Baaghi TV

Tag: سیلاب

  • سیلاب،مکمل تباہ  گھروں کے مالکان کو 6لاکھ روپے فی کس امداد دی جائے گی،پرویزالہیٰ

    سیلاب،مکمل تباہ گھروں کے مالکان کو 6لاکھ روپے فی کس امداد دی جائے گی،پرویزالہیٰ

    وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے جنوبی پنجاب میں سیلاب سے گھروں کو پہنچنے والے نقصانات کے ازالے کے لئے مالی امداد کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ مکمل تباہ ہونے والے گھروں کے مالکان کو 6لاکھ روپے فی کس مالی امداد دی جائے گی جبکہ جزوی طورپرتباہ ہونے والے گھروں کے مالکان کو 4لاکھ روپے فی کس مالی امداد دیں گے۔سیلاب متاثرہ افراد کے لائیوسٹاک کو پہنچنے والے نقصانات کا بھی ازالہ کیا جائے گا۔

    مون سون سیزن ڈینگی کے پھیلاؤ کا خدشہ،وزیراعلیٰ نے بڑا حکم دے دیا

    وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے نقصانات کا تخمینہ لگانے کیلئے سروے کو جلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ڈپٹی کمشنرز اپنی نگرانی میں سروے کومکمل کرائیں۔سروے کا عمل آسان اورسادہ رکھا جائے اورسروے کے لئے مقامی نمائندوں کو بھی آن بورڈ لیا جائے۔متاثرہ افراد کو سروے کے عمل کے دوران کسی قسم کی تکلیف نہیں ہونی چاہیے اور مالی امداد متاثرہ افراد تک جلد از جلد پہنچ جانی چاہیے۔

     

    سیلاب سے جاں بحق افراد کے لواحقین کو معاوضہ 24 گھنٹے میں ادا کرنے کا حکم

     

    وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کو مزید تیز کیا جائے اورمتاثرہ افراد کو خشک خوراک تسلسل کے ساتھ پہنچائی جائے۔دریاؤں میں پانی کے بہاؤ کو مسلسل مانیٹر کیا جائے اوردریاؤں کے پشتے مزید مضبوط بنانے کیلئے فی الفور اقدامات اٹھائے جائیں۔انہوں نے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں رابطہ سڑکوں کی بحالی کیلئے ضروری وسائل اورمشینری بروئے کار لائی جائے۔وزیراعلیٰ نے بتایا کہ میں کل راجن پور اورڈیرہ غازی خان کے سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ کررہا ہوں اورتمام صورتحال کا خود جائزہ لوں گا۔سیلاب متاثرہ افراد کی بحالی پہلی ترجیح ہے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی کی زیر صدارت وزیراعلیٰ آفس میں اعلی سطح کا اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں جنوبی پنجاب کے شہروں راجن پور،ڈیرہ غازی خان خصوصاً تونسہ،مظفر گڑھ میں سیلاب سے پیدا ہونے والی صورتحال اور امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا گیا۔

    عوامی نمائندوں واراکین اسمبلی امینہ جعفر لغاری،محسن لغاری،محمد سیف الدین خان کھوسہ، محمد اویس دریشک،فاروق امان اللہ دریشک، سردار احمد علی خان دریشک،محمد محی الدین خان کھوسہ،عبدالحی دستی،جاوید اختر،خواجہ محمد داؤد سلیمانی،محمد اشرف خان رند، نیاز حسین خان،میاں علمدارعباس قریشی، محمدعون حمید،محمد رضا حسین بخاری،محمد معظم علی خان،نوابزادہ منصوراحمد خان،چیف سیکرٹری کامران افضل،سابق چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ سلمان غنی،سابق پرنسپل سیکرٹری وزیراعلیٰ جی ایم سکندر،متعلقہ محکموں کے سیکرٹریز اوراعلی حکام نے اجلاس میں شرکت کی جبکہ سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو،تمام ڈویژنل کمشنرز،ڈی جی پی ڈی ایم اے اورمظفر گڑھ،راجن پور اورڈیرہ غازی خان کے ڈپٹی کمشنرزویڈیولنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے۔

  • امریکی ریاست کینٹکی میں سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 28 ہو گئی

    امریکی ریاست کینٹکی میں سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 28 ہو گئی

    امریکی ریاست کینٹکی میں سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 28 ہو گئی، مرنے والوں میں بچے بھی شامل ہیں۔

    باغی ٹی وی : امریکی ریاست کینٹکی میں شدید بارشوں، تیز ہواوں اور سیلاب نے تباہی مچادی ہے، سڑکیں اور گھر زیر آب آگئے ہزاروں لوگ بے گھر ہوگئے طوفانی بارشوں اور سیلاب سے کینٹکی کی 13 کاؤنٹیز شدید متاثر ہوئی ہیں۔

    پہاڑی خطے میں آنے والے سیلاب سے پُل اور سڑکیں تباہ ہو گئیں جبکہ موبائل سروسز بھی متاثر ہوئی ہیں۔ حکام کے مطابق اب تک 13 ہزار سے زائد گھر اور کاروبار اندھیرے میں ڈوب گئے۔

    کینٹکی کے مشرقی حصے میں واقع چند علاقوں میں 24 گھنٹوں کے دوران لگ بھگ دس انچ تک بارش ریکارڈ کی گئی سیلاب کے باعث ریاست میں ایمرجنسی نافذ ہے۔ریسکیو ورکرز کشتیوں کی مدد سے پانی میں پھنسے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کررہے ہیں کینٹکی نیشنل گارڈز ہیلی کاپٹرز کے زریعے متاثرہ علاقوں میں امادا پہنچا رہے ہیں

    محمکہ موسمیات نے متاثرہ علاقوں میں مزید طوفانی بارشوں کی پیش گوئی کی گئی ہے گورنر کینٹکی نے سیلاب کے باعث مزید ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا ہے، سات ماہ کے دوران کینٹکی میں قدرتی آفت سے یہ دوسری بڑی ہلاکتیں ہیں اس سے قبل دسمبر میں طوفانی بگولوں سے ریاست میں 80 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

  • شدید سیلاب کے بعد بلوچستان میں 5.6 شدت کا زلزلہ،مکانات کی تباہی کا خدشہ

    شدید سیلاب کے بعد بلوچستان میں 5.6 شدت کا زلزلہ،مکانات کی تباہی کا خدشہ

    کوئٹہ:شدید سیلاب کے بعد بلوچستان میں 5.6 شدت کا زلزلہ آیا ہے ،سیلاب کے بعد بلوچستان کے ساحل سمندرکے قریب زلزلہ کے جھٹکے بھی محسوس کیے گئے ہیں۔لوگوں پرخوف کے سائے ہیں ،اطلاعات ہیں کہ اس زلزلے میں پانی میں گھرے ہوئے مکانات کے بچنے کے امکانات بہت کم ہیں

    زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت 5.6 ریکارڈ کی گئی جس کی گہرائی زیرزمین 60 کلومیٹرتھی، زلزلے کا مرکز پسنی کے قریب آف کوسٹل ایریا تھا، 10 منٹ کے وقفے کے بعد آنے والے آفٹر شاکس کی شدت 5.0 ریکارڈ کی گئی۔

    زلزلے کے جھٹکے گوادر اور بلوچستان کی دیگر ساحلی پٹی پر بھی محسوس کیے گئے، فوری طور پر زلزلے سے کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی تاہم زلزلے کے جھٹکوں کے باعث لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

    واضح رہے کہ بلوچستان کے مختلف اضلاع اس وقت سیلاب کی لپیٹ میں ہیں اور بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا ہے۔

    بارشیں اور سیلاب سے بلوچستان میں حالات خراب، ہر طرف تباہی، سیکڑوں مکانات زمین بوس ہوگئے، متاثرین کھلے آسمان تلے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں، پاک فوج کی امدادی سرگرمیاں بھی جاری ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق بلوچستان میں سیلاب سے تباہی پھیل گئی، جاں بحق افراد کی تعداد 127 ہوگئی، سیکڑوں مکانات زمین بوس ہو گئے اور 565 کلومیٹر شاہراہوں کو نقصان پہنچا، گیارہ پل سیلابی ریلوں کی نذر ہو گئے، متاثرہ علاقوں میں پاک آرمی اور فضائیہ کا ریلیف آپریشن جاری ہے۔

  • بھارت کی آبی جارحیت جاری ؛ سیلابی پانی چھوڑ کرپاکستان کی مشکلات میں اضافہ کردیا

    بھارت کی آبی جارحیت جاری ؛ سیلابی پانی چھوڑ کرپاکستان کی مشکلات میں اضافہ کردیا

    لاہور: بھارت کی آبی جارحیت جاری ؛ سیلابی پانی چھوڑ کرپاکستان کی مشکلات میں اضافہ کردیا ، بھارت کی طرف سے یہ آبی حملہ پاکستان میں جاری سیلاب کی شدت میں اور اضافہ کررہا ہے

    پاکستانی حکام کے مطابق ورکنگ باؤنڈری کے علاقے ظفروال میں بھارت نے آبی جارحیت کرتے ہوئے نالہ ڈیک میں سیلابی پانی چھوڑدیا ہے، جس کے باعث نالہ ڈیک میں ظفروال کےمقام پراونچےدرجےکا سیلاب آگیا ہے۔

    یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ بھارت کی طرف سے بغیر اطلاع کے بہت زیادہ سیلابی پانی چھوڑے جانے کے باعث مقامی افراد میں سخت خوف وہراس پھیل گیا ہے اور نشیبی علاقوں میں رہنے والے افراد نے بڑے پیمانے پر نقل مکانی شروع کردی ہے۔

    جنگی جنون میں مبتلا بھارت نے پاکستان آبی جارحیت کرنے کا فیصلہ کرلیا

    اس وقت پاکستان کے ان سرحدی علاقوں میں اس سیلابی پانی سے کیا کیفیت ہے اس حوالے سے محکمہ انہارکے حکام کا کہنا ہے کہ نالہ ڈیک میں اس وقت بارہ ہزارسےزائد کیوسک پانی کا ریلا گزر رہا ہے، رات گئے اس میں مزید اضافے کا امکان ہے۔

    بھارتی آبی جارحیت سے عارف والا کے مقام پر دریائے ستلج کا حفاظی بند ٹوٹ گیا

    دوسری جانب بھارت کیجانب سےدریائےچناب میں چھوڑاگیا سیلابی ریلہ جھنگ ہیڈ تریموں پہنچ گیا ہے، فلڈ کمیشن کے مطابق ہیڈ تریموں کے مقام پر پانی کے بہاؤمیں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا جارہا ہے۔

    پاکستانی حکام کے مطابق اس وقت ہیڈ تریموں کے مقام پر پانی کی آمد ایک لاکھ 10ہزارکیوسک تک جاپہنچی ہے، جس کے باعث حافظ آباد، پنڈی بھٹیاں، جلال پوربھٹیاں، چنیوٹ، گوجرانوالہ، سیالکوٹ کی سیکڑوں ایکڑ اراضی متاثرہوچکی ہے۔

    بھارتی آبی جارحیت،پاکستان کا پانی روکنے کے منصوبہ کی دی مودی سرکار نے منظوری

    دریائے چناب پراس وقت کیاطوفانی کیفیت ہے اس سے متعلق فلڈ کمیشن نے دریائےچناب اورراوی کےندی نالوں میں سیلاب سےمتعلق الرٹ جاری کرتے ہوئے بتایا کہ آئندہ چوبیس گھنٹےکے دوران طغیانی اورشدید سیلاب کا خدشہ ہے۔

  • بلوچستان میں سیلاب سے تباہی، جاں بحق افراد کی تعداد 132 تک پہنچ گئی،پاک آرمی اور فضائیہ کا ریلیف آپریشن

    بلوچستان میں سیلاب سے تباہی، جاں بحق افراد کی تعداد 132 تک پہنچ گئی،پاک آرمی اور فضائیہ کا ریلیف آپریشن

    کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف اضلاع میں بارش اور سیلاب سے جاں بحق افراد کی تعداد 132 تک پہنچ گئی جبکہ سیکڑوں مکانات بھی تباہ ہوگئے۔ریلوے ٹریک کو نقصان پہنچنے سے پاک ایران مال بردار ٹرین سروس معطل کر دی گئی جبکہ قومی شاہراہ کو نقصان پہنچنے سے بلوچستان سے کراچی جانے والے پھل اور سبزیوں کی ترسیل بھی معطل ہوگئی۔

    متاثرہ علاقوں میں پاک آرمی اور فضائیہ کا ریلیف آپریشن جاری ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق فوجی طبی امداد فراہم کرنے اور مواصلاتی ڈھانچے کو کھولنے کے علاوہ ریسکیو، امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ اٹک، تربیلا، چشمہ اور گڈو کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے۔ سندھ کے علاوہ تمام دریا معمول کے مطابق بہہ رہے ہیں۔ ورسک کے مقام پر نچلا سیلاب اور دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب موجود ہے۔ ورسک کے مقام پر نچلا سیلاب اور دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔

    آئی ایس پی آر مردان میں سب سے زیادہ 133 ملی میٹر اور مہمند میں 85 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ مردان میں پانی نکالنے کی کوششیں کی گئیں۔ ضلع مہمند کے مقامی نالوں میں سیلاب کی اطلاع ملی ہے۔ سیلاب متاثرین میں امدادی اشیاء تقسیم کی گئیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق دونوں اضلاع میں میڈیکل کیمپ لگائے گئے ہیں۔

    جھل مگسی گندھاوا کا مکمل رابطہ بحال کر دیا گیا ہے۔گندھاوا اور گردونواح میں آرمی میڈیکل کیمپ میں 115 مریضوں کا علاج کیا گیا۔ خضدار ایم-8 اب بھی منقطع ہے۔ رابطے کی بحالی پر کام جاری ہے جبکہ حافظ آباد میں سی ایم ایچ خضدار اور ایف سی کی جانب سے لگائے گئے فیلڈ میڈیکل کیمپ میں 145 متاثرہ افراد کا علاج کیا گیا۔ باباکوٹ اور گندھا کی متاثرہ آبادی کے لیے بھی امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق سیلاب متاثرین میں راشن اور پکا ہوا کھانا تقسیم کیا گیا۔ گندکھا میں فیلڈ میڈیکل کیمپ میں مختلف مریضوں کا علاج کیا گیا۔چمن میں بارش نہیں ہوئی۔ باب دوستی مکمل طور پر فعال ہے۔ نوشکی پھنسے ہوئے لوگوں کے لیے امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔پکا ہوا کھانا 1000 سے زیادہ لوگوں کو دیا گیا ہے۔ 3 مقامات پر تباہ ہونے والے این-40 کی مرمت کر کے ٹریفک بحال کر دی گئی ہے۔ لسبیلہ علاقے میں بارش نہیں ہوئی۔ صورتحال مستحکم ہو رہی ہے.گوادر میں جنرل آفیسر کمانڈنگ نے حب اور اتھل کا دورہ کیا۔ قراقرم ہائی وے میں سکندر آباد کے قریب 2 مٹی تودے گرنے کی اطلاع تھی۔ ایف ڈبلیو او کی جانب سے سڑک کو یک طرفہ ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے۔

    بلوچستان میں سیلاب،وزیراعظم کا جاں بحق افراد کے لواحقین کو10لاکھ دینے کا اعلان

    بلوچستان کے اکثر علاقوں میں وقفے وقفے سے موسلا دھار بارش کا سلسلہ جاری ہے، ندی نالوں میں طغیانی اور سیلابی ریلوں سے بیشتر رابطہ سڑکیں بہہ گئیں۔

    صوبے بھر میں طوفانی بارشوں اور سیلاب سے پیش آنے والے حادثات میں ساڑھے 13 ہزار مکانات متاثر ہوئے ہیں جبکہ بجلی کے 140 کھمبے گر چکے ہیں۔ کوئٹہ میں انگوروں کے باغات تباہ ہو گئے، ضلع واشک میں سیلابی ریلہ پیاز سے بھری بوریاں بہا کر لے گیا۔

    محکمۂ موسمیات نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں آج بھی موسلا دھار بارش کی پیش گوئی کر دی۔
    کوئٹہ، ژوب، زیارت، موسیٰ خیل، قلعہ عبداللّٰہ، پشین، بارکھان میں آج بادل برس سکتے ہیں، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بلوچستان میں سب سے زیادہ بارش ژوب میں 45 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی۔تاریخ رقم کرنے والا مون سون کا چوتھا اسپیل بلوچستان کے جنوب مشرق اور وسطی علاقوں میں تباہ کاریوں کا باعث بن رہا ہے۔

     

    سکھر بیراج سے مزید 12 لاشیں برآمد

     

     

    شمال میں سب سے زیادہ متاثرہ ضلع قلعہ سیف اللّٰہ کے دور افتادہ علاقے اور بلوچستان کے بلند ترین مقام کان مہتر زئی میں نظامِ زندگی مفلوج ہو گیا۔پہاڑوں پر زندگی گزارنے والے حالات سے مجبور ہو کر شہروں کی جانب نقل مکانی کر رہے ہیں۔

     

    سیلاب،حکومت کے ساتھ رفاہی ادارے بھی آگے بڑھیں،سراج الحق

     

     

    بلوچستان میں بارشوں اور ڈیموں اور ندی نالوں میں طغیانی کے باعث مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی جس کے نتیجے میں جانی و مالی نقصان ہوا۔لوچستان میں اب تک بارشوں اور سیلابی ریلے میں بہہ جانے والے افراد کی تعداد ایک سو 26 تک پہنچ گئی، دشتگور انکی ندی سے تین بچیوں کی لاشیں برآمد ہوئیں۔لوچستان میں اب تک بارشوں اور سیلابی ریلے میں بہہ جانے والے افراد کی تعداد ایک سو 26 تک پہنچ گئی.

    بارشوں اور مختلف واقعات میں جاں بحق ہونے والے افراد میں 45 مرد، 32 خواتین جبکہ 38 سے زائد بچے شامل ہیں، جن میں سے بیشتر سیلابی ریلے میں بہہ گئے تھے، اس کے علاوہ ہزاروں مویشی بھی سیلابی ریلے میں بہہ کر ہلاک ہوگئے۔وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو کا کہنا ہے کہ متاثرین کے نقصان کا ازالہٰ اور انکی جلد از جلد بحالی کی جائے گی۔

    بلوچستان کے سابق وزیراعلی نواب اسلم رسانی نے موٹر سائیکل پراپنے حلقہ میں سیلاب اور بارشون سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا ہے.

    علاوہ ازیں سیلاب اور بارشوں کے نتیجے میں 60 سے زائد افراد زخمی ہوئے جن میں 43 مرد، 7 خواتین اور گیارہ بچے شامل ہیں۔جھل مگسی، قلعہ عبداللہ، نوشکی، مستونگ سمیت دیگر علاقے زیادہ متاثر ہونے والے علاقے ہیں، جہاں سیلابی ریلوں کی تباہی سے سیکڑوں گھر ملبے کا ڈھیر بنے ہوئے ہیں اور مقامی شہری بے یار و مددگار کھلے آسمان تلے زندگی گزار رہے ہیں۔

    دوسری جانب لک پاس کے قریب واقع ڈیم ٹوٹنے کے باعث کوئٹہ تفتان شاہراہ زیرآب گئیں، جس کے بعد شاہراہ کو ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا ہے۔ باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بارش اور سیلاب سے بلوچستان میں 2 لاکھ ایکڑ زرعی اراضی تباہ ہوگئی جبکہ ہزاروں خاندان بے گھر ہوگئے ہیں جبکہ 15 پُل متاثر ہوئے، متاثرہ علاقوں میں پاک فوج کا متعلقہ اداروں کے ہمراہ ریسکیو آپریشن جاری جاری ہے جبکہ پانچ میڈیکل کیمپ بھی قائم کیے گئے ہیں۔ سیلابی ریلے میں دالبندین کے قریب ریلوے ٹریک بہہ گیا جس کے نتیجے میں پاک ایران ریلوے سروس کو بند کردیا گیا جبکہ باب دوستی سے پانی کی نکاسی کر کے اسے پیدل آمد و رفت کے لیے کھول دیا گیا ہے۔

    مزید برآں ڈی جی پی ڈی ایم اے نےڈی جی خان ڈویژن کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا،ڈی جی پی ڈی ایم اے نے سیلاب سے جان بحق ہونے والے خاندانوں سے ملاقات کی اورلواحقین سے اظہار تعزیت کیا،ڈائریکٹر پی ڈی ایم اے عثمان خالد اور ضلعی انتظامیہ کے افسران بھی ڈی جی پی ڈی ایم اے کےہمراہ تھے.

    ڈی جی پی ڈی ایم اے فیصل فرید کا کہنا تھا کہ قیمتی جانوں کے ضیاع پر بہت افسوس ہوا،مشکل گھڑی میں متاثرین کے ساتھ کھڑے ہیں۔سیلاب سے ڈی جی خان ڈویژن کو بہت نقصان ہوا،حکومت پنجاب کی جانب سے گھروں، فصلوں اور مویشیوں کے نقصانات کا تخمینہ لگا کر متاثرہ افراد کی مالی معاونت کی جائے گی،میڈیکل کیمپس میں سیلاب متاثرین کو وبائی امراض سے بچاؤ کی ویکسین بھی لگائی جا رہی ہیں۔ سانپ کے کاٹنے سمیت دیگر ادویات میڈیکل کیمپس میں دستیاب ہیں۔حکومت پنجاب کی ہدایت کے مطابق سیلاب متاثرین میں خشک راشن،اور خیمہ جات کی تقسیم کا عمل جاری ہے۔ سیلاب کے پانی کا اخراج کافی حد ہو چکا،متاثرین کی گھروں میں شفٹنگ جاری ہے۔ وزیر اعلی پنجاب چوہدری پرویز الہی ریلیف کی تمام سرگرمیوں کی خود مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔ تمام متعلقہ محکمے مربوط انداز سے ریلیف کی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ وزیر اعلی پنجاب کی ہدایت کے مطابق سیلاب سے متاثرہ بہن بھائیوں کوتنہا نہیں چھوڑیں گے-

    ڈیرہ غازی خان ڈویژن اور میانوالی کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں مسلسل جاری ہیں۔ڈی جی پی ڈی ایم اےکمشنر ڈیرہ غازی خان محمد عثمان انور نے تونسہ شریف کے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کیا۔پاکستان تحریک انصاف کے رہنما سردار جعفر خان بزدار،ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو طیب خان،اے سی تونسہ اسد چانڈیہ اور دیگر دوران ہمراہ تھے ڈی جی خان نےسیلاب کی تباہی کاریوں کا جائزہ لیا۔ سیلاب متاثرین میں خیمے اور خشک راشن کے تھیلے تقسیم کئے۔متاثرین سے گفتگو کرتے ہوئے کمشنر محمد عثمان انور نے کہا کہ مزید بارش نہ ہونے پر تین روز کے اندر ہر متاثرہ گھر تک امدادی سامان پہنچا دیں گے ۔امدادی سامان کی شفاف تقسیم کےلئے بستی سطح کی ٹیمیں تشکیل دے دیں ہیں۔سروے ٹیمیں تشکیل دے دی گئیں ہیں۔تخمینہ مکمل ہونے پر گھر اور فصلوں کا ازالہ کیا جائیگا
    سردار جعفر خان بزدار نے کہا کہ متاثرہ انفراسٹرکچر کی جلد بحالی ممکن بنائی جائے ۔متاثرین سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت سیلاب زدگان کے دکھ میں برابر کی شریک ہیں۔ہر متاثرہ فرد کی بحالی تک کام کرتے رہیں گے،کمشنر عثمان انور نے بستی چھتانی کا بھی دورہ کیا۔سیلابی ریلے میں جاں بحق افراد کےلئے فاتحہ خوانی اور لواحقین سے تعزیت کا بھی اظہار کیا۔

  • چودھری پرویز الٰہی کا سیلاب متاثرین کے لئے مالی امداد کااعلان

    چودھری پرویز الٰہی کا سیلاب متاثرین کے لئے مالی امداد کااعلان

    وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی کی زیرصدارت اجلاس منعقد ہوا.اجلاس میں وزیراعلی نے ڈیرہ غازی خان، راجن پور، مظفر گڑھ اور میانوالی کے سیلاب متاثرین کے لئے مالی امداد کااعلان کر دیا.

    بلوچستان میں سیلاب،وزیراعظم کا جاں بحق افراد کے لواحقین کو10لاکھ دینے کا اعلان

    وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے کہا کہ پنجاب حکومت سیلاب سے جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین کو 8،8لا کھ روپے مالی امداد دے گی، گھروں، فصلوں او رمویشیوں کے نقصانات کا تخمینہ لگا کر متاثرہ افراد کی مالی معاونت کی جائے گی، سیلاب متاثرہ علاقوں میں سب سے پہلے ریسکیو 1122کا عملہ پہنچا۔

    وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے متاثرہ علاقوں میں سڑکوں کی جلد تعمیر ومرمت کاحکم دیا.ان کا کہنا تھا کہ سڑکوں کی بحالی کا کام جنگی بنیادوں پر شروع کیاجائے- وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے سیلاب متاثرہ علاقوں میں میڈیکل کیمپس لگانے کی ہدایت بھی کی.

    چودھری پرویز الٰہی کا کہنا تھا کہ میڈیکل کیمپس میں سیلاب متاثرین کو وبائی امراض سے بچاؤ کی ویکسین بھی لگائی جائے، سانپ کاٹنےاور ہیضہ سے بچاؤ کی ادویات میڈیکل کیمپس میں دستیاب ہونی چاہئیں، سیلاب متاثرین میں خشک راشن تقسیم کیاجائے، ڈی واٹرنگ پمپس کے ذریعے سیلابی پانی کی نکاسی کو یقینی بنایا جائے-

     

    ملک بھر میں مزید بارشوں کی پیشگوئی

     

    چودھری پرویز الہٰی نے ہدایت کی کہ کمشنر،ڈپٹی کمشنرز،آر پی او اور ڈی پی اوزمنتخب نمائندوں کے سا تھ ملکر متاثرین کی دادرسی کے لیے کوئی کسراٹھا نہ رکھیں ، ریلیف کی تمام سرگرمیوں کی مانیٹرنگ کی جائے اور باقاعدگی سے رپورٹ پیش کی جائے، تمام متعلقہ محکمے مربوط انداز سے ریلیف کی سرگرمیوں کو مزید تیز کریں –

    وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے کہا کہ میں خود بھی جلد سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ کروں گا، سیلاب سے متاثرہ بہن بھائیوں کوتنہا نہیں چھوڑیں گے-چودھری پرویز الٰہی

    وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی کی زیرصدارت اجلاس میں ڈیرہ غازی خان، راجن پور، مظفر گڑھ اور میانوالی کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیاگیا. اجلاس میں سابق صوبائی وزیر ڈاکٹر یاسمین راشد،اراکین قومی و صوبائی اسمبلی سردار محمد خان لغاری، سیف الدین کھوسہ،جاوید اخترلنڈ، محی الدین کھوسہ، عامر نواز چانڈیہ،ثناءاللہ خان مستی خیل، پرنسپل سیکرٹری وزیراعلیٰ محمدخان بھٹی،سابق چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ سلمان غنی،سابق پرنسپل سیکرٹری وزیراعلیٰ جی ایم سکندر، چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ، سیکرٹری صحت،ڈی جی پنجاب ایمرجنسی سروسزاور متعلقہ حکام نے شرکت کی.

  • سیلاب،حکومت کے ساتھ رفاہی ادارے بھی آگے بڑھیں،سراج الحق

    سیلاب،حکومت کے ساتھ رفاہی ادارے بھی آگے بڑھیں،سراج الحق

    امیر جماعت اسلامی سراج الحق خصوصی دورے پر کوئٹہ پہنچ گئے جہاں آج بلوچستان کے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کریں گے.سراج الحق بلوچستان میں جاری کارکنان اور الخدمت کی امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیں گے .

    ملک بھر میں مزید بارشوں کی پیشگوئی

    امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا کہنا ہے کہ عوام مصیبت کی اس گھڑی میں بڑھ چڑھ کرامدادی کاموں میں حصہ لیں، میڈیکل کیمپ بھی لگائے جائیں تاکہ زخمیوں اور بیماروں کو بروقت طبی امدا د مہیا کی جاسکے،
    جماعت اسلامی اور الخدمت فاﺅنڈیشن کے کارکنان کی سیلاب متاثرین کے لیے ملک بھر میں سرگرمیاں قابل تحسین ہیں.

     

    بلوچستان میں سیلاب،وزیراعظم کا جاں بحق افراد کے لواحقین کو10لاکھ دینے کا اعلان

     

     

    انہوں نے مزید کہا کہ ایک بار پھر حکومت کی نا اہلی کھل کر سامنے آ گئی ہے ،حکومت کے ساتھ ساتھ فلاحی تنظیمیں اور رفاہی ادارے بھی آگے بڑھیں ،عوام اپنے مصیبت زدہ بہن بھائیوں کی مددکیلئے دل کھول کر عطیات دیں .

     

    سندھ :مون سون بارشوں کی دوران جاں بحق افراد کی 100 ہوگئی

     

    دوسری جانب وزیراعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ بلوچستان سمیت ملک بھر میں سیلاب اور طوفانی بارشوں سے متاثرہ عوام کے ریسکیو، ریلیف اور بحالی کے لئے دن رات کوششیں جاری ہیں۔ متاثرہ بہنوں، بھائیوں اور بچوں کی مکمل بحالی اور نقصانات کے ازالے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے ، مشکل اور آزمائش کی اس گھڑی میں انہیں تنہاءنہیں چھوڑیں گے۔ بلوچستان سمیت صوبائی حکومتوں سے مل کر متاثرین کی امداد اور بحالی کے لئے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھیں گے۔

    وزیراعظم شہبازشریف بلوچستان کے سیلاب اور طوفانی بارشوں سے تباہی کا شکار جھل مگسی کے علاقوں اور ا س کے مضافاتی دیہات کے جائزے کے دوران متاثرہ عوام اور میڈیا سے گفتگو کررہے تھے۔ وزیراعظم نے متاثرہ علاقوں کا فضائی جائزہ بھی لیا۔ وزیراعظم گاﺅں شمبانی میں رکے اور سیلاب متاثرین عوام سے ملے اور ان کی شکایات سنیں۔ وزیراعظم کو اپنے درمیان موجود پاکر اور ان کے تسلی دینے پر متاثرین نے وزیراعظم زندہ باد کے نعرے لگائے اور ان کی آمد پر شکریہ ادا کیا۔

    اس موقع پر وزیراعظم نے متاثرین سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ میں آج آپ کو یہ یقین دہانی کرانے آیا ہوں کہ وزیراعلی عبدالقدوس بزنجو اوران کی صوبائی حکومت کے ساتھ ہم مل کر وفاقی حکومت آپ کی پوری مدد کریں گے۔ بلوچستان سمیت پورے پاکستان میں متاثرین کی مدد کریں گے۔ جہاں جہاں جہاں نقصان ہوا ہے، وہاں ریلیف پہنچا رہے ہیں۔ ان شاءاللہ آپ کے ساتھ پوری پوری مدد کریں گے۔ وزیراعظم شہبازشریف نے کہاکہ بارشوں سے پچھلے تیس سال کا ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے ۔ ماضی نسبت اس مرتبہ کئی گنا زیادہ بارشیں ہوئی ہیں۔ تقریبا پورے پاکستان میں تقریبا 300 سے زائد لوگ اللہ کو پیارے ہوگئے ہیں۔ بلوچستان میں 124 لوگ وفات پاگئے ہیں جن میں خواتین، مرد اور بچے شامل ہیںجبکہ بے شمار لوگ زخمی ہوئے ہیں۔

    وزیراعظم شہبازشریف نے کہاکہ مالی معاوضہ جانی نقصان کا ازالہ نہیں ہوسکتا۔ زندگی بھر لوگ اپنے پیاروں کو ہمیشہ یاد کرتے رہتے ہیں۔ یہ غم بھلایانہیں جاسکتا اور نہ ہی اس کی کوئی تلافی ہوسکتی ہے۔ لیکن بحرحال زندگی گزارنی ہے ۔ حکومت نے متاثرین کی امداد کے لئے حتی المقدورکوشش کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ بارشوں اور سیلاب سے جاں بحق ہونے والے افراد کے اہلِ خانہ کیلئے 10 لاکھ امداد فراہم کی جارہی ہے، زخمیوں کے ساتھ ساتھ متاثرہ گھروں میں کچے اور پکے گھروں کو پہنچنے والے نقصانات پر امداد کو یکساں اور بڑھانے کا حکم دیا ہے۔ زخمیوں کی امداد کو 50 ہزار سے بڑھا کر 2 لاکھ کردیا ہے جبکہ جزوی طور پر متاثرہ مکانات کی امداد 25 ہزار سے بڑھا کر اڑھائی لاکھ اور مکمل طور پر متاثرہ گھروں کیلئے 50 ہزار سے بڑھا کر 5 لاکھ کردی گئی ہے۔ وزیراعظم نے حکم دیا کہ فوری طور پر میڈیکل کیمپ قائم کیاجائے۔ ادویات اور ویکسین فراہم کی جائے۔ انہوں نے جانوروں کے علاج معالجے کے لئے ویٹنری ڈاکٹروں کی ٹیم بھی فوری بھجوانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے علاقے میں مزید کشتیاں اور راشن کے تھیلے فراہم کرنے کابھی حکم دیا۔ وزیراعلی بلوچستان عبدالقدوس بزنجو نے متاثرہ گاﺅں اور اس کے مضافات میں متاثرین کی مدد کے لئے ٹیمیں روانہ کردی ہیں۔

  • بلوچستان میں سیلاب،وزیراعظم کا جاں بحق افراد کے لواحقین کو10لاکھ دینے کا اعلان

    بلوچستان میں سیلاب،وزیراعظم کا جاں بحق افراد کے لواحقین کو10لاکھ دینے کا اعلان

    اسلام آباد: وزیراعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ بلوچستان سمیت ملک بھر میں سیلاب اور طوفانی بارشوں سے متاثرہ عوام کے ریسکیو، ریلیف اور بحالی کے لئے دن رات کوششیں جاری ہیں۔ متاثرہ بہنوں، بھائیوں اور بچوں کی مکمل بحالی اور نقصانات کے ازالے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے ، مشکل اور آزمائش کی اس گھڑی میں انہیں تنہاءنہیں چھوڑیں گے۔ بلوچستان سمیت صوبائی حکومتوں سے مل کر متاثرین کی امداد اور بحالی کے لئے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھیں گے۔

    وزیراعظم شہبازشریف بلوچستان کے سیلاب اور طوفانی بارشوں سے تباہی کا شکار جھل مگسی کے علاقوں اور ا س کے مضافاتی دیہات کے جائزے کے دوران متاثرہ عوام اور میڈیا سے گفتگو کررہے تھے۔ وزیراعظم نے متاثرہ علاقوں کا فضائی جائزہ بھی لیا۔ وزیراعظم گاﺅں شمبانی میں رکے اور سیلاب متاثرین عوام سے ملے اور ان کی شکایات سنیں۔ وزیراعظم کو اپنے درمیان موجود پاکر اور ان کے تسلی دینے پر متاثرین نے وزیراعظم زندہ باد کے نعرے لگائے اور ان کی آمد پر شکریہ ادا کیا۔

    اس موقع پر وزیراعظم نے متاثرین سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ میں آج آپ کو یہ یقین دہانی کرانے آیا ہوں کہ وزیراعلی عبدالقدوس بزنجو اوران کی صوبائی حکومت کے ساتھ ہم مل کر وفاقی حکومت آپ کی پوری مدد کریں گے۔ بلوچستان سمیت پورے پاکستان میں متاثرین کی مدد کریں گے۔ جہاں جہاں جہاں نقصان ہوا ہے، وہاں ریلیف پہنچا رہے ہیں۔ ان شاءاللہ آپ کے ساتھ پوری پوری مدد کریں گے۔ وزیراعظم شہبازشریف نے کہاکہ بارشوں سے پچھلے تیس سال کا ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے ۔ ماضی نسبت اس مرتبہ کئی گنا زیادہ بارشیں ہوئی ہیں۔ تقریبا پورے پاکستان میں تقریبا 300 سے زائد لوگ اللہ کو پیارے ہوگئے ہیں۔ بلوچستان میں 124 لوگ وفات پاگئے ہیں جن میں خواتین، مرد اور بچے شامل ہیںجبکہ بے شمار لوگ زخمی ہوئے ہیں۔

    وزیراعظم شہبازشریف نے کہاکہ مالی معاوضہ جانی نقصان کا ازالہ نہیں ہوسکتا۔ زندگی بھر لوگ اپنے پیاروں کو ہمیشہ یاد کرتے رہتے ہیں۔ یہ غم بھلایانہیں جاسکتا اور نہ ہی اس کی کوئی تلافی ہوسکتی ہے۔ لیکن بحرحال زندگی گزارنی ہے ۔ حکومت نے متاثرین کی امداد کے لئے حتی المقدورکوشش کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ بارشوں اور سیلاب سے جاں بحق ہونے والے افراد کے اہلِ خانہ کیلئے 10 لاکھ امداد فراہم کی جارہی ہے، زخمیوں کے ساتھ ساتھ متاثرہ گھروں میں کچے اور پکے گھروں کو پہنچنے والے نقصانات پر امداد کو یکساں اور بڑھانے کا حکم دیا ہے۔ زخمیوں کی امداد کو 50 ہزار سے بڑھا کر 2 لاکھ کردیا ہے جبکہ جزوی طور پر متاثرہ مکانات کی امداد 25 ہزار سے بڑھا کر اڑھائی لاکھ اور مکمل طور پر متاثرہ گھروں کیلئے 50 ہزار سے بڑھا کر 5 لاکھ کردی گئی ہے۔ وزیراعظم نے حکم دیا کہ فوری طور پر میڈیکل کیمپ قائم کیاجائے۔ ادویات اور ویکسین فراہم کی جائے۔ انہوں نے جانوروں کے علاج معالجے کے لئے ویٹنری ڈاکٹروں کی ٹیم بھی فوری بھجوانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے علاقے میں مزید کشتیاں اور راشن کے تھیلے فراہم کرنے کابھی حکم دیا۔ وزیراعلی بلوچستان عبدالقدوس بزنجو نے متاثرہ گاﺅں اور اس کے مضافات میں متاثرین کی مدد کے لئے ٹیمیں روانہ کردی ہیں۔

    وزیراعظم شہبازشریف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان علاقوں کے دورے پر آیا ہوں جہاں سیلابی پانی نے تباہی مچائی ہے۔ دیہات بری طرح متاثر ہوئے ہیں، آبادی کے علاوہ مال مویشی اور املاک کا بھی نقصان ہوا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ابھی میں جھل مگسی کے ایک گاﺅں سے ہوکر آیا ہوں۔ اس گاﺅں میں آٹھ سے 10 فٹ تک پانی آیا تھا۔ علاقہ مکینوں نے بتایا ہے کہ اللہ کا شکر ہے کہ یہاں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ ویسے بھی جھل مگسی میدانی علاقہ ہے جانی نقصان زیادہ نہیں ہوا۔ البتہ گھروں، مال مویشی کا نقصان ہوا ہے۔ انہوں نے کہاکہ کوئٹہ، قلعہ سیف اللہ، ژوب لورالائی، لسبیلیہ سمیت دیگر علاقوں میں طوفانی بارشوں اور سیلاب نے تباہی مچائی ہے۔ انہوں نے کہاکہ وزیراعلی بلوچستان عبدالقدوس بزنجو اور ان کی حکومت کے ساتھ مل کردن رات بھرپور کام کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ وفاقی حکومت صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کرمتاثرین کی فوری مدد اور بحالی کے لئے کوششیں جاری رکھیں گی۔ انہوں نے کہاکہ تین چار روز قبل سیلاب اور بارش سے متاثرین اور ان کے نقصانات کے ازالے کے جائزے اور اقدامات کے حوالے سے اسلام آباد میں اجلاس منعقد کیا تھا جس میں وزرا اعلی اور چیف سیکریٹریز موجود تھے۔ عوام نے خیرمقدم کیا۔ قبل ازیں ہفتے کی صبح وزیراعظم بلوچستان کے لئے روانہ ہوئے ۔ علی الصبح موسم کی خرابی کی وجہ سے ان کی روانگی موخر ہوئی تھی تاہم وزیراعظم کی ہدایت پر موسم بہتر ہوتے ہی وہ بلوچستان کے لئے روانہ ہوگئے۔

    وزیراعظم شہبازشریف جیکب آباد پہنچے تو ’نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی‘ (این ڈی ایم اے) کے حکام اور چیف سیکرٹری بلوچستان عبدالعزیز اوقلی نے بریفنگ دی جس کے بعد وہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے دورے کے لئے جھل مگسی روانہ ہوئے۔ وزیراطلاعات مریم اورنگزیب، سردار خالد مگسی، سینیٹر مولاناعبدالغفور حیدری، وزیرہاوسنگ مولانا عبدالواسع ، وزیرمملکت پاور محمد ہاشم نوتیزئی ، معاون خصوصی سید فہد حسین اور چئیرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل اختر نواز بھی وزیراعظم کے ہمراہ ہیں۔

  • سندھ :مون سون بارشوں کی دوران جاں بحق افراد کی 100 ہوگئی

    سندھ :مون سون بارشوں کی دوران جاں بحق افراد کی 100 ہوگئی

    کراچی :سندھ میں حالیہ مون سون سیزن کے دوران ہونے والی بارشوں کے دوران 100 افراد لقمہ اجل بنے ہیں۔پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی سندھ کی جانب سے اجری رپورٹ کے مطابق 20 جون سے 29 جولائی تک صوبے بھر میں ہونے والی بارشوں کے دوران حادثات و واقعات میں 100 افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق بارشوں کے نتیجے میں پیش آنے والے واقعات میں جاں بحق ہونے والوں میں 51 بچے، 43 مرد اور 6 خواتین شامل ہیں۔
    سندھ میں ہونے والی ہلاکتوں میں سے 41 کراچی میں ہوئیں جب کہ 10 کا تعلق ملیر سے تھا۔

    رواں برس مون سون سیزن کے دوران اب تک سندھ میں خلاف توقع کئی 500 فیصد زائد بارش ریکارڈ ہوئی ہے، صرف کراچی میں جولائی کے مہینے میں بارش کا 55 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے۔کراچی کے کئی علاقوں میں صرف ایک ماہ کے دوران 400 ملی میٹر سے زائد بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔

    محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ اگست کے مہینے میں بھی مون سون بارشوں کے کچھ اسپیل آئیں گے۔ 6 اگست کو بارش برسانے کا طاقتور سسٹم سندھ میں داخل ہوگا جو ناصرف سندھ بلکہ بلوچستان میں بھی شدید بارشوں کا باعث بن سکتا ہے۔

    وزیراعظم سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کرنے کیلئے بلوچستان روانہ

    ادھر ملک کے مختلف علاقوں میں مون سون بارشوں کے طوفانی اسپیل اور سیلاب نے تباہی مچا دی، بلوچستان اور پنجاب کے کئی علاقوں سے ہزاروں افراد متاثر ہو گئے، فصلیں تباہ، بستیاں اجڑ گئیں۔

    بلوچستان میں بارشیں اور سیلاب نے ہر طرف تباہی مچادی، لسبیلہ شدید متاثر، سینکڑوں مکانات زمین بوس، چاغی ، احمد وال، دالبندین میں سلابی ریلے سے مزید کئی فٹ ریلوے ٹریک بہہ گیا، پاک ایران ٹرین سروس معطل، حب ندی میں پھنسے 3 افراد کو بچالیا گیا، پاک فوج کا متاثرہ علاقوں میں ریلیف آپریشن جاری ہے۔

    یرہ غازی خان ۔ ڈپٹی کمشنر محمد انور بریار سیلاب زدگان سے بات کرتے ہوئے آبدیدہ…

    ادھر مسلسل طوفانی بارشوں سے دریائے چناب میں پانی کی سطح بلند ہونے پر ملتان میں قاسم بیلہ کی متعدد بستیاں زیر آب آگئیں، سیکڑوں ایکڑ پر فصلوں اور آم کے باغات کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، اوچ شریف میں بھی دریائے چناب میں پانی کی سطح میں اضافہ ہونے سے ہزاروں افراد متاثر ہوئے ہیں، متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اہلکار لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کررہے ہیں۔

    سیلاب ریلوے ٹریک بہا لے گیا، پاک ایران ٹرین سروس معطل

    راجن پور میں حالیہ طوفانی بارشوں سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی، 75 سے زائد مواضعات متاثر ہوئے ،ایک ہزار سے زائد گھروں کو نقصان پہنچا، 27 ہزار ایکڑ پر کاشت کی گئی فصلیں بھی تباہ ہوگئیں۔

  • بلوچستان، بارشوں کے دوران 42 بچوں سمیت 120 اموات

    بلوچستان، بارشوں کے دوران 42 بچوں سمیت 120 اموات

    بلوچستان میں بارشوں اور سیلاب سے تباہ کاریاں ، متاثرہ علاقوں میں فضائی امدادی کارروائیاں جاری ہیں

    حکومت بلوچستان کے ایم آئی سیونٹین ہیلی کاپٹر کی جھل مگسی میں امدادی کارروائی جاری ہے ہیلی کاپٹر کے ذریعے راشن ، ادویات اور پینے کا صاف پہنچایا گیا ہیلی کاپٹر کے ذریعے شدید بیمار مریض کو کوئٹہ منتقل کیا گیا ،

    بلوچستان میں مون سون بارشیں ،نقصانات سے متعلق پی ڈی ایم اے کی رپورٹ جاری کر دی گئی ہے بلوچستان میں بارشوں کے دوران مختلف حادثات میں 120 افراد جاں بحق ہوئے بلوچستان میں بارشوں کے دوران جاں بحق افراد میں 46 مرد،32 خواتین اور 42 بچے شامل ہیں اموات بولان ، کوئٹہ، ژوب، دکی، خصدار، کوہلو، کیچ، مستونگ، ہرنائی، قلعہ سیف اللہ میں ہوئیں بلوچستان میں بارشوں کے دوران 70 افراد مختلف حادثات میں زخمی ہوئے بلوچستان میں بارشوں کے دوران 12 ہزار 320 مکانات منہدم ہوئے ،

    دوسری جانب ڈیرہ غازی خان، سیلاب سے ہونے والے نقصانات کی ابتدائی رپورٹ جاری کر دی گئی ڈیرہ غازی خان کا سیلاب سے ایک لاکھ 75 ہزار ایکڑ رقبہ زیرآب آیا،برساتی ندی نالوں کے سیلاب سے 87 ہزار لوگ متاثر اور8جاں بحق ہوئے،متاثرہ علاقوں میں 21 رابطہ سڑکیں مکمل اور جزوی متاثر ، 499 جانور بہہ گئے متاثرہ علاقوں سے 972 افراد کو ریسکیو کیا، 14ریلیف کیمپ قائم کئے گئے سیلابی پانی اترنا شروع ہو گیا ہے متاثرین کی گھروں کو واپسی جاری شروع ہو گئی ہے 123 افراد ریلیف کیمپوں میں موجود ہیں متاثرین میں خشک راشن اور 690 خیمے ،500 ٹینٹ ،500 چٹائیاں ،200 مچھردانیاں تقسیم کی گئی ہیں نقصانات کا تخمینہ لگانے کے لیے سروے ٹیمیں تشکیل دیدی گئیں،

    تخت بھائی میں موسلادھار بارش کا سلسلہ جاری ہے نشیبی علاقے زیرآب آ چکے ہیں بارش کا پانی ماکیٹوں، گھروں اور مساجد میں داخل ہو چکا ہے مین ملاکنڈ روڈ پر پانی جمع ہے راہگیروں کو مشکلات کا سامنا ہے

    ڈیرہ اسماعیل خان، تحصیل پہاڑپور کے مختلف علاقوں میں سیلابی پانی آبادی میں داخل ہو گیا ہے ٹانک اور گومل سے آنے والے سیلابی پانی سے رہائشی متاثر ہوئے ہیں بندکورائی ،بگوانی شمالی، وانڈہ خالق شاہ ،سول راکھ کیچ کے لوگ نقل مکانی پر مجبورہو چکے ہیں پہاڑپور واٹر چینلز کی صفائی نہ ہونے کی وجہ سے پانی نے آبادی کا رخ کر لیا پانی اسکولوں، گھروں ، کھیتوں اور بجلی کے گریڈ میں داخل ہو چکا ہے

    دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سیہون پہنچ گئے، بارش سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کریں گے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سیہون میں منچھر جھیل ، دراوٹ ڈیم کا معائنہ کریں گے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے بارش سے متاثرہ لوگ ملاقات بھی کریں گے،

    قبل ازیں سکھر بیراج کے مختلف گیٹوں سے 7 لاشیں برآمد ہوئی ہیں، انتظامیہ کو اطلاع دے دی گئی دو روز قبل بھی 5 لاشیں نکالی گئی تھیں،

    سیلاب سے ہونے والے نقصان کے سرکاری اعداد وشمارجاری

    حکومت بارش سے متاثرہ افراد کو معاوضہ دینے کا اعلان کرے،سربراہ پاکستان سنی تحریک

    بارش کے بعد کی صورتحال ، میئر کراچی نے گورنر سندھ سے ملاقات میں وفاق سے مدد مانگ لی

    اکثر ارکان اسمبلی ڈیفنس اور کلفٹن کے رہائشی ہیں انہیں پتا ہی نہیں کہ کراچی کے عوام کے مسائل کیا ہیں،حافظ نعیم الرحمان

    ملک میں سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں پاک فوج کی امدادی سرگرمیاں جاری ہیں