Baaghi TV

Tag: سیلاب

  • چودھری پرویز الٰہی کا سیلاب متاثرین کے لئے مالی امداد کااعلان

    چودھری پرویز الٰہی کا سیلاب متاثرین کے لئے مالی امداد کااعلان

    وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی کی زیرصدارت اجلاس منعقد ہوا.اجلاس میں وزیراعلی نے ڈیرہ غازی خان، راجن پور، مظفر گڑھ اور میانوالی کے سیلاب متاثرین کے لئے مالی امداد کااعلان کر دیا.

    بلوچستان میں سیلاب،وزیراعظم کا جاں بحق افراد کے لواحقین کو10لاکھ دینے کا اعلان

    وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے کہا کہ پنجاب حکومت سیلاب سے جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین کو 8،8لا کھ روپے مالی امداد دے گی، گھروں، فصلوں او رمویشیوں کے نقصانات کا تخمینہ لگا کر متاثرہ افراد کی مالی معاونت کی جائے گی، سیلاب متاثرہ علاقوں میں سب سے پہلے ریسکیو 1122کا عملہ پہنچا۔

    وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے متاثرہ علاقوں میں سڑکوں کی جلد تعمیر ومرمت کاحکم دیا.ان کا کہنا تھا کہ سڑکوں کی بحالی کا کام جنگی بنیادوں پر شروع کیاجائے- وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے سیلاب متاثرہ علاقوں میں میڈیکل کیمپس لگانے کی ہدایت بھی کی.

    چودھری پرویز الٰہی کا کہنا تھا کہ میڈیکل کیمپس میں سیلاب متاثرین کو وبائی امراض سے بچاؤ کی ویکسین بھی لگائی جائے، سانپ کاٹنےاور ہیضہ سے بچاؤ کی ادویات میڈیکل کیمپس میں دستیاب ہونی چاہئیں، سیلاب متاثرین میں خشک راشن تقسیم کیاجائے، ڈی واٹرنگ پمپس کے ذریعے سیلابی پانی کی نکاسی کو یقینی بنایا جائے-

     

    ملک بھر میں مزید بارشوں کی پیشگوئی

     

    چودھری پرویز الہٰی نے ہدایت کی کہ کمشنر،ڈپٹی کمشنرز،آر پی او اور ڈی پی اوزمنتخب نمائندوں کے سا تھ ملکر متاثرین کی دادرسی کے لیے کوئی کسراٹھا نہ رکھیں ، ریلیف کی تمام سرگرمیوں کی مانیٹرنگ کی جائے اور باقاعدگی سے رپورٹ پیش کی جائے، تمام متعلقہ محکمے مربوط انداز سے ریلیف کی سرگرمیوں کو مزید تیز کریں –

    وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے کہا کہ میں خود بھی جلد سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ کروں گا، سیلاب سے متاثرہ بہن بھائیوں کوتنہا نہیں چھوڑیں گے-چودھری پرویز الٰہی

    وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی کی زیرصدارت اجلاس میں ڈیرہ غازی خان، راجن پور، مظفر گڑھ اور میانوالی کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیاگیا. اجلاس میں سابق صوبائی وزیر ڈاکٹر یاسمین راشد،اراکین قومی و صوبائی اسمبلی سردار محمد خان لغاری، سیف الدین کھوسہ،جاوید اخترلنڈ، محی الدین کھوسہ، عامر نواز چانڈیہ،ثناءاللہ خان مستی خیل، پرنسپل سیکرٹری وزیراعلیٰ محمدخان بھٹی،سابق چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ سلمان غنی،سابق پرنسپل سیکرٹری وزیراعلیٰ جی ایم سکندر، چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ، سیکرٹری صحت،ڈی جی پنجاب ایمرجنسی سروسزاور متعلقہ حکام نے شرکت کی.

  • سیلاب،حکومت کے ساتھ رفاہی ادارے بھی آگے بڑھیں،سراج الحق

    سیلاب،حکومت کے ساتھ رفاہی ادارے بھی آگے بڑھیں،سراج الحق

    امیر جماعت اسلامی سراج الحق خصوصی دورے پر کوئٹہ پہنچ گئے جہاں آج بلوچستان کے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کریں گے.سراج الحق بلوچستان میں جاری کارکنان اور الخدمت کی امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیں گے .

    ملک بھر میں مزید بارشوں کی پیشگوئی

    امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا کہنا ہے کہ عوام مصیبت کی اس گھڑی میں بڑھ چڑھ کرامدادی کاموں میں حصہ لیں، میڈیکل کیمپ بھی لگائے جائیں تاکہ زخمیوں اور بیماروں کو بروقت طبی امدا د مہیا کی جاسکے،
    جماعت اسلامی اور الخدمت فاﺅنڈیشن کے کارکنان کی سیلاب متاثرین کے لیے ملک بھر میں سرگرمیاں قابل تحسین ہیں.

     

    بلوچستان میں سیلاب،وزیراعظم کا جاں بحق افراد کے لواحقین کو10لاکھ دینے کا اعلان

     

     

    انہوں نے مزید کہا کہ ایک بار پھر حکومت کی نا اہلی کھل کر سامنے آ گئی ہے ،حکومت کے ساتھ ساتھ فلاحی تنظیمیں اور رفاہی ادارے بھی آگے بڑھیں ،عوام اپنے مصیبت زدہ بہن بھائیوں کی مددکیلئے دل کھول کر عطیات دیں .

     

    سندھ :مون سون بارشوں کی دوران جاں بحق افراد کی 100 ہوگئی

     

    دوسری جانب وزیراعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ بلوچستان سمیت ملک بھر میں سیلاب اور طوفانی بارشوں سے متاثرہ عوام کے ریسکیو، ریلیف اور بحالی کے لئے دن رات کوششیں جاری ہیں۔ متاثرہ بہنوں، بھائیوں اور بچوں کی مکمل بحالی اور نقصانات کے ازالے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے ، مشکل اور آزمائش کی اس گھڑی میں انہیں تنہاءنہیں چھوڑیں گے۔ بلوچستان سمیت صوبائی حکومتوں سے مل کر متاثرین کی امداد اور بحالی کے لئے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھیں گے۔

    وزیراعظم شہبازشریف بلوچستان کے سیلاب اور طوفانی بارشوں سے تباہی کا شکار جھل مگسی کے علاقوں اور ا س کے مضافاتی دیہات کے جائزے کے دوران متاثرہ عوام اور میڈیا سے گفتگو کررہے تھے۔ وزیراعظم نے متاثرہ علاقوں کا فضائی جائزہ بھی لیا۔ وزیراعظم گاﺅں شمبانی میں رکے اور سیلاب متاثرین عوام سے ملے اور ان کی شکایات سنیں۔ وزیراعظم کو اپنے درمیان موجود پاکر اور ان کے تسلی دینے پر متاثرین نے وزیراعظم زندہ باد کے نعرے لگائے اور ان کی آمد پر شکریہ ادا کیا۔

    اس موقع پر وزیراعظم نے متاثرین سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ میں آج آپ کو یہ یقین دہانی کرانے آیا ہوں کہ وزیراعلی عبدالقدوس بزنجو اوران کی صوبائی حکومت کے ساتھ ہم مل کر وفاقی حکومت آپ کی پوری مدد کریں گے۔ بلوچستان سمیت پورے پاکستان میں متاثرین کی مدد کریں گے۔ جہاں جہاں جہاں نقصان ہوا ہے، وہاں ریلیف پہنچا رہے ہیں۔ ان شاءاللہ آپ کے ساتھ پوری پوری مدد کریں گے۔ وزیراعظم شہبازشریف نے کہاکہ بارشوں سے پچھلے تیس سال کا ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے ۔ ماضی نسبت اس مرتبہ کئی گنا زیادہ بارشیں ہوئی ہیں۔ تقریبا پورے پاکستان میں تقریبا 300 سے زائد لوگ اللہ کو پیارے ہوگئے ہیں۔ بلوچستان میں 124 لوگ وفات پاگئے ہیں جن میں خواتین، مرد اور بچے شامل ہیںجبکہ بے شمار لوگ زخمی ہوئے ہیں۔

    وزیراعظم شہبازشریف نے کہاکہ مالی معاوضہ جانی نقصان کا ازالہ نہیں ہوسکتا۔ زندگی بھر لوگ اپنے پیاروں کو ہمیشہ یاد کرتے رہتے ہیں۔ یہ غم بھلایانہیں جاسکتا اور نہ ہی اس کی کوئی تلافی ہوسکتی ہے۔ لیکن بحرحال زندگی گزارنی ہے ۔ حکومت نے متاثرین کی امداد کے لئے حتی المقدورکوشش کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ بارشوں اور سیلاب سے جاں بحق ہونے والے افراد کے اہلِ خانہ کیلئے 10 لاکھ امداد فراہم کی جارہی ہے، زخمیوں کے ساتھ ساتھ متاثرہ گھروں میں کچے اور پکے گھروں کو پہنچنے والے نقصانات پر امداد کو یکساں اور بڑھانے کا حکم دیا ہے۔ زخمیوں کی امداد کو 50 ہزار سے بڑھا کر 2 لاکھ کردیا ہے جبکہ جزوی طور پر متاثرہ مکانات کی امداد 25 ہزار سے بڑھا کر اڑھائی لاکھ اور مکمل طور پر متاثرہ گھروں کیلئے 50 ہزار سے بڑھا کر 5 لاکھ کردی گئی ہے۔ وزیراعظم نے حکم دیا کہ فوری طور پر میڈیکل کیمپ قائم کیاجائے۔ ادویات اور ویکسین فراہم کی جائے۔ انہوں نے جانوروں کے علاج معالجے کے لئے ویٹنری ڈاکٹروں کی ٹیم بھی فوری بھجوانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے علاقے میں مزید کشتیاں اور راشن کے تھیلے فراہم کرنے کابھی حکم دیا۔ وزیراعلی بلوچستان عبدالقدوس بزنجو نے متاثرہ گاﺅں اور اس کے مضافات میں متاثرین کی مدد کے لئے ٹیمیں روانہ کردی ہیں۔

  • بلوچستان میں سیلاب،وزیراعظم کا جاں بحق افراد کے لواحقین کو10لاکھ دینے کا اعلان

    بلوچستان میں سیلاب،وزیراعظم کا جاں بحق افراد کے لواحقین کو10لاکھ دینے کا اعلان

    اسلام آباد: وزیراعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ بلوچستان سمیت ملک بھر میں سیلاب اور طوفانی بارشوں سے متاثرہ عوام کے ریسکیو، ریلیف اور بحالی کے لئے دن رات کوششیں جاری ہیں۔ متاثرہ بہنوں، بھائیوں اور بچوں کی مکمل بحالی اور نقصانات کے ازالے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے ، مشکل اور آزمائش کی اس گھڑی میں انہیں تنہاءنہیں چھوڑیں گے۔ بلوچستان سمیت صوبائی حکومتوں سے مل کر متاثرین کی امداد اور بحالی کے لئے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھیں گے۔

    وزیراعظم شہبازشریف بلوچستان کے سیلاب اور طوفانی بارشوں سے تباہی کا شکار جھل مگسی کے علاقوں اور ا س کے مضافاتی دیہات کے جائزے کے دوران متاثرہ عوام اور میڈیا سے گفتگو کررہے تھے۔ وزیراعظم نے متاثرہ علاقوں کا فضائی جائزہ بھی لیا۔ وزیراعظم گاﺅں شمبانی میں رکے اور سیلاب متاثرین عوام سے ملے اور ان کی شکایات سنیں۔ وزیراعظم کو اپنے درمیان موجود پاکر اور ان کے تسلی دینے پر متاثرین نے وزیراعظم زندہ باد کے نعرے لگائے اور ان کی آمد پر شکریہ ادا کیا۔

    اس موقع پر وزیراعظم نے متاثرین سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ میں آج آپ کو یہ یقین دہانی کرانے آیا ہوں کہ وزیراعلی عبدالقدوس بزنجو اوران کی صوبائی حکومت کے ساتھ ہم مل کر وفاقی حکومت آپ کی پوری مدد کریں گے۔ بلوچستان سمیت پورے پاکستان میں متاثرین کی مدد کریں گے۔ جہاں جہاں جہاں نقصان ہوا ہے، وہاں ریلیف پہنچا رہے ہیں۔ ان شاءاللہ آپ کے ساتھ پوری پوری مدد کریں گے۔ وزیراعظم شہبازشریف نے کہاکہ بارشوں سے پچھلے تیس سال کا ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے ۔ ماضی نسبت اس مرتبہ کئی گنا زیادہ بارشیں ہوئی ہیں۔ تقریبا پورے پاکستان میں تقریبا 300 سے زائد لوگ اللہ کو پیارے ہوگئے ہیں۔ بلوچستان میں 124 لوگ وفات پاگئے ہیں جن میں خواتین، مرد اور بچے شامل ہیںجبکہ بے شمار لوگ زخمی ہوئے ہیں۔

    وزیراعظم شہبازشریف نے کہاکہ مالی معاوضہ جانی نقصان کا ازالہ نہیں ہوسکتا۔ زندگی بھر لوگ اپنے پیاروں کو ہمیشہ یاد کرتے رہتے ہیں۔ یہ غم بھلایانہیں جاسکتا اور نہ ہی اس کی کوئی تلافی ہوسکتی ہے۔ لیکن بحرحال زندگی گزارنی ہے ۔ حکومت نے متاثرین کی امداد کے لئے حتی المقدورکوشش کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ بارشوں اور سیلاب سے جاں بحق ہونے والے افراد کے اہلِ خانہ کیلئے 10 لاکھ امداد فراہم کی جارہی ہے، زخمیوں کے ساتھ ساتھ متاثرہ گھروں میں کچے اور پکے گھروں کو پہنچنے والے نقصانات پر امداد کو یکساں اور بڑھانے کا حکم دیا ہے۔ زخمیوں کی امداد کو 50 ہزار سے بڑھا کر 2 لاکھ کردیا ہے جبکہ جزوی طور پر متاثرہ مکانات کی امداد 25 ہزار سے بڑھا کر اڑھائی لاکھ اور مکمل طور پر متاثرہ گھروں کیلئے 50 ہزار سے بڑھا کر 5 لاکھ کردی گئی ہے۔ وزیراعظم نے حکم دیا کہ فوری طور پر میڈیکل کیمپ قائم کیاجائے۔ ادویات اور ویکسین فراہم کی جائے۔ انہوں نے جانوروں کے علاج معالجے کے لئے ویٹنری ڈاکٹروں کی ٹیم بھی فوری بھجوانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے علاقے میں مزید کشتیاں اور راشن کے تھیلے فراہم کرنے کابھی حکم دیا۔ وزیراعلی بلوچستان عبدالقدوس بزنجو نے متاثرہ گاﺅں اور اس کے مضافات میں متاثرین کی مدد کے لئے ٹیمیں روانہ کردی ہیں۔

    وزیراعظم شہبازشریف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان علاقوں کے دورے پر آیا ہوں جہاں سیلابی پانی نے تباہی مچائی ہے۔ دیہات بری طرح متاثر ہوئے ہیں، آبادی کے علاوہ مال مویشی اور املاک کا بھی نقصان ہوا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ابھی میں جھل مگسی کے ایک گاﺅں سے ہوکر آیا ہوں۔ اس گاﺅں میں آٹھ سے 10 فٹ تک پانی آیا تھا۔ علاقہ مکینوں نے بتایا ہے کہ اللہ کا شکر ہے کہ یہاں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ ویسے بھی جھل مگسی میدانی علاقہ ہے جانی نقصان زیادہ نہیں ہوا۔ البتہ گھروں، مال مویشی کا نقصان ہوا ہے۔ انہوں نے کہاکہ کوئٹہ، قلعہ سیف اللہ، ژوب لورالائی، لسبیلیہ سمیت دیگر علاقوں میں طوفانی بارشوں اور سیلاب نے تباہی مچائی ہے۔ انہوں نے کہاکہ وزیراعلی بلوچستان عبدالقدوس بزنجو اور ان کی حکومت کے ساتھ مل کردن رات بھرپور کام کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ وفاقی حکومت صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کرمتاثرین کی فوری مدد اور بحالی کے لئے کوششیں جاری رکھیں گی۔ انہوں نے کہاکہ تین چار روز قبل سیلاب اور بارش سے متاثرین اور ان کے نقصانات کے ازالے کے جائزے اور اقدامات کے حوالے سے اسلام آباد میں اجلاس منعقد کیا تھا جس میں وزرا اعلی اور چیف سیکریٹریز موجود تھے۔ عوام نے خیرمقدم کیا۔ قبل ازیں ہفتے کی صبح وزیراعظم بلوچستان کے لئے روانہ ہوئے ۔ علی الصبح موسم کی خرابی کی وجہ سے ان کی روانگی موخر ہوئی تھی تاہم وزیراعظم کی ہدایت پر موسم بہتر ہوتے ہی وہ بلوچستان کے لئے روانہ ہوگئے۔

    وزیراعظم شہبازشریف جیکب آباد پہنچے تو ’نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی‘ (این ڈی ایم اے) کے حکام اور چیف سیکرٹری بلوچستان عبدالعزیز اوقلی نے بریفنگ دی جس کے بعد وہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے دورے کے لئے جھل مگسی روانہ ہوئے۔ وزیراطلاعات مریم اورنگزیب، سردار خالد مگسی، سینیٹر مولاناعبدالغفور حیدری، وزیرہاوسنگ مولانا عبدالواسع ، وزیرمملکت پاور محمد ہاشم نوتیزئی ، معاون خصوصی سید فہد حسین اور چئیرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل اختر نواز بھی وزیراعظم کے ہمراہ ہیں۔

  • سندھ :مون سون بارشوں کی دوران جاں بحق افراد کی 100 ہوگئی

    سندھ :مون سون بارشوں کی دوران جاں بحق افراد کی 100 ہوگئی

    کراچی :سندھ میں حالیہ مون سون سیزن کے دوران ہونے والی بارشوں کے دوران 100 افراد لقمہ اجل بنے ہیں۔پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی سندھ کی جانب سے اجری رپورٹ کے مطابق 20 جون سے 29 جولائی تک صوبے بھر میں ہونے والی بارشوں کے دوران حادثات و واقعات میں 100 افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق بارشوں کے نتیجے میں پیش آنے والے واقعات میں جاں بحق ہونے والوں میں 51 بچے، 43 مرد اور 6 خواتین شامل ہیں۔
    سندھ میں ہونے والی ہلاکتوں میں سے 41 کراچی میں ہوئیں جب کہ 10 کا تعلق ملیر سے تھا۔

    رواں برس مون سون سیزن کے دوران اب تک سندھ میں خلاف توقع کئی 500 فیصد زائد بارش ریکارڈ ہوئی ہے، صرف کراچی میں جولائی کے مہینے میں بارش کا 55 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے۔کراچی کے کئی علاقوں میں صرف ایک ماہ کے دوران 400 ملی میٹر سے زائد بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔

    محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ اگست کے مہینے میں بھی مون سون بارشوں کے کچھ اسپیل آئیں گے۔ 6 اگست کو بارش برسانے کا طاقتور سسٹم سندھ میں داخل ہوگا جو ناصرف سندھ بلکہ بلوچستان میں بھی شدید بارشوں کا باعث بن سکتا ہے۔

    وزیراعظم سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کرنے کیلئے بلوچستان روانہ

    ادھر ملک کے مختلف علاقوں میں مون سون بارشوں کے طوفانی اسپیل اور سیلاب نے تباہی مچا دی، بلوچستان اور پنجاب کے کئی علاقوں سے ہزاروں افراد متاثر ہو گئے، فصلیں تباہ، بستیاں اجڑ گئیں۔

    بلوچستان میں بارشیں اور سیلاب نے ہر طرف تباہی مچادی، لسبیلہ شدید متاثر، سینکڑوں مکانات زمین بوس، چاغی ، احمد وال، دالبندین میں سلابی ریلے سے مزید کئی فٹ ریلوے ٹریک بہہ گیا، پاک ایران ٹرین سروس معطل، حب ندی میں پھنسے 3 افراد کو بچالیا گیا، پاک فوج کا متاثرہ علاقوں میں ریلیف آپریشن جاری ہے۔

    یرہ غازی خان ۔ ڈپٹی کمشنر محمد انور بریار سیلاب زدگان سے بات کرتے ہوئے آبدیدہ…

    ادھر مسلسل طوفانی بارشوں سے دریائے چناب میں پانی کی سطح بلند ہونے پر ملتان میں قاسم بیلہ کی متعدد بستیاں زیر آب آگئیں، سیکڑوں ایکڑ پر فصلوں اور آم کے باغات کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، اوچ شریف میں بھی دریائے چناب میں پانی کی سطح میں اضافہ ہونے سے ہزاروں افراد متاثر ہوئے ہیں، متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اہلکار لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کررہے ہیں۔

    سیلاب ریلوے ٹریک بہا لے گیا، پاک ایران ٹرین سروس معطل

    راجن پور میں حالیہ طوفانی بارشوں سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی، 75 سے زائد مواضعات متاثر ہوئے ،ایک ہزار سے زائد گھروں کو نقصان پہنچا، 27 ہزار ایکڑ پر کاشت کی گئی فصلیں بھی تباہ ہوگئیں۔

  • بلوچستان، بارشوں کے دوران 42 بچوں سمیت 120 اموات

    بلوچستان، بارشوں کے دوران 42 بچوں سمیت 120 اموات

    بلوچستان میں بارشوں اور سیلاب سے تباہ کاریاں ، متاثرہ علاقوں میں فضائی امدادی کارروائیاں جاری ہیں

    حکومت بلوچستان کے ایم آئی سیونٹین ہیلی کاپٹر کی جھل مگسی میں امدادی کارروائی جاری ہے ہیلی کاپٹر کے ذریعے راشن ، ادویات اور پینے کا صاف پہنچایا گیا ہیلی کاپٹر کے ذریعے شدید بیمار مریض کو کوئٹہ منتقل کیا گیا ،

    بلوچستان میں مون سون بارشیں ،نقصانات سے متعلق پی ڈی ایم اے کی رپورٹ جاری کر دی گئی ہے بلوچستان میں بارشوں کے دوران مختلف حادثات میں 120 افراد جاں بحق ہوئے بلوچستان میں بارشوں کے دوران جاں بحق افراد میں 46 مرد،32 خواتین اور 42 بچے شامل ہیں اموات بولان ، کوئٹہ، ژوب، دکی، خصدار، کوہلو، کیچ، مستونگ، ہرنائی، قلعہ سیف اللہ میں ہوئیں بلوچستان میں بارشوں کے دوران 70 افراد مختلف حادثات میں زخمی ہوئے بلوچستان میں بارشوں کے دوران 12 ہزار 320 مکانات منہدم ہوئے ،

    دوسری جانب ڈیرہ غازی خان، سیلاب سے ہونے والے نقصانات کی ابتدائی رپورٹ جاری کر دی گئی ڈیرہ غازی خان کا سیلاب سے ایک لاکھ 75 ہزار ایکڑ رقبہ زیرآب آیا،برساتی ندی نالوں کے سیلاب سے 87 ہزار لوگ متاثر اور8جاں بحق ہوئے،متاثرہ علاقوں میں 21 رابطہ سڑکیں مکمل اور جزوی متاثر ، 499 جانور بہہ گئے متاثرہ علاقوں سے 972 افراد کو ریسکیو کیا، 14ریلیف کیمپ قائم کئے گئے سیلابی پانی اترنا شروع ہو گیا ہے متاثرین کی گھروں کو واپسی جاری شروع ہو گئی ہے 123 افراد ریلیف کیمپوں میں موجود ہیں متاثرین میں خشک راشن اور 690 خیمے ،500 ٹینٹ ،500 چٹائیاں ،200 مچھردانیاں تقسیم کی گئی ہیں نقصانات کا تخمینہ لگانے کے لیے سروے ٹیمیں تشکیل دیدی گئیں،

    تخت بھائی میں موسلادھار بارش کا سلسلہ جاری ہے نشیبی علاقے زیرآب آ چکے ہیں بارش کا پانی ماکیٹوں، گھروں اور مساجد میں داخل ہو چکا ہے مین ملاکنڈ روڈ پر پانی جمع ہے راہگیروں کو مشکلات کا سامنا ہے

    ڈیرہ اسماعیل خان، تحصیل پہاڑپور کے مختلف علاقوں میں سیلابی پانی آبادی میں داخل ہو گیا ہے ٹانک اور گومل سے آنے والے سیلابی پانی سے رہائشی متاثر ہوئے ہیں بندکورائی ،بگوانی شمالی، وانڈہ خالق شاہ ،سول راکھ کیچ کے لوگ نقل مکانی پر مجبورہو چکے ہیں پہاڑپور واٹر چینلز کی صفائی نہ ہونے کی وجہ سے پانی نے آبادی کا رخ کر لیا پانی اسکولوں، گھروں ، کھیتوں اور بجلی کے گریڈ میں داخل ہو چکا ہے

    دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سیہون پہنچ گئے، بارش سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کریں گے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سیہون میں منچھر جھیل ، دراوٹ ڈیم کا معائنہ کریں گے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے بارش سے متاثرہ لوگ ملاقات بھی کریں گے،

    قبل ازیں سکھر بیراج کے مختلف گیٹوں سے 7 لاشیں برآمد ہوئی ہیں، انتظامیہ کو اطلاع دے دی گئی دو روز قبل بھی 5 لاشیں نکالی گئی تھیں،

    سیلاب سے ہونے والے نقصان کے سرکاری اعداد وشمارجاری

    حکومت بارش سے متاثرہ افراد کو معاوضہ دینے کا اعلان کرے،سربراہ پاکستان سنی تحریک

    بارش کے بعد کی صورتحال ، میئر کراچی نے گورنر سندھ سے ملاقات میں وفاق سے مدد مانگ لی

    اکثر ارکان اسمبلی ڈیفنس اور کلفٹن کے رہائشی ہیں انہیں پتا ہی نہیں کہ کراچی کے عوام کے مسائل کیا ہیں،حافظ نعیم الرحمان

    ملک میں سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں پاک فوج کی امدادی سرگرمیاں جاری ہیں

  • قوم سیلاب میں بہہ رہی اور سیاستدان اقتدار کی جنگ لڑ رہے:تجزیہ:- شہزاد قریشی

    قوم سیلاب میں بہہ رہی اور سیاستدان اقتدار کی جنگ لڑ رہے:تجزیہ:- شہزاد قریشی

    بلوچستان، صوبہ سندھ، پنجاب، سیلاب میں بہتے ہوئے غریب لوگوں کے گھروں، سیلاب میں بہتے ہوئے غریب لوگوں کی لاشیں، شہروں میں ان سیلابی ریلوں کی تباہی دیکھ کر الفاظ ساتھ چھوڑ گئے ہیں اور یہ دل ہلا دینے والے واقعات پہلی بار منظر عام پر نہیں آئے سالوں سے غریب عوام کے ساتھ ایسا ہی ہوتا آیا ہے اور ہو رہا ہے۔ نکاسی آب کے محکموں اور حکومتوں کی نااہلی کا نتیجہ ہے نالوں کی صفائی کرنے والے کہاں ہوتے ہیں؟ ہم بحیثیت قوم ماہرین اقتصادیات کے مطابق عملاً دیوالیہ ہو چکے ہیں قرضوں پر چل رہے ہیں قوم سیلاب میں بہہ رہی ہے سیاستدان ایک دوسرے کو چور ڈاکو اور اقتدار حاصل کرنے اور اقتدار کو طول دینے کی جنگ لڑ رہے ہیں ہر سمت پھیلی ہوئی اخلاقی تباہی نظر آرہی ہے منافق اور دوغلےلوگوں نے اس ملک کا حلیہ بگاڑ دیا ہے

    وقت ہے، جمہوریت بچا لیں،تجزیہ ” شہزاد قریشی

    صوبہ سندھ، کراچی روشنیوں کا شہر، بلوچستان، پنجاب میں سیلاب کی وجہ سے قیامت برپا ہے اور ملکی سیاستدان ایک دوسرے کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں۔ سیلاب زدگان کی آہ و بکا نے دلوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے دیہات اور شہروں کے شہر اجڑ رہے ہیں۔ بھلا ہو پاک فوج کے جوانوں کا جو اس مشکل ترین وقت میں غریب عوام کو بچانے کے لئے اپنی ڈیوٹی سرانجام دے رہے ہیں ورنہ ان صوبوں کی انتظامیہ صرف عالیشان بنگلوں میں بیٹھ کر تماشا ہی دیکھ رہی ہے۔

    مستقل معاشی بحران جمہوریت کیلئے خطرہ :۔ تجزیہ:شہزاد قریشی

    مون سون سیزن کے شروع ہوتے ہی جس طرح محکمہ موسمیات کا ادارہ مختلف علاقوں اور دریائوں میں پانی کے بہائو کی صورتحال اور ممکنہ سیلاب کی تباہ کاریوں سے پہلے آگاہ کر دیتا ہے مگر ہمارے فوری امداد اور بحالی کے اداروں کے درمیان روابط اور تعاون کی کمی کی وجہ سے وارننگ سسٹم کے باوجود بہت بہت زیادہ نقصانات اٹھانے پڑتے ہیں۔ اگر ہم ان اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے پر توجہ دیں تو ان دل ہلا دینے والے واقعات سے بچا جا سکتا ہے۔ صوبائی حکومتیں اور مرکزی حکومت سیلاب کی زد میں آنے والے غریب لوگوں کی بحالی کے لئے خصوصی اور ہنگامی اقدامات کرے جس کرسی کے لئے سیاستدان جنگ لڑ رہے ہیں اس کرسی پر انہی عوام نے آ پکو بٹھانا ہے اپنا رخ عوام کی طرف موڑ دیں ورنہ اگر عوام نے رخ موڑ دیا تو پھر عوامی سمندر سب کچھ بہا کر لے جاتا ہے۔

    قومی سلامتی کے اداروں پر ذمّہ داری بڑھ گئی: تجزیہ:-شہزاد قریشی

  • سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں پاک فوج کی امدادی سرگرمیاں جاری

    سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں پاک فوج کی امدادی سرگرمیاں جاری

    ملک میں سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں پاک فوج کی امدادی سرگرمیاں جاری ہیں

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق بلوچستان میں اوتھل کے 4 دیہات کے 2300 سے زیادہ نفوس کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا متاثرہ آبادی والے علاقوں میں خیمے، راشن اور خوراک فراہم کی جارہی ہے،4 مقامات سے بند ہونے والی این 25 قومی شاہراہ کو ٹریفک کے لئے کھول دیا گیا پی ٹی اے کے اشتراک سے بالخصوص لسبیلہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں مواصلاتی نظام بحال کر دیا گیا بلوچستان کے مختلف اضلاع میں یکم جولائی سے اب تک 467 فیصد غیر معمولی بارشیں ہو چکی ہیں بارشوں کے باعث لسبیلہ، کیچ،کوئٹہ، سبی،خضدار اور کوہلو سب سے زیادہ متاثر ہوئے،بلوچستان میں بارشوں سے 3953 مکانات کو نقصان پہنچا، حب،گڈانی،بیلہ،دودار اور جھل مگسی کے متاثرہ علاقوں میں 5 میڈیکل کیمپس قائم کئے گئے

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق صرف کراچی میں پانی نکالنے کے لیے 58 ڈی واٹرنگ ٹیمیں لگائی گئی ہیں ،ٹھٹھہ میں گھارو گرڈ اسٹیشن سے آرمی ڈی واٹرنگ ٹیموں نے پانی نکال دیا جامشورو میں 300 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا پاک فوج نے جامشورو میں ریلیف کیمپ قائم کر دیا،لٹھ ڈیم کے بھرنے سے ایم نائن شاہراہ مختلف مقامات پر زیر آب آگئی ٹیمیں سڑک کو صاف کرنے کے لیے بھاری مشینری کے ساتھ کام کررہی ہیں ،دادو اور خیرپور میں مقامی لوگوں کو راشن اور ادویات فراہم کی جا رہی ہیں

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق گلگت بلتستان میں بھی پاک فوج کی امدادی سرگرمیاں جاری ہیں،شاہراہ قراقرم اور جگلوٹ اسکردو روڈ کو ایف ڈبلیو او نے کھول دیا گیا ،سیلابی ریلے کی وجہ سے ضلع غذر کا رابطہ منقطع ہوگیا، مواصلاتی نظام بحال کر دیا گیا مقامی لوگوں کو خوراک اور ادویات فراہم کی گئی ہیں بارش سے خیبرپختونخوا کے اضلاع ٹانک، چترال اور صوابی بری طرح متاثر ہوئے ،چترال ،مستوج اور ٹانک گومل زام ڈیم روڈ کو ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا،

    سیلاب سے ہونے والے نقصان کے سرکاری اعداد وشمارجاری

    حکومت بارش سے متاثرہ افراد کو معاوضہ دینے کا اعلان کرے،سربراہ پاکستان سنی تحریک

    بارش کے بعد کی صورتحال ، میئر کراچی نے گورنر سندھ سے ملاقات میں وفاق سے مدد مانگ لی

    اکثر ارکان اسمبلی ڈیفنس اور کلفٹن کے رہائشی ہیں انہیں پتا ہی نہیں کہ کراچی کے عوام کے مسائل کیا ہیں،حافظ نعیم الرحمان

  • متحدہ عرب امارات: شدید بارش کا 27 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا

    متحدہ عرب امارات: شدید بارش کا 27 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا

    فجیرہ :متحدہ عرب امارات میں شدید بارش کا 27 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا، سڑکوں پر سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی۔

    متحدہ عرب امارات کا بارش کے لیے ڈرونز کا استعمال

    فجیرہ کی بندرگاہ پر 255 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی جو جولائی کے مہینے میں سب سے زیادہ بارش کا ریکارڈ ہے، مسافی میں 209 ملی میٹر اور فجیرہ ایئرپورٹ پر 187 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی، نیشنل سینٹر آف میٹرولوجی کے مطابق بھارت سے ہوا کا کم دباؤ آیا ہے جو ڈپریشن کا باعث بنا اور یہ پاکستان اور ایران کے علاقے میں بھی موجود ہے۔

    متحدہ عرب امارات میں بارشوں اور آسمانی بجلی سے سیلاب آ گیا

    شدید بارش سے نظام زندگی مفلوج ہوگیا جبکہ امدادی اداروں نے پانی میں پھنسے شہریوں کو محفوظ مقامات تک منتقل کیا، حکومت نے لوگوں کو گھروں تک محدود رہنے کی ہدایت کی ہے، بارش اور سیلابی ریلوں میں پھنسے ہوئے شہریوں اور تارکین کو امداد پہنچانے کے لیے وزارت دفاع سمیت تمام سرکاری ادارے اور رضا کار متحرک ہوگئے ہیں۔

    گرمی ختم کرنے کے لیے مصنوعی بارش نے سب کو حیران کردیا

    حکومت نے متاثرہ علاقوں شارجہ، راس الخیمہ، فجیرہ میں اداروں کو ہدیت کی ہے کہ وہ اپنے غیر ضروری ملازمین کو جمعرت اور جمعہ کو گھروں سے کام کرائیں، واضح رہے کہ فجیرہ میں ہونے والی ایک دن کی بارش کی مقدار ریاض میں تین سال کے دوران ہونے والی بارش کی کل مقدار کے برابر رہی ہے۔

  • پاک فوج کا بلوچستان اور گلگت بلتستان میں سیلاب متاثرہ علاقوں میں ریسکیو آپریشن

    پاک فوج کا بلوچستان اور گلگت بلتستان میں سیلاب متاثرہ علاقوں میں ریسکیو آپریشن

    راولپنڈی :پاک فوج کا بلوچستان اور گلگت بلتستان میں سیلاب متاثرہ علاقوں میں ریسکیو آپریشن جاری اور اس حوالے سے تازہ ترین اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ پاک فوج کا سیلاب متاثرہ علاقوں میں ریسکیو آپریشن کامیابھی سے جاری ہے اور پاک فوج اورایف سی ایمرجنسی رسپانس ٹیمیں امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج کا بلوچستان اور گلگت بلتستان میں سیلاب متاثرہ علاقوں میں ریسکیو آپریشن جاری ہے اور پاک فوج اورایف سی ایمرجنسی رسپانس ٹیمیں امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔

    آئی ایس پی آر کے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں ڈی واٹرنگ اور متاثرین کو خوراک اور طبی امداد کی فراہمی جاری ہے اور اب تک بلوچستان میں 700 خاندان محفوظ مقامات پر منتقل کیے جاچکے ہیں۔

    بلوچستان اور گلگت بلتستان میں میڈیکل کیمپ بھی قائم کردیے گئے ہیں جہاں متاثرین کو طبی سہولتوں اور ادویات کی فراہمی بھی جاری ہے جب کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئیے مزید ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں تعینات کر دی گئی ہیں۔

  • بارشی پانی کو ضائع ہونے سے بچانے کے لئے آبی ذخائربنائے جائیں،شیخ امتیاز حسین

    بارشی پانی کو ضائع ہونے سے بچانے کے لئے آبی ذخائربنائے جائیں،شیخ امتیاز حسین

    بارشی پانی کو ضائع ہونے سے بچانے کے لئے آبی ذخائربنائے جائیں،شیخ امتیاز حسین

    پاکستان ایگریکلچر اینڈ ہارٹیکلچر فورم کے صدر شیخ امتیاز حسین نے فورم کی طرف سے جاری کئے گئے ایک بیان میں مون سون کی بارشوں کے پانی کو ذخیرہ کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ موسمی تغیر ات کی وجہ سے مستقبل میں پاکستان میں آبی قلت کا خطرہ ہے جو ہماری زراعت اور ملکی معیشت کے لئے بڑا امتحان ثابت ہوگا. سیلابی صورتحال کے مستقل تدارک اور آبپاشی کی ضروریات کے لئے حکومت کو بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے لئے اقدامات کا مشورہ دیتے ہوئے شیخ امتیاز حسین نے کہا کہ کہ بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کی سہولیات نا ہونے کی وجہ سے اضافی پانی سیلابوں کا باعث بنتا ہے جس سے رہائشی آبادیوں کے ساتھ ساتھ فصلوں کو بھی نقصا ن پہنچتا ہے جس سے ہر سال معیشت کو بڑے نقصانات ہوتے ہیں.مستقبل میں آبی قلت کے تدارک کے لئے حکومتی سطح پر فوری اقدامات کی ضرورت ہے. بارش کے پانی کا ضائع ہونے سے بچانے کے لئے آبی ذخائربنائے جائیں۔ سیلابی صورتحال اور فصلوں کو بچانے کے لئے اقدامات نہ کئے گئے تو آبی قلت کی وجہ سے بڑے غذائی بحران سے بچنا محال ہوجائے گا.

    وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے لئے ہنگامی اقدامات کرنا ہونگے. پاکستان کی بقا آبی ذخائر میں اضافے اور توانا زرعی نظام کے بغیر مشکلات کا شکار رہے گی. ملک میں غذائی قلت اور زرعی شعبے کی ترقی کے لئے فصلوں کے لئے وافر مقدار میں پانی کا دستیاب رہنا وقت کی اہم ضرورت ہے.. بارشوں کے ہر موسم میں ڈیم بھرجانے کے بعد سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچنے کا محفوظ طریقہ یہی ہے کہ ہم بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کریں.

    پاکستان ایگریکلچر اینڈ ہارٹیکلچر فورم بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے لئے اپنی تجاویز اور اراکین کی ماہرانہ رائے کے ساتھ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ ہر سطح پر تعاون کرے گا تاکہ ملکی زراعت کو پانی کی قلت سے محفوظ رکھا جاسکے.

    بشریٰ بی بی کی قریبی دوست فرح نے خاموشی توڑ دی

    فرح خان کیسے کرپشن کر سکتی ؟ عمران خان بھی بول پڑے

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

    فرح خان بنی گالہ کی مستقل رہائشی ،مگرآمدروفت کا ریکارڈ نہیں، نیا سیکنڈل ،تحقیقات کا حکم