Baaghi TV

Tag: سیلاب

  • بلوچستان میں بارشوں اور سیلاب سے تباہی،جاں بحق افراد کی تعداد 166ہوگئی

    بلوچستان میں بارشوں اور سیلاب سے تباہی،جاں بحق افراد کی تعداد 166ہوگئی

    بلوچستان میں سیلاب اور بارشوں سے مزید2افراد جاں بحق ،تعداد166ہوگئی ہے-

    باغی ٹی وی : پی ڈی ایم اے کے مطابق بلوچستان میں بارشوں سے مختلف حادثات میں 75افراد زخمی ہوئے،بلوچستان بارش کے باعث 15ہزار 337مکانات کو نقصان پہنچا ،بلوچستان بارشوں اور سیلاب سے 23 ہزار 13 مویشی ہلاک ہوئے-

    پی ڈی ایم اے کے مطابق بلوچستان میں سیلاب اور بارشوں سے2 لاکھ ایکڑ اراضی پر کھڑی فصلیں متاثر ہوئیں بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ریلیف کی سرگرمیاں جاری ہیں ،بلوچستان میں ریلیف سرگرمیوں میں انتظامیہ ، پاک فوج ، بحریہ اور ایف سی سرگرم ہیں-

    دوسری جانب محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ ملک کےبیشتر علاقوں میں موسم گرم اور مرطوب رہے گا،آزادکشمیر، پنجاب، خیبرپختونخوا،گلگت بلتستان اوربلوچستان میں بارش کا امکان ہے،اسلام آباد میں رات کے دوران تیز ہواؤں اورگرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے-

    محکمہ موسمیات کےمطابق خضدار،بو لان، کو ہلو، قلات، لسبیلہ، زیارت اور بارکھان میں بارش کا امکان ہے ،خطہ پوٹھوہار، گوجرانوالہ، لاہور، سا ہیوال، اوکا ڑہ اور سیالکوٹ میں بارش متوقع ہے،نارووال اورمنڈی بہاؤالدین میں تیز ہواؤں اورگرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے-

    محکمہ موسمیات کے مطابق میرپور خاص میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ ہلکی بارش متوقع ہے دیر، چترال، سوات، مانسہرہ، مردان، کوہاٹ،بنوں ،مالا کنڈ، خیبراورکرم میں بارش کا امکان ہے-

  • وزیراعظم کا ریسکیوکے اقدامات کی چوبیس گھنٹے مانیٹرنگ کرنے کا حکم

    وزیراعظم کا ریسکیوکے اقدامات کی چوبیس گھنٹے مانیٹرنگ کرنے کا حکم

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے سیلاب زدہ علاقوں میں ریسکیو، ریلیف اوربحالی کے اقدامات کی چوبیس گھنٹے مانیٹرنگ کرنے کا حکم دیا ہے

    حکام کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف کو رپورٹ پیش کی گئی جس میں بتایا گیا کہ بلوچستان کی صوبائی حکومت کے تعاون سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کاموں میں تیزی لائی گئی ہے، دیگر صوبوں کی حکومتوں کے تعاون سے اقدامات کئے جا رہے ہیں

    وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے متعلقہ حکام کو بلوچستان میں خاص طور پر بولان، کوئٹہ، ژوب، دکی، خضدار، کوہلو، کیچ، مستونگ، ہرنائی، قلعہ سیف اللہ اور سبی جیسے علاقوں میں امدادی رقوم کی تقسیم کا عمل تیز کر نے کی ہدایت کی گئی ہے وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ سندھ، خیبرپختونخوا اور پنجاب کے متاثرین کی امداد کا عمل مربوط، موثر اور تیز بنایا جائے، سیلاب متاثرین ہم سب کی طرف دیکھ رہے ہیں، کوتاہی برداشت نہیں کروں گا، متاثرین کو خوراک، ادویات اور رہائش کی سہولیات یقینی بنائیں

    سیلاب سے ہونے والے نقصان کے سرکاری اعداد وشمارجاری

    حکومت بارش سے متاثرہ افراد کو معاوضہ دینے کا اعلان کرے،سربراہ پاکستان سنی تحریک

    بارش کے بعد کی صورتحال ، میئر کراچی نے گورنر سندھ سے ملاقات میں وفاق سے مدد مانگ لی

    اکثر ارکان اسمبلی ڈیفنس اور کلفٹن کے رہائشی ہیں انہیں پتا ہی نہیں کہ کراچی کے عوام کے مسائل کیا ہیں،حافظ نعیم الرحمان

    ملک میں سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں پاک فوج کی امدادی سرگرمیاں جاری ہیں

    وزیراعظم نے یکساں انداز میں ملک بھر میں سیلاب متاثرین کی بھرپور مدد کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب زدہ علاقوں میں صفائی، بروقت سپرے کے انتظامات کئے جائیں تا کہ ڈینگی اوردیگر وباؤں سے بچا جاسکے متاثرین کو پینے کے پانی کی فراہمی کےلئے مؤثر اقدامات کریں تاکہ لوگوں کو پیٹ کے امراض سے بچایا جاسکے بلوچستان کے متعلقہ علاقوں میں خوراک، میڈیکل کیمپ اور شیلٹر کا بندوبست کر دیا گیا ہے

  • وزیراعظم شہبازشریف کا دورہ ٹانک تیسری بار ملتوی

    وزیراعظم شہبازشریف کا دورہ ٹانک تیسری بار ملتوی

    وزیراعظم شہبازشریف کا دورہ ٹانک تیسری بار ملتوی کردیا گیا ہے۔اطلاعات کے مطابق وزیراعظم شریف نے آج ٹانک کے سیلاب زدہ گاؤں کا دورہ کرنا تھا۔ اس سلسلے کے تحت وزیراعظم نے آج دن 12 بجے پائی پہنچنا تھا۔ وزیراعظم کوسرکل کنڈیان کے سیلاب زدہ علاقہ پائی کا دورہ کرنا تھا اورسیلاب زدگان سے بھی ملنا تھا ۔

    وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے دورے کے ملتوی ہونے کی وجوہات نہیں بتائی گئیں۔

     

    وزیراعظم شہباز شریف کی رہائش گاہ پر اہم اجلاس:فارن فنڈنگ کیس پر مشاورت

    اس سے قبل پائی میں وزیراعظم کے ہیلی کاپٹر کے لیے پیلی پیڈ سمیت دورے کے تمام انتظامات مکمل کرلئے گئے تھے۔اپنے دورے میں وزیراعظم کی جانب سےسیلاب زدگان کیلئے خصوصی پیکیج کا اعلان بھی متوقع تھا۔ وزیراعظم کی آمد سے قبل ضلعی انتظامیہ،سول و عسکری حکام پائی پہنچ چکے تھے۔

    منی لانڈرنگ کیس، شہباز شریف اور حمزہ شہباز فردجرم کے لیے آئندہ سماعت پر طلب

    اس سے پہلے پاکستان میں بارشوں اور سیلاب کی صورت حال پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ سیلاب سے مشکل صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے کئی محاذوں پر کام کر رہے ہیں، ریسکیو آپریشن میں بھرپور کردار ادا کرنے پر صوبائی انتظامیہ اور افواج پاکستان کا مشکور ہوں۔

     

    تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ٹویٹ میں کہا کہ بلوچستان میں مسلسل بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے ہونے والی تباہی ناقابل بیان ہے۔

    وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ حکومت کے تمام اداروں نے ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے ریسکیو اور ریلیف کا کام اور تیز کر دیا ہے، ہم اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک متاثرین کی آباد کاری مکمل نہیں ہو جاتی۔

    شہباز شریف واقعی خادم اعلیٰ ہیں تو پٹرول 150روپے پرواپس لاؤ،عمران خان

    انہوں نے کہا کہ ہم سیلاب سے پیدا شدہ مشکل صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے کئی محاذوں پر کام کر رہے ہیں، چیلنج یقیناً بہت بڑا ہے لیکن اس چیلنج سے نمٹنے کا ہمارا عزم اس سے بھی مضبوط تر ہے۔انہوں نے کہا کہ میں پوری قوم سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آگے بڑھے اور تکلیف میں مبتلا ہمارے بھائی بہنوں کی مدد کرے۔

    وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا کہ میں ریسکیو اور ریلیف آپریشن میں بھرپور کردار ادا کرنے پر وزیر اعلیٰ بلوچستان، صوبائی انتظامیہ، این ڈی ایم اے اور افواج پاکستان کا خاص طور پر مشکور ہوں۔

  • سیلاب،مکمل تباہ  گھروں کے مالکان کو 6لاکھ روپے فی کس امداد دی جائے گی،پرویزالہیٰ

    سیلاب،مکمل تباہ گھروں کے مالکان کو 6لاکھ روپے فی کس امداد دی جائے گی،پرویزالہیٰ

    وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے جنوبی پنجاب میں سیلاب سے گھروں کو پہنچنے والے نقصانات کے ازالے کے لئے مالی امداد کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ مکمل تباہ ہونے والے گھروں کے مالکان کو 6لاکھ روپے فی کس مالی امداد دی جائے گی جبکہ جزوی طورپرتباہ ہونے والے گھروں کے مالکان کو 4لاکھ روپے فی کس مالی امداد دیں گے۔سیلاب متاثرہ افراد کے لائیوسٹاک کو پہنچنے والے نقصانات کا بھی ازالہ کیا جائے گا۔

    مون سون سیزن ڈینگی کے پھیلاؤ کا خدشہ،وزیراعلیٰ نے بڑا حکم دے دیا

    وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے نقصانات کا تخمینہ لگانے کیلئے سروے کو جلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ڈپٹی کمشنرز اپنی نگرانی میں سروے کومکمل کرائیں۔سروے کا عمل آسان اورسادہ رکھا جائے اورسروے کے لئے مقامی نمائندوں کو بھی آن بورڈ لیا جائے۔متاثرہ افراد کو سروے کے عمل کے دوران کسی قسم کی تکلیف نہیں ہونی چاہیے اور مالی امداد متاثرہ افراد تک جلد از جلد پہنچ جانی چاہیے۔

     

    سیلاب سے جاں بحق افراد کے لواحقین کو معاوضہ 24 گھنٹے میں ادا کرنے کا حکم

     

    وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کو مزید تیز کیا جائے اورمتاثرہ افراد کو خشک خوراک تسلسل کے ساتھ پہنچائی جائے۔دریاؤں میں پانی کے بہاؤ کو مسلسل مانیٹر کیا جائے اوردریاؤں کے پشتے مزید مضبوط بنانے کیلئے فی الفور اقدامات اٹھائے جائیں۔انہوں نے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں رابطہ سڑکوں کی بحالی کیلئے ضروری وسائل اورمشینری بروئے کار لائی جائے۔وزیراعلیٰ نے بتایا کہ میں کل راجن پور اورڈیرہ غازی خان کے سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ کررہا ہوں اورتمام صورتحال کا خود جائزہ لوں گا۔سیلاب متاثرہ افراد کی بحالی پہلی ترجیح ہے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی کی زیر صدارت وزیراعلیٰ آفس میں اعلی سطح کا اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں جنوبی پنجاب کے شہروں راجن پور،ڈیرہ غازی خان خصوصاً تونسہ،مظفر گڑھ میں سیلاب سے پیدا ہونے والی صورتحال اور امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا گیا۔

    عوامی نمائندوں واراکین اسمبلی امینہ جعفر لغاری،محسن لغاری،محمد سیف الدین خان کھوسہ، محمد اویس دریشک،فاروق امان اللہ دریشک، سردار احمد علی خان دریشک،محمد محی الدین خان کھوسہ،عبدالحی دستی،جاوید اختر،خواجہ محمد داؤد سلیمانی،محمد اشرف خان رند، نیاز حسین خان،میاں علمدارعباس قریشی، محمدعون حمید،محمد رضا حسین بخاری،محمد معظم علی خان،نوابزادہ منصوراحمد خان،چیف سیکرٹری کامران افضل،سابق چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ سلمان غنی،سابق پرنسپل سیکرٹری وزیراعلیٰ جی ایم سکندر،متعلقہ محکموں کے سیکرٹریز اوراعلی حکام نے اجلاس میں شرکت کی جبکہ سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو،تمام ڈویژنل کمشنرز،ڈی جی پی ڈی ایم اے اورمظفر گڑھ،راجن پور اورڈیرہ غازی خان کے ڈپٹی کمشنرزویڈیولنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے۔

  • امریکی ریاست کینٹکی میں سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 28 ہو گئی

    امریکی ریاست کینٹکی میں سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 28 ہو گئی

    امریکی ریاست کینٹکی میں سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 28 ہو گئی، مرنے والوں میں بچے بھی شامل ہیں۔

    باغی ٹی وی : امریکی ریاست کینٹکی میں شدید بارشوں، تیز ہواوں اور سیلاب نے تباہی مچادی ہے، سڑکیں اور گھر زیر آب آگئے ہزاروں لوگ بے گھر ہوگئے طوفانی بارشوں اور سیلاب سے کینٹکی کی 13 کاؤنٹیز شدید متاثر ہوئی ہیں۔

    پہاڑی خطے میں آنے والے سیلاب سے پُل اور سڑکیں تباہ ہو گئیں جبکہ موبائل سروسز بھی متاثر ہوئی ہیں۔ حکام کے مطابق اب تک 13 ہزار سے زائد گھر اور کاروبار اندھیرے میں ڈوب گئے۔

    کینٹکی کے مشرقی حصے میں واقع چند علاقوں میں 24 گھنٹوں کے دوران لگ بھگ دس انچ تک بارش ریکارڈ کی گئی سیلاب کے باعث ریاست میں ایمرجنسی نافذ ہے۔ریسکیو ورکرز کشتیوں کی مدد سے پانی میں پھنسے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کررہے ہیں کینٹکی نیشنل گارڈز ہیلی کاپٹرز کے زریعے متاثرہ علاقوں میں امادا پہنچا رہے ہیں

    محمکہ موسمیات نے متاثرہ علاقوں میں مزید طوفانی بارشوں کی پیش گوئی کی گئی ہے گورنر کینٹکی نے سیلاب کے باعث مزید ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا ہے، سات ماہ کے دوران کینٹکی میں قدرتی آفت سے یہ دوسری بڑی ہلاکتیں ہیں اس سے قبل دسمبر میں طوفانی بگولوں سے ریاست میں 80 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

  • شدید سیلاب کے بعد بلوچستان میں 5.6 شدت کا زلزلہ،مکانات کی تباہی کا خدشہ

    شدید سیلاب کے بعد بلوچستان میں 5.6 شدت کا زلزلہ،مکانات کی تباہی کا خدشہ

    کوئٹہ:شدید سیلاب کے بعد بلوچستان میں 5.6 شدت کا زلزلہ آیا ہے ،سیلاب کے بعد بلوچستان کے ساحل سمندرکے قریب زلزلہ کے جھٹکے بھی محسوس کیے گئے ہیں۔لوگوں پرخوف کے سائے ہیں ،اطلاعات ہیں کہ اس زلزلے میں پانی میں گھرے ہوئے مکانات کے بچنے کے امکانات بہت کم ہیں

    زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت 5.6 ریکارڈ کی گئی جس کی گہرائی زیرزمین 60 کلومیٹرتھی، زلزلے کا مرکز پسنی کے قریب آف کوسٹل ایریا تھا، 10 منٹ کے وقفے کے بعد آنے والے آفٹر شاکس کی شدت 5.0 ریکارڈ کی گئی۔

    زلزلے کے جھٹکے گوادر اور بلوچستان کی دیگر ساحلی پٹی پر بھی محسوس کیے گئے، فوری طور پر زلزلے سے کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی تاہم زلزلے کے جھٹکوں کے باعث لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

    واضح رہے کہ بلوچستان کے مختلف اضلاع اس وقت سیلاب کی لپیٹ میں ہیں اور بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا ہے۔

    بارشیں اور سیلاب سے بلوچستان میں حالات خراب، ہر طرف تباہی، سیکڑوں مکانات زمین بوس ہوگئے، متاثرین کھلے آسمان تلے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں، پاک فوج کی امدادی سرگرمیاں بھی جاری ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق بلوچستان میں سیلاب سے تباہی پھیل گئی، جاں بحق افراد کی تعداد 127 ہوگئی، سیکڑوں مکانات زمین بوس ہو گئے اور 565 کلومیٹر شاہراہوں کو نقصان پہنچا، گیارہ پل سیلابی ریلوں کی نذر ہو گئے، متاثرہ علاقوں میں پاک آرمی اور فضائیہ کا ریلیف آپریشن جاری ہے۔

  • بھارت کی آبی جارحیت جاری ؛ سیلابی پانی چھوڑ کرپاکستان کی مشکلات میں اضافہ کردیا

    بھارت کی آبی جارحیت جاری ؛ سیلابی پانی چھوڑ کرپاکستان کی مشکلات میں اضافہ کردیا

    لاہور: بھارت کی آبی جارحیت جاری ؛ سیلابی پانی چھوڑ کرپاکستان کی مشکلات میں اضافہ کردیا ، بھارت کی طرف سے یہ آبی حملہ پاکستان میں جاری سیلاب کی شدت میں اور اضافہ کررہا ہے

    پاکستانی حکام کے مطابق ورکنگ باؤنڈری کے علاقے ظفروال میں بھارت نے آبی جارحیت کرتے ہوئے نالہ ڈیک میں سیلابی پانی چھوڑدیا ہے، جس کے باعث نالہ ڈیک میں ظفروال کےمقام پراونچےدرجےکا سیلاب آگیا ہے۔

    یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ بھارت کی طرف سے بغیر اطلاع کے بہت زیادہ سیلابی پانی چھوڑے جانے کے باعث مقامی افراد میں سخت خوف وہراس پھیل گیا ہے اور نشیبی علاقوں میں رہنے والے افراد نے بڑے پیمانے پر نقل مکانی شروع کردی ہے۔

    جنگی جنون میں مبتلا بھارت نے پاکستان آبی جارحیت کرنے کا فیصلہ کرلیا

    اس وقت پاکستان کے ان سرحدی علاقوں میں اس سیلابی پانی سے کیا کیفیت ہے اس حوالے سے محکمہ انہارکے حکام کا کہنا ہے کہ نالہ ڈیک میں اس وقت بارہ ہزارسےزائد کیوسک پانی کا ریلا گزر رہا ہے، رات گئے اس میں مزید اضافے کا امکان ہے۔

    بھارتی آبی جارحیت سے عارف والا کے مقام پر دریائے ستلج کا حفاظی بند ٹوٹ گیا

    دوسری جانب بھارت کیجانب سےدریائےچناب میں چھوڑاگیا سیلابی ریلہ جھنگ ہیڈ تریموں پہنچ گیا ہے، فلڈ کمیشن کے مطابق ہیڈ تریموں کے مقام پر پانی کے بہاؤمیں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا جارہا ہے۔

    پاکستانی حکام کے مطابق اس وقت ہیڈ تریموں کے مقام پر پانی کی آمد ایک لاکھ 10ہزارکیوسک تک جاپہنچی ہے، جس کے باعث حافظ آباد، پنڈی بھٹیاں، جلال پوربھٹیاں، چنیوٹ، گوجرانوالہ، سیالکوٹ کی سیکڑوں ایکڑ اراضی متاثرہوچکی ہے۔

    بھارتی آبی جارحیت،پاکستان کا پانی روکنے کے منصوبہ کی دی مودی سرکار نے منظوری

    دریائے چناب پراس وقت کیاطوفانی کیفیت ہے اس سے متعلق فلڈ کمیشن نے دریائےچناب اورراوی کےندی نالوں میں سیلاب سےمتعلق الرٹ جاری کرتے ہوئے بتایا کہ آئندہ چوبیس گھنٹےکے دوران طغیانی اورشدید سیلاب کا خدشہ ہے۔

  • بلوچستان میں سیلاب سے تباہی، جاں بحق افراد کی تعداد 132 تک پہنچ گئی،پاک آرمی اور فضائیہ کا ریلیف آپریشن

    بلوچستان میں سیلاب سے تباہی، جاں بحق افراد کی تعداد 132 تک پہنچ گئی،پاک آرمی اور فضائیہ کا ریلیف آپریشن

    کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف اضلاع میں بارش اور سیلاب سے جاں بحق افراد کی تعداد 132 تک پہنچ گئی جبکہ سیکڑوں مکانات بھی تباہ ہوگئے۔ریلوے ٹریک کو نقصان پہنچنے سے پاک ایران مال بردار ٹرین سروس معطل کر دی گئی جبکہ قومی شاہراہ کو نقصان پہنچنے سے بلوچستان سے کراچی جانے والے پھل اور سبزیوں کی ترسیل بھی معطل ہوگئی۔

    متاثرہ علاقوں میں پاک آرمی اور فضائیہ کا ریلیف آپریشن جاری ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق فوجی طبی امداد فراہم کرنے اور مواصلاتی ڈھانچے کو کھولنے کے علاوہ ریسکیو، امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ اٹک، تربیلا، چشمہ اور گڈو کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے۔ سندھ کے علاوہ تمام دریا معمول کے مطابق بہہ رہے ہیں۔ ورسک کے مقام پر نچلا سیلاب اور دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب موجود ہے۔ ورسک کے مقام پر نچلا سیلاب اور دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔

    آئی ایس پی آر مردان میں سب سے زیادہ 133 ملی میٹر اور مہمند میں 85 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ مردان میں پانی نکالنے کی کوششیں کی گئیں۔ ضلع مہمند کے مقامی نالوں میں سیلاب کی اطلاع ملی ہے۔ سیلاب متاثرین میں امدادی اشیاء تقسیم کی گئیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق دونوں اضلاع میں میڈیکل کیمپ لگائے گئے ہیں۔

    جھل مگسی گندھاوا کا مکمل رابطہ بحال کر دیا گیا ہے۔گندھاوا اور گردونواح میں آرمی میڈیکل کیمپ میں 115 مریضوں کا علاج کیا گیا۔ خضدار ایم-8 اب بھی منقطع ہے۔ رابطے کی بحالی پر کام جاری ہے جبکہ حافظ آباد میں سی ایم ایچ خضدار اور ایف سی کی جانب سے لگائے گئے فیلڈ میڈیکل کیمپ میں 145 متاثرہ افراد کا علاج کیا گیا۔ باباکوٹ اور گندھا کی متاثرہ آبادی کے لیے بھی امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق سیلاب متاثرین میں راشن اور پکا ہوا کھانا تقسیم کیا گیا۔ گندکھا میں فیلڈ میڈیکل کیمپ میں مختلف مریضوں کا علاج کیا گیا۔چمن میں بارش نہیں ہوئی۔ باب دوستی مکمل طور پر فعال ہے۔ نوشکی پھنسے ہوئے لوگوں کے لیے امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔پکا ہوا کھانا 1000 سے زیادہ لوگوں کو دیا گیا ہے۔ 3 مقامات پر تباہ ہونے والے این-40 کی مرمت کر کے ٹریفک بحال کر دی گئی ہے۔ لسبیلہ علاقے میں بارش نہیں ہوئی۔ صورتحال مستحکم ہو رہی ہے.گوادر میں جنرل آفیسر کمانڈنگ نے حب اور اتھل کا دورہ کیا۔ قراقرم ہائی وے میں سکندر آباد کے قریب 2 مٹی تودے گرنے کی اطلاع تھی۔ ایف ڈبلیو او کی جانب سے سڑک کو یک طرفہ ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے۔

    بلوچستان میں سیلاب،وزیراعظم کا جاں بحق افراد کے لواحقین کو10لاکھ دینے کا اعلان

    بلوچستان کے اکثر علاقوں میں وقفے وقفے سے موسلا دھار بارش کا سلسلہ جاری ہے، ندی نالوں میں طغیانی اور سیلابی ریلوں سے بیشتر رابطہ سڑکیں بہہ گئیں۔

    صوبے بھر میں طوفانی بارشوں اور سیلاب سے پیش آنے والے حادثات میں ساڑھے 13 ہزار مکانات متاثر ہوئے ہیں جبکہ بجلی کے 140 کھمبے گر چکے ہیں۔ کوئٹہ میں انگوروں کے باغات تباہ ہو گئے، ضلع واشک میں سیلابی ریلہ پیاز سے بھری بوریاں بہا کر لے گیا۔

    محکمۂ موسمیات نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں آج بھی موسلا دھار بارش کی پیش گوئی کر دی۔
    کوئٹہ، ژوب، زیارت، موسیٰ خیل، قلعہ عبداللّٰہ، پشین، بارکھان میں آج بادل برس سکتے ہیں، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بلوچستان میں سب سے زیادہ بارش ژوب میں 45 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی۔تاریخ رقم کرنے والا مون سون کا چوتھا اسپیل بلوچستان کے جنوب مشرق اور وسطی علاقوں میں تباہ کاریوں کا باعث بن رہا ہے۔

     

    سکھر بیراج سے مزید 12 لاشیں برآمد

     

     

    شمال میں سب سے زیادہ متاثرہ ضلع قلعہ سیف اللّٰہ کے دور افتادہ علاقے اور بلوچستان کے بلند ترین مقام کان مہتر زئی میں نظامِ زندگی مفلوج ہو گیا۔پہاڑوں پر زندگی گزارنے والے حالات سے مجبور ہو کر شہروں کی جانب نقل مکانی کر رہے ہیں۔

     

    سیلاب،حکومت کے ساتھ رفاہی ادارے بھی آگے بڑھیں،سراج الحق

     

     

    بلوچستان میں بارشوں اور ڈیموں اور ندی نالوں میں طغیانی کے باعث مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی جس کے نتیجے میں جانی و مالی نقصان ہوا۔لوچستان میں اب تک بارشوں اور سیلابی ریلے میں بہہ جانے والے افراد کی تعداد ایک سو 26 تک پہنچ گئی، دشتگور انکی ندی سے تین بچیوں کی لاشیں برآمد ہوئیں۔لوچستان میں اب تک بارشوں اور سیلابی ریلے میں بہہ جانے والے افراد کی تعداد ایک سو 26 تک پہنچ گئی.

    بارشوں اور مختلف واقعات میں جاں بحق ہونے والے افراد میں 45 مرد، 32 خواتین جبکہ 38 سے زائد بچے شامل ہیں، جن میں سے بیشتر سیلابی ریلے میں بہہ گئے تھے، اس کے علاوہ ہزاروں مویشی بھی سیلابی ریلے میں بہہ کر ہلاک ہوگئے۔وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو کا کہنا ہے کہ متاثرین کے نقصان کا ازالہٰ اور انکی جلد از جلد بحالی کی جائے گی۔

    بلوچستان کے سابق وزیراعلی نواب اسلم رسانی نے موٹر سائیکل پراپنے حلقہ میں سیلاب اور بارشون سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا ہے.

    علاوہ ازیں سیلاب اور بارشوں کے نتیجے میں 60 سے زائد افراد زخمی ہوئے جن میں 43 مرد، 7 خواتین اور گیارہ بچے شامل ہیں۔جھل مگسی، قلعہ عبداللہ، نوشکی، مستونگ سمیت دیگر علاقے زیادہ متاثر ہونے والے علاقے ہیں، جہاں سیلابی ریلوں کی تباہی سے سیکڑوں گھر ملبے کا ڈھیر بنے ہوئے ہیں اور مقامی شہری بے یار و مددگار کھلے آسمان تلے زندگی گزار رہے ہیں۔

    دوسری جانب لک پاس کے قریب واقع ڈیم ٹوٹنے کے باعث کوئٹہ تفتان شاہراہ زیرآب گئیں، جس کے بعد شاہراہ کو ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا ہے۔ باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بارش اور سیلاب سے بلوچستان میں 2 لاکھ ایکڑ زرعی اراضی تباہ ہوگئی جبکہ ہزاروں خاندان بے گھر ہوگئے ہیں جبکہ 15 پُل متاثر ہوئے، متاثرہ علاقوں میں پاک فوج کا متعلقہ اداروں کے ہمراہ ریسکیو آپریشن جاری جاری ہے جبکہ پانچ میڈیکل کیمپ بھی قائم کیے گئے ہیں۔ سیلابی ریلے میں دالبندین کے قریب ریلوے ٹریک بہہ گیا جس کے نتیجے میں پاک ایران ریلوے سروس کو بند کردیا گیا جبکہ باب دوستی سے پانی کی نکاسی کر کے اسے پیدل آمد و رفت کے لیے کھول دیا گیا ہے۔

    مزید برآں ڈی جی پی ڈی ایم اے نےڈی جی خان ڈویژن کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا،ڈی جی پی ڈی ایم اے نے سیلاب سے جان بحق ہونے والے خاندانوں سے ملاقات کی اورلواحقین سے اظہار تعزیت کیا،ڈائریکٹر پی ڈی ایم اے عثمان خالد اور ضلعی انتظامیہ کے افسران بھی ڈی جی پی ڈی ایم اے کےہمراہ تھے.

    ڈی جی پی ڈی ایم اے فیصل فرید کا کہنا تھا کہ قیمتی جانوں کے ضیاع پر بہت افسوس ہوا،مشکل گھڑی میں متاثرین کے ساتھ کھڑے ہیں۔سیلاب سے ڈی جی خان ڈویژن کو بہت نقصان ہوا،حکومت پنجاب کی جانب سے گھروں، فصلوں اور مویشیوں کے نقصانات کا تخمینہ لگا کر متاثرہ افراد کی مالی معاونت کی جائے گی،میڈیکل کیمپس میں سیلاب متاثرین کو وبائی امراض سے بچاؤ کی ویکسین بھی لگائی جا رہی ہیں۔ سانپ کے کاٹنے سمیت دیگر ادویات میڈیکل کیمپس میں دستیاب ہیں۔حکومت پنجاب کی ہدایت کے مطابق سیلاب متاثرین میں خشک راشن،اور خیمہ جات کی تقسیم کا عمل جاری ہے۔ سیلاب کے پانی کا اخراج کافی حد ہو چکا،متاثرین کی گھروں میں شفٹنگ جاری ہے۔ وزیر اعلی پنجاب چوہدری پرویز الہی ریلیف کی تمام سرگرمیوں کی خود مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔ تمام متعلقہ محکمے مربوط انداز سے ریلیف کی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ وزیر اعلی پنجاب کی ہدایت کے مطابق سیلاب سے متاثرہ بہن بھائیوں کوتنہا نہیں چھوڑیں گے-

    ڈیرہ غازی خان ڈویژن اور میانوالی کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں مسلسل جاری ہیں۔ڈی جی پی ڈی ایم اےکمشنر ڈیرہ غازی خان محمد عثمان انور نے تونسہ شریف کے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کیا۔پاکستان تحریک انصاف کے رہنما سردار جعفر خان بزدار،ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو طیب خان،اے سی تونسہ اسد چانڈیہ اور دیگر دوران ہمراہ تھے ڈی جی خان نےسیلاب کی تباہی کاریوں کا جائزہ لیا۔ سیلاب متاثرین میں خیمے اور خشک راشن کے تھیلے تقسیم کئے۔متاثرین سے گفتگو کرتے ہوئے کمشنر محمد عثمان انور نے کہا کہ مزید بارش نہ ہونے پر تین روز کے اندر ہر متاثرہ گھر تک امدادی سامان پہنچا دیں گے ۔امدادی سامان کی شفاف تقسیم کےلئے بستی سطح کی ٹیمیں تشکیل دے دیں ہیں۔سروے ٹیمیں تشکیل دے دی گئیں ہیں۔تخمینہ مکمل ہونے پر گھر اور فصلوں کا ازالہ کیا جائیگا
    سردار جعفر خان بزدار نے کہا کہ متاثرہ انفراسٹرکچر کی جلد بحالی ممکن بنائی جائے ۔متاثرین سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت سیلاب زدگان کے دکھ میں برابر کی شریک ہیں۔ہر متاثرہ فرد کی بحالی تک کام کرتے رہیں گے،کمشنر عثمان انور نے بستی چھتانی کا بھی دورہ کیا۔سیلابی ریلے میں جاں بحق افراد کےلئے فاتحہ خوانی اور لواحقین سے تعزیت کا بھی اظہار کیا۔

  • چودھری پرویز الٰہی کا سیلاب متاثرین کے لئے مالی امداد کااعلان

    چودھری پرویز الٰہی کا سیلاب متاثرین کے لئے مالی امداد کااعلان

    وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی کی زیرصدارت اجلاس منعقد ہوا.اجلاس میں وزیراعلی نے ڈیرہ غازی خان، راجن پور، مظفر گڑھ اور میانوالی کے سیلاب متاثرین کے لئے مالی امداد کااعلان کر دیا.

    بلوچستان میں سیلاب،وزیراعظم کا جاں بحق افراد کے لواحقین کو10لاکھ دینے کا اعلان

    وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے کہا کہ پنجاب حکومت سیلاب سے جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین کو 8،8لا کھ روپے مالی امداد دے گی، گھروں، فصلوں او رمویشیوں کے نقصانات کا تخمینہ لگا کر متاثرہ افراد کی مالی معاونت کی جائے گی، سیلاب متاثرہ علاقوں میں سب سے پہلے ریسکیو 1122کا عملہ پہنچا۔

    وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے متاثرہ علاقوں میں سڑکوں کی جلد تعمیر ومرمت کاحکم دیا.ان کا کہنا تھا کہ سڑکوں کی بحالی کا کام جنگی بنیادوں پر شروع کیاجائے- وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے سیلاب متاثرہ علاقوں میں میڈیکل کیمپس لگانے کی ہدایت بھی کی.

    چودھری پرویز الٰہی کا کہنا تھا کہ میڈیکل کیمپس میں سیلاب متاثرین کو وبائی امراض سے بچاؤ کی ویکسین بھی لگائی جائے، سانپ کاٹنےاور ہیضہ سے بچاؤ کی ادویات میڈیکل کیمپس میں دستیاب ہونی چاہئیں، سیلاب متاثرین میں خشک راشن تقسیم کیاجائے، ڈی واٹرنگ پمپس کے ذریعے سیلابی پانی کی نکاسی کو یقینی بنایا جائے-

     

    ملک بھر میں مزید بارشوں کی پیشگوئی

     

    چودھری پرویز الہٰی نے ہدایت کی کہ کمشنر،ڈپٹی کمشنرز،آر پی او اور ڈی پی اوزمنتخب نمائندوں کے سا تھ ملکر متاثرین کی دادرسی کے لیے کوئی کسراٹھا نہ رکھیں ، ریلیف کی تمام سرگرمیوں کی مانیٹرنگ کی جائے اور باقاعدگی سے رپورٹ پیش کی جائے، تمام متعلقہ محکمے مربوط انداز سے ریلیف کی سرگرمیوں کو مزید تیز کریں –

    وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے کہا کہ میں خود بھی جلد سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ کروں گا، سیلاب سے متاثرہ بہن بھائیوں کوتنہا نہیں چھوڑیں گے-چودھری پرویز الٰہی

    وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی کی زیرصدارت اجلاس میں ڈیرہ غازی خان، راجن پور، مظفر گڑھ اور میانوالی کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیاگیا. اجلاس میں سابق صوبائی وزیر ڈاکٹر یاسمین راشد،اراکین قومی و صوبائی اسمبلی سردار محمد خان لغاری، سیف الدین کھوسہ،جاوید اخترلنڈ، محی الدین کھوسہ، عامر نواز چانڈیہ،ثناءاللہ خان مستی خیل، پرنسپل سیکرٹری وزیراعلیٰ محمدخان بھٹی،سابق چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ سلمان غنی،سابق پرنسپل سیکرٹری وزیراعلیٰ جی ایم سکندر، چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ، سیکرٹری صحت،ڈی جی پنجاب ایمرجنسی سروسزاور متعلقہ حکام نے شرکت کی.

  • سیلاب،حکومت کے ساتھ رفاہی ادارے بھی آگے بڑھیں،سراج الحق

    سیلاب،حکومت کے ساتھ رفاہی ادارے بھی آگے بڑھیں،سراج الحق

    امیر جماعت اسلامی سراج الحق خصوصی دورے پر کوئٹہ پہنچ گئے جہاں آج بلوچستان کے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کریں گے.سراج الحق بلوچستان میں جاری کارکنان اور الخدمت کی امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیں گے .

    ملک بھر میں مزید بارشوں کی پیشگوئی

    امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا کہنا ہے کہ عوام مصیبت کی اس گھڑی میں بڑھ چڑھ کرامدادی کاموں میں حصہ لیں، میڈیکل کیمپ بھی لگائے جائیں تاکہ زخمیوں اور بیماروں کو بروقت طبی امدا د مہیا کی جاسکے،
    جماعت اسلامی اور الخدمت فاﺅنڈیشن کے کارکنان کی سیلاب متاثرین کے لیے ملک بھر میں سرگرمیاں قابل تحسین ہیں.

     

    بلوچستان میں سیلاب،وزیراعظم کا جاں بحق افراد کے لواحقین کو10لاکھ دینے کا اعلان

     

     

    انہوں نے مزید کہا کہ ایک بار پھر حکومت کی نا اہلی کھل کر سامنے آ گئی ہے ،حکومت کے ساتھ ساتھ فلاحی تنظیمیں اور رفاہی ادارے بھی آگے بڑھیں ،عوام اپنے مصیبت زدہ بہن بھائیوں کی مددکیلئے دل کھول کر عطیات دیں .

     

    سندھ :مون سون بارشوں کی دوران جاں بحق افراد کی 100 ہوگئی

     

    دوسری جانب وزیراعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ بلوچستان سمیت ملک بھر میں سیلاب اور طوفانی بارشوں سے متاثرہ عوام کے ریسکیو، ریلیف اور بحالی کے لئے دن رات کوششیں جاری ہیں۔ متاثرہ بہنوں، بھائیوں اور بچوں کی مکمل بحالی اور نقصانات کے ازالے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے ، مشکل اور آزمائش کی اس گھڑی میں انہیں تنہاءنہیں چھوڑیں گے۔ بلوچستان سمیت صوبائی حکومتوں سے مل کر متاثرین کی امداد اور بحالی کے لئے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھیں گے۔

    وزیراعظم شہبازشریف بلوچستان کے سیلاب اور طوفانی بارشوں سے تباہی کا شکار جھل مگسی کے علاقوں اور ا س کے مضافاتی دیہات کے جائزے کے دوران متاثرہ عوام اور میڈیا سے گفتگو کررہے تھے۔ وزیراعظم نے متاثرہ علاقوں کا فضائی جائزہ بھی لیا۔ وزیراعظم گاﺅں شمبانی میں رکے اور سیلاب متاثرین عوام سے ملے اور ان کی شکایات سنیں۔ وزیراعظم کو اپنے درمیان موجود پاکر اور ان کے تسلی دینے پر متاثرین نے وزیراعظم زندہ باد کے نعرے لگائے اور ان کی آمد پر شکریہ ادا کیا۔

    اس موقع پر وزیراعظم نے متاثرین سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ میں آج آپ کو یہ یقین دہانی کرانے آیا ہوں کہ وزیراعلی عبدالقدوس بزنجو اوران کی صوبائی حکومت کے ساتھ ہم مل کر وفاقی حکومت آپ کی پوری مدد کریں گے۔ بلوچستان سمیت پورے پاکستان میں متاثرین کی مدد کریں گے۔ جہاں جہاں جہاں نقصان ہوا ہے، وہاں ریلیف پہنچا رہے ہیں۔ ان شاءاللہ آپ کے ساتھ پوری پوری مدد کریں گے۔ وزیراعظم شہبازشریف نے کہاکہ بارشوں سے پچھلے تیس سال کا ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے ۔ ماضی نسبت اس مرتبہ کئی گنا زیادہ بارشیں ہوئی ہیں۔ تقریبا پورے پاکستان میں تقریبا 300 سے زائد لوگ اللہ کو پیارے ہوگئے ہیں۔ بلوچستان میں 124 لوگ وفات پاگئے ہیں جن میں خواتین، مرد اور بچے شامل ہیںجبکہ بے شمار لوگ زخمی ہوئے ہیں۔

    وزیراعظم شہبازشریف نے کہاکہ مالی معاوضہ جانی نقصان کا ازالہ نہیں ہوسکتا۔ زندگی بھر لوگ اپنے پیاروں کو ہمیشہ یاد کرتے رہتے ہیں۔ یہ غم بھلایانہیں جاسکتا اور نہ ہی اس کی کوئی تلافی ہوسکتی ہے۔ لیکن بحرحال زندگی گزارنی ہے ۔ حکومت نے متاثرین کی امداد کے لئے حتی المقدورکوشش کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ بارشوں اور سیلاب سے جاں بحق ہونے والے افراد کے اہلِ خانہ کیلئے 10 لاکھ امداد فراہم کی جارہی ہے، زخمیوں کے ساتھ ساتھ متاثرہ گھروں میں کچے اور پکے گھروں کو پہنچنے والے نقصانات پر امداد کو یکساں اور بڑھانے کا حکم دیا ہے۔ زخمیوں کی امداد کو 50 ہزار سے بڑھا کر 2 لاکھ کردیا ہے جبکہ جزوی طور پر متاثرہ مکانات کی امداد 25 ہزار سے بڑھا کر اڑھائی لاکھ اور مکمل طور پر متاثرہ گھروں کیلئے 50 ہزار سے بڑھا کر 5 لاکھ کردی گئی ہے۔ وزیراعظم نے حکم دیا کہ فوری طور پر میڈیکل کیمپ قائم کیاجائے۔ ادویات اور ویکسین فراہم کی جائے۔ انہوں نے جانوروں کے علاج معالجے کے لئے ویٹنری ڈاکٹروں کی ٹیم بھی فوری بھجوانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے علاقے میں مزید کشتیاں اور راشن کے تھیلے فراہم کرنے کابھی حکم دیا۔ وزیراعلی بلوچستان عبدالقدوس بزنجو نے متاثرہ گاﺅں اور اس کے مضافات میں متاثرین کی مدد کے لئے ٹیمیں روانہ کردی ہیں۔