Baaghi TV

Tag: شام

  • شام : 23 وزراء پر مشتمل نئی حکومت کا اعلان

    شام : 23 وزراء پر مشتمل نئی حکومت کا اعلان

    دمشق:شام کے صدر احمد الشرع نے عبوری حکومت کا اعلان کر دیا ہے، جس میں 23 وزیروں کی تقرری کی گئی۔

    باغی ٹی وی :شام کے صدر احمد الشرع نے ہفتے کی شام نئی حکومت کی تشکیل کا اعلان کیا انھوں نے باور کرایا کہ وہ "ایک طاقت ور اور مستحکم ریاست کی تعمیر ” کے لیے پُر عزم ہیں،نئی حکومت میں وزیر خارجہ اسعد الشیبانی اور وزیر دفاع مرہف ابو قصرہ نے اپنے قلم دان برقرار رکھے،جنرل انٹیلی جنس کے سربراہ انس خطاب کو وزیر داخلہ مقرر کیا گیا ہے۔

    عبدالرحمن الویس وزیر انصاف، محمد ابو الخیر شکری وزیر اوقاف، محمد عبدالرحمن وزیر تعلیم، محمد البشیر وزیر توانائی،محمد یشر برنیہ وزیر خزانہ، محمد نضال الشعار وزیر معیشت، مصعب العلی وزیر صحت اور مروان الحلبی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم ہوں گے،نئی کابینہ میں یاروب بدر کو وزیرِ ٹرانسپورٹ جبکہ امجد بدر کو وزیرِ زراعت مقرر کیا گیا، امجد بدر دروز برادری سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ یاروب بدر علوی برادری سے ہیں۔

    صدر الشرعہ نے پہلی بار ایک وزارت برائے کھیل اور ایک وزارت برائے ایمرجنسی قائم کرنے کا اعلان کیا، اور ایمرجنسی وزارت کے وزیر کے طور پر وائٹ ہیلمٹس نامی امدادی گروپ کے سربراہ رائد صالح کو مقرر کیا گیا،ہند کبوات جو کہ ایک مسیحی خاتون ہیں اور اسد حکومت کے خلاف اپوزیشن کا حصہ رہی ہیں کو وزیرِ سماجی امور و محنت مقرر کیا گیا، ان کی خدمات خواتین کے حقوق اور بین المذہبی رواداری کے لیے رہی ہیں۔

    یہ کابینہ اس بات کا سنگ میل سمجھی جا رہی ہے کہ یہ اسد خاندان کی دہائیوں پر محیط حکمرانی کے خاتمے اور شام کے مغربی ممالک کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانےکی طرف اہم قدم ہےنئی حکومت جو کہ سنی اسلام پسندوں کی قیادت میں ہےمغرب اور عرب ممالک کیجانب سے ملک کی مختلف نسلی اور مذہبی برادریوں کی شمولیت پر زور دینے کے دباؤ میں رہی ہے، یہ دباؤ اس وقت مزید بڑھ گیا جب اس ماہ شام کے مغربی ساحل پر علوی مسلمانوں کے سینکڑوں افراد کے قتل کے بعد عالمی سطح پر مذمت کی گئی۔

    نئی حکومت کا اعلان کرتے ہوئے اپنے خطاب میں صدر احمد الشرع نے کہا کہ "ہم اس وقت اپنی تاریخ میں ایک نئے مرحلے کا جنم دیکھ رہے ہیں، نئی حکومت ، تبدیلی اور تعمیر کی حکومت ثابت ہو گی،ہم اپنے اداروں میں بد عنوانی کو داخل ہونے کی اجازت نہیں دیں گے۔

    شامی صدر نے باور کرایا کہ ہم قومی فوج بنانے پر کام کریں گے جو ملک کی حفاظت کرے، بجلی، تیل اور گیس کی وزارتوں کو وزارت توانائی میں ضم کر دیا گیا ہےشام میں نئے حکام سابق صدر بشار الاسد کی حکومت کے سقوط کے بعد ملک کو دوبارہ سے متحد کرنے اور اس کے اداروں کی تعمیر کے لیے کوشاں ہیں۔

    واضح رہے کہ مسلح اپوزیشن گروپوں نے آٹھ دسمبر 2024 کو بشار الاسد کا تختہ الٹ دیا تھا جنوری میں عبوری صدر اعلان کیے جانے کے بعد احمد الشرع عبوری مرحلے کی انتطامیہ کے نگراں بن گئے یہ مرحلہ 5 برس تک جاری رہے گا، عبوری مرحلے کے بعد نئے آئین کی بنیاد پر ملک میں انتخابات کا اجرا ہو گا۔

  • شامی صدر کی روسی ہم منصب سے بشارالاسد کی واپسی کی درخواست

    شامی صدر کی روسی ہم منصب سے بشارالاسد کی واپسی کی درخواست

    دمشق: شام کے صدر احمد الشرع نے اپنے روسی ہم منصب ولادیمیر پوتین سے سرکاری طور پر درخواست کی ہے کہ وہ بشار الاسد کو ان کے حوالے کر دیں-

    باغی ٹی وی :عرب میڈیا کے مطابق شام کے صدر احمد الشرع نے اپنے روسی ہم منصب ولادی میر پوتین سے سرکاری طور پر درخوا ست کی ہےکہ وہ بشار الاسد کو ان کے حوالے کر دیں،اس اقدام کا مقصد شامی سرزمین پر بشار الاسد کے خلاف عدالتی کارروائی ہے۔

    رواں ماہ کے اوائل میں ایک غیر ملکی خبر رساں ایجنسی نے سفارتی ذرائع کے حوالے سے بتایا تھا کہ شامی صدر الشرع نے بشار کی جانب سے ماسکو میں رکھی گئی مالی رقوم واپس کی جائیں، تاہم ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ کچھ عرصہ قبل دمشق کا دورہ کرنے والے روسی وفد نے الشرع کو آگاہ کر دیا کہ بشار الاسد نے روس میں کوئی رقم ڈپازٹ نہیں کی ہے۔

    ضرورت پڑی تو حکومت کہیں بھی دہشتگردی کے خاتمے کیلئے آپریشن کر سکتی ہے،عرفان صدیقی

    ایک غیر ملکی خبر رساں ایجنسی نے ایک روسی ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ روس بشار کی حوالگی پر کبھی راضی نہیں ہو گا،روسی وفد کےدمشق کےدورے کےدوران میں شامی ذمے داران کا کہنا تھاکہ دونوں ملکوں کے بیچ تعلقات کی بحالی کے سامنے بشار کی واپسی کوئی بڑی رکاوٹ نہیں بنے گی۔

    پی سی بی کا نئے کھلاڑیوں کی تلاش کیلئے ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام شروع کرنے کا اعلان

  • شام میں دو روز تک جاری رہنے والی جھڑپوں میں ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک

    شام میں دو روز تک جاری رہنے والی جھڑپوں میں ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک

    شام میں حکومتی فورسز اور معزول شامی صدر بشار الاسد کے حامیوں کے درمیان دو روز تک جاری رہنے والی جھڑپوں میں ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    باغی ٹی وی : عالمی میڈیا کے مطابق جھڑپوں کے نتیجے میں انتقامی ہلاکتیں بھی ہوئیں، جس میں تقریباً 750 شہری، 125 سرکاری سکیور ٹی اہلکار، اور اسد سے منسلک 148 عسکریت پسند مارے گئے، ساحلی ریجن میں جاری جھڑپوں میں سکیورٹی فورسز اوراتحادی گروپوں کے حملوں میں 311 عام شہری جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ جھڑپوں کے بعد شمال مغربی ساحلی شہر لاذقیہ اور طرطوس میں کرفیو برقرار ہے۔

    عرب میڈیا کے مطابق گزشتہ دنوں معزول شامی صدر بشارالاسد کے حامیوں کی جانب سے گھات لگا کر حملے کیے گئے تھے، جو مربوط اور منصوبہ بندی کے تحت کیے گئے شامی سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ خطے میں استحکام بحال کرکے عوام کی جان اور املاک کا تحفظ کریں گے۔

    پنجاب پولیس نے دہشتگردوں کا ایک اور حملہ ناکام بنا دیا

    واضح رہے یہ 8 دسمبر 2024 کو بشارالاسد حکومت کے خاتمے کے بعد سے نئی اتھارٹی کے خلاف اب تک کے سب سے زیادہ پرتشدد حملے ہیں۔

    پاکستان میں اتنا پیار ملا کہ خود کو شاہ رخ خان سمجھنے لگا،بھارتی صحافی

  • شام میں بغاوت کے سربراہ احمد الشرع عبوری صدر مقرر

    شام میں بغاوت کے سربراہ احمد الشرع عبوری صدر مقرر

    دمشق: شام کی عبوری حکومت نے ملک سے بشار الاسد کے طویل دور کے خاتمے اور باغی سربراہ کی حکمرانی کے تناظر میں اہم فیصلوں کا اعلان کیا ہے،یہ اعلانات دمشق میں مختلف مسلح دھڑوں کے اجلاس کے بعد کئے گئے ہیں-

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق شام کے ترجمان ملٹری آپریشن کمانڈ حسن عبدالغنی نے اعلان کیا کہ ملک کا 2012 کا آئین معطل کردیا گیا ہےشام میں ایمرجنسی پروسیجر کے تحت اپنائے گئے قوانین بھی منسوخ کردیئے گئے ہیں۔

    علاوہ ازیں احمد الشرع سابق جنگجو المعروف ابو محمد الجولانی کو ملک کا نیا عبوری صدر مقرر کرتے ہوئے ایک عارضی قانون ساز کونسل بنانے کا بھی اختیار دیا گیاعبوری صدر کی جانب سے بنائی گئی عارضی قانون ساز کونسل ملک کے نئے آئین کی منظوری تک اپنا کام انجام دے گی۔

    شازیہ مری کا یوٹیلٹی اسٹورز کی بندش پر حکومتی یوٹرن پر تشویش کا اظہار

    شام میں متحارب مختلف مسلح دھڑوں کو تحلیل کرکے انھیں ریاستی اداروں میں ضم کیا جائے گا جو وزارت دفاع کے ماتحت ہوں گے شام میں جابر فوج اور سیکورٹی ایجنسیوں کے ساتھ مل کر دہائیوں تک حکومت کرنے والی بعث پارٹی کو ختم کیا جا رہا ہے۔

    واضح رہے کہ احمد الشرع المعروف ابو محمد الجولانی کی سربراہی میں ہونے والی مسلح بغاوت نے شام میں 5 دہائیوں سے زائد عرصے سے قائم اسد خاندان کا تختۂ اقتدار الٹ دیا تھا،بشار الاسد کو جب کہیں پناہ نہ ملی تو شکست قبول کرکے اپنے خاندان کے ہمراہ خصوصی طیار ے میں روس فرار ہوگئے تھے اور تاحال وہیں مقیم ہیں۔

    خیبرپختونخوا میں نئے آئی جی کی تعیناتی،علی امین کو گرفتاریوں کا خوف

  • پیٹرولیم کمپنی کا ملازم پاکستانی شہری شام میں لاپتا

    پیٹرولیم کمپنی کا ملازم پاکستانی شہری شام میں لاپتا

    پیٹرولیم کمپنی کا ملازم پاکستانی شہری شام میں خانہ جنگی کے دوران لاپتا جبکہ ان کے بیوی اور 2 بچے محصور ہوگئے.

    باغی ٹی وی کے مطابق سندھ ہائی کورٹ نے شام میں محصور پاکستانی فیملی کی وطن واپسی کی درخواست پر 27 جنوری تک فریقین کو جواب جمع کروانے کی ہدایت کردی۔سندھ ہائی کورٹ میں شام میں محصور پاکستانی فیملی کی وطن واپسی کی درخواست پر سماعت ہوئی۔وزارت خارجہ، شام میں پاکستانی سفارتخانے و دیگر کی جانب سے جواب جمع نہیں کروائے گئے۔وکیل نے درخواست گزار کا موقف بیان کرتے ہوئے کہا کہ شام میں حالات تبدیل ہوچکے ہیں، محصور فیملی سے رابطہ منقطع ہوچکا ہے۔

    درخواست گزار نے کہا کہ میری بہو اور اس کے دو بچے شام میں محصور ہیں، میرا بیٹا محمد کامران پیٹرولیم کمپنی میں ملازمت کرتا تھا، شام میں خانہ جنگی کے بعد بیٹا لاپتا ہے، بہو اور بچے پناہ گزین کیمپ میں رہائش پذیر تھے۔انہوں نے کہا کہ شام میں پاکستانی سفارت خانہ کوئی مدد نہیں کر رہا ہے وزیر اعظم دیگر ممالک میں پھنسے پاکستانیوں کی واپسی کے انتظامات کر رہے ہیں، شام میں پھنسے پاکستانیوں کی واپسی کے لیے بھی انتظامات کیے جائیں۔

    کراچی کیلیے بجلی کی قیمت میں کمی کا امکان

    جنوبی افریقہ کو جھٹکا، فاسٹ بولر اینرچ نورکیا چیمپئنز ٹرافی سے باہر

    خیرپور، دریافت تیل و گیس کے ذخائر سے پیداواری عمل شروع

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ

  • روس میں بشار الاسد کی صحت پر سوالات, زہر دینے کی افواہیں

    روس میں بشار الاسد کی صحت پر سوالات, زہر دینے کی افواہیں

    روس کے دارالحکومت ماسکو میں شامی صدر بشار الاسد کو مبینہ طور پر زہر دیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق، سابق شامی صدر بشار الاسد کو روس میں قتل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

    گزشتہ ماہ دسمبر میں، جب شامی دارالحکومت دمشق پر اپوزیشن فورسز کا قبضہ ہونے والا تھا، بشار الاسد اپنے خاندان کے ہمراہ روس فرار ہو گئے تھے۔ روس نے انہیں اور ان کے خاندان کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر پناہ فراہم کی تھی۔رپورٹ کے مطابق، جنرل ایس وی آر کے نام سے ایک آن لائن اکاؤنٹ سے بیان جاری کیا گیا، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ روس کے ایک سابق اعلیٰ جاسوس کے ذریعے چلایا جاتا ہے۔ اس بیان میں بتایا گیا کہ 59 سالہ بشار الاسد اتوار کے روز ماسکو میں بیمار ہو گئے۔ انہیں شدید کھانسی، سانس لینے میں دشواری اور دیگر علامات کا سامنا تھا، جس کے بعد انہوں نے فوری طور پر طبی امداد طلب کی۔اس اکاؤنٹ میں مزید کہا گیا کہ بشار الاسد کو قتل کرنے کی کوشش کی گئی تھی اور ان کا علاج ان کے اپارٹمنٹ میں کیا گیا۔ بعد ازاں ان کی حالت میں بہتری آئی اور پیر تک وہ مستحکم ہو گئے تھے۔ طبی ٹیسٹوں میں یہ بات سامنے آئی کہ بشار الاسد کو زہر دیا گیا تھا۔

    اگرچہ جنرل ایس وی آر کے اکاؤنٹ سے اس واقعے کی تفصیلات دی گئی ہیں، تاہم اس بیان میں ذرائع کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔ اس کے باوجود، یہ واقعہ عالمی میڈیا میں زیر بحث آ چکا ہے۔ دوسری طرف، روسی حکومت کی جانب سے اس انکشاف کی تاحال کوئی تصدیق نہیں کی گئی۔

    واضح رہے کہ بشار الاسد کی حکومت نے شام میں اپوزیشن کے خلاف شدید جنگ چھیڑ رکھی تھی اور 2011 سے جاری خانہ جنگی میں ان کی فوجی پوزیشن کافی کمزور ہو گئی تھی۔ جب دمشق پر اپوزیشن فورسز کا خطرہ بڑھا تو بشار الاسد نے اپنے خاندان کے ساتھ روس میں پناہ لی۔ روسی حکومت نے انہیں سیاسی پناہ دی تھی اور اس کے بعد وہ ماسکو میں مقیم ہیں۔اس نئے انکشاف نے عالمی سطح پر مختلف سوالات کو جنم دیا ہے اور بشار الاسد کی حفاظت کے حوالے سے مزید سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ تاہم روسی حکام نے اس بارے میں تاحال کسی بھی قسم کی وضاحت فراہم نہیں کی ہے۔

    26 نومبر احتجاج،250 ملزمان کی ضمانت منظور،150 کی خارج

    کیلیفورنیا میں چھوٹا طیارہ کمرشل عمارت سے ٹکرا کر تباہ، 2 ہلاک، 18 زخمی

  • شام کے عبوری لیڈر  احمد الشرع کا ہیئت التحریر الشام کی تحلیل کا فیصلہ

    شام کے عبوری لیڈر احمد الشرع کا ہیئت التحریر الشام کی تحلیل کا فیصلہ

    دمشق: بشار الاسد حکومت کا تختہ الٹنے والی فورسز کے سربراہ اور ملک کے عبوری رہنما احمد الشرع کا کہنا ہے کہ شام میں انتخابات کے انعقاد میں 4 سال لگ سکتے ہیں۔

    باغی ٹی وی : عرب ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے احمد الشرع کا کہنا تھا شام میں آئین کی تیاری میں 3 سال تک لگ سکتے ہیں اور انتخابات کے انعقاد میں 4 سال لگ سکتے ہیں قومی ڈائیلاگ کانفرنس میں ہیئت التحریر الشام کی تحلیل کا اعلان کریں گے،شام کے روس کے ساتھ اسٹریٹجک مفادات ہیں، ہم نہیں چاہتے روس شام سے تعلقات کو غیر موزوں طریقے سے چھوڑ دے شام کی وزارت دفاع کرد فورسز کو اپنی صفوں میں ضم کرے گی، امید ہے ٹرمپ انتظامیہ شام پر سے پابندیاں اٹھا لے گی۔

    دوسری جانب شامی انٹیلی جنس سروس کے نئے سربراہ انس خطاب نے اپنے عہدے پر تعیناتی کے بعد اپنے پہلے بیان میں اعلان کیا ہے کہ تمام شاخوں کو تحلیل کرنے کے بعد سکیورٹی ادارے کو دوبارہ تشکیل دیا جائے گا شامی عوام پچھلی حکومت کی ناانصافی اور ظلم کا شکار ہو چکے ہیں۔

    شام کے عبوری لیڈر احمد الشرع کا ہیئت التحریر الشام کی تحلیل کا فیصلہ

    شام کے اخبار "الوطن” نے ان کے پہلے کے بیانات کا بھی حوالہ دیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ تمام فرقوں اور طبقات سے تعلق رکھنے والے ہمارے قابل فخر لوگ سابق حکومت کی ناانصافیوں اور ظلم و ستم سے بہت زیادہ نقصان اٹھا چکے ہیں۔ سابق حکومت کی مختلف سکیورٹی سروسز نے زمین پر تباہی مچا دی تھی اور انہوں نے لوگوں کو مختلف سانحات سے گزارا تھا۔

    شامی انٹیلی جنس سروس کے سربراہ نے مزید کہا کہ اس حوالے سے صرف اللہ ہی کا شکر ہے کہ شام کا بابرکت انقلاب 13 سال کی قربانیوں کے بعد فتح یاب ہوگیا۔ اس دوران شام کے سپوتوں نے لگن، صبر اور استقامت کا نمونہ پیش کیا۔

    ایف آئی اے اور یونان کشتی حادثہ، وزیراعظم کی برہمی ، انصاف کب ہوگا؟
    گزشتہ منگل کو نئی حکومت کے ایک اجلاس کے دوران ایک معاہدہ طے پا گیا تھا جس میں تمام دھڑوں کو تحلیل کرنے اور انہیں وزارت دفاع کی چھتری میں ضم کرنے کا اعلان کیا گیا تھا انتظامیہ نے وضاحت کی ہے کہ یہ قدم عسکری ادارے کی تنظیم نو اور ملک میں فوجی اور سیکورٹی فیصلہ سازی کے اتحاد کو مضبوط بنانے کے فریم ورک کے تحت آتا ہے

    واضح رہے کہ شام میں اپوزیشن فورسز نے چند روز کے بعد ملک کے بڑے شہروں پر قبضہ کرتے ہوئے سابق صدر بشار الاسد کو ملک سے فرار ہونے پر مجبور کر دیا تھا، بشار الاسد اپنی فیملی کے ساتھ روس فرار ہو گئے تھے جہاں انہوں نے سیاسی پناہ لے لی ہے۔

    عطاء اللہ تارڑ نے کے پی حکومت کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کردیا

  • اسرائیل کی جانب سے شام پر  نیوکلئیر حملہ کرنے کا دعویٰ

    اسرائیل کی جانب سے شام پر نیوکلئیر حملہ کرنے کا دعویٰ

    اسرائیلی ڈیفنس فورسز نے 16 دسمبر 2024 کو شام کے شہر طرطوس میں ہتھیاروں کے گودام پر ایک بڑا فضائی حملہ کیا تھا،جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پا گردش کر رہی ہے-

    باغی ٹی وی:انڈین ویب سائٹ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیلی ڈیفنس فورسز (IDF) نے 16 دسمبر 2024 کو شام کے شہر طرطوس میں ہتھیاروں کے ڈپو پر فضائی حملہ کیا، اسرائیل نے مبینہ طور پر شام میں واقع سکڈ میزائل کی تنصیب کو تباہ کر دیا، تاہم، رپورٹس میں یہ قیاس کیا جا رہا ہے کہ اس حملے سے ہونے والا نقصان زیادہ سنگین تھا اور اسرائیل کی طرف سے ایک چھوٹا جوہری ہتھیار استعمال کیا گیا ہو گا، وہ حملہ اسرائیل کی جانب سے شام پر چھوٹا نیوکلئیر دھماکہ تھا-

    یونان کشتی حادثہ: ایف آئی اے کے 31 افسران اور اہلکاروں کےملوث ہونے کا انکشاف

    رپورٹ میں کہا گیا کہ اسرائیل نے مبینہ طور پر بڑے پیمانے پر حملے کے ذریعے شام میں واقع سکڈ میزائل کی تنصیب کو تباہ کیا، تاہم رپورٹس میں یہ قیاس کیا جا رہا ہے کہ اس حملے سے ہونے والا نقصان بہت سنگین تھا اور اسرائیل کی جانب سے شام پر چھوٹا نیوکلئیر حملہ کرنے کا دعویٰ بھی کیا گیا۔

    دھماکے کی ویڈیو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر سامنے آئی ہے اسرائیلی حملے کے نتیجے میں زور دار دھماکے کے ساتھ 3 شدت کا زلزلہ بھی آیا تھا زلزلے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ 820 کلومیٹر دور ترکی کے شہر ازنک تک محسوس کیا گیا۔

    ایس ایس پی انویسٹی گیشن محمد نوید کی میڈلز جیتنے والے کھلاڑیوں سے ملاقات

    روسی میڈیا تنظیم سپوتنک نے اس دوران کہا تھا کہ اسرائیل نے اسے ایک جنگی جہاز سے نئے میزائل سے نشانہ بنایا ہے تاہم کچھ رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا تھا کہ دھماکے میں امریکا کا تیار کردہ B61 ایٹمی بم استعمال ہوا تھا۔

    کچھ رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ دھماکے کے 20 گھنٹے بعد بھی ترکی اور قبرص میں تابکاری کی سطح معمول سے زیادہ تھی یہ ڈیٹا یورپی یونین کے ریڈی ایشن مانیٹرنگ سسٹم نے فراہم کیا، لوگوں کو یہ لگا کہ شاید کوئی چھوٹا ایٹمی ہتھیار استعمال کیا گیا ہے۔

    جعلسازی سے شناختی کارڈ حاصل کرنے والی 3 بنگالی خواتین گرفتار

    20 دسمبر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی طرف سے دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے تک جاری رہنے والے امن مشن میں توسیع کے بعد اسرائیلی فورسز اتوار (22 دسمبر) کو گولان کی پہاڑیوں میں شام-اسرائیل جنگ بندی لائن کے ساتھ ساتھ کام کرتی رہیں، اقوام متحدہ کے مشن میں چھ ماہ کی توسیع کی گئی اور سلامتی کونسل نے خدشہ ظاہر کیا کہ علاقے میں فوجی سرگرمیاں کشیدگی میں اضافہ کر سکتی ہیں۔

    شیطانی پھونک سے یادداشت کو مٹا کر لوگوں کو لوٹنے والی خاتون گرفتار

  • شام:  عبوری حکومت کے کمانڈر انچیف نے نئی ملٹری پالیسی جاری کردی

    شام: عبوری حکومت کے کمانڈر انچیف نے نئی ملٹری پالیسی جاری کردی

    دمشق: شام میں بشار الاسد کی حکومت کا ےختہ الٹنے والے باغی رہنما اور عبوری حکومت کے کمانڈر انچیف احمد الشراح المعروف ابو محمد الجولانی نے ملک کی نئی ملٹری پالیسی جاری کردی۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق دہائیوں سے جنگ زدہ شام میں بغاوت کے بعد بننے والی عبوری حکومت کے کمانڈر انچیف احمد الشراح سے آج سعودی وفد، ترک وزیر خارجہ اور اقلیتی دروز فرقے کے رہنما نے الگ الگ ملاقاتیں کیں اور بغاوت کے بعد شام کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔

    احمد الشراح نے پریس کانفرنس میں کہا کہ جلد ہی شام کے مسلح دھڑے خود کو تحلیل کرکے شامی فوج میں داخل ہونے کا اعلان کرنا شروع کر دیں گے ریاستی کنٹرول سے باہر ملک میں ہتھیار رکھنے کی قطعی اجازت نہیں دیں گے چاہے وہ انقلابی دھڑوں سے ہوں یا ایس ڈی ایف کے علاقے میں موجود دھڑے ہوں، ملک میں مختلف گروہوں کے پاس موجود اسلحہ ریاست کے کنٹرول میں آ جا ئیں گے اور یہ ملک میں قیام امن کے لیے بے حد ضروری ہے۔

    اقلیتی دروز فرقے کے رہنما سے ملاقات کے بعد احمد الشراح کا کہنا تھا کہ ہم فرقوں اور اقلیتوں کے جان و مال اور مقدس مقامات کی حفاظت پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں ملک میں فرقہ ورانہ فسادات اور ملک کی موجودہ صورت حال سے فائدہ اُٹھانے کی "بیرونی” کوششوں کو بھی ناکام بنائیں گے۔

  • بشارالاسد مشکل میں،اقتدار جانے کے بعد بیوی بھی جانے کو تیار

    بشارالاسد مشکل میں،اقتدار جانے کے بعد بیوی بھی جانے کو تیار

    شام کے معزول صدر بشار الاسد کی اہلیہ، برطانوی نژاد اسماء الاسد نے روس کی عدالت میں طلاق کے لیے درخواست دائر کر دی ہے۔

    ترک اور عرب میڈیا کے مطابق اسماء الاسد اس وقت ماسکو میں خوش نہیں ہیں اور وہ لندن واپس جانا چاہتی ہیں۔ واضح رہے کہ 2011 میں شام میں خانہ جنگی کے آغاز کے بعد بشار الاسد اپنے خاندان کے ہمراہ روس فرار ہو گئے تھے، جہاں روسی صدر ولادیمیر پوتن نے انہیں سیاسی پناہ دی تھی۔اسماء الاسد نے روس کی عدالت میں طلاق کی درخواست کے ساتھ ساتھ ماسکو چھوڑنے کی خصوصی اجازت کی درخواست بھی دائر کی ہے۔ ان کی درخواست پر روسی حکام غور کر رہے ہیں۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق، اسماء کے پاس برطانیہ اور شام کی دوہری شہریت ہے، اور وہ لندن میں شامی والدین کے یہاں پیدا ہوئیں۔ وہ 2000 میں شام گئی اور اسی سال 25 سال کی عمر میں بشار الاسد سے شادی کی تھی۔

    اگرچہ روس نے بشار الاسد کی سیاسی پناہ کی درخواست قبول کر لی ہے، لیکن وہ اب بھی سخت پابندیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ بشار الاسد کو ماسکو چھوڑنے یا کسی سیاسی سرگرمی میں حصہ لینے کی اجازت نہیں ہے۔ روسی حکام نے بشار الاسد کی جائیداد اور رقم بھی ضبط کر لی ہے، جس میں 270 کلو سونا، 2 بلین ڈالر اور ماسکو میں 18 اپارٹمنٹس شامل ہیں۔سعودی اور ترک میڈیا رپورٹس کے مطابق، بشار الاسد کے بھائی مہر الاسد کو روس میں سیاسی پناہ نہیں دی گئی ہے اور ان کی درخواست کا ابھی تک جائزہ لیا جا رہا ہے۔ مہر الاسد اور اس کا خاندان اس وقت روس میں نظر بند ہیں۔

    یہ پیش رفت اس بات کا غماز ہے کہ بشار الاسد اور ان کے خاندان کے لیے صورتحال پیچیدہ ہو چکی ہے۔ روس میں سیاسی پناہ کی درخواستیں اور ان کے ساتھ جڑے مسائل عالمی سطح پر اس بات کا اشارہ ہیں کہ شام میں بشار الاسد کی حکومت اور ان کے خاندان کا مستقبل غیر یقینی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اسماء الاسد کی طرف سے طلاق کی درخواست نے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ وہ اپنے شوہر سے علیحدگی اختیار کرنے کی نیت رکھتی ہیں، جس سے مزید سیاسی اور معاشی دباؤ بڑھنے کا امکان ہے۔

    اسعد الشیبانی شام کے عبوری وزیر خارجہ منتخب

    امریکا نے شامی باغی رہنما کی گرفتاری پر 10 ملین ڈالر کا انعام ختم کر دیا

    13 سال بعد گھر آیا تو والدہ سجدے میں تھیں،شامی نوجوان کی کہانی

    بشار الاسد شام سے کیسے فرار ہوئے، تفصیلات آ گئیں