹ جماعت اکٹھی ہونے کے باوجود بھی تحریک انصاف سے خوفزدہ ہیں ، ناجائز حکمرانوں کا ٹولہ مل کر بھی عمران خان کا مقابلہ نہیں کر سکتا .

    انہوں نے کہا کہ عمران خان کا بیانیہ مضبوط ہے ناجائز حکمران امریکا سے مل کر پی ٹی آئی کی حکومت پر شب خون مارا نا جائز طور پر ملک پر قابض ہوا اور این ار اوٹو حاصل کیا پی پی 168 کا لوٹا حلقے میں خریدو فروخت کررہا ہے حلقے کی با شعورعوام 17 جولائی کو لوٹے کی سیاست اسی حلقے میں ہمیشہ کے لئے دفن کردیں گے لوٹوں کا ٹولہ عوام کو گمراہ نہیں کر سکتا لوٹوں کا کوئی مستقبل نہیں نوٹوں کا نظریہ صرف پیسہ ہے لوٹوں سے عوام نفرت کرتے ہیں اور 17 جولائی کو لوٹوں کی سیاست کو مسترد کریں گے

    راسمین راشد کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف بڑے مارجن سے 20 نشستیں جیتے گی ناجائز پنجاب کی حکومت کا خاتمہ ہونے والا ہے نون لیگ ضمیر فروشوں چوروں ڈاکوؤں اور لٹیروں کی جماعت بن چکی ہے مہنگائی آسمانوں سے باتیں کر رہی ہے عوام خود کشی کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں چور ڈاکو اقتدار کے منصب پر قابض ہے 17جولائی پنجاب کے باشعور عوام پی ٹی آئی کے حق میں اپنا تاریخ ساز فیصلہ دیں گے اور پی ٹی آئی ضمنی انتخابات جیت کر پنجاب میں اپنی حکومت بنائے گی بکنے والوں لوٹوں کا عوام محاسبہ کریں گے شکست لوٹوں کا مقدر بن چکی ہے جھوٹوں کی نانی مریم نواز بڑھکیں مارکر عوام کو بے وقوف نہیں بنا سکتی عوام شریف خاندان کی حیثیت کو جانتے ہیں بیرون ملک عوام کے ٹیکسوں کے پیسوں پر عیاشی اور محلات بنانے والوں کا چہرہ پاکستانی قوم پہچانتی ہے شریف اور زرداری خاندانوں نے گیارہ سو ارب روپے چوری کیا کیا گیا پیسہ قوم کا ہڑپ کر لیا ہے عوام ان کو ووٹ نہیں دیں گے