Baaghi TV

Tag: شہبازشریف

  • شہباز شریف کا اعلان انتخابی ضابطہ کی خلاف ورزی ہے:قاسم سوری

    شہباز شریف کا اعلان انتخابی ضابطہ کی خلاف ورزی ہے:قاسم سوری

    اسلام آباد: سابق ڈپٹی اسپیکرقومی اسمبلی قاسم سوری نے کہا ہے کہ شہباز شریف کا اعلان انتخابی ضابطہ کی خلاف ورزی ہے۔اطلاعات کے مطابق سابق ڈپٹی اسپیکرقومی اسمبلی قاسم سوری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سنا ہے وزیراعظم شہباز شریف کی بھی وڈیو آنے والی ہے، پنجاب میں 100 یونٹ بجلی مفت صرف ڈرامہ اور انتخابی اسٹنٹ ہے۔

    قاسم سوری نے کہا کہ شہباز شریف کا اعلان انتخابی ضابطہ کی بھی خلاف ورزی ہے، یہ معاملہ الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ کیلئے امتحان ہے، تمام مسائل کا واحد حل شفاف الیکشن اور حقیقی آزادی کے دن قریب آگئے۔

    قاسم سوری نے کہا ہے کہ عمران خان اور تمام قیادت کیخلاف مقدمات کی بھرمار ہے لیکن ہم جھکنے والے نہیں۔اس سے قبل سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے جاری کردہ ایک بیان میں قاسم خان سوری نے کہا تھا کہ نا اہل، امپورٹڈ، کرپٹ، کریمنل ٹولے اور سازشیوں کے ہاتھوں آج یہ دن بھی دیکھنا پڑ گیا ہے، اللہ تعالیٰ پاکستان پر اپنا خصوصی رحم فرمائے۔

    انہوں نے کہا تھا کہ ان بے شرموں سے جلد پاکستان کی جان چھڑائے ورنہ یہ پورا ملک ہی کھا پی کر بقایا بیچ دیں گے، پالیسی سازی میں ملٹی نیشنل کمپنیوں کے اثر و رسوخ کی وجہ سے پاکستان میں سگریٹ کی قیمتیں سب سے کم ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کے پرنسپل سیکرٹری توقیر شاہ کےبھائی اسد شاہ ڈائریکٹر PTC/برٹش امریکن ٹوبیکو ہیں، جبکہ مریم اورنگزیب کے شوہر بھی PTC/برٹش امریکن ٹوبیکو کے ڈائریکٹر ہیں۔

  • امریکہ سے باہمی اعتماد و احترام پر مبنی تعلقات کو فروغ دینا چاہتے ہیں:وزیر اعظم

    امریکہ سے باہمی اعتماد و احترام پر مبنی تعلقات کو فروغ دینا چاہتے ہیں:وزیر اعظم

    اسلام آباد :وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ امریکہ سے باہمی اعتماد و احترام پر مبنی تعلقات کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔اطلاعات کے مطابق پاکستان میں نئے امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات ہوئی جس میں شہباز شریف نے امریکی سفیر کو اسناد سفارت پیش کرنے اور نئی سفارتی ذمہ داریوں پر مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ امید ہے نئے سفیر پاک امریکہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کے لیے اپنی توانائی وقف کریں گے۔

    شہباز شریف نے کہا کہ تجارت، سرمایہ کاری، آئی ٹی، موسمیاتی تبدیلیوں، صحت اور توانائی کے شعبوں میں تعاون مختلف سطح پر مذاکرات کا مظہر ہیں۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکی کمپنیاں پاکستان کی وسیع مارکیٹ میں سرمایہ کاری کریں۔

    وزیراعظم نے پاک امریکہ ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ فریم ورک معاہدے کے لیے اس سال کے آخر میں اجلاس پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان کاروباری موقع پر کانفرنس کا انعقاد کیا جائے۔

    دوسری طرف امریکی نمائندہ خصوصی برائے تجارتی امور دلاورسید نے دفتر خارجہ میں بلاول بھٹو سے اہم ملاقات کی ہے۔اس دوطرفہ ملاقات میں وزیر خارجہ نے نمائندہ خصوصی دلاورسید کا پاکستان میں خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان اور امریکا کے درمیان کاروباری روابط کو بہتربنانے میں امریکی کردارکا اعتراف کیا۔

  • صومالیہ بنتاپاکستان

    صومالیہ بنتاپاکستان

    تحریر :ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
    2011ء میں صومالیہ کو بد ترین خشک سالی کاسامناکرنا پڑا جسے اقوامِ متحدہ نے قحط قرار دیا۔ شدید قحط کے باعث روزانہ سینکڑوں افراد ہلاک ہوتے رہے اوراس طرح 2011ء میں قحط سے ڈھائی لاکھ سے زائد لوگ ہلاک ہوگئے۔پھر2020ء میں صومالی حکومت نے بڑھتی ہوئی خشک سالی کی وجہ سے 23 نومبر کو ملک بھر میں ہنگامی حالات کا اعلان کر دیا تھا۔صومالیہ میں بھوک کے بحران کی وجہ محض خراب فصلیں، سیلاب اور خشک سالی نہیں بلکہ کرپشن ، بد انتظامی اور ناقص حکومتی نظام کا بھی کا عمل دخل تھا۔ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ گزشتہ دس سالوں میں پاکستان میں کرپشن میں اضافہ ہوا جبکہ اس کے پڑوسی ملک بھارت میں کمی ہوئی ہے۔موجودہ حالات میں پاکستان تیزی سے صومالیہ بننے کی طرف گامزن ہے ،اس کی کئی وجوہات ہیں ان میں سے چند وجوہات کاجائزہ لیتے ہیں۔ شہبازشریف کی حکومت نے مسلسل چوتھی مرتبہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ۔پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے پروزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا تھا کہ عمران خان کی سابقہ حکومت نے پٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنے کاIMF سے معاہدہ کیاتھا اس لئے ہمیں مجبوراََ قیمتیں بڑھانی پڑیں،جس پر عوام اور اپوزیشن جماعت PTIنے مزمت کی اور کہاکہ اگرہم نے کوئی معاہدہ کیا ہے وہ قوم کے سامنے لایاجائے ،جس پر مفتاح اسماعیل نے پینترابدلاکہ آئی ایم ایف کی کوئی شرط نہیں بلکہ ڈالرکی بڑھتی قیمت اور عالمی منڈی میںتیل کی زیادہ ہوتی قیمتوں کوقراردیا،ان دوماہ میں ان سیاسی ارسطوئوں نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھاکرعوام کومہنگائی کے سونامی کی خطرناک لہروں میں بیدردی سے پھینک دیا۔پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشرباء اضافہ سے گڈزٹرانسپورٹ کومجبوراََ کرایوںمیں اضافہ کرنا پڑا، کرایوں کے اضافے سے ہرچیزکی قیمت بڑھ جاتی ہے اور حکومتی پنڈت یہ کہتے ہوئے نہیں تھکتے کہ ہم نے عام شہری پرکوئی اضافی بوجھ نہیں ڈالا۔
    حکومت کی جانب سے 13 بڑے صنعتی شعبوں سیمنٹ ، ٹیکسٹائل، شوگر ملز، آئل اینڈ گیس، فرٹیلائزر ، ایل این جی ٹرمینلز، بینکنگ، آٹو موبائل، بیوریجزور یسٹورنٹس، کیمیکلز، سگریٹ، سٹیل اور ایئر لائنز پر 10 فیصد پر ٹیکس کے نفاذ سے ان شعبوں میں کام کرنے والی کمپنیوں کے منافع میں کمی واقع ہو گی جس کے نتیجے میں ملک میں مقامی و غیر ملکی سرمایہ کاری کے عمل میں کمی اور روز گار کے نئے مواقع نہ پیدا ہونے کے امکانات پیداہوگئے ہیں۔ واضح رہے کہ اس وقت کارپوریٹ ٹیکس کی شرح 29 فیصد ہے جبکہ ان 13 شعبوں کے علاوہ دیگر شعبہ جات پر 4 فیصد پر ٹیکس عائد ہے جبکہ وفاقی حکومت کے نئے اعلان کے مطابق مذکورہ 13 شعبوں پر 10 فیصد کی شرح سے ایک سال کیلئے سپر ٹیکس عائد کیا گیا ہے، اس وقت ملک میں کارپوریٹ اور دیگر مد میں ٹیکسوں کی شرح لگ بھگ 50 فیصد کے قریب پہنچ گئی ہے۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ حکومت نے ٹیکس نیٹ میں اضانے کی بجائے پہلے سے ٹیکس دینے والوں پر مزید بوجھ ڈال دیا جس کے نتیجے میں ملک میں معاشی و اقتصادی سرگرمیاں متاثر ہورہی ہیں۔ نئے حکومتی اقدامات میں بڑے سیکٹرز پر سپر ٹیکس عائد کرنے کے ساتھ تنخواہ دار طبقے کو بجٹ میں دیا جانے والا ریلیف بھی واپس لے لیا گیا۔سپرٹیکس کے ثمرات عوام تک فوراََ پہنچ گئے،عوام سے ضروریات زندگی بھی چھین لی گئیں۔ملک میں بجلی نام کوبھی نہیں ہے اوپرسے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ عوام پرایٹم بم گرانے کے مترادف ہے۔
    پاکستان ایک زرعی ملک ہے،جس کی 70فیصد آبادی دیہاتوں میں رہتی اور زراعت سے وابستہ ہے اورزراعت کوپاکستان کی ریڑھ کی ہڈی قراردیاجاتا ہے موجودہ حکومت نے زراعت سے وابستہ کسان کو زندہ درگورکردیا۔اپنی مخلوط حکومت بچانے کیلئے جنوبی پنجاب کی نہروں کاپانی بند کرکے سندھ کودیاجارہاہے ،ہم یہ نہیں کہیں گے کہ سندھ کوپانی کیوں دیاجارہاہے سندھ بھی پاکستان ہے وہاں کے کسان بھی ہمارے اپنے ہیں لیکن ہم صرف اتنا گذارش کریں گے منصفانہ تقسیم کے فارمولاپرعملدرآمدکرتے ہوئے سندھ کواس کے حصے کاپانی دیاجائے اورجنوبی پنجاب کے کسان سے سوتیلی ماں کاسلوک روانہ رکھاجائے ،جس طرح سندھ،اپرپنجاب یادوسرے صوبوں کے کسانوں کوان کے حصے کاپانی دیاجارہا اِدھرکاکسان بھی اتناہی حقدار ہے ، ان کی زمینوں کوسیراب کرنے والی نہریں بند کیوں ہیں۔حکومت کی بے ترتیبی اورناکام حکمت عملی کی وجہ سے ہماراکسان زبوں حالی کاشکارہے۔بجلی مہنگی،پٹرول ،ڈیزل مہنگااورکھادنایاب ہوچکی ہے ،پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جانے والے کسان کی کمرتوڑدی گئی ہے ،پانی نہ ہونے کی وجہ سے اس باردھان ،کپاس،جوارودیگرفصلیں کاشت نہ ہوسکیں کیونکہ ہمارے 90فیصد کسان پیٹرانجن کے ذریعے ٹیوب ویل چلاکر اپنے کھیت سیراب کرتے ہیں،کھیتوں میں ہل چلانے کیلئے ٹریکٹراستعمال ہوتے ہیں کھیت سے منڈی تک سبزیوں اوراناج کی ترسیل بھی ٹریکٹرٹرالی کے ذریعے ہوتی ہے ،پیٹرانجن اورٹریکٹرڈیزل پرچلتے ہیں موجودہ حالات میں ہماراکسان مہنگے داموں ڈیزل خریدنے سے قاصر ہے،بجلی مہنگی ہے لیکن ہے ہی نہیں کئی کئی گھنٹوں کی غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ نے رہی سہی کسربھی پوری کردی ہے ،حکومتی سرپرستی میں پلنے والے کھاد مافیاء نے کھاد اپنے گوداموں میں چھپارکھی ہے جوکسانوں کو من مانی قیمت پر بلیک میں فروخت کررہے یاپھرحکومتی اداروں کی سرپرستی میں سٹاک شدہ کھادافغانستان سمگل کی جارہی ہے۔اندھے حکمرانوں کوہمارے کسان کے مسائل نہیں دکھائی دے رہے،جب کسان کے پاس فصلیں کاشت کرنے کیلئے وسائل نہیں ہوں گے تووہ کس طرح فصلیں کاشت کریں گے ۔جب فصلیں کاشت نہیں ہوں گی تولازمی طورپرمارکیٹ میں اجناس کی قلت ہوگی اورقیمتیں بڑھ جائیں گی پہلے بھی غریب اور مزدور،دیہاڑی دار طبقہ اس ہوشرباء مہنگائی کے ہاتھوں پس چکا ہے وہ کس طرح بلیک مارکیٹ سے مہنگی اشیاء خرید پائیں گے ۔ اتحادی حکومت کوہوش کے ناخن لینے چاہئیں کسان اور دیہاڑی دارمزدورطبقے کااحساس کرتے ہوئے اس بے لگام مہنگائی کے آگے بند باندھنا بہت ضروری ہے ۔فصلیں کاشت کرنے کیلئے ہمارے کسان کیلئے علیحدہ سے بجلی ،ڈیزل اور کھادکیلئے سپیشل بجٹ مختص کیا جائے ورنہ فصلات کاشت نہ ہونے کی وجہ سے ملک میں اناج کی قلت پیداہونے کا خطرہ ایک اژدھاکی طرح پھن پھیلائے کھڑاہے ،اگر بروقت اقدامات نہ کئے گئے توپاکستان کوقحط کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔صومالیہ کو کئی سالوں کی خشک سالی اور بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے قحط کاسامنا کرناپڑا، اس وقت پاکستان صومالیہ بننے کے بالکل قریب پہنچ چکا ہے۔ اگرپاکستان میں قحط آتاہے تویہ قحط قدرتی نہیں بلکہ حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کاشاخسانہ ہو گا۔

  • حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید 15 روپے اضافہ کردیا

    حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید 15 روپے اضافہ کردیا

    اسلام آباد: حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصںوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کردیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق وزارت خزانہ نے پیٹرول کی قیمت میں 14 روپے 85 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا ہے جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 248 روپے 74 پیسے مقرر ہوگئی۔

    ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 13 روپے 23 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 276 روپے 54 پیسے ہوگئی۔

    اسی طرح مٹی کے تیل کی قیمت میں 18 روپے 83 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد مٹی کے تیل کی نئی قیمت 230 روپے 26 پیسے ہوگی۔لائٹ ڈیزل کی قیمت میں بھی 18 روپے 68 پیسے فی لیٹر اضافہ ہوا ہے اور نئی قیمت 226 روپے 15 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے۔

    علاوہ ازیں پیٹرول پر پیٹرولیم لیوی 10 روپے فی لیٹر عائد کی گئی ہے جبکہ ڈیزل، مٹی کے تیل اور لائٹ ڈیزل پر 5، 5 روپے پیٹرولیم لیوی عائد کی گئی ہے۔وزارت خزانہ کے مطابق پیٹرولیم مصںوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات 12 بجے سے ہوگا۔

  • کووڈ وبا کے بعد چین سے کسی بھی اعلیٰ سطح حکومت شخصیت کا پاکستان کا یہ پہلا دورہ

    کووڈ وبا کے بعد چین سے کسی بھی اعلیٰ سطح حکومت شخصیت کا پاکستان کا یہ پہلا دورہ

    لاہور:کووڈ وبا کے بعد چین سے کسی بھی اعلیٰ سطح حکومت شخصیت کی طرف سے پاکستان کے دورے کو بڑی اہمیت دی جارہی ہے، اس حوالے سے بھی یہ دورہ اہم ہےکہ آنے والے مہمان نے آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کے ساتھ ساتھ وزیراعظم شہبازشریف سے بھی ملاقات کی ہے ،

    اسی حوالے سے ن لیگ کی طرف سے خوشی کااظہارکرتےہوئےکہا گیا ہےکہ چائنیز کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے پولٹ بیورو ( Politboru) کے رکن اور سی پی سی کے خارجہ امور کمیشن کے ڈائریکٹر عزت مآب جناب یانگ جیچی ( Yang Jiechi) کا دورہ پاکستان بڑی اہمیت کا حامل ہے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ کووڈ وبا کے بعد چین سے کسی بھی اعلیٰ سطح حکومت شخصیت کا پاکستان کا یہ پہلا دورہ خطے میں باہمی تعلقات کی جانب ایک اورمثبت قدم ہے

    یاد رہےکہ چائنیز کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے پولٹ بیورو ( Politboru) کے رکن اور سی پی سی کے خارجہ امور کمیشن کے ڈائریکٹر عزت مآب جناب یانگ جیچی ( Yang Jiechi)نے اپنے دورہ پاکستان میں اہم شخصیات سے ملاقاتیں کی ہیں

    پٹرولیم لیوی سے 750 کے بجائے 855 ارب روپے حاصل ہونے کا امکان

    اس سلسلے میں ایک ملاقات وزیراعظم شہبازشریف سے چین کمیونسٹ پارٹی چین کے ڈائریکٹرکمیشن کی ہے۔ وزیراعظم نے 2.3ارب ڈالر کی سنڈیکیٹ سہولت کی تجدید پر چین کا شکریہ ادا کیا۔وزیراعظم شہبازشریف سے چین کمیونسٹ پارٹی چین کے ڈائریکٹرکمیشن کی ملاقات ہوئی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے چینی صدر اور ہم منصب کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ڈائریکٹر یانگ کا دورہ پاکستان ، پاک چین دوستی ، اسٹریٹجک شراکت داری کا مظہر ہے۔

    چین کے ساتھ اسٹریٹجک پارٹنرشپ بڑھانے کے خواہاں ہیں :آرمی چیف

    وزیراعظم نے تمام شعبوں میں دوطرفہ تعلقات میں مزید بڑھانے پر زور دیا اور کہا کہ اقتصادی تعاون وسیع پیمانے پر پاک چین شرکت داری کی بنیاد بن چکا۔ چین کی غیر متزلزل حمایت ملکی معیشت کو بیرونی جھٹکے سے نمٹنے میں مدد دیتی ہے۔وزیراعظم نے 2.3ارب ڈالر کی سنڈیکیٹ سہولت کی تجدید پر بھی چین کا شکریہ ادا کیا۔

    ہمارے دورمیں مہنگائی کا شور مچانے والوں نے آتے ہی مہنگائی کردی. عمران خان

  • الیکشن کمیشن نےوزیراعظم کوکہوٹہ میں ڈیم کا افتتاح کرنےسےروک دیا

    الیکشن کمیشن نےوزیراعظم کوکہوٹہ میں ڈیم کا افتتاح کرنےسےروک دیا

    لاہور: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے وزیراعظم شہباز شریف کو کہوٹہ میں ڈیم کے افتتاح کرنے سے روک دیاالیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے وزیر اعظم کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر روکا گیا، وزیر اعظم شہباز شریف 29جون کو کہوٹہ میں ڈیم کا افتتاح کرنے والے تھے یہ علاقہ حلقہ PP7راولپنڈی کی حدود میں شامل ہے۔

    ایف آئی اے کا شہبازشریف منی لانڈرنگ کیس کی پیروی نہ کرنیکا فیصلہ،

    صوبائی الیکشن کمشنر کی ہدایت پر ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر PP-7 نے وزیر اعظم کے پرنسپل سیکرٹری سے رابطہ کیا، ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد کیلئے وزیر اعظم نے ڈیم کا افتتاح منسوخ کر دیا۔

    شہبازشریف نے کشمیرپر ریفرنڈم کرانے کاعمران خان کا بیان مسترد کردیا

    صوبائی الیکشن کمیشن پنجاب نے کہا کہ پرنسپل سیکرٹری نے وزیر اعظم کا دورہ منسوخ ہونے کے بارے میں آگاہ کر دیا، ضمنی انتخاب والے حلقہ میں عوامی عہدیداران کا دورہ کرنا ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہے،

    شہبازشریف سے آصف زرداری کی ملاقات، اہم معاملات پر مشاورت

    واضح رہے کہ انتخابی قوانین کے تحت ضمنی انتخاب والے حلقہ میں عوامی عہدیداران کا دورہ کرنا اور الیکشن شیڈول آنے کے بعد ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کرنا ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہے۔صوبائی الیکشن کمشنر پنجاب نے کہا کہ الیکشن کمیشن غیر جانبدارانہ وطورپر اپنی ذمہ داریاں سرانجام دیتا رہے گا، ہم کسی کو بھی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی اجازت دے سکتے۔

  • سابق حکومت نے پاکستان تباہی کے دہانے پہنچایا،ہم نے بچا لیا،شہباز شریف

    سابق حکومت نے پاکستان تباہی کے دہانے پہنچایا،ہم نے بچا لیا،شہباز شریف

    وزیراعظم شہبازشریف نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جولائی میں لوڈشیڈنگ بڑھے گی، تاہمعالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے معاہدہ جلد طے پا جائے گا .وزیراعظم نے کہا کہ صاحب ثروت افراد سے 200ارب سے زائد جمع ہونے کی توقع ہے، عوام مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں، شمسی پروگرام کے حوالے سے پروگرام جلد لے کر آئیں گے،براہ راست ٹیکس انقلابی قدم ہے،پاکستان دیوالیہ پن ہونے سے نکل چکا ہے،آئی ایم ایف سے معاہدہ جلد ہونے والا ہے،آئی ایم ایف نے کڑی شرائط رکھی ہیں،مختلف شعبوں میں مالکان کی آمدن پر براہ راست ٹیکس لگایا گیا.

    وزیراعطم شہباز شریف نے اتحادی جماعتوں کے ارکان قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناح پاکستان کو رفاعی ریاست دیکھنا چاہتے تھے، تبدیلی اور نئے پاکستان کی بات کرنے والی سابقہ حکومت یہ اقدامات نہیں کر سکی،ملک میں خوردنی تیل کی کوئی کمی نہیں ہے،پاکستان دیوالیہ ہونے سے بچ گیا ہے،پچھلی حکومت کو 3ڈالر میں گیس مل رہی تھی لآئی ایم ایف نے کڑی شرائط رکھیں.

    وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ حکومت نے پاکستان کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا تھا،دنیا میں کوئلہ بہت مہنگا ہوچکا ہے،کوئلے کی امپورٹ پر اربوں ڈہم ان مشکلات سے ضرور نکل جائیں گے،الر خرچ ہو رہے ہیں،کاروباری لوگوں کواللہ تعالیٰ نے بے پناہ وسائل سے نوازاہے،گزشتہ دور حکومت میں پاکستان دیوالیہ ہونےکےقریب تھا،خوردنی تیل کا بحران آنے والا تھا اس سےبھی پاکستان بچ گیا،گزشتہ حکومت نے آئی ایم ایف معاہدے کی خلاف ورزی کی،جولائی سے کوئلہ افغانستان سے درآمد کرنا شروع کریں گے.

  • پاکستان کی کاروباری برادری نے سُپرٹیکس کومسترد کردیا

    پاکستان کی کاروباری برادری نے سُپرٹیکس کومسترد کردیا

    پاکستان کے تمام کاروباری طبقوں نے شہباز حکومت کی جانب سے عائد کیے جانے والے نئے سپر ٹیکس کو یک زبان ہوکر مسترد کردیا ہے۔

    شہباز حکومت کی جانب سے رواں ماہ 10 جون کو وفاقی بجٹ پیش کیے جانے کے بعد پٹرول، ڈیزل، بجلی، گیس اور دیگر اشیا کی قیمتوں میں متعدد بار اضافہ کرکے غیر اعلانیہ منی بجٹ سے عوام کو مہنگائی کی دلدل میں دھکیل دیا ہے جب کہ جمعے کے روز وزیراعظم شہباز شریف نے 10 فیصد مزید ٹیکس "سپر ٹیکس” کے نام پر عائد کردیا ہے جس کو کراچی تا خیبر ملک کے تمام اصناف کے تاجر طبقوں نے یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے حکومت سے فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

    کراچی سائٹ ایریا کے صنعتکاروں نے صنعتوں پر عائد کیے جانے والے سپر ٹیکس کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ 10 فیصد سپر ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ صنعتوں کو تباہ کردے گا۔

    صدر سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کراچی عبدالرشید نے مہنگی بجلی، گیس کی عدم فراہمی کے باعث صنعتوں کی پیداوار پہلے ہی بری طرح متاثر ہے، صنعتوں پر ٹیکسوں کا بوجھ کم نہ کیا گیا تو فیکٹریوں کو تالے لگ جائیں گے اور اگر پیداواری سرگرمیاں معطل ہوئیں تو برآمدی آرڈرز کی تکمیل خطرے میں پڑجائے گی۔

    آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن نارتھ نے بھی اس فیصلے کی بھرپور مذمت اور مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سابق حکومت میں کنسٹرکشن زیادہ ہورہی تھی اور ایکسپورٹ بھی بڑھ رہی تھی مگر موجودہ حکومت کے اقدامات سے غریب پر بوجھ پڑے گا۔

    اپٹما نارتھ کے چیئرمین حامد زمان نے کہا کہ ٹیکس شرح بڑھانے سے نہیں لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے سے مسائل حل ہونگے، جب ٹیکس اتنا زیادہ ہوجائے گا تو لوگ ٹیکس نیٹ میں کیوں آئیں گے، ٹیکسز بڑھنے سے انڈسٹریز بند ہونگی اور بیروزگاری بڑھے گی تو غریب پر اثر پڑے گا۔

    تعمیراتی شعبے کی نمائندہ تنظیم آباد نے کہا ہے کہ حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہے اور سپر ٹیکس جارحانہ اقدام ہے جس کو فوری طور پر واپس لیا جائے۔

    صدر کسان اتحاد خالد کھوکھر نے کہا ہے کہ کاشتکار پر ٹیکس لگیں گے تو وہ پیداوار کم کردے گا، کاسٹ آف پراڈکشن پہلے ہی بڑھ چکی ہے، کاشتکار ڈیزل کے اس ریٹ پر ٹیوب ویل نہیں چلا سکتا، اب تو وہ دھاڑیں مار مار کر رونے لگا ہے، وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کو خط لکھا ہے کہ وضاحت دی جائے۔

    آباد کے سابق چیئرمین حنیف گوہر نے کہا کہ کنسٹرکشن انڈسٹری پہلے ہی پریشان تھی آج مزید کردیا گیا، عام آدمی پہلے ہی مشکلات سے دوچار ہے سپر ٹیکس سے جینا دوبھر ہوجائیگا، ایسے ٹیکس لگیں گے تو غریب آدمی کیسے گھر بنا سکتا ہے، مہنگائی کا سب سے زیادہ اثر ہی مزدوروں پر آئے گا۔

    انہوں نے مزید کہا کہ مہنگائی اتنی زیادہ ہے کہ بلڈرز کیلئے کام کرنا مشکل ہوگیا ہے، انکم جنریٹ نہیں کرسکیں گے کہ تنخواہیں کیسے ادا کریں گے، جب کنسٹرکشن کا کام ہی نہیں ہوگا تو مزدوروں کو روزگار کہاں سے ملے گا اور بیروزگاری بڑھنے سے امن وامان کی صورتحال خراب ہوگی۔

    فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس فیصل آباد کے صدر عاطف منیر نے کہا کہ سپر ٹیکس کے نام پر حکومت نے بزنس کمیونٹی اور انڈسٹری پر ہتھوڑا مارا ہے، اس فیصلے میں حکومت نے کسی ایسوسی ایشن یا چیمبر کو آن بورڈ نہیں لیا، مفتاح اسماعیل اور انکی ٹیم بری طرح ناکام رہی، ایسا لگ رہا ہے کہ حکومت ہفتے ہفتے کی پالیسی لے کر چل رہی ہے، حکومت ایسے فیصلے نہ کرے۔

    تمام اصناف کے تاجر طبقوں نے سپر ٹیکس کو مسترد کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس عوام دشمن فیصلے کو فوری واپس لیا جائے اور ایسے اقدامات کرنے سے گریز کیا جائے جس سے بدحالی کا شکار معیشت کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔

  • شہباز شریف کا افغان وزیراعظم کو ٹیلیفون:  زلزلےسےنقصان پراظہارافسوس،مدد کی پیشکش

    شہباز شریف کا افغان وزیراعظم کو ٹیلیفون: زلزلےسےنقصان پراظہارافسوس،مدد کی پیشکش

    اسلام آباد:وزیراعظم شہباز شریف نے افغانستان کے قائمقام وزیراعظم ملا حسن اخوند سے ٹیلیفونک رابطے کے دوران کہا ہے کہ دکھ کی اس گھڑی میں افغان عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔

    وزیر اعظم کا افغانستان کے قائم مقام وزیراعظم سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے، اس موقع پر شہباز شریف نے 22 جون کو افغانستان میں آنے والے تباہ کن زلزلے کے نتیجے میں قیمتی جانوں کے ضیاع اور نقصان پر حکومت پاکستان اور عوام کی جانب سے گہری ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔

    وزیراعظم نے جاں بحق افراد کے لیے دعائے مغفرت کی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان مشکل کی اس گھڑی میں اپنے افغان بھائیوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہے۔

    ٹیلیفونک رابطے کے دوران شہباز شریف نےافغانستان کو ہنگامی امداد فراہم کرنے کے لیے پاکستان کی جانب سے کی جانے والی امدادی کوششوں کے حوالے سے تفصیلات بتائیں، جن میں ہنگامی ادویات، خیموں، ترپالوں اور کمبلوں کی ترسیل شامل ہے۔

    وزیراعظم نے بتایا کہ غلام خان اور انگور اڈہ بارڈر کراسنگ پوائنٹس کو افغانوں کی آمدورفت کے لیے کھول دیا گیا ہے۔ آنے والے دنوں میں ہمسایہ ملک کی مدد جاری رکھیں گے۔

    شہباز شریف نے دونوں لوگوں کے درمیان قریبی برادرانہ تعلقات پر زور دیا اور پاکستان کی جانب سے سنگین انسانی صورتحال کا سامنا کرنے والے افغان عوام کو مدد فراہم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

    وزیر اعظم نے موثر بارڈر مینجمنٹ کے ذریعے تجارت اور لوگوں کی نقل و حرکت کو آسان بنانے کے لیے حکومت کے اقدامات پر بھی افغان قائم مقام وزیراعظم ملا حسن اوند کو آگاہ کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان امن، ترقی اور خوشحالی کے مقصد کو فروغ دینے کے لیے دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔

  • کابینہ میں اضافہ۔ شاہ اویس نورانی بھی وزیر اعظم کے معاون خصوصی مقرر

    کابینہ میں اضافہ۔ شاہ اویس نورانی بھی وزیر اعظم کے معاون خصوصی مقرر

    اسلام آباد:وزیراعظم شہباز شریف کی منظوری کے بعد مزید تین معاونین خصوصی کی تعیناتی کا نوٹی فکیشن جاری کر دیا گیا ۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق شاہ اویس نورانی، ڈاکٹرجہانزیب خان اور ظفرالدین محمود وزیراعظم کے معاونین خصوصی ہوں گے۔ نوٹیفکیشن میں بتایا گیا کہ تینوں معاونین خصوصی کا درجہ وزیرمملکت کے برابر ہوگا۔

    اس سے پہلے 8 جون کو بھی وزیراعظم شہباز شریف نے جنید انوار چودھری، سینیٹر حافظ عبدالکریم، شیخ فیاض الدین اور رومینہ خورشید کو اپنا معاون خصوصی مقرر کیا تھا ۔

    طارق فاطمی، محمد صادق، سید فہد حسین اور شزہ فاطمہ کو پہلے ہی معاون خصوصی مقرر کیا جا چکاہے۔

    یاد رہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے کابینہ ارکان کی تعداد میں سابق وزیر اعظم عمران خان کو پیچھے چھوڑ دیا۔ مزید تین معاونین خصوصی مقرر کردیے جس کے بعد کابینہ کی تعداد 55 ہوگئی ہے۔ عمران خان کی کابینہ کی تعداد 52 تھی۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے تین نئے معاون خصوصی تعینات کر دیئے۔وزیراعظم نے اویس نورانی ،محمد جہانزیب خان اور ظفرالدین محمود کو معاون خصوصی تعینات کیا ہے۔

    وزیر اعظم شہباز شریف کی کابینہ میں معاونین خصوصی کی تعداد 11 ہوگئی ہے۔ وزیر اعظم کے 4 مشیر ،6 وزیر مملکت اور 34 وفاقی وزیر ہیں۔ اس طرح کابینہ کی تعداد 55 ہوگئی ہے۔

    واضح رہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کی کابینہ معاونین خصوصی، مشیر ، وزرائے مملکت اور وفاقی وزرا کی کل تعداد 52 تھی جس پر جب موجودہ حکمران اپوزیشن میں تھے تو تنقید کرتے تھے لیکن اپنی حکومت آنے پر اب کابینہ 55 رکنی کرلی ہے۔