Baaghi TV

Tag: سیلاب

  • قوم سیلاب میں بہہ رہی اور سیاستدان اقتدار کی جنگ لڑ رہے:تجزیہ:- شہزاد قریشی

    قوم سیلاب میں بہہ رہی اور سیاستدان اقتدار کی جنگ لڑ رہے:تجزیہ:- شہزاد قریشی

    بلوچستان، صوبہ سندھ، پنجاب، سیلاب میں بہتے ہوئے غریب لوگوں کے گھروں، سیلاب میں بہتے ہوئے غریب لوگوں کی لاشیں، شہروں میں ان سیلابی ریلوں کی تباہی دیکھ کر الفاظ ساتھ چھوڑ گئے ہیں اور یہ دل ہلا دینے والے واقعات پہلی بار منظر عام پر نہیں آئے سالوں سے غریب عوام کے ساتھ ایسا ہی ہوتا آیا ہے اور ہو رہا ہے۔ نکاسی آب کے محکموں اور حکومتوں کی نااہلی کا نتیجہ ہے نالوں کی صفائی کرنے والے کہاں ہوتے ہیں؟ ہم بحیثیت قوم ماہرین اقتصادیات کے مطابق عملاً دیوالیہ ہو چکے ہیں قرضوں پر چل رہے ہیں قوم سیلاب میں بہہ رہی ہے سیاستدان ایک دوسرے کو چور ڈاکو اور اقتدار حاصل کرنے اور اقتدار کو طول دینے کی جنگ لڑ رہے ہیں ہر سمت پھیلی ہوئی اخلاقی تباہی نظر آرہی ہے منافق اور دوغلےلوگوں نے اس ملک کا حلیہ بگاڑ دیا ہے

    وقت ہے، جمہوریت بچا لیں،تجزیہ ” شہزاد قریشی

    صوبہ سندھ، کراچی روشنیوں کا شہر، بلوچستان، پنجاب میں سیلاب کی وجہ سے قیامت برپا ہے اور ملکی سیاستدان ایک دوسرے کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں۔ سیلاب زدگان کی آہ و بکا نے دلوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے دیہات اور شہروں کے شہر اجڑ رہے ہیں۔ بھلا ہو پاک فوج کے جوانوں کا جو اس مشکل ترین وقت میں غریب عوام کو بچانے کے لئے اپنی ڈیوٹی سرانجام دے رہے ہیں ورنہ ان صوبوں کی انتظامیہ صرف عالیشان بنگلوں میں بیٹھ کر تماشا ہی دیکھ رہی ہے۔

    مستقل معاشی بحران جمہوریت کیلئے خطرہ :۔ تجزیہ:شہزاد قریشی

    مون سون سیزن کے شروع ہوتے ہی جس طرح محکمہ موسمیات کا ادارہ مختلف علاقوں اور دریائوں میں پانی کے بہائو کی صورتحال اور ممکنہ سیلاب کی تباہ کاریوں سے پہلے آگاہ کر دیتا ہے مگر ہمارے فوری امداد اور بحالی کے اداروں کے درمیان روابط اور تعاون کی کمی کی وجہ سے وارننگ سسٹم کے باوجود بہت بہت زیادہ نقصانات اٹھانے پڑتے ہیں۔ اگر ہم ان اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے پر توجہ دیں تو ان دل ہلا دینے والے واقعات سے بچا جا سکتا ہے۔ صوبائی حکومتیں اور مرکزی حکومت سیلاب کی زد میں آنے والے غریب لوگوں کی بحالی کے لئے خصوصی اور ہنگامی اقدامات کرے جس کرسی کے لئے سیاستدان جنگ لڑ رہے ہیں اس کرسی پر انہی عوام نے آ پکو بٹھانا ہے اپنا رخ عوام کی طرف موڑ دیں ورنہ اگر عوام نے رخ موڑ دیا تو پھر عوامی سمندر سب کچھ بہا کر لے جاتا ہے۔

    قومی سلامتی کے اداروں پر ذمّہ داری بڑھ گئی: تجزیہ:-شہزاد قریشی

  • سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں پاک فوج کی امدادی سرگرمیاں جاری

    سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں پاک فوج کی امدادی سرگرمیاں جاری

    ملک میں سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں پاک فوج کی امدادی سرگرمیاں جاری ہیں

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق بلوچستان میں اوتھل کے 4 دیہات کے 2300 سے زیادہ نفوس کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا متاثرہ آبادی والے علاقوں میں خیمے، راشن اور خوراک فراہم کی جارہی ہے،4 مقامات سے بند ہونے والی این 25 قومی شاہراہ کو ٹریفک کے لئے کھول دیا گیا پی ٹی اے کے اشتراک سے بالخصوص لسبیلہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں مواصلاتی نظام بحال کر دیا گیا بلوچستان کے مختلف اضلاع میں یکم جولائی سے اب تک 467 فیصد غیر معمولی بارشیں ہو چکی ہیں بارشوں کے باعث لسبیلہ، کیچ،کوئٹہ، سبی،خضدار اور کوہلو سب سے زیادہ متاثر ہوئے،بلوچستان میں بارشوں سے 3953 مکانات کو نقصان پہنچا، حب،گڈانی،بیلہ،دودار اور جھل مگسی کے متاثرہ علاقوں میں 5 میڈیکل کیمپس قائم کئے گئے

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق صرف کراچی میں پانی نکالنے کے لیے 58 ڈی واٹرنگ ٹیمیں لگائی گئی ہیں ،ٹھٹھہ میں گھارو گرڈ اسٹیشن سے آرمی ڈی واٹرنگ ٹیموں نے پانی نکال دیا جامشورو میں 300 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا پاک فوج نے جامشورو میں ریلیف کیمپ قائم کر دیا،لٹھ ڈیم کے بھرنے سے ایم نائن شاہراہ مختلف مقامات پر زیر آب آگئی ٹیمیں سڑک کو صاف کرنے کے لیے بھاری مشینری کے ساتھ کام کررہی ہیں ،دادو اور خیرپور میں مقامی لوگوں کو راشن اور ادویات فراہم کی جا رہی ہیں

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق گلگت بلتستان میں بھی پاک فوج کی امدادی سرگرمیاں جاری ہیں،شاہراہ قراقرم اور جگلوٹ اسکردو روڈ کو ایف ڈبلیو او نے کھول دیا گیا ،سیلابی ریلے کی وجہ سے ضلع غذر کا رابطہ منقطع ہوگیا، مواصلاتی نظام بحال کر دیا گیا مقامی لوگوں کو خوراک اور ادویات فراہم کی گئی ہیں بارش سے خیبرپختونخوا کے اضلاع ٹانک، چترال اور صوابی بری طرح متاثر ہوئے ،چترال ،مستوج اور ٹانک گومل زام ڈیم روڈ کو ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا،

    سیلاب سے ہونے والے نقصان کے سرکاری اعداد وشمارجاری

    حکومت بارش سے متاثرہ افراد کو معاوضہ دینے کا اعلان کرے،سربراہ پاکستان سنی تحریک

    بارش کے بعد کی صورتحال ، میئر کراچی نے گورنر سندھ سے ملاقات میں وفاق سے مدد مانگ لی

    اکثر ارکان اسمبلی ڈیفنس اور کلفٹن کے رہائشی ہیں انہیں پتا ہی نہیں کہ کراچی کے عوام کے مسائل کیا ہیں،حافظ نعیم الرحمان

  • متحدہ عرب امارات: شدید بارش کا 27 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا

    متحدہ عرب امارات: شدید بارش کا 27 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا

    فجیرہ :متحدہ عرب امارات میں شدید بارش کا 27 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا، سڑکوں پر سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی۔

    متحدہ عرب امارات کا بارش کے لیے ڈرونز کا استعمال

    فجیرہ کی بندرگاہ پر 255 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی جو جولائی کے مہینے میں سب سے زیادہ بارش کا ریکارڈ ہے، مسافی میں 209 ملی میٹر اور فجیرہ ایئرپورٹ پر 187 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی، نیشنل سینٹر آف میٹرولوجی کے مطابق بھارت سے ہوا کا کم دباؤ آیا ہے جو ڈپریشن کا باعث بنا اور یہ پاکستان اور ایران کے علاقے میں بھی موجود ہے۔

    متحدہ عرب امارات میں بارشوں اور آسمانی بجلی سے سیلاب آ گیا

    شدید بارش سے نظام زندگی مفلوج ہوگیا جبکہ امدادی اداروں نے پانی میں پھنسے شہریوں کو محفوظ مقامات تک منتقل کیا، حکومت نے لوگوں کو گھروں تک محدود رہنے کی ہدایت کی ہے، بارش اور سیلابی ریلوں میں پھنسے ہوئے شہریوں اور تارکین کو امداد پہنچانے کے لیے وزارت دفاع سمیت تمام سرکاری ادارے اور رضا کار متحرک ہوگئے ہیں۔

    گرمی ختم کرنے کے لیے مصنوعی بارش نے سب کو حیران کردیا

    حکومت نے متاثرہ علاقوں شارجہ، راس الخیمہ، فجیرہ میں اداروں کو ہدیت کی ہے کہ وہ اپنے غیر ضروری ملازمین کو جمعرت اور جمعہ کو گھروں سے کام کرائیں، واضح رہے کہ فجیرہ میں ہونے والی ایک دن کی بارش کی مقدار ریاض میں تین سال کے دوران ہونے والی بارش کی کل مقدار کے برابر رہی ہے۔

  • پاک فوج کا بلوچستان اور گلگت بلتستان میں سیلاب متاثرہ علاقوں میں ریسکیو آپریشن

    پاک فوج کا بلوچستان اور گلگت بلتستان میں سیلاب متاثرہ علاقوں میں ریسکیو آپریشن

    راولپنڈی :پاک فوج کا بلوچستان اور گلگت بلتستان میں سیلاب متاثرہ علاقوں میں ریسکیو آپریشن جاری اور اس حوالے سے تازہ ترین اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ پاک فوج کا سیلاب متاثرہ علاقوں میں ریسکیو آپریشن کامیابھی سے جاری ہے اور پاک فوج اورایف سی ایمرجنسی رسپانس ٹیمیں امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج کا بلوچستان اور گلگت بلتستان میں سیلاب متاثرہ علاقوں میں ریسکیو آپریشن جاری ہے اور پاک فوج اورایف سی ایمرجنسی رسپانس ٹیمیں امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔

    آئی ایس پی آر کے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں ڈی واٹرنگ اور متاثرین کو خوراک اور طبی امداد کی فراہمی جاری ہے اور اب تک بلوچستان میں 700 خاندان محفوظ مقامات پر منتقل کیے جاچکے ہیں۔

    بلوچستان اور گلگت بلتستان میں میڈیکل کیمپ بھی قائم کردیے گئے ہیں جہاں متاثرین کو طبی سہولتوں اور ادویات کی فراہمی بھی جاری ہے جب کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئیے مزید ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں تعینات کر دی گئی ہیں۔

  • بارشی پانی کو ضائع ہونے سے بچانے کے لئے آبی ذخائربنائے جائیں،شیخ امتیاز حسین

    بارشی پانی کو ضائع ہونے سے بچانے کے لئے آبی ذخائربنائے جائیں،شیخ امتیاز حسین

    بارشی پانی کو ضائع ہونے سے بچانے کے لئے آبی ذخائربنائے جائیں،شیخ امتیاز حسین

    پاکستان ایگریکلچر اینڈ ہارٹیکلچر فورم کے صدر شیخ امتیاز حسین نے فورم کی طرف سے جاری کئے گئے ایک بیان میں مون سون کی بارشوں کے پانی کو ذخیرہ کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ موسمی تغیر ات کی وجہ سے مستقبل میں پاکستان میں آبی قلت کا خطرہ ہے جو ہماری زراعت اور ملکی معیشت کے لئے بڑا امتحان ثابت ہوگا. سیلابی صورتحال کے مستقل تدارک اور آبپاشی کی ضروریات کے لئے حکومت کو بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے لئے اقدامات کا مشورہ دیتے ہوئے شیخ امتیاز حسین نے کہا کہ کہ بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کی سہولیات نا ہونے کی وجہ سے اضافی پانی سیلابوں کا باعث بنتا ہے جس سے رہائشی آبادیوں کے ساتھ ساتھ فصلوں کو بھی نقصا ن پہنچتا ہے جس سے ہر سال معیشت کو بڑے نقصانات ہوتے ہیں.مستقبل میں آبی قلت کے تدارک کے لئے حکومتی سطح پر فوری اقدامات کی ضرورت ہے. بارش کے پانی کا ضائع ہونے سے بچانے کے لئے آبی ذخائربنائے جائیں۔ سیلابی صورتحال اور فصلوں کو بچانے کے لئے اقدامات نہ کئے گئے تو آبی قلت کی وجہ سے بڑے غذائی بحران سے بچنا محال ہوجائے گا.

    وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے لئے ہنگامی اقدامات کرنا ہونگے. پاکستان کی بقا آبی ذخائر میں اضافے اور توانا زرعی نظام کے بغیر مشکلات کا شکار رہے گی. ملک میں غذائی قلت اور زرعی شعبے کی ترقی کے لئے فصلوں کے لئے وافر مقدار میں پانی کا دستیاب رہنا وقت کی اہم ضرورت ہے.. بارشوں کے ہر موسم میں ڈیم بھرجانے کے بعد سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچنے کا محفوظ طریقہ یہی ہے کہ ہم بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کریں.

    پاکستان ایگریکلچر اینڈ ہارٹیکلچر فورم بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے لئے اپنی تجاویز اور اراکین کی ماہرانہ رائے کے ساتھ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ ہر سطح پر تعاون کرے گا تاکہ ملکی زراعت کو پانی کی قلت سے محفوظ رکھا جاسکے.

    بشریٰ بی بی کی قریبی دوست فرح نے خاموشی توڑ دی

    فرح خان کیسے کرپشن کر سکتی ؟ عمران خان بھی بول پڑے

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

    فرح خان بنی گالہ کی مستقل رہائشی ،مگرآمدروفت کا ریکارڈ نہیں، نیا سیکنڈل ،تحقیقات کا حکم

  • ڈی جی خان سیلاب میں پھنسے افراد کو ریلیف کیمپوں میں منتقل کر دیا گیا،پی ڈی ایم اے

    ڈی جی خان سیلاب میں پھنسے افراد کو ریلیف کیمپوں میں منتقل کر دیا گیا،پی ڈی ایم اے

    ضلع راجن پور کے درجنوں علاقے ندی نالوں میں طغیانی سے سیلاب سے شدید متاثر ہوئےہیں ۔ دریائے چناب میں چناب نگر کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے جہاں سے 1 لاکھ 32 ہزار 675 کیوسک پانی کا سیلابی ریلا گزر رہا ہے۔

    راجن پور کا پورا ضلع 2010 کے بعد ایک بار پھر سیلاب کی لپیٹ میں ہے۔ علاقے میں مسلسل بارشوں کا سلسلہ تو تھم گیا ہے۔ دریائے چناب میں نچلے درجے کے سیلاب کے سبب ڈیزاسسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے تمام متعلقہ محکموں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کردی۔

    لاہور سمیت پنجاب بھر میں بارش کا امکان

    ضلعی انتظامیہ کی جانب سے دریائے چناب میں پانی کی بڑھتی ہوئی صورت حال کے پیش نظر فلڈ ریلیف کیمپس قائم کر دیئے گئے۔ ڈپٹی کمشنر احمد کمال مان نے فلڈ ریلیف کیمپ کا دورہ کیا اور تمام متعلقہ محکموں کو فلڈ کے حوالے سے پیشگی اقدامات کرنے کی ہدایت کر دی۔

     

    مری میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ ، پی ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کر دیا

     

    کشمور میں حالیہ مون سون بارشوں کے باعث دریائے سندھ گڈو بیراج کے مقام پر پانی کی سطح میں اضافہ ہو گیا ہے، گڈو بیراج کے مقام پر پانی کی آمد 2 لاکھ 83 هزار 80 کیوسک ریکارڈ کی گئی جبکہ اخراج 2 لاکھ 72 ہزار 937 کیوسک ریکارڈ کیا گیا، گڈو بیراج کے بچاؤ بندوں پر بھی پانی کا دباؤ بڑھنے لگا۔

    فلڈ فور کاسٹنگ سنٹر کی رپورٹ کے مطابق 28 جولائی سے راولپنڈی،گوجرانوالہ اور لاہور ڈویژن میں بارش اور طوفان کا امکان ہے.پی ڈی ایم اے کے مطابق دریائے ستلج ،راوی،چناب اور جہلم میں بھاری بارش اور طوفان کا امکان ہے۔اگلے 24 گھنٹے کے دوران ڈی جی خان ڈویژن کے پہاڑی علاقوں میں اونچے درجے کے سیلاب کا امکان ہے۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق ڈی جی خان میں ریلیف آپریشن کے لیے دوسرے اضلاع سے بھی بھجوائی جانے والی ٹیمیں امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔ ڈی جی خان میں سیلابی علاقوں میں پھنسے افراد کو ریلیف کیمپوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ حکومت پنجاب کی ہدایت کے مطابق لوگوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنا رہے ہیں ۔

    ڈی جی پی ڈی ایم اے نے بتایا کہ پنجاب کے تمام اضلاع میں ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے انتظامات مکمل ہیں۔آئندہ 48 گھنٹوں میں مرالہ،خانکی اور قادر آباد کے مقام پر درمیانے سے اونچے درجے کا سیلاب کا خدشہ ہے۔ آئندہ 48 گھنٹوں میں دریائے جہلم، راوی اور چناب کے نالوں میں درمیانے سے اونچے درجے کا سیلاب متوقع ہے۔

    پی ڈی ایم اے نے ہدایت جاری کر دی ہے کہ تمام اضلاع پیشگی انتظامات مکمل کریں،اور فلڈ ریلیف کیمپس کے لیے محفوظ جگہ کا تعین کریں۔ملحقہ اضلاع سیلاب میں استعمال ہونے والی مشینری اور امدادی ٹیمیںوں کو متحرک رکھیں.

    ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق نشیبی علاقوں میں گاڑیاں کھڑی کرنے سے گریز کیا جائے اور برقی آلات سے دور رہیں جبکہ شہری دریاؤں اور نہروں میں نہانے سے پرہیز کریں اور ندی نالوں کے قریب نہ جائیں۔ شہری ہنگامی صورتحال میں پی ڈی ایم اے کی ہیلپ لائن 1129 پر کال کریں۔

  • حب ڈیم سےکراچی کو پانی سپلائی کرنے والی نہر میں شگاف:ہنگامی حالت کا اعلان

    حب ڈیم سےکراچی کو پانی سپلائی کرنے والی نہر میں شگاف:ہنگامی حالت کا اعلان

    کراچی :حب ڈیم سےکراچی کو پانی سپلائی کرنے والی نہر میں شگاف پڑگیا اور متاثرہ حصے سے بہنے والا پانی قریبی گوٹھوں کی جانب بہنے لگا ہے۔جس کی وجہ سے حکام نے اس علاقے میں ہنگامی حالت کا اعلان کردیا ہے ،

    واٹر بورڈ ذرائع کے مطابق ناردرن بائی پاس دعا ہوٹل کے قریب حب نہرکا حصہ ٹوٹا ہے، اس نہر سےکراچی کو پانی فراہم کیا جاتا ہے۔متاثرہ حصے سے بہنے والا پانی قریبی گوٹھوں کی جانب جا رہا ہے، شدید بارش کی وجہ سے یہ حصہ ٹوٹا ہے، پانی عیسٰی اور خمیسو گوٹھ میں داخل ہوسکتا ہے، ایک گھنٹہ گزرنے کے باوجود انتظامیہ نہیں پہنچ سکی، ذرائع کے مطابق کراچی میں پانی کی سپلائی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

    دوسری جانب پولیس کا کہنا ہےکہ پانی منگھوپیرکے غیر آباد علاقے میں جا رہا ہے، شگاف کو پرکرنے کے لیے مشینری لائی جارہی ہے، حب کینال کی مرمت تک پانی کی فراہمی بند کردی گئی ہے۔پولیس کے مطابق تاحال منگھوپیر کی کسی رہائشی آبادی کے متاثر ہونےکی اطلاع نہیں ہے۔

    اتوار کی علی الصبح سے کراچی اور گرد و نواح میں وقفے وقفے سے کہیں ہلکی تو کہیں تیز بارش کا سلسلہ جاری ہے۔کراچی میں اس قدر بارش ہورہی ہے کہ کراچی بارش سے پانی پانی ہوگیا ہے

    کراچی میں مون سون بارشوں کا تیسرا اسپیل اپنے اثرات دکھا رہا ہے، اتوار کی علی الصبح سے شہر کے مختلف علاقوں اور گرد و نواح میں وقفے وقفے بارشوں کا سلسلہ جاری ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی میں مون سون کے تیسرے اسپیل کے دوران اب تک سب سے زیادہ بارش آج سب سے زيادہ بارش قائد آباد ميں 86.5 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی ہے۔رات سے مختلف علاقوں میں کہیں ہلکی تو کہیں درمیانی بارش کا سلسلہ جاری ہے ،یوں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سب سے ذیادہ بارش قائدآباد میں 21 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی

    گڈاپ ٹاؤن20، گلشنِ حدید10، صدر9، کیماڑی8، نارتھ کراچی6.2، سعدی ٹاؤن6 ملی میٹر، جناح ٹرمینل، گلشنِ معمار، کورنگی میں 5.2، پی اے ایف فیصل بیس 4.5 ملی میٹر ایئرپورٹ اولڈ ایریا، یونیورسٹی روڈ3.6، ڈی ایچ اے فیزٹو3.4 ملی میٹر،گلشن حديد62، پی اے ايف مسرور بيس پر 54.5 ، کيماڑی ميں 54 ملی ميٹر بارش کی گئی ۔

    بارش کے پانی نکاسی نہ ہونے کی وجہ سے سرجانی ٹان ، نارتھ کراچی اور نیو کراچی میں حالات سب سے زیادہ خراب ہیں۔ کئی سڑکوں پر پانی جمع ہے جب کہ گڑھے جوہڑ بنے ہوئے ہیں۔

    کوہ سلیمان کے علاقے بغل چر میں بارشوں سے لینڈ سلائیڈنگ اور آمد و رفت کا راستہ بند

    دوسری جانب شہر کے متعدد علاقوں میں بجلی کی فراہمی بھی معطل ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو دُہری اذیت کا سامنا ہے۔محکمہ موسمیات نے کراچی سميت اندرون سندھ ميں بارشوں کا موجودہ سلسلہ 26 جولائی تک جاری رہنے کی پيشگوئی کی ہے۔

    مون سون بارشوں سے متعلق محکمہ موسمیات کا تازہ الرٹ جاری

    شہر کے دورے کے دوران وزیر اعلیٰٓ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ محکمہ موسمیات نے تیز بارش کی پیش گوئی کی ہے، اللہ تعالی سے دعا ہے کہ بارش رحمت والی ہو زحمت نہ ہو، لوگوں سے گزارش ہے کہ غیر ضروری باہر نہ نکلیں۔

    مراد علی شاہ نے کہا کہ جب بارش تیز ہوتی ہے تو سڑکوں پر پانی جمع ہوجاتا ہے۔ حکومت سندھ کے وزرا اور انتظامیہ کے لوگ سڑکوں پر ہیں، کوئی بھی صورتحال ہو انتظامیہ کو ہر جگہ موجود پائیں گے۔

    بارش برسانے والا ہوا کے کم دباؤ کا سسٹم سندھ میں داخل ،محکمہ موسمیات

    شادمان نالے میں خاتون کے ڈوبنے کے واقعے کے حوالے سے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس واقعےکا مجھے بہت افسوس ہے، نالوں کی صفائی کا کام پورا سال چلتا رہتا ہے، شادمان نالے پر کام پہلے بھی چل رہا تھا۔

    میڈیا سے بات کرتے ہوئے ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ شہر کی صورتحال قابو میں ہے، کراچی شہرکی سڑکیں اور انڈر پاسز کلیئر ہیں، بلدیاتی عملہ میدان میں موجود ہے، سڑکوں کے اطراف جمع پانی کی نکاسی کی جاری

  • ممکنہ سیلاب کا خدشہ،الرٹ جاری

    ممکنہ سیلاب کا خدشہ،الرٹ جاری

    قصور
    ڈپٹی کمشنر قصور کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کا اجلاس،ضلعی حکومت کی طرف سے ممکنہ سیلاب کے خطرء سے نمٹنے کے اقدامات تیز کرنے کی ہدایات

    تفصیلات کے مطابق گزشتہ دن ڈپٹی کمشنر قصور محمد ارشد بھٹی کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کا اجلاس ہوا جس میں ضلعی انتظامیہ کی طرف سے ممکنہ سیلاب کے خطرے کے پیش نظر اقامات کا جائزہ لیا گیا
    ڈپٹی کمشنر قصور نے ریسکیو 1122 و چاروں تحصیلوں کے اے سی صاحبان کو حکم جاری کیا کہ کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کیلئے ہر وقت تیار رہا جائے اور ریسکیو گاڑیوں کو مکمل فٹ رکھا جائے تاکہ بروقت کام باآسانی کیا جا سکے
    نیز میونسپل کمیٹی کے عملے کو حکم جاری کیا گیا کہ ندی نالوں کی صفائی کے علاوہ نکاسی آب کے مسائل کو فوری دور کیا جائے اور تمام چیف آفیسرز سارے کام کی نگرانی خود کریں کسی بھی قسم کی کوئی بھی کمی کوتاہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی

  • بارش سے متاثرہ ٹانک کو آفت زدہ قرار دینےاور ریلیف پیکج دینے کا مطالبہ

    بارش سے متاثرہ ٹانک کو آفت زدہ قرار دینےاور ریلیف پیکج دینے کا مطالبہ

    وزیر مواصلات مولانا اسعد محمود  اور وزیر اعظم آفس کے ساتھ سعودی عرب سے ٹیلفونک رابطہ ہوا ہے

    مولانا اسعد محمود نے بارش سے متاثرہ ٹانک کو آفت زدہ قرار دینےاور ریلیف پیکج دینے کی درخواست کر دی،،وفاقی وزیر مواصلات مولانا اسعد محمود کا کہنا تھا کہ مشکل کی اس گھڑی میں اپنے لوگوں کے ساتھ کھڑا ہوں ،وفاقی وزیرنے مالی نقصانات کے ازالہ کیلئے ضلعی انتظامیہ کو فوری طور پر ضروری ہدایت دی اور کہا کہ سعودی عرب واپسی پر تمام سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کروں گا،

    ٹانک میں سیلاب کی تباہ کاریوں کے دوران پاک فوج اور ضلع انتظامیہ امدادی سرگرمیوں میں پیش پیش ہے، پاک آرمی، ریسکیو 1122 اور محکمہ ہیلتھ کی ٹیموں کی انتھک کوششیں جاری ہے، سیلاب کی تباہ کاریوں کے دوران پاک فوج کے افسران اور جوان امدادی سرگرمیوں میں پیش پیش ہیں۔

    ریسکیو 1122 حکام کے مطابق ٹانک میں نندور اور پائی، ڈی آئی خان کی تحصیل پہاڑ پور کاٹھ گڑھ گاؤں، صوابی میں کنڈ موڑ، انبار، ذکریا شیخ، بیکے کلے، چھوٹا لاہور،مانکی اور مرغز کے علاقوں امدادی کاروائیاں جاری ہیں ریسکیو1122 نے مختلف اضلاع میں بارش کے پانی گھروں، مسجدوں اورمارکیٹوں سے ڈی واٹرنگ کے ذریعے پانی نکالا ،ریسکیو1122 نے ٹانک کے علاقے پائی میں میڈیکل کیمپ قائم کر لیا۔ ریسکیو 1122 نے حالیہ مون سون بارشوں کے باعث سیلابی ریلے سے متاثرہ علاقے پائی میں امدادی کاروائیاں شروع کیں اور مختلف بیماروں کو طبی امداد فراہم شروع کی، ریسکیو1122 ایمبولینس میں مریضوں کو طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔

    وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے ضلعی انتظامیہ کو ریسکیو سمیت تمام متعلقہ اداروں کو متحرک کرنے کی ہدایت کر دی اور کہا کہ ٹانک و دیگر علاقوں میں سیلابی ریلے میں پھنسے لوگوں کو نکالنے کیلئے فوری اقدامات کیے جائیں ، متاثرہ لوگوں کو بحفاظت طریقے سے محفوظ مقامات پر منتقل کیا جائے ۔

    واضح رہے کہ خیبرپختونخوا میں شدید بارشوں کے باعث تباہی، تین افراد جاں بحق، متعدد زخمی ہو گئے، ٹانک میں سیلابی ریلے میں تین بچے بہہ گئے، صوابی میں پانی گھروں میں داخل ہوگیا

    دوسری شادی کیوں کی؟ پہلی بیوی نے خود کشی کر لی

    منشیات فروش خاتون پولیس کے ساتھ کیسے چھپن چھپاؤ کر رہی؟

    نشہ آور چیز کھلا کر لڑکی سے زبردستی زیادتی کرنے والا ملزم گرفتار

    امیرلڑکے سے شادی کا انکار کیا تو گھر میں بند کر دیا گیا،25 سالہ لڑکی کی تحفظ کی اپیل

    نو سالہ بچے سے زیادتی کرنیوالا پولیس اہلکار،خاتون سے زیادتی کرنیوالا گرفتار

  • ملک میں بارشیں اور سیلاب،پاک فوج عوام کی جان ومال کے تحفظ کیلئے پرعزم

    ملک میں بارشیں اور سیلاب،پاک فوج عوام کی جان ومال کے تحفظ کیلئے پرعزم

    ملک کے مختلف مقاما ت میں شدید بارشیں اور کئی مقامات پر اربن فلڈنگ کی صورتحال میں پا ک فوج سول انتظامیہ کے ساتھ شانہ بشانہ ہے،بارشوں کی صورتحال کے پیش نظرتمام کور ہیڈ کوارٹرزکو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں.اور کہا گیا ہے کہ بارشوں کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے مکمل تیاری رکھیں اور ریسکیو ریلیف اور زیرِ آب علاقوں کو کلئیر کرنے کے لئے انتظامیہ کی بھرپور مدد کی جائے۔

    کراچی: موسلادھار بارش، متعدد علاقے ڈوب گئے، گھروں میں پانی داخل، کرنٹ لگنے سے 3 جاں بحق

    کراچی میں شدید بارش کے باعث پاکستان آرمی، پاکستان رینجرز سندھ، ایف ڈبلیو او اور این ایل سی کی ٹیمیں مسلسل انتظامیہ کی معاونت کر رہی ہیں۔388ڈی واٹرنگ ٹیمز مسلسل زیر ِ آب علاقوں میں ڈی واٹرنگ میں مصروف ہیں۔

    راولپنڈی اوراسلام آباد میں زیادہ سے زیادہ بارش21 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی۔ تمام دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق ہے۔راولپنڈی کور مسلسل صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے تیار ہے۔

    خیبر پختونخوا میں ٹانک اور صوابی میں فلیش فلڈنگ ہے جبکہ پشاور کور نے روڈ شندور چترال کو ٹریفک کے بہاؤ کیلئے کھولنے میں سول انتظامیہ کی مدد کی ہے۔


    بلوچستان میں لسبیلہ میں 400افراد کو سیلابی پانی سے ریسکیو کیا گیا۔کوئٹہ کور نے ہر ضلع میں ایک رابطہ آفسر مقرر کیا ہے جو کہ PDMAاور سول انتظامیہ کے ساتھ آپریشن میں مصروف ِ عمل ہے۔


    گلگت بلتستان میں قراقرم ہائی وے، جگلوٹ سکردو روڈ اور بابو سر شاہرائیں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بلاک ہو گئیں تھیں،جنہیں ایف ڈبلیو اور اور این ایچ اے نے ٹریفک کے لئے بحال کر دیا ہے۔FCNAٹروپس ضلع غِذر میں سول انتظامیہ کی مدد مصروفِ عمل ہیں۔

     

    فوج کے دستے اور رینجرز اہلکار کراچی میں امدادی سرگرمیوں میں مصروف