Baaghi TV

Tag: شہباز شریف

  • کرپشن ثابت ہوتی تو یہاں کھڑا نہ ہوتا بلکہ منہ چھپا کر کسی جنگل میں پھر رہا ہوتا ،وزیراعظم

    کرپشن ثابت ہوتی تو یہاں کھڑا نہ ہوتا بلکہ منہ چھپا کر کسی جنگل میں پھر رہا ہوتا ،وزیراعظم

    اسپیشل سینٹرل کورٹ لاہورمیں آج منی لانڈرنگ کیس کی سماعت ہوئی
    شہباز شریف اور حمزہ شہباز سمیت دیگر ملزمان کی ضمانتوں پر محفوظ فیصلہ سنا دیا گیا وزیراعظم شہبازشریف ، وزیر اعلیٰ حمزہ شہباز سمیت تمام ملزمان کی ضمانتیں منظورکر لی گئیں عدالت نے شہباز شریف ،حمزہ شہباز سمیت دیگر کی عبوری ضمانتوں کی توثیق کردی عدالت نے شہباز شریف اور حمزہ شہباز کو 10،10 لاکھ روپےکے مچلکے جمع کرانے کی ہدایت کردی عدالت نے شریک ملزمان کو 2،2 لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کی ہدایت کردی اسپیشل سینٹرل کورٹ لاہور نے تمام ملزمان کو 7روز میں مچلکے جمع کرانے کی ہدایت کر دی

    وزیراعظم شہباز شریف اسپیشل سینٹرل کورٹ لاہور میں پیش ہو گئے-عدالت نے شہباز شریف ،حمزہ شہباز سمیت دیگر کی حاضری لگانے کا حکم دیا ،عدالت نے کہا کہ ملک مقصود کی خبرمیڈیا پر چل رہی ہے وہ فوت ہو گیا ہے، ایف آئی اے حکام نے عدالت میں کہا کہ ابھی تک ملک مقصود کی وفات کی تصدیق نہیں ہوئی، ہم نے تصدیق کے لیے انٹر پول کو لکھا ہے، عدالت نے استفسار کیا کہ ہم پھرملک مقصود کواشتہاری کیسے قرار دیں گے؟ ایف آئی اے حکام نے کہا کہ ہمیں آفیشل طور پر تصدیق نہیں ہوئی کہ ملک مقصود مر چکا ہے،

    دوران سماعت وزیراعظم شہباز شریف روسٹرم پر آ گئے ،شہباز شریف کا کہنا تھا کہ میرا حق میں اپنی ضمانت سے متعلق عدالت کو حقائق بتاوں،ایف آئی اے کا وہی کیس ہے جو نیب نے بنا رکھا ہے ،میرے اوپر آشیانہ اور رمضان شوگر مل کیس بنائے گئے ، جج نے وزیراعظم شہباز شریف سے سوال کیا کہ ان میں آپکا کوئی شیئر نہیں ہے ؟شہباز شریف نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ میرا کوئی شئیر نہیں ہے،آشیانہ کیس میں اختیارات کے ناجائز استعمال کا الزام لگایا گیا میرے کیسز میں لاہور ہائیکورٹ مفصل فیصلہ دے چکی ہے نیب والے میرے خلاف سپریم کورٹ گئے اور نعیم بخاری پیش ہوئے جب نیب عقوبت خانے میں تھادو مرتبہ ایف آئی اے نے تحقیقات کیں،میں نے ایف آئی اے سے کہا کہ وکلا کی مشاورت کے بعد جواب دوں گا ،میں نے ایف آئی اے سے کہا کہ زبانی میں جواب نہیں دوں گا ،عدالت میں جب ضمانت کا معاملہ گیا تو 4 ججز نے میرے حق میں فیصلہ دیا،4ججز نے کہا کہ کرپشن منی لانڈرنگ اور بے نامی اثاثوں کے کوئی شواہد نہیں ملے،میرے لیے عزت کی اور کیا بات ہو گی کہ میرٹ پر بری ہوا،پراسیکیوشن نے کہا کہ یہ منی لانڈرنگ اور کرپشن کا کیس نہیں ہے جب میں اپوزیشن میں تھا تو نیب اس فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ گیا ہی نہیں اس عدالت میں کیس ٹرانسفر ہونے سے پہلے درجنوں بار پیش ہوا،آپ سے پہلے جج نے سختی کی کہ چالان مکمل کیوں نہیں کرتے یہ 99 اعشاریہ 99 فیصد وہی الزمات ہیں جو نیب نے لگائے میں تنخواہ نہیں لیتا، سی ای او نہیں ہوں، شئیر ہولڈر نہیں ہوں،

    وزیراعظم شہباز شریف نے عدالت میں مزید کہا کہ بطور وزیراعظم پاکستان بھی کچھ گزارشات عدالت کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں مشتاق چینی والے معاملے پر عدالت کو کچھ بتانا چاہتا ہوں،پنجاب اور سندھ میں گنے کا ریٹ مختلف ہوتا ہے جو حقائق عدالت میں بیان کروں گا دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا گنے کی قیمت سندھ میں یکایک کم کر دی گئی قیمت کم کرنے سے پنجاب میں کہرام مچ گیا کہ سندھ میں قیمت کم ہو گئی ہے پنجاب شوگر ملز نے مطالبہ کیا کہ سبسڈی دی جائے، میرے خاندان کی بھی ملیں ہیں میں نے کہا کہ آپ ہر بار کماتے ہیں اس بار نقصان کر لیں،میرے وکیل نے ضمانت کے حوالے سے تمام دلائل دے دیئے ہیں میرے خلاف کرپشن کا کوئی کیس ثابت نہیں ہوا ،عزت ہی انسان کا خاصہ ہوتا ہے ،اللہ نے وزارت عظمٰی کی ذمہ داری دی ،اللہ سے دعا ہے یہ ذمہ داری خوش اسلوبی سے نبھاؤ کرپشن ثابت ہوتی تو یہاں کھڑا نہ ہوتا بلکہ منہ چھپا کر کسی جنگل میں پھر رہا ہوتا ،کیس میں درجنوں پیشیاں بھگتیاں ہیں ، ایک سال تک چالان پیش نہیں کیا گیا ،چالان پیش اس لیے نہیں کیا گیا کہ کہ کسی طرح مجھے گرفتار کر لیں میرا کسی شوگر ملز سے کوئی تعلق نہیں ہے ،میں شئیر ہولڈر نہیں ہوں

    وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز عدالت سے روانہ ہو گئے،ایف آئی اے پراسیکیوٹر فاروق باجوہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ضمانت کے دوران ملزمان کا رویہ مثبت رہا،شہباز شریف کا ڈائریکٹ رمضان شوگر مل سے کوئی تعلق نہیں، شہباز شریف ڈائریکٹر ہیں نہ ہی سی ای او ہیں، شہباز شریف کے ذاتی اکاونٹ میں 4 مشکوک ٹرانزیکشن ہوئی ،رمضان شوگر مل میں حمزہ شہباز اس وقت ایم این اے تھے اور سی ای او تھے، حمزہ شہباز نے سالانہ آڈٹ رپورٹ میں دستخط کیے ہوئے ہیں،ایڈوکیٹ امجد پرویز نے کہا کہ کسی قانون کے تحت سی ای ہونا کوئی جرم تو نہیں ہے،

    عدالت نے وزیر اعظم شہباز شریف اور حمزہ شہباز سمیت دیگر ملزمان کی ضمانتوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا گیا تھا جو اب عدالت نے سنا دیا ہے، عدالت نے ملزمان کی ضمانتیں منظور کر لی ہیں

    نواز شریف کو سرنڈر کرنا ہو گا، اگر ایسا نہ کیا تو پھر…عدالت کے اہم ریمارکس

    نواز شریف حاضر ہو، اسلام آباد ہائیکورٹ نے طلبی کی تاریخ دے دی

    نواز شریف کو فرار کروانے والے پروفیسر محمود ایاز کے نئے کارنامے،سنئے مبشر لقمان کی زبانی

    شریف فیملی منی لانڈرنگ مقدمے میں پیش ہونے والا پراسکیوٹرعدالت میں بیہوش

  • وفاقی کابینہ کا اجلاس، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصد اضافے کی منظوری

    وفاقی کابینہ کا اجلاس، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصد اضافے کی منظوری

    وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس منعقد ہوا .اجلاس میں مالی سال 23-2022 کے بجٹ کی منظوری دی گئی۔کابینہ نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصد اضافے کی منظوری دی ہے.

    وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کابینہ کو بجٹ کے نکات پر بریفنگ دی، وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد بجٹ قومی اسمبلی میں پیش ہوگا۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن میں اضافے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق سرکاری ملازمین کی پنشن میں 5 فیصد اضافے کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ ملازمین کی تنخواہیں بڑھانے سے خزانے پر 71 ارب 59 کروڑ کا بوجھ پڑے گا۔

    بجٹ تقریر کے اہم نکات سامنے آئے ہیں ،بجٹ تقریر کے نکات کے مطابق دفاع پر 1450 ارب روپے خرچ ہوں گے حکومت کے قرض لینے کی حد جی ڈی پی کا 60 فیصد مقرر کی گئی ریونیو میں صوبوں کا حصہ 35 سو 12 ارب روپے رہا ترقیاتی بجٹ کے لیے 800 ارب روپے مختص ہیں رمضان پیکج کے لیے 5 ارب روپے مختص ہیں بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام اب ایک کروڑ افراد کو فنڈز دے گا بجٹ کا حجم 9 ہزار500 ارب روپے ہوگا، صنعت کے لیے رعایتی گیس کی سہولت دی جائے گی صنعتوں کے ٹیکس ریفنڈ فوری دینے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے، بلوچستان کے پسماندہ اضلاع کے لیے خصوصی پیکج کا اعلان کیا گیا ہے گوادر کے نوجوانوں کے لیے تعلیمی وظائف بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جلد گیس کے نئے نرخوں کا اعلان کرینگے نیشنل یوتھ کمیشن کا قیام عمل میں لایا جائے گا، وفاقی حکومت کے اخراجات 530 ارب روپے ہیں گرین یوتھ مومنٹ کا آغاز کیا جائے گا،سابق حکومت نے پونے 4 سال کے عرصے میں 20 ہزار ارب روپے کا قرضہ لیا،

    نئے مالی سال کیلئے 9 ہزار ارب روپے سے زائد حجم کا وفاقی بجٹ آج پیش کیا جائے گا، خسارہ 4 ہزار ارب روپے سے زائد ہے قرض اور سود کی ادائیگیوں کیلئے 3 ہزار 5 سو 23 ارب روپے رکھے جائیں گے، ٹیکس وصولیوں کا ہدف 7 ہزار 2 سو 55 ارب روپے مقررکیا گیا ہے، دفاع کیلئے 1 ہزار 5 سو 86 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق بجٹ میں سولر پینلز کی امپورٹ پر ٹیکس چھوٹ دینے کی تجویز ہے۔ بجٹ میں کسانوں کےلئے ٹریکٹرز پر سیلز ٹیکس میں ریلیف دینے کی تجویز ہے۔ بجٹ میں مقامی خیراتی اسپتالوں کو امپورٹ پر چھوٹ دینے کی بھی تجویز ہے۔

    دوسری جانب وزیراعظم شہاز شریف نے حکومتی اتحادیوں کا اجلاس بھی طلب کر لیا ہے، حکومتی اتحادیوں کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوگا۔وزیراعظم کی زیرصدارت اجلاس میں بجٹ سے متعلق حکمت عملی پر بات ہو گی، اجلاس میں تمام اتحادی جماعتوں کے ارکان قومی اسمبلی کو شرکت یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

  • شریف فیملی منی لانڈرنگ مقدمے میں پیش ہونے والا پراسکیوٹرعدالت میں بیہوش

    شریف فیملی منی لانڈرنگ مقدمے میں پیش ہونے والا پراسکیوٹرعدالت میں بیہوش

    شریف فیملی منی لانڈرنگ مقدمے میں پیش ہونے والا پراسکیوٹرعدالت میں بیہوش
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق شہباز شریف، حمزہ شہباز منی لانڈرنگ کیس کے پراسیکیوٹر کی عدالت میں حالت غیر ہو گئی

    فاروق باجوہ ایف آئی اے بینکنگ کورٹ میں دوران سماعت بے ہوش ہوگئے ایف آئی اے پراسیکیوٹر کو فوری طور پر سروسز اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ان کا طبی معائنہ کیا جا رہا ہے، ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ فاروق باجوہ کا طبی معائنہ ،ٹیسٹ کروائے جائیں گے ،

    واضح رہے کہ فاروق باجوہ شریف فیملی منی لانڈرنگ کیس میں عدالت میں پیش ہوتے ہیں،گزشتہ روز ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر فاروق باجوہ نے مقصود چپڑاسی کی موت پر بیان میں کہا تھا کہکہ ملک مقصود کی وفات کا ابھی علم ہوا ہے، مقصود چپڑاسی کی وفات سے کیس پر کوئی اثر نہیں پڑے گا،ملک مقصود گواہ نہیں ملزم تھا، کیس پرکوئی اثر نہیں پڑے گا، ملزمان کیخلاف کیس ایف آئی اے عدالت میں چل رہا ہے

    واضح رہے کہ شریف خاندان کے خلاف منی لانڈرنگ کیس ایف آئی اے سپیشل کورٹ میں زیر سماعت ہے، وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ حمزہ شہباز خود عدالت میں پیش ہو چکے ہیں، یہ کیس سابق وزیراعظم کے سابق مشیر شہزاد اکبر کی جانب سے بنایا گیا ہے

    نواز شریف کو سرنڈر کرنا ہو گا، اگر ایسا نہ کیا تو پھر…عدالت کے اہم ریمارکس

    نواز شریف حاضر ہو، اسلام آباد ہائیکورٹ نے طلبی کی تاریخ دے دی

    نواز شریف کو فرار کروانے والے پروفیسر محمود ایاز کے نئے کارنامے،سنئے مبشر لقمان کی زبانی

  • 2022-23 بجٹ، 10 ہزار ارب روپے اور خسارہ 500 ارب روپے

    2022-23 بجٹ، 10 ہزار ارب روپے اور خسارہ 500 ارب روپے

    2022-23 بجٹ، 10 ہزار ارب روپے اور خسارہ 500 ارب روپے ہے

    وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق خسارے کو کم رکھنے کے لیے معاشی شرح نمو 4 فیصد سے کم ہونے کا امکان ہے بجٹ ڈیٹا منظوری کے لیے کسی وقت بھی کابینہ کو پیش کر دیا جائے گا،خسارہ کم رکھنے کا مقصد اخراجات اور مہنگائی کو کنٹرول کرنا ہے، مہنگائی کی شرح 12 فیصد اور وفاقی اخراجات کو 700 ارب روپے تک محدود کرنا ہے، 300 ارب روپے قرضوں پر سود کی واپسی اور ایمرجنسی اخراجات کے لیے ہوں گی،نجی ٹی وی کے ذرائع کے مطابق اخراجات اور مہنگائی کم رکھنے کے فارمولے سے معیشت سست پڑنے کا خطرہ مول لیا گیا ،یہ خطرہ ٹیکس محصولات کے حجم کو 25 فیصد مزید بڑھانے سے بڑھے گا،معیشت سکڑنے کا خطرہ مول لیے بغیر بجٹ بنانا ممکن نہ تھا

    آئندہ مالی سال کیلئے ترقیاتی بجٹ 800 ارب روپے مختص کیا جائے گا،وفاقی وزارتوں اور محکموں کا بجٹ 538 ارب روپے مختص کیا جائے گا،سب سے بڑا ترقیاتی بجٹ این ایچ اے کو 121 ارب روپے ملے گا، آبی وسائل کیلئے 96 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ مختص کیا گیا ہے، آزاد کشمیراور گلگت بلتستان کے لیے 96 ارب 36 کا ترقیاتی بجٹ مختص کیا گیا ہے ،ترقیاتی کاموں کےلیے کابینہ ڈویژن کو60 ارب کا بجٹ ملے گا، توانائی کے شعبے میں پیپکو کے لیے49 ارب روپےکا ترقیاتی بجٹ مختص کیا گیا ہے، ریلوے کے لیے 33 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ مختص کیا گیا ہے، خیبرپختونخوا میں ضم قبائلی علاقوں کےلیے50 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ مختص کیا گیا ہے، اٹامک انرجی کمیشن کے لیے25 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ مختص کیا جائے گاہائرایجوکیشن کمیشن کو 41 ارب 87 کروڑ کا ترقیاتی بجٹ ملے گا، ایوی ایشن کے لیے ڈھائی ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ مختص کیا جائے گا،

    ماحولیاتی تبدیلی کی وزارت کے لیے9.5 ارب روپےکا ترقیاتی بجٹ مختص کیا جائے گا،تعلیمی منصوبوں کے لیے6 ارب روپے کاترقیاتی بجٹ مختص کیا جائے گا ،ہاؤسنگ کے لیے11 ارب 60 کروڑ روپے کا ترقیاتی بجٹ مختص کیا جائے گا،وزارت داخلہ کے لیے 10 ارب 47 کروڑ روپے کا ترقیاتی بجٹ مختص کیا جائے گا ،وزارت صحت کے لیے 12 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ مختص کیا جائے گا ،وزارت غذائی تحفظ کےلیے12 ارب روپےکاترقیاتی بجٹ مختص کیا جائے گا، میری ٹائم افیئرزکے لیے3.1 ارب روپےکا ترقیاتی بجٹ مختص کیا جائے گا،آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے لیے 96 ارب 36 کا ترقیاتی بجٹ مختص کیا جائے گا

    بجٹ میں،کم فیس والے نجی سکولوں کے لیے الگ سے رقم مختص کی جائے، ملک ابرار حسین

    اگلے مالی سال کا بجٹ 10جون کو قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا،

    تمباکو اور میٹھے مشروبات پر ٹیکس میں اضافہ آنیوالے بجٹ میں کیا جائے، ثناء اللہ گھمن

    تمباکو پر ٹیکس عائد کر کے نئی حکومت بجٹ خسارے پر قابو پا سکتی ہے،ماہرین

  • سیاسی استحکام کے بغیر معاشی استحکام نہیں آسکتا،شہباز شریف

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی استحکام نہیں آ سکتا، برآمدات پر مبنی صنعت، زرعی پیداوار میں اضافہ کیلئے ایگری انڈسٹریل انویسٹمنٹ، انفارمیشن ٹیکنالوجی کی برآمدات میں اضافہ اور قابل تجدید توانائی کا حصول ہماری ترجیحات ہیں، قومی ایکسپورٹ صنعتی زونز کے قیام کیلئے سرمایہ کاروں کو مفت اراضی فراہم کریں گے، پالیسیوں میں تسلسل کیلئے میثاق معیشت ناگزیر ہے، ملکی ترقی کیلئے دیہی علاقوں کو ترقی دینا ہو گی، زرعی شعبہ ملک کی تقدیر بدل سکتا ہے، صوبوں کے ساتھ مل کر جامع معاشی پلان بنایا جائے گا، معاشی حکمت عملی کی تیاری میں کاروباری طبقہ سے رہنمائی لی جائے گی۔

    پری بجٹ بزنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ کانفرنس کے تمام شرکاء کے شکرگزار ہیں، ان کی طرف سے دی جانے والی تجاویز کا خیرمقدم کرتے ہیں، ملکی ترقی کیلئے تاجروں اور ماہرین کی خدمات قابل تحسین ہیں، ان کی طرف سے دی گئی اچھی تجاویز پر حکومت عمل کرے گی۔

    وزیراعظم نے کہا کہ 90ء کی دہائی میں پاکستانی روپے کی قدر بھارتی کرنسی سے بہتر تھی، ماضی میں بھارت نے ہمارے ترقیاتی منصوبوں کی تقلید کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ ملکی ترقی کیلئے دیہی علاقوں کو ترقی دینا ہو گی، دیہات میں شہروں جیسی تعلیم اور صحت کی بنیادی سہولیات سے وہاں پر شہر کی طرز پر ترقی کی جا سکتی ہے، دیہی علاقوں سے شہروں میں منتقلی سے شہروں پر بوجھ میں اضافہ ہو گا، پاکستان کی آبادی کا 65 فیصد علاقہ دیہی ہے،

    ہم نے یہاں زراعت کو ترقی دینی ہے، دیہات کو ترقی یافتہ پاکستان کا حصہ بنانا ہے، وہاں پر اعلیٰ تعلیم سے یہ ممکن ہے، دانش سکول دیہی علاقوں میں قائم ہوئے جن کا معیار تعلیم ایچی سن کالج کے برابر ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ زراعت ایک ایسا شعبہ ہے جو پاکستان کی معیشت کو ترقی دے سکتا ہے، ہم ساڑھے 4 ارب ڈالر کا پام آئل درآمد کر ر ہے ہیں ، کیا اس کی پیداوار ہمارے ملک میں نہیں ہو سکتی، ہمارے ملک میں کس چیز کی کمی ہے، ہم نے جدید ٹیکنالوجی سے اپنی اجناس بڑھانی ہیں۔

    وزیراعظم نے کہا کہ زرعی شعبہ ملک کی تقدیر بدل سکتا ہے، معاشی حکمت عملی کی تیاری میں کاروباری طبقہ سے رہنمائی لی جائے گی، جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ملکی پیداوار بڑھائی جا سکتی ہے، 18ویں ترمیم کے بعد وسائل کا زیادہ حصہ صوبوں کے پاس چلا گیا ہے جبکہ وفاق کے پاس کم حصہ رہ گیا ہے، صوبوں کے ساتھ مل کر جامع معاشی پلان بنایا جائے گا، اس کیلئے ہر قدم پر بزنس کمیونٹی کی رہنمائی کی ضرورت ہو گی۔

    وزیراعظم نے کہا کہ وہ زراعت، صنعت اور دیگر شعبہ جات میں ٹاسک فورسز قائم کریں گے تاکہ ایک جامع منصوبہ لے کر آگے بڑھیں، ہم نے ایک سال تین ماہ کی رہ جانے والی حکومتی مدت کیلئے قلیل اور وسط مدتی منصوبے بنانے ہیں، اسی لئے میثاق معیشت کی دعوت دیتے ہیں تاکہ میثاق معیشت کے تحت ایسے اہداف طے کئے جائیں جنہیں تبدیل نہ کیا جا سکے، پالیسیوں میں تسلسل کیلئے میثاق معیشت ناگزیر ہے۔

    انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش کپاس درآمد کرکے ویلیو ایڈیشن سے زرمبادلہ کما رہا ہے، ہمارے ملک میں 2014ء میں کپاس کی 14 ملین گانٹھوں کی پیداوار ہوئی، بنگلہ دیش کو ہم سے پہلے جی ایس پی پلس کا درجہ ملا، ہمیں اپنی کارکردگی میں اضافہ کرنا ہو گا۔ انہوں نے شرکاء سے کہا کہ وہ دن رات ان کے ساتھ بیٹھنے کیلئے تیار ہیں، ایسی جامع منصوبہ بندی کی جائے کہ ہماری آنے والی نسلیں ہمیں یاد رکھیں۔

    وزیراعظم نے کہا کہ غیر ملکی قرضوں اور خسارے پر بات ہوتی رہے گی، ہم یہاں ایسی بات نہیں کریں گے کہ جس سے پوائنٹ سکورنگ کا تاثر ملے۔ وزیراعظم نے کہا کہ گوادر میں تمام ترقیاتی منصوبے تعطل کا شکار ہیں، شہریوں کوپینے کا صاف پانی نہیں مل رہا، وہاں بجلی نہیں، ایئرپورٹ پانچ سال بعد بھی 36 فیصد مکمل ہوا ہے،

    پانی کی اب نئی سکیم بنائی گئی ہے، اس طرح قومیں نہیں بنتیں، بطور قوم باتوں کی بجائے عملی طور پر کام کرنا ہو گا، ہمارے پڑوسی دوست ملک نے اس کے سامنے بندرگاہ بنا لی لیکن ہماری ڈیپ پورٹ ہونے کے باوجود بڑے جہاز یہاں لنگر انداز نہیں ہو سکتے، ہم نے بطور قوم یہ فیصلہ کرنا ہے کہ منصوبے بنا کر ان پر عمل کرنا ہے، ہم مزید وقت ضائع کرنے کے متحمل نہیں ہو سکتے، پاکستان کو اﷲ نے بہت کچھ دیا ہے۔

    انہوں نے شرکاء سے کہا کہ وہ اپنے وقت، صلاحیتوں اور تجربہ سے اس منصوبہ بندی میں مدد کریں، ہمارا مقصد برآمدات بڑھانا ہے، رواں سال 30 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنا پڑی، ایک ارب ڈالر اس پر خرچ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ قیمتی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود ملک کیلئے استفادہ نہیں کیا جا سکا، ہمارے پاس زرخیز زمینیں ہیں، باصلاحیت اور ہنرمند محنت کش طبقہ ہے، برآمدات کا فروغ حکومت کی اولین ترجیح ہے، برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر حکمت عملی سے ملکی ترقی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے دور میں لگنے والے چار پاور پلانٹس میں سے 1250 میگاواٹ کا سستا ترین پاور پلانٹ 2020ء میں فعال ہو جانا چاہئے تھا تاہم یہ منصوبہ ابھی تک فعال نہیں ہو سکا، اس کی تاخیر کا ذمہ دار کون ہے، قوم کو اس کا حساب کون دے گا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ جتنے اچھے منصوبے بنائیں اگر ان پر عملدرآمد نہیں ہو گا تو بے سود ہیں، افسر شاہی کا یہ رونا جائز ہے کہ انہوں نے کام کیا اور انہیں پکڑ کر نیب کے عقوبت خانوں میں ڈالا گیا، ان بیورو کریٹس نے پاکستان کے اربوں روپے بچائے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ کانفرنس میں شرکاء کی جانب سے دی جانے والی تجاویز کو حقیقت کا روپ دیں گے۔ وزیراعظم نے اپنی حکومت کی ترجیحات بتاتے ہوئے کہا کہ برآمدات پر مبنی صنعت جس میں ٹیکسٹائل کا اہم کردار ہے وہ اولین ترجیحات میں شامل ہے، زرعی پیداوار میں اضافہ کیلئے ایگری انڈسٹریل انویسٹنمٹ کی طرف جائیں گے،

    گلف میں ٹیولپ کے بھرے جہاز پڑوسی ملک سے آتے ہیں، ہمارے پاس انڈسٹری اور ٹیکنالوجی ہو تو ہمارے پھل دنیا کی مارکیٹوں میں بہترین جگہ بنا سکتے ہیں، برآمدات میں اضافہ اور درآمدات میں کمی حکومت کی سب سے بڑی ترجیح ہے تاکہ زرمبادلہ کے ذخائر بڑھیں،

    اس کیلئے ترکی، چین اور جاپان سے بات کی ہے، پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کی خواہشمند کمپنیوں کے چھوٹے چھوٹے کاموں کی وجہ سے رکاوٹیں ہیں، اگر نگرانی اور تڑپ ہو تو پاکستان آگے بڑھے گا، آج ترکی، چین اور جاپان ہم سے ناراض ہیں، گذشتہ حکومت نے دوست ممالک اور سرمایہ کاروں کو ناراض کیا، دوست ممالک سے تعلقات کو نئی جہت دے رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ آئی ٹی انڈسٹری کو فروغ دے کر برآمدات کو 15 ارب ڈالر زتک لے جانے کا وزارت آئی ٹی کو ہدف دیا ہے اس کیلئے میں بھی وزیر آئی ٹی کے ساتھ بیٹھوں گا، بھارت کی آئی ٹی کی برآمدات 200 ارب ڈالرز ہیں جبکہ اس کے مقابلہ میں ہماری برآمدات 4 ارب ڈالرز سے بھی کم ہیں، بھارت میں بھی بیورو کریسی کیلئے ہم سے زیادہ سرخ فیتہ ہے تاہم اتنی زیادہ برآمدات کیسے ممکن ہوئیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں خصوصی صنعتی زونز پر توجہ دینے کی ضرورت ہے،

    ہمیں اس طرف جانا ہو گا، اس کیلئے ہر چیز مکمل میرٹ پر ہو گی، کوئی سٹہ بازی نہیں ہو گی ۔ ماضی میں بنائے گئے صنعتی زونز میں لینڈ مافیا آ گیا، وہاں کوئی انڈسٹری نہیں لگی، جس طرح ہم نے بہاولپور میں سولر انرجی کیلئے اراضی فراہم کی اسی طرح خصوصی اقتصادی زونز کیلئے سرمایہ کاروں کو زمین ڈویلپ کرکے دیں گے اس حوالہ سے مفتاح اسماعیل کو پہلے ہی ہدایات جاری کی جا چکی ہیں، یہ کاروباری طبقہ پر احسان نہیں بلکہ سرمایہ کاری کیلئے مراعات ہیں، ہمیں اپنی برآمدات بڑھانے کیلئے انہیں مراعات دینا ہوں گی، اہداف متعین کرتے ہوئے برآمدات میں اضافہ کرنا ہو گا،

    اگر ہم ایٹمی قوت بن سکتے ہیں تو زرعی اور صنعتی قوت کیوں نہیں بن سکتے۔ وزیراعظم نے کہا کہ داسو اور بھاشا ڈیم اگر حکومتی وسائل سے بن جائیں تو یہ بڑی بات ہے، ہمیں قومی مفاد کے منصوبوں کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت بنانا ہو گا، ہمیں قابل تجدید توانائی کے حصول پر توجہ دینا ہو گی، تھر اور بلوچستان میں کوئلہ سے فائدہ اٹھانا ہو گا، اس کیلئے سرمایہ کار تجاویز دیں، شیل اور ٹائٹ گیس کے شعبہ میں سرمایہ کاری کے مواقع ہیں، تیل و گیس کی درآمد کیلئے سالانہ 20 ارب ڈالر پاکستان صرف کرتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ غیر ضروری درآمدات پر پابندی لگا کر سالانہ اڑھائی ارب روپے بچت کی، غیر ترقیاتی اخراجات کو کم کرنا ہو گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے نجکاری کمیشن کا اجلاس طلب کیا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اتحادی حکومت نے اختلاف رائے کے باوجود قومی مفاد میں کئے جانے والے مشکل فیصلوں کی حمایت کی، انشاء اﷲ یہ دوڑ جیتیں گے، سخت اور مشکل وقت ضرور ہے،

    اس ملک میں ہمیشہ غریب طبقہ نے سختی برداشت کی، عوامی فلاحی منصوبوں کے ذریعے غریب آدمی کی قسمت بدل دیں گے، ہم 7 کروڑ افراد کو ماہانہ 2 ہزار روپے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جذبہ ایثار کے تحت ہمیں غریب آدمی کا احساس کرنا ہو گا، رئیل اسٹیٹ کے پاس جو نان پروڈکٹیو اثاثے ہیں انہیں ٹیکس نیٹ میں لانا ضروری ہے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ دنیا میں اراضی محدود ہے اس کو ہم بڑھا نہیں سکتے، بدقسمتی سے ہمارے شہر پھیلتے جا رہے ہیں جبکہ اس کے مقابلہ میں یورپ، چین، ترکی سمیت دیگر ممالک کثیر المنزلہ عمارات کی طرف جا رہے ہیں، ہم نے اس طرف جانا ہے، ہمیں زرعی مقاصد کیلئے اراضی چاہئے،

    سیاسی مفادات اور مقاصد کیلئے انتخابات میں ایک دوسرے کے خلاف مؤقف دیں گے، ہم نے ہمیشہ ایک دائرہ میں رہ کر سیاست کی ہے، دوست ممالک کی ناراضگی اور داغ مٹانے ہیں، انہیں اعتماد میں لینے کیلئے کوشش کریں گے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ وہ جلد پاکستان امریکن بزنس کونسل سے ملیں گے، پاکستان میں قابل تجدید توانائی کے بڑے مواقع موجود ہیں، وزیرستان سے گیس کے ذخائر دریافت ہوئے ہیں، اس کو جنگی بنیادوں پر پائپ لائن کے ذریعے قومی گرڈ میں لانے کی ہدایت کر دی ہے اس سے 26 لاکھ ڈالر ماہانہ بچت ہو گی۔

  • وزیراعظم شہباز شریف آج بزنس کانفرنس سے خطاب کریں گے،مریم اورنگزیب

    وزیراعظم شہباز شریف آج بزنس کانفرنس سے خطاب کریں گے،مریم اورنگزیب

    اسلام آباد: وفاقی وزیرمریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف آج بزنس کانفرنس سے خطاب کریں گے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق ماہرین آئی ٹی، زراعت، ٹیکسٹائل، تجارت اور برآمدی شعبوں کےبارےمیں سفارشات پیش کریں گے پری بجٹ بزنس کانفرنس آج ہوگی،وزیراعظم شہبازشریف بطورمہمان خصوصی کانفرنس میں شریک ہوںگے،کانفرنس میں انفارمیشن ٹیکنا لو جی ، زراعت،ٹیکسٹائل،برآمدات اور کاروبارزیر بحث آئیں گے،کانفرنس کا مقصد ملک کو درپیش معاشی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے حکمت عملی تیار کرنا ہےکانفرنس آئندہ مالی سال کے بجٹ کے حوالے سے تجاویز کے حصول میں بھی اہم کردار اداکرے گی-

    دوسری جانب وفاقی وزیرمریم اورنگزیب نے کہا کہ بزنس کانفرنس میں ملک بھر سے کاروباری برادری شریک ہو گی ،کانفرنس میں ملک بھر کی کاروباری برادری سے بجٹ پر مشاورت ہوگی –

    عمران خان پچھلے سال سے کہہ رہے تھے ،کہ کچھ ہونے والا ہے،عظمی کاردار

    مریم اورنگزیب نے کہا کہ وزیراعظم معاشی ترقی کےلئے اپنا وژن کاروباری برادری کےسامنے رکھیں گے،توانائی اورشعبہ آئی ٹی کے کاروباری حضرات کانفرنس میں شریک ہوں گے، شعبہ زراعت، فوڈ سیکیورٹی اور ٹیکسٹائل سے منسلک افراد بھی شریک ہوں گے-

    سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے کرپشن اسکینڈلز نیب کو بھیجنے کی قرار داد جمع

    انہوں نے کہا کہ مینوفیکچرنگ اور برآمدات سے تعلق رکھنے والے حضرات کانفرنس کا حصہ ہوں گےوزیراعظم کانفرنس میں میثاق معیشت کے لیے نیشنل ڈائیلاگ کا آغاز کریں گےوزیراعظم معاشی مسائل کے حل کے لیےوسط اور طویل المدتی اقدامات پر تبادلہ خیال کریں گے-

    وزیراعظم شہباز شریف کا عربی زبان میں ٹوئٹر اکاؤنٹ فعال

    وفاقی وزیر نے کہا کہ مالی سال 2022-23 کے بجٹ کے لیے تجاویز بھی حاصل کریں گےوزیراعظم شہبازشریف کا وژن مستحکم اور پائیدار بنیادوں پر ملکی ترقی ہے وزیراعظم کا وژن ملک میں غربت اورمحرومیوں کا خاتمہ ہے،

    عمران خان کو گرفتار کرنے کا میرا پکا ارادہ ہے،یہ آدمی نوجوانوں کو گمراہ کر رہا ہے،رانا ثناءاللہ

  • حکومت کاموبائل فون صارفین کیلئے بڑا اقدام، ناپسندیدہ ایس ایم ایس بلاک کرنے کی اجازت

    حکومت کاموبائل فون صارفین کیلئے بڑا اقدام، ناپسندیدہ ایس ایم ایس بلاک کرنے کی اجازت

    وزیرِ اعظم شہباز شریف کی ہدایت پر حکومت کا موبائل فون صارفین کے تحفظ کیلئے بڑا اقدام،صارفین کو ناپسندیدہ ایس ایم ایس بلاک کرنے کی اجازت دینے کیلئے پالیسی سازی کا عمل شروع کر دیا گیا.

    پی ٹی اے صارفین کے ڈیٹا کی رازداری کے قوانین کا فوری جائزہ لے گی، وزیراعظم شہباز شریف نی ہدایت کی ہے کہ صارفین کی پرائیویسی شہریوں کا بنیادی آئینی حق ہے حکومت اسکی خلاف ورزی کی کسی قدر اجازت نہیں دے گی.

    وزیر اعظم کے مشیر برائے اسٹریٹجک ریفارمز سلمان صوفی نے چیئرمین پی ٹی اے سے موبائل فون صارفین کے ڈیٹا کے تحفظ اور مرکیٹرز کی طرف سے بھیجے جانے والے ناپسندیدہ ایس ایم ایس کے حوالے سے مشاورت کی ہے.ملاقات میں شہریوں کو ناپسندیدہ ایس ایم ایس بلاک کرنے کی اجازت دینے کی فوری پالیسی سازی پر اتفاق کی اگیا ہے

    معاون ِ خصوصی نے وزیراعظم کی پی ٹی اے کو صارفین کو بھیجے جانے والے مارکیٹرز کے ناپسندیدہ ایس ایم ایس کے ساتھ ساتھ شہریوں کے رازداری کے قوانین کے فوری جائزے کی ہدایات سے آگاہ کیا.

    سلمان صوفی نے کہا کہ شہریوں کی پرائیویسی ایک آئینی حق ہے اور وزیر اعظم اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ اس کی خلاف ورزی نہ ہو۔ چئیرمین پی ٹی اے وزیراعظم اسٹریٹجک ریفارمز یونٹ کو اس سلسلے میں ہونے والے اقدامات پر آج بریف کریں گے.

    اس سلسلے میں مجوزہ اقدامات میں صارف بغیر اجازت موصول ہونے والے میسج بھیجنے والی کمپنی کو رپورٹ کر سکے گا،مزید برآں صارف کو یہ حق حاصل ہو گا کہ وہ کسی بھی میسج بھیجنے والی کمپنی کو میسج بھیجنے سے منع کر سکے گا جس پر عملدرآمد کمپنی پر لازم ہوگا. اسکے علاوہ کمپنی صارف کا ڈیٹا اس کی مرضی کے بغیر کسی اور کمپنی کو نہ دینے کی پابند ہوگی.

  • منی لانڈرنگ کیس: ایف آئی اے نے شہباز شریف اورحمزہ شہباز کی درخواست ضمانت کی مخالفت کر دی

    منی لانڈرنگ کیس: ایف آئی اے نے شہباز شریف اورحمزہ شہباز کی درخواست ضمانت کی مخالفت کر دی

    لاہور: ایف آئی اے نےشہباز شریف اور حمزہ شہباز کیخلاف ضمنی چالان عدالت میں جمع کرا دیا-

    شہبازشریف اور حمزہ شہباز کی عبوری ضمانت 20 جون تک توسیع کر دی گئی، سلمان شہباز کے دوبارہ وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے گئے

    ایف آئی اے اسپیشل کورٹ لاہور میں منی لانڈرنگ کیس کی سماعت میں شہباز شریف اور حمزہ شہباز عدالت میں پیش ہوئے -ایف آئی اے نےشہباز شریف اور حمزہ شہباز کیخلاف ضمنی چالان عدالت میں جمع کرا دیا،ایف آئی اے اسپیشل پراسیکیوٹر فاروق باجوہ نےشہباز شریف اور حمزہ شہباز کیخلاف ضمنی چالان جمع کرایا ،ایف آئی اے ا سپیشل کورٹ لاہور میں جمع چالان میں ملزمان کی ولدیت اور مکمل ایڈریس تحریر کیے گئے-

    لاہور: چلڈرن اسپتال کی تیسری منزل پر آتشزدگی

    ،ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہا کہ سیکیورٹی اہلکار کورٹ آنے کی اجازت نہیں دے رہے جس پر ایف آئی اے ا سپیشل کورٹ لاہور نے انچارج سیکیورٹی کو فوری طلب کرلیاکہا کہ تفتیشی افسر سمیت دیگر ایف آئی اے ا سٹاف کو کورٹ روم میں آنے دیا جائے ،ایف آئی اے ا سپیشل کورٹ لاہور نے تمام ملزمان کی حاضری مکمل کرلی-

    وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کے وکیل امجد پرویز نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دور حکومت میں بدنیتی پر منی لانڈرنگ کا مقدمہ بنایا گیا ،تمام ٹرانزیکشنز قانونی ہیں اور کاروباری لین دین ہے ،حمزہ شہباز پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں ،ایف آئی اے نے ڈیرھ برس تحقیقات کیں مگر کوئی شواہد پیش نہیں کیے گئے ،حمزہ شہباز کے ذاتی اکاؤنٹس میں کوئی رقم نہیں آئی،جیل کی حراست میں ایف آئی اے نے دو بار تفتیش کی ،جیل میں تفتیش کے بعد 5مہینے خاموشی رہی ،مشتاق چینی کے متعلق کہا گیا اس کے ذریعے منی لانڈرنگ کی گئی ،مشتاق چینی کو ملزم ہی نہیں بنایا گیا ان کا اعترافی بیان بھی چالان میں نہیں لگایا گیا،صرف سیاسی رہنما کو انتقام کا نشانہ بنانے کےلیے کارروائی کی گئی ،کیس کی ساری تفتیش مکمل ہے تمام شواہد ڈاکومنٹڈ ہے-

    روڈ ٹو مکہ پراجیکٹ برائے حج 2022 کے حوالے سے اسلام آباد ائرپورٹ پر اہم اجلاس ،بڑے فیصلے

    ایف آئی اے نے شہباز شریف اورحمزہ شہباز کی درخواست ضمانت کی مخالفت کر دی،ایف آئی اے پراسیکیوٹر فاروق باجوہ نے کہا کہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی گرفتاری مطلوب ہے، شہباز شریف حمزہ شہباز کی قبل از گرفتاری درخواست ضمانت منسوخ کی جائے-

    وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز مصروفیت کے باعث عدالت پیش نہ ہوئے احتساب عدالت لاہور حمزہ شہباز کی ایک روزہ حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کرلی احتساب عدالت لاہور نے منی لانڈرنگ کیس کی سماعت 15جون تک ملتوی کر دی-

    شہباز شریف نے کہا کہ رمضان شوگر ملز کیس میں اپنے دلائل میں خود بھی پیش کرنا چاہوں گا ،احتساب عدالت لاہور نے شہبازشریف سے مکالمہے میں کہا کہ ہم نے تو آپکو پہلے بھی موقع دیا تھا-شہباز شریف نے کہا کہ استدعا ہے کہ ایک اور موقع فراہم کرے میں کچھ کہنا چاہتا ہوں –

    ملک بھر میں آج موسم کی صورتحال

    پراسیکیوٹر نے گواہان پیش کیے،گواہ کمشنر آفس سے نمائندے نے ریکارڈ پیش کیا،محکمہ داخلہ سے بھی سیکشن افسر گواہ نمائندے نے ریکارڈ پیش کیا احتساب عدالت لاہور میں ایس ایس پی لیگل لاہور نے رپورٹ پیش کی کہا کہ ریکارڈ ڈھونڈا جا رہا ہے، مزید وقت کی استدعا ہے ،احتساب عدالت لاہور نے کہا کہ آپ آئندہ سماعت پر مکمل ریکارڈ پیش کریں ،اور کہا کہ سی سی پی او لاہور کیس کا ریکارڈ پیش کریں اور رپورٹ بنا کر لائیں بعدازاں عدالت نے گواہان کے بیانات پر جرح کے لیے ملزمان کے وکلا کو طلب کیا-

    عمران خان معیشت کو سدھارنے کے عمل کو خطرے میں ڈال رہے ہیں: دی اکنامسٹ

    شہباز شریف نے کہا کہ احتساب عدالت لاہور 20 جون کی تاریخ دے، بجٹ سیشن ہے، عدالت کیس میں 20 جون تاریخ دے ، احتساب عدالت لاہور نے کہا کہ کئی تاریخوں سے عدالتی کارروائی متاثر ہو رہی ہے ، احتساب عدالت لاہور نے شہباز شریف کی استدعا مسترد کردی کہا کہ آپ نے نہیں آناہواتو حاضری سے استثنیٰ کی درخواست د ے دینا، بعد ازاں احتساب عدالت لاہور نے آشیانہ ہاوسنگ اور رمضان شوگر ملز کیس کی سماعت20جون تک ملتوی کر دی-

    وزیراعظم شہبازشریف نے احتساب عدالت لاہور سے ریلیف مانگ لیا،شہباز شریف نے نیب کے تینوں کیسز میں مستقل حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کردی شہباز شریف نے موقف اپنایا کہ سرکاری مصروفیات کے باعث عدالت میں پیش نہیں ہوسکتا،،وزیراعظم شہبازشریف نے استدعا کی کہ عدالت نمائندہ مقرر کرنے کی اجازت دے-

  • ماہی گیروں کی ترقی ہماری اولین ترجیح ہے،شہباز شریف

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ ماہی گیروں کی ترقی ہماری اولین ترجیح ہے، گوادر کے شہریوں کو آسان شرائط پر سولر پینل فراہم کریں گے، بینکوں سے قرض کے حصول میں بھی آسانی پیدا کی جائے گی، غیر قانونی ٹرالنگ کے خلاف سخت ایکشن لیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو ماہی گیروں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ماہی گیروں کی ترقی اولین ترجیح ہے، ماہی گیروں کی خوشحالی کیلئے ہر ممکن اقدامات کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہر گھر میں بجلی کی فراہمی ضروری ہے، گوادر میں ماہی گیروں کیلئے چین 3200 سولر پینل فراہم کرے گا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ سولر پینل بینکوں کے ذریعے آسان شرائط پر ماہی گیروں کو فراہم کئے جائیں گے، ماہی گیر جتنا بجلی کا بل ادا کرتے ہیں اس سے کم سولر پینل کی قسط ادا کرکے بجلی کی سہولت سے استفادہ کریں گے، جب سولر پینل کی قیمت مکمل ادا ہو جائے گی تو ماہی گیروں کو مفت بجلی ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ مختلف مقامات پر سولر پارکس قائم کئے جائیں گے جس کے باعث ماہی گیروں کو نیشنل گرڈ کی بجائے براہ راست بجلی میسر آئے گی۔

    انہوں نے کہا کہ ماہی گیروں کو مرحلہ وار کشتیوں کے انجن مفت فراہم کئے جائیں گے، پہلے مرحلہ میں 2 ہزار ماہی گیروں کو شفاف طریقہ سے قرعہ اندازی کے ذریعے انجن فراہم کئے جائیں گے، وزیراعلیٰ بلوچستان اور وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال کی سربراہی میں انتظامیہ کے تعاون سے یہ انجن جلد فراہم کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ غیر قانونی ٹرالنگ روکنے کیلئے سخت اقدامات کئے جائیں گے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ وہ جون کے آخر میں دوبارہ گوادر کا دورہ کریں گے اور ماہی گیروں کے مسائل ان کی زبانی تفصیلی طور پر سنیں گے ،ان مسائل کے حل کیلئے ہر ممکن کوشش اور اقدامات کئے جائیں گے۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو اور وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال بھی موجود تھے۔

  • سی پیک میں ترکی کی شرکت اقتصادی خوشحالی میں اضافہ کرے گی،شہباز شریف

    سی پیک میں ترکی کی شرکت اقتصادی خوشحالی میں اضافہ کرے گی،شہباز شریف

    وزیر اعظم شہباز شریف نے آئندہ انتخابات سے قبل مہنگائی اور غربت میں کمی کے لیے قلیل مدتی اقدامات کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں آئندہ عام انتخابات 15 ماہ میں ہوں گے اور اس دوران ان کا ہدف مہنگائی اور غربت کے چیلنجز سے نمٹنا ہے، حکومت کو عالمی سطح پر ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ کرنے پر مجبور کیا ہے۔ انقرہ کے اپنے تین روزہ سرکاری دورے کے دوران ترکی کے سرکاری ٹیلی ویژن ”ٹی آر ٹٰی“ کو انٹرویو میں وزیر اعظم نے کہا کہ کہ میرا وژن پاکستان کی تعمیر نو، غربت میں کمی لانے اور کفایت شعاری کو یقینی بنانے کے لیے سرکاری شعبہ کے بجٹ میں کٹوتی کے لیے اپنی پوری کوشش کرنا ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے یہ بات زور دے کے کہی کہ ان کی حکومت انتخابات سے قبل عوام کو درپیش مسائل کے حل کے لیے قلیل مدتی اقدامات کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر آئندہ عام انتخابات میں ان کی جماعت عوام کی مرضی کے مطابق اقتدار میں آتی ہے تو بے روزگاری اور غربت جیسے مسائل سے نمٹنے کے لیے ایک مکمل ترقیاتی ایجنڈا شروع کیا جائے گا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ عالمی سطح پر ایندھن کی آسمان سے چھوتی ہوئی قیمتوں نے حکومت کو تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ کرنے پر مجبور کیا ہے۔ وزیراعظم نے پاکستان کی سیاسی صورتحال کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار عدم اعتماد کا ووٹ کامیاب ہوا ہے، یہ اقتدار کی ایک آئینی اور قانونی منتقلی ہے جو آئین میں فراہم کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک ”کوانٹم جمپ“ کی بجائے ایک بڑا قدم ہے۔

    وزیر اعظم نے زور دے کر کہا کہ پاکستان میں یہ ایک قابل قبول معمول ہو گا کہ اگر پارلیمنٹیرین کی اکثریت محسوس کرتی ہے کہ ایک خاص حکومت ہو، تو انہیں ملک کے قانون کے تحت آزادانہ طور پر ووٹ دینے کی اجازت ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے قبل ماضی میں اسی طرح کے حالات میں مارشل لا اور فوجی مداخلت کا مشاہدہ ہوا ہے لیکن اب اس نے پوری صورتحال کو تبدیل کیا ہے اور اس کی حمایت کی جانی چاہیے۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اور ترکی بے پناہ افہام و تفہیم کے ساتھ علاقائی تعاون کے روڈ میپ پر گامزن ہیں اور دونوں ملکوں کی قیادت کے درمیان یکجہتی پائی جاتی ہے۔ وزیراعظم نے ترکی کے دورے کو غیرمعمولی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے عوام تاریخی رشتے کے بندھن سے بندھے ہوئے ہیں۔ اس حوالے سے انہوں نے تقسیم برصغیر سے قبل کے زمانے کا ذکر کیا جب برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں نے ترک تحریک کی حمایت کی تھی۔

    انہوں نے کہا کہ ہمارے آبائو اجداد کا رشتہ آنے والی نسلوں کے لئے ایک مستقل بھائی چارہ بن گیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے پاک ترک دفاعی تعلقات کے بارے میں کہا کہ پاکستان ترکی کے ساتھ فوجی منصوبوں میں مشترکہ تعاون کا خواہاں ہے اور یہ کہ ملجم جنگی بحری جہاز کی حالیہ لانچنگ اسی وژن کے مطابق ہے۔ ترکی کے ساتھ 5 ارب ڈالر کی تجارت کے ہدف کے حصول کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اس کا مقصد دونوں ممالک کے فائدے کے لیے مختلف شعبوں میں تجارت اور سرمایہ کاری کے دائرہ کار کو بڑھانا ہے۔

    وزیراعظم نے شام میں ”پی کے کے اور وائی پی جے“ کے دہشت گردوں کے خلاف ترکی کے انسداد دہشت گردی کے اقدامات پر کہا کہ چونکہ پاکستان دہشت گردی کا بڑا شکار رہا ہے، اس لیے اس نے اس لعنت کو ختم کرنے کی کوششوں پر ترک قیادت کی حمایت کی ہے۔ وزیراعظم شہبازشریف نے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) میں شمولیت کے لیے چین، پاکستان اور ترکی کے درمیان سہ فریقی انتظامات پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک میں ترکی کی شرکت خطے کی اقتصادی خوشحالی میں اضافہ کرے گی، وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کو بھی یہ تجویز پیش کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ترکی کی سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے اور توانائی کے منصوبوں کی تعمیر میں وسیع مہارت کئی ارب کے علاقائی منصوبے کو کامیاب بنا سکتی ہے۔

    وزیر اعظم نے پاکستان کی جانب سے ترکی اور خلیجی ملکوں کے درمیان توازن برقرار رکھنے کے حوالے سے ایک سوال پر اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ ترکی کے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ تعلقات میں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ عالمی امن کے لیے اہم اور پورے خطے کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوگا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کشمیریوں اور فلسطینیوں سمیت محکوم اقوام کی حمایت جاری رکھے گا جو اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کررہے ہیں، یہ اسرائیل یا بھارت کا سوال نہیں بلکہ ایسے لوگوں کی اخلاقی حمایت کا سوال ہے، جب تک ان کے مطالبات پر توجہ نہیں دی جاتی اس وقت تک خطے میں امن واپس نہیں آسکتا۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ملکی معیشت نے گزشتہ تین سالوں میں بہت نقصان اٹھایا اور پاکستان معیشت کو درست کرنے کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف)کے ساتھ بات چیت کررہی ہے۔ وزیراعظم نے یوکرین میں روسی حملے پر پاکستان کے مئوقف کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا غیر متزلزل موقف یہ ہے کہ ہم معاشروں کے آزاد حقوق کے لیے کھڑے ہیں، انہوں نے فریقین پر زور دیا کہ مذاکرات کی میز پر آجائیں