Baaghi TV

Tag: شہزاد قریشی

  • پاکستان میں "آئین” پر عملدرآمد کیوں نہیں؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان میں "آئین” پر عملدرآمد کیوں نہیں؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    دنیا کی سیاسی تاریخ کا مطالعہ کریں۔ لینن آج بھی روسی ، ماوزے تنگ ہر چینی، امام خمینی ہر ایرانی ، بابائے قوم ہرپاکستانی اس کے علاوہ بھی بہت سی ایسی شخصیات دنیا کی قوموں میں زندہ ہیں اپنے کام اور کردار کی وجہ سے ۔ ان شخصیات کے ہم سفر نہ کوئی گوگی ، نہ گوگا ، نہ گوگیاں تھیں اور نہ گوگے آج کی ہماری ملکی سیاسی جماعتوں میں اس طرح کی مخلوق کثرت سے پائی جاتی ہے ۔ بلاشبہ فوجی حکمرانی کو درست قرار نہیں د یا جاسکتا مگر قومی سلامتی کے اداروں کی اہمیت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ، آج کل سیاسی گلیاروں کو جس رفتار سے دشنام طرازیاں حرف عتاب کی عذاب زدہ بارشیں ایک دوسرے پر سیاسی افراد ، سوشل میڈیا پر بغیر کسی تعطل جاری ہیں خدا کی پناہ معاشرہ اخلاقی طور پر دیوالیہ پن کا شکار ہو رہا ہے۔ اقتداراور عوامی حمایت یہ سب کچھ عارضی ہوتا ہے جو کسی کے پاس مستقل نہیں رہتا

    شداد کی جنت نہ رہی فرعون کی خدائی نہ رہی الغرض کئی حکمران جو فلک بوس محلوں میں رہتے تھے زمین بوس ہو گئے۔ بلاشبہ ملکی سیاست میں نظریات ، ضمیر اصول بے معنی الفاظ بن کر رہ گئے ہیں۔ ملکی تاریخ نظریہ ضرورت سے بھری ہے ۔ آج کل وطن عزیز میں آئین موضوع بحث ہے سپریم کورٹ کے وکیل راجہ تنویر سے اس سلسلے میں میری بات ہوئی انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے آئین پر عمل نہیں ہو رہا اگر آئین پر عمل ہو تا توایک منتخب وزیراعظم بھٹو کو پھانسی نہ دی جاتی آج بھٹو کی پھانسی کو عدالتی قتل قرار دیا گیا اسی طرح منتخب وزرائے اعظم کو آج تک وزارت عظمیٰ سے علیحدہ کردیا گیا اس کوبھی درست قرار نہیں دیا جا سکتا یہ توہین عوام ہے۔ عوامی حکومتوں کو چلتا کرناکسی طرح بھی درست نہیں تھا۔

    قارئین گزشتہ دنوں سینیٹر عرفان صدیقی نے 28 جولائی 2017 ء کے بھیانک دن کا ذکر کیا انہوں نے دو تہائی اکثریت رکھنے والے وزیراعظم نواز شریف کو بیٹے سے تنخواہ نہ لینے کے جرم میں منصب سے ہٹا کرجیلوں مین ڈال دینے کا زکر کیا انہوں نے کہا کہ ترقی کی شرح 6.3 اور مہنگائی 3 فیصد تھی۔ ملک سے لوڈشیڈنگ ختم ہو چکی تھی ۔ دہشت گردی کا سر کچلا جا چکا تھا ۔آئی ایم ایف کو الوداع کہہ دیا گیا تھا تمام عالمی ادارے نے پاکستان کے شاندار مستقبل کی نوید دے رہے تھے ۔یقینا سینیٹر عرفان صدیقی کی یہ بات درست ہے۔ نواز شریف کے اس ترقی کے سفر میں اس وقت کے وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار کی بھی خدمات کو فراموش نہیں کیا جا سکتا جو رات گئے گام کیا کرتے تھے۔ نواز شریف وہ واحد وزیراعظم تھے جن کو اپنی مدت پوری نہیں کرنے دی گئی یہ بھی توہین عوام کے زمرے میں آتا ہے نواز شریف کا نعرہ ووٹ کو عزت دو صرف نواز شریف کی ذمہ داری نہیں ووٹ کی عزت ملک کے تمام اداروں پر لازم ہے۔عوام کی منتخب حکومتوں کو چلنا نہ کیا جائے عوام کا ووٹ دینے کا اعتماد اٹھ جائے گا۔آئین ہے تو جمہوریت ہے آئین ہے تو عدالتی نظام ہے۔ آئین ہے تو پارلیمنٹ ہے آئین ہے تو عوام کے حقوق ہیں۔ ملک کے موجودہ حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے آئین پر عمل کیا ۔ آئین نے جو حد مقرر کی حکومتیں اور تمام ادارے اس حد کوکراس نہ کریں ورنہ پاکستان اور عوام مسائل کے گرداب سے نہیں نکل سکیں گے۔

  • معیشت کی تباہی اور مہنگائی کا ذمہ دار کون ؟ تجزیہ:شہزاد قریشی

    معیشت کی تباہی اور مہنگائی کا ذمہ دار کون ؟ تجزیہ:شہزاد قریشی

    2016 اور2017 کے درمیان ملکی معیشت مستحکم ہو رہی تھی ۔ نواز شریف کا دور حکومت تھا۔ سینیٹر اسحاق ڈار وزیر خزانہ تھے وہ رات گئے کام کرتے ، پاکستان کو آئی ایم ایف اور دیگر مالیاتی اداروں کے شکنجے اور سود سے چھٹکارے کے قریب پہنچ چکے تھے پھر ناانصافیوں کے جھرمٹ میں چھپی ایسی آندھیاں چلیں گے ۔ ترقی کے منازل طے کرتا ہوا پاکستان ایک بار پھر گہری کھائی میں جاگرا.تادم تحریر معیشت مستحکم نہ ہو ہو سکی اورنہ ہی وطن عزیز کو عالمی مالیاتی اداروں سے چھٹکارا مل سکا ۔قرض در قرض وطن عزیز کا مقدر بنا۔

    موجودہ شہباز حکومت کے وزیر خزانہ قوم کو سچ بتائیں قرض کی ادائیگی کے لیے نئے قرض مانگے جا رہے ہیں، معیشت مستحکم نہیں عوام پر بجلی کے بلوں کو لے کر بہت زیادہ بوجھ پڑ رہا ہے لوگ خودکشیاں کررہے ہیں۔معیشت کی تباہی اور مہنگائی کا ذمہ دار کون ہے ؟ اس کا ذمہ دار سابق حکومت یا موجودہ حکومت کو ٹھہرانا سوال نہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ معاشی بُحران کیسے ختم کیا جا سکتا ہے ۔قوم کو اس سوال کا جواب حکومت بھی اور اپوزیشن بھی بتائے۔ حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے کے خلاف حدوں کو کراس کر گئے ہیں۔ان حالات میں قوم کے مسائل کیسے حل ہو سکتے ہیں ؟ شہباز حکومت ، پیپلزپارٹی ، مذہبی جماعتیں ،اپوزیشن قوم کو بتائے کہ مستقبل میں ملکی معیشت کو کس طرح مستحکم کریں گے؟سستی بجلی ،ڈیم بنانے او رمتبادل ذرائع پر کوئی منصوبہ بندی کی گئی؟ جو معاہدے آئی پی پیز سے کئے یا منصوبے لگائے ان منصوبوں سے آئی پی پیز سود سمیت منافع بٹور رہی ہے ۔ سیاسی جماعتوں کے پاس ملکی ترقی اور عوام کی خوشحالی کا کوئی منصوبہ ہو نہ ہو تاہم ملک میں انتشار پھیلانا،افواہ پھیلانا ،اپنے ہی اداروں کو کمزور بنانا ۔ یہ جانتے ہوئے کہ اداروں کو بقااور شخصیات کو فنا ہے پھر بھی اب تو خیر ہے یہ کاروبارکا روپ دھار چکا ہے۔

    وطن عزیز میں کچھ ان دنوں افوا ساز کارخانوں کی پیداوار میں اضافہ ہو چکا ہے ۔ وطن عزیز میں ایک منصوبہ بندی کے تحت عدم استحکام کا ماحول پیدا کیا جا رہا ہے ۔پاکستان دشمن طاقتیں بھارت کے ساتھ مل کر اور افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے ۔ وقت کا تقاضا متضاد بیان دے کر آپس میں اختلافات پیدا کرنے کا نہیں بلکہ قومی یکجہتی اور اتحاد کو فروغ دینے کا ہے ۔ تحریک پاکستان کے لاکھوں شہداء کی روحیں سیاسی جماعتوں سے ایسے فیصلہ کن کی منتظر ہیں جو مستقبل میں قومی عزت ووقار اور وطن عزیز کی بقا و سلامتی کا ضامن بن سکے۔

  • ڈیجیٹل دہشتگردی بھی خطرہ،ذاتی نہیں ملکی مفاد مقدم ہونا ضروری،تجزیہ:شہزاد قریشی

    ڈیجیٹل دہشتگردی بھی خطرہ،ذاتی نہیں ملکی مفاد مقدم ہونا ضروری،تجزیہ:شہزاد قریشی

    تجزیہ ،شہزاد قریشی
    عالمی عدالت نے اسرائیل کو فوجی آپریشن فوری طورپر روکنے کا حکم دیا تھا، رفاہ میں فوجی آپریشن فوری روکنے کا یہ حکم 15 میں سے 13 ججوں کی غالب اکثریت کے ساتھ صادر کیاگیا تھا ،یہ حکم صرف حکم ہی رہا ،اسرائیل نے یمن میں حوثیوں کے زیر کنٹرول بحیرہ احمر کی بندرگاہ الحدیدہ کو نشانہ بنایا،اس حملے کا مقصد حوثیوں پر دبائو ڈالنا تھا کہ وہ غزہ میں فلسطینیوں کی حمایت بند کریں،اسرائیل کو اقوام متحدہ کا خوف نہ عالمی برادری کا ڈر اور نہ ہی عالمی عدالت کے فیصلے کی پروا ہ،صرف یہی نہیں بلکہ سلامتی کونسل ،اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی ، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی ،ترکی ، ایران ، پاکستان اور سعودی عرب کی مذمتی قرار دادیں، دنیا بھر بشمول اسرائیل ، امریکہ ، برطانیہ دیگر یورپی ممالک میں مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی جلوس اور ریلیاں بھی اسرائیل کا ہاتھ نہ روک سکیں، دنیا ہوش کے ناخن لے قتل عام کی پالیسی آج اگر غزہ میں نافذ ہے تو آنے والے کل کہیں اور بھی ہوسکتی ہے، کشمیر میں بھارت قتل عام میں ملوث ہے اور غزہ میں اسرائیل پر قتل عام کی پالیسی پوری انسانیت کے لئے خطرہ ہے ،اس پالیسی کو روکنا ہوگا،

    دوسری جانب گذشتہ روز پاک فوج کے ترجمان نے جہاں 9 مئی کا ذکر کیا وہیں امن عامہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ صوبوں میں امن قائم رکھنا صوبوں کی ذمہ ہے،16 ہزار مدارس کا بھی ذکر کیا ان کو کون چلا رہاہے؟ یہ ایک سوالیہ نشان ہے وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر ،انہوں نے وطن عزیز میں دو قسم کی دہشت گردی کا ذکر کیا،ڈیجیٹل دہشت گرد اصل دہشت گردوں کو سپورٹ کررہے ہیں، انہوں نے عزم استحکام کا بھی تفصیلی ذکر کیا، قارئین بلاشبہ وطن عزیز میں شرانگیز اور شریر قوتیں حد سے بڑھ گئی ہیں اگر ایسی زبانوں کو لگام نہ دی گئی یہ ندیاں دریا کا روپ دھار لیں گی، ہماری یکجہتی خواب وخیال بن کر رہ جائے گی، بدقسمتی سے ہماری سیاست کی دنیا میں ایسی ہوا اور وبا چلی کہ خدا کی پناہ سیاست تو عبادت کا درجہ رکھتی ہے مگر سیاست میں مفاد پرست اور لالچی لوگوں نے اسے آلودہ کرکے رکھ دیا ہے، سیاست کا اجتماعی چہرہ گہناکر رہ گیا، استحکام پاکستان کی کامیابی کے لئے ضروری ہے کہ ملک کے تمام صوبوں سے دیانتدار فرض شناس پیشہ وارانہ مہارت، بلند حوصلے کے پیکر پولیس افسران ،سول انتظامیہ اور دیگر شعبوں میں ذمہ دار افسروں کو تعینات کیا جائے جو استحکام پاکستان میں اپنا کردار ادا کریں،جن افسران کا ماضی ،حال داغدر ہے وہ کیسے استحکام پاکستان میں کردار ادا کر سکتے،، ایں خیال است و محال است

  • عزت کی موت بھی ملتی نہیں غریب کو،تجزیہ:شہزاد قریشی

    عزت کی موت بھی ملتی نہیں غریب کو،تجزیہ:شہزاد قریشی

    تجزیہ ،شہزاد قریشی
    بقول شاعر ،ہر سمت ظالموں کی خدائی ہے اے خدا،
    جینے کا حق نہیں ہے کسی بدنصیب کو،
    اس عہد نامراد میں رزق حلال کیا ،
    عزت کی موت بھی ملتی نہیں غریب کو،
    سی پی او راولپنڈی کے آفس سے چند گز کے فاصلے پر تھانہ سول لائن سے لے کر گوجر خان تک لہو کےسفر کی خبروں نے ہلا کر رکھ دیا ، انسانی حقوق کی بازگشت پارلیمنٹ ہائوس سے لے کر اعلیٰ عدالتوں تک سنائی دیتی ہے مگر کیا انسانی حقوق صرف اس ملک کے جاگیرداروں، سرمایہ داروں، صنعتکاروں، اعلیٰ عہدوں پر فائز اہم شخصیات کے لئے ہیں، عام آدمی کے لئے انسانی حقوق کے قانون لاگو نہیں ہوتے؟ یہ سوال پارلیمنٹ ہائوس میں بیٹھے ارکان اسمبلی، اعلیٰ عدلیہ، سول انتظامیہ، آئی جی پنجاب، مقتدر حلقوں سے بھی ہے؟ ذیشان نامی ملزم راولپنڈی پولیس نے چوری کے مقدمے میں گرفتار کیا، دوران تفتیش راولپنڈی پولیس نے گوجرخان پولیس کے حوالے کر دیا ،مبینہ طور پر پولیس تشدد سے ملزم کی حالت غیر ہو ئی اور وہ موت کی آغوش میں چلا گیا ،مرحوم چور تھا یا نہیں سوال یہ ہے کہ پولیس کو تفتیش کرنے کا حق تو قانون دیتا ہے پولیس کو جان سے مار دینے کا حق کس نے دیا؟

    یوں تو راولپنڈی کےسی پی او سمیت کچھ ایس پی اور ڈی ایس پی حضرات کی داستانیں زبان زدعام ہیں مگر اس دلخراش واقعہ نے راولپنڈی پولیس کی نااہلی، عدم کنٹرول، ڈسپلن کے فقدان اور خود احتسابی سے چشم پوشی آشکار کر رہی ہے ،سنتا جا شرماتا جا کی غیبی آوازیں ضمیر کو جھنجھوڑ رہی ہیں، راولپنڈی کی پولیس ہمیشہ ملک کے دیگر اضلاع اور ڈویژن سے مختلف اعلیٰ اقدار اور صلاحیتوں سے مزین افسران کا گلدستہ رہی ہے، یہاں چوہدری اسرار، رائو محمد اقبال، ناصر خان درانی، ڈاکٹر شعیب سڈل، سید سعود عزیز، فخر سلطان راجہ، طلعت محمود طارق، احسن یونس جیسے افسران اور دیگر بہت سے افسران جن کے نام یاد نہیں،تعینات رہے ان لوگوں نے راولپنڈی پولیس کی ورکنگ ڈسپلن، کارکردگی، اخلاق اور مورال کو ایک بلندی سے نوازا ،ان افسران کے کارناموں سزا و جزا کی بازگشت آج بھی سنائی دیتی ہے، آج راولپنڈی میں پولیس کی ہوس زر کی داستانیں زبان زدعام ہیں لینڈ مافیا سے یارانے، جوئے کے اڈوں سمیت دیگر اخلاقی جرائم میں اضافہ راولپنڈی پولیس پر سوالیہ نشان ہے؟

    سی پی او سمیت راولپنڈی کے ایس پیز اور ڈی ایس پیز نے آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کی ان کاوشوں کو ٹھیس پہنچائی ہے جو وہ تھانہ اور چوکی کی سطح پر پولیس کے مورال اور عزت میں اضافے کے لئے دن رات کر رہے ہیں، راولپنڈی کے تھانوں اور علاقوں میں منشیات اور دیگر جرائم کا تقابلی جائزہ بھی شرمناک ہے، وزیراعلیٰ پنجاب اور مقتدر حلقوں کو یقیناً ضلع کی پولیس میں عمل تطہیر کے ذریعے ان داغوں کو دھونا ہوگا اگر استحکام پاکستان میں اس طرح کے افسران ہمسفر رہے تو پھر پاکستان کا خدا ہی حافظ ہے، راولپنڈی پولیس کے چند افسران نے راولپنڈی کو پولیس سٹیٹ بنا دیا ہے اور راولپنڈی کو اپنی ذاتی جاگیر تصور کررکھاہے جس میں عام آدمی کی کوئی شنوائی نہیں ہے۔

  • عدالت میں مخصوص ریلیف،ریاست کیلئے خطرناک،تجزیہ:شہزاد قریشی

    عدالت میں مخصوص ریلیف،ریاست کیلئے خطرناک،تجزیہ:شہزاد قریشی

    وطن عزیز کے نوجوان بچوں اور بچیوں، آپ وطن عزیز کا مستقبل ہو، آپ نے ا س مل کو آگے لے کر جانا ہے ۔ ملک کے سیاستدانوں کی اکثریت اپنے اقتدار کے لئے آپ کو استعمال کررہی ہے ۔ سوشل میڈیا سیاسی مقاصد کے لئے استعمال ہو رہا ہے ۔ سوشل میڈیا کے ذریعے بازاری زبان استعمال کی جا رہی ہے ملکی سرحدوں کے محافظوں کے خلاف گندی اور غلیظ مہم چلائی جا رہی ہے۔میری ذاتی رائے میں یہ ایک وطن عزیز کے خلاف بین الاقوامی سازش ہے سیاستدان اس سازش کا ایک باقاعدہ حصہ مبینہ طورپر ہو سکتے ہیں۔ یہ ایک منظم طریقے سے ہو رہا ہے ہماری ثقافت پر بھی حملہ ہے۔ کچھ لوگ سوشل میڈیا کے ذریعے یو ٹیوب پر چینل کھول کر بیٹھے ڈس انفارمیشن سے خوب مال کما رہے ہیں آپ کے لائیکس سے ان کی روزی میں اضافہ ہوتا ہے سوشل میڈیا پر بیٹھ کر وطن عزیز کے اداروں کو برباد کرنے کی اجازت نہیں د ی جا سکتی ۔ حدود وقیود میں رہ کر اخلاقی دائروں میں رہ کراداروں پر تنقید برائے اصلاح ضرور کریں مگر چند ڈالروں کے خاطر ملکی سلامتی کو دائو پر لگانے کی اجازت کسی کو بھی نہیں د ی جانی چاہیئے۔

    عراق،افغانستان ، شام ، لیبیا آج اگر کھنڈرات کی شکل اختیار تو اس کے پیچھے عالمی سازش تھی ان ممالک میں حوس زر اور حوس اقتدار کے ایسے لوگ جو عالمی طاقتوں سے مل کر اپنے ہی ملکوں اور قومی سلامتی کے اداروں کو کمزور کیا اور انہیں متنازعہ بنایا۔ امریکہ جیسے ملک میں سی آئی اے ، پینٹاگان اور کانگریس کے درمیان کئی پالیسیوں پر اختلافات ہوتے ہیں مگر کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ امریکہ کے قومی سلامتی کے اداروں کی بنائی پالیسی پر حاوی ہو سکے۔ ملکی سلامتی کے اداروں کو اپنی اصلاح کرنے کا پیغام دینا ہر ذی شعور پاکستانی کا حق ہے مگر تو اتر کے ساتھ گندی اور غلیظ مہم چلانا پاکستان کو کمزور کرنے کے مترادف ہے ۔

    ملکی سیاسی تاریخ پر نظر ڈالیں ،جھوٹ ، فریب اور سازشوں کے انبار نظر آئیں گے۔ ملکی سیاستدانوں کا روز مرہ افوا ہ پھیلانا معمول بن چکا ہے ۔ عام آدمی اپنے بنیادی مسائل کی تلاش میں سرگرداں ہے، اب نوبت یہاں تک آچکی ہے کہ سفید پوش لوگ بھی مانگنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب سیاسی قائدین اور انکے حواری مخصوص نشستوں کے لئے نبرد آزما ہیں۔ انہیں بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ اور قیمتوں کا احساس ہی نہیں۔ یہ قومی سیاسی رہنما ہو ہی نہیں سکتے۔ انہیں صرف اپنے مفادات عزیز ہیں۔ اپنا اقتدار عزیز ہے۔ اپنے اختیارات عزیز ہیں ۔دنیا میں جب کسی ملک کے قومی اداروں کو مفلوج کردیا جائے ۔ سیاسی شخصیات ان اداروں کو اپنا تابع بنائیں ۔ عدالتوں میں مخصوص لوگوں کو ریلیف دینا شروع ہو جائے۔ کسی بھی ریاست کے لئے خطرناک ہوتا ہے۔

  • غیراخلاقی گفتگو،معاشرہ کہاں‌جا رہا؟ذمہ دار کون.تجزیہ:شہزاد قریشی

    غیراخلاقی گفتگو،معاشرہ کہاں‌جا رہا؟ذمہ دار کون.تجزیہ:شہزاد قریشی

    چیئر مین اسلامی نظریاتی کونسل نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر جاری نکاح ، طلاق ،عدت پر جاری مسائل قرآن و سنت سے ماخوذ پر شرعی حدود قیود ہیں،اس پر بحث کرنے سے منع کیا ہے۔ بلاشبہ چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل نے درست کہاہے ۔ افسوس ہم اسلامی ملک کے دعویدار ہیں ،ہم اپنی آنے والی نوجوان نسل کو کیا سبق دے رہے ہیں۔ الیکٹرانک میڈیا ، پرنٹ میڈیا اور سوشل میڈیاپر اس طرح کے بیانات پرکیا کبھی کسی نے سوچا ہے ،معاشرے کی نوجوان بچیوں اور بچوں کو کیا سبق پڑھا رہے ہیں؟ یہ عین شرعی مسائل ہیں ۔ ان شرعی مسائل کے بارے میں مباحثہ مناسب نہیں اس طرح کی بحث سے معاشرے پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ عمر سیدہ سیاستدانوں ،بیورو کریٹ ، دانشور اور دیگر سے یہی التجا کی جا سکتی ہے کہ ایک اسلامی معاشرے میں اس طرح کی بحث کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ معاشرے میں اخلاقی جرائم میں اضافہ ہوتا ہے معاشرہ ہرلحاظ سے زوال پذیر ہوتا ہے۔ افسوس صد افسوس اس طرح کی بحث سے بے حیائی کو فروغ دینے کے مترادف ہے ۔ حد ہو گئی کہ سینکڑوں علمائے دین ، مذہبی جماعتیں اس بے حیائی کو روکنے کے لئے کوئی کردار ادا نہیں کر رہی۔ یاد رکھیئے فرمان الٰہی اور فرمان نبوی کو اپنی مرضی ،اپنی طبیعت کے مطابق ڈھالنے کا انجام بہت بُرا ہوتا ہے۔ انسان اللہ کو دھوکہ دینے میں کامیاب ہو ہی نہیں سکتا۔ دینی حلقوں کے اسٹیج سے فرضی کہانیاں بنانے والوں نے کبھی سوچا کہ ہم اس طرح کی غیر اخلاقی گفتگو جو سوشل میڈیا ، الیکٹرانک میڈیا ،پرنٹ میڈیا کی زینت بن رہی ہے اس کے اثرات معاشرے پر کیا ہونگے؟

    پارلیمنٹ ہائوس میں بیٹھے اپنی طاقت پر اترانے والوں نے کبھی اس بارے میں سوچا ہے ؟ معاشرے کو سدھارنے کی بجائے ہم معاشرے کو کدھر لے کر جا رہے ہیں؟ کیا ایک اسلامی معاشرے اورانسانیت کو پامال نہیں کررہے ۔یاد رکھیے مرنے کے بعد حساب دینا ہے ۔حساب لینے والا لے گا ۔ اپنے دل پر ہاتھ کر غور کریں کیا ہم حد کراس نہیں کررہے ۔ ایک اسلامی معاشرے میں اس طرح کی غیر اخلاقی گفتگو معاشرے کے نوجوانوں پرکیا اثرات مرتب کرتی ہے۔معاشی لحاظ سے قوم پہلے ہی زوال پذیر ہے۔ خدارا اخلاقی زوال سے قوم کو بچا لیجئے۔

  • کوئی مانے یا نہ مانے پی ٹی آئی میں پھوٹ پڑ چکی:تجزیہ ،شہزاد قریشی

    کوئی مانے یا نہ مانے پی ٹی آئی میں پھوٹ پڑ چکی:تجزیہ ،شہزاد قریشی

    کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے تحریک انصاف کے اندر افراتفری اور غیر یقینی صورتحال پیدا ہو چکی ہے، تحریک انصاف میں تقسیم در تقسیم ہونے کے اشارے مل رہے ہیں، بھٹو جب جیل میں تھے تو بڑی بڑی قدآور شخصیات نے ان کا ساتھ چھوڑ دیا تھا،پیپلزپارٹی سے علیحدگی اختیار کر لی تھی کچھ ایسی صورتحال سے تحریک انصاف گزر رہی ہے،تحریک انصاف کا دور حکومت کوئی حیران کن نہیں تھا تبدیلی کا نعرہ اور احتساب کے گرد تحریک انصاف کا دور حکومت صرف اور صرف نوازشریف کے گرد گھومتا رہا ،نوازشریف ان کی بیٹی مریم نوازان کے سمدھی سینیٹر اسحاق ڈار اور دیگر کو کچلا گیا یہ احتساب نہیں بلکہ صرف ایک خاندان کے خلاف انتقام تھا،سینیٹر اسحاق ڈار کے تو ذاتی گھر پر قبضہ کر لیا گیا تحریک انصاف تسلیم کرے کہ ان کے دور حکومت میں عام آدمی کی زندگی قابل رحم ہو چکی تھی احتساب اور انتقام کے سوا کچھ نظر نہیں آتا تھا،

    تحریک انصاف کے دورمیں سفارتی سطح پر بری طرح ناکامی ہوئی، کشمیری مسلمانوں پر بھارتی ظلم کی ایسی ایسی کہانیاں ہیں جن کو سن کر کلیجہ منہ کو آتا ہے ،تحریک انصاف کے دور میں کشمیری بدترین لاک ڈائون کا شکار رہے ہیں عمران خان بھارت پر دبائو ڈلوانے میں ناکام رہے، کوئی بھی حکومت اگر عام آدمی کو زندہ رہنے کی ضمانت نہیں دے سکتی تو اسے حکومت نہیں کہا جا سکتا، آج کی مخلوط حکومت نے بھی بجٹ میں عادمی کے لئے کوئی پلان نہیں دیا غریب آدمی کے مسائل پر مٹی ڈال دی گئی ہے،گزشتہ 75 سالوں میں قوم اور پاکستان بطور ریاست وعدوں اور تقریروں پر زندہ ہیں محض سبز باغ ہیں جن کے برگ و بار پر دھول اور سیاہی کی ایک موٹی تہہ جمتے جمتے نظر کا دھوکہ بن چکی ہے راہزن رہنمائوں کا بہروپ دھار چکے ہیں،انصاف کا لفظ فقط سننے کی حد تک ہے جب کسی معاشرے میں انصاف اٹھ جاتا ہے وہ معاشرہ ایک مردہ ڈھانچے کی مثال ہوتا ہے، سیاست کی سرکس میں ملک و قوم کو ایک سے بڑھ کر ایک مداری نصیب ہوا ان مداریوں کی وجہ سے آج ملک و قو م کو یہ دن دیکھنا نصیب ہوا کہ امریکی کانگریس میں وطن عزیز کے نظام پر تحریک پیش ہوئی بلاشبہ ہم ترقی پذیر ہیں مگر کسی طاقتور ملک کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ ہماری آزاد ریاست کیخلاف تحریکیں پاس کرتا پھرے،یہ دن بھی سیاسی مداریوں نے ہی قوم کو دکھایا۔ ملک کے عزت، وقار کا کچھ تو خیال کریں۔

  • غریب کش بجٹ،مہنگائی ،عوام کہاں جائے؟ تجزیہ:شہزاد قریشی

    غریب کش بجٹ،مہنگائی ،عوام کہاں جائے؟ تجزیہ:شہزاد قریشی

    پی ٹی آئی کے دور حکومت سے لے کر موجودہ مخلوط حکومت تک غریب عوام مہنگائی کی وجہ سے چلا اٹھے ہیں، ان کی حکومتوں کے دور میں ان کے نمائندے ٹاک شوز میں مہنگائی کو اپنے پوائنٹ سکورنگ کے لئے استعمال کرتے ہیں، ان کی باتوں میں درد اور تکلیف نہیں ہے جس کی اذیت کا شکار عام انسان ہو رہے ہیں،مہنگائی کے وار سیاست پر براجمان دولت مندوں کے لئے محض بحث برائے بحث کے دلائل ہیں، عام آدمی مہنگائی کے تابڑ توڑ حملوں سے زخمی ہو رہے ان کے زخموں پر مرہم رکھنے والا کوئی نہیں، عام آدمی کی زندگی پہلے ہی اجیرن تھی اب بجلی کے بل دیکھ کر اذیت ناک عذاب میں کراہنے لگی ہے ،موجودہ بجٹ کوغریب کش بجٹ قرار دیا جا سکتا ہے غریب دوست بجٹ قرار نہیں دیا جا سکتا،موجودہ بجٹ محض اعداد و شمار کے ہیرپھیر اور نئے ٹیکسوں کے گورکھ دھندہ کے سواکچھ نہیں،

    سیاسی مخالفین کا مقابلہ کرنےکے لئے سینیٹر عرفان صدیقی اور سینیٹر پرویز رشید پارٹی متحرک
    پی ٹی آئی کے دور حکومت میں بھی عام آدمی کا یہی حال تھا اور آج کی مخلوط حکومت میں وہی پرانا جال ہے کھلاڑی تبدیل ہو ئے ہیں، میری عمر کے لوگوں کو اچھی طرح یاد ہوگا 1985ء میں نوازشریف نے تعمیر پاکستان کا نعرہ لگایا تھا ،پنجاب اور مرکز میں بلاتفریق عوام کی خدمت کی گئی کھیت سے منڈیوں تک سڑکوں کی تعمیر دیہات میں سرکاری سکولوں اور کالجوں کی تعمیر ترقی کے وہ سنگ میل تھے جنہوں نے عوام کی زندگی میں مثبت تبدیلی لائی، پھر نواشریف کے وزارت عظمیٰ کے دور میں ملک میں صنعتی پیداوار، نوجوانوں کو آسان قرضے ، پیلی ٹیکسی اور کسانوں کو ٹریکٹر دیئے، نوازشریف کے ہم رکاب آج کے وزیر خارجہ سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار تھے آج صوبہ پنجاب میں نوازشریف کی بیٹی نے بطور وزیراعلیٰ عوام کی حقیقی خدمت کا بیڑا اٹھارکھاہے پنجاب کی حد تک صوبے کیےعوام کے لئے بھاگ دوڑ میں مصروف نظر آرہی ہیں، سیاسی مخالفین کا مقابلہ کرنےکے لئے اس وقت سینیٹر عرفان صدیقی اور سینیٹر پرویز رشید پارٹی قیادت کے اقدامات کو عوام تک پہنچا نے اور مخالفین کے پروپیگنڈے کا مقابلہ کر رہے ہیں، مسلم لیگ ن کے نام نہاد اکابرین وزیروں،مشیروں کے جھنڈے گاڑیوں پر سجا کر عوام سے دور ہو گئے بلکہ اپنی جماعت کا دفاع کرنے سے بھی قاصر نظر آتے ہیں، نوازشریف کا ماضی حال مستقبل وطن عزیز کی ترقی کے لئے وقف ہے ان کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں پر ان کے بدترین مخالفین بھی اعتراف کر رہے ہیں آخر کیا مصلحت حائل ہے کہ ان کے ٹکٹ پر ایوانوں میں براجمان ہونے والے نام نہاد رہنما خاموش ہیں؟

  • آپریشن عزم استحکام،کامیابی کیلئے اتحاد ضروری،تجزیہ: شہزاد قریشی

    آپریشن عزم استحکام،کامیابی کیلئے اتحاد ضروری،تجزیہ: شہزاد قریشی

    آپریشن عزم استحکام سے سال 2013 کا منظر یاد آگیا جب وطن عزیز میں دہشت گردی اور انتہا پسندی عروج پر تھی اور بجلی کی عدم دستیابی سے ملک میں اندھیروں کا راج تھا اسی دوران میاں محمد نواز شریف نے وزارت عظمیٰ کا قلمدان سنبھالنے سے قبل اعلان کیا کہ دہشت گردی اور بجلی کے بدترین بحران کا خاتمہ ان کا ٹاپ ایجنڈا ہو گا، اقتدار سنبھالنے کے بعد نواز شریف نے سب سے پہلے اے پی سی کال کی جس میں عمران خان سمیت تمام جماعتوں نے شرکت کی، مذاکرات کا راستہ اپنایا گیا مذاکراتی ٹیم تشکیل دی گئی جس کی قیادت سینیٹر عرفان صدیقی نے کی .اس حوالے سے جب سینیٹر عرفان صدیقی سے گفتگو ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ مذاکرات کی ناکامی پر نواز شریف نے ملک سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کا اعلان کیا اورضرب عضب کا آغاز ہوا ،

    قارئین، پاک فوج اور جملہ اداروں نے لاتعداد قربانیاں دے کر امن بحال کیا نوازشریف کی سیاسی اور معاشی بصیرت کے بل بوتے پر ملک سے اندھیرے چھٹ گئے ، سینیٹر اسحاق ڈار جو اُس وقت وزیر خزانہ تھے انکی کمال حکمت عملی اور دن رات محنت سے ملک میں معاشی استحکام بحال ہوا اور صنعتی ترقی کا آغاز ہوگیا سی پیک سے قوم میں اُمید کی کرن جاگی ، آج پھر ملک اُسی دوراہے پر کھڑا ہے ،عزم استحکام وطن عزیز سے دہشت گردی کے اُبھرتے ہوئے منحوس سائے ، معاشی بدحالی ، توانائی کا بحران اور دیگر مسائل اُسی وقت حل ہوں گے جب ملک میں امن ہو گا، وطن عزیز کے ان کھیلانوں میں امن کی ہریالی اُگانے کا بیڑا ایک بار پھر ضرب عضب کی طرح پاک فوج اور جملہ اداروں نے اٹھایا ہے تو اس میں بحث او ر دھوراں دھار تقریریں کیسی ؟ کیا پارلیمنٹ میں دہشت گردوں کے پروموٹرز اور سپورٹرز بیٹھے ہیں؟ سادہ لوح عوام کو بے وقوف بنایا جا رہا ہے ، ماضی میں دہشت گردی کے حوالے سے افواج پاکستان ، پولیس اور عوام نے لازوال جانی و مالی قربانیاں دی ہیں جس پر ایک عالم گواہ ہے، ملک کے عظیم تر مفاد کو مد نظر رکھتے ہوئے اپوزیشن کو ملک وقوم کی بقاء کے لئے آپریشن عزم استحکام کا بھرپور ساتھ دینا ہوگا، ملک سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کا خاتمہ ملک وقوم کے اولین مفاد میں ہے آخر کب تک ہم لاشیں اٹھاتے رہیں گے؟

  • معیشت  کی بحالی،حکومتی اقدامات پر اعتماد کی علامت.تجزیہ:شہزاد قریشی

    معیشت کی بحالی،حکومتی اقدامات پر اعتماد کی علامت.تجزیہ:شہزاد قریشی

    اسلام آباد ( رپورٹ،شہزاد قریشی) پاکستان اسٹاک ایکسچینج کےہنڈرڈ انڈیکس کا 80 ہزار کی نفسیاتی حد عبور کرنا ملکی تاریخ میں معیشت کی بحالی کی جانب مضبوط حکومتی اقدامات پر اعتماد کی علامت ہے اور دیوالیہ دیوالیہ کی رٹ لگا کر ملکی معیشت کو نقصان پہنچانے والوں کے منہ پر ایک طمانچہ ہے ، ادھر گرڈ سٹیشنوں کا گھیرائو کرنے والوں کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں ایسی غیر سنجیدہ حرکات سے وہ ملک وقوم کی کوئی خدمت نہیں سرانجام دے رہے بلکہ عوام ان اوچھے ہتھکنڈوں کو حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں، بلاشبہ پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی جارحانہ بلندی نہ صرف حکومتی پالیسیوں پر اعتماد کی علامت ہے بلکہ حکومت پاکستان کی درست سمت سفر کی عکاس ہے،

    ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام وفاق کی اکائیوں یعنی صوبائی حکومتوں اور ریاستی و حکومتی اداروں کو یک جان ہو کر پورے اخلاص کے ساتھ میاں محمد نواز شریف کے ترقی کے روڈ میپ کی منزل کی جانب سفر جاری رکھ کر وطن عزیز کو مضبوط سے مضبوط بنانے کا عزم کرنا ہوگا، میاں محمد نواز شریف کے ترقی کے وژن کو اگر ٹھیس نہ پہنچائی جاتی تو آج پاکستان نہ صرف ایشین ٹائیگر بن چکا ہوتا بلکہ جی 20 کی صف میں کھڑا ہوتا، اب وقت آن پہنچا ہے کہ سیاسی اختلاف کو بالائے طاق رکھ کر میاں محمد نواز شریف کے وژن کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے تاکہ ملک معاشی طور مستحکم ہو اور عوام کو مہنگائی ،پاکستان کو آئی ایم ایف کے چنگل سے نجات مل سکے