سینئر پاکستانی اداکارہ اور خوبصورتی کی پہچان عتیقہ اوڈھو کا کہنا ہے کہ ان کے حالیہ تبصرے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ”میری شادی خطرے میں ہے“، کے بعد سوشل میڈیا پر ہمدردی کے پیغامات اور حتیٰ کہ شادی کے رشتوں کی بھرمار ہوگئی ہے۔
عتیقہ اوڈھو نے نے حال ہی میں اپنے ایک بیان کے باعث سوشل میڈیا پر دھوم مچا دی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ میرے شوہر کو مجھ سے شکایت ہے کہ میں شوبز کی دنیا میں مصروف ہونے کہ وجہ سے انہیں وقت نہیں دے پارہی ہوں اور میری شادی خطرے میں ہے۔
انہوں نے تجزیاتی شو کے دوران گفتگو کرتے ہوئے ہنستے ہوئے کہا: میری شادی پر میرے پچھلے بیان کے بعد اتنی زیادہ ہمدردی ملی ہے کہ میرے ڈی ایم رشتوں سے بھر گئے ہیں،میں اس توجہ سے لطف اندوز ہو رہی ہوں، اسی لیے میں نے یہ روایتی سرخ لباس پہنا ہے، کبھی کبھار شوہروں کو تناؤ میں رکھنا بھی اچھا ہوتا ہے،خواتین! اپنے شوہروں کو تھوڑا سا دباؤ میں رکھنا بھی ضروری ہوتا ہے،اب میں نے سیکھ لیا ہے کہ سوشل میڈیا کو کس طرح ذہانت سے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ اپنے پیغام کو مؤثر انداز میں پہنچانے کا ایک زبردست ذریعہ ہے۔
یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوچکی ہے اور صارفین کی جانب سے عتیقہ اوڈھو کی خوبصورتی، ذہانت اور جاذب نظر انداز پر خوب تعریفیں کی جا رہی ہیں،بہت سے صارفین کا کہنا ہے کہ عتیقہ اوڈھو وقار، خوبصورتی اور شائستگی کی علامت ہیں اور وہ کسی بھی عمر میں رشتے حاصل کر سکتی ہیں۔
اداکارہ حفصہ بٹ نے انکشاف کیا ہے کہ کیریئر کے آغاز میں پروڈیوسر نے کام کے بدلے ان سے ’بستر‘ پر ہونے کا مطالبہ کیا۔
حفصہ بٹ نے کچھ ہفتے قبل ’ایف ایچ ایم پوڈکاسٹ‘ میں شرکت کی تھی، جہاں انہوں نے مختلف معاملات پر کھل کر بات کی تھی،اسی پروگرام میں جنسی ہراسانی اور کاسٹنگ کاؤچ سے متعلق پوچھے گئے سوال پر اداکارہ نے دعویٰ کیا کہ شوبز انڈسٹری میں ایسی باتیں نارمل ہے اور ہر کسی کے ساتھ ایسے واقعات ہوتے ہیں، شوبز انڈسٹری کی تقریبا تمام خواتین کے ساتھ ہراسانی جیسے واقعات ہوتے ہیں لیکن کوئی بتاتا نہیں۔
انہوں نے بتایا کہ جب ان کے ساتھ ایسا واقعہ ہوا اور انہوں نے اپنے شوبز کے ساتھیوں کو بتایا تو سب نے ان سے کہا کہ یہ باتیں اس انڈسٹری میں نارمل ہیں،انہوں نے اپنے ساتھ ہونے والے واقعے کا ذکر دوستوں سے اس لیے کیا کہ وہ نامناسب پیش کش کرنے والے پروڈیوسر کے خلاف ایکشن لیں لیکن ہر کسی نے انہیں بتایا کہ ایسی باتیں یہاں نارمل ہوتی ہیں۔
حفصہ بٹ کا کہنا تھا کہ انہیں ایک پروڈیوسر نے واٹس ایپ پر وائس نوٹ بھیج کر پہلے کام کی پیش کش کی اور پھر ان سے نامناسب مطالبہ بھی کیا،پروڈیوسر نے انہیں پہلے ڈرامے کی کہانی بتائی اور ان کے کام کرنے کے ارادے کو دیکھا اور پھر ان سے پوچھا کہ کیا کبھی انہوں نے مرکزی کردار ادا کیا ہے؟ انہوں نے پروڈیوسر کو بتایا کہ انہوں نے پہلے کبھی مرکزی کردار ادا نہیں کیا، اس کے بعد پروڈیوسر نے ان سے نامناسب بات کہی، جسے وہ شروع میں سمجھ نہ سکیں۔
حفصہ بٹ کے مطابق پروڈیوسر نے ان سے کہا کہ اگر انہیں مرکزی کردار چاہیے تو پھر وہ بھی انہیں کوئی فائدہ دیں، جس پر انہوں نے پروڈیوسر سے پوچھا کہ کس طرح کا فائدہ؟بعد ازاں پروڈیوسر نے انہیں بتایا کہ وہ ان کے بستر پر ہونی چاہیے اور یہ بات سن کر وہ دنگ رہ گئیں، بعد ازاں کچھ دن کے بعد مذکورہ پروڈیوسر نے انہیں فون کرکے بتایا کہ انہوں نے ایسے ہی بات کی تھی، اسے سنجیدہ لینے کی ضرورت نہیں، انہوں نے اپنی غلطی کو چھپانے کی کوشش کی، انہوں نے نامناسب مطالبہ کرنے والے پروڈیوسر کا نام نہیں بتایا۔
اداکارہ ژالے سرحدی نے انکشاف کیا ہے کہ کیریئر کے ابتدائی دنوں میں انہیں شوبز انڈسٹری میں کاسٹنگ کاؤچ جیسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔
ژالے سرحدی نے حال ہی میں احمد علی بٹ کے پوڈکاسٹ میں شرکت کی، جہاں انہوں نے مختلف معاملات پر کھل کر گفتگو کی،احمد علی بٹ نے سوال کیا کہ عورت کی کمائی میں برکت ہے یا نہیں؟ اس کے جواب میں اداکارہ نے کہا کہ انہوں نے اپنی تعلیم اور اپنی شادی کے اخراجات خود اپنے پیسوں سے اٹھائے تھے،کمائی میں برکت ہی تھی، تبھی یہ سب کچھ ممکن ہو سکا۔
پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے ژالے سرحدی نے بتایا کہ انہیں کی گئی پیشکش بہت جارحانہ نہیں تھی، مگر پیشکش ضرور تھی اور یہ بات انہیں ایک ایسے ہدایتکار نے کہی تھی جو آج بھی انڈسٹری میں کام کر رہا ہے، ہدایتکار نے انہیں ایک پروجیکٹ کے لیے یہ کہہ کر مسترد کیا کہ وہ بہت لمبی ہیں، حالانکہ قد کا اس سے کوئی تعلق نہیں تھا بعد ازاں اسی ہدایتکار نے انہیں یہ تجویز دی کہ اگر وہ اپنا پسندیدہ کردار حاصل کرنا چاہتی ہیں تو انہیں کچھ سمجھوتہ کرنا ہوگا، جیسا کہ دیگر خواتین کرتی ہیں،و یہ یہ خواتین تو سوجاتی ہیں، جسے سن کر ان کا دماغ گھوم گیا تھا۔
ژالے نے بتایا کہ اس گفتگو پر انہوں نے سخت ردِ عمل دیا اور واضح کیا کہ وہ صرف اپنی تعلیم کے اخراجات پورے کرنے کے لیے شوبز میں کام کر رہی ہیں اور اگر کسی نے دوبارہ ایسی بات کی تو وہ تھپڑ مار دیں گی۔
معروف اداکارہ شرمین حنا رضوی نے شوہر عمار احمد خان سے علیحدگی کا اعلان کیا ہے۔
اپریل 2024 میں حنا رضوی نے اپنے قریبی دوست اور اداکار عمار احمد خان سے شادی کی تھی، جو ڈرامہ سیریل بےشرم کےلیے مشہور ہیں۔ ان کی شادی ایک شاندار تقریب تھی، جس میں دونوں کے قریبی عزیز و اقارب اور دوستوں نے شرکت کی،تاہم آج حنا رضوی نے سوشل میڈیا پر ایک جذباتی پیغام کے ذریعے اپنی علیحدگی کی خبر دی۔
انہوں نے لکھاکہ’بہت دکھی دل کے ساتھ میں اعلان کرتی ہوں کہ میرے اور عمار احمد خان کے درمیان علیحدگی ہوچکی ہے میں سب سے گزارش کرتی ہوں کہ ہماری پرائیویسی کا احترام کریں یہ فیصلہ آسان نہیں تھا اور ہم دونوں کو اس رشتے کے مستقبل کے بارے میں مزید سوچنے کےلیے وقت درکار ہے تب تک، براہِ کرم ہمیں جج نہ کریں کیونکہ شادی کے تعلق کی اصل نوعیت صرف ان دو افراد کو معلوم ہوتی ہے جو اس بندھن میں جڑے ہوتے ہیں،شکریہ۔
انہوں نے مزید کہا کہ میں اور میرے شوہر عمار اس وقت علیحدگی کے مرحلے میں ہیں، لیکن طلاق کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔ ہم دونوں کو کچھ وقت اور جگہ درکار ہے تاکہ ہم اس رشتے کے بارے میں بہترین فیصلہ کرسکیں۔
حنا نے چند ویڈیوز میں اپنی علیحدگی کی تفصیلات بھی شیئر کیں اور ان لوگوں کو تنقید کا نشانہ بنایا جو ان کی زندگی کے اس نازک لمحے پر منفی تبصرے کررہے ہیں۔ شرمین حنا رضوی نے سوشل میڈیا پر ملنے والی تنقید پر افسوس کا اظہار بھی کیا۔
پاکستانی اداکارہ نعیمہ بٹ نے حال ہی میں پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری میں کام نہ ملنے سے متعلق ویڈیو شیئر کی ہے-
اداکارہ نعیمہ ان دنوں کسی نئے ڈرامے میں نظر نہیں آ رہیں لیکن وہ سوشل میڈیا پر خاصی سرگرم ہیں ،اپنی ویڈیو میں نعیمہ بٹ نے تنقید کرنے والوں کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ جو کہتے ہیں کہ تمہیں پاکستانی ڈراموں میں کام نہیں ملتا، اس لیے ایسی ویڈیوز بنا رہی ہو تو جس میڈیا میں اداکاراؤں کی لاشیں ملتی ہیں، وہاں کون کام کرنا چاہتا ہے؟ آئیں میرے پالتو کتے سے ملیں، کم از کم وہ تو وفادار ہے۔
اداکارہ کی اس ویڈیو پر صارفین نے ملے جلے تاثرات دیے، کچھ نے نعیمہ پر طنزیہ انداز اپنانے اور انڈسٹری کو برا بھلا کہنے پر تنقید کی ایک صارف نے لکھا کہ اسی انڈسٹری سے شہرت ملی اور اب اسی پر طنز؟ ایک اور نے کہا کہ اگر کسی نے کام نہیں دیا تو نام لے کر بات کرو، پوری انڈسٹری کو برا کہنے کی کیا ضرورت ہے؟کئی افراد نے نعیمہ کو حسد کرنے والی اور منفی سوچ رکھنے والی شخصیت بھی قرار دیا۔
سینئراداکارہ فضیلہ قاضی نے کہا ہے کہ معاشرے میں صرف عورت سے قربانی کی توقع رکھنا ناانصافی ہے-
فضیلہ قاضی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ہمارے ہاں اچھی عورت وہ سمجھی جاتی ہے جو ہررشتے کی توقعات پر پورا اترے مگرعورت کی اپنی خواہشات اورحق نظراندازکئے جاتے ہیں، ایک عورت اگراچھی ہے تواسے بھی حق حاصل ہے کہ وہ اپنے لیے اچھے مرد کے رشتے کا مطالبہ کرے۔
انہوں،نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں سب سے آسان کام کسی عورت کی کردارکشی کرنا ہے بلکہ اب مردوں کو بھی نشانہ بنایا جانے لگا ہے، طلاق یا علیحدگی کی صورت میں صرف عورت کو قصوروار ٹھہرانا غلط ہے اگرمرد باحیا عورت کی خواہش کرتے ہیں تو کیا وہ خود بھی اچھے، باکردارمرد ہیں؟ معاشرتی سوچ میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔
فضیلہ قاضی نے کہا کہ ایک اچھی عورت کی تعریف وہی ہے جو اپنے جذبات، خواب اور خواہشات کو پس پشت ڈال کر صرف دوسروں کی توقعات پر پوری اترے مگر جیسے ہی وہ اپنے حق کے لیے آواز بلند کرے تو وہ "بری عورت” بن جاتی ہے، آج بھی اگر کوئی مرد کسی عورت کو چھوڑنا چاہے تو اُسے یہ کہہ کر چھوڑ دیتا ہے کہ وہ ‘اچھی عورت’ نہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ شاید اُس عورت نے صرف اپنے حق کی بات کی ہوتی ہے۔
فضیلہ قاضی کا یہ دوٹوک اور سچائی سے بھرپور پیغام نہ صرف عورتوں کے دل کی آواز ہے بلکہ ہمارے معاشرے کے اس حصے کے لیے بھی لمحہ فکریہ ہے جو آج بھی عورت کو صرف برداشت، قربانی اور خاموشی کی علامت سمجھتے ہیں۔
پاکستان کی معروف سینئر اداکارہ، گلوکارہ اور میزبان بشریٰ انصاری نے اپنی پہلی شادی سے متعلق لب کشائی کرتے ہوئےسابق شوہر کو روایتی پاکستانی مرد قرار دے دیا-
بشریٰ انصاری نے حال ہی میں ’365 نیوز‘ کے پروگرام میں شرکت کی، جہاں انہوں نے مختلف معاملات پر کھل کر گفتگو کی،اداکارہ اشنا شاہ کو دیئے گئے انٹرویو میں بشریٰ انصاری نے کہا کہ،بچپن ہی سے انہوں نے اپنے والدین کو ایک دوسرے کے ساتھ محبت اور احترام سے پیش آتے دیکھا اور یہی سوچ ان کے ذہن میں بھی پروان چڑھی کہ شادی کے بعد سب کچھ اچھا ہوتا ہے، حقیقت اس کے بالکل برعکس ہوتی ہے، وہ اور ان کی بہنیں اکثر یہ شکوہ کرتی تھیں کہ ابا نے ہمارے ساتھ زیادتی کی کیونکہ ہم سمجھتے تھے کہ شادی پریوں کی کہانیوں جیسی ہوتی ہے، لیکن جب شادی ہوئی تو سب کچھ الٹ نکلا۔
بشریٰ انصاری نے کہا کہ ان کے پہلے شوہر اقبال انصاری ایک بہت اچھے انسان اور ہدایتکار ہیں، لیکن فطری طور پر وہ بھی ایک روایتی پاکستانی مرد کی مانند تھے، ہماری کبھی نہ بن سکی، ازدواجی زندگی خوشگوار نہ ہونے کی وجہ سے وہ علیحدگی پر مجبور ہوئیں،روایتی پاکستانی مردوں کی تربیت میں اصل قصور ان کی ماؤں کا ہوتا ہے، کیونکہ وہ ان کی پرورش ایسے کرتی ہیں کہ اگر لڑکا ہے تو وہ گھر کا کام نہیں کرے گا، بلکہ اسے گھر میں ایک خاص مقام دیا جاتا ہے، جب کہ لڑکیوں کو یہی سکھایا جاتا ہے کہ بھائی نے کچھ نہیں کرنا، تم نے کام کرنا ہے۔ وہ بڑے ہوکر ماماز بوائے بن جاتے ہیں، جس کے اثرات شادی شدہ زندگی پر پڑتے ہیں۔
بشریٰ انصاری نے بتایا کہ وہ کبھی بھی نو عمر اداکاروں کو نہیں ڈانٹتیں، کیونکہ جب وہ اپنے بچوں کو نہیں ڈانٹتیں تو کسی اور کو کیوں ڈانٹیں،انہوں نے بتایا کہ جب وہ ڈراما سیریل ’آنگن ٹیڑھا‘ کی شوٹنگ کر رہی تھیں تو اس دوران ایک دن اداکار سلیم ناصر نے انہیں کسی بات پر ڈانٹ دیا تھا، جس کی وجہ سے ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے،اداکارہ کے مطابق ان کا دل بہت کمزور ہے، اگر کوئی اونچی آواز میں بھی بات کرتا ہے تو وہ ڈر جاتی ہیں۔
یاد رہے کہ بشریٰ انصاری کی پہلی شادی معروف پروڈیوسر اقبال انصاری سے ہوئی تھی اور 36 سال بعد دونوں کے درمیان 2020 میں طلاق ہوئی،جس کے بعد اداکارہ کی دوسری شادی کی افواہیں گردش کرنے لگیں خاص طور پر اقبال حسین کے ساتھ نام جوڑا جاتا رہا،اگرچہ بشریٰ انصاری نے کافی عرصے تک ان افواہوں کی تردید کی، تاہم بعد میں انہوں نے اقبال حسین کے ساتھ دوسری شادی کا اعتراف کرلیا۔
سینئر اداکار، ہدایتکار و براڈکاسٹر محسن گیلانی نے نوجوان اداکاراؤں کی جانب سے شوبز انڈسٹری پر کی جانے والی تنقید پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر یہ فیلڈ محفوظ نہیں لگتی تو اسے چھوڑ دینا چاہیے-
حال ہی میں محسن گیلانی نے ’آر ٹی ایس وِد 24 پلس‘ کے پوڈکاسٹ میں شرکت کی، جہاں انہوں نے اداکار نے کہا کہ ڈراما انڈسٹری کا زوال اس وقت شروع ہوا جب فلم کی طرز کا ماحول ڈراموں میں آگیا، جیسے فلم میں ڈسٹری بیوٹر ہوتا تھا ویسے ہی ڈراموں میں چینل اور مارکیٹنگ کا عنصر آگیا، جو اب صرف گلیمر کو اہم سمجھتے ہیں، کہانی کا معیار گر گیا ہے، ایک لڑکی دو لڑکے، دو لڑکے ایک لڑکی، ان کہانیوں میں دکھایا کیا جاتا ہے؟ کہ ان کی شادیاں نہیں ہو رہیں اور پھر آخر میں ان کی شادی ہو جاتی ہے یہ کہانی پچھلے پندرہ سال سے چل رہی ہے اور چینلز کا یہ ماننا ہے کہ اس طرز کے ڈراموں کی وجہ سے انہیں ریٹنگ ملتی ہے۔
ان کے مطابق جیسے فلم میں ہمیشہ مرکزی کرداروں کو اہمیت دی جاتی تھی اور معاون کرداروں پر زیادہ توجہ نہیں دی جاتی تھی، اب یہی سب کچھ ڈراما انڈسٹری میں بھی ہو رہا ہے، معاون کرداروں کی کوئی اہمیت نہیں رہی، صرف مرکزی کردار کو ہی اہم سمجھا جاتا ہے، کچھ نوجوان اداکارائیں ایسی ہیں جو اکثر یہ تبصرہ کرتی ہیں کہ شوبز لڑکیوں کے لیے صحیح جگہ نہیں ہے، ان سے سوال ہے کہ اگر آپ کو لگتا ہے کہ شوبز ٹھیک نہیں ہے، یہاں غلط کام ہو رہے ہیں، تو پھر وہ اس فیلڈ کا حصہ کیوں ہیں؟ چھوڑ کیوں نہیں دیتیں؟ اس فیلڈ میں کام کیوں کرتی ہیں، وہ بھی بن سنور کر؟
انہوں نے اداکارہ ماہم عامر کی مثال دی کہ وہ ایسے افراد کو تھپڑ مار دیتی ہیں جو ان کے ساتھ بدتمیزی کرنے کی کوشش کرتے ہیں،اداکار کے مطابق انہوں نے خود دیکھا ہے کہ طاقتور مردوں کو خواتین سے مار پڑی جب وہ کچھ غلط کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اس لیے بہتر ہے کہ یا تو شوبز چھوڑ دیں یا پھر اس کے خلاف بات نہ کریں. اگر انہیں اس فیلڈ میں ہراساں کیا جا رہا ہے تو انہیں اس فیلڈ کو چھوڑ دینا چاہیے اور اگر انہیں مذہب کے لحاظ سے یہ فیلڈ درست نہیں لگتی، تو بھی انہیں اس فیلڈ میں کام نہیں کرنا چاہیے۔
انہوں نے بتایا کہ وہ عائشہ خان کو تقریباً چھببیس سے ستائیس سال سے جانتے تھے اور ان کے ساتھ کئی ڈراموں میں کام کر چکے تھے، اس لیے ان کے درمیان ایک خاص تعلق قائم ہو گیا تھا،اداکار نے بتایا کہ عائشہ خان مائیک پھینک دیتی تھیں جس سے ان کے ساتھی اداکاروں کو مشکل ہوتی تھی میں نے ان کو بتایا کہ کچھ نوجوان اداکاروں کو ان کا مائیک پھینکنا پسند نہیں ہے اور وہ اس سے پریشان ہوتے ہیں تو وہ میری بات کو سمجھتی تھیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اسی پراجیکٹ میں اداکارہ نازلی نصر ان کی بیوی کا کردار ادا کر رہی تھیں اور وہ عائشہ خان کی بہت خدمت کرتی تھیں، کبھی ان کے پیر دباتی تھیں، کبھی کپڑے پہننے میں مدد دیتی تھیں، عائشہ خان اکثر ان سے کہا کرتی تھیں، تم گواہ رہنا نازلی میرا خیال رکھتی ہے، اگر میں کبھی اکیلی رہ گئی تو نازلی کے پاس چلی جاؤں گی۔
محسن گیلانی نے بتایا کہ،وہ اکیلے رہنا پسند کرتی تھیں، ان کے بچے بھی اپنی زندگی میں مصروف ہو گئے‘،محسن گیلانی نے جذباتی انداز میں بتایا کہ ایک اداکار نے ایک وائس نوٹ شیئر کی جس میں عائشہ خان بتا رہی تھیں کہ بچے مجھے پیسے بھیجتے ہیں محسن گیلانی نے سوال اُٹھایا کہ کیا ایک ماں کو بڑھاپے میں صرف پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے جس نے اس قدر مشکل حالات میں اپنے بچوں کو پالا ہو؟ کیا اس کی دیکھ بھال کرنا ان کی ذمہ داری نہیں ہے؟
اداکارہ علیزے شاہ نے جان سے مارنے کی دھمکیاں ملنے کا دعویٰ کیاہے۔
اداکارہ علیزے شاہ جو گزشتہ کئی دنوں سے سوشل میڈیا پر اپنے مشہور اسکینڈلز کی حقیقت بیان کرنے کیلئے مختلف ویڈیوز شیئر کر رہی ہیں اب انہوں نے ساتھی اداکارہ کی جانب سے جان سے مار دینے کی دھمکیاں ملنے کا دعویٰ کیا ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری ایک حالیہ ویڈیو بیان میں علیزے شاہ نے کہا کہ ان کی ساتھی اداکارہ منسا ملک انہیں قتل کروانے کی دھمکیاں دے رہی ہیں انہوں نے مختلف چیٹ کی ویڈیوز شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ ساتھی اداکارہنے ان کا نمبر کسی مشکوک شخص کو فراہم کیا ہے جس سے ان کی ساکھ خراب کرنے کی کوشش بھی کی جارہی ہے۔
ایک انسٹاگرام اسٹوری میں انہوں نے لکھا کہ ’وہ مجھے مختلف نامعلوم نمبرز سے کالز کر رہی ہے اور قتل کی دھمکیاں دے رہی ہے، اگر مجھے کچھ ہوا تو جان لیں کہ یہ اسی میسنی کا کام ہے‘۔
ایک اور انسٹاگرام اسٹوری میں علیزے نے کہا کہ ’ 3 سال پہلے بھی اس گھٹیا عورت نے مجھے بدنام کرنے کی کوشش کی تھی جو بھی کمایا آج کل عزت اور حلال کا کمایا لیکن جو خود حرام کھاتا ہے اسے نہ خدا کا خوف ہوتا ہے نہ اپنے زوال کا‘۔
پاکستانی اداکارہ عمارہ چوہدری نے اکیلے رہنے کے حوالے سے ذاتی اور خوفناک تجربہ شئیر کیا ہے –
عمارہ چوہدری حال ہی میں نجی ٹی وی کے شو میں شریک ہوئیں جس دوران انہوں نے کراچی سمیت ملک کے دیگر شہروں میں تنہا رہنے والے لوگوں کے حوالے سے بات کی،اداکارہ کا کہنا تھا کہ کراچی میں بڑی تعداد میں لڑکے لڑکیاں تنہا رہتے ہیں جس کی کئی وجوہات ہیں کئی لوگ کراچی میں کام کی غرض سے تو کئی پڑھائی کے سلسلے میں مقیم ہیں لیکن تنہا رہنا آسان نہیں کیوں کہ کئی مواقع ایسے ہوتے ہیں جب انسان کو اپنوں کی کمی شدت سے محسوس ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ میری فیملی لاہور میں رہتی ہے لیکن میں کام کی وجہ سے کراچی میں مقیم ہوں، شوٹ سے واپسی پر تنہائی کا احساس غالب رہتا ہے، خاص طور پر اس وقت جب آپ بیمار پڑجائیں تو تنہائی اور اپنوں سے دوری اور زیادہ محسوس ہونے لگتی ہے 2 سال قبل میں کورونا کا شکار ہوئی تھی، اس وقت شوٹس کے سلسلے میں کراچی میں ہی موجود تھی لیکن کورونا میں مبتلا ہونے کے بعد مجھے اہل خانہ کی کمی شدت سے محسوس ہوئی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ کورونا کا شکار ہونے کے اگلے روز ہی میں پورا دن کیلئے بے ہوش ہوگئی لیکن کسی کو پتہ نہ چلا، مجھ سے رابطہ نہ ہونے پر گھروالوں نے مالک مکان سے رابطہ کرکے میرے حوالے سے بتایا، اس کے بعد مالک مکان نے کسی کو میرے فلیٹ بھیج کر میری خیریت دریافت کرنا چاہی، اسی دورا ن دروازہ کھٹکھٹانے پر میں ہوش میں آئی۔
اداکارہ کا کہنا تھا کہ پورا دن بے ہوش رہنے کے بعد جب میری آنکھ کھلی تو میرے موبائل پر گھر سے ڈھیروں کالز آئی ہوئی تھیں حتیٰ کہ میرے اہل خانہ کراچی آنے کیلئے ٹکٹس بک کرواچکے تھے جب کہ مکان مالک نے بتایا کہ میرا دروازہ اب بھی میرے گھر والوں کے کہنے پر کھٹکھٹایا گیا‘، اس سے قبل تو مکان مالک بھی یہی سمجھتا رہا کہ میں لاہور چلی گئی ہوں۔
یاد رہے کہ اداکارہ حمیرا اصغر 8 جولائی کو کراچی میں کرائے کے فلیٹ میں مردہ حالت میں پائی گئی تھیں اداکارہ کی موت اکتوبر میں ہوئی تھی جس کی کئی مہینوں تک کسی کو خبر نہیں ہوسکی۔