Baaghi TV

Tag: شہزاد قریشی

  • سیاست میں اخلاق سنجیدگی سب کیلئے لازمی،تجزیہ، شہزاد قریشی

    سیاست میں اخلاق سنجیدگی سب کیلئے لازمی،تجزیہ، شہزاد قریشی

    سیاست میں اخلاق سنجیدگی سب کیلئے لازمی،تجزیہ، شہزاد قریشی
    عوام کی اکثریت نیم مردہ حالت میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں تاہم سیاسی گلیاروں میں سیاسی رونقیں عروج پر ہیں ۔ ایک بے معنی پارلیمنٹ بھی موجود ہے۔ کراچی میں روزانہ کی بنیاد پر ایم کیو ایم والے اور جماعت اسلامی سمیت پیپلز پارٹی نجی ٹی وی اور پرنٹ میڈیا کی ضروریات پریس کانفرنسوں میں پوری کرتے ہیں۔ ایم کیو ایم مردم شماری اورجماعت اسلامی اور پیپلزپارٹی والے میئر کراچی بنائو مہم کا رونارو رہے ہیں۔ اب کون بنے گا کروڑپتی والا کھیل جاری ہے۔ اسلام آباد کی تو بات ہی نرالی ہے جہاں ہرروزقانون کی حکمرانی، آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی کی صدائیں بے معنی پارلیمنٹ سے لے کر نجی ٹی وی چینلز پرسنائی دیتی ہیں۔ اسلام آباد سیاسی شہر تو بن گیا لیکن یہاں کے سیاسی ہاتھوں نے قوم کی تباہی کردی ناقابل برداشت مہنگائی ، دہشت ناک بدامنی ، گھر گھر اس اسلام آباد میں بسنے والے سیاستدانوں کے ہاتھوں برباد ہو چکے۔ جمہوری مزاج سیاستدان نہیں ورنہ جمہوریت میں جمہوربرباد نہیں ہوتی۔ سیاست میں متانت ،سنجیدگی اور اخلاق کو جو اہمیت اور درجہ حاصل ہے اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ موجودہ بیان بازی کو کسی طور بھی نیک فال تصور نہیں کیا جاسکتا ۔ موجودہ حالات میں تعمیری اور مثبت طرز بیان اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ شومئی قسمت ایسا نہیں ہو رہا ۔

    ملکی سیاسی تاریخ کی نگاہ اس وقت عمران خان ،مریم نواز شریف پراور ان کے بیانات پر مرکوز ہے اوران دونوں کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ تو عوام نے کرنا ہے کاش عمران خان اور مریم نوازشریف اس حقیقت کا ادراک کرسکیں کہ سیاسی مستقبل کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے ٹویٹ اورتقاریر میں چیخ وپکار سے دور رہیں۔ مثبت اور تعمیری سیاسی بیانات دیں بلاشبہ مریم نواز شریف اپنے والد میاں محمد نواز شریف کا مقدمہ عوامی عدالت میں لے کر اُتری ہیں جس طرح وہ اپنے والد کا مقدمہ عوام کی عدالت میں لے کر اتری ہیں اس سے قبل مسلم لیگ(ن) اپنے قائد نواز شریف کا مقدمہ لڑنے میں ناکام رہی اس ناکامی کے ذمہ دارمسلم لیگ(ن) کے نام نہاد مرکزی رہنما ہی ہیں کوئی اور نہیں۔ مسلم لیگ(ن) اپنے قائد کی خدمات کو پس پشت ڈال کراقتداراور صرف اقتدار کی دوڑ میں شامل رہی۔ اس وقت ملکی سیاسی گلیاروں میں عمران خان اور مریم نواز کا سیاسی مستقبل تو روشن نظر آرہا ہے تاہم دونوں پرسیاسی تاریخ کی نگاہ مرکوز ہے ۔ لہذا اخلاقی ، متانت اورسنجیدگی لازمی شرط ہے ۔

  • مخلوق خدا کے لیے ہی مذاکرات کریں، تجزیہ :شہزادقریشی

    مخلوق خدا کے لیے ہی مذاکرات کریں، تجزیہ :شہزادقریشی

    ملک کی اگر تمام سیاسی جماعتیں ، بیورو کریسی ، اعلیٰ عہدوں پر فائز انتظامی افسران ،صنعت کار ، بڑے بڑے تاجر ، اشرافیہ میں شامل ملک کے تمام ادارے اگر پارسائی کے دعویدار ہیں توو پھر اس قائد کے ملک کو کنگال کس نے کیا ہے ؟ سڑکوں چوراہوں پر بیٹھے دیہاڑی دار مزدوروںنے ؟ ملک بھر کے عام آدمی جو غربت سے خودکشی کرتا ہے ؟ جو دو وقت کی روٹی کا محتاج ہے کیا اس عام آدمی نے ملک کو کنگال کیا ہے ؟ ملک کی معاشی صورت حال ملک کے تمام سیاستدانوں کے پارسائی کے دعوے پر بھی کہا جا سکتا ہے کہ

    کہاں میں اور کہاں یہ آب کوثر سے دھلی خلقت
    میراتو دم گھٹ رہا ہے ان پارسائوں میں

    مقام افسوس ہے کہ عام آدمی کا جینا مشکل ہی نہیں مشکل ترین ہو چکا ہے ۔ پاکستان بطور ریاست معاشی بحران کا شکار ہے ۔ دہشت گردی کے سائے منڈلا رہے ہیں سرحدوں پر جوان شہید ہو رہے ہیں ملک کے وجود کو برقرار رکھنے کے لیے جانوں کانذرانہ دیا جا رہاہے۔ دوسری طرف حزب اقتدار اور حزب اختلاف جو جمہوریت میں ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہوتے ہیں ایک دوسرے کے دشمن بن چکے ہیں۔

    جمہوریت کی یہ خوبی ہوتی ہے حزب اقتدار اور حزب اختلاف جو جمہوریت میں ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہوتے ہیں ایک دوسرے کے دشمن بن چکے ہیں۔ جمہوریت کی یہ خوبی ہوتی ہے حزب اقتدار اور حزب اختلاف دونوں مضبوط بھی ہوتی ہیں جمہور اور ریاست کو مستحکم کرنے میں کردار ادا کرتی ہیں۔ آج کے دور کی سیاست تعمیری نہیں تخریبی سیاست کا روپ دھار چکی ہے۔

    معاشرے میں عدم استحکام مایوسی اورعدم تحفظ کا احساس پیدا ہو رہا ہے آج کی تخریبی سیاست کے اثرات بالخصوص پاکستان کے مستقبل نوجوانوں پر منفی اثرات پڑر ہے ہیں۔ خدا کی پناہ آڈیو اور ویڈیو کا گندہ کھیل کھیلا جا رہا ہے ذرا سوچئے اگر سیاستدانوں نے تخریبی سیاست کا راستہ جاری رکھا تو اس کے اثرات ملک اور آنے والی نسل پر کیا پڑیں گی؟ –

    موجودہ آڈیو وڈیو والے سیاستدانوں ۔ ٹویٹی سیاستدانوں ،سوشل میڈیا والے سیاستدانوں کو اس ملک اور اس کی بے بس اورلاچار عوام پر ترس کیوں نہیں آتا ایک ذات اوپر بھی ہے جو بے رحم لوگوں پر رحم نہیں کرتا بلکہ غرور خدا کی زمین پر اکثر کر چلنے والے کیوں بھول رہے ہیں کہ خدا کی مخلوق پر رحم نہ کرنے والوں پر رحم نہیں کیا جاتافراخدلی کا مظاہرہ کریں مخلوق خدا کے لئے مذاکرات کا راستہ اختیار کریں اپنے سیاسی وجود کی بقا کے لئے نہیں ملک اور عوام کی بقا کے لئے ۔

    (تجزیہ شہزادقریشی)

  • معاشی بحران،سیاسی عدم استحکام،حل چاہیے،تجزیہ: شہزاد قریشی

    معاشی بحران،سیاسی عدم استحکام،حل چاہیے،تجزیہ: شہزاد قریشی

    معاشی بحران،سیاسی عدم استحکام،حل چاہیے،تجزیہ: شہزاد قریشی
    قوم کے بنیادی مسائل سیاستدانوں کے بے معنی شور شرابے تلے دب کر رہ گئے ہیں معاشی بحران اور سیاسی عدم استحکام نے ملک اور عوام کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے ملکی سیاسی جماعتوں بشمول حکمران جماعت کی طرف سے پاک فوج اور عدلیہ بارے پروپیگنڈے نے تو دنیا بھر میں پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچایا جبکہ دوسری طرف ایک سیاسی جماعت کے ارکان اسمبلی اور سینیٹ کے ارکان اور کارکن عہدیداروں سمیت زنجیریں پہن کر گرفتاریاں دے رہے ہیں یعنی رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے عجب بے معنی شور ہے نہ جانے ہمارے سیاستدانوں کا آئین کو لیکر حساب کتاب اتنا کمزور کیوں ہے سیاست کی دنیا میں دھند دن بدن بڑھتی جا رہے آئین کی کتاب میں سب درج ہے بلکہ پوری وضاحت کے ساتھ درج ہے اگر یہ آئینی سوال کہ الیکشن کب ہوں کس طرح ہونگے الیکشن کی تاریخ کون دیتا ہے ، دو چار کی طرح بالکل آسان ہے حیرت ہے ہمارے سیاستدانوں سے یہ پھر بھی حل نہیں ہو رہا ہے

    اس وقت ملک کی سیاست آئین اور الیکشن ، محسوس ہوتا ہے کہ 75سالوں اور1973ء میں آئین بنایا گیا مگر 1973سے لیکر تا دم تحریر ملک میں خالص جمہوریت نہیں رہی اگر خالص جمہوریت قائم رہتی تو آج جمہور کے بنیادی مسائل حل ہو چکے ہوتے آمریت نے اس آئین کے ساتھ کھلواڑ کیا اور آج کی جدید واٹس اپ گروپس اور ٹویٹ جمہوریت بھی آئین سے کھلواڑ ہی کر رہی ہے حیرت ہے ایک طرف جمہوریت کا نعرہ، پارلیمنٹ کی بالادستی کا نعرہ ،قانون کی حکمرانی کا نعرہ اور دوسری طرف آئین کے ساتھ کھلواڑ سیاسی جماعتوں پر یہ ایک سوالیہ نشان ہے ؟عدالتوں کا احترام کریں ادب اور تہذیب کے دائرے میں رہتے ہوئے بات کریں ملکی سلامتی کے اداروں بشمول عدلیہ کے بارے میں زہریلا پروپیگنڈہ نہ کریں کسی بھی ملک کے یہ ادارے انتہائی اہم ہوتے اور ان کا کردار بھی اہم ہوتا ہے اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ آل پارٹیز کانفرنس بلائی جائے اور مسائل کی گتھی کو سلجھایا جائے جمہوریت کی خاطر اس سلسلے میں اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ اپنا کردار ادا کریں ورنہ شاید پھر کے تیرے دل میں اتر جائے میری بات ۔۔۔!

  • پاکستان کے وڈیروں اور جاگیرداروں بارے تاریخی حقائق ،تجزیہ : شہزاد قریشی

    پاکستان کے وڈیروں اور جاگیرداروں بارے تاریخی حقائق ،تجزیہ : شہزاد قریشی

    پاکستان کے وڈیروں اور جاگیرداروں بارے تاریخی حقائق ،تجزیہ : شہزاد قریشی

    برطانوی حکومت نے بھٹو خاندان کو اڑھائی لاکھ ایکڑ رقبہ کیوں عطاء کیا۔
    تجزیہ : شہزاد قریشی
    وطن عزیز کو درپیش موجودہ سیاسی ، اقتصادی اور مالیاتی حالات بلکہ مشکلات کا معروضی تجزیہ اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ ان کا حقیقی سبب جاگیرداری کا وہ نظام ہے جس نے پاک سرزمین اور اس کے عوام کو کسی عفریت کی طرح اپنے شکنجے میں جکڑا ہوا ہے۔ حال ہی میں مجھے اس موضوع اور عنوان بارے جائزہ اور محاکمہ کا موقع میسر آیا تو حقیقی معنوں میں چشم کشا حقائق کا علم ہوا۔ مجھے یہ جان کر حیرت ہوئی کہ بھٹو خاندان جو بلاشبہ وطن عزیز کا سب سے با اثر، مقبول اور قابل ذکر سیاسی خاندان ہے ، اس کے بزرگوں نے برطانوی راج کے دوران غیر ملکی اور غاصب آقاؤں کے ساتھ بھرپور تعاون کیا تھا۔ اس کا اندازہ یوں کیا جاسکتا ہے کہ جب 1843ء میں چارلس نیپئر کی قیادت میں انگریزوں نے سندھ پر قبضہ کیا تو انہوں نے یہاں پر اپنا یہ قبضہ برقرار اور مضبوط رکھنے کے لیے علاقہ میں ٹیکس کی وصولی اور غریب عوام کے استحصال کے لیے ایک خاص طبقہ تشکیل دیا جس کے ذمہ ان غریب عوام سے لگان اور ٹیکس کی وصولی تھا۔اس طبقہ میں بھٹو خاندان بھی شامل ہوا۔ شاہنواز بھٹو لاڑکانہ (سندھ) سے تعلق رکھنے والے واحد سیاستدان تھے جو حکومت بمبئی کے مشیر اور مسلم ریاست جونا گڑھ کے دیوان بھی رہے۔ اس کے علاوہ وہ انگریزوں کی بمبئی پریذیڈنسی کے وزیر بھی تھے۔ شاہنواز بھٹو کی تعاون کی مذکورہ پالیسی کے نتیجہ میں ان کو برطانوی حکومت نے سر(Sir) اورسی آئی ای (CIE) کے خطابات دیئے۔ برطانوی حکومت نے ان کو اڑھائی لاکھ ایکڑ رقبہ بھی الاٹ کیا جس کے نتیجہ میں وہ سندھ بلکہ برصغیر کے سب سے بڑے جاگیر دار بن گئے۔ آج بھی یہ خاندان سکھر اور جیکب آباد کے علاقہ میں وسیع اراضی کا بلاشرکت غیرے مالک ہے۔

    یہ درست ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو ماضی کی طرح آج بھی وطن عزیز کے ایک مقبول اور عوامی سیاستدان تسلیم کیے جاتے ہیں اور ملک و قوم کے لیے نہ صرف ان کی بلکہ ان کی اہلیہ بیگم نصرت بھٹو ، صاحبزادی محترمہ بے نظیر بھٹو اور صاحبزادے میر مرتضیٰ بھٹو کی سیاسی خدمات تاریخی اعتبار سے نہایت معتبر ہیں لیکن اس افسوسناک حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ بھٹو خاندان نے ’’طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں ‘‘ کا نعرہ بلند کرنے کے باوجود موروثی سیاست کو ہی فروغ اور استحکام دیا۔ اس حوالہ سے یہ مثال ہی کافی ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کی موت کے بعد ان کی صاحبزادی محترمہ بے نظیر بھٹو نے پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت سنبھالی اور ایوان اقتدار تک رسائی حاصل کی۔ ان کے بعد ان کے شوہر آصف علی زرداری صدر مملکت کے عہدہ پر براجمان ہوئے اور اب ان کے صاحبزادے بلاول بھٹو زرداری نے وزارت خارجہ کا وہ قلمدان سنبھال رکھا ہے جو کم و بیش 6عشرہ قبل موصوف کے نانا ، ذوالفقار علی بھٹو کے پاس رہا۔ برطانوی راج میں جاگیریں اور انعامات و اعزازات حاصل کرنے والے خاندان آج بھی ایک آزاد اور خود مختار قوم کی گردن پر سوار مشاہدہ کیے جاتے ہیں۔ اس حوالہ سے جنوبی پنجاب کے قریشی خاندان کے احوال آئندہ قسط میں بیان کیے جائیں گے۔

  • اپنے پاؤں پر ہی کھڑا ہونے کا نام ترقی ہے، تجزیہ، شہزاد قریشی

    اپنے پاؤں پر ہی کھڑا ہونے کا نام ترقی ہے، تجزیہ، شہزاد قریشی

    عوام کی اکثریت کو مہنگائی، غربت، بیروزگاری کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کا سامنا رہا اور موجود ہے۔ ملک میں معاشی عدم استحکام، سیاسی عدم استحکام کی لپیٹ میں تھا اور موجود ہے۔ پاکستان نے امریکہ کی خاطر ہمیشہ فرنٹ لائن میں کردار ادا کیا وہ ضیا الحق کا دور حکومت ہو یا پرویز مشرف کا دور حکومت جس کے اثرات آج تک پاکستان بطور ریاست اور قوم بھگت رہے ہیں۔ دہشت گردی کی جنگ میں پاک فوج، قومی سلامتی کے اداروں، سول سوسائٹی، پولیس نے بے مثال جرات اور بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے قربانیاں دیں۔ جس کا عالمی دنیا اور امریکہ اعتراف کرتا ہے۔ آج ملک میں معاشی عدم استحکام کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم نے دہشت گردی کا مقابلہ کیا افغانستان میں قیام امن کے لئے کردار ادا کیا ضرب عضب اور رد الفساد کے ذریعے ملک سے دہشت گردوں اور انتہاپسندی کا خاتمہ کیا آج ایک بار پھر ملک دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے۔ معاشی عدم استحکام سیاسی عدم استحکام محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت اور پھر میاں محمد نوازشریف کادور حکومت کا خاتمہ ہوا ہے ملک میں عدم استحکام ہی رہا ہے۔ نوازشریف کو پانامہ کیس میں سزا کے بجائے اقامہ پر سزا دی گئی وہ اپنے بیٹوں اور بیٹی کو ساتھ لے کر جے آئی ٹی سے لے کر عدالتوں میں پیش ہوتے رہے۔

    نوازشریف کے بعد عمران خان کے دور حکومت کا آغاز ہوا انہوں نے بھی اس ملک کو معاشی مستحکم کرنے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا جس کا خمیازہ تادم تحریر پاکستان بطور ریاست اور عوام بھگت رہی ہے۔ ملکی سیاسی جماعتوں میں پرلطف زندگی گزارنے والے سیاستدانوں نے ملکی وسائل پر توجہ دینے کی عالمی مالیاتی اداروں اور آئی ایم ایف کا سہارا لیا اور وقتی راحت پر توجہ دی جبکہ دنیا کے کسی بھی ملک کے لئے قرض در قرض لے کر ترقی کرنا ممکن ہی ہیں اپنے پاؤں پر ہی کھڑا ہونے کا نام ترقی ہے۔ آج سیاسی گلیاروں میں عجب بے معنی شور نے مشکلات میں گھرے عوام کے کان مائوف کر دیئے ہیں۔ کہیں آئینی بحران کی صدائیں کہیں قانون کی حکمرانی کی صدائیں۔ کہیں الیکشن کی صدائیں ۔ سیاست ذاتی دشمنی میں تبدیل ہو چکی ہے۔ ہوس اقتدار اور ہوس زر نے پورے ملک اور اس کی عوام کو لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ ان حالات میں اور یہاں تک پاکستان کو پہنچانے میں کس کا اور کن کرداروں کا ہاتھ ہے فیصلہ عوام خود کریں۔

  • تحریک انصاف کی مقبولیت کے حقیقی ذمہ دار؟ تجزیہ: شہزاد قریشی

    تحریک انصاف کی مقبولیت کے حقیقی ذمہ دار؟ تجزیہ: شہزاد قریشی

    سابق آرمی چیف اور سابق وزیراعظم کی ایک دوسرے پر الزام تراشیوں کی تکرار ان کے اپنے ہی جن عہدوں پر فائز رہے ہیں بے توقیری کا سبب بن رہے ہیں۔ سابق آرمی چیف اور سابق وزیراعظم کو ملکی سالمیت اور قومی وقار کو مد نظر رکھنا ہوگا۔ الزام تراشیوں میں مگن موجودہ حکمرانوں اور سابق حکمرانوں کو بھی اپنے اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھنا چاہیئے۔

    وقت آ پہنچا ہے کہ تمام اپنے گناہوں سے تائب ہر کر تعمیر وطن اور خدمت خلق کے جذبے سے کام کریں۔ ذاتی مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اس وطن عزیز کے وقار میں اضافہ قرضوں سے چھٹکارا ۔ ایک مستحکم پاکستان بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ سیاست جس حد تک کھوکھلی اور عوام کی نظر میں بے نقاب ہو چکی ہے یا ہو رہی ہے اس کے اثرات ملک و قوم کے ساتھ ساتھ جمہوریت پر بھی پڑرہے ہیں۔ ملک میں جس طرح ایک جمہوری حکومت میں آئین کے ساتھ کھلواڑ ہو رہا ہے جو کبھی آمریت کے دور میں ہوتا تھا آج جمہوری دور میں آئین سے کھلواڑ سمجھ سے بالاتر ہے ۔

    نواز شریف اور مریم نواز جو بیانیہ پیش کررہے ہیں وہ ووٹ کو عزت ، انصاف اور عدل کی شفافیت انسانی حقوق کا بیانیہ ہے ۔ نواز شریف اور اُن کی بیٹی مریم نواز جو بیانیہ عوام کے سامنے پیش کررہی ہیں اُن کی اپنی ہی جماعت میں ایسے اشخاص موجود ہیں جو اس بیانیے سے کوسوں دور ہیں جو مفاہمتی راستوں کی تلاش میں رہتے ہیں ۔

    بھٹو کو نہ صرف صوبہ سندھ بلکہ پورے پاکستان میں مقبولیت ملی تھی انہوں نے ووٹ کو عزت یعنی طاقت کا سرچشمہ عوام کا نعرہ لگایا تھا لیکن اس کو تاریخی المیہ ہی کہا جائے کہ بعد میں یعنی آج بھٹو کی جماعت چند ایک کو چھوڑ کر بیوپاری اس جماعت پر بُراجمان ہیں۔ بھٹو کی پیپلزپارٹی کا جو آج حال ہے وہ پاکستان تو کیا صرف صوبہ سندھ تک محدود ہو کررہی گئی ہے۔ کچھ اسی طرح کے راستوں پر نواز شریف کی جماعت چند ایک کو چھوڑ کر چل نکلی ہے ۔

    مریم نواز اپنے والد کی جماعت کی ساکھ بحال کرنے تو نکلی ہیں مگر آج (ن) لیگ میں بھی بیوپاری بُراجمان ہیں اس لئے آج عمران خان کی جماعت کا پنجاب میں طوطی بولتا ہے اگر عمران خان کی جماعت مقبول ہے تو اس کے ذمہ دار پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ(ن) دونوں ہیں ۔ سیاسی جماعتوں میں نظریات توپہلے ہی دفن ہو چکے ہیں جس کا خمیازہ سیاسی جماعتیں خود بھگت رہی ہیں۔

    (تجزیہ شہزاد قریشی)

  • امریکہ بھارت اور پاکستان میں سیاسی صورتحال دلچسپ ،تجزیہ :شہزاد قریشی

    امریکہ بھارت اور پاکستان میں سیاسی صورتحال دلچسپ ،تجزیہ :شہزاد قریشی

    اسلام آباد( رپورٹ شہزاد قریشی) امریکہ بھارت اور پاکستان میں سیاسی صورتحال دلچسپ ہو گئی سابق صدر ٹرمپ نے دوبارہ صدارتی انتخابات لڑنے کا اعلان کردیا ہے سابق امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ موجودہ امریکی صدر بائیڈن امریکہ کو تیسری عالمی جنگ کی طرف لے جا رہے ہیں۔ امریکی قیادت کو موجودہ حکومت سے خطرہ ہے ۔ بائیڈن حکومت پر چین کے ساتھ جنگ کی تیاریوں کی بھی عالمی سطح پر بازگشت سنائی دے رہی ہے۔

    امریکی ذرائع ابلاع کے مطابق ٹرمپ نے صدارتی الیکشن میں حصہ لینے کے لئے کمر کس لی ہے ۔ بھارت میں نہرو خاندان کے چشم و چراغ راہل گاندھی نے 75ضلعوں 14 ریاستوں کا سفر 136 دنوں میں ذرائع ابلاغ کے مطابق 3570 کلومیٹر پیدل سفر کیا ہے ۔ اس کا مقصد نفرت چھوڑو بھارت جوڑو تھا ۔ مودی دور حکومت میں بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ عیسائیوں اور دیگر مذاہب کے لوگوں پرظلم کی حدیں کراس کی گئیں ۔ راہل گاندھی اپنے اس سفر میں تمام مذاہب کے لوگوں کو ساتھ لے کر چلے کہ وہ اور ان کی جماعت محبت کا پیغام لے کر چلے ہیں۔ا یک دوسرے سے نفرت چھوڑو بھارت جوڑو ۔ مودی نے بھارت کو جتنا نقصان دینا تھا دے لیا۔

    ملک میں بھی سیاسی ماحول فکر انگیز ہے ۔ پی ڈی ایم اگر الیکشن سے راہ فرار اختیار کرتی ہے تو وہ آئین سے غداری کے مترادف ہوگا۔ پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں بالخصوص وزیراعطم شہباز کی جماعت آئین توڑنے پر سابق صدر پرویز مشرف پر مقدمہ درج کروا چکی ہے جبکہ ایک مرحوم جج اس مقدمے پر ان کو سزائے موت کا حکم بھی دیا تھا۔

    عمران خان نے بھی جیل بھرو تحریک کا اعلان کردیا ہے اور پی ڈی ایم کی جماعتوں کو للکارا ہے کہ وہ روز بروز کی ایف آئی آروں سے تنگ ہیں بہتر ہے تحریک انصاف خود ہی جیلوں میں جائے ۔ اس طرح سابق امریکی صدر ٹرمپ نے بائیڈن ۔ راہل گاندھی نے مودی سرکار۔ اور عمران خان نے پی ڈی ایم کو للکارا ہے ۔ا سلام آباد پولیس نے 73 سالہ شخص شیخ رشید کو جس طرح زور دار دھکے دئیے وہ قابل مذمت ہی قابل نفرت ہے۔ سیاسی اختلافات اپنی جگہ شیخ رشید راولپنڈی کے اب ایک بزرگ سیاستدان ہیں اور بیمار ہیں اس طرح کے رویے کو درست قرار نہیں دیا جا سکتا ۔

  • آئین پاکستان کہاں ہے؟ تجزیہ: شہزاد قریشی

    آئین پاکستان کہاں ہے؟ تجزیہ: شہزاد قریشی

    وارثان پاکستان وارثان سیاست و جمہوریت اور وارثان عام آدمی کے دعویداروں سے سوال ہے کہ آئین پاکستان کہاں ہے؟ قانون اور پارلیمنٹ ہائوس کی بالادستی کہاں ہے؟ سٹیٹ کے اداروں کو اپنے تابع سمجھنے والے سیاستدانوں سے سوال ہے کیا یہ ملک کسی فرد واحد کی جاگیر ہے؟ یا 22 کروڑ عوام کا ہے اگر22 کروڑ عوام کا ہے تو یہ عوام بنیادی ضروریات زندگی سے محروم کیوں ہیں؟ ان کے پڑھے لکھے بچے اور بچیاں بے روزگار کیوں ہیں؟ آٹا حاصل کرنے لائنوں میں لگ کر یہ کیوں مررہے ہیں؟ ان کو پینے کے لئے صاف پانی میسر کیوں نہیں؟ بیماروں کے لئے جدید سہولتوں والے ہسپتال کیوں نہیں ہیں؟ اے وارثان جمہوریت 75سال بیت گئے نہ تم سیاست کے اصول مرتب کرسکے نہ جمہور کو بنیادی ضروریات زندگی مہیا کرسکے نہ جمہوریت کو مستحکم کرسکے نہ معیشت کو مستحکم کرسکے اور نہ ہی ملک میں قانون کی حکمرانی کو یقینی بنا سکے۔ تاہم لینڈ مافیا‘ چینی مافیا‘ آٹا مافیا‘ جاگیرداری نظام‘ سرمایہ داری نظام کی پشت پناہی کرنے میں آپ کا کوئی ثانی نہیں۔

    موروثی سیاست پر بحث کرنے والے سیاستدان امریکہ سے لیکر بھارت‘ بنگلہ دیش کی سیاست کا مطالعہ کریں اور غور کریں۔ یہ وقت موروثی سیاست پر بحث کا نہیں ریاست کو مستحکم کرنے‘ جمہوریت کو مستحکم کرنے آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی کو یقینی بنانے کا ہے۔ اس وقت ملک میں آئینی بحران پیدا کیا جارہا ہے یا کرنے کی تیاریاں ہورہی ہیں جسے کسی بھی زاویے سے درست قرار نہیں دیا جارسکتا پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کے آبائو اجداد آئین پاکستان بنانے میں اہم کردار ادا کیا تھا آج ان کی اولادیں آئین سے کیوں راہ فرار اختیار کرنا چاہتی ہیں اگر پیپلز پارٹی بھٹو کے مشن کا نعرہ بلند کرتی ہے تو پھر موجودہ حالات جس میں انتخابات سے فرار بھٹو کے مشن سے فرار کے مترادف ہے۔ مولانا فضل الرحمن کے والد مرحوم کا بھی بڑا کردار رہا پاک فوج اور قومی سلامتی کے اداروں کو ملک کی تمام سیاسی جماعتیں کیا پی ڈی ایم اور کیا اپوزیشن تنقید کا نشانہ بنا رہی ہے یہ محض فریب کاری اور شعبدہ بازی ہے۔ فوج نہ تو جذبہ جہاد سے عاری ہوسکتی ہے اور نہ مذہب اس کے دل و دماغ سے کھرچا جاسکتا ہے۔ پاکستان‘ عوام‘ اسلام اور عشق رسول پاک فوج کا قیمی اثاثہ ہے۔ ملک کی تمام سیاسی جماعتیں‘ وی لاگرز‘ سوشل میڈیا والے اس ملک اور پاک فوج پر رحم کریں۔

  • پولیس افسران، سول انتظامیہ اورسول بیورو کریسی  کے  تبادلوں میں میرٹ نظر انداز

    پولیس افسران، سول انتظامیہ اورسول بیورو کریسی کے تبادلوں میں میرٹ نظر انداز

    پولیس افسران، سول انتظامیہ اورسول بیورو کریسی کے تبادلوں میں میرٹ نظر انداز

    اسلام آباد( رپورٹ شہزاد قریشی) حکومت سٹیٹ کی چھتری کے نیچے کام کرتی ہے ہمارے بہت سے سیاستدان حکومت میں آکر یہ سمجھتے ہیں کہ سٹیٹ ہماری تابع ہے۔ حکومتیں سٹیٹ کے اداروں کو جب اپنے تابع سمجھنے لگ جائیں تو پھر نہ وہاں قانون کی حکمرانی ہوتی ہے اور نہ ہی ملک اور عوام ترقی کرتے ہیں۔ سول انتظامیہ سے لے کر بیورو کریسی اور اعلیٰ پولیس افسران سٹیٹ کے ملازم ہوتے لیکن بدقسمتی سے ہمارے حکمرانوں کی ان اداروں میں مداخلت نے ان کو متنازعہ بنا دیا ہے ۔ پولیس ڈیپارٹمنٹ کا رول ملک میں امن و امان کے حوالے سے انتہائی اہم ہے پولیس کے افسران اور جوانوں نے ملک کے لئے شہادتیں تک دی ہیں۔ لیکن کبھی کبھی حکمرانوں کی غلطیوں کا خمیازہ انہیں ہی بھگتنا پڑت اہے ۔ اچھے بُرے لوگ ہر ادارے میں موجود ہوتے ہیں۔حالیہ پنجاب میں وسیع پیمانے پر نگران حکومت نے اعلیٰ پولیس افسران کے تبادلے کئے ہین میرٹ اور سینارٹی کو نظر انداز کرکے جونیئر افسران کو پنجاب کے مختلف اضلاع میں پولیس افسران کوتعینات کیا گیا۔ میرٹ اور سینارٹی کی دھجیاں اڑا دی گئیں ۔ ان میں اُن جونیئر پولیس افسران پر سوالیہ نشان ہے جو اپنے سینئر کو کراس کرکے پوسٹنگ حاصل کرتے ہیں۔

    اس طرح اس پولیس ڈیپارٹمنٹ کی تباہی کے ذمہ دار جہاں حکمران ہیں وہاں وہ پولیس آفیسر بھی جنہیں سینئر اور جونیئر کی کوئی تمیز نہیں جنہیں صرف اپنی پوسٹنگ درکار ہے۔ اس وقت پنجاب میں 9 سے 10 ایسے افسران جو سینارٹی کے لحاظ سے سینئر ترین جو پنجاب حکومت اور اپنے ہی جونیئر پولیس افسران کی بلی چڑھ گئے او انہیں کھڈے لائن لگا دیا گیا۔ عدالت عالیہ اور دالت عظمیٰ کے چیف جسٹس صاحبان ملک میں گڈ گورننس اورمیرٹ کی پالیسی کو یقینی بنانے کے لئے اپنا کردارا دا کریں پنجاب کی نگران حکومت نے اعلٰی پولیس افسران، سول انتظامیہ اورسول بیورو کریسی کے تبادلوں میں میرٹ کو نظر انداز کرکے قانون کی حکمرانی کا جو مذاق اڑایا اُسے کسی طرح بھی درست قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ یہ ملک کسی سیاسی جماعت کی جاگیر نہیں کہ وہ اپنی ذاتی خواہشات کی تکمیل کے لیے قانون اور آئین کو اپنے ہاتھ میں لے۔

  • کوئی باقی رہ گیا؟ تجزیہ :شہزاد قریشی

    کوئی باقی رہ گیا؟ تجزیہ :شہزاد قریشی

    کوئی باقی رہ گیا؟ تجزیہ :شہزاد قریشی
    سیاسی انتشار کیساتھ معاشی زوال ملک کی تمام سیاسی جماعتوں، فیصلہ ساز اداروں پر سوالیہ نشان ہے ۔ اس معاشی زوال کا ذمہ دار کسی فرد واحد، سیاسی جماعت یا فیصلہ ساز اداروں کو نہیں دیا جا سکتا۔ اس کے ذمہ دار سب ہیں۔ موجودہ بے ہودہ شور شرابے کی کیفیت میں معاشی زوال مزید تشویشناک ہوتا جا رہا ہے۔ اس معاشی زوال کی ایک وجہ سیاسی انتشار اور محاذ آرائی ہے۔ ریاست کے حالات اور کردار کا دارومدار معاشی نظام پر ہوتا ہے۔ آج ملک معاشی زوال کی جس نہج پر کھڑا ہے غریب عوام کے معاشی قتل ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔ بالادست طبقے کی لڑائی نے ملک و قوم کو بلی چڑھا دیا ہے۔ سالوں سے پارلیمنٹ ہائوس میں بیٹھے ان سیاستدانوں نے ملکی وسائل پر توجہ ہی نہیں دی اورنہ ہی فیصلہ ساز اداروں نے ان کی توجہ کا مرکز آئی ایم ایف ، چین، عرب ممالک عالمی مالیاتی ادارے رہے جن سے قرض در قرض لے کر ملک چلاتے رہے۔

    موجودہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو موجودہ معاشی بحران کا ذمہ دار قرار دے کر قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے یہ پرانا وطیرہ ہے ڈان لیکس میں جس طرح پرویز رشید کو قربانی کا بکرا بنایا گیا اور ان کو سینٹ سے باہر کر دیا گیا قانون کی حکمرانی، پارلیمنٹ کی بالادستی، آئین اور جمہوریت کی آواز بلند کرنے والے کو نوازشریف کے وفادار ساتھی کو دیوار سے لگا دیا گیا۔ یہ پارلیمنٹ ماضی کے سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں کے اے ٹی ایم لینڈ مافیا کی پشت پناہی، چینی مافیا کی پشت پناہی کرنے والوں کی آماجگاہ بن چکی ہے۔ جس پارلیمنٹ ہائوس میں بے نظیر بھٹو، نوابزادہ نصر اللہ، قاضی حسین احمد، مولانا عبدالستار خان نیازی، ولی خان اور ان جیسے دیگر سیاستدان اپوزیشن کا کردار ادا کرتے آج اس پارلیمنٹ ہائوس میں راجہ ریاض اپوزیشن لیڈر ہیں پارلیمنٹ ہائوس اور آج کی جدید جمہوریت پر سوالیہ نشان ہے؟

    سینئر سے سینئر ترین کہلوانے والے صحافی کرکٹ جو نوجوانوں کا کھیل ہے چیئرمین کے عہدوں پر فائز ہو چکے ہیں پڑھے لکھے نوجوان خاکروبوں کی نوکریاں کرنے پر مجبور ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ نام نہاد ماہرین، فیصلہ ساز اداروں، سیاستدانوں کی لایعنی اور گری ہوئی گفتگو اس حقیقت کا اظہار ہے کہ موجودہ نظام کے رکھوالوں کے پاس معاشرے کو درپیش سنگین مسائل کا کوئی حل نہیں ہے۔ ملک کے وزیر اعظم میاں محمد شہبازشریف اور آصف علی زرداری، مولانا فضل الرحمن اور دیگر پی ڈی ایم والوں سے گزارش ہے کہ اگر کوئی باقی رہ گیا ہے تو اسے بھی وزیر اہر مشیر بنا دیں تاکہ قوم کے لئے خزانے میں کچھ بھی نہ بچے۔