Baaghi TV

Tag: شام

  • شام کے معزول صدر بشار الاسد کا ملک سے مفروری کے بعد پہلا بیان جاری

    شام کے معزول صدر بشار الاسد کا ملک سے مفروری کے بعد پہلا بیان جاری

    ماسکو: شام کے معزول صدر بشار الاسد نے گزشتہ ہفتے اپنی حکومت کے خاتمے کے بعد پہلی مرتبہ بیان جاری کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : العربیہ کے مطابق بشار الاسدنے اپنے بیان میں شام سے کسی "منصوبہ بند”روانگی کی تردید کی ہے،شام کے سابق مفرور صدر نے اپنے بیان میں کہا کہ ماسکو نے ان کی شام سے انخلا کی درخواست کی تھی۔

    یہ بیان شامی صدارت کے ٹیلیگرام چینل پر پیر کو ماسکو سے جاری ہوا ہے جس میں بشار الاسد نے کہا کہ انہیں 8 دسمبر کی شام حمیمیم بیس سے اس وقت روس منتقل کیا گیا جب اس پر ڈرون حملے ہو رہے تھے، روس نے ان کے انخلا کی درخواست کی تھی ، جب دہشت گردی پورے شام میں پھیل گئی اور بالآخر ہفتہ، 7 دسمبر 2024 کی شام دمشق تک پہنچ گئی، تو صدر کے انجام اور موجودگی کے بارے میں سوالات اٹھنے لگے۔

    بشار الاسد نے کہا کہ یہ ایسے وقت میں ہوا جب جھوٹے بیانیے اور غلط معلومات کا سیلاب آیا ہوا تھا، جن کا مقصد بین الاقوامی دہشت گردی کو شام کی آزادی کی تحریک کے طور پر پیش کرنا تھا،شام سے میری روانگی نہ تو کسی منصوبہ بندی کے نتیجے میں تھی اور نہ ہی یہ لڑائی کے آخری لمحات میں ہوئی ماسکو نے 8 دسمبر، اتوار کی شام ہنگامی طور پر روس روانگی کی درخواست کی اس روز میں پہلے ہی لاذقیہ منتقل ہوچکا تھا،جب ایک ریاست دہشت گردی کا گڑھ بن جائے اور اس کے خلاف کچھ کرسکنے کی صلاحیت کھو بیٹھے تو اس کے بعد کوئی بھی پوزیشن بے معنی ہوتی ہے۔

    بشار الاسد نے انکشاف کیا کہ وہ 8 دسمبر کو دمشق سے اس وقت روانہ ہو گئے تھے جب اپوزیشن فورسز نے دارالحکومت میں پیش قدمی کی ان کا روس منتقل ہونا اس وقت ممکن ہوا جب لاذقیہ میں روس کے زیرِ کنٹرول حمیمیم ایئر بیس پر ڈرون حملے ہوئے بشارالاسد نے بتایا کہ انہوں نے دمشق سے فرار کے بعد لاذقیہ سے جنگی کارروائیوں کی نگرانی کی، لیکن تسلیم کیا کہ تمام فوجی پوزیشنز ختم ہو چکی تھیں۔

    بشار الاسد نے کہا کہ جب بیس چھوڑنے کا کوئی قابل عمل ذریعہ باقی نہ رہا، تو ماسکو نے بیس کی کمانڈ سے 8 دسمبر، اتوار کی شام فوری انخلا کے انتظامات کرنے کی درخواست کی یہ واقعہ دمشق کے سقوط اور آخری فوجی پوزیشنز کے خاتمے کے ایک دن بعد پیش آیا، جس کے نتیجے میں ریاست کے باقی تمام ادارے مفلوج ہو گئے،ان واقعات کے دوران میں نے کبھی استعفیٰ دینے یا پناہ لینے کا نہیں سوچا، نہ ہی کسی فرد یا جماعت کی طرف سے ایسا کوئی مشورہ دیا گیا واحد راستہ یہی تھا کہ دہشت گرد حملے کے خلاف لڑائی جاری رکھی جائے۔

    شامی سابق مفرور صدر کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی میڈیا پر کہا جا رہا ہے کہ بشارالاسد انتہائی خاموشی کے ساتھ دمشق سے فرار ہوئے انہیں روس کی مدد حاصل تھی اور انہوں نے اپنی روانگی سے پہلے اپنے قریبی ساتھیوں اور رشتے داروں کو بھی اندھیرے میں رکھا وہ روس کے جہاز میں ماسکو کیلئے روانہ ہوئے ان کی روانگی کو خفیہ رکھنے کیلئے راستے میں طیارے کا ٹرانسپونڈر بھی بند کردیا گیا تھا تاکہ ان کا پتا نہ چلایا جاسکے۔

    واضح رہے کہ بشار الاسد اپنے والد کے بعد سن 2000 میں اقتدار میں آئے تھے، ان کے والد حافظ الاسد نے تقریباً تین دہائیوں تک شام پر آہنی ہاتھوں سے حکومت کی کبھی ناقابل تسخیر سمجھے جانے والے بشارالاسد کا اقتدار 8 دسمبر کو اس وقت ختم ہو گیا جب ایک تیز رفتار حملے کی وجہ سے ان کی حکومت کو دھچکا پہنچا یہ حملہ حیات تحریر الشام نامی گروپ، جو پہلے القاعدہ سے منسلک النصرہ فرنٹ کے نام سے جانا جاتا تھا، اور اس کے اتحادی دھڑوں کی قیادت میں کیا گیا۔

  • سوشل میڈیا پر وائرل تصاویر میں شامی باغی رہنما کے ساتھ خوبصورت لڑکی  کون؟

    سوشل میڈیا پر وائرل تصاویر میں شامی باغی رہنما کے ساتھ خوبصورت لڑکی کون؟

    دمشق: شام میں بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے پر عوامی سطح پر جشن منایا گیا جشن کی تقریب میں تحریرالشام کے رہنما محمد الجولانی نے شہریوں کے ساتھ سینکڑوں تصاویر بنوائیں تاہم ان کے ساتھ ایک خوبصورت لڑکی کی تصاویر نے سب کی توجہ حاصل کرلی ہے۔

    باغی ٹی وی : شام کے عوام نے جمعہ کے روز مقامی مسجد میں نماز کے بعد فتح کا جشن منایا اور مسجد کے قریب ایک بڑے چوک پر جمع ہوئے، تقریب میں محمد الجولانی بھی شریک ہوئے اور تقریب کے شرکا نے ان کے ساتھ تصویریں بنوائیں، یوں تو محمد الجولانی نے سینکڑوں تصاویر بنوائی لیکن ایک تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی جس میں انہیں ایک شامی لڑکی کے ساتھ دیکھا جاسکتا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق جب شامی لڑکی نے الجولانی سے تصویر بنوانے کی خواہش کی تو تحریر الشام کے رہنما محمد الجولانی نے لڑکی کی خواہش کا احترام کیا اور ساتھ ہی اانہوں نے لڑکی سے کہا کہ وہ اپنے بال ڈھانپ لے اور تب ہی تصویر بنوائے گا ، لڑکی نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر وضاحت کی کہ الجولانی نے انہیں تصویر کے دوران ہی اپنے بال ڈھانپنے کو کہا تھا اس سے پہلے نہیں، بہت سی خواتین اور لڑکیوں نے حجاب کے بغیر فتح کے جشن میں شرکت کی اور انہوں نے ”آزادی دلانے“ پر باغیوں کا شکریہ ادا کیا۔

    واضح رہے محمد الجولانی کی سربراہی میں ہیئت تحریر الشام نے بشار الاسد کی حکومت کا تختہ الٹ دیا ہے اور وہ اب عوامی سطح پر نظر بھی آرہے ہیں ان کی موجودگی پر عوام نے خوشی کا اظہار کیا انٹرنیٹ پر محمد الجولانی کی شام کی خواتین کے ساتھ دیگر تصاویر بھی ہیں-

  • شام:اسرائیل کی طرطوس پر 2012 کے بعد سے اب تک کی شدید ترین بمباری

    شام:اسرائیل کی طرطوس پر 2012 کے بعد سے اب تک کی شدید ترین بمباری

    شام: اسرائیل کی جانب سے گذشتہ روز شام کے ساحلی شہر طرطوس پر 8 گھنٹے سے زائد تک شدید بمباری کی گئی جس کے باعث پورا علاقہ لرز اٹھا۔

    باغی ٹی وی : عرب میڈیا کے مطابق اسرائیل نے گذشتہ شب آٹھ گھنٹے سے زیادہ تک شام کے ساحلی شہر طرطوس کو بم باری کا نشانہ بنایا۔ اس دوران میں زور دار دھماکے سنے گئے اور کئی مقامات سے آگ کے بلند و بالا شعلے اٹھتے دکھائی دیے،اسرائیل نے 10 سے زیادہ حملے کیے ،بمباری اتنی شدید تھی کہ حملے کا نشانہ بننے والے علاقے ریکٹر اسکیل پر تین کی شدت کے برابر جھٹکوں سے لرز اٹھے۔

    شام میں انسانی حقوق کی رصد گاہ "المرصد” کے مطابق اسرائیلی فضائیہ نے جن اہداف کو نشانہ بنایا ان میں فضائی دفاع کے یونٹ اور زمین سے زمین تک مار کرنے والے میزائلوں کے گودام شامل ہیں، گذشتہ رات ہونے والے یہ حملے 2012 سے اب تک کے شدید ترین حملے تھے۔

    ادھر طرطوس میں رہنے والے شامی فوج کے ایک افسر نے بتایا کہ یہ پہلا موقع تھا جب شہر کو اسرائیلی بم باری میں اتنے بڑے پیمانے پر نشانہ بنایا گیا اسرائیل نے ایسے میزائل استعمال کیے جو شاید پہلی مرتبہ شام پر بمباری میں استعمال ہوئے کہ دھماکوں کی آوازیں دس کلو میٹر سے زیادہ دوری تک سنی گئیں اس شدید بم باری کے سبب علاقے میں رہنے والے شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

    شامی فوج کے ایک سابق عہدے دار میجر جنرل کمال الموسی نے عرب میڈیا کو بتایا کہ اسرائیل کے حالیہ حملوں میں شامی فوج کے عسکری ساز و سامان کا 85 فیصد حصہ تباہ کر دیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ8دسمبر کو سابق شامی صدر بشار الاسد کی حکومت کے سقوط کے بعد سے اب تک اسرائیل نے شام کے مختلف علاقوں میں 500 سے زیادہ فضائی حملے کیے ہیں ان کا مقصد شامی فوج اور مسلح فورسز کی صلاحیتوں کو ختم کرنا ہے-

  • شام:  روسی فضائیہ کی روانہ ہونیوالی  خصوصی پرواز   میں کون سوار تھا؟

    شام: روسی فضائیہ کی روانہ ہونیوالی خصوصی پرواز میں کون سوار تھا؟

    اتوار کے روز شام میں حمیمیم کے فضائی اڈے سے روسی فضائیہ کا ایک طیارہ روانہ ہوا جس میں سوار افراد سے متعلق روسی وزارت خارجہ نے وضاحتی بیان جاری کیا ہے-

    باغی ٹی وی: روسی وزارت خارجہ کے مطابق اتوار کو اڑان بھرنے والے روسی فضائیہ کے طیارے میں روس، بیلا روس اور شمالی کوریا کے بعض سفارت کار سوار تھےطیارہ ماسکو کے قریب اترا تاہم وزارت نے یہ نہیں بتایا کہ طیارے میں کتنے افراد سوار تھے۔

    روسی وزارت خارجہ میں بحرانات سے متعلق انتظامیہ نے ٹیلی گرام پر اپنے چینل پر بتایا ہے کہ دمشق میں روسی سفارت خانے کا کام جاری ہے،جبکہ روسی میڈیا نے بیلا روس کی وزارت خارجہ کے حوالے سے بتایا ہے کہ شام سے بیلا روس کے تمام سفارت کاروں کو نکال لیا گیا ہے۔

    "العربیہ” کے مطابق ٹیلی گرام پر جاری بیان میں روسی وزارت خارجہ نے بتایا کہ 15 دسمبر کو دمشق میں سفارتی عملے کا ایک حصہ واپس بلا لیا گیا ہے، یہ افراد حمیمیم کے فضائی اڈے سے روانہ ہونے والے روسی فضائیہ کی ایک خصوصی پرواز کے ذریعے چکالوسکی کے ہوائی اڈے پہنچے اسی طرح بیلا روس، شمالی کوریا اور ابخازیا کے سفارتی مشنوں کے بھی متعدد ملازمین کو اسی پرواز کے ذریعے شام سے نکال لیا گیا ہے، دمشق میں روسی سفارت خانے نے اپنا کام جاری رکھا ہوا ہے۔

  • شام میں تعلیمی ادارے کھل گئے، طلبا کا جشن

    شام میں تعلیمی ادارے کھل گئے، طلبا کا جشن

    شام میں دمشق یونیورسٹی سمیت تمام تعلیمی ادارے کھل گئے، جامعہ دمشق کے طلبہ نے جشن مناتے ہوئے بشار الاسد کا بڑا مجسمہ سڑک پر گھسیٹا۔

    الجزیرہ کے مطابق شام کی عبوری حکومت کی جانب سے دیگر سرکاری اداروں کے ساتھ ساتھ اسکول اور یونیورسٹیاں بھی دوبارہ کھل گئی ہیں، جس کے بعد دمشق یونیورسٹی کے اندر تہوار کا ماحول دیکھا گیا، اور ہزاروں طلبہ نے جشن منایا۔سوشل میڈیا پر دمشق یونیورسٹی کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں طلبہ کا ہجوم بشار الاسد کا ایک بہت بڑا مجسمہ گرا کر رسیوں سے باندھ کر سڑک پر گھسیٹ رہے ہیں، طلبہ نے مجسمے پر کھڑے ہو کر تالیاں بجائیں اور اللہ اکبر کے نعروں کے ساتھ دیگر نعرے لگاتے رہے۔طالب علم عمر نورالدین نے میڈیا کو بتایا ہم دیکھ سکتے ہیں کہ کیمپس ہر شعبے کے طلبہ سے بھرا ہوا ہے، یہ روشنی ہم 50 سال کی آمریت کے بعد محسوس کر رہے ہیں، ہم پورے کیمپس میں جشن منا رہے ہیں۔طالب علم نے کہا ’’ہم سب حکومت کے جانے کا خواب دیکھ رہے تھے، لیکن ہم نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ یہ اس طرح چند ہی دنوں میں گر جائے گی۔ میں ہمیشہ ملک چھوڑنے کا خواب دیکھتا تھا، لیکن اب میں سوچتا ہوں کہ مجھے اپنے ملک میں رہنا چاہیے اور اس کی تعمیر نو میں مدد کرنی چاہیے۔طلبہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ شام سے باہر بہت سے شامی باشندے فوری طور پر وطن واپس آنے کی کوشش کر رہے ہیں، اب شام اپنے پیروں پر کھڑا ہے۔ایک اور طالبہ فاطمہ سلیمان نے کہا ’’میں تعلیمی ادارے میں واپسی پر خوش ہوں، مثبت تبدیلی آئی ہے، اور میں بغیر کسی جانبداری اور اقربا پروری کے اپنے کام میں مشغول ہو سکتی ہوں، اور اپنی آواز بھی اٹھا سکتی ہوں۔‘‘

  • شامی باغیوں کے خلاف پابندیوں پر نظرثانی ان کی کارکردگی سے مشروط ہے،امریکا

    شامی باغیوں کے خلاف پابندیوں پر نظرثانی ان کی کارکردگی سے مشروط ہے،امریکا

    واشنگٹن: امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا ہے کہ شامی باغیوں کے خلاف پابندیوں پر نظرثانی ان کے رویے اور کارکردگی سے مشروط ہے۔

    باغی ٹی وی : اردن میں عرب رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں سعودی عرب، مصر، عراق، لبنان، قطر، امارات اور بحرین کے وزرائے خارجہ شریک ہوئےاجلاس میں شام میں تمام عسکری کارروائیاں روکنے اور ہر طبقہ فکر پر مشتمل جامع حکومت کی تشکیل پر زوردیا گیا جبکہ مقبوضہ گولان کو شام کا اٹوٹ انگ قرار دیا گیا۔

    اس حوالے سے اردن میں میڈیا سے گفتگو میں امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا کہ اسرائیل حماس کے خلاف ہدف حاصل کرچکا، اب یرغمالیوں کے لیے ڈیل کا لمحہ آگیا ہے۔

    شام کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ ہیئت تحریر الشام ملیشیا اور دیگر باغیوں سے رابطے میں ہیں، شامی باغیوں کے خلاف پابندیوں پر نظرثانی ان کے رویے اور کارکردگی سے مشروط ہے۔

    دوسری جانب ایرانی حمایت یافتی عسکری تنظیم حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم کا کہنا ہے کہ بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد گروپ اپنا سپلائی روٹ کھو چکا ہے،اسد کے دور میں، حزب اللہ نے شام کو ایران سے ہتھیار اور دیگر فوجی سازوسامان عراق اور شام کے راستے لبنان میں لانے کے لیے استعمال کیا لیکن 6 دسمبر کو، اسد مخالف جنگجوؤں نے عراق کے ساتھ سرحد پر قبضہ کر لیا اور اس راستے کو کاٹ دیا، اور دو دن بعد، باغیوں نے دارالحکومت دمشق پر قبضہ کر لیا۔

    نعیم قاسم نے ہفتے کو ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی ایک تقریر میں اسد کا نام لیے بغیر کہا، ’حزب اللہ اس مرحلے پر شام کے ذریعے فوجی سپلائی کا راستہ کھو چکی ہے، لیکن یہ نقصان مزاحمت کے کام میں وقتی رکاوٹ ہے، ’نئی حکومت کے آنے کے بعد یہ راستہ بحال ہوسکتا ہے اور ہم دوسرے بھی راستے تلاش کر سکتے ہیں۔‘

  • امید ہے کہ شام کے نئےحکمران بھی اسرائیل کو دشمن ہی تسلیم کریں گے ،سربراہ حزب اللہ

    امید ہے کہ شام کے نئےحکمران بھی اسرائیل کو دشمن ہی تسلیم کریں گے ،سربراہ حزب اللہ

    بیروت: لبنان کی مزاحمتی تحریک حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے کہا ہے کہ بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے بعد حزب اللہ نے ایران سے شام کے راستے ہونے والی عسکری سپلائی کا راستہ فی الحال کھو دیا ہے۔

    باغی ٹی وی: عرب میڈیا کے مطابق حزب اللہ سربراہ نعیم قاسم نے گزشتہ روز اپنی تقریر میں کہا کہ شام کو خطرناک توسیع پسند دشمن کا سامنا ہے اور شام میں گولان پہاڑیوں کے بفرزون پر اسرائیلی فوج کا قبضہ اس کا ثبوت ہے امید ہے کہ شام کے نئےحکمران بھی اسرائیل کو دشمن ہی تسلیم کریں گے اور اسرائیل سے معمول کے تعلقات نہیں بنائیں گے۔

    حزب اللہ سربراہ نے کہا کہ شام کےحالات کو مستحکم کرنے تک شامی باغیوں کے بارے میں رائےقائم نہیں کرسکتے، امید ہے نئی شامی حکومت تمام فورسز اور جماعتوں کو حکومت میں شامل کرےگی، یہ بات ٹھیک ہے کہ بشارالاسد حکومت کے خاتمے کے بعد حزب اللہ کا شام سےعسکری سپلائی کا راستہ فی الحال ختم ہو چکا مگر امید ہے کہ نئی حکومت آنے کے بعد یہ راستہ پھر بحال ہوجائے گا یا ہم نئے راستے تلاش کریں گے۔

  • چند گھنٹوں میں  اسرائیل کے شام پر 60 سے زائد حملے

    چند گھنٹوں میں اسرائیل کے شام پر 60 سے زائد حملے

    دمشق:گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران اسرائیل نے شام پر 60 سے زائد حملے کیے ہیں۔

    باغی ٹی وی :بشار الاسد اور ان کی حمایت یافتہ فوج کے فرار ہونے کے بعد اسرائیل مسلسل شامی فوج کے اسلحے کے ذخائر اور فوجی سازوسامان کو تباہ کر رہا ہے، اسرائیل کی جانب سے گزشتہ چند گھنٹوں میں شام کے فوجی ٹھکانوں اور ہتھیاروں کے ذخائر پر 61 میزائل حملے کیے گئے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی خبر کے مطابق ایک غیر سرکاری تنظیم نے شام پر چند گھنٹوں میں ان تازہ ترین اسرائیلی حملوں کو رپورٹ کیابرطانیہ میں موجود تنظیم سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق اسرائیل نے گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران شام کی سرزمین پر 60 سے زائد حملے کیے ہیں، اسرائیل نے ہفتے کی شام 5 گھنٹے سے بھی کم وقت میں شام کے فوجی ٹھکانوں پر 61 میزائل داغے۔

    واضح رہے کہ اسرائیل کی شام پر جارحیت کا یہ سلسلہ تقریبا ایک ہفتہ قبل باغی افواج کی جانب سے ملک کے صدر بشار الاسد کی حکومت کا خاتمہ کیے جانے کے بعد شروع ہوا ہے۔

    قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق شام کے بااختیار رہنما احمد الشرع نے اسرائیل کی جانب سے شامی سرزمین پر قبضے اور جاری حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی،ان کا کہنا تھا کہ شام اب ایک اور نئے تنازع میں الجھنے کے لیے بہت تھک چکا ہے۔

    دوسری جانب اسرائیلی فوج شام کے شہر قنیطرہ میں پیش قدمی جاری رکھے ہوئے ہے اور علاقہ جبری خالی کرانے کےلیے پانی و بجلی اور سڑکوں کا نظام تباہ کردیا ہے۔

  • شام میں ترکیے کا سفارت خانہ  12 سال بعد دوبارہ  فعال

    شام میں ترکیے کا سفارت خانہ 12 سال بعد دوبارہ فعال

    دمشق: شام میں ترکیے کا سفارت خانہ 12 سال بعد دوبارہ فعال ہو گیا۔

    باغی ٹی وی:غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق شام کے دارالحکومت دمشق میں ہفتے کے روز ترکیے کے سفارتی مشن نے 12 سال کے وقفے کے بعد اپنی سرگرمیاں دوبارہ شروع کیں اور ترکیے کا پرچم سفارتخانے پر لہرایا گیاسفارتی مشن شروع ہونے کے بعد ترکیے نے شام میں برہان کور اوغلو کو ناظم الامور مقرر کر دیا ہے۔

    واضح رہے کہ ترکیے نے سابق صدر بشارالاسد حکومت کے خلاف 2011 میں مظاہرے کرنے والوں پر بدترین کریک ڈاؤن کے خلاف 2012 میں شام میں اپنی سفارتی سرگرمیاں روک دی تھیں جبکہ بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے بعد اب استنبول میں شامی قونصلیٹ جنرل نے بلا تعطل اپنی سرگرمیاں جاری رکھی ہوئی ہیں،گزشتہ دنوں شام میں اپوزیشن فورسز کی جانب سے دارالحکومت دمشق پر کنٹرول اور شامی صدر بشار الاسد کے فرار کے بعد ترکیہ میں شامی قونصل خانے سے شامی پرچم اتار دیا تھا-

  • شام میں موجودہ تبدیلی اچانک نہیں ہوئی ،کئی سالوں کی منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے،ابو محمد الجولانی

    شام میں موجودہ تبدیلی اچانک نہیں ہوئی ،کئی سالوں کی منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے،ابو محمد الجولانی

    دمشق: شام میں اپوزیشن فورسز ہیئت تحریر الشام اور اتحادی گروپوں کے سربراہ احمد الشرع المعروف ابو محمد الجولانی نے کہا ہے کہ شام ہونے والی تبدیلی خطے میں ایران کے خطرناک منصوبے کے خلاف بڑی کامیابی ہے،جبکہ یہ تبدیلی اچانک نہیں ہوئی ،کئی سالوں کی منصو بہ بندی کا نتیجہ ہے-

    باغی ٹی وی : عالمی میڈیا کے مطابق احمد الشرع نے کہاکہ ایران کے منصوبے خطے کے عوام کیلئے تکلیف دہ ثابت ہوئے، ایرانی عوام سے ہمیں کوئی مسئلہ نہیں،سابق صدر بشار الاسد نے منشیات کی پیداوار میں عالمی ریکارڈ قائم کیا، روس بشارالاسد کی گرتی ہوئی ساکھ سے بیزار ہونےلگا تھا۔

    انہوں نے کہا کہ خط وکتابت کےذریعے روس کےساتھ معاملات طے کرنے کی کوشش کی ہےاور روس کو نئےسرے سے تعلقا ت قائم کرنےکا موقع فراہم کیا ہے،موجودہ تبدیلی اچانک نہیں ہوئی بلکہ کئی سالوں کی منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے، شام کےعلاقوں اور شہرو ں پر اپوزیشن فورسز کے قبضوں کےدوران کوئی نقل مکانی دیکھنے میں نہیں آئی۔

    احمد الشرع نے کہا کہ اسرائیل ایران کے بہانے شام میں مداخلت کرتا آیا ہے، اب شام میں غیرملکی مداخلت کا کوئی وجود نہیں رہا، اسرائیل کیلئے غیرملکی مداخلت کا کوئی جواز باقی نہیں رہا اور اسرائیل کے ساتھ کسی قسم کی کشیدگی نہیں چاہتے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ دنوں ایرانی سپریم لیڈرآیت اللہ خامنہ ای نے دعویٰ کیا تھاکہ شام میں بشارالاسد حکومت کاخاتمہ امریکا، اسرائیل اور شام کے پڑوسی ملک کے منصوبےکا نتیجہ ہےشام میں باغی گروپوں کے مقاصد ایک دوسرے سے الگ ہیں ،شام کے ہر باغی گروپ کے اپنے علیحدہ مقاصد اور ایجنڈا ہے، وقت ثابت کرےگا کہ ان لوگوں کا کوئی بھی مقصد پورا نہيں ہوگا، اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکا علاقے میں اپنے قدم جمانا چاہتا ہے، فتنہ داعش کے دوران ایران کی شام میں موجودگی کا مقصد مقدس مقامات کا تحفظ تھا، ایران کی موجودگی کا مقصد امن قائم کرنے میں شامی حکومت کی مدد کرنا تھا۔