Baaghi TV

Tag: شوبز

  • بھارتی کامیڈین بھارتی سنگھ نے اپنا وزن  کم کرلیا

    بھارتی کامیڈین بھارتی سنگھ نے اپنا وزن کم کرلیا

    بھارتی کامیڈین اور ٹی وی میزبان بھارتی سنگھ نے اپنا وزن 15 کلوکم کر لیا-

    بھارتی سنگھ نے اپنے وزن میں کمی تقریباً 10 ماہ میں کی، جس میں انہوں نے اپنے طرز زندگی میں سادہ اور مؤثر تبدیلیاں کیں،بھارتی سنگھ نے اپنے وزن کم کر نے کا راز وقفے وقفے سے روزہ رکھنے کو قرار دیا انہوں نے بتایا کہ وہ ہر دن شام 7 بجے سے لے کر دوپہر 12 بجے تک کچھ نہیں کھاتیں اور پھر دوپہر میں کھانا شروع کرتی ہیں، اس طریقہ کار کو ”وقفے وقفے سے روزہ“ یا انٹرمیٹنٹ فاسٹنگ کہا جاتا ہے، جو وزن کم کرنے کے لیے ایک مؤثر طریقہ سمجھا جاتا ہے۔

    بھارتی سنگھ کے مطابق اس عمل نے نہ صرف ان کے وزن میں کمی کی بلکہ ان کی مجموعی صحت میں بھی بہتری لائی اور وہ اب خود کو زیادہ توانائی سے بھرپور اور صحت مند محسوس کرتی ہیں،وزن کم کرنے کے دوران انہوں نےاپنی کسی بھی پسندیدہ خوراک کو ترک نہیں کیا، بلکہ اعتدال میں رہ کر کھانے کا اہتمام کیا پور شن کنٹرول یعنی کھانے کی مقدار پر قابو پانے کی مشق بھی ان کی کامیابی میں اہم ثابت ہوئی اس کے علاوہ، بھارتی سنگھ نے کھانے کے اوقات کی پابندی کرنے کو بھی اہم قرار دیا، جو ان کی وزن کم کرنے کی کوششوں میں مددگار ثابت ہوا۔

    ماں اور دو بچے تالاب میں ڈوب کر جاں بحق

    انہوں نے ایک انٹرویو میں کہا کہ میں نے اپنا وزن 91 کلو سے کم کر کے 76 کلوگرام کر لیا ہے میں اس بات پر بھی حیران ہوں کہ میں نے اتنا وزن کم کر لیا ہے لیکن میں خوش ہوں کہ میں اب صحت مند اور فٹ محسوس کر رہی ہوں مجھے اب سانس لینے میں کوئی مشکل نہیں ہوتی اور مجھے ہلکا سر محسوس ہوتا ہے میری ذیابیطس اور دمہ بھی کنٹرول میں ہے

    انہوں نے انکشاف کیا کہ میں بہت خوش ہوں کہ اب پتلی ہو گئی ہوں کراپ ٹاپس اپنے سائز میں ملنا بہت مزہ دیتا ہے اب مجھے اچھے کپڑے مل جاتے ہیں، جو پہلے نہیں ملتے تھے وزن کم کرنا صرف خوشی کا وعدہ نہیں کرتا، بلکہ یہ آپ کی صحت کو بہتر بنا سکتا ہے، جس کے نتیجے میں آپ اپنے بارے میں اچھا محسوس کر سکتے ہیں۔

    مہاراشٹرا سیکیورٹی بل مودی سرکار کی جمہوریت کو دبانے کی ایک اور سازش

    تاہم وزن کم کرنے کا ہر فرد کا سفر مختلف ہوتا ہے اور ہو سکتا ہے کہ آپ کو وہی نتائج نظر نہ آئیں جو بھارتی سنگھ نے کیا ہے وزن کم کرنے کے عمل میں احتیاط ضروری ہے اور ہر شخص کے جسم کی ضروریات مختلف ہوتی ہیں، اس لیے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا بہت ضروری ہے۔

  • حمیرا اصغر کی موت کیسےہوئی ؟پولیس کی تحقیقاتی ٹیم تشکیل

    حمیرا اصغر کی موت کیسےہوئی ؟پولیس کی تحقیقاتی ٹیم تشکیل

    اداکارہ حمیرا اصغر کی موت کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی گئی۔

    کراچی کے پوش علاقے ڈیفنس فیز 6 میں ایک فلیٹ سے معروف ماڈل و اداکارہ حمیرا اصغر کی لاش برآمد ہونے کے واقعے کی تحقیقات کا عمل جاری ہے، وہ گزشتہ 7 سال سے اس کرائے کے فلیٹ میں مقیم تھیں ایس ایس پی ساؤتھ نے واقعے کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے ایس پی کلفٹن کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

    تحقیقاتی کمیٹی اس بات کا تعین کرے گی کہ آیا اداکارہ کی موت طبعی تھی، حادثاتی، خود کشی کا نتیجہ تھی یا یہ کوئی قتل کا واقعہ ہے کمیٹی شواہد جمع کرکے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہےتحقیقاتی ٹیم میں ایس ڈی پی او ڈیفنس، اے ایس پی ندا جنید، ایس ایچ او گزری فاروق سنجرانی، سب انسپکٹر محمد امجد اور آئی ٹی برانچ سے پولیس کانسٹیبل محمد عدیل شامل ہیں،ٹیم کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر حکام کو تفتیش سے متعلق پیش رفت سے آگاہ کرے۔

    پاکستان میں 2025 اور اس کے بعد مزید ترقی کی توقع ہے،آئی ایم ایف

    ذرائع کے مطابق، پولیس نے حمیرا اصغر کے زیر استعمال تین موبائل فون، ایک لیپ ٹاپ اور آئی پیڈ کا ڈیٹا حاصل کرلیا ہے جنہیں تفتیش کے لیے کھول دیا گیا ہے،تحقیقاتی ٹیم نے اب تک دو افراد کے بیانات قلمبند کرلیے گئے ہیں، جبکہ مزید دو افراد کو طلب کیا گیا ہےپولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے اور کسی بھی نتیجے پر پہنچنے سے قبل تمام شواہد کا مکمل تجزیہ ضروری ہے۔

    تاجک سوشل میڈیا اسٹار کی چوری کے الزام میں دبئی ائیرپورٹ پر گرفتاری و رہائی

  • تنہا رہنے والے فنکاروں کے لیے واٹس ایپ گروپ بنا لیا، طوبیٰ انور

    تنہا رہنے والے فنکاروں کے لیے واٹس ایپ گروپ بنا لیا، طوبیٰ انور

    اداکارہ طوبیٰ انور نے بتایا ہے کہ حال ہی میں گھر میں مردہ پائی گئی اداکارہ حمیرا اصغر کی موت کے بعد تنہا رہنے والی اداکاراؤں کی حفاظت اور ان سے رابطے میں رہنے کے لیے واٹس ایپ پر گروپ بنا لیا گیا۔

    حمیرا اصغر کی لاش 8 جولائی کو کراچی کے علاقے ڈی ایچ اے کے کرائے کے فلیٹ سے ملی تھی، جہاں وہ 2018 سے تنہا رہائش پذیر تھیں، پولیس اور ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق اداکارہ کی لاش 9 ماہ تک پرانی تھی حمیرا اصغر کی تدفین 11 جولائی کو آبائی شہر لاہور میں کردی گئی تھی حمیرا اصغر کی موت کے بعد شوبز کی سینئر اداکاراؤں نے کراچی میں تنہا رہنے والی اداکاراؤں کی حفاظت، ان سے رابطے میں رہنے اور انہیں مدد فراہم کرنے کے لیے فوری طور پر وا ٹس ایپ گروپ بنا دیا۔

    اداکارہ طوبیٰ انور نے ایک انٹرویو کے دوران انکشاف کیا ہے کہ شوبز انڈسٹری سے وابستہ چند اداکاراؤں نے مل کر ایک واٹس ایپ گروپ تشکیل دیا ہے جس کا مقصد ایک دوسرے کی ذہنی صحت کے بارے میں باقاعدگی سے رابطے میں رہنا اور ایک دوسرے کی خیریت دریافت کرنا ہے۔

    اداکارہ کا کہنا تھا کہ یہ اقدام اداکارہ حمیرہ علی کی افسوسناک موت کے بعد اُٹھایا گیا ہے جو مبینہ طور پر تنہائی کا شکار تھیں اور انہیں سماجی سپورٹ حاصل نہیں تھی ایسی بہت سی اداکارائیں ہیں جو اپنے گھروں سے دور کام کیلئے رہتی ہیں ان سب کو اس گروپ میں شامل کیا جارہا ہے حمیرا کی موت نے انڈسٹری میں ذہنی صحت اور باہمی تعاون کی اہمیت پر توجہ دلوائی ہے،گروپ کے ضوابط کے تحت تنہا یا اہل خانہ کے بغیر کراچی میں رہنے والی اداکاراؤں کی ہفتہ وار اٹینڈ س چیک کی جائے گی جب کہ انہیں ذہنی صحت سمیت مالی مشکلات کے حوالے سے بھی مدد فراہم کی جائے گی۔

    طوبیٰ انور نے کہا کہ اس گروپ کے ذریعے اداکارائیں نہ صرف اپنے خیالات کا تبادلہ کرتی رہیں گی بلکہ ایک دوسرے کو سپورٹ کرنے کی کوشش بھی کریں گی تاکہ کوئی تنہائی کا شکار نہ ہو کیونکہ ان کی بھی بہت سی ایسی دوستیں ہیں جو کسی اور شہر سے کام کے سلسلے میں آئی ہوئی ہیں اور حمیرا کی موت کا اُن پر گہرا اثر پڑا ہے۔

    واضح رہے کہ شوبز کی دنیا میں دباؤ، مقابلہ اور تنہائی عام مسائل ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے اس قسم کے اقدامات کو خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے، کراچی میں درجنوں اداکارائیں اور اداکار اہل خانہ کے بغیر رہتے ہیں، جس میں سے متعدد اداکار ایک دوسرے کے ساتھ رہتے ہیں، تاہم بہت سارے اداکار تنہا بھی رہتے ہیں،نہ صرف شوبز بلکہ میڈیا انڈسٹری سے لے کر دوسرے شعبہ جات سے تعلق رکھنے والی نوجوان لڑکیاں، خواتین اور لڑکے بھی کراچی جیسے بڑے شہر میں تنہا رہتے ہیں۔

  • اداکارہ حمیرا اصغر کی نماز جنازہ ادا کردی گئی

    اداکارہ حمیرا اصغر کی نماز جنازہ ادا کردی گئی

    اداکارہ حمیرا اصغر کی میت گھر کے بجائے سیدھا قبرستان لائی گئی وہیں نماز جنازہ ادا ہوئی اور تدفین کردی گئی۔

    اطلاعات کے مطابق مرحومہ حمیرا اصغر کی نماز جنازہ بعد نماز عصر قبرستان میں ہی ادا کی گئی اور تدفین کردی گئی، ان کی میت گھر نہیں لائی گئی بلکہ براہ راست قبرستان لائی گئی،اداکارہ کی آخری آرام گاہ لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن کے کیو بلاک کے قبرستان میں بنائی گئی جہاں تدفین ہوئی اس موقع پر خاندان کے قریبی افراد، عزیز و اقارب اور شوبز انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے چند قریبی ساتھیوں نے شرکت کی۔

    اداکارہ کی اچانک اور پُراسرار موت سے ان کے مداح اور ساتھی فنکار شدید رنج و غم میں مبتلا ہیں اداکارہ کی وفات پر فنکاروں کی جانب سے گہرے دکھ کا اظہار کیا جا رہا ہے حمیرا اصغر کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ ان کی لاش ایک یا دو ماہ نہیں بلکہ 8 سے 10 ماہ پرانی ہے اور بالکل گل سڑ چکی ہے ان کی کوئی ہڈی ٹوٹی ہوئی نہیں ملی جبکہ کسی قسم کے تشدد یا زیادتی کے نشانات بھی نہیں پائے گئے، لاش مکمل طور پر ڈی کمپوزیشن کے آخری مراحل میں تھی اور چہرے سمیت جسم کے کئی حصے پٹھوں سے خالی تھے۔

    ریلوے کے تمام گیسٹ ہاؤسز کو آؤٹ سورس کرنے کا فیصلہ

    واضح رہے کہ چند دن قبل اداکارہ حمیرا اصغر کی لاش ان کے فلیٹ سے برآمد ہوئی تھی،ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) جنوبی سید اسد رضا نے بتایا تھا کہ پولیس ٹیم نے جب فلیٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا تو اندر سے کوئی جواب نہیں ملا، جس کے بعد دروازہ توڑ کر داخل ہونے پر اداکارہ کی لاش ملی تھی۔

    پوسٹ مارٹم کرنے والی پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید کے مطابق لاش گلنے سڑنے کے انتہائی مرحلے میں داخل ہو چکی تھی اور اس قدر مسخ ہو گئی تھی کہ فوری طور پر موت کی وجہ بیان کرنا ممکن نہیں،پولیس اداکارہ کی موت کی وجہ کا تعین کرنے کے لیے تفتیش جاری رکھے ہوئے ہے-

    نعمان اعجاز کا حمیرا اصغر کی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کیے جانے پر افسوس کا اظہار

  • نعمان اعجاز کا حمیرا اصغر کی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کیے جانے پر افسوس کا اظہار

    نعمان اعجاز کا حمیرا اصغر کی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کیے جانے پر افسوس کا اظہار

    اداکارہ و ماڈل حمیرا اصغر کی افسوسناک موت کے بعد سوشل میڈیا پر ان کی تصاویر اور ویڈیوز کے وائرل ہونے پر سینئر اداکار نعمان اعجاز نے شدید افسوس کا اظہار کیا ہے۔

    گزشتہ دنوں کراچی کے علاقے ڈیفنس کے ایک فلیٹ سے اداکارہ و ماڈل حمیرا اصغر کی بوسیدہ لاش ملی، ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ لاش تقریباً 8 سے 10 ماہ پرانی ہے، یہ واقعہ ہر شعبۂ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کو غمزدہ کر گیا ہے۔

    حال ہی میں سوشل میڈیا پر اداکارہ کی لاش اور فلیٹ کی کئی ایسی تصاویر اور ویڈیوز وائرل ہو رہی ہیں، جو انتہائی دردناک اور دل دہلا دینے والی ہیں، نعمان اعجاز نے اداکارہ حمیرا اصغر کی موت پر ردعمل دیتے ہوئے انسٹاگرام پوسٹ میں لکھا کہ براہِ کرم اداکارہ حمیرا اصغر علی کی ویڈیوز اور تصاویر شیئر کرنا بند کریں وہ چھ ماہ تک تکلیف میں رہیں اور کسی کے آنے اور انہیں پہچاننے کا انتظار کرتی رہیں، تاکہ انہیں ’مٹی کا سکون‘ مل سکے اور آپ سب ان کی ویڈیوز اور تصاویر شیئر کرکے ان کے گناہوں اور تکلیف میں مزید اضافہ کر رہے ہیں۔

    نعمان اعجاز نے لکھا کہ انہوں نے خود دیکھا کہ کس طرح چھیپا کے ڈرائیور نے ان کی میت کی ویڈیو شیئر کی،لوگ کتنے بے حس ہو گئے ہیں؟ اب وہ خود کے لیے بول بھی نہیں سکتیں، اسی لیے یہ پاگل پن بند کریں اور براہِ کرم ان کے لیے دعا کریں۔

  • حمیرا اصغر کو قتل کیا گیا ، شہری نے اندراج مقدمہ کیلئے عدالت سے رجوع کرلیا

    حمیرا اصغر کو قتل کیا گیا ، شہری نے اندراج مقدمہ کیلئے عدالت سے رجوع کرلیا

    اداکارہ حمیرا اصغر کی موت کو قتل قرار دیتے ہوئے شہری نے اندراج مقدمہ کے لیے عدالت سے رجوع کرلیا۔

    اداکارہ حمیرا اصغر کی لاش گھر سے ملنے کے واقعے کا مقدمہ درج کروانے کے لیے شہری نے سٹی کورٹ میں درخواست دائر کردی، شہری شاہز یب سہیل نے درخواست میں کہا ہے کہ حمیرا اصغر علی کی موت طبعی نہیں بلکہ انہیں قتل کیا گیا ہے، پولیس نے بھی واقعے کو تشویش ناک بتایا ہےحمیرا اصغر شوبز سے وابستہ بااثر شخصیت تھیں، اس واقعے کی وجہ سے لوگوں میں تشویش پائی جاتی ہے، اور وقوعہ کی ویڈیو دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے جیسا ان کا قتل کیا گیا ہو ، اداکارہ کے خاندان کا ان سے قطع تعلق بھی حیرت میں مبتلا کرتا ہے۔

    درخواست گزار کے مطابق عدالت سے استدعا ہے کہ مقدمے میں مرحومہ کے خاندان کو بھی نامزد کرکے تحقیقات کرائی جائیں،شہری شاہزیب سہیل نے درخواست میں ایس ایس پی ساؤتھ اور ایس ایچ او گزری کو فریق بنایا ۔

    لیاری میں غیر محفوظ عمارتوں کو خالی کروانے کا کام جاری ہے، شرجیل میمن

    واضح رہے کہ گزشتہ دنوں حمیرا اصغر کی لاش کراچی کے علاقے ڈیفنس میں ایک فلیٹ سے اُس وقت ملی تھی، جب پولیس عدالتی حکم پر مکان مالک کی شکایت پر فلیٹ خالی کرانے پہنچی تھی ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) جنوبی سید اسد رضا نے بتایا تھا کہ پولیس ٹیم نے جب فلیٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا تو اندر سے کوئی جواب نہیں ملا، جس کے بعد دروازہ توڑ کر داخل ہونے پر اداکارہ کی لاش ملی تھی۔

    پوسٹ مارٹم کرنے والی پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید کے مطابق لاش گلنے سڑنے کے انتہائی مرحلے میں داخل ہو چکی تھی اور اس قدر مسخ ہو گئی تھی کہ فوری طور پر موت کی وجہ بیان کرنا ممکن نہیں، پولیس اداکارہ کی موت کی وجہ کا تعین کرنے کے لیے تفتیش جاری رکھے ہوئے ہے۔

    خانہ کعبہ کو آب زم زم اور عرق گلاب سے غسل دینے کی تقریب

  • مومنہ اقبال نے جنس سے متعلق جعلی ویڈیو پر  خاموشی توڑ دی

    مومنہ اقبال نے جنس سے متعلق جعلی ویڈیو پر خاموشی توڑ دی

    اداکارہ مومنہ اقبال نے جنس سے متعلق جعلی ویڈیو پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ کسی لڑکی سے اس کے لڑکی ہونے کا ثبوت مانگنا ایک انتہائی دردناک لمحہ ہوتا ہے۔

    مومنہ اقبال نے حال ہی میں ’سمتھنگ ہاٹ‘ کو انٹرویو دیا، جس میں انہوں نے مختلف موضوعات پر کھل کر بات کی ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ انہیں ڈراموں میں منفی کردار ادا کرنے میں زیادہ مزہ آتا ہے کیونکہ ایسا کردار کچھ بھی کہہ سکتا ہے اور کچھ بھی کر سکتا ہے، جو کہ نہایت دلچسپ اور چیلنجنگ ہوتا ہےہوہ منفی کرداروں کے اسکرپٹس شوق سے پڑھتی ہیں اور اسی وقت یہ بھی طے کر لیتی ہیں کہ جملوں کو کس انداز میں ادا کرنا ہے۔

    انٹرویو میں مومنہ اقبال نے اس جعلی ویڈیو کا بھی ذکر کیا جو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی، اس ویڈیو میں انہیں اپنی جنس سے متعلق بات کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا، جس پر قیاس آرائیاں شروع ہوگئی تھیں کہ آیا وہ مکمل طور پر لڑکی ہیں یا نہیں، یہ ویڈیو اگست 2022 میں دیے گئے انٹرویو کے ایک کلپ کو ایڈٹ کرکے جعلی انداز میں وائرل کی گئی تھی، جسے 45 ملین سے زائد مرتبہ دیکھا گیا۔

    ویمن یونیورسٹی کی ویڈیو ٹک ٹاک پر شیئر کرنے کا الزام ،ڈپٹی کمشنر صوابی طلب

    ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ان کے پاس رپورٹرز کے فون آ رہے تھے اور وہ حیران تھیں کہ سب کو کیا جواب دیں اردگرد کے لوگ انہیں مشورہ دے رہے تھے کہ وہ وضاحت جاری کریں، لیکن انہوں نے سوچا کہ کیا ڈاکٹر کا نمبر دے دوں؟ یہ سب صورتحال بہت عجیب تھی÷اگر وہ واقعی ویسی ہوتیں تو قبول کر لیتیں، لیکن جب وہ ہیں ہی نہیں تو اس جھوٹ پر کیا ردعمل دیں؟ کسی لڑکی سے اس کے لڑکی ہونے کا ثبوت مانگنا ایک نہایت دردناک لمحہ ہوتا ہے۔

    جنوبی کوریا کے سابق صدر دوسری بار گرفتار

  • اداکارہ حمیرا اصغر علی کی موت اکتوبر 2024 میں واقع ہوئی،فرانزک اور ڈیجیٹل شواہد کی بنیاد پر تصدیق

    اداکارہ حمیرا اصغر علی کی موت اکتوبر 2024 میں واقع ہوئی،فرانزک اور ڈیجیٹل شواہد کی بنیاد پر تصدیق

    حکام نے فرانزک اور ڈیجیٹل شواہد کی بنیاد پر تصدیق کی ہے کہ اداکارہ اور ماڈل حمیرا اصغر علی کی موت اکتوبر 2024 میں واقع ہوئی تھی۔

    گزشتہ دنوں حمیرا اصغر کی لاش کراچی کے علاقے ڈیفنس میں ایک فلیٹ سے اُس وقت ملی جب پولیس عدالتی حکم پر مکان مالک کی شکایت پر فلیٹ خالی کرانے پہنچی،ڈی آئی جی جنوبی سید اسد رضا کے مطابق، پولیس ٹیم نے جب فلیٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تو اندر سے کوئی جواب نہیں ملا، جس کے بعد دروازہ توڑ کر داخل ہونے پر اداکارہ کی لاش ملی۔

    پوسٹ مارٹم کرنے والی پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید کے مطابق، لاش گلنے سڑنے کے انتہائی مرحلے میں داخل ہو چکی تھی اور اس قدر مسخ ہو گئی تھی کہ فوری طور پر موت کی وجہ بیان کرنا ممکن نہیں،لاش کی حالت دیکھ کر بظاہر اندازہ ہوتا ہے کہ موت ایک ماہ قبل واقع ہوئی ہوگی جبکہ پولیس کی جانب سے حمیرا اصغر کے فون ریکارڈز، سوشل میڈیا سرگرمیوں اور پڑوسیوں سے کی گئی تفتیش میں کوئی ایسا ثبوت نہیں ملا، جس سے ثابت ہو کہ وہ اکتوبر 2024 کے بعد زندہ تھیں۔

    حمیرا کی لاش چھ ماہ پرانی تھی،ڈی آئی جی ساؤتھ

    تفتیش سے معلوم ہوا کہ اداکارہ نے آخری فیس بک پوسٹ 11 ستمبر 2024 کو، جب کہ انسٹاگرام پر آخری پوسٹ 30 ستمبر 2024 کو کی تھی، پولیس اور صحافیوں سے بات کرنے والے پڑوسیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے اداکارہ کو ستمبر یا اکتوبر 2024 کے بعد دوبارہ نہیں دیکھا۔

    ڈی آئی جی پولیس سید اسد رضا نے تصدیق کی کہ حمیرا اصغر کا فون آخری بار اکتوبر 2024 میں استعمال ہوا اور آخری کال بھی اسی ماہ کی گئی تھی، کالنگ ریکارڈ کے مطابق آخری کال اکتوبر 2024 میں کی گئی، تاہم مزید تفصیلات نہیں بتائی گئیں،کیس کی تفتیش کرنے والے دو افسران نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اداکارہ کی موت کا اندازاً وقت اکتوبر 2024 ہے۔

    اسلام آبادپولیس پر حملہ کیس،عمران خان ذاتی حیثیت میں عدالت طلب

    ایک افسر کے مطابق، حمیرا کی لاش تقریباً نو ماہ پرانی ہے، ممکنہ طور پر وہ فلیٹ کا آخری یوٹیلیٹی بل ادا کرنے اور بجلی بند ہونے کے درمیانی عرصے میں وفات پا گئی ہوں، ممکنہ طور پر بل کی عدم ادائیگی کے باعث فلیٹ کی بجلی کاٹی گئی ہواداکارہ نے آخری بار مئی 2024 میں کرایہ ادا کیا تھا اور اکتوبر کے آخر میں کے الیکٹرک نے بجلی منقطع کر دی تھی۔

    دوسرے افسر نے بتایا کہ کچن میں موجود اشیا کی ایکسپائری تاریخ 2024 تھی اور برتنوں پر زنگ بھی واضح تھا،اسی منزل پر صرف ایک اور اپارٹمنٹ تھا جو اس وقت خالی تھا، جس کی وجہ سے لاش کے پتا چلنے میں تاخیر ہوئی،اس منزل کے دوسرے اپارٹمنٹ کے مکین فروری 2025 میں واپس آئے، تب تک بدبو کافی حد تک ختم ہو چکی تھی، عام طور پر دس سے پندرہ دن میں بدبو کم ہونا شروع ہو جاتی ہے اور فلیٹ کی بالکونی کا دروازہ بھی کھلا ہوا تھا،فلیٹ میں پانی کی پائپ لائنیں خشک اور زنگ آلود تھیں، نہ ہی کوئی متبادل بجلی کا ذریعہ تھا اور نہ ہی گھر میں موم بتیاں موجود تھیں۔

    پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید، جنہوں نے منگل کو پوسٹ مارٹم کیا، بدھ کے روز سینئر افسران کے ہمراہ دوبارہ جائے وقوعہ پر گئیں انہوں نے بتایا کہ جائے وقوعہ سے مختلف سطحوں سے نمونے حاصل کیے گئے ہیں جو لیبارٹری بھیج دیے گئے ہیں، تاہم انہوں نے مزید تبصرے سے گریز کیا۔

    دوسری جانب اداکارہ حمیرا اصغر کے بہنوئی نے ان کی میت وصول کرنے کے لیے حکام سے رابطہ کر لیا ہے ان کا کہنا ہے کہ مرحومہ کے والد اچانک انتقا ل کی خبر سن کر ڈپریشن میں چلے گئے تھے، اس لیے انہوں نے ابتدائی طور پر میت لینے سے انکار کیا، تاہم اب وہ رضامند ہو گئے ہیں اور جلد میت وصول کر نے آ رہے ہیں، پولیس نے بہنوئی کو ہدایت کی ہے کہ وہ کسی خونی رشتہ دار کے ہمراہ آئیں، کیونکہ متوفیہ کی لاش صرف خونی رشتہ دار کو ہی دی جائے گی۔

  • اداکارہ حمیرا اصغر کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آگئی

    اداکارہ حمیرا اصغر کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آگئی

    کراچی کے علاقے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) فیز سکس کے اتحاد کمرشل ایریا میں واقع ایک فلیٹ سے ملنے والی ماڈل و اداکارہ حمیرا اصغر کی لاش کا ابتدائی پوسٹ مارٹم جناح ہسپتال میں مکمل کر لیا گیا ہے-

    پولیس کے مطابق 32 سالہ اداکارہ کی لاش اس وقت برآمد ہوئی جب گزری پولیس عدالتی حکم پر فلیٹ خالی کروانے پہنچی ڈی آئی جی جنوبی سید اسد رضا نے بتایا کہ پولیس نے جب دروازہ کھٹکھٹایا تو کوئی جواب نہیں ملا، جس پر دروازہ توڑ کر اندر داخل ہوئے اور لاش برآمد کی گئی۔

    ایس ایس پی جنوبی محظور علی کے مطابق اداکارہ مذکورہ فلیٹ میں کرائے پر مقیم تھیں اور تنہا زندگی گزار رہی تھیں،انہوں نے 2024 سے کرایہ دینا بند کر دیا تھا جس پر مالک مکان نے عدالت سے رجوع کیا تھا۔

    پوسٹ مارٹم کرنے والی پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید کے مطابق لاش ڈی کمپوز ہونے کے ایڈوانس اسٹیج پر ہے اور اس قدر مسخ ہو چکی ہے کہ فوری طور پر موت کی وجہ بیان کرنا ممکن نہیں، ابتدائی معائنے میں کچھ بھی حتمی کہنا قبل از وقت ہے، تاہم کیمیکل ایگزیمن اور ڈی این اے تجزیے کے لیے نمونے حاصل کر کے لیبارٹری بھجوا دیے گئے ہیں، ان ٹیسٹوں کی رپورٹس کے بعد ہی ڈرگز کے ممکنہ استعمال اور موت کی اصل وجہ سامنے آ سکے گی۔

    اداکارہ حمیرا اصغر کی لاش وصول کرنے سے گھر والوں کا انکار

    پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ متوفیہ کے جسم کے بعض اعضا کو محفوظ کر لیا گیا ہے تاکہ فرانزک تجزیہ کیا جا سکے، تاحال یہ واقعہ قتل معلوم نہیں ہوتا تاہم پولیس تمام پہلوؤں سے تفتیش کر رہی ہے۔

    اداکارہ حمیرا اصغر متعدد ڈرامہ سیریلز جیسے ’احسان فراموش‘، ’گرو‘ اور دیگر میں اداکاری کے جوہر دکھا چکی تھیں اور سوشل میڈیا پر بھی کافی متحرک تھیں،حمیرا کا اصل میدان تھیٹر تھا، جہاں وہ 40 سے زائد اسٹیج ڈراموں میںاپنی پرفارمنس دکھا چکی تھیں۔ تھیٹر کے ساتھ ساتھ ساتھ وہ ماڈلنگ اور فلاحی سرگرمیوں میں بھی فعال رہتی تھیں، حمیرا نے نجی ٹی وی چینل کے ریئلٹی شو ”تماشہ“ میں بھی شرکت کی اور انہیں اصل شہرت بھی وہیں سے ملی، جہاں ان کی تند و تیز گفتگو اور جھگڑے سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بنے رہے-

    اوورسیز پاکستانیوں نےترسیلات زر وطن بھیجنےکا نیاریکارڈ قائم کر دیا

    پولیس کی جانب سے اہل خانہ سے رابطے کی کوششیں کی گئیں، تاہم انہوں نے لاش وصول کرنے سے انکار کر دیا، ان کا مؤقف تھا کہ وہ کچھ عرصہ قبل حمیرا اصغر سے تما م تعلقات ختم کر چکے تھے، پولیس واقعے کی مزید تفتیش کے لیے موبائل فون ڈیٹا، سی سی ٹی وی فوٹیج اور قریبی رہائشیوں سے معلومات حاصل کر رہی ہے۔

  • ہتک عزت کیس : معروف ہدایت کار جامی کو دو سال بامشقت قید کی سزا

    ہتک عزت کیس : معروف ہدایت کار جامی کو دو سال بامشقت قید کی سزا

    کراچی کی ایڈیشنل سیشنز کورٹ نے معروف ہدایت کار جمشید محمود رضا المعروف جامی کو ساتھی ہدایت کار سہیل جاوید کو 2019 میں بدنام کرنے کے جرم میں دو سال قید کی سزا سنادی۔

    کراچی کی ایک عدالت نے فلمساز جمشید محمود رضا (جامی) کو ہتک عزت کے مقدمے میں مجرم قرار دیتے ہوئے دو برس قید بامشقت اور دس ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے،جرمانے کی عدم ادائیگی کی صورت میں جامی کو مزید ایک ماہ قید بامشقت بھگتنی ہوگی۔

    جامی کے وکیل نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ہدایت کار کو سزا کاٹنے کے لیے کراچی سینٹرل جیل منتقل کر دیا گیا ہے،یہ کیس ایک خط سے متعلق ہے جو جامی نے ’لاہوتی میلو ’ میں پڑھا تھا، یہ ایک میلہ تھا جو جامشورو میں منعقد ہوا تھا جس کا موضوع #می ٹو (#MeToo) موومنٹ تھا، اور اس خط کو انہوں نے اپنے فیس بک پیج پر بھی پوسٹ کیا تھا۔

    یہ خط ایک نامعلوم جنسی ہراسگی کا شکار ہونے والی خاتون کی طرف سے تھا جس میں ایک معروف شخصیت پر جنسی حملے کا الزام لگایا گیا تھا، لیکن اس میں کسی کا نام نہیں لیا گیا تھا، جامی نے اپنے فیس بک پوسٹ میں بھی مبینہ حملہ آور کا نام نہیں لیا تھا، تاہم سہیل جاوید کا کہنا تھا کہ اس پوسٹ کے کمنٹس میں بہت سے لوگوں نے اندازہ لگا لیا کہ یہ اُن کے بارے میں ہے اور جامی نے اس قیاس آرائی کو روکنے یا تردید کرنے کے لیے کچھ نہیں کیا۔

    اسحاق ڈار سے ترک ہم منصب کی ملاقات

    سہیل جاوید نے کہا کہ خط میں کچھ ’ واضح حوالہ جات’ موجود تھے جیسے کہ’ میوزک ویڈیو اور ٹی وی سی ڈائریکٹر’ کا ذکر، ’ ’وہ حیدرآباد کے ایک فیسٹیول میں پینلسٹ تھے‘ ، ’ انہوں نے اپنے 23 یا 24 سالہ بیٹے سے ملوایا جو اسی شعبے میں کام کرتا تھا’ اور ’ ذاتی کہانیوں کی تفصیل’ وغیرہ جنہوں نے لوگوں کو یہ یقین دلایا کہ الزا م انہی پر ہے، اس سے ان کی ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔

    یہ کیس 2019 میں دائر کیا گیا تھا، اسی سال فروری میں سہیل جاوید نے جامی کو قانونی نوٹس بھیجا جس میں کہا گیا کہ وہ اسی پلیٹ فارم پر ’ بلا مشروط عوامی معافی’ مانگیں جس پر خط شائع کیا گیا تھا۔

    جامی کی قانونی ٹیم نے 9 مارچ کو اس نوٹس کا جواب دیتے ہوئے الزامات کی تردید کی تھی، اسی دن سہیل جاوید نے جامی کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائر کر دیا جس میں انہوں نے ان پوسٹس کو ہٹانے کے ساتھ ساتھ 50 کروڑ روپے ہرجانہ اور 50 کروڑ روپے ذہنی اذیت کے لیے مانگے۔

    پاک فضائیہ کے سربراہ سے ترک وزیر دفاع کی ملاقات

    جامی نے ہتک عزت کے الزامات کی تردید کی اور کہا کہ یہ خط انہیں لاہوتی میلو کے منتظم نے دیا تھا اور پڑھنے سے پہلے وہ اس کے مواد سے لاعلم تھے۔

    عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ جامی نے کہا کہ ویڈیو پوسٹ کرنے کے بعد دیگر صارفین نے شکایت کنندہ کا نام لینا شروع کیا، انہوں نے دعویٰ کیا کہ نہ تو انہوں نے خود کسی کا نام لیا اور نہ ہی بدنام کرنے کا ارادہ تھا، جب انہوں نے کمنٹس میں اس کا نام دیکھا تو پوسٹ ڈیلیٹ کر دی اور حتیٰ کہ اپنا فیس بک اکاؤنٹ بھی ڈی ایکٹیویٹ کر دیا۔’

    فیصلے میں مزید کہا گیا’ انہوں نے خود کو ایک کارکن اور پروڈیوسر کے طور پر پیش کیا جس کا کوئی بدنیتی پر مبنی ارادہ نہیں تھا اور کہا کہ شکایت کنندہ (سہیل جاوید) نے کسی مرحلے پر اُن افراد کو ’معاف‘ کر دیا تھا جن کے کہنے پر یہ خط پڑھا گیا تھا۔’

    عدالت نے مشاہدہ کیا کہ ان کے دفاع میں ’ کوئی شواہد پیش نہیں کیے گئے’ اور جامی یہ ثابت کرنے میں ناکام رہے کہ انہوں نے خط کے مصنف، لاہوتی میلو کے منتظمین سے کوئی رابطہ یا ایسی کوئی معتبر شہادت کیوں نہیں پیش کی کہ وہ مواد سے لاعلم تھے،سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ اس بات کی وضاحت نہ کر سکے کہ جب انہوں نے غلط شناخت کا ادراک کر لیا تھا تو پھر کیوں دوبارہ پوسٹ کیا اور کمنٹس میں اس طرح جواب دیئے جس سے الزام مزید پختہ ہوا۔

    ارشد شریف قتل کیس،عدالتی فیصلہ،بیوی کی جدوجہد نے سچ کو عدالت تک پہنچایا

    فیصلے میں مزید کہا گیا کہ ان کا یہ دعویٰ کہ پوسٹ ڈیلیٹ کر دی گئی تھی، اگر مان بھی لیا جائے تو نقصان ہونے کے بعد کیا گیا اقدام ان کی ذمہ داری کو ختم نہیں کرتا، خاص طور پر انہوں نے حلف پر اپنا بیان ریکارڈ کرانے یا دفاع میں کوئی شواہد پیش کرنے سے بھی انکار کیا۔’

    جامی کو پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 500 (ہتک عزت) کے تحت مجرم قرار دیا گیا ہے، اور انہیں دو سال قید اور 10 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی ہے۔

    جامی کی گرفتاری پر جبران ناصر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ جامی اپنے ضمیر کی آواز کی وجہ سے جیل میں ہیں کیوں کہ وہ اپنے اصولوں کے ساتھ کھڑے رہے اور بے آواز لوگوں کی آواز بنےجامی خود بھی ایک متاثرہ شخص ہیں جنھوں نے کئی مشکل سال کاٹنے کے بعد ایک اور متاثرہ شخص کے حق میں آواز اٹھانے کا فیصلہ کیا اور مقدمات کے باوجود اپنی آزادی اور کریئر کو خطرے میں ڈالتے ہوئے پیچھے ہٹنے سے انکار کیا۔

    جبران ناصر نے لکھا کہ ’جامی کا موقف تعریف کا ہی نہیں بلکہ حمایت کا بھی حقدار ہے وہ اپنی آسانی کے لیے پیچھے نہیں ہٹے بلکہ انھوں نے ہراسانی کے خلاف لڑائی کے لیے خود کو وقف کر دیا،ہمیں امید ہے کہ وہ جلد ضمانت پر رہا ہوں گے اور ان کو دی جانے والی سزا بھی ختم ہو گی۔

    آصف زرداری پہلے سویلین صدر ہوں گے جو اپنی دو صدارتی مدتیں مکمل کریں گے، شازیہ مری

    فریحہ عزیز نے ایکس پر لکھا کہ ’جامی کو سزا دیے جانے پر خوفزدہ ہوں،یہ ایک ایسا مقدمہ ہے جس میں می ٹو کے دعووں کو بھی سزا ہوئی۔

    جمشید محمود رضا جو عام طور پر جامی کے نام سے جانے جاتے ہیں، معروف پاکستانی فلم ساز، مصنف، اور ہدایت کار ہیں انھوں نے امریکہ کے آرٹ سینٹر کالج آف ڈیزائن، پاساڈینا سے فلم کی تعلیم حاصل کی اور 1998 میں اپنے آبائی شہر کراچی واپس آ کر اپنی آزاد فلم کمپنی قائم کی۔

    جامی نے فیچر فلموں کے علاوہ ٹیلی ویژن اشتہارات اور میوزک ویڈیوز کی ہدایت کاری میں بھی اپنی شناخت بنائی اس کے علاوہ انھوں نے ابھرتے نوجوان فلم سازوں کی رہنمائی اور کراچی اور بلوچستان کے فلمی سکولوں میں پڑھانے کے لیے بھی وقت صرف کیا ہےجامی کے سب سے زیادہ بااثر کاموں میں سے ایک 2015 کی ڈرامہ فلم ’مور‘ ہے، جس کا مطلب پشتو میں ’ماں‘ ہے۔

    ٹک ٹاک اکاؤنٹ ڈیلیٹ نہ کرنے پر باپ نے بیٹی کی جان لے لی

    جو بلوچستان کے ریلوے نظام کی افسوسناک زوال پذیری کو گہرائی سے بیان کرتی ہے، یہ کہانی ایک ایسے خاندان کے گرد گھومتی ہے جس کی زندگی ایک ریلوے سٹیشن سے اٹوٹ طور پر جڑی ہوئی ہے، جو منظم بدعنوانی اور ایک ٹوٹے ہوئے نظام کے تباہ کن اثرات سے جدوجہد کر رہا ہےاس فلم کو 2015 میں اکیڈمی ایوارڈز کے لیے منتخب کیا گیا اور جامی نے خود لکس اسٹائل ایوارڈز میں ’مور‘ کے لیے بہترین ہدایت کار کا ایوارڈ حاصل کیا، تاہم 2019 میں انھوں نے ایک معروف میڈیا شخصیت کی نامزدگی پر اعتراض کیا اور اپنا ایوارڈ سڑک پر پھینک دیا۔