Baaghi TV

Tag: شہبازشریف

  • کلائمیٹ کونسل موسمیاتی تبدیلی کے مختلف پہلوؤں پر کام کرے گی:وزیراعظم شہباز شریف

    کلائمیٹ کونسل موسمیاتی تبدیلی کے مختلف پہلوؤں پر کام کرے گی:وزیراعظم شہباز شریف

    وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کلائمیٹ کونسل موسمیاتی تبدیلی کے مختلف پہلوؤں پر کام کرے گی۔تفصیلات کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے ایک پیغام میں کہا کہ پاکستان کلائمیٹ کونسل کو موسمیاتی تبدیلی پر مؤثر قومی حکمت عملی وضع کرنے کے لیے کوششوں کو ہم آہنگ کرنے کا کام سونپا گیا ہے۔

    امریکی سائنسدانوں نے کرونا وائرس کا ایک نیا مہلک اور انتہائی خطرناک وائرس ایجاد…

    وزیر اعظم شہباز شریف نے مزید کہا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ ہم آہنگی کرتے ہوئے پاکستان کلائمیٹ کونسل موسمیاتی تبدیلی کے مختلف پہلوؤں پر کام کرے گی جیسے کہ تخفیف، موافقت اور موسمیاتی فنانس۔واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے موسمیاتی تبدیلی کونسل کو مکمل فعال ادارہ بنانے کی ہدایات جاری کردی ہیں۔

    اوپیک پلس کے فیصلے، پاکستان کا سعودی عرب کے ساتھ اظہارِ یکجہتی

    وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق مستقبل میں موسمیاتی خطرات کی نشاندہی اور قومی سطح پر جامع پلان تیار کیا جائے۔شہباز شریف نے کہا کہ ماحولیاتی مسائل سے نمٹنے اور بروقت تیاری کے لئے مستقل بنیادوں پر وفاقی اور تمام صوبائی حکومتوں کا اشتراک عمل تیار کیا جائے۔

    لاہور:چڑیا گھر کے شیروں اور شیرنیوں کے ڈی این اے کروانے کا فیصلہ

    وزیراعظم کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کونسل مشترکہ مفادات کونسل کی طرز پر بنائی گئی تھی جس میں وفاق اور تمام صوبائی متعلقہ اسٹیک ہولڈرز شامل ہیں۔شہباز شریف نے موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت کے حامل گھروں اور انفرا اسٹرکچر کی تعمیر کے لئے نیشنل پلان بنانے کی بھی ہدایت دے دی۔

  • ریاستی قوت کے استعمال کے باوجود سرخرو ہوئے،شہباز شریف کا بریت پر ردعمل،ٹویٹ کردی

    ریاستی قوت کے استعمال کے باوجود سرخرو ہوئے،شہباز شریف کا بریت پر ردعمل،ٹویٹ کردی

    اسلام آباد:لاہور کی اسپیشل کورٹ نے ایف آئی اے منی لانڈرنگ کیس میں وزیراعظم شہباز شریف اور ان کے بیٹے سابق وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کو بری کردیا۔ٹویٹ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ریاستی قوت کے استعمال کے باوجود سرخرو ہوئے

     

    میری قوم کے بچوں کو اسکولوں میں سیرت النبیﷺ پڑھانے کی ضرورت ہے،عمران خان

    عدالت سے بریت کے بعد اپنی ٹوئٹ میں وزیراعظم کا کہنا تھاکہ حق ذات نے پھر فضل فرمایا اور منی لانڈرنگ کے جھوٹے، بے بنیاد، سیاسی انتقام پر مبنی مقدمے سے بریت کا یہ دن دکھایا جس پر اللہ تعالیٰ کا جتناشکر اداکریں، کم ہے۔

     

    انہوں نے کہا کہ بدترین چیرہ دستیوں، ریاستی قوت کے استعمال اور اداروں کو یرغمال بنانے کے باوجود ہم عدالت، قانون اور عوام کے سامنے سرخرو ہوئے۔

    آئی ایم ایف سے کیے گئے وعدے پورے کریں گے:وزیرخزانہ اسحاق ڈار

    یاد رہے کہ لاہور کی خصوصی عدالت نے وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) کی جانب سے بنائے گئے منی لانڈرنگ کے مقدمے میں وزیر اعظم شہباز شریف اور ان کے صاحبزداے اور سابق وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کی درخواستیں منظور کرتے انہیں مقدمےمیں بری کردیا۔

    پاکستان میں مہنگائی، بیروزگاری میں خطرناک حد تک اضافہ:معاملات مزید خراب ہوسکتے…

    خصوصی عدالت کے جج اعجاز اعوان نے سماعت کے بعد محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا اور شہباز شریف اور حمزہ شہباز کو منی لانڈرنگ کے مقدمے سے بری کیا اور کہا کہ عدالت نے بریت کی درخواستیں منظور کر لی ہیں۔

    لاہور کی خصوصی عدالت کی جانب سے صدر مسلم لیگ (ن) اور وزیراعظم شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی بریت کا فیصلہ سنائے جانے کے بعد کارکنانِ نے جشن منانا شروع کردیا اور ڈھول کی تھاپ پر ڈانس کیا اوربھنگڑے ڈالے۔

  • سیلاب نے کچھ نہیں چھوڑا:اس مشکل گھڑی میں عالمی برادری ہمارے ساتھ کھڑی ہو اور مدد کرے:شہبازشریف

    سیلاب نے کچھ نہیں چھوڑا:اس مشکل گھڑی میں عالمی برادری ہمارے ساتھ کھڑی ہو اور مدد کرے:شہبازشریف

    اسلام آباد:وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ امریکہ پاکستان کا بڑا تجارتی شراکت دار ہے، باہمی اعتماد، احترام اور ہم آہنگی کی بنیاد پر دوستانہ روابط کو فروغ دینے کے خواہاں ہیں، امریکہ نے مشکل حالات میں پاکستان کی مدد کی ہے، پاک۔امریکہ تعلقات کو چین اور افغانستان کے تناظر سے نہیں دیکھنا چاہئے، ملک میں حالیہ سیلاب سے تباہی دستیاب وسائل سے بہت زیادہ ہے، سیلاب متاثرین کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے ہر ممکن اقدامات کر رہے ہیں، اس مشکل گھڑی میں عالمی برادری ہمارے ساتھ کھڑی ہو اور مدد کرے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو پاک۔امریکہ تعلقات کی 75ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے سفارتی تعلقات کی تقریب میں شرکت پر خوشی ہوئی ہے، امریکہ اور پاکستان کے تعلقات 75 سال پر محیط ہیں، دونوں ممالک کے تاریخی اور دوستانہ تعلقات باہمی اعتماد پر مبنی ہیں، امریکہ پاکستان کو سب سے پہلے تسلیم کرنے والے ممالک میں شامل ہے، دونوں اطراف سے تعلقات کو بہتر بنانے کیلئے کردار ادا کیا جاتا رہا ہے، امریکہ کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو فروغ دینے کے خواہاں ہیں، پاک۔امریکہ تعلقات کو چین اور افغانستان کے تناظر سے نہیں دیکھنا چاہئے،

    امریکہ نے مختلف پروگراموں اور منصوبوں کے ذریعے مشکل حالات میں پاکستان کی مدد کی۔ انہوں نے کہا کہ جب پاکستان میں بجلی کی شدید قلت تھی تو سابق وزیراعظم نواز شریف نے انتہائی مشکل معاشی حالات میں 5 ہزار میگاواٹ بجلی بنانے کا فیصلہ کیا، عمران خان کے دھرنے کی وجہ سے سی پیک متاثر ہوا، سی پیک منصوبے متاثر ہونے پر عوامی ردعمل کا سامنا کرنا پڑا، امریکی کمپنی نے ان حالات میں 3500 میگاواٹ بجلی کی پیداوار کیلئے پاکستان میں سرمایہ کاری کی اور تیز رفتاری اور شفافیت کے ساتھ بجلی کی پیداوار کے منصوبے لگائے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم ان دوستانہ تعلقات کو فروغ دینے کے خواہاں ہیں، ماضی کو بھلا کر سنجیدہ بات چیت کے ذریعے آگے بڑھا جا سکتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ نیویارک میں امریکی صدر جوبائیڈن اور وزیر خارجہ بلنکن کے ساتھ مفید ملاقات ہوئی اور سیلاب متاثرین کیلئے 53 ملین ڈالر امداد اور اظہار ہمدردی پر ان کا شکریہ ادا کیا، امریکی وزیر خارجہ نے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ ملاقات میں بھی سیلاب متاثرین کی مدد کا عزم ظاہر کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ سیلاب سے ہونے والی تباہی بہت زیادہ ہے، پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے، حالیہ تباہ کن سیلاب کی موجب موسمیاتی تبدیلی میں پاکستان کا کوئی کردار نہیں ہے،کاربن گیسوں کے اخراج میں پاکستان کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے، قدرتی آفت کا ہم کسی کو ذمہ دار نہیں ٹھہراتے۔

    انہوں نے کہا کہ امریکہ پاکستان کا بڑا تجارتی شراکت دار ہے، ماضی میں امریکہ نے پاکستان میں 32 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی، اگر منصوبہ بندی اور مناسب نگرانی میں سرمایہ کاری کو استعمال کیا جاتا تو آج ہم کسی کے سامنے ہاتھ نہ پھیلاتے، پاکستانی ایک مضبوط قوم ہے، یہاں کے لوگ پڑھے لکھے اور محنتی ہیں، ہم معاشی طور پر اپنے پائوں پر کھڑا ہونا چاہتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ سیلاب سے پاکستان میں 4 ملین ایکڑ پر کھڑی کپاس، چاول، گنے اور کھجور کی فصلیں تباہ ہو گئی ہیں، 400 بچوں سمیت 1600 افراد جاں بحق ہوئے، 10 لاکھ سے زائد گھر تباہ اور لاکھوں مویشی ہلاک ہوئے ہیں، سیلاب متاثرین خیموں اور کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہیں اور وہ امداد کے منتظر ہیں۔

    وزیراعظم نے کہا کہ سیلاب متاثرین کو ریلیف فراہم کرنا حکومت اور اداروں کی ذمہ داری ہے، سیلاب متاثرین کیلئے ہر ممکن اقدام کر رہے ہیں تاہم تباہی دستیاب وسائل سے بہت زیادہ ہے، سیلاب متاثرین کی طلب و رسد میں واضح طور پر فرق موجود ہے، ابھی سیلاب متاثرین کی بحالی اور آبادکاری کا مرحلہ باقی ہے، چاہتے ہیں عالمی برادری اس مشکل گھڑی میں ہمارے ساتھ کھڑی ہو اور بنیادی ڈھانچہ کی تعمیر میں مدد کرے، زراعت، انڈسٹری اور دیگر شعبوں کی بحالی میں معاونت کی جائے، ہم رقم نہیں عوام کی بحالی کیلئے اقدامات چاہتے ہیں۔

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

  • وزیر اعظم شہباز شریف سے سعودی سفیر نواف سعید المالکی کی ملاقات

    وزیر اعظم شہباز شریف سے سعودی سفیر نواف سعید المالکی کی ملاقات

    اسلام آباد:وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے فروغ کا خواہاں ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر نواف سعید المالکی سے گفتگو کرتے ہوئے کیا جنہوں نے منگل کو یہاں ان سے ملاقات کی۔

    وزیراعظم نے خادم الحرمین الشریفین سلمان بن عبدالعزیز السعود اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ وزیر اعظم نے سعودی ولی عہد کے ساتھ ٹیلی فون پر اپنی حالیہ گفتگو کا ذکرکیا اور کہا کہ مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید مستحکم کرنے کی مشترکہ خواہش ہے۔ دوطرفہ تعلقات میں اضافہ کی رفتار کو برقرار رکھنے کے لئے وزیر اعظم نے مختلف سطحوں پر باقاعدہ دوطرفہ تبادلوں کی اہمیت پر زور دیا۔

    وزیراعظم نے سعودی عرب کی طرف سے امدادی امداد کی فراہمی سمیت پاکستان میں سیلاب زدگان کے لئے بھرپور حمایت کے اظہار پر سعودی عرب کی قیادت اور عوام کا شکریہ ادا کیا۔ وزیراعظم نے امدادی سرگرمیوں میں سعودی عرب کے سفیر کے اہم کردار کو بھی سراہا جنہوں نے ذاتی طور پر سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    ہاد رہے کہ اس سے پہلے اپنے دورہ امریکا اور اقوام متحدہ اسمبلی میں خطاب سے متعلق نیوز کانفرنس کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ سمرقند میں حوصلہ افزا میٹنگ ہوئیں، چین، روس کے صدور سے بھی ملاقاتیں ہوئیں، سیلاب نے بہت تباہی مچائی،سمرقند میں عالمی لیڈروں کوسیلاب کی تباہی بارے آگاہ کیا، عالمی برادری نے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی، نیویارک میں بھی عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں ہوئیں۔

  • عالمی برادری کوپاکستان میں سیلاب کی تباہی سےآگاہ کیا؛سب نےمددکرنےکی یقین دہانی کرائی: شہبازشریف

    عالمی برادری کوپاکستان میں سیلاب کی تباہی سےآگاہ کیا؛سب نےمددکرنےکی یقین دہانی کرائی: شہبازشریف

    اسلام آباد: عالمی برادری کوپاکستان میں سیلاب کی تباہی سے آگاہ کیا؛سب نے مدد کرنے کی یقین دہانی کرائی: اطلاعات کے مطابق اپنے دورہ امریکا اور اقوام متحدہ اسمبلی میں خطاب سے متعلق نیوز کانفرنس کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ سمرقند میں حوصلہ افزا میٹنگ ہوئیں، چین، روس کے صدور سے بھی ملاقاتیں ہوئیں، سیلاب نے بہت تباہی مچائی،سمرقند میں عالمی لیڈروں کوسیلاب کی تباہی بارے آگاہ کیا، عالمی برادری نے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی، نیویارک میں بھی عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں ہوئیں۔

    انہوں نے کہا کہ سیلاب سے 1600 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے، قدرتی آفت سے 30 ارب ڈالر کے لگ بھگ نقصانات ہوئے ہیں، جس کا میں نے ہر اجلاس میں چاہے وہ ایران کے صدر یا فرانس کے صدر، بیلجیم اور جاپان کے وزرائے اعظم ہوں اور امریکی صدر جوبائیڈن سےبھی ملاقات کی اور پاکستان کے ساتھ اظہار ہمدردی پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ جنرل اسمبلی میں کشمیر، اسلاموفوبیا، فلسطین کے حوالے سے پاکستان کا موقف پیش کیا،مقبوضہ کشمیرمیں مسلمانوں کے ساتھ ظلم کیا جارہا ہے،کاربن کے اخراج میں پاکستان کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے، جنرل اسمبلی میں پاکستان کا بھرپورموقف پیش کیا، بلاول بھٹوکی بھرپورمعاونت شامل تھی۔ کاربن کے اخراج میں پاکستان کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے،پاکستان میں سیلاب ہمارے ناکردہ گناہوں کی سزا ہے۔

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ گزشتہ حکومت میں خارجہ پالیسی کا بیڑہ غرق کیا گیا،آج پاکستان عالمی تنہائی سے باہر نکل آیا ہے،گواہ ہوں دوست ممالک نے جوالفاظ کیے اسے دہرا نہیں سکتا، دوست ممالک نے وہ الفاظ بتائے توآپ لوگوں کو پسینہ آجائے گا،عمران خان اپنے آپ کو آئن اسٹائن اور عقل کل سمجھتے تھے، اب موجودہ حکومت نے باہمی اتحاد سے ملک کوعالمی تنہائی سے نکال دیا ہے، پلے کچھ نہ ہونا، مظاہرہ ایسے کرنا جیسے عالمی پہلوان ہو،ملکی معیشت کا آپ نے جنازہ نکال دیا، دوست ممالک کے سربراہان کوآپ ایسے ملتے ہیں جیسے وہ آپ سے امداد مانگنے آئے ہوں۔

    آڈیو لیکس سے متعلق وزیر اعظم نے کہا کہ آڈیولیکس کامعاملہ بہت سنجیدہ ہے، اس طرح کے سیکیورٹی بریچ بہت بڑا سوالیہ نشان ہیں، یہ وزیراعظم ہاؤس کی نہیں ریاست پاکستان کے وقارکی بات ہے، اس معاملے پر کمیٹی بنارہا ہوں، جو اس معاملے کی تہہ تک پہنچےگی، حقائق عوام کے سامنے رکھیں گے۔وزیر اعظم نے کہا کہ مریم نواز نے مجھ سے اپنے داماد کے لیے سفارش کا نہیں کہا، مریم نواز نے مشینری مریم نواز کے داماد نے آدھی مشینری عمران خان دور میں منگوائی تھی، اگر کوئی فیور دی ہے تو جو سزا دیں گے قبول کرلوں گا۔

    شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان نیوکلیئرطاقت ہے کوئی میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا،گزشتہ حکومت نے معیشت کا حلیہ بگاڑدیا، تنکا تنکا جوڑ رہے ہیں، ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بھاشن دینے سے نہیں، باہمی احترام سے دوسروں سے بات کرنی چاہیے، ایک ہاتھ میں کشکول اوردوسرے ہاتھ سے آپ دوسروں کودھتکاررہے ہو،برطانیہ کی دعوت پر ملکہ الزبتھ کی آخری رسومات پر گیا تھا، پرنس چارلس نے پاکستان کے حوالے سے بڑے اچھے الفاظ ادا کیے،پرنس چارلس نے سیلاب کے حوالے سے بھی ہمدردی کا اظہارکیا، برطانیہ نے15ملین پاؤنڈ امداد دینے کا اعلان کیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ بھارت کے اندر مسلمانوں کے ساتھ جو ناروا سلوک ہے، اس کی بھرپور مذمت کی اور بتایا وہاں مسلمانوں کی زندگی تنگ ہے، کشمیر کے اندر ظلم وستم جاری ہے، 5 اگست 2019 کو خصوصی آرٹیکل ختم کردیا ہے اور اسی طرح ہم نے پاکستان کا مؤقف بھرپور پیش کیا، جس میں وزیرخارجہ بلاول بھٹو میرے ساتھ تھے، ان کے علاوہ شیری رحمٰن اور مریم اورنگزیب کی کاوشیں تھیں۔

  • پی ٹی آئی کی وجہ سےپاک امریکہ تعلقات خراب ہوئے:شہبازشریف کا امریکی خبررساں ادارے کوانٹرویو

    پی ٹی آئی کی وجہ سےپاک امریکہ تعلقات خراب ہوئے:شہبازشریف کا امریکی خبررساں ادارے کوانٹرویو

    نیویارک: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان امریکا کے ساتھ اچھے اور پرجوش تعلقات چاہتا ہے۔ عمران خان کی گزشتہ حکومت نے اس سلسلہ میں جو کچھ کیا وہ سب غیرضروری تھا اور یہ پاکستان کے خودمختار مفادات کیلئے نقصان دہ تھا۔

    امریکی خبررساں ادارے کو دیئے گئے انٹرویو میں وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے ایک بار پھر عالمی برادری سے سیلاب متاثرین کی بحالی کیلئے ساتھ دینے کی اپیل کی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ سیلاب سے پاکستان میں بہت تباہی ہوئی عالمی مدد سے سیلاب متاثریں کی بحالی ممکن ہوگی، جن ممالک کے پاس وسائل ہیں اور انہیں اللہ نے استطاعت دی ہے انہیں آگے بڑھنا چاہیے اور ریسکیو، ریلیف اور بحالی کی کوششوں میں حصہ ملانا چاہیے، یہ بہت ضروری ہے۔

    انہوں نے یہ بھی کہا کہ تین ماہ کی سیلابی تباہی سے پاکستان کی معیشت کو 30 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان پہنچا ہے، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے فوری ڈونر کانفرنس کے انعقاد کی استدعا کی ہے۔ پاکستان پر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات بہت زیادہ ہیں، سیکڑوں بچوں سمیت 1600 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے، چالیس لاکھ ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہوئیں، لاکھوں مکانوں کو نقصان پہنچا، ان کی زندگی کی جمع پونجی ختم ہوگئی، ہزاروں کلومیٹر سڑکیں تباہ ہوگئیں، ریلوے پل، ریلوے ٹریک، مواصلات کا نظام درہم برہم ہوگیا۔ اس سب کی بحالی کیلئے فنڈز درکار ہیں۔ پاکستان عالمی حدت کا سبب بننے والے عالمی حدت کا ایک فیصد سے بھی کم اخراج کا ذمہ دار ہے۔

    ایک سوال کے جواب میں شہباز شریف نے کہا کہ جون کے وسط میں سیلاب شروع ہونے سے پہلے پاکستان میں اناج کی قلت اور خام تیل کی آسمان کو چھوتی قیمتوں کی وجہ سے شدید چیلنجز کا سامنا تھا جو بنیادی طور پر روس یوکرین تنازع کی وجہ سے ہواتھا۔ آسمان کو چھوتی تیل کی قیمتوں کی وجہ سے اس کی درآمد ہماری استعداد سے باہر ہوگئی تھی، بڑے پیمانے پر سیلاب سے ہونے والی تباہی نے ان چیلنجز کو مزید بڑھا دیا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ دنیا بھر سے ملنے والی امداد کو انتہائی مضبوط اور شفاف طریقہ کار کے تحت ضرورت مند لوگوں تک پہنچایا جائے گا جب کہ بین الاقوامی معروف کمپنیوں کے ذریعے تھرڈ پارٹی آڈٹ بھی یقینی بنایا جائے گا۔ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ اور ورلڈ بینک کے اعلی حکام سے ملاقات میں سیلاب کی صورت حال بہتر ہونے تک پاکستان کے ذمہ واجب الادا قرضوں کی ادائیگی اور دیگر شرائط کو موخر کرنے کی اپیل کی۔ اس کے پاکستان کی معیشت اورعوام پر اچھے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ اس ضمن میں وہ بہت معاون لگ رہے تھے۔

    شہباز شریف نے کہا کہ بھارت کے ساتھ پر امن پڑوسی کی طرح رہنا چاہتے ہیں۔ دونوں ممالک کشمیر کا تنازع مذاکرات سے حل کرسکتے ہیں۔ ہمیں لوگوں کو کھلانے کے لیے وسائل درکار ہیں۔ تعلیم کے لیے، نوکریوں کے مواقع دینے کے لیے، طبی سہولیات دینے کے لیے، بھارت اس کا متحمل نہیں ہوسکتا کہ اسلحے اور دفاعی سامان کی خریداری پر پیسہ خرچ کرے پاکستان بھی (متحمل) نہیں ہوسکتا۔

    کشمیر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ بھارت کو سمجھنا چاہئے کہ جب تک کشمیر کا سلگتا ہوا تنازع پرامن مذاکرات کے ذریعے حل نہیں کیا جاتا ہم امن سے نہیں رہ سکتے۔

    شہباز شریف نے مزید کہا کہ افغانستان میں امن کا نادر موقع ہے ، افغانستان میں پرامن حالات پاکستان میں بھی امن کی ضمانت ہیں۔ طالبان کے پاس دوحہ معاہدے کی پاسداری کرکے لوگوں کیلئے امن اورترقی کو یقینی بنانے کا ایک سنہری موقع ہے، افغانستان کے منجمد اثاثے بحال کرنے کی ضرورت ہے۔

    پاک امریکا تعلقات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ پاکستان امریکا کے ساتھ اچھے اور پرجوش تعلقات چاہتا ہے۔ عمران خان کی گزشتہ حکومت نے اس سلسلہ میں جو کچھ کیا وہ سب غیرضروری تھا اور یہ پاکستان کے خودمختار مفادات کیلئے نقصان دہ تھا، یہ سب کچھ پاکستان کے عوام کی توقعات کے مطابق نہیں تھا۔

  • وزیراعظم اور وزیر خارجہ کا دورہ نیویارک:ملاقاتیں ہی ملاقاتیں:تحریر:-نعمان سلطان

    وزیراعظم اور وزیر خارجہ کا دورہ نیویارک:ملاقاتیں ہی ملاقاتیں:تحریر:-نعمان سلطان

    وزیراعظم پاکستان جناب شہباز شریف صاحب نے منصب وزارت سنبھالنے کے بعد 19 ستمبر سے 23 ستمبر تک اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 77ویں اجلاس میں شرکت کرنے کے لئے نیویارک کا ایک انتہائی اہم دورہ کیا، اپنے اس دورے کے دوران انہوں نے انفرادی طور پر اور اپنے وفد کے ساتھ دیگر ممالک کے اپنے ہم منصب وزراء اعظم، صدور اور اہمیت کے حامل دیگر افراد اور وفود کے ساتھ ملاقاتیں کیں جبکہ آپ نے 23 ستمبر کو جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب کے دوران اقوام عالم کو متاثرین سیلاب اور سیلاب سے ہونے والے نقصانات کے علاوہ ترقی یافتہ ممالک کی جانب سے فضائی آلودگی کی وجہ سے موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے دیگر ممالک کو ہونے والے نقصانات اور مسئلہ کشمیر کے بارے میں پاکستانی موقف سے آگاہ کیا ۔

    وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے دورہ نیویارک کی ابتداء اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی طرف سے دئیے جانے والے استقبالیے میں شرکت کر کے کی اور فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون سے بھی ملاقات کی ۔اس دوران وزیراعظم نے گلوبل فوڈ سکیورٹی سمٹ میں بھی شرکت کی ، گلوبل فوڈ سکیورٹی سمٹ کا اہتمام سینیگال اور افریقی یونین کے صدر نے کیا ہے۔

    21 ستمبر کو وزیراعظم کی عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی منیجنگ ڈائریکٹر (ایم ڈی) اور ورلڈ بینک کے صدرسے ملاقات ہوئی اس کے علاوہ انہوں نے ترک صدر، ایرانی صدر اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر سے بھی ملاقاتیں کیں ۔21 ستمبر کو شہباز شریف نے امریکی صدر جو بائیڈن کی طرف سے منعقدہ عشائیہ میں شرکت کی ۔ ترک صدر اور ان کی اہلیہ کے اعزاز میں ظہرانہ دیا ، فن لینڈ کے صدر سعالی نوسیتو سے بھی ملاقات کی ۔

    22 ستمبر کو مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس سے بھی ملاقات کی اور شہباز شریف اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیوگوتیرس سے دفتر میں ملے،چینی وزیراعظم، جاپانی وزیراعظم، لگسمبرگ کے وزیراعظم، ملائیشین وزیراعظم اسماعیل صابری یعقوب سے بھی شیڈول ملاقاتیں کیں ۔23 ستمبر کو وزیراعظم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کیا، اسی دن نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی سے بھی ملاقات کی ۔

    امریکا کے دورے کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے ممتاز امریکی اخبارات اور ذرائع ابلاغ کو انٹرویوز بھی دئیے ۔

    وزیراعظم نے فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون سے انتہائی اہمیت کی حامل ملاقات کی ہے۔ملاقات کے دوران وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری، وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل، وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب اور وزیر مملکت برائے خارجہ امور حنا ربانی کھر بھی موجود تھیں اس ملاقات کی اہمیت اس وجہ سے بڑھ جاتی ہے کہ گستاخانہ خاکوں والے معاملے کی وجہ سے پاکستان اور فرانس کے تعلقات نہایت کشیدہ ہو گئے تھے لیکن وزیراعظم نے تدبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے آپس کی غلط فہمیوں کو دور کیا اور فرانس میں دوبارہ پاکستان کا سفیر لگانے کا اعلان کیا تاکہ دونوں ممالک کے تعلقات میں موجود برف پگھلے اور اس کا فائدہ فرانس میں موجود پاکستانی تارکین وطن کو ہو۔

    ملک کے موجودہ معاشی بحران اور حالیہ سیلاب کی تباہ کاریوں کی وجہ سے پاکستان کی معیشت انتہائی دباؤ میں تھی اور ایسے میں آئی ایم ایف کی سخت شرائط پر حاصل کردہ قرضہ بھی حکومت کے لئے سردرد بنا ہوا تھا شہباز شریف صاحب نے صورتحال کا ادراک کرتے ہوئے نیویارک میں آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا سے ملاقات کی اور انہیں قائل کیا کہ موجودہ صورتحال میں پاکستان ایک آفت زدہ ملک ہے اور اس کے لئے آئی ایم ایف کی مشکل شرائط کو پورا کرنا نہایت مشکل ہے اس لئے براہ کرم پاکستان کی موجودہ صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے قرضے کی شرائط میں نرمی کی جائے اور پاکستان نے قرضے کی جو قسط ادا کرنی ہے اسے موخر کیا جائے اور انہوں نے شہباز شریف صاحب کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے ۔

    وزیراعظم نے ورلڈ بینک کے صدر جناب ڈیوڈ مالپاس سے اپنے وفد کے ہمراہ ملاقات کی اور متاثرین سیلاب کے لئے ورلڈ بینک کی جانب سے 320 ملین ڈالر کی امداد کے لئے شکریہ ادا کیا اس کے علاوہ انہوں نے ورلڈ بینک کے صدر کو موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہونے والے نقصانات سے آگاہ کیا ورلڈ بینک کے صدر نے وزیراعظم کی متاثرین سیلاب کی بحالی کے لئے کوششوں کو سراہا اور متاثرین کے لئے مزید 850 ملین ڈالر کی امداد کا وعدہ بھی کیا۔

    وزیراعظم شہباز شریف کی ذاتی کوششوں کی وجہ سے ترکیہ کے صدر جناب طیب اردگان نے جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب کے دوران مسئلہ کشمیر کو اٹھایا اور ابھی تک مسئلہ کشمیر کا کوئی پائیدار حل نہ ہونے پر افسوس کا اظہار کیا اس کے علاوہ انہوں نے ممبر ممالک پر زور دیا کہ وہ متاثرین سیلاب کی بحالی کے لئے پاکستان کے ساتھ بھرپور تعاون کریں ۔

    ایرانی صدر جناب سید ابراہیم رئیسی سے اپنی ملاقات کے دوران شہباز شریف نے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور اقتصادی تعاون بڑھانے کا اعادہ کیا اس کے علاوہ متاثرین سیلاب کی امداد اور مسئلہ کشمیر پر پاکستانی موقف کی حمایت کرنے پر ان کا شکریہ ادا کیا ۔
    جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر شہباز شریف صاحب کی سب سے اہم ملاقات امریکی صدر جناب جوبائیڈن سے ہوئی انہوں نے اس ملاقات کے دوران سیلاب زدگان کے لئے امریکہ کی طرف سے دی جانے والی امداد پر ان کا شکریہ ادا کیا اور انہیں آگاہ کیا کہ سیلاب آنے کی وجہ موسمیاتی تبدیلیاں ہیں جبکہ ان تبدیلیوں کی وجہ ہم نہیں بلکہ ترقی یافتہ ممالک ہیں انہوں نے شہباز شریف صاحب کے موقف کی حمایت کی اور اپنے جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران خصوصی طور پر سیلاب متاثرین سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ان کا ذکر کیا اور موسیماتی تبدیلیوں کی وجہ سے غیر ترقی یافتہ یا ترقی پذیر ممالک کو ہونے والے نقصانات کا ذکر کیا ۔

    وزیراعظم نے بل گیٹس سے ملاقات کی اور انہیں سیلاب سے ہونے والے نقصانات سے آگاہ کیا اور ان سے متاثرین سیلاب کے لئے آواز بلند کرنے کی درخواست کی ۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں سیلاب کی تباہ کاریوں، موسمیاتی تبدیلی، مسئلہ کشمیر، بھارت سے تعلقات، افغانستان کی صورتحال اور دہشتگردی کے معاملات پر بات کی، انہوں نے کہا کہ میرا دل اور دماغ اس وقت بھی پاکستان میں ہیں اور مجھے اس وقت وہیں ہونا چاہیے تھا لیکن میں آپ کو صرف یہ بتانے کے لئے یہاں آیا ہوں کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے جس صورتحال کا آج ہم شکار ہوئے ہیں کل کو آپ بھی ہو سکتے ہیں اس لئے اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیں اور اس کی پیش بندی کریں ۔
    انہوں نے سیلاب زدگان کی امداد کے لئے اقوام عالم کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ہم نے اپنے پاس موجود تمام وسائل متاثرین سیلاب کی امداد کے لئے وقف کر دئیے ہیں اور اصل مسئلہ آنے والی سردیوں سے پہلے متاثرین کی بحالی کا ہے جو کہ آپ تمام ممالک کے تعاون سے ہی ممکن ہے اس لئے مصیبت کی اس گھڑی میں پاکستان کو تنہا نہ چھوڑیں اور ہمارے ساتھ ہر ممکن تعاون کریں ۔

    اس کے علاوہ انہوں نے مسئلہ کشمیر کو اجاگر کیا اور کہا کہ جنگیں مسائل کا حل نہیں لیکن کسی کی شرافت اس کی بزدلی نہیں ہوتی ہم ہمسایوں کے ساتھ برابری کی سطح پر اچھے تعلقات چاہتے ہیں لیکن اس کی قیمت کشمیر کی صورت میں ادا نہیں کر سکتے اس لئے مسئلہ کشمیر کو کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں حل کیا جائے۔

    پاکستان کے وزیر خارجہ جناب بلاول بھٹو زرداری صاحب نے بھی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران انتہائی اہم ملاقات چین کے وزیر خارجہ وانگ یی سے کی اور اس ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا اور سیلاب زدگان کی امداد کے لئے ان کا شکریہ ادا کیا، اس کے علاوہ انہوں نے ناروے کی وزیر خارجہ اور امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمتی عمل ٹام ویسٹ سے بھی ملاقاتیں کیں، اوآئی سی رابطہ گروپ کے اجلاس سے خطاب میں بلاول بھٹو نے اسلاموفوبیا سے نمٹنے کے لیے اقوام متحدہ کے مندوب کے تقررکا مطالبہ کیا۔

    مجموعی طور پر وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ نیویارک انتہائی کامیاب رہا اس دورے کے دوران جہاں انہوں نے فرانس کے ساتھ سفارتی تعلقات کو دوبارہ سے بحال کیا وہیں انہوں نے تمام دوست ممالک کے ساتھ مل کر موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہونے والے نقصانات اور ان سے متاثر ہونے والے ممالک کے نقصانات کے ازالے کے لئے آواز اٹھائی، ان کی کامیاب سفارت کاری کی وجہ سے ترکیہ کے صدر جناب طیب اردگان نے اپنے خطاب کے دوران مسئلہ کشمیر کو اٹھایا، امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے موسمیاتی تبدیلیوں سے ہونے والے نقصانات کا ذکر کیا اور متاثرین سیلاب کی امداد کے لئے اپنے خطاب میں خصوصی درخواست کی اس کے علاوہ ان کی سفارتی کوششوں کی وجہ سے دوست ممالک نے متاثرین سیلاب کی بحالی تک ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کرائی یہ سب صرف شہباز شریف صاحب کی ذاتی کوششوں اور ملاقاتوں کی وجہ سے ممکن ہو سکا جس کے لئے وہ انتہائی مبارک باد کے مستحق ہیں ۔

  • اسحاق ڈار کا وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ پاکستان واپسی:کل حلف اٹھانے کا امکان

    اسحاق ڈار کا وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ پاکستان واپسی:کل حلف اٹھانے کا امکان

    لندن، لاہور: پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ پاکستان واپسی کا امکان ہے۔

    برطانیہ میں مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان ملاقات ہوئی، ملاقات میں اسحاق ڈار بھی موجود تھے۔معیشت کو کیسے سنبھالا جائے، مہنگائی اور ڈالر کو کم کرنے پر بھی مشاورت کی گئی۔ اس دوران سابق وزیر خزانہ نے ملک واپسی کے منصوبے سے متعلق وزیراعظم کو بھی آگاہ کیا۔

    ذرائع کے مطابق اسحاق ڈار آئندہ ہفتے ملک واپس آکر احتساب عدالت کے سامنے پیش ہوں گے۔ اسحاق ڈار کو ملک واپسی پر موجودہ وزارت خزانہ کی ٹیم ملک کی موجودہ معاشی حالات پر بریفنگ دی جائے گی۔

    ذرائع کے مطابق سنیٹ کی رکنیت کا حلف اٹھانے کے بعد اسحاق ڈار بطور وزیر خزانہ حلف اٹھائیں گے۔

    یاد رہے کہ جب پانامہ گیٹ سکینڈل میں نواز شریف کی حکومت کا خاتمہ ہوا تو اس کے ساتھ اسحٰق ڈار بھی وزارت خزانہ سے ہاتھ دھو بیٹھے تاہم شاہد خاقان عباسی کی سربراہی میں بننے والی نواز لیگ کی حکومت میں وزیر خزانہ کا قلمدان ملا ۔

    ستمبر 2017 میں احتساب عدالت نے ان پر کرپشن کیس میں فرد جرم عائد کی جس میں ان پر آمدن سے زائد اثاثے رکھنے کا الزام تھا۔ اسی دوران ڈار سعودی عرب روانہ ہوئے اور وہاں سے علاج کے لیے برطانیہ روانہ ہو گئے۔

    نومبر 2017 میں احتساب عدالت نے اُن کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کیے اور پھر انھیں اسی کورٹ نے ’مفرور‘ قرار دے دیا۔ لندن میں قیام کے دوران ہی انہوں نے وزارت خزانہ کا قلمدان چھوڑ دیا۔ احستاب عدالت نے ان کی منقولہ و غیر منقولہ جائیداد کی نیلامی کا بھی حکم دیا تھا۔

    واضح رہے کہ مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما کے خلاف مختلف مقدمات ہیں، جن میں خاص طور پر ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے اثاثہ جات کی 22 سالہ تفصیلات جمع نہیں کرائیں۔

    سرکاری زمین پر ذاتی سڑکیں، کلب اور سوئمنگ پول بن رہا ہے،ملک کو امراء لوٹ کر کھا گئے،عدالت برہم

    جتنی ناانصافی اسلام آباد میں ہے اتنی شاید ہی کسی اور جگہ ہو،عدالت

    اسلام آباد میں ریاست کا کہیں وجود ہی نہیں،ایلیٹ پر قانون نافذ نہیں ہوتا ،عدالت کے ریمارکس

  • وزیر اعظم شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس میں بنے پاکستانی قوم کی آواز:تحریر:محمد فیصل ندیم

    وزیر اعظم شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس میں بنے پاکستانی قوم کی آواز:تحریر:محمد فیصل ندیم

    وطن عزیز میں اس وقت تباہی کا عالم ہے سیلاب کی وجہ سے پاکستانی قوم کا جو نقصان ہوا ہے اس کی بھرپائی کرنے کے لئے ایک طویل وقت درکار ہے جس وجہ سے پاکستان میں مہنگائی کا ایک طوفان برپا ہونے جا رہا ہے اس کی سب سے بڑی وجہ موجودہ حکومت کو بد نام کرنا بھی ہے بجائے ایسے حالات میں سیاستدانوں کو عوام کے کام آنے کے وہ آپسی چپقلش میں مبتلا ہیں۔پاکستان تحریک انصاف کے اراکین تو ایک طرف اس پارٹی کے چیئرمین عمران خان صاحب بھی اپنی کرسی کے چکر میں جلسے جلوسوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور ایک دفعہ بھی سیلاب متاثرین کے پاس گئے اور نہ ہی ان کی کوئی مالی امداد کی اور 500 ارب اکٹھا کرنے کا جھوٹا دعویٰ کرتے رہے۔ جبکہ اس نازک صورتحال کے پیش نظر حکومتی اقدامات لائق تحسین ہیں۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے نہ صرف حکومتی خزانے سے سیلاب متاثرین کی مدد کی بلکہ بے گھر ہونے والے خاندانوں کو گھر بھی بنوا کر دینے کا اعلان کر دیا۔ پاکستانی قوم کے لیے اعزاز کی بات ہے کہ وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف صاحب نے ازبکستان کے صدر شوکت مریوئیف کی دعوت پر ازبکستان کے شہر سمرقند میں ہونے والی شنگھائی تعاون تنظیم کی کونسل آف ہیڈ آف سٹیٹ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں شنگھائی تعاون تنظیم کے ارکان اور مبصر ممالک کے سربراہان کے ساتھ ساتھ ایس سی او تنظیموں کے سربراہان اور دیگر خصوصی مہمانوں نے بھی شرکت کی۔ شنگھائی تعاون تنظیم کی کونسل آف ہیڈ آف اسٹیٹ، کونسل کا سب سے اعلی فورمہے جو تنظیم کی حکمت عملی،مستقبل اور ترجیحات پر غور اور ان کی وضاحت کرتا ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم جنوبی اور وسطی ایشیا کی ایک اہم بین علاقائی تنظیم ہے۔

    2001 میں قائم ہونے والی ایس سی او شنگھائی اسپرٹ میں درج اقدار اور اصولوں کو برقرار رکھتی ہے جس میں باہمی اتحاد باہمی فائدے اور مشترکہ ترقی کا حصول شامل ہے۔ مجموعی طور پر ایس سی او کے رکن ممالک دنیا کی تقریبا نصف آبادی اور عالمی اقتصادی پیداوار کا ایک چوتھائی حصہ ہے۔ امن و استحکام کو فروغ دینے اور اقتصادی تجارتی اور ثقافتی شعبوں میں بہتر روابط کی تلاش کا ایس سی او کا ایجنڈا اقتصادی رابطوں کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کے اپنے ویژن سے ہم آہنگ ہے۔ پاکستان ایس سی او کے مختلف میکانزم میں اپنی شرکت کے ذریعے تنظیم کے بنیادی مقاصد کو آگے بڑھانے کے لئے سرگرم کردار ادا کر رہا ہے۔ وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف صاحب نے شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس میں پاکستان میں ہونے والے سیلاب کی تباہ کاریوں کے بارے میں آگاہ کیا جس پر رکن ممالک نے وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف کو تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

    سیلاب متاثرین کھلے آسمان تلے بیٹھے ہیں جبکہ متاثرہ علاقوں میں قحط جیسی صورتحال کا سامنا ہو سکتا ہے اور حکومت پاکستان ممکنہ حدتک اس صورتحال سے بچنے کے لیے اپنی تمام تر کاوشیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے سپورٹرز نے ہمیشہ کی طرح روایت قائم کرتے ہوئیوزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کے دورہ ازبکستان پر باتیں گھڑتے دکھائی دیتے ہیں لیکن اس سب کے باوجود آپ کا یہ دورہ کامیاب رہا۔ وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف نے جس طرح شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں لگاتار اپنی پاکستانی قوم کی بات کی اس طرح سے آج سے پہلے کوئی بھی پاکستانی قوم کی آواز نہ بنا ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف سے روس کے صدر ولادی میر پوتن نے بھی ملاقات کی جس میں روسی صدر نے پاکستان کو پائپ لائن کے ذریعے گیس کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی۔ ملاقات میں فوڈ سکیورٹی، تجارتی سرمایہ کاری اورتوانائی کے دفاع سمیت باہمی فائدے کے تمام شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق بھی کیا گیا۔

    ازبکستان کے صدر شوکت مرزا سے ملاقات میں تجارت اور معیشت میں تعلقات کو مضبوط بنانے، سڑک اور بندرگاہوں کے ذریعے علاقائی رابطے کے فروغ سے متعلق امور پر بھی گفتگو کی گئی۔ پاکستان جو اس وقت شدید معاشی بحران کا شکار ہے مزید سیلابی تباہ کاریوں نے بھی رہتی کسر نکال رکھی ہے۔اس وقت روس کی جانب سے گیس کی فراہمی کی یقین دہانی پاکستان کے لیے بہترین تحفہ ہے کیونکہ ہمارے یہاں بجلی اورگیس کا بحران بہت زیادہ ہے اور روس کا یہ تحفہ پاکستان کی معیشت کی بحالی کے لیے سودمند ثابت ہوگا۔پاکستان شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک سے زراعت کے حوالے سے بھی معاہدہ کر چکا ہے جسے زرعی شعبے میں اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔اگر ہم رقبے کے اعتبار سے دیکھیں تو شنگھائی تعاون تنظیم ممالک دنیا کے سب سے بڑے براعظم ایشیا کے 77 فیصد زمینی رقبے کے مالک ہیں جب کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک میں ازبکستان، قازقستان اور تاجکستان تیل و گیس کے وسیع ذخائر رکھنے والے ممالک میں سر فہرست ہیں۔ اس لیے شنگھائی تعاون تنظیم سے زراعت سمیت مختلف شعبہ جات میں دو طرفہ تعاون، معاہدوں اور سرمایہ کاری کے فیصلے سے پاکستان میں تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔

    سمرقند کانفرنس تیزی سے بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاست کے ماحول میں انتہائی نازک وقت میں ہو ئی۔ سمرقند اجلاس میں کثیر الجہتی تعاون کے امکانات پر بات چیت کی گئی۔اس کانفرنس ایک اہم واقعہ روسی صدر ولادی میر پوتن اور چینی صدر کے درمیان طے شدہ ملاقات ہے۔سلامتی اور استحکام سے متعلق مسائل، توانائی اور خوراک کے بحران اور اقتصادی تعاون جیسے موضوعات سربراہی اجلاسوں میں دیگر موضوعات پر غالب رہے۔ اراکین کے درمیان تنازعات سے قطع نظر، SCO نے بہت سے معاملات پر تعاون کے لیے ایک مفید فورم فراہم کیا ہے۔وزیرِاعظم پاکستان شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں نہ صرف پاکستانی قوم کی آواز بنے بلکہ پاکستانی قوم کے لیے ایسے کام کر آئے ہیں جس کا فائدہ پاکستانی قوم کی نسلیں آنے والے وقت میں ہمیشہ یاد رکھیں گی۔وزیرِ اعظم پاکستان نے 4سال میں برباد ہونے والے ملک کو واپس 4ماہ میں اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کی کوشش کی ہے جسکا پاکستانی قوم جتنا شکر ادا کرے کم ہے۔ اگر پاکستان کے خادم شہباز شریف کو آگے 5سال بھی مل جاتے ہیں تو یقینََا پاکستان کا جتنا بھی نقصان ہوا ہے وہ پورا ہو جائے گا اورہمارا ملک ایک بارپھر سے ترقی یافتہ ممالک کی فہرستمیں شامل ہو جائے گا۔

  • سیلاب سےہرطرف تباہی،صدمےکےاظہارکیلئے’الفاظ‘   نہیں،دنیاہماری مددکرے:وزیراعظم کااقوام متحدہ میں خطاب

    سیلاب سےہرطرف تباہی،صدمےکےاظہارکیلئے’الفاظ‘ نہیں،دنیاہماری مددکرے:وزیراعظم کااقوام متحدہ میں خطاب

    نیویارک:وزیر اعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلاب نے پاکستان میں ہرطرف تباہی ہی تباہی پھیلا دی ہے ،اس وقت صدمے میں میرے پاس الفاظ نہیں کہ ہم کس طرح اس صدمے کا اظہارکریں ، یہ وقت ہے دنیا آگے بڑھے اور ہماری مدد کرے ، وزیراعظم نے اس موقع پر کہا ہے کہ اب بھی یہی محسوس ہورہا ہے کہ میں سیلاب سے متاثرہ سندھ یا پنجاب کسی علاقے کا دورہ کررہا ہوں،

    اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں وزیراعظم شہباز شریف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں یہاں پاکستان کی اسٹوری بتانے کے لیے موجود ہوں، میرا دل اور دماغ وطن کی یاد چھوڑنے کو تیار نہیں ہے، میں اب بھی یہی محسوس ہورہا ہے کہ میں سیلاب سے متاثرہ سندھ یا پنجاب کسی علاقے کا دورہ کررہا ہوں، کوئی الفاظ صدمے کا اظہار نہیں کرسکتے جس سے ہم دوچار ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ میں یہاں پر موسمیاتی آفات سے تباہ کاریوں کی شدت کو بتانے آیا ہوں، جس کی وجہ سے پاکستان کا ایک تہائی حصہ زیر آب ہے، 40 دن اور 40 رات شدید سیلاب نے صدیوں کے موسمیاتی ریکارڈ توڑ دیے ہیں، ہمیں اس آفات اور اس سے نمٹنے کے بارے میں آگہی ہے، آج بھی پاکستان کا بیشتر پانی میں ڈوبا ہوا ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے بچوں اور خواتین سمیت 3 کروڑ 30 لاکھ افراد کو صحت کے خطرات درپیش ہیں، حاملہ خواتین خیموں میں 650 بچوں کو جنم دیا، 1500 سے زیادہ لوگ جاں بحق ہو چکے ہیں، جس میں 400 بچے بھی شامل ہیں، لوگ غذائی قلت کا شکار ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ سیلاب کی وجہ سے بے گھر ہونے والے افراد آج بھی خیمہ لگانے کے لیے خشک جگہ کی تلاش میں ہیں، متاثرین اور ان کے اہل خانہ کو دل دکھا دینے والے نقصانات ہوئے ہیں، ان کا روزگار آنے والے لمبے عرصے کےلیے چھن گیا۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ابتدائی تخمینے کے مطابق 13 ہزار کلومیٹر کی سڑکیں اور 10 لاکھ سے زائد گھر تباہ ہو ئے اور مزید 10 لاکھ کو جزوی نقصان ہپنچا، جبکہ 370 پل بہہ گئے۔ان کا کہنا تھا کہ تباہ کن سیلاب کی وجہ سے 10 لاکھ مویشی ہلاک ہوئے، 40 لاکھ ایکٹر رقبے پر فصلیں تباہ ہوئیں، تباہی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔

    وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان نے گلوبل وارمنگ کی تاریک اور تباہ کن اثرات کی مثالیں نہیں ہیں، پاکستان میں زندگی ہمیشہ کے لیے تبدیل ہو چکی ہے، میں نے ہر تباہ کن علاقے کا دورہ کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام پوچھتے ہیں کہ یہ تباہی کیوں ہوئی اور کیا جاسکتا ہے اور کیا ہونا چاہیے، ناقابل تردید حقیقت یہ ہے کہ جو کچھ ہورہا ہے وہ ہماری وجہ سے ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہماری گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہی ہیں، جنگلات جل رہے ہیں اور ہیٹ ویو 53 ڈگری سے بڑھ گئی ہیں اور اب ہم غیرمعمولی جان لیوا مون سون کا سامنا کر رہے ہیں۔

    وزیر اعظم شہباز نے کہا کہ ایک بات بڑی واضح ہے کہ پاکستان میں جو ہوا، ہم پاکستان میں اسٹے نہیں کرسکیں گے۔انہوں نے کہا کہ جس طرح اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ پاکستان کا شمار دنیا کے ایسے 10 سرفہرست ممالک میں ہوتا ہے جو موسمیاتی تبدیلی کا سب سے زیادہ شکار ہوسکتے ہیں جبکہ ہم گرین ہاؤسز گیسز کا 1 فیصد سے بھی کم اخراج کرتے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ اس لیے اس نقصان اور تباہی پر انصاف ملنے کی توقع کرنا بہت مناسب ہے،

    سرکاری زمین پر ذاتی سڑکیں، کلب اور سوئمنگ پول بن رہا ہے،ملک کو امراء لوٹ کر کھا گئے،عدالت برہم

    جتنی ناانصافی اسلام آباد میں ہے اتنی شاید ہی کسی اور جگہ ہو،عدالت

    اسلام آباد میں ریاست کا کہیں وجود ہی نہیں،ایلیٹ پر قانون نافذ نہیں ہوتا ،عدالت کے ریمارکس