گور نر پنجاب چوہدری محمدسرور کی پارٹی وفود سے گفتگو ہوئی جس میں انہوں نے کہا کہ 26مارچ دور ہے پتہ نہیں پی ڈی ایم لانگ مارچ پر قائم رہتی بھی ہے یا نہیں ۔ حکومت مضبوط ہے لانگ سے بھی لانگ مارچ کا سامنا کر نے کو تیار ہے ۔ سینیٹ انتخابات کیلئے بھی حکومت اور اتحادی جماعتیں ایک پیج پر ہیں۔ پی ڈی ایم جماعتیں کبھی ایک پیج پر آئی ہیں اور نہ ہی آئندہ آئیں گی ۔ انشاء اللہ 3مارچ کو سینیٹ انتخابات کا معر کہ بھی پے پی ٹی آئی جیتے گی ۔ سیاسی مخالفین کے پاس کوئی نظر یہ اوراصول نہیں پی ڈی ایم عارضی اتحاد ہے ۔
حکومتی مضبوطی کے بعد اپوزیشن کو سمجھ نہیں آرہی وہ اب کیا کر یں ۔ اداروں کو سیاست میں نہیں گھسیٹنا چاہیے اداروں کی مضبوطی ملک کی مضبوطی ہے ۔ اپوزیشن کے پاس حکومتی مینڈیٹ تسلیم کرنے کے سوا اب کوئی آپشن نہیں۔ وزیر اعظم عمران خان عام آدمی کی ترقی اور خوشحالی کیلئے کام کر رہے ہیں ۔ صحت انصاف کارڈ جیسے منصوبے عوام دوستی کی عظیم مثال ہیں ۔
Tag: سیاست

اداروں کو سیاست میں نہیں گھسیٹنا چاہیے اداروں کی مضبوطی ملک کی مضبوطی ہے ۔ ،گور نر پنجاب کی وفود سے گفتگو

خیبر پختونخواہ حکومت نے عمران خان کے ویژن کے مطابق عوام کو سہولیات فراہم، وزیر اطلاعات و ہائرایجوکیشن کامران خان بنگش
خیبر پختونخواہ کے وزیر اطلاعات و ہائرایجوکیشن کامران خان بنگش کی لاہور پریس کلب کے پروگرام میٹ دی پریس میں شرکت
خیبر پختونخواہ کے وزیر اطلاعات و ہائرایجوکیشن کامران خان بنگش نے لاہور پریس کلب کے پروگرام میٹ دی پریس میں شرکت کی۔ لاہورپریس کلب کے صدر ارشد انصاری ، سیکرٹری زاہد چوہدری ، جوائنٹ سیکرٹری خواجہ نصیر ، ممبر ان گورننگ باڈی نفیس احمد قادری ، فوزیہ غنی اور سینئرجرنلسٹ نعیم مصطفی نے معززمہمان کو کلب آمد پر خوش آمدید کہا۔ خیبر پختونخواہ کے وزیر اطلاعات و ہائرایجوکیشن کامران خان بنگش نے میڈیاسے گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ میں آج لاہور رپریس کلب آکربہت خوش ہوں اور پریس کلب کی نو منتخب گورننگ باڈی کو مبارکباد پیش کرتاہوں۔ انھوںنے حکومت کی کارکردگی بیان کرتے ہوئے بتایاکہ خیبر پختونخواہ حکومت نے ریاست مدینہ کے ویژن کے مطابق صحت کارڈ دئیے، صحت کارڈ کے تحت دس لاکھ تک علاج مفت کرایاجاسکتاہے، پشاور بی آر ٹی پر سیاست کی گئی مگر ہم عوام کو سہولت دے رہے ہیں،خیبر پختونخواہ حکومت نے عمران خان کے ویژن کے مطابق عوام کو سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں،مولانا فضل الرحمن، امیر مقام اور اسفندر یار بھی صحت کارڈ سے دس لاکھ روپے کا علاج کروا سکتے ہیں، ۔ انھوںنے مزیدبتایاکہ ہمارے بی آر ٹی کو ناکام بنانے کی کوشش کی گئی جو ہمارا کامیاب منصوبہ ہے ،ہم روزانہ دو لاکھ تک افراد کو ٹرانسپورٹ مہیا کر رہے ہیں، سوات ایکسپریس وے فیز ون کو مکمل کیا،کے پی کے جنوبی اضلاع پہلے نظر انداز کئے جا رہے تھے جہاں پہلے ڈی آئی خان موٹروے بنا رہے ہیں،پچھلے دو ماہ میں گلیات میں سات لاکھ سے زائد سیاح آئے، وزیراعظم کے ویژن کے مطابق آٹھ نئے سیاحتی زون بنانے کے ٹارگٹ میںسے چار سیاحتی مقامات کو ہم بنا چکے ہیں، تیس سال ایک جنگ سے گزرے ہیں، معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے تحت 17 اکنامک زون بنا دئیے گئے ہیں، کے پی کے پہلا صوبہ ہے جہاں رسکئی اکانومی زون میں دو لاکھ لوگوں کو روزگار ملے گا جو چین کے تعاون سے بنایا ہے، اسی طرح کے پی کے میں ماربل انڈسٹری کو فروغ دینے کے لئے چکرال اکانومک زون بنا رہے ہیں جبکہ توانائی کے شعبے میں انقلابی اقدامات کئے ہیںاور ساڑھے تین سو چھوٹے پن بجلی کے منصوبے بنائے ہیں،خیبر پاس اکانومک زون ہمارے لوگوں کے لئے نئی معاشی سرگرمیاں لے کر آئے گا،چشمہ رائٹ بنک کنال سے صوبے میں زرعی انقلاب آئے اور 2 لاکھ 60 ہزار ایکڑ سے زائد زمین قابل کاشت بن جائے گی، تعمیراتی شعبے میں ترقی کی جانب بڑھتے ہوئے نئی رہائشی سوسائٹیاں بنائی جارہی ہیں اور کے پی کے میں بلند و بالا عمارتیں بنانے کی اجازت دے دی ہے۔ ان کا کہناتھاکہ علماءکرام کو حکومت جون 2021 سے فی کس ماہانہ دس ہزار روپے دے گی جس سے وہ عزت نفس کو برقرار رکھتے ہوئے ضروریات زندگی کو بہتراندازمیں ادا کرسکیں گے۔ انھوں نے کہاکہ صوبے میں سات پناہ گاہیں بنائی ہیں اب ہم اس کو چونتیس اضلاع میں لے کر جا رہے ہیں۔فاٹاکے سات قبائل ختم ہو کر کے پی کے کا حصہ بن چکے ہیں جہاں کبھی 20 ارب روپے سے زائد کے ترقیاتی منصوبے نہیں ہوئے اسے ہم 70 ارب روپے تک لے کر جائیں گے فاٹا انضمام پر سیاسی پنڈت اسے نا مکمن قرار دیتے تھے لیکن ہم نے وہ کر کے دکھایا ہے،اب قبائل میں ایف سی آر کا قانون ختم کیا،ہم سیاسی کرپٹ ٹولوں کا خاتمہ اپنی کارکردگی سے ختم کیا،17 ارب یونٹس بجلی کے نیشنل گرڈ میں جاتے ہیں ۔ ان کا کہناتھاکہ بھاشا ڈیم اور کالا باغ ڈیم کا ایک غیر متنازع تجزیہ ہونا چاہیے ،کالا باغ ڈیم اور بھاشا ڈیم پر ایک نیوٹرل کمیشن بننا چاہئیے تاکہ جو بھی اس پر سیاست کرے اس کا احتساب ہو ،پشاور اور گومل یونیورسٹی خسارے میں اس کے لئے ہم بہترین اقدامات کرنے جا رہے ہیں، مالم جبہ اسکینڈل کو ایک پروپیگنڈا ٹول بنا کر پیش کیا جارہا ہے،مالم جبہ پر ٹیکنیکل ایشو آرہا ہے، دلیپ کمار اور راج کار کی حویلیوں کے بارے مالکان کیساتھ رابطے میں ہیں، پنجاب اور کے پی کے وزیر اعلیٰ دونوں ہی عاجز اور کام سے مخلص اور ایماندارہیں دونوں وزرا اعلی 24 میں سے 18 گھنٹے کام کرتے ہیں،خوش شکل ہونا اتنا معنی نہیں رکھتا جتنا کہ عاجز ہونا رکھتا ہے ، کے پی کے لوگ بکاو ¿ نہیں ہیں۔ صدر ارشد انصاری اور سیکرٹری زاہد چوہدری نے معززمہمان کی کلب آمد پر ان کا شکریہ اداکیا اور ان کی جانب سے حکومت کے ترقیاتی کاموں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہاکہ بطورپاکستانی اورصحافی ہم کے پی کے میں ہونے والے ترقیاتی کاموں سے خوش ہیںاور اس میں مزید ترقی کے لئے دعاگوہیںاورجس طرح آپ نے ہمیں فراخدلانہ طورپرکے پی کے میں ہونے والی ترقیاتی کاموں کاجائزہ لینے کی دعوت دی ہے ہم اس کے لئے آپ کے مشکورہیں۔خیبر پختونخواہ کے وزیر اطلاعات و ہائرایجوکیشن کامران خان اور ان کے ساتھ آئے خیبرپختونخواہ کے ڈائریکٹر جنرل انفارمیشن اینڈ پبلک ریلیشنزبہرامند درانی کو کلب کی جانب سے یادگاری شیلڈزپیش کی گئیں۔
صوبائی وزیر اطلاعات سید ناصر حسین شاہ سے پیپلز پارٹی کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات چوہدری منور انجم کی ملاقات
صوبائی وزیر اطلاعات سید ناصر حسین شاہ سے پیپلز پارٹی کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات چوہدری منور انجم کی ملاقات، ملک کی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال
کراچی (30 جنوری 2021 ): صوبائی وزیر اطلاعات و بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ سے پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات چوہدری منور انجم کی علی ھاؤس پر ملاقات کی۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال اور بالخصوص پی ڈی ایم کی تحریک پر تبادلہ خیال کیا۔ صوبائی وزیر اطلاعات سندھ سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت کی نااہلی اور نالائقی کی وجہ سے عوام شدید پریشان ہے اور پی ڈی ایم کی طرف دیکھ رہی ہے کہ کب اس نااہل اور عوام دشمن ٹولے سے قوم کو نجات ملے گی۔ اس سے قبل مرکزی ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات چوہدری منور انجم نے صوبائی وزیر اطلاعات سندھ سید ناصر حسین شاہ کی والدہ کے انتقال پر تعزیت کی اور مرحومہ کے ایصال ثواب کیلئے دعا کی۔

میں 24 گھنٹے حاضر ہوں
قصور
میں 24 گھنٹے کسان بھائیوں کے لیے حاضر ہوں، ان خیالات کا اظہار پاکستان کسان اتحاد کے ضلعی صدر چوہدری تبسم پرویز بھلر نے ایک کارنر میٹنگ میں کیا
تفصیلات کے مطابق چوہدری تبسم پرویز بھلر نے ایک کارنر میٹنگ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بجلی کے بلوں میں ٹیکسز کی مد میں سینکڑوں کسانوں کا معاشی قتل کرنے پر ہم حکومت کے اس رویے کی پر زور مذمت کرتے ہیں، انھوں نے کہا کہ میں 24 گھنٹے کسان بھائیوں کے لیے حاضر ہوں. میٹنگ کی میزبانی سٹی صدر پاکستان کسان اتحاد شیخ شبیر احمد نے کی۔سٹی صدر شیخ شبیر نے تمام کسانوں کو دعوت دی کہ واپڈا، اریگیشن یا ریوینیو کسی بھی شعبہ میں مسلئہ ہو تو ہمارا ڈیرہ حاضر ہے اور مسائل حل کروائیں گے۔ اس موقع پر سینکڑوں کسانوں نے شرکت کی
مولانا فضل الرحمن بھی خارجیانہ روش پر!!! تحریر غنی محمود قصوری
ارض پاک کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ حکومتی اداروں سے ٹکراءو ہے جس سے پاکستانی گورنمنٹ کے علاوہ عام پاکستانی عوام کا جانی اور مالی نقصان بھی ہوتا ہے یوں تو قیام پاکستان کے بعد سے ہی ایسے شر پسند عناصر اپنے ذاتی مفاد کی خاطر ابھرنے لگے تھے مگر پچھلی تین دہائیوں سے ایسے شر پسند عناصر اور تنظمیوں میں بہت حد تک اضافہ ہوا ہے جس کے پیچھے خالصتا پاکستان مخالف بیرونی ہاتھ ہیں جیسا کہ ٹی ٹی پی اور پی ٹی ایم کی تانیں اسرائیلی موساد اور ہندوستانی خفیہ ایجنسی را سے ملتی ہیں
حالانکہ آئین پاکستان 1973 کے آرٹیکل 256 کے تحت کوئی بھی سیاسی و مذہبی جماعت، تنظیم یاں فرد ایسی کوئی بھی ٹیم تیار نہیں کر سکتا جو فوج جیسی صلاحیت رکھتی ہو یعنی کہ ایسا دستہ جو مسلح ہو یاں غیر مسلح ہو کر فوج جیسی کاروائیاں کر سکے، مار کٹائی وگوریلا جنگ اور روایتی جنگ جیسی صلاحیتیں رکھتا ہو آئین میں اس آرٹیکل کا ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ کوئی شخص یاں گروہ اپنی فوج بنا کر ارض پاک کو نقصان نا پہنچا سکے کیونکہ ماضی میں اسی بدولت مکتی باہنی بنا کر چند بے ضمیروں نے 1971 میں ارض پاک کو دو ٹکڑوں میں تقسیم کیا تھا
آئین پاکستان کے علاوہ احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی اپنے مسلمان ملک کے اداروں سے مسلح ٹکراؤ کی بڑی سختی سے ممانعت کی گئی ہے اور ایسا کرنے والوں کو خارجی یعنی دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا گیا ہے اور خارجیوں کے متعلق ارشاد ہے کہ یہ جہنم کے کتے ہیں
آئین پاکستان کے مطابق کوئی بھی فرد ،گروہ یاں جماعت کسی بھی حکومتی ادارے کے خلاف عدالت میں اپیل دائر کر سکتا ہے
پاکستان میں ایسی کئی سیاسی و مذہبی جماعتیں ہیں جو آئین پاکستان اور احادیث نبوی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستانی اداروں پر یلغار کر چکی ہیں جن میں حالیہ دہائی میں سر فہرست تحریک طالبان پاکستان، ایم کیو ایم بی ایل اے ،بی ایل ایف اور پی ٹی ایم یعنی پشتون تحفظ موومنٹ ہیں جو کھلم کھلا آئین پاکستان کی خلاف ورزی کرتی رہی ہیں بلکہ کئی بار مسلح ریاستی اداروں پر یلغار بھی کر چکی ہیں جیسا کہ رواں سال 26 مئی کو شمالی وزیرستان کے علاقے بویا میں آرمی چیک پوسٹ پر پی ٹی ایم کے کارکنان نے حملہ کیا اور 5 فوجی شہید اور درجن کے قریب زخمی ہوئے مگر افسوس تو مولانا فضل الرحمن کی سیاسی جماعت کی ذیلی عسکری ونگ انصار الاسلام پر ہے کہ جس نے کل بروز پیر بلوچستان کے علاقے برکھان میں لیویز فورس کی چیک پوسٹ پر قبضہ کرنے کی کوشش کی جس پر لیویز فورس نے اپنے دفاع میں ہوائی فائرنگ کی جس سے انصار الاسلام کے بدمعاش بھاگ گئے مولانا صاحب آپ تو ایک عالم دین اور بزرگ سیاستدان ہیں کیا آپ نے احادیث نبوی اور آئین پاکستان کا مطالعہ نہیں کیا؟ اگر آپ واقعی اسلام آباد کی بجائے اسلام کے ،مجاہد ہیں تو اپنی اس جماعت انصارالاسلام سے برات کا اعلان کیجئے تاکہ واضع ہو سکے کہ آپ پاکستان کی بقاء اور سلامتی کے ضامن ہیں اور آپ کا مقصد اسلام ہے ناکہ کرسی وزارت اسلام آباد یقینا مولانا صاحب آپ کو اپنی جماعت کی کرتوت کی خبر تو مل ہی گئی ہوگی تو پھر دیر نا کیجئے وضع کیجئے کہ کرسی وزارت اسلام آباد یاں صرف اسلام
#قصوریات
اک سال امیدوں کا ۔۔۔ عشاء نعیم
پاکستان میں 2018 کے الیکشن میں برسر اقتدار آنے والی جماعت پی ٹی آئی کو اقتدار سنبھالے ہوئے جولائی 2019 میں ایک سال مکمل ہو گیا ۔
پی ٹی آئی ایک ایسی جماعت ہے جسے نوجوانوں کی جماعت سمجھا جاتا ہے ۔
پاکستانیوں کی اکثریت نے اس جماعت کو نجات دہندہ سمجھا ہوا ہے ۔کیونکہ اس کے سربراہ عمران خان ہیں جو دنیائے کرکٹ میں ایک بڑا نام ہونے کے ساتھ پاکستان کو اپنی کپتانی میں ورلڈ کپ جتوانے والے تو اس کے بعد پاکستان میں پہلی مرتبہ کینسر ہسپتال قائم کرنے والی شخصیت ہیں جہاں غرباء کا مفت علاج بھی ہوتا ہے ۔عمران خان پاکستان کی عوام میں سیاست سے پہلے ہی ہیرو کے طور پہ جانے جاتے ہیں سو لوگوں کو ان سے سیاست میں بھی ہیروئیک کردار کی توقع ہے ۔
وہ ان سے ملک کے تمام مسائل کے خاتمے کی توقع رکھتے ہیں ۔
یہی وجہ ہے کہ ان کے ہر اچھے کام کو بہت زیادہ سراہا جاتا ہے لیکن اگر کوئی کام غلط لگے تو بھی ان کے کارکنان اسے بھی صحیح بنا کر پیش کرنے کی پوری تگ و دو کرتے ہیں ۔
عوام سمجھتی ہے کہ ملک سے ‘مہنگائی ‘کرپشن ‘دہشت گردی ‘لوٹ مار غرض تمام برائیاں عمران خان صاحب ختم کر دیں گے۔
اس حکومت نے بہت بڑے بڑے فیصلے کئے خو انتہائی مشکل بھی تھے ۔
ان میں سے ملک کی بڑی بڑی سیاسی جماعتوں کے کرپشن کیسز بنانا اور ان کے سربراہان کی گرفتاری بھی شامل ہے ۔
نواز شریف اور آصف علی زرداری دو بڑے لیڈد جنھیں پکڑنا کسی دیوانے کا خواب لگتا تھا اس حکومت نے پورا کر کے سب کو حیران کردیا ۔
عمران خان کسی ضدی بچے کی طرح تمام کرپٹ لوگوں سے پیسہ نکلوانے پہ مصر ہیں اور کسی قسم کا کمپرومائز کرنے پہ تیار نہیں ۔
عوام کی اکثریت ان کے اس کارنامے پہ خوش ہے ۔
دوسرا کارنامہ خان صاحب کا بیرون ممالک میں حرمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پہ قانون بنانے کا مطالبہ ہے ۔عوام اس کارنامے پہ انھیں ایک اچھے مسلمان کے طور پہ دیکھتی ہے ۔
خان صاحب کے اچھے کاموں کے ساتھ کچھ ایسے کام بھی تھے جو عوام میں ناپسندیدہ تھے جن میں معاشی بدحالی مہنگائی ‘آسیہ مسیح کی رہائی پہ تو عوام کی اکثریت تڑپ اٹھی ۔
اس کے علاوہ ملک کی ایک محب وطن جماعت ‘جماعت الدعوہ کو بین کرنا ‘ اور کچھ عرصے بعد اس جماعت کے امیر حافظ محمد سعید صاحب کی گرفتاری یہ ایسے امور ہیں جن پر عوام کا شدید رد عمل سامنے آیا۔
سوشل میڈیا پہ عمران خان کو زبردست مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ۔
کیونکہ حافظ سعید صاحب پہ جو دہشت گردی کا مقدمہ بنایا گیا وہ بے بنیاد ہے ۔
حافظ سعید صاحب ایک محب وطن پاکستانی، عالم دین اور پرامن شہری ہیں ۔ان پہ ممبئی حملوں کا جو الزام ہے وہ تو ایک جرمن صحافی بھی ثبوتوں کے ساتھ بتا چکا ہے کہ وہ بھارت کا خودساختہ ڈرامہ تھا ۔
خان صاحب کے کچھ وزرا بھی اپنی وزارت کو چلانے میں ناکام رہے جن کی خان صاحب کو چھٹی کروانی پڑی ۔
البتہ حال ہی میں کیے گئے امریکی دورے میں خان صاحب کا وی آئی پی مہنگے طیارے کی بجائے عام طیارے کا استعمال ‘مہنگے روزانہ لاکھوں کے کرائے کے ہوٹل میں قیام کی بجائے پاکستان کے سفارت خانے میں قیام ‘اور امریکی صدر سے دوٹوک بات کرنا اور امریکی صدر ٹرمپ کا مسئلہ کشمیر میں ثالثی کا کردار ادا کرنے کی خواہش کے اظہار کی وجہ سے خان صاحب پھر عوام کہ آنکھ کا تارا بنے ہوئے ہیں ۔
امید ہے خان صاحب کی حکومت پاکستان کو تمام چھوٹے بڑے مسائل سے نکال کر ‘کرپِشن کا پیسہ واپس لا کر اور سی پیک کا منصوبہ مکمل کر کے عوام کی امیدوں پہ پورا اترے گی ۔
میں کھلاڑی تو اناڑی …. فرحان شبیر
آج کل کھلاڑیوں کا مقابلہ اناڑیوں کے ساتھ پڑا ہوا ۔ شور اتنا ہے کہ رگ رگ میں محشر برپا ۔ ارے روکو، پکڑو یہ دیکھو اناڑی اور اسکی اناڑیوں کی ٹیم کیا کر رہی ہے ، ہائے کاروبار کو جان کر رہے ہیں ۔ یہ ملک ڈبو رہے تباہ کررہے ہیں ۔ پیاز کی پرتوں کی طرح کھل رہے ہیں برف کی باٹ کی طرح پگھل رہے ہیں ۔ وغیرہ وغیرہ وغیرہ وغیرہ
جب تک کھلاڑی حکومت میں تھے سارے دانشوڑ ٹریڈ ڈیفیسٹ کے خطرناک حد تک بڑھنے ، امپورٹ میں پانچ سالوں تک ایک ڈالر تک اضافہ نہ ہونے ، ڈیٹ ٹو جی ڈی ریشو ریڈ لیول کراس کر جانے تک کی خبروں کو ایک آنکھ پر ہاتھ رکھ کر پڑھتے رہے دوسری آنکھ کے سامنے ہمیشہ اشتہارات نظر آتے تھے لہذا معیشت پر بات کرنا وقت کا ضیاع ہوتا تھا ۔ ہائے یہ اگر اس وقت اپنے کیلکولیٹر نکال لیتے تو شاید اسوقت اتنی بھک منگی صورتحال نہ ہوتی ۔ یہ سیانے گرگئے تھے سجدے میں جب وقت قیام آیا ۔کھلاڑی اتنے فنکار تھے کہ آنے والی حکومت کے ہاتھ پاوں باندھنے کے لئیے جاتے جاتے کمال ڈھٹائی کے ساتھ آنے والے سال بجٹ تک خود بناکر گئے ۔ جس میں ریونیو کی قربانی کر کے مختلف طبقات کو ٹیکسز کی چھوٹ دے کر نوازا گیا ۔ تاکہ آنے والی حکومت ریونیو کلیکشن کا ہدف پورا کر ہی نہ پائے ۔ سب کو خوش کرنا تھا لہذا سیلیریڈ پرسن کے ٹیکس کی شرح سے لیکر slabs تک ریلیکس کر کے چلے گئے ۔ بظاہر عوام کو اچھا لگا کہ حکومت نے ریلیف دیا لیکن یہ ریلیف حب علی سے زیادہ بغض معاویہ کا شاخسانہ تھا ۔
پھر اس ٹیم کے سب سے بڑے کھلاڑی اسحاق ڈار کا کارنامہ غلط اعداد و شمار پیش کرنا تھا ۔ ملکی قرضوں کی تفصیل 2016 میں آن ریکارڈ اسمبلی میں غلط جمع کرائی ، فارن ریزرو کے حوالے سے جھوٹ ، بانڈز کے اجرا اور انکی شرح منافع پر جھوٹ ، پاور کمپنیز کی ادایگیوں کے بارے میں جھوٹ ، حتی کہ ملکی اثاثے کی گروی رکھے جانے کی ڈیٹیل بھی غلط اور جھوٹ کہ آج پتہ چل کر حکومت کے ہوش آڑ رہے ہیں ساورن گارنٹیز کی مد میں ہی ایک ہزار ارب روپے سے زیادہ کا قرضہ چڑھا دیا کھلاڑیوں نے ۔ حالانکہ ان کھلاڑیوں نے سب سے پہلا چونا ہی قرض اتارو ملک سنوارو نعرے سے لگایا تھا ۔
پھر جاتے جاتے اک ہور وڈے کھلاڑی ، پندرہ بیس سالوں میں تیزی سے ترقی کرتی ائیر لائن ائیر بلو کمپنی کے مالک، شاہد خاقان عباسی صاحب، خزانے پر ایسی جھاڑو پھیر کر گئے کہ آنے والوں کے پاس ایک پیسہ نہ رہے ۔ چودہ سو سے سولہ سو ارب روپے تک کی ادئیگیاں کرکے گئے ۔ جن ایکسپورٹرز کو پانچ سال ریبیٹ کے لئیے رلایا انہیں بھی کچھ ادئیگیاں اسی دور میں ہوئیں ۔ پھر ادئیگیاں ہی نہیں عباسی صاحب نے تو ایک ارب روپیہ الیکشن سے پہلے وزیر اعظم کے صوابدیدی فنڈ سے نکال کر اپنے بیٹے کے کے حوالے کر دئے، قوم کے ان پیسوں سے جو صوابدیدی فنڈ میں ضرورت مندوں کی مدد کے لئیے ڈالے جاتے ہیں عباسی صاحب کے حلقے کے لوگوں کو عمرہ پیکج دیا گیا ۔ کیا یہ اندھے تھے جو خزانے کی خانہ خراب حالت نظر نہیں آرہی تھی یا واقعی آنے والی حکومت کو ہر حالت میں کانا کرنا تھا ۔ادھر پنجاب گورنمنٹ کے کھلاڑیوں نے اپنی تصویروں اور شہزادے شہزادیوں کی پروجیکشن پر میڈیا بھر میں 430 ارب روپے کے ادھار اشتہار چلا دئیے کہ دیتے رہینگے آنے والے ۔ ورنہ تو میڈیا جانے اور نئی حکومت ۔ میڈیا خود ہی قدموں پر جھکا کر اپنے پیسے نکال لے گا ۔ ۔ واہ یہی تو کھلاڑی پن ہوتا ہے ۔ اپنی ہینگ لگے نہ پھٹکری عوام کے پیسوں سے پبلسٹی کا ڈھول بجاو اور سیاست میں رنگ بھی چوکھا لاو ۔ اب یہی 430 ارب روپیہ اس نئی پنجاب گورنمنٹ کے گلے پڑ گیا ۔ انہی پیسوں کا نہ دینا ہی تو ہے جو میڈیا پر ہر صافی و ناصافی اناڑی اناڑی کی گردان لگائے ہوئے ہے ۔ کسی کو چائے کے نہ پوچھے جانے کا غم ہے تو کسی کو اپنی بے قدری کا ۔ یہ کھلاڑیوں کی عنایت خسروانہ کا فیضان ہے جو آج بڑے بڑے دانشوڑ عمران خان کو ناکام ٹہرانے کے لئیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں ۔
مسلہ یہ ہے یا تو یہ بے چارے معیشت جانتے نہیں اور اگر جانتے تو کھلاڑیوں سے دو چار Basic سے سوال کبھی نہ کبھار تو ضرور پوچھتے ۔ کیونکہ سوال تو یہ بنتا ہے کہ دو ارب ڈالر کے ٹریڈ ڈیفیسیٹ کو بیس ارب ڈالرز تک پہنچانے پر اسحاق ڈار کو اچھا تو کیا صرف معیشت دان بھی کیسے گردانا جاسکتا ہے اتنا تو ایک منشی بھی سمجھتا ہے آمدنی اٹھنی اور خرچہ ایک روپئیا اور جو گدھے اس ٹریڈ ڈیفیسٹ میں نو ماہ میں ہی 30 فید کمی لے آئے وہ آپکی نظر میں کیسے اور بھلا کس طرح اناڑی ہیں ۔
اناڑیوں نے PIA کا loss روک دیا واہ بھئی واہ بڑے زبردست اناڑی ہیں ۔ کھلاڑیوں کو تو شرم آنی چاہئیے کہ پی آئی اے کے نام پر دس سالوں سے ری ویمپنگ ری ویمپنگ کا شور مچانے کے باوجود بھی خسارہ 400 ارب پر پہنچا دیا ۔ جو کہ جمہوریت کے بہترین انتقام کے سب سے بڑے کھلاڑی زرداری کے دور میں شاید 200 ارب تھا ۔ دماغ گھوم کر رہ جاتا ہے کہ آج کے اس دور میں بھی پی آئی اے پر حاضری یا attendance ہاتھ سے رجسٹر میں لکھی جاتی تھی ان بچوں نے اٹیینڈنس کا سسٹم Thumb والا کیا جو آج کے چورن چٹنی بیچنے والوں نے بھی کرالیا ہے ۔ کیا عباسی صاحب کی اپنی ائر لائن ائیر بلو میں بھی اٹینڈینس کا یہی نظام ہوگا اسکا جواب میں آپ پر چھوڑتا ہوں ۔
اور کیا گنوائیں کھلاڑیوں کی فنخاریاں ؟ چلو یہ ہر وقت کھلاڑی اناڑی کا شوڑ مچانے والے دانشوڑ ہی کسی ایک ادارے کا ، بس صرف کسی ایک ادارے کا نام بتا دیں جسے ان مہان کھلاڑیوں نے خسارے سے نکال کر منافع میں لایا ہو ۔ کوئی ایک ادارہ ۔ اور ایسا نہیں ہے کہ دنیا کے ملکوں کے ادارے نہیں کما رہے تھے ۔ Emirates ائیر لائن ہماری PIA کو منہ چڑاتی چڑاتی دنیا کے آسمانوں پر چھا گئی ۔ اور اسکی انگلی پکڑ کر اڑانے والی پی آئی اے اپنے بال و پر نچتے دیکھتی رہی ۔
اسٹیل مل تباہ حال ، جالے پڑھ گئے ۔ وہ اسٹیل مل جو ہماری آج کی امپورٹ بل کی کئی ادائگئیوں سے نجات دلا جو آج ہم اسٹیل کی امپورٹ کی صورت میں لاد رہے ہیں ، ایک بوچھ بن گئی ہے ۔ اسکے ایمپلائز کی تنخواہیں بھی یہ اناڑی کلئیر کر رہے ہیں کہ وہ چلے تو آنے والے دنوں میں چار پیسے بھی کمائے ۔ کوئی سوچ سکتا یے کہ جس ملک میں CPEC سے لیکر دیگر بڑے بڑے پراجیکٹس میں اسٹیل کی بے تحاشہ کھپت ہو، چائنا سے لیکر ملک کی دیگر اسٹیل ملز سے حکومت کو اسٹیل کی Buying کرنا پڑھ رہی ہو اسکی اپنی خود کی سمندری جیٹی رکھنے والی اسٹیل مل سسک سسک کر گھٹ گھٹ کر دم توڑ رہی ہو مسلسل خسارے میں چلانی پڑھ رہی ہو لیکن ریاض لال جی سے لیکر شریفوں کی اپنی اسٹیل فیکٹریاں فولاد پہ فولاد ڈھالے جارہی ہوں ۔ ہذا من فضل ربی ۔ اپنی فیکٹری میں ایک مزدور اضافی نہ رکھو ۔ PIA، اسٹیل مل ، OGDCL , PPL ,M اور ان جیسے سارے کماو پوت اداروں کو بھر دو سیاسی کارکنوں سے ، مس مینیجمنٹ کے ذریعے ڈس انٹیگریٹ کرا دو تباہ کرا دو ۔ اور بعد میں اسکریپ بھی نہ چھوڑو ۔
اسی پاکستان میں ہم دیکھ رہے تھے کہ کورئیر سروسز کے میدان روز روز نئی کمپنیاں نمودار ہورہی تھیں ۔ چیتا ، لیپرڈ، ٹی سی ایس ، DHL ، پھر ڈائیئوو والوں کی بھی کارگو ہینڈلنگ ، پھر ٹرک ٹرالر سے کارگو ہینڈلنگ الگ بزنس ۔ 2۔2 بلین ڈالرز کی کارگو ہینڈلنگ مارکیٹ سے ساری یہ پرائویٹ کمپنیاں اپنا اپنا حصہ وصول کر رہی تھیں وہیں ہمارا اپنا Pakistan post ” ڈاکیا ڈاک لایا ڈاکیا ڈاک لایا والے” سسٹم میں پھنسا ہوا تھا ۔ کسی کھلاڑی کو کبھی توفیق ہی نہیں ہوئی کہ پاکستان پوسٹ کے گاوں گاوں دوردراز کے علاقوں تک بنے بنائے اس سسٹم کو ذرا سا اپ گریڈ کر کے، ڈیجیٹلائز کرکے اور موبائل ایپس پر لاکر کچھ کما کر ملک کے خزانے میں تھوڑا کچھ پیسہ ڈال بھی دیں ۔ اب یہی ” اناڑی” اسی پاکستان پوسٹ کو ڈیجیٹل مارکیٹ میں لے آئے ۔ منی ٹرانفسر کی سہولیات سے موبائل بینکنگ انڈسٹری میں سے بھی اپنا شئیر لیا اور ساتھ میں سامان کی زیادہ ترسیل سے کام بھی زیادہ ہوا ۔6 ارب کا منافع ہوگیا پاکستان پوسٹ کو ۔ یہ آگے اور زیادہ ہونا ہے کیونکہ Cpec کی صورت میں اس پورے خطے میں ٹرانسپوٹیشن سیکٹر میں بیس فیصد کا اضافہ ہوگا ۔ تبھی ہم دیکھ رہے ہیں کہ روٹھی ہوئی ائیر لائینز پھر سے پاکستان واپسی کے روٹس کھول رہی ہیں ۔
مجھے یہ بھی حیرانی ہوتی ہے کہ مُحَمَّد بن سلمان بھی بے وقوف تھا کہ اس نے کہا کہ وہ عمران خان وزیراعظم بننے کا انتظار کرہے تھے ۔ زمانے کے سرد و گرم دیکھے ہوئے ملائیشیا کے قابل احترام وزیراعظم مہاتیر مُحَمَّد بھی غالبا عقل سے پیدل ہوگئے ہیں بقول نارووال کے ارسطو ” اناڑی کے ہاتھ استرا دیکھ کر بھی سنبھل نہیں رہے جو بھاگ بھاگ کر دامے درمے سخنے پاکستان میں انویسٹمینٹ کے پلان لیکر آرہے ہیں ابھی کل ہی کویت نے 22 ارب ڈالرز کی انویسٹمینٹ کا ارادہ ظاہر کیا ہے ۔ 2 لاکھ 20 ہزار فی یونٹ کے لحاظ سے آسانی سے بنائے والے گھروں کی اسکیم تک لانچ کرنے کا ارادہ ظاہر کرہے ہیں ۔
پھر سب بڑھ کر کیا یہ چین کو بھی سمجھ نہیں آرہا کہ” او تیری تو۔۔۔ لٹ گئے۔۔ برباد ہوگئے۔۔۔ یہ پاکستان میں کون اناڑی آگئے۔۔۔ یہ کس کے ہاتھوں میں استرا آگیا ۔۔۔۔وغیرہ وغیرہ ۔ یہاں تو چین کا عالم یہ ہے انہی اناڑیوں کے وزیراعظم کو دورے پر بلا کر پاکستان کو آسیان ممالک ( ملائشیا ، ویٹ نام وغیرہ ) کی طرح کا ڈیوٹی فری معاہدہ کرلیتا ہے کہ ” چل جانی 313 پراڈکٹس ڈیوٹی فری لے آو ” ۔ اس میں پاکستان اگر صرف گارمنٹس میں ہی فوکس کر لے تو وہ ہی اپنے کو کافی ہے بھائی ۔ ایک تو پاکستان کی بہترین کپاس ، ہمارا پہلے سے ٹیکسٹائل میں برسوں کا تجربہ اور ابھی بھی انسٹالڈ اینڈ ان پلیس انڈسٹری اور تیسری اور سب سے بڑی بات چین کی کپڑے کی پوری مارکیٹ ۔ آپ کو جان کر حیرت ہوگی کہ چین سالانہ 625 ارب ڈالرز کے کپڑے ، گارمنٹس اور اس سے متعلقہ آرٹیکلز import کرتا ہے یعنی دنیا سے خریدتا ہے تو اب ہمارے پاکستانی گارمنٹس ایکسپورٹرز کے لئیے سوا ارب لوگوں کی ایک بہت بڑی مارکیٹ کھل گئی ہے ۔ جوکہ بہت بڑی اپرچونٹی ہے پاکستان کے لئیے اپنے پیروں پر دوبارہ کھڑے ہونے کے لئیے ۔ کیونکہ ٹیکسٹائل فارن ایکسچینج کے ساتھ لیبر فورس کو کھپانے میں بھی نمبر ون سیکٹر رہا ہے پاکستان کا ۔میں حیران ہوں کہ یہ اچھے اناڑی ہیں جو ٹیکس کی دنیا کا معتبر ترین نام شبر زیدی کو لے آتے ہیں ایف بی آر کو سنبھالنے کے لئیے ۔ جس نے آتے آہی پاکستان کی معیشت کی خرابی کی روٹ کاز کو ختم کرنے کے لئیے کام شروع کردیا ۔ یعنی معیشت کی ڈاکومینٹیشن ۔ بلیک اکانومی جب سامنے ائیگی تب ہی پاکستان کی معیشت بھی سدھرے گی ۔ ہاں جہاں تک بات آئی ایم ایف کے معاہدے کی ہے تو اس منزل تک نوبت نہ پہنچنے کی ہم نے بھی بہت دعا کی تھی لیکن” بیگرز آر نوٹ چوزرز” والی بات کہ اگر پچھلوں نے اس حال میں چھوڑا ہوتا تو کچھ اکڑ بھی دکھاتے ۔ وہ تو ابتدائی بھاگ دوڑ رنگ لائی دوست ممالک بروقت آگے بڑھے اور یوں پچھلے ایک سال میں پندرہ سولہ ارب روپیہ اسی پاکستان بچاو مد میں آگیا ۔ یہ تھوڑی بہت اکڑ اور بھاگ دوڑ ہی کام آگئی کہ آئی ایم ایف کا شکنجہ اتنا سخت نہیں جتنا پہلے لگنے کا امکان اور رویوں کا پلان تھا ۔ تھوڑا اطمینان یہ تسلی دیکر بھی ہوا کہ امریکہ ہی کے نہیں روس اور چین کے بھی آئی ایم ایف میں شئیرز ہیں ۔ لہذا وہ بھی اب آئی ایم ایف کو اپنا گندہ کھیل کھل کر نہیں کھیلنے دینگے ۔
اپنا کہنا تو یہ ہے اناڑی ٹن کے لگے رہیں دو چار اناڑیوں نے بھی کام دکھا دیا تو قوم کی ان کھلاڑیوں سے جان چھوٹ جائیگی جو ملک کے لئیے نہیں اپنی سینچریاں بنانے کے لئیے کھیلتے رہے اور قوم کی جان بھی ایسے کمنٹریٹروں سے چھوٹ جائے جنہوں نے مداریوں کو کھلاڑی بتا بتا کر قوم کو چونا لگائے رکھا ۔






