Baaghi TV

Tag: شہبازشریف

  • اگرواقعی سندھ ہاوس میں ارکان کی خرید وفروخت ہورہی ہے توپھرمیں مجرم ہوں:شہبازشریف

    اگرواقعی سندھ ہاوس میں ارکان کی خرید وفروخت ہورہی ہے توپھرمیں مجرم ہوں:شہبازشریف

    اسلام آباد :اگرواقعی سندھ ہاوس میں ارکان کی خرید وفروخت ہورہی ہے توپھرمیں مجرم ہوں:اطلاعات کے مطابق قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہبازشریف نے وزیراعظم عمران خان کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ تحریک عدم اعتمادمیں کوئی پیسوں کاعمل دخل ہے اور جیسا کہ سُننے میں آرہا ہےکہ سندھ ہاوس میں ارکان کی خریدوفروخت ہورہی ہے توپھرواقعی میں مجرم ہوں۔

    سوات میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا تھا کہ تین چوہے میرا شکار کرنے نکلے ہیں، آج سوات کے لوگوں کو کہتا ہوں میں ان تینوں کا شکار کروں گا، کچھ لوگ سندھ ہاؤس میں نوٹوں کی بوریاں لے کر بیٹھے ہیں، سندھ کے عوام کا پیسہ لے کر ہمارے ایم این ایز خریدنے آئے ہیں، سیاست دانوں کے ضمیر کی قیمت 20،20 کروڑ لگا دی گئی ہے، ان کو پتا ہے عمران خان تھوڑی دیر اور رہ گیا تو ان سب نے جیلوں میں جانا ہے، الیکشن کمیشن بتائے کیا اس ہارس ٹریڈنگ کی آئین میں اجازت ہے؟

    ایک انٹرویو میں شہبازشریف نے کہا کہ عدم اعتماد ہمارا حق ہے ثابت کر دیں کہ تحریک عدم اعتمادمیں کوئی پیسوں کاعمل دخل ہے تو مجرم ہوں، شہبازشریف نے کہا کہ اگرایسے ہورہا ہے تو یہ غلط ہے ،ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم چاہتےہیں ارکان جائیں اورپرامن طریقے سے عدم اعتماد پر ووٹ کریں حکومت سےلڑائی کیلئے نہیں ارکان کی حفاظت کیلئے لوگ لائیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ اگر ن لیگ کوموقع ملےتوقومی حکومت بنانی چاہیے قومی حکومت میں پی ٹی آئی کےعلاوہ سب کو شامل کرنا چاہیے قومی حکومت کو5سال عوام کی خدمت کرنےکاموقع ملناچاہیے عدم اعتمادکےبعدپارٹی کی سوچ ہے الیکشن میں جانا چاہیے یہی سوچ ہے الیکشن کےبعدضروری قانون سازی کی جائے۔

    شہبازشریف نے کہا کہ اسلام آباد میں ہائی سیکورٹی پروف علاقے میں ہمارے ارکان اپنی حفاظت کےلیے بندےساتھ لائیں گے ہمیں دھمکیاں دی جارہی ہیں ہم بندےساتھ نہ لائیں تو اور کیا کریں وزیراعظم کو پہلے ان ہاؤس آرڈر کرنا چاہیے

    ان کا کہنا تھا کہ سیاست میں آج کےدوست کل کےمخالفت ہوجاتےہیں کوشش ہےق لیگ،ایم کیوایم،بی اےپی کوبھی قائل کرسکیں، شہزاد اکبر نے پلندے جمع کرائے برطانیہ میں تحقیقات کرائیں آخر میں مجھےکلین چٹ دی گئی احتساب کا بیانیہ ناکام ہوا۔

  • شہبازشریف”ٹائی شائی”لگاکرمیڈیا کےذریعےحکومت کرنےلگے:مرضی کےسوالات مرضی کےجوابات

    شہبازشریف”ٹائی شائی”لگاکرمیڈیا کےذریعےحکومت کرنےلگے:مرضی کےسوالات مرضی کےجوابات

    اسلام آباد :شہبازشریف میڈیا کے ذریعے حکومت کرنے لگے:مرضی کے سوالات مرضی کے جوابات ،اطلاعات کے مطابق اس وقت اپوزیشن اتحاد کے مرکزی کھلاڑی اور اپوزیش لیڈر شہبازشریف نے میڈیا کریسی کے ذریعے عوامی توجہ حاصل کرنے اور عوام کو تاثردینےکےلیے ایک خودساختہ گفت وشنید کا سلسلہ شروع کردیا ہے

    اس حوالے سے شہبازشریف جہاں محتلف مقامات پر مختلف صحافیوں سے وہ سوال پوچھتے ہیں جو ان کو پوچھنے کے لیے کہا جاتا ہے ، اور یوں پھراس سوال کا جواب بھی ان کے پاس پہلے ہی تیار ہوتا ہے ، یہ سلسلہ اس وقت ساری اپوزیشن کا ہے اور اس حوالے سے بڑے بڑے میڈیا گروپس بھی عمران خان کے خلاف اپوزیشن کا کردار ادا کررہے ہیں

    اطلاعات ہیں کہ یہ سلسلہ بڑی منصوبہ بندی کے ساتھ شروع کیا گیا ہے اور اس میں پہلے بلاول بھٹو کو لایا گیا اور اب شہبازشریف کو پیش کیا جائے گا ، جس میں عوام کو ایک ایسا تاثر دیا جائے گا کہ شاید یہ حکومت اب نہیں رہے گی ،حالانکہ حالات اور معاملات ان کی خواہشات کے برخلاف ہیں‌

    یہ بھی ممکن ہے کہ شہبازشریف کسی موقع پر یہ گفتگو کرکے یہ تاثر دینے کی کوشش کریں‌ کہ وہ چوہدری پرویز الٰہی کے ساتھ چل سکتے ہیں اور پھران کو سبزباغ دکھانے کی کوشش کریں ، لیکن شاید شہبازشریف چوہدریوں کی دانشمندی کے قریب سے بھی نہیں گزرے ہوں

    شہبازشریف حکومت کی ناکامیوں کا ذکر تو کریں لیکن اپنی ترجیحات پیش نہ کرسکیں ، یہ بھی ممکن ہے کہ شہبازشریف قومی حکومت کا خواب اس طرح بیان کریں کہ سُننے والے اور دیکھنے والے یہ خیال کریں‌کہ شاید واقعی حکومت جارہی ہے لیکن ایسا نہیں ہوگا ، یہ صرف ایک کیمرے کے سامنے دن کی روشنی میں آنکھوں اور سننے والوں کے لیے دھوکے سے کم نہ ہو

    یہ بھی ممکن ہے کہ شہبازشریف سینیٹ کے چیئرمین ، بلوچستان کے وزیراعلیٰ ، اسپیکرقومی اسمبلی اور صدر مملکت سمیت سب کو بھگانے کا منصوبہ پیش کریں لیکن یہ شیخ چلی والے خواب سے کم نہ ہوگا

    یہ بھی ممکن ہے کہ شہبازشریف یہ تاثر دینے کی کوشش کریں‌کہ شاید کے مقتدر ادارے ان کے ساتھ ہیں لیکن شاید وہ یہ نہیں جانتے ہیں کہ عمران خان اداروں کی ضرورت نہیں ، عمران خان عالم اسلام اور خطے کے پانچ بڑے اتحادی ملکوں ،چین ، روس، ترکی، سعودی عرب اور افغانستان کی ضرورت ہیں

    یہ بھی ممکن ہے کہ شہبازشریف آج یا کل کسی بڑے صحافی کے سامنے بیٹھنے سے پہلے کچھ سوالات بھیج دیں اور پھران کی تیاری کرکے ایسے تاثر دیں کہ شاید اگلے چند گھنٹوں میں عمران خان کی حکومت نہیں رہے گی ، یہ بھی ہتھیار کارگر نہیں ہوگا

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ میڈیا کریسی کے ذریعے جو حالات پیدا کیے جارہے ہیں کل کو ان سوالات کے جوابات بھی ان سے لیے جائیں جوآج ان سوالات کے ذریعے ملک میں عدم استحکام پیدا کرنا چاہتےہیں اور اپنا اُلّو سیدھا کرنا چاہتے ہیں‌

  • پارلیمنٹ لاجزمیں ہنگامہ آرائی کا منصوبہ کیوں،کس نےاورکب بنایا؟تہلکہ خیزانکشافات:

    پارلیمنٹ لاجزمیں ہنگامہ آرائی کا منصوبہ کیوں،کس نےاورکب بنایا؟تہلکہ خیزانکشافات:

    اسلام آباد :ایک طرف اسلام آباد میں ہنگامہ آرائی ہورہی ہے تو دوسری طرف اس ہنگامہ کے پیچھے محرکات بھی سامنے آنے لگے ہیں ، اس حوالے سے ایک اہم رپورٹ اس وقت گردش کررہی ہے کہ پارلیمنٹ لاجزمیں ہنگامہ آرائی کا منصوبہ کیوں،کس نےاورکب بنایا؟تہلکہ خیزانکشافات آگئے

    لاہورسے ذرائع کےمطابق اسلام آباد پارلیمنٹ لاجز میں ہنگامہ آرائی کا فیصلہ آج اچانک اس وقت جب ن لیگ کے 6 ممران نے وزیراعظم عمران خان سے مل کرساتھ دینے کا عہد کیا ، یہ بات ن لیگ کی قیادت پربجلی بن کرگزری ، اس کی وجہ یہ بتائی جارہی ہےکہ ن لیگ نے جن پی ٹی آئی اراکین سے رابطے کیئے تھے ان کو یہ باوربھی کرایا گیا تھا کہ ن لیگ میں مکمل اتفاق ہے اور کوئی فارورڈ بلاک نہیں سب ساتھ ہیں

    پارلیمنٹ لاجز میں ہنگامہ آرائی کی دوسری بڑی وجہ ہے کہ ن لیگ قیادت کو پی ٹی آئی کے 7 ممبران نے صاف جواب دیتے ہوئے اعتماد کا ووٹ دینے سے انکار کردیا ، یہ انکار تو فردا فردا کیا گیا لیکن یہ ایک بہت بڑا سانحہ بن کر اپوزیشن کےلیے آیا ،جس کےبعد اپوزیشن نے اس کھیل کو اپنے ہاتھوں سے جاتے ہوئے دیکھ کرفورا معاملہ فضل الرحمن تک پہنچایا ، جس پرفضل الرحمن اشتعال میں آگئے اور ن لیگی کارکنان کی وزیراعظم سے ملاقات اور پی ٹی آئی کے 7 ممبران کا وزیراعظم عمران خان سے ہم آہنگی کو حکومتی جبرسمجھتے ہوئےاس پر سخت ردعمل دینے کا فیصلہ کیا گیا

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ یہ فیصلہ نوازشریف کی ہدایت پرکیا گیا اور مریم نواز اور فضل الرحمن نے اس حوالے سے حکمت عملی طئے کی اور شام تک پارلیمنٹ لاجز پرقبضہ کرکے حکومت کوامتحان میں ڈالنے کا فیصلہ ہوا، اس فیصلے سے نہ تو ن لیگ کی دوسرے درجے کی قیادت کو اعتماد میں لیا گیا اور نہ ہی پی پی کی قیادت کو ن لیگ اور فضل الرحمن کے درمیان ہونے والے اس منصوبے سے آگاہ کیا گیا

    ذرائع کےمطابق تیسری بڑی وجہ یہ بتائی جارہی ہے کہ جے یو ائی ف کے دو ارکان اسمبلی مولانا فضل الرحمن کے عمران خان خلاف اسلام اور پاکستان کی خارجہ پالیسی سے اتفاق نہیں کرتے ان کا یہ کہنا تھا کہ یہ سراسرالزام تراشی ہے اورہمیں اس سے دور رہنا چاہیے ، بہرکیف موجودہ حکومت پچھلی حکومتوں سے ان پہلووں پر بہتر کام کررہی ہے اور ہمیں غیرمشروط حمایت کرنی چاہیے نہ نوازشریف یا کسی دوسرے کی رضا کی خاطرملکی معاملات کو خراب کرنا چاہیے

    یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کو اس بات پراعتراض بھی تھا اور اپنے ارکان اسمبلی پر شک بھی، جس کی وجہ سے وہ عدم اعتماد کے حوالے سے ہچکچا رہے تھے ، شاید یہی وجہ ہے کہ وہ ناکامی کو مد نظر رکھتے ہوئے اس انداز سے حکومت کو مشکلات میں ڈالنا چاہتے ہیں

    ادھر اسلام آباد سے ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ آصف علی زرداری نے جو ووٹ دینے کا وعدہ کیا تھا وہ اپنے وعدے پر پورے نظرآتے ہیں لیکن ن لیگ اور جے یو آئی ف کے دعوے صرف دعوے ہی تھے اوران میں حقیقت نہیں تھی ، جبکہ دوسری طرف آج جب وزیراعظم عمران خان کو بتادیا گیا کہ وہ بے فکر رہیں ان کے پارٹی کے تمام اراکین اسمبلی ان کو ووٹ دیں گے اور عدم اعتماد بری طرح‌ ناکام ہوگی

    ان خبروں نے اپوزیشن کے لیے بہت ہی پریشانیاں پیدا کررکھی تھیں اور اب چونکہ یہ ساری گیم ہاتھ سے نکلتی ہوئی نظر آرہی تھی تو نوازشریف کی ہدایت پرزرداری کے علم میں لائے بغیر پارلیمنٹ لاجز پرقبضہ کرکے حالات کو بے قابو کرنے کا منصوبہ بنایا گیا

    اسلام آباد سے مقتدر حلقوں کا کہنا ہے کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پی پی متحدہ اپوزیشن کے ساتھ ہے لیکن پی پی کی یہ تاریخ رہی ہےکہ وہ ایسے غیر جمہوری ہتھکنڈوں سے دور رہے ہیں بلکہ پی پی نےہمیشہ ایسے رویوں کی مذمت کی ہے اور یہی پی پی کی نظریاتی فتح ہے جسے مخالفین بھی مانتے ہیں ، اور اگر ماضی کو دیکھا جائے تو پی پی قیادت پارلیمنٹ لاجز کے اس کھیل سے بہت جلد بیزاری کا اعلان کرسکتی ہے، پی پی قیادت عمران خان کو پانچ سال پورے کرنے پر توقربانی دے سکتی ہے لیکن گیر جمہوری اور ایسے سازشی ہتھکنڈوں کا ساتھ نہیں دے سکتی کیونکہ آصف علی زرداری نے پارٹی کویہی تو سبق پڑھایا ہے کہ غیرجمہوری رویوں کی پی پی میں‌ نہ تو گنجائش ہے اور نہ ہے یہ کسی کی فرمائش ہے

  • عمران خان آئی ایم ایف کو بھی چکردے رہاہے:شہبازشریف بھی عمران خان کے فین ہوگئے:دعائیں دینے لگے

    عمران خان آئی ایم ایف کو بھی چکردے رہاہے:شہبازشریف بھی عمران خان کے فین ہوگئے:دعائیں دینے لگے

    لاہور: شہبازشریف بھی عمران خان کے فین ہوگئے:دعائیں دینے لگے ،اطلاعات کے مطابق شہباز شریف نے کہا ہے وہ وزیراعظم عمران خان کی طرف سے پٹرول ،ڈیزل اور بجلی کی قیمتیں کم کرنے پرخوش ہیں اور دعاگوہیں کہ وہ یہ قیمتیں برقرار رکھنے میں کامیاب رہیں

    ‎پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر و قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے اپنے بیان میں عمران خان کی طرف سے آئی ایم ایف کو اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرنے کے حوالے سے کہا ہے کہ ‎آئی ایم ایف کو خوش کرنے کے لئے عوام اور عوام کو خوش کرنے کے لئے آئی ایم ایف کو چکر دیا جا رہا ہے، ‎ڈوبتی سیاست بچانے کے لئے معاشی، قومی اور عوامی مفادات کو بلی چڑھایا جا رہا ہے، ‎پٹرول کی قیمت کم ہوئی ہے تو مہنگائی میں کمی کیوں نہیں ہوئی؟ کرایوں میں کمی کون کرائے گا؟۔

    شہباز شریف ‎کا کہنا تھا کہ کالی کمائی کرنے والوں پر کرم جبکہ میڈیا اور عوام پر کالے قانون اور سیاہ مہنگائی کا ستم ؟ ‎ایل پی جی کی قیمت میں پہلے ہی 27 روپے فی کلو اضافہ اور گھریلو سلنڈر 319 روپے مہنگا ہونا غریبوں سے ریلیف چھیننا ہے، ‎ 43ماہ میں غیرملکی قرض 47.55 ارب ڈالرز سے تجاوز نے معیشت اور معاشی ماہرین کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

    ادھر وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ایف بی آرکی کارکردگی کی وجہ سے پٹرول،ڈیزل اوربجلی پرسبسڈی دینے کے قابل ہوئے۔

    وزیراعظم عمران خان نے ٹویٹ میں کہا کہ ایف بی آرکی کارکردگی کی وجہ سے پٹرول،ڈیزل اوربجلی پرسبسڈی دینے اورعوام کوریلیف دینے کے قابل ہوئے۔

    وزیراعظم نے مزید کہا کہ ایف بی آر نے فروری کے ریونیو 441 ارب کے ہدف کو کامیابی سے حاصل کر لیا ہے۔ایف بی آر کے ریونیو میں 28.5 فیصد اضافہ ہوا جبکہ ماہانہ اضافہ 30 فیصد سے زیادہ ہے۔

  • کرپٹ شخص کواسمبلی میں تقریر نہیں کرنے دیں گے:شہبازگل کا اعلان

    کرپٹ شخص کواسمبلی میں تقریر نہیں کرنے دیں گے:شہبازگل کا اعلان

    اسلام اباد:کرپٹ شخص کواسمبلی میں تقریر نہیں کرنے دیں گے:شہبازگل کا اعلان،اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی شہباز گل کا کہنا ہےکہ شہباز شریف جب تک کرپشن کیسز میں حساب نہیں دیتے انہیں اسمبلی میں تقریر نہیں کرنے دیں گے۔

    فیصل آباد میں میڈیا سےگفتگو میں شہباز گل کا کہنا تھا کہ چار سال بڑی ڈھیل دے کر دیکھ لیا، مقصود چپڑاسی کے اکاؤنٹ میں چار ارب روپےکےکیس میں شریف ایسے پھنسے کہ کوئی بھی انہیں نہیں چھڑا سکتا۔

    شہباز گل کا کہنا تھا کہ شہباز شریف چوری کا حساب دیں اور اسمبلی میں تقریر کریں، حب تک آپ حساب نہیں دیں گے،آپ کو تقریر نہیں کرنےدیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کو عمران خان نے بھگوڑا کہہ کر کچھ غلط نہیں کیا، انہیں تو خود عدالت نے بھگوڑا قرار دیا تھا ۔

    دوسری طرف وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے سیاسی ابلاغ شہباز گل کی سابق وزیر اعظم نواز شریف پر تنقید کرتے ہوئے زبان پھسل گئی۔

    فیصل آباد میں میڈیا سےگفتگو میں شہباز گل کی زبان پھسلی اور وہ نوازشریف کی جگہ عمران خان پر طنز کرگئے۔

    انہوں نے کہا کہ ’عدالت نے نواز شریف کو بھگوڑا قرار دیا ہے تو کیا ہم عمران خان کو ایتھلیٹ کہیں؟‘ لیکن اپنی غلطی کا احساس ہونے پر انہوں نے فوراً ہی تصیح کردی کہ کیا نواز شریف کو ایتھلیٹ کہوں؟

  • چودھری برادران کی شہبازشریف کوپاکستان مسلم لیگ شامل ہونےکی دعوت:شہبازشریف نےغورشروع کردیا

    چودھری برادران کی شہبازشریف کوپاکستان مسلم لیگ شامل ہونےکی دعوت:شہبازشریف نےغورشروع کردیا

    اسلام آباد:چودھری برادران نے شہباز کو (ق) لیگ جوائن کرنیکی دعوت دےدی :اہم شخصیت کا دعویٰ ،اطلاعات کے مطابق پاکستان کی اہم شخصیت نے دعویٰ کیا ہے کہ اطلاعات ہیں کہ چوہدری برادران نے شہبازشریف کو پاکستان مسلم لیگ میں شامل ہونے کی دعوت دے دی ہے ،ادھر یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ شہبازشریف نے اس پیشکش پر غورشروع کردیا ہے

    وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی شہباز گل نے کہا ہے کہ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق چودھری برادران نے شہباز شریف کو پاکستان مسلم لیگ جوائن کرنے کی دعوت دی ہے۔

     

     

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کی چودھری برداران سے ملاقات پر ردعمل دیتے ہوئے وزیراعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پرطنزیہ پیغام میں کہا کہ شہباز شریف نے بھی (ق) لیگ جوائن کرنے بارے سنجیدگی سے سوچنے کا کہا ہے۔

    شہباز گل کا کہنا تھا کہ ویسے (ق) میں کم از کم (ن) سے زیادہ عزت ملے گی، یہاں تو بیچارے صرف پاؤں پڑنے کے لئے رکھے گئے ہیں، کبھی سیاسی مخالفوں کے اور کبھی اپنوں کے۔

     

     

    دوسری طرف اپوزیشن لیڈر شہباشریف کی 22 سال بعد چوہدری برادران سے ہونے والی ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔

    حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک سیاسی مخالفین کو قریب لے آئی، مسلم لیگ (ن) اور مسلم لیگ (ق) کے درمیان 22 سال بعد سیاسی ملاقات ہوئی۔

    ملاقات کے لئے شہباز شریف چوہدری برادران کی رہائشگاہ پہنچے جہاں اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی نے شہباز شریف کا استقبال کیا۔

     

    مسلم لیگ کے وفد میں خواجہ سعد رفیق ،رانا تنویر اور عطا تارڑ شامل ہیں جبکہ اہم ترین ملاقات میں مسلم لیگ (ق) کے وفد میں چوہدری شجاعت ،چوہدری پرویز الٰہی ،سالک حسین اور شافع حسین شامل تھے۔

     

    ذرائع کے مطابق ایک گھنٹہ 20 منٹ تک جاری رہنے والی ملاقات میں شہبازشریف نے عدم اعتماد کی بات نہیں چھیڑی اس لیے سعدرفیق اور ایازصادق بھی پی ڈی ایم فیصلے پر چپ رہے۔

    ق لیگی ذرائع کا کہنا ہے کہ خیال تھا شہبازشریف عدم اعتمادکی بات چھیڑیں گے شاید ن لیگ والوں کوہمارےجواب کاعلم تھا۔

  • شہبازشریف کل چوہدری برادران کی منتیں کرنے ان کے گھرجائیں گے:دونوں طرف سے طئے

    شہبازشریف کل چوہدری برادران کی منتیں کرنے ان کے گھرجائیں گے:دونوں طرف سے طئے

    لاہور: شہبازشریف کل چوہدری برادران کی منتیں کرنے ان کے گھرجائیں گے:دونوں طرف سے طئے،اطلاعات ہیں کہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے اعلان کے بعد سیاسی رابطے تیز ہو گئے ہیں، لیگی صدر شہباز شریف کی چودھری برادران سے کل ملاقات کرینگے۔اور چوہدری برادران کی منتیں‌ کریں‌گے کہ کسی نہ کسی طرح‌ ہماری جان عمران خان سے چھڑوا دیں اگرآپ نے مدد نہ کی تو پھر وہ خان ہمیں نہیں چھوڑے گا

    یاد رہے کہ گزشتہ روز پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے وزیراعظم عمران خان کے تحریک عدم اعتماد کا لانے کا اعلان کیا ہے جس کے بعد سیاسی ماحول میں گرم ہو گیا ہے، سیاسی رہنما ایک دوسرے کے ساتھ رابطوں میں تیزی لا رہے ہیں۔

    دوسری طرف قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کل چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویز الٰہی سے ملاقات کریں گے جس کے کے امور فائنل کر لیے ہیں، آج رات ملاقات کے شیڈول کو حتمی شکل دی جائے گی۔لیگی صدر ق لیگ کے سربراہ چودھری شجاعت حسین کی تیمارداری کے لئے کل ان کی رہائش گاہ پہنچیں گے اور ملاقات میں سیاسی معاملات پر بات چیت کریں گے۔

    ادھر اس حوالے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ چوہدری پرویز الٰہی نے ایم کیو ایم کے وفد کی ملاقات کے باقاعدہ اعلان کیا تھا کہ وہ کل بھی عمران خان کے ساتھ تھے اور مستبقل میں بھی عمران خان کے ساتھ کھڑے رہیں‌ گے

    ادھر اس حوالے سے پاکستان مسلم لیگ کے ذرائع نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ جو بات چوہدری برادران نے واضح کردی ہے وہ ہی پارٹی کی پالیسی ہے اور شہبازشریف کو نامراد لوٹنا پڑے گا کیوں کہ چوہدری برادران جس سے زبان کرتے ہیں اس پر پورا اترتے ہیں

  • شہبازشریف کی جیل نہ جانے کی کوششیں دم توڑنے لگیں

    شہبازشریف کی جیل نہ جانے کی کوششیں دم توڑنے لگیں

    اسلام آباد: شہبازشریف کی جیل نہ جانے کی کوششیں دم توڑنے لگیں ،اطلاعات کے مطابق عدم اعتماد کے لیے حکومتی اتحادیوں کی حمایت حاصل کرنا اپوزیشن کے لیے ایک چیلنج بن گیا ہے۔اور شہبازشریف کی جعلی اکاونٹس اور مقصود چپڑاسی سمیت دیگرلوگوں کے ذریعے غیرقانونی رقوم کی غیرقانونی منتقلی کیس میں سزا سے بچاو کی کوششیں ناکام نظرآتی ہیں اور اب شہبازشریف کو بڑا غمگین ہوتے دیکھا جارہا ہے ،

    ذرائع کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف اپوزیشن کی جانب سے ممکنہ تحریک عدم اعتماد لایا جانا خود ایک چیلنج بن گیا ہے کیوں کہ حکومتی اتحادیوں کے بغیر تحریک لانے کے امکانات معدوم نظر آتے ہیں۔

    ذرائع ق لیگ نے بتایا ہے کہ پارٹی حلقوں میں اپوزیشن کا ساتھ دینے سے متعلق سوالات اٹھ چکے ہیں، اراکین کہہ رہے ہیں کہ اسپیکر شپ اور وزارتیں تو پہلے ہی سے پارٹی کو حاصل ہیں، ایسے میں اپوزیشن اس سے بڑھ کر کیا دے گی۔

    ذرائع ق لیگ کے مطابق اراکین نے اہم سوال اٹھایا ہے کہ اربوں روپے کے فنڈز اور حکومت کو چھوڑ کر اپوزیشن کا ساتھ کیوں دیا جائے؟ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومتی اتحادی قبل از وقت انتخابات کے بھی مخالف ہیں۔

    واضح رہے کہ ن لیگ کے سینئر نائب صدر شاہد خاقان عباسی خود تسلیم کر چکے ہیں کہ اتحادی ریاست کے ساتھ ہیں، تاہم جنرل سیکریٹری احسن اقبال کابینہ کے پانچ وزرا کو ساتھ ملانے کا دعویٰ کر چکے ہیں۔

    ادھر حکومت کی جانب سے بھی تحریک عدم اعتماد کے خلاف تیاریاں کی جا رہی ہیں، اپوزیشن کی جانب سے رواں ماہ اسپیکر قومی اسمبلی کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے کے اعلان پر اتحادیوں سے بیک ڈور رابطے شروع کر دیے ہیں۔

    اپوزیشن کی جانب سے 3 مراحل پر مشتمل تحریک عدم اعتماد کا منصوبہ سامنے آ چکا ہے، اسپیکر اسد قیصر کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کی جائے گی، اور وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد آخری مرحلے میں لائی جائے گی۔لیکن آج کی اطلاعات کے مطابق اپوزیشن اب سیاسی بیان بازی کے ذریعے سیاسی ماحول رکھنے کی کوشش کریں گے

    یاد رہے کہ شہبازشریف اورحمزہ شہباز کی منی لانڈرنگ کیس میں‌ گرفتاری یقینی ہے اور اس گرفتاری سے بچنے کے لیے شہبازشریف حکومت پر دباو بڑھانا چاہتے ہیں اور ان کی یہ خواہش ہے کہ عمران خان وزیراعظم نہ رہے ورنہ کپتان نہیں چھوڑے گا

    دوسری طرف اپوزیشن کو عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کے لیے مطلوبہ تعداد نہیں مل رہی جس کی وجہ سے شہبازشریف بہت مایوس دکھائی دے رہے ہیں‌

  • ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے:اب شہبازشریف کی جہانگیرترین سےملاقات کی آخری خواہش

    ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے:اب شہبازشریف کی جہانگیرترین سےملاقات کی آخری خواہش

    لاہور:شہبازشریف نےآخری امید سے امید لگالی:جہانگیرخان ترین سے ملاقات کی خواہش کردی ،اطلاعات کے مطابق ملک میں سیاسی رابطوں میں تیزی آگئی ہے اور اب اپوزیشن جماعت مسلم لیگ (ن) اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین گروپ کے درمیان بھی رابطہ ہوا ہے۔

    ادھر اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف اور جہانگیر ترین کے خصوصی نمائندوں کا رابطہ ہوا ہے اور یہ رابطہ کئی روز سے جاری ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ چند دنوں میں شہباز شریف کا جہانگیر ترین سے رابطے کا امکان ہے اور ساتھ ہی آئندہ چند روز میں شہباز شریف کی جہانگیر ترین سے ملاقات کا بھی امکان ہے۔

    خیال رہے کہ گزشتہ روز بھی مسلم لیگ (ن) نے حکومتی اتحاد میں شامل مسلم لیگ (ق) سے رابطہ کیا تھا اور جلد ہی شہباز شریف اور چوہدری برادران میں ملاقات کا امکان ہے۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل ایم کیو ایم پاکستان کے وفد نے ن لیگ کے نائب صدر شہبازشریف سے ملاقات کی تھی اوراس ملاقات میں شہبازشریف کی طرف سے تمام آپشنز کو مسترد کرتے ہوئے یہ اعلان کیا تھا کہ وہ عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے اس اعلان کے بعد ن لیگ کے غبارے سے ہوا نکل گئی

    اس کے بعد شہبازشریف کی طرف سے چوہدری برادران سے ملاقات کی خواہش کا اظہارکیا گیا ابھی یہ ملاقات ہوئی نہیں ہے لیکن چوہدری پرویز الٰہی نے ن لیگ پر واضح کردیا کہ وہ حکومت کے ساتھ بہتر انداز سے چل رہے ہیں اور آگے بھی حکومت کے ہی اتحادی رہیں گے اس کےبعد ن لیگ میں مایوسی دوڑ گئی ہے اوراب جہانگیرخان ترین سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا ہے

  • نواز شریف کے حکم پرمولانا فضل الرحمان نے پی ڈی ایم کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا

    نواز شریف کے حکم پرمولانا فضل الرحمان نے پی ڈی ایم کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا

    اسلام آباد:نواز شریف کے حکم پرمولانا فضل الرحمان نے پی ڈی ایم کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا،اطلاعات کے مطابق میاں نواز شریف سے ٹیلیفونک گفتگو کے بعد مولانا فضل الرحمان نے پی ڈی ایم کا ویڈیو لنک پر ہنگامی اجلاس 11 فروری کو طلب کر لیا۔

    تفصیلات کے مطابق سابق وزیر اعظم نواز شریف کا پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے حکومت کے خلاف مؤثر پیش قدمی کے معاملے پر اتفاق کیا۔اس دوران نوازشریف نے مولانا کو پابند کیا کہ وہ جلد از جلد پی ڈی ایم کا اجلاس بلائیں‌

    ذرائع کے مطابق نواز شریف نے ٹیلی فون کر کے مولانا فضل الرحمان کو اپنی پارٹی کی ایگزیکٹو کونسل کے فیصلوں پر اعتماد میں لیا، دونوں رہنماؤں نے پی ڈی ایم کا اجلاس فوری طلب کر کے حکومت مخالف تحریک کو مزید فعال بنانے کے علاوہ پی ٹی آئی حکومت پر فیصلہ کن وار کرنے کے لیے مختلف تجاویز پر تبادلۂ خیال بھی کیا۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ نواز کی ایگزیکٹو کونسل کی جانب سے میاں نواز شریف کو حکومت مخالف تحریک کے لیے مکمل اختیار دینے کے بعد نواز شریف نے معاملے کو پی ڈی ایم کی قیادت کے سامنے رکھنے کے لیے پی ڈی ایم کے ہنگامی اجلاس بلانے کی تجویز دی، جس پہ مولانا نے 11 فروری کو ویڈیو لنک پر پی ڈی ایم کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا۔

    مولانا فضل الرحمان خود لاہور سے میاں شہباز شریف کے ہمراہ اجلاس کی صدرات کریں گے، اجلاس میں وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد سمیت دیگر امکانات پر غور کیا جائے گا۔

    ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان 10 فروری کی رات لاہور پہنچ جائیں گے، تین روزہ دورۂ لاہور کے دوران وہ پی ڈی ایم کے اجلاس میں شرکت کے علاوہ شہباز شریف اور مریم نواز سے اہم ملاقات بھی کریں گے، شہباز شریف مولانا کو عشائیہ بھی دیں گے۔

    مولانا دورۂ لاہور کے دوران چوہدری شجاعت حسین اور پرویز الہٰی سے بھی ملیں گے، چوہدری شجاعت کی خیریت دریافت کریں گے اور موجودہ سیاسی صورت حال پر تبادلۂ بھی خیال کریں گے۔