Baaghi TV

Tag: شمالی کوریا

  • شمالی کوریا نےمتعدد کروز میزائل فائر کردیئے

    شمالی کوریا نےمتعدد کروز میزائل فائر کردیئے

    سئیول: شمالی کوریا نے نئے تجربے کے دوران متعدد کروز میزائل فائر کردیئے-

    با غی ٹی وی:شمالی کوریا نے جنوبی کوریا کی بندرگاہ پر جوہری ہتھیاروں سے لیس امریکی آبدوز پہنچائے جانے کے بعد احتجاجاً ”جزیرہ نما کوریا“ کے مغرب میں سمندر کی طرف کئی کروز میزائل داغ دیئے ہیں یہ میزائل لانچ ایسے وقت میں کیا گیا جب سیول اور واشنگٹن کے درمیان شمالی کوریا کے ساتھ بڑھتے تناؤ کے تناظر میں دفاعی تعاون کو مضبوط کیا جارہا ہے، جس میں جدید اسٹیلتھ جیٹ طیاروں کے ساتھ ساتھ امریکا اور جنوبی کوریا کی مشترکہ فوجی مشقیں اور جوہری ہنگامی منصوبہ بندی کی میٹنگز کے نئے دور شامل ہیں۔


    شمالی کوریا کے وزیر دفاع کانگ سن نام نے جمعرات کو ایک دھمکی جاری کی، جس میں کہا کیا گیا کہ جنوبی کوریا میں کینٹکی کی ڈاکنگ شمالی کوریا کی طرف سے جوہری حملے کی بنیاد بن سکتی ہے اوہائیو کلاس آبدوز کی تعیناتی ’جوہری طاقت کی پالیسی پر شمالی کوریا کے قانون میں بیان کردہ جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی شرائط کے تحت‘ آسکتی ہے’۔

    بدھ کو شمالی کوریا نے اپنے دارالحکومت پیانگ یانگ کے قریب ایک علاقے سے مختصر فاصلے تک مار کرنے والے دو بیلسٹک میزائل داغے تھے جنہوں نے جزیرہ نما کوریا کے مشرق میں سمندر میں گرنے سے پہلے تقریباً 550 کلومیٹر (341 میل) کا فاصلہ طے کیا۔

    ان میزائلوں کی پرواز کا فاصلہ پیانگ یانگ اور جنوبی کوریا کے بندرگاہی شہر بوسان کے درمیان فاصلے سے تقریباً مماثل ہے، جہاں جوہری ہتھیاروں سے لیس آبدوز یو ایس ایس کینٹکی موجود ہے، یہ 1980 کی دہائی کے بعد امریکی جوہری ہتھیاروں سے لیس آبدوز کا جنوبی کوریا کا پہلا دورہ ہے۔

    اس کے بعد ہفتے کو شمالی کوریا نے مزید کروز میزائل جنوبی کوریا کی جانب داغے۔ ہفتہ کو داغے گئے میزائلوں نے جو فاصلہ طے کیا ان کی کوئی تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں۔

    جنوبی کوریا کی وزارت دفاع نے جمعہ کو کینٹکی کی تعیناتی اور واشنگٹن اور سیول کے درمیان جوہری ہنگامی منصوبہ بندی کی میٹنگز کو شمالی کوریا کے خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے ”دفاعی ردعمل کے اقدامات“ قرار دیا جنوبی کوریا کےچیف آف آرمی اسٹاف نے بیان میں کہا کہ شمالی کوریا نے کروز میزائل جزیرہ نما کوریا کے مغرب میں سمندر کی جانب فائر کیے۔

    انہوں نے کہا کہ نئے تجربوں کے بارے میں امریکا سے رابطے میں ہیں،شمالی کوریا کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کے کسی بھی استعمال کا ”فوری اور فیصلہ کن جواب“ دیا جائے گا، جس کے نتیجے میں کم جونگ اُن کی حکومت کا خاتمہ ہو جائے گا۔

    دوسری جانب امریکا کی جوہری آبدوز جنوبی کوریا کے ساحلی شہر بوسن پہنچ گئی ہے۔ شمالی کوریا کے نئے میزائل تجربات کو امریکی جوہری آبدوز کی خطے میں آمد پر احتجاج کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

  • شمالی کوریا نے جاپانی سمندری حدود کے قریب بیلسٹک میزائل فائر کر دیا

    شمالی کوریا نے جاپانی سمندری حدود کے قریب بیلسٹک میزائل فائر کر دیا

    شمالی کوریا نے جاپانی سمندری حدود کے قریب بیلسٹک میزائل فائر کر دیا-

    باغی ٹی وی: جاپان کے وزیر اعظم ہاؤس نے اپنے ایک بیان میں شبہ ظاہر کیا ہے کہ شمالی کوریا کی جانب سے جاپانی سمندری حدود کے قریب بیلسٹک میزائل فائر کیا گیا ہے،جنوبی کورین خبر ایجنسی کے مطابق شمالی کوریا کی جانب سے فائر کیا گیا میزائل کورین اور جاپانی پیننسولا کے درمیان گرا ہے۔

    واضح رہے کہ شمالی کوریا کی جانب سے میزائل فائر کرنے کا واقعہ، 1980 کے بعد پہلی مرتبہ امریکا کی نیوکلیئر بیلسٹک میزائل سے لیس آبدوز کے جنوبی کوریا میں چکر لگانے کے بعد پیش آیا ہے۔

    ایک ہفتہ قبل شمالی کوریا کی جانب سے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل واسونگ 18 کا کامیاب تجربہ کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے اسے امریکا اور اس کے اتحادیوں کیلئے وارننگ قرار دیا گیا تھا جہاں شمالی کوریا نے امریکی جاسوس طیاروں پر اس کے اقتصادی زونز میں فضائی حدود کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا تھا اور امریکی جوہری صلاحیت کی حامل کروز میزائل آبدوز کے جنوبی کوریا کے حالیہ دورے کی مذمت کرتے ہوئے اس کے جواب میں اقدامات کا وعدہ کیا تھا۔

    ناروےکی میٹا کو جرمانے کی دھمکی

    جاپان کے چیف کابینہ سیکرٹری ہیروکازو ماتسونو نے کہا کہ انٹرکانٹی نینٹل بیلسٹک میزائل نے 74 منٹ تک 6ہزار کلومیٹر (3ہزار728 میل) کی بلندی اور 1ہزار کلومیٹر کی رینج تک پرواز کی جو شمالی کوریا کے کسی میزائل کی اب تک کی سب سے طویل پرواز ہے۔

    جاپان کے کوسٹ گارڈ نے پیش گوئی کی تھی کہ یہ میزائل جزیرہ نما کوریا کے مشرق میں تقریباً 550 کلومیٹر(340 میل) دور گرے گا۔

    رواں سال اپریل میں شمالی کوریا نے اپنا پہلا ٹھوس ایندھن سے چلنے والے انٹر کانٹینینٹل بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا تھا جو اس سال کیے گئے تقریباً ایک درجن میزائل تجربات میں سے تھا اور تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ شمالی کوریا کا یہ بیلسٹک میزائل امریکا میں کسی بھی ہدف کا نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس نے ممکنہ طور پر ایسے جوہری ہتھیار تیار کر لیے ہیں جو راکٹوں پر نصب ہو سکتے ہیں۔

    اس میزائل تجربے کے بعد نیٹو اجلاس میں شرکت کے لیے موجود جنوبی کوریا کے صدر یون سک یول نے نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر لتھوانیا میں قومی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کیا جس میں اس میزائل لانچ پر تبادلہ خیال کیا گیا اور اس طرح کے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے سربراہی اجلاس کو مضبوط بین الاقوامی یکجہتی کے لیے استعمال کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

    غلاف کعبہ تبدیل کر دیا گیا،ویڈیو

    یون سک یول اور جاپانی وزیر اعظم فومیو کشیدا نے الگ الگ بات چیت کی اور اس لانچ کو اقوام متحدہ کی متعدد قراردادوں کی سنگین خلاف ورزی اور سنگین اشتعال انگیزی قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی فومیو کشیدا نے میزائل کو انٹر کانٹی نینٹل بیلسٹ میزائل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے خطے اور اس سے باہر امن و استحکام کو خطرہ لاحق ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے دونوں پڑوسی ممالک اور امریکا کے درمیان قریبی تعاون کی ضرورت ہے۔

    امریکا نے بھی شمالی کوریا کے میزائل تجربے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ وہ خطے میں عدم استحکام کا سبب بننے والے اقدامات کا خاتمہ کرتے ہوئے مذاکرات کی میز پر آئےامریکا کی نیشنل سیکیورٹی کونسل کے ترجمان ایڈم ہوج نے ایک بیان میں کہا کہ یہ میزائل لانچ اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی قراردادوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے اور اس سے خطے میں غیرضروری طور پر تناؤ میں اضافہ ہو گا شمالی کوریا کے لیے سفارت کاری کے دروازے بند نہیں ہوئے اور پیانگ یانگ کو عدم استحکام کا سبب بننے والے ان اقدامات کو ترک کرتے ہوئے سفارتی گفت و شنید کے عمل کا حصہ بننا چاہیے۔

    مکیش امبانی کا اداکارہ عالیہ بھٹ کا برانڈ خریدنے کا فیصلہ،دوگنا قیمت کی پیشکش

    دوسری جانب ایک امریکی فوجی کی جانب سے شمالی کوریا کی سرحد عبور کرنے کے بعد اس کے خلاف ادارتی کارروائی شروع کردی گئی ہے برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق امریکی فوجی شمالی کوریا کی تحویل میں ہے، فوجی کے سرحد عبور کرنے کے واقعے سے دونوں ممالک کے درمیان ایک نیا تنازعہ پیدا ہو گیا ہے۔

  • شمالی کوریا کا جاسوس سٹیلائٹ سمندر میں گر کر تباہ

    شمالی کوریا کا جاسوس سٹیلائٹ سمندر میں گر کر تباہ

    سئیول: شمالی کوریا کا جاسوس سٹیلائٹ سمندر میں گر کر تباہ ہوگیا۔

    باغی ٹی وی : جنوبی کوریا کے فوجی حکام کے مطابق شمالی کوریا کی جانب سے پہلا فوجی جاسوس سٹیلائٹ لانچ کرنے کا تجربہ ناکام ہوگیا ہے۔ سٹیلائٹ لانچ کے فوری بعد سمندر میں گر کرتباہ ہوگیا جس کا کچھ ملبہ برآمد کرلیا گیا ہے۔

    بھارت اور چین نےاپنے ملکوں میں ایک دوسرے کے صحافیوں کے ویزوں میں توسیع مسترد …

    ناکامی کے غیر معمولی طور پر فوری اعتراف کے بعد، شمالی کوریا نے یہ جاننے کے بعد کہ اس کے راکٹ اتارنے میں کیا غلطی ہوئی ہے، دوسرا لانچ کرنے کا عزم کیا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ کِم اپنے ہتھیاروں کے ذخیرے کو وسعت دینے اور واشنگٹن اور سیئول پر مزید دباؤ ڈالنے کے لیے پرعزم ہیں جب کہ سفارت کاری تعطل کا شکار ہے۔

    شمالی کوریا کا جاسوس سیٹلائٹ لانچ کرنے کا یہ چھٹا تجربہ تھا جبکہ پہلا تجربہ 2016 میں کیا گیا تھا۔ شمالی کوریا کے سٹیلائٹ تجربے کے وقت جنوبی کوریا کے دارالحکومت سئیول میں سائرن بجائے گئے جبکہ جاپان میں وارننگ جاری کی گئی تھی۔

    پاکستان میں غلطی سے میزائل فائرنگ کے واقعہ،حکومت کو 24 کروڑبھارتی روپے کا نقصان برداشت …

    شمالی کوریاکی طرف سےسیٹلائٹ لانچ کرنا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہےجو ملک پربیلسٹک ٹیکنالوجی پر مبنی کسی بھی لانچ کے انعقاد پر پابندی عائد کرتی ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کے پچھلے سیٹلائٹ لانچوں نے اس کی طویل فاصلے تک مار کرنے والی میزائل ٹیکنالوجی کو بہتر بنانے میں مدد کی، حالانکہ تازہ ترین لانچ ممکنہ طور پر جاسوس سیٹلائٹ کی تعیناتی پر زیادہ مرکوز تھی۔

    پاکستان اور بیلا روس کا مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے پراتفاق

    کئی سالوں کے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل تجربات کے بعد شمالی کوریا پہلے ہی ظاہر کر چکا ہے کہ اس کے پاس تمام امریکی سرزمین کو نشانہ بنانے کی صلاحیت ہے، حالانکہ بیرونی ماہرین کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا نے ابھی تک کام کرنے والے جوہری میزائل حاصل نہیں کیے ہیں۔

  • شمالی کوریا کا ایک اور بیلسٹک میزائل کا تجربہ

    شمالی کوریا کا ایک اور بیلسٹک میزائل کا تجربہ

    سئیول: شمالی کوریا کی جانب سے ایک اور بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا گیا جو جزیرہ نما کوریا اور جاپان کے پانیوں میں گرا۔

    باغی ٹی وی: "اے پی” کے مطابق جاپان نے میزائل تجربے کے بعد شمالی جزیرے ہوکائیڈو کے رہائشیوں کے لیے الرٹ جاری کیا تھا جو کہ اب واپس لے لیا گیا ہے جاپانی حکام کا کہنا ہے کہ ایمرجنسی وارننگ سسٹم نے غلط پیش گوئی کی تھی کہ شمالی کوریا کا میزائل ان کے جزیرے کے قریب گرے گا۔

    لیک ہونیوالی حساس امریکی دستاویزات میں چین کا روس کو مہلک ہتھیار فراہم کرنےکے ارادےکا …

    جاپان کے وزیراعظم فومیو کشیدا نے میزائل تجربے کے بعد قومی سلامتی کونسل کا ہم اجلاس طلب کرلیا ہے جاپان کے وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ میزائل جاپان کی حدود میں نہیں گرا، اس حوالے سے وہ مزید تفصیلات کے لیے میزائل تجربے کا تجزیہ کررہے ہیں۔

    دوسری جانب جنوبی کوریا کا کہنا ہے کہ میزائل تجربے کے بعد وہ ہائی الرٹ ہے اور اس سلسلے میں امریکا سے قریبی رابطے میں ہیں۔

    جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف نے کہا کہ میزائل شمالی کوریا کے دارالحکومت پیانگ یانگ کے قریب سے ایک اونچے زاویے سے داغا گیا اور 1000 کلومیٹر (620 میل) کی پرواز کے بعد جزیرہ نما کوریا اور جاپان کے درمیان پانی میں گرا۔

    اسرائیلی جاسوسی کمپنی نے کتنے ملکوں کو ٹارگٹ کیا،رپورٹ میں تہلکہ خیز انکشافات

    جوائنٹ چیفس آف سٹاف نے میزائل کو درمیانے یا طویل فاصلے تک مار کرنے والا قرار دیا۔ ریاستہائے متحدہ کی قومی سلامتی کونسل نے اسے طویل فاصلے تک مار کرنے والا میزائل اور جاپان کے وزیر دفاع نے ICBM کلاس ہتھیار قرار دیا۔

    واضح رہے کہ کچھ روز قبل شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نے کہا تھا کہ جنوبی کوریا کا مقابلہ کرنے کے لیے وہ زیادہ عملی اور جارحانہ انداز میں ملک کی جنگی مزاحمت کو مضبوط بنانے پر کام کریں گے۔

    یاد رہے کہ کچھ روز قبل شمالی کوریا کی جانب سے جوہری صلاحیت کے حامل زیر سمندر حملہ کرنے والے ڈرون کا ایک اور تجربہ کیا گیا تھا جبکہ 2022 میں شمالی کوریا نے ریکارڈ تعداد میں ہتھیاروں کے تجربات کیے تھے اوررواں برس بھی اس نے اپنی فوجی صلاحیت کو برقرار رکھا ہے۔

    میانمار میں فوج کی فضائی بمباری کے نتیجے میں 50 سے زائد افراد ہلاک

  • شمالی کوریا میں ہالی ووڈ فلموں پر پابندی

    شمالی کوریا میں ہالی ووڈ فلموں پر پابندی

    شمالی کوریا میں ہالی ووڈ فلموں پر پابندی لگا دی گئی حکام کی جانب سے والدین کو اپنے بچوں کو ہالی ووڈ فلمیں دیکھنے کی اجازت دینے کے سخت نتائج سے خبردار کیا گیا تھا۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی میڈیا کے مطابق شمالی کوریا میں اعلی سطح پرمتعدد اجلاس منعقد کیے گئے تاکہ والدین کو حکام کی جانب سے ان لوگوں کے خلاف عدم برداشت سے آگاہ کیا جا سکے جو اپنے بچوں کو مغربی مواد دیکھنے کی اجازت دیتے ہیں۔

    اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اس وارننگ کو مدنظر نہ رکھنے کی صورت میں غیر ملکی فلمیں یا ٹیلی ویژن پروگرام دیکھتے ہوئے، ناچتے یا گاتے پکڑے جانے والے بچے کے والد کو 6 ماہ کی مدت کے لیے لیبر کیمپ میں بھیج دیا جائے گا اور ان کے بچوں کو 5 سال کے لیے سماجی خدمات انجام دینے پر مجبور کیا جائے گا۔

    پیانگ یانگ کے حکام نے والدین سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے بچوں کو ریاست کے سوشلسٹ نظریات کے مطابق تعلیم دیں۔

    ایک ریاستی عہدیدار نےکہا کہ بچوں کی تعلیم گھر سے شروع ہوتی ہے۔ اگر والدین اپنے بچوں کو تعلیم نہیں دیں گے تو وہ سرمایہ داری کے لیے ناچیں گے اور گائیں گے اور سوشلسٹ نظریات کے مخالف ہو جائیں گے۔

    چند روز قبل شمالی کوریا میں اس سے بھی زیادہ عجیب و غریب اور چونکا دینے والا فیصلہ کیا گیا تھاحکام نے کہا تھا کہ جن لڑکیوں اور خواتین کے نام ’’کم جونگ ان‘‘ کی بیٹی کے نام جیسا یعنی ’’ جو اِی‘‘ ہے وہ اپنا نام تبدیل کر لیں ان ہدایات کےبعد لوگوں کو نام تبدیل کرنے پر مجبور کردیا گیا تھا۔

    رپورٹ میں شمالی پیونگن اور جنوبی پیونگن صوبوں کے دو گمنام ذرائع کے حوالےسےبتایا گیاہےکہ مقامی حکومتی اہلکاروں نے جیونگجو اور پیونگ سیونگ شہروں میں خواتین کو پیدائشی سرٹیفکیٹ پر اپنے نام تبدیل کرنے کا حکم دیا تھا حکام نے کہا کہ یہ نام اب "اعلیٰ ترین وقار اور اعلیٰ معیار” کے لوگوں کے لیے مخصوص ہے۔

    برطانوی اخبار "دی گارڈین” نے بتایا کہ شہریوں کے نام تبدیل کرنے کے احکامات جاری کرنا یا بعض ناموں کے نام رکھنے پر پابندی عائد کرنا اس الگ تھلگ ملک میں حکمران کم خاندان کی روایت ہے۔ اپنے اقتدار میں آنے سے ایک سال پہلے کم نے "جونگ اُن” نام رکھنے والوں کو اپنے پیدائشی سرٹیفکیٹس کو قانونی طور پر تبدیل کرنے کا حکم دے دیا تھا۔

  • شمالی کوریا کا طویل فاصلے تک مار کرنے والے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کا تجربہ

    شمالی کوریا کا طویل فاصلے تک مار کرنے والے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کا تجربہ

    شمالی کوریا نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق شمالی کوریا نے ہفتے کو دارالحکومت پیانگ یانگ کے قریب موجود سائٹ سے میزائل فائر کیا بیلسٹک میزائل 67 منٹ میں 900 کلومیٹر سے زیادہ کی پرواز کرنے کے بعد جاپان کے دریا میں گر گیا۔

    پیانگ یانگ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اس تجربے سے ظاہر ہوتا ہے کہ شمالی کوریا امریکا اور جنوبی کوریا جیسی دشمن قوتوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    دوسری جانب شمالی کوریا کی جانب سے جاپان کے مغربی ساحل کے قریب سمندر میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل Hwasong-15 کے تجربے کے ایک دن بعد امریکا اور جنوبی کوریا نے مشقیں کیں-

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق شمالی کوریا کی سرحد کے نزدیک ہونے والی امریکا اور جنوبی کوریا کی مشترکہ فوجی مشقوں میں جدید جنگی بمبار طیاروں نے حصہ لیا، اس مشترکہ فوجی مشق میں جنوبی کوریا کے F-35A اور F-15K جب کہ امریکا کے F-16 لڑاکا اور B-1B بمبار طیاروں نے حصہ لیا۔

    دوسری جانب جاپان نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ آج امریکا کے ساتھ ایک مشترکہ فضائی مشق کرے گا جس کا مقصد اپنی ریاست کو محفوظ بنانے کے لیے دفاعی قوت کو مضبوط بنانا ہے۔

    1999 کےزلزلے میں پیدا ہونیوالا نوجوان 2023 کے زلزلے میں جاں بحق ہو گیا

    شمالی کوریا نے جنوبی کوریا، امریکا اور جاپان کی سالانہ فوجی مشقوں کے باعث ہی دو روز قبل بین البراعظمی بیلسٹک میزائل تجربہ بطور انتباہ کیا تھا جسے جنوبی کوریا اور جاپان خاطر میں نہ لائے۔

    جاپان نے شمالی کوریا کی جارحیت پسند فوجی پالیسیوں اور جنگی تیاریوں کے باعث اپنے دفاعی بجٹ میں کئی گنا اضافہ کردیا ہے جب کہ جنوبی کوریا اور امریکا نے شمالی کوریا کو جنگی عزائم سے باز رکھنے کے لیے انتباہ کیا-

    پیانگ یانگ نے دھمکی دی ہے کہ شمالی کوریا پر حملہ کرنے کی تیاری کے سلسلے میں شروع ہونے والی ایسی کسی بھی مشقوں کے خلاف بھرپور جوابی کارروائی کریں گے۔

    برطانوی اخبار نے مودی حکومت کا گھناؤنا چہرہ بے نقاب کردیا

  • شمالی کوریا نے  بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کی نمائش کر دی

    شمالی کوریا نے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کی نمائش کر دی

    پیانگ یانگ: شمالی کوریا نے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل پیش کر دیا-

    باغی ٹی وی : شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا کے مطابق بدھ کی رات شمالی کوریا کی فوج کی 75 ویں یوم تاسیس کی تقریبات ہوئیں جس کی پریڈ میں رہنما کم جونگ ان اپنی اہلیہ اور بیٹی کے ساتھ شریک ہوئے۔

    فوجی پریڈ کے دوران بین البراعظمی بیلسٹک میزائلوں (ICBMs) اور دیگر ہتھیاروں کی نمائش کی ہے اور انہیں ملک کے ’’سب سے بڑے‘‘ جوہری حملے کی صلاحیت کا حامل قرار دیا ہے۔

    فوجی پریڈ میں مختلف قسم کے جوہری صلاحیت والے ہتھیار، جن میں ٹیکٹیکل نیوکلیئر میزائل اور ICBM شامل تھےنمائش میں موجود سسٹمز میں ملک کا سب سے بڑا ICBM ،Hwasong-17 شامل تھا-

    تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ یہ ایک نیا ٹھوس ایندھن ICBM ہو سکتا ہے شمالی کوریا کی فوجی پریڈوں کو دیر ممالک کی حکومتیں اور ماہرین قریب سے دیکھتے ہیں کیونکہ ان میں اکثر نئے تیار کردہ ہتھیاروں کی نمائش ہوتی ہے۔

    ٹھوس ایندھن والے میزائلوں کو مائع ایندھن والے میزائلوں سے زیادہ تیزی سے لانچ کیا جا سکتا ہے، جن کا دفاع کرنا مشکل ہے۔

    تاہم، کم کی حکومت نے کبھی بھی طویل فاصلے تک مار کرنے والے ٹھوس ایندھن والے میزائلوں کا کامیاب تجربہ نہیں کیا۔

    کارنیگی اینڈومنٹ فار انٹرنیشنل پیس کے جوہری پالیسی کے ماہر انکیت پانڈا نے کہا، "یہ شمالی کوریا کے جوہری جدید بنانے کے اہم اہداف میں سے ایک ہے۔”

    انہوں نے بی بی سی کو بتایا ہمیں آنے والے مہینوں میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے ٹھوس ایندھن کے میزائلوں کے پہلے فلائٹ ٹیسٹ دیکھنے کی توقع کرنی چاہیے۔”

    انہوں نے مزید کہا کہ شمالی کوریا کے ICBM ہتھیاروں کی توسیع نے تنازعہ میں امریکہ کے لیے ممکنہ طور پر "سنگین فوجی منصوبہ بندی کے چیلنجز” پیش کیے ہیں، کیونکہ امریکہ کے لیے شمالی کوریا کے تمام موبائل ICBMs کو تلاش کرنا اور تباہ کرنا مشکل ہو گا۔

    یہ پریڈ اقوام متحدہ کی اقتصادی پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شمالی کوریا کی جانب سے میزائل تجربے کے ریکارڈ سال کے بعد منعقد کی گئی ہے۔ اس کی وجہ سے جزیرہ نما کوریا میں کشیدگی کے کئی بھڑک اٹھے ہیں۔

  • سانس لینے کی پُراسرار بیماری، شمالی کوریا کے دارالحکومت میں 5 دن کا لاک ڈاؤن نافذ

    سانس لینے کی پُراسرار بیماری، شمالی کوریا کے دارالحکومت میں 5 دن کا لاک ڈاؤن نافذ

    پیانگ یانگ: شمالی کوریا کے دارالحکومت میں سانس لینے کی پُراسرار بیماری کے باعث 5 دن کے لیے لاک ڈاؤن لگا دیا گیا۔

    باغی ٹی وی: این کے نیوز کے مطابق، شمالی کوریا نے سانس کی غیر متعینہ بیماری کے بڑھتے ہوئے معاملات کے درمیان دارالحکومت پیانگ یانگ کو پانچ دن کے لاک ڈاؤن کا حکم دیا ہے۔

    قرآن مجید کی بے حرمت: ترک صدر کا سوئیڈن کی نیٹو میں شمولیت کی کسی صورت حمایت نہ کرنے کا اعلان

    ایک سرکاری اعلان کا حوالہ دیتے ہوئے، سیول میں قائم آؤٹ لیٹ، جو شمالی کوریا کے بارے میں رپورٹ کرتا ہے، نے کہا کہ شمالی کوریا کے دارالحکومت پیانگ یانگ میں شہریوں کو دن میں متعدد بار بخار چیک کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے 5 دن کے لیے مکمل لاک ڈاؤن نافذ کردیا گیا۔

    حکومتی حکم نامے میں کورونا وائرس کا نام لیے بغیر کہا گیا ہے کہ سانس لینے میں تکلیف کی ایک بیماری تیزی سے پھیل رہی ہے۔ اس لیے آئندہ پانچ روز تک شہری خود کو اپنے گھروں تک محدود کرلیں۔

    منگل کو، این کے نیوز نے اطلاع دی لاک ڈاؤن کے نفاذ کے اعلان کے بعد ہی شہریوں کی بڑی تعداد نے اشیائے ضروریہ کی خریداری کے لیے بازاروں کا رخ کیا جہاں افراتفری پھیل گئی اور بھیڑ کے باعث شہریوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔

    گھروں میں کھانے پینے کی اشیا کا ذخیرہ کرنے والے شہریوں نے بتایا کہ لاک ڈاؤن میں اضافہ کا امکان بھی ہے اس لیے زیادہ سے زیادہ چیزوں کا ذخیرہ کر رہے ہیں۔

    کرونا وائرس پھیلاؤ کے پیش نظر سی اے اے کی جانب سے نئے احکامات جاری

    سرکاری میڈیا نے فلو سمیت سانس کی بیماریوں سے لڑنے کے لیے انسداد وبائی اقدامات کے بارے میں رپورٹنگ جاری رکھی ہے، لیکن ابھی تک لاک ڈاؤن آرڈر کی اطلاع نہیں دی ہے۔

    این کے نیوز نے نوٹ کیا کہ حالیہ دنوں میں، پیانگ یانگ کے رہائشیوں نے نئے قمری سال کے موقع پر ہونے والی تقریبات میں چہرے کے ماسک پہنے ہوئے تھے، ان میں سے کچھ ڈبل ماسکنگ یا اعلی درجے کے ماسک پہنے ہوئے تھے۔

    منگل کے روز، سرکاری خبر رساں ایجنسی کے سی این اے نے کہا کہ جنوبی کوریا کی سرحد کے قریب واقع شہر کائیسونگ نے عوامی رابطہ مہم کو تیز کر دیا ہے تاکہ "تمام کام کرنے والے لوگ اپنے کام اور زندگی میں رضاکارانہ طور پر انسداد وبا کے ضوابط کا مشاہدہ کریں-

    خیال رہے کہ شمالی کوریا نے کورونا کے آغاز پر ہی اپنی سرحدیں بند کردی تھیں اور خود کو کورونا سے محفوظ بتایا تھا تاہم گزشتہ برس کورونا کے پہلے کیس کی تصدیق کی تھی اور اس وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد کی تصدیق نہیں کی اسی سال اگست میں اس پر قابو پانے کا دعویٰ بھی کیا تھا۔

    عالمی ادارۂ صحت نے پھر کورونا خطرےکی گھنٹی بجا دی

    شمالی کوریا میں میڈیا پر سخت پابندیوں کے باعث کورونا سے متعلق ان معلومات پر کسی نے بھروسہ نہیں کیا تھا اور ماہرین نے کہا تھا کہ جیسا بتایا جا رہا ہے ویسا ممکن ہی نہیں، اصل حقائق کچھ اور ہیں۔

    یاد رہے کہ اسی دوران شمالی کوریا کے حکمراں کم جونگ اُن کافی عرصے کے لیے منظر عام سے غائب ہوگئے تھے اور جب میڈیا کے سامنے آئے تو کافی کمزور دکھائی دے رہے تھے۔ ان کا وزن بھی آدھا ہوگیا تھا۔

    بعد ازاں کم جونگ اُن میڈیا کے سامنے جب بھی آئے، اپنی بہن کو ساتھ لاتے تھے جس سے اس بات کو تقویت ملی کہ شاید اقتدار کا تاج بہن کے سر سجے گا تاہم بعد میں وہ اپنی صاحبزادی کو ساتھ لانے لگے۔

  • شمالی کوریا کا مزید 3 بیلسٹک میزائل کا تجربہ:اقوام متحدہ ،ترکی،جاپان اورامریکہ کی طرف سے مذمت

    شمالی کوریا کا مزید 3 بیلسٹک میزائل کا تجربہ:اقوام متحدہ ،ترکی،جاپان اورامریکہ کی طرف سے مذمت

    سئیول:شمالی کوریا نے جاپان کی ساحلی حدود کی جانب مختصر فاصلے تک مار کرنے والے مزید 3 بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا ہے۔ دوسری طرف امریکہ ، جاپان اور ترکی سمیت دیگر کئی ملکوں نے ان میزائل تجربات کی مذمت کی ہے

    غیرملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق شمالی کوریا نے بحیرہ جاپان کی طرف تین مختصر فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل فائر کیے ہیں۔ جاپان کی وزارت دفاع نے کہا کہ پہلا بیلسٹک میزائل ہفتہ کی صبح مقامی وقت کے مطابق صبح 8:00 بجے جبکہ دوسرا تقریباً 08:14 بجے اور تیسرا میزائل ایک منٹ کے بعد ہی فائر کیا گیا۔

    تینوں میزائل دارالحکومت پیانگ یانگ کے مضافاتی علاقوں سے فائر کیے گئے اور 100 کلومیٹر (62 میل) کی بلندی پر پہنچے اور اندازے کے مطابق 350 کلومیٹر (217 میل) تک پرواز کی۔

    وزارت اور خبر رساں اداروں کے مطابق میزائل جاپان کے خصوصی اقتصادی زون سے باہر یعنی بحیرہ جاپان میں گرے۔ وزارت نے کہا کہ میزائلوں کے پرواز کے راستے کے آس پاس کے ہوائی جہازوں اور بحری جہازوں کو انتباہی معلومات فراہم کی گئیں لیکن “اس وقت” کوئی واقعہ رپورٹ نہیں ہوا۔

    ترکی نے شمالی کوریا کے بیلسٹک میزائل تجربے کی مذمت کی ہے۔وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کردہ تحریری بیان میں کہا گیا ہے کہ شمالی کوریا کا بیلسٹک میزائل تجربہ اب سے پہلے کے تجربات کی طرح اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے فیصلوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ "ایک تواتر سے فائر کئے جانے والے یہ میزائل اس بات کی کھلی عکاسی کرتے ہیں کہ شمالی کوریا بین الاقوامی ذمہ داریوں کے ساتھ غیر ہم آہنگ روّیے پر مصر ہے” ۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ” شمالی کوریا کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے فیصلوں کی پابندی کرنے اور علاقے میں مزید تناو پیدا کرنے والے ہر نوعیت کے روویوں سے دُور رہنا چاہیے”۔

    اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گٹرس نے بھی شمالی کوریا کے طویل مسافت اور بین البراعظمی بیلسٹک میزائل تجربے کی مذمت کی ہے اور پیانگ یانگ انتظامیہ سےتحریکی کاروائیاں بند کرنے کی اپیل کی ہے۔گٹرس نے بین الاقوامی برادری سے اس سنجیدہ سطح کے امتحان کے مقابل متحد ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ شمالی کوریا کا نیا میزائل تجربہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے فیصلوں کی نہایت ڈھٹائی کے ساتھ کی گئی خلاف ورزی ہے اور اس اقدام کے پیدا کردہ تناو میں خطرناک شکل میں اضافہ ہو گا۔

    امریکہ کے وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے بھی موضوع سے متعلق جاری کردہ تحریری بیان میں کہا ہے کہ تمام ممالک کا شمالی کوریا کو جوہری اسلحے کے حصول کے نتائج سے آگاہ کرنا ضروری ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ شمالی کوریا کے تحریکی اقدامات کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے سامنے پیش کرنے اور کوریا ڈیموکریٹک عوامی جمہوریہ سے حساب پوچھنے کے لئے ہم زیادہ سخت تدابیر اختیار کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

    امریکہ کی وزارت دفاع پینٹاگون کی ترجمان ڈانا وائٹ نے بھی اپنے تحریری بیان میں پیانگ یانگ انتظامیہ کے بین البراعظمی میزائل تجربے کی مذمت کی ہے۔وائٹ نے کہا ہے کہ امریکہ علاقے پر بغور نگاہ رکھے ہوئے ہے اور یہ تجربہ شمالی کوریا کے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لئے کھلا خطرہ بننے کی عکاسی کرتا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ ہم نے اپنی ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت کو دکھانے کے لئے جمہوریہ کوریا کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں کی ہیں۔

    دوسری طرف میزائل تجربے کی وجہ سے امریکہ، جاپان اور جنوبی کوریا نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے۔اجلاس آج مقامی وقت کے مطابق شام 3 بجے منعقد ہو گا۔واضح رہے کہ شمالی کوریا نے کل طویل مسافت کے بین الاقوامی بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

  • شمالی کوریا کا ایک بار پھرخطرناک بیلسٹک میزائل کا تجربہ

    شمالی کوریا کا ایک بار پھرخطرناک بیلسٹک میزائل کا تجربہ

    پیانگ یانگ: شمالی کوریا نے سولڈ فیول موٹر راکٹ کے بعد جاپان اور جنوبی کوریا کے نزدیک ساحلی علاقے میں ایک بار پھر خطرناک بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا ۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق جنوبی کوریا اور جاپان کی لگاتار شکایتوں اور عالمی دباؤ کے باوجود شمالی کوریا کے خطرناک جنگی ہتھیاروں کے تجربات کا سلسلہ تھم نہ سکا شمالی کوریا نے اتوار کے روز اپنے مشرقی ساحل کے پانیوں میں دو بیلسٹک میزائل فائر کیے، جو کم جونگ اُن کی حکومت کی جانب سے تجربات کے لیے ایک ریکارڈ سال رہا ہے۔

    ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نےزندگی کیلئے موافق سیاروں کا ایک جتھہ دریافت کر لیا

    رواں برس اب تک کے سب سے بڑے بین الابراعظمی بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا تھا جو امریکا تک مار کر سکتا ہے جس کے بعد سولٖ فیول موٹر راکٹ کا تجربہ بھی کیا تھا ایک ایسی پیشرفت جس کی وجہ سے کم کی حکومت مستقبل میں بین البراعظمی بیلسٹک میزائل (ICBM) کو زیادہ تیزی اور قابل اعتماد طریقے سے فائر کرنے کے قابل ہو سکتی ہے۔

    شمالی کوریا کا آخری معلوم میزائل تجربہ 18 نومبر کو کیا گیا تھا، جب اس نے Hwasong-17 ICBM لانچ کیا تھا۔

    شمالی کوریا ایک بار پھر اپنے ساحلی علاقے میں دو بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا۔ میزائلوں نے اپنے اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔یہ میزائل جنوبی کوریا اور جاپان کی جانب گرے۔

    جنوبی کوریا اور جاپان نے شمالی کوریا کی جانب سے ایک بار پھر بیلسٹک میزائل کے تجربے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے عالمی برادری سے اس کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

    امریکا نے بھی شمالی کوریا کے بیلسٹک میزائل تجربے کی مذمت کرتے ہوئے خطے میں کسی قسم کی جارحیت کو عالمی امن کے لیے خطرہ قرار دیا۔

    زمین پر پانی کی پیمائش کیلئےاہم مشن پر روانہ

    جاپانی حکام نے کہا کہ اتوار کو فائر کیے گئے میزائل 550 کلومیٹر (342 میل) کی بلندی پر پہنچے اور 500 کلومیٹر (311 میل) کی دوری تک پرواز کی، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک ہتھیار نہیں تھے۔

    جاپان کے نائب وزیر دفاع توشیرو انو نے کہا کہ میزائل سمندر میں گرے اور ابھی تک اس علاقے میں ہوائی جہاز یا بحری جہاز کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جاپانی حکومت نے سفارتی ذرائع سے شمالی کوریا کے ساتھ احتجاج درج کرایا ہے۔

    جنوبی کوریا کی فوج نے ان کی شناخت MRBMs – درمیانی فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل کے طور پر کی۔ اس نے لانچوں کو "ایک سنگین اشتعال انگیزی قرار دیا جو جزیرہ نما کوریا کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی برادری کے امن اور استحکام کو نقصان پہنچاتا ہے اور فائرنگ کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی واضح خلاف ورزی قرار دیا۔

    جنوبی کوریا اور امریکہ دونوں نے شمالی کوریا پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے میزائل تجربات کو فوری طور پر روکے۔

    کارنیگی اینڈومنٹ فار انٹرنیشنل پیس کے جوہری پالیسی کے ماہر انکت پانڈا نے گزشتہ ہفتے سی این این کو بتایا کہ اس سال ٹیسٹنگ کی رفتار سے پتہ چلتا ہے کہ پیانگ یانگ ایک میزائل طاقت کے طور پر ابھرا ہے۔

    چین اور شمالی کوریا کی دھمکیوں کے پیش نظر جاپان کی دفاعی اورسیکورٹی پالیسی میں بڑی…

    پانڈا نے کہا شمالی کوریا اس سال مختلف سائز کے میزائلوں اور پرزوں کا تجربہ کر رہا ہے بڑی تصویر یہ ہے کہ شمالی کوریا لفظی طور پر بڑے پیمانے پر میزائل قوتوں کے ایک نمایاں آپریٹر میں تبدیل ہو رہا ہے۔

    خیال رہے کہ شمالی کوریا نے 2006 سے 2017 کے درمیان 6 جوہری تجربات کیے تھے اور اب ساتویں ٹیسٹ کی تیاری مکمل کر لی ہے اور اس وقت طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل کی ایک نئی قسم ہواسونگ-17 تیار کر رہا ہے۔

    ہواسونگ-17 میزائل اپنی طاقت اور صلاحیت کے اعتبار سے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل سے بھی بڑا ہوگا جو متعدد وار ہیڈز لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور جس کا دفاع کرنا کسی بھی ملک کے لیے مشکل ہوگا۔

    واضح رہے کہ شمالی کوریا کے جوہری ہتھیاروں کی تیاری اور خطرناک میزائلوں کے تجربات کے پیش نظر جاپان نے گزشتہ روز ہی اپنے دفاعی بجٹ میں تاریخی اضافے اور بڑے پیمانے پر ہتھیاروں کی تیاری کا اعلان کیا تھا۔

    امریکی سینیٹ میں تاریخ کا سب سے بڑادفاعی بجٹ منظور