وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان تنظیم کا فعال اور ذمہ دار رکن ہے عالمی منظرنامہ بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی سے دوچار ہے، ایس سی او مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے اجتماعی عزم کی علامت ہے-
بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ایس سی او کے قیام کے 25 سال مکمل ہونا اہم سنگِ میل ہے، پاکستان تنظیم کا فعال اور ذمہ دار رکن ہے عالمی منظرنامہ بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی سے دوچار ہے، ایس سی او مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے اجتماعی عزم کی علامت ہے پاکستان تنازعات کے پرامن حل اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری پر یقین رکھتا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ایس سی او ترقیاتی حکمت عملی 2035 پر عملدرآمد ضروری ہے، ایس سی او ترقیاتی بینک کا قیام اہم قدم ثابت ہو گا، پاکستان کی ایس سی او چیئرمین شپ میں توانائی اور آئی ٹی کو ترجیح دی جائے گی پاکستان کی ایس سی او چیئرمین شپ میں صحت، ثقافت اور کھیل کی ترجیحا ت میں شامل ہیں ،پاکستان غربت کے خاتمے اورسماجی تحفظ کے فروغ کیلئے کردار جاری رکھے گاایس سی او خطے میں تین ارب سے زائد افراد آباد ہیں، علاقائی رابطہ کاری اب انتخاب نہیں بلکہ تزویراتی ضرورت ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان نے علاقائی بحران کے دوران امن کے لیے مؤثر کردار ادا کیا، پاکستان کی سفارتی کوششیں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط تک پہنچیں، جو خطے میں کشیدگی کم کرنے کی جانب اہم قدم ہےپاکستان پائیدار علاقائی امن کے لیے پرعزم اور کثیرالجہتی نظام کو مضبوط بنانے کا حامی ہے، عالمی اداروں کو اپنے اعلانات کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنا ہوگا،غزہ اور مغربی کنارے میں جاری انسانی المیہ ناقابلِ تصور مصائب کا باعث ہے، عالمی برادری کو فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کا احترام کرنا چاہیے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے پانی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پانی ہمارے خطے کی زندگی اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کی ضمانت ہے، پانی کو سیاسی مقاصد یا دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا ناقابلِ قبول ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار سے زائد جانوں کی قربانیاں دیں، دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کو 150 ارب ڈالر سے زائد کا معاشی نقصان ہوا، پاکستان پرامن ،مستحکم اور خوشحال افغانستان کا خواہاں ہے، دہشتگردوں کو افغان سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال نہیں کرنے دی جا سکتی، سی پیک علاقائی معیشتوں کو بحرہ عرب سے جوڑنے کا اہم ذریعہ ہے، پاکستان علاقائی ریل،سڑک اور توانائی منصوبوں کے فروغ کیلئے پرعزم ہے۔
