Baaghi TV

Tag: صحت

  • لاہورمیں انسداد سموگ پلان کے تحت دفعہ 144 نافذ

    لاہور ضلعی انتظامیہ نے انسداد سموگ پلان کے تحت دفعہ 144 نافذ کردی۔

    باغی ٹی وی: دفعہ 144 کے نفاذ سے متعلق نوٹیفکیشن ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) لاہور رافعہ حیدر کی جانب سے جاری کردیا گیا ہےنوٹیفیکیشن کے مطابق فصلوں کی باقیات، کوڑا کرکٹ، ٹائر، پلاسٹک، چمڑا اور پولی تھین بیگز جلانے پر مکمل پابندی ہوگی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف مقدمات درج کیے جائیں گے۔

    سوات شہر اور گردو نواح میں زلزلے کے جھٹکے

    نوٹیفکیشن میں بتایا گیا کہ دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں اور آلودگی کا باعث بننے والی فیکٹریوں پر نظر رکھی جائے گی جب کہ زیگ زیگ ٹیکنالوجی پر منتقلی نہ کرنے والے بھٹہ مالکان کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی شہریوں کی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے انسداد سموگ کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

    نیب نے فرح گوگی کوشوہرسمیت طلب کر لیا

    سموگ انسانی صحت کے لئے نہایت مضر ہے ،نزلہ، کھانسی، گلا خراب، سانس کی تکلیف اور آنکھوں میں جلن وہ ظاہری علامات ہیں جو سموگ کے باعث ہر عمر کے شخص کو بری طرح متاثر کرتی ہیں۔ جبکہ سموگ انسانی صحت کو ایسے نقصانات بھی پہنچاتی ہے جو بظاہر فوری طور پر نظرتو نہیں آتے لیکن وہ کسی بھی شخص کو موذی مرض میں مبتلا کرسکتے ہیں، جیسا کہ پھیپڑوں کا خراب ہونا یا کینسر، ڈاکٹروں کے مطابق بچے اور بوڑھے افراد سموگ سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں اور اس لیے جب سموگ بڑھ جائے تو انھیں گھروں میں ہی رہنا چاہیے۔

    کراچی کے لوگوں کو وڈیرہ شاہی نظام کے خلاف آواز اٹھانا ہوگی،حافظ نعیم

  • مضافاتی علاقوں میں زندگی گزارنےوالے لوگ ڈپریشن میں مبتلا ہو سکتے ہیں

    مضافاتی علاقوں میں زندگی گزارنےوالے لوگ ڈپریشن میں مبتلا ہو سکتے ہیں

    وہ لوگ جو پھیلتے مضافاتی علاقوں میں زندگی گزار رہے ہیں ان کو ڈپریشن میں مبتلا ہونے کے شدید خطرات لاحق ہیں-

    باغی ٹی وی: وہ لوگ جو شہر کی شور شرابے والی اور اعصاب شکن زندگی سے اکتا چکے ہیں، انہیں لگتا ہے مضافاتی علاقوں میں جا کر بس جانا اس مسئلے کا ایک مثالی حل ہے لیکن ایک تحقیق کے مطابق ایسا کرنا زندگی میں سکون کا ضامن نہیں ہو سکتا اس کی بنیادی وجہ اطراف میں تھوڑے لوگوں کے ہونےکےسبب معاشرتی سرگرمیوں میں حصہ لینے میں کمی اور اجتماعیت کا عدم احساس ہےجو ذہنی صحت کو بہتر کرنے کا سبب ہوتے ہیں۔

    ترکیہ کا شمالی کوسووو میں اپنی ایک کمانڈو بٹالین بھیجنے کا اعلان

    امریکا کی ییل یونیورسٹی اور ڈنمارک کی آرہس یونیورسٹی کے محققین نے ڈنمارک میں 30 برس کے عرصے میں بننے والے علاقوں کی سیٹلائیٹ تصاویر اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے نقشہ سازی کی محققین نے دیکھا کہ تقریباً 75 ہزار کی آبادی والے علاقے کے افراد میں ڈپریشن کی تشخیض ہوئی جبکہ اس دورانیے میں ساڑھے 7 لاکھ سے زائد آبادی والے علاقے میں لوگوں میں یہ کیفیت نہیں پائی گئی۔

    ترکیہ زلزے کی پیشگوئی کرنیوالےسیسمولوجسٹ کی جون میں خوفناک زلزلے کی پیشگوئی

    مطالعے سے نتیجہ اخذ کیا گیا کہ وہ شخص جو مضافاتی علاقے میں زندگی گزاررہا ہوتا ہے اس کے شہر میں رہنے والوں کی نسبت ڈپریشن میں مبتلا ہونے کے خطرات 10 سے 15 فی صد زیادہ ہوتےہیں تحقیق میں یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ بلند عمارتوں اورکم کثافت والے گھروں کے مجموعے کا تعلق شہر میں رہنے والوں کو لاحق کم خطرے سے تھا۔

    ایران کا پاکستان سمیت خلیجی ریاستوں کے ساتھ بحری اتحاد بنانے کا منصوبہ

  • گزشتہ 10 ماہ کے دوران اسلام آباد میں 118 ایچ آئی وی کیسز رپورٹ

    گزشتہ 10 ماہ کے دوران اسلام آباد میں 118 ایچ آئی وی کیسز رپورٹ

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن کا اجلاس چئیرمین کمیٹی سینیٹر محمدہمایوں مہمند کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا-

    جوائنٹ سیکریٹری وزارت صحت نے ملیریا، ایچ آئی وی ایڈز اور ٹی بی کنٹرول پروگرام کے علاوہ گلوبل فنڈ سے ملنے والی امداد اور اس کی تقسیم پر کمیٹی کو تفصیلی بریفنگ دی-سینیٹرز نے حکام سے فنڈز اور کنٹرول پروگرام کے حوالے سے کافی سوال و جواب کئے-انہوں نے بتایا کہ اب تک پاکستان کو گلوبل فنڈ کی جانب سے کل 1100 ملین ڈالرز موصول ہوئے ہیں -ان کا کہنا تھا کہ ہوسٹ ملک کو ڈرائیونگ سیٹ پر ہونا چاہئے-کمیٹی نے حکام سے کہا کہ ایچ آئی وی کی روک تھام کیلئے گلوبل فنڈ سے جو گزارشات ہیں اس حوالے سے نوٹ کمیٹی کو دے دیں جس کی کمیٹی توثیق کرے گی اور تجاویز بھی نوٹ کے ہمراہ گلوبل فنڈ کو بھیجے گی-حکام کا کہنا تھا کہ ہوسٹ ملک ہونے کے باوجود“اے ایس پی(ایڈیشنل سیفگارڈ پالیسی)”منسوخی کے بعد پاکستان ایچ آئی وی/ایڈز اور ٹی بی کے خلاف مہم نہیں چلا سکتا-کوشش کر رہے ہیں کہ“اے ایس پی”کو بحال کیا جائے-ریڈیو میں بہت موثر آگاہی مہم چلا رہے ہیں اور پہلی دفعہ 150 ملین لوگوں تک ہماری آواز پہنچی ہے-

    حکام کا مزید کہنا تھا کہ ایچ آئی وی ایڈز والوں کیلئے کمیونٹی کئیر سنٹر بنا رہے ہیں تاکہ یہ لوگ ایک ہی کمیونٹی میں رہیں – اسپیشل سیکریٹری وزارت صحت نے بتایا کہ“بلڈ ٹرانسفیوژن کے دوران ایچ آئی وی کی اسکریننگ نہیں کی جاتی اس کے علاوہ جو پاکستانی ڈپورٹ ہو کر وطن واپس آرہے ہیں ان کی میڈیکل کنڈیشن بھی نہیں دیکھی جاتی”-گزشتہ سال تقریباً 26000 پاکستانی جلا وطن ہو کر پاکستان آئے جن میں کسی کی اسکریننگ نہیں ہوئی انہوں نے تجویز دی کہ“بغیر میڈیکل کنڈیشن ,اسکریننگ کے کسی بھی جلا وطن شخص کو پاکستان قبول نا کرے-بہت سے جلا وطن ایچ آئی وی مثبت ہوتے ہیں -“وزارت صحت کے حکام نے مزید کہا کہ گزشتہ 10 سالوں میں گلوبل فنڈ کی جانب سے 460 ملین ڈالرز پاکستان کو دئیے گئے ہیں -فنڈ کا زیادہ حصہ ٹی بی کیلئے مختص ہے-کمیٹی نے خدشے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فنڈ اتنے ذیادہ مل رہے ہیں لیکن کیسز میں کمی نہیں آرہی بلکہ بڑھ رہے ہیں -جوائنٹ سیکریٹری وزارت صحت نے بتایا کہ“بلوچستان کیلئے گلوبل فنڈ کی جانب سے 26 گاڑیاں دی گئی لیکن پتہ نہیں کہ وہ گاڑیاں کہاں ہیں -چیف سیکریٹری بلوچستان کے ساتھ معاملے کو اٹھایا ہوا ہے-“سینیٹر بہرہ مند خان تنگی کے سوال کے جواب میں حکام نے بتایا کہ“گزشتہ 10 ماہ کے دوران اسلام آباد میں 118 ایچ آئی وی کیسز رپورٹ ہوئے ہیں  -انہوں نے بتایا کہ علاج معالجے کی مشین جو پمز میں ہے اس پر راولپنڈی، جہلم، اٹک سے بھی لوگوں کا کافی لوڈ ہے-بدقسمی سے ماضی میں ایچ آئی وی کیسز کے حوالے سے اسلام آباد کیلئے اچھے الفاظ استعمال نہیں کئے گئے-جوائنٹ سیکریٹری نے کہا کہ بہت جلد ڈبلیو ایچ او کی طرز پر ایپ لانچ کر رہے ہیں جس کے بعد ادارے کی کارکردگی کی رپورٹ بھی ڈبلیو ایچ او کے ڈیش بورڈ میں دیکھی جاسکے گی-

    کمیٹی نے سینیٹر نصیب اللّہ بازئی کی جانب سے پیش کیا گیا“دی پرائم یونیورسٹی آف نرسنگ سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی اسلام آباد بل 2022”کو موور نہ ہونے کی وجہ سے خارج کردیا گیا-چئیرمین کمیٹی نے کہا کہ 500 دن ہوگئے ہیں یونیورسٹی بل پر کوئی پیش رفت نظر نہیں آرہی جبکہ سینیٹر نصیب اللّہ بازئی نے بھی بتایا کہ وہ اس معاملے کی نمائندگی نہیں کرتے-چئیرمین کمیٹی کا کہنا تھا کہ اگر مستقبل میں ضرورت پڑی تو اس بل کو دوبارہ ایجنڈے پر رکھ دیں گے-کمیٹی میں سینیٹر مشتاق احمد کی جانب سے پیش کیاگیا“دی پاکستان فارمیسی(ترمیمی) بل 2022”طویل بحث کے بعد متفقہ طورپر منظور کرلیا گیا-کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ فارمیسی کونسل کی جانب سے جس شق پر خدشات کا اظہار کیا گیا کمیٹی اس کو خود دیکھے گی-

    شہری حاجی عبدالوہاب کی خیبرپختونخواہ صوبے کو تعلیم اور صحت کیلئے فنڈز کی فراہمی کے حوالے سے عوامی عرضی نمبر 5226 کو بحث کے بعد خارج کردیاگیا-چئیرمین کمیٹی نے بتایا کہ فنڈز کا معاملہ صوبوں کا اختیار ہے لیکن اپنے دائر اختیار میں رہتے ہوئے کمیٹی محکمہ صحت خیبرپختونخواہ اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی صحت کو معاملے کے حوالے سے خط ضرور لکھے گی-سینیٹرفوزیہ ارشد کی جانب سے اسلام آباد کے دیہی اور شہری علاقوں میں ڈینگی کے پھیلاو اور سینیٹر مہرتاج روغانی کی جانب خیبرانسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ اینڈ چلڈرن ہسپتال پشاور کو فنڈز کی عدم فراہمی کے معاملات موور نہ ہونے کی وجہ سے موخر کردئے گئے-

    صدر پی ایم ڈی سی نے کونسل ممبرز کی تقرریوں کے حوالے سے کمیٹی کو آگاہ کیا-صدر پی ایم ڈی سی نے بتایا کہ چارج سنبھالنے کے بعد کونسل کی ابتدائی ایک میٹنگ ہو چکی ہے اگلی میٹنگ چند روز میں متوقع ہے-کمیٹی ممبران کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کونسل ممبران کی تقرریاں میرٹ پر ہوئی ہیں جبکہ تقرری بھی وزیراعظم خود کرتے ہیں -سینیٹر سردار شفیق ترین نے کونسل ممبران کی تقرریوں کے حوالے سے چند تحفظات کا اظہار کیا اور کونسل ممبران کے کوائف دیکھنے کی خواہش ظاہر کی جس کے بعد چئیرمین کمیٹی نے اگلی میٹنگ میں کونسل ممبران کی تقرریوں بارے پی ایم ڈی سی حکام سے دوبارہ بریفنگ طلب کرلی-وزارت صحت نے میڈیا میں کونسل ممبران کی میرٹ اور قانون کے برخلاف تقرریوں کے حوالے سے خبروں کی تردید کردی-

    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
    برطانوی وزیرداخلہ کا پاکستانیوں کو جنسی زیادتی کا مجرم کہنا حقیقت کے خلاف ہے،برٹش جج

  • موٹاپے اور ذیابیطس ٹائپ 2 سے متاثر ہونے کی اہم ترین وجہ دریافت

    موٹاپے اور ذیابیطس ٹائپ 2 سے متاثر ہونے کی اہم ترین وجہ دریافت

    موٹاپا اور ذیابیطس ٹائپ 2 کو موجودہ عہد میں وبا کی طرح پھیلنے والے طبی مسائل قرار دیا جاتا ہے۔

    باغی ٹی وی : جرنل بی ایم سی میڈیسن میں شائع برطانیہ کی ناٹنگھم ٹرینٹ یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ معدے میں موجود بیکٹریا کے ذرات چربی کے خلیات کو نقصان پہنچا کر جسمانی وزن میں اضافے کا باعث بنتے ہیں تحقیق کے مطابق endotoxins نامی یہ زہریلے ذرات خون میں شامل ہوکر چربی کے خلیات پر براہ راست اثرانداز ہو سکتے ہیں۔

    سعودی عرب سے پاکستان آنیوالی مسافر میں منکی پاکس کی تصدیق

    اس تحقیق میں 156 افراد کو شامل کیا گیا تھا جن میں سے 63 موٹاپے کے شکار تھے ان افراد کے خون اور چربی کے نمونے حاصل کیے گئے اور دریافت ہوا کہ موٹاپے کے شکار افراد کے چربی کے خلیات کا توانائی استعمال کرنے والے براؤن فیٹ خلیات میں تبدیل ہونے کا امکان گھٹ جاتا ہے۔

    محققین نے بتایا کہ اس کی ممکنہ وجہ موٹاپے کے شکار افراد کے خون میں endotoxins ذرات کی بہت زیادہ مقدار ہے endotoxins بیکٹریل خلیاتی دیواروں میں پائےجانےوالے زہریلےذرات ہوتے ہیں انہوں نے یہ بھی دریافت کیا کہ جسمانی وزن میں کمی کے لیے کرائی جانے والی سرجری سے خون میں ان ذرات کی تعداد گھٹ جاتی ہے جس سے چربی کے خلیات کی صحت بہتر ہوتی ہے۔

    برطانیہ میں تین افراد کے ڈی این اے کے ساتھ بچے کی پیدائش

    محققین کا کہنا تھا کہ نتائج سے یہ جاننے میں مدد ملتی ہے کہ کس طرح بیکٹریا موٹاپے اور اس سے منسلک امراض جیسے ذیابیطس ٹائپ 2 کا باعث بن سکتے ہیں جو پھٹنے پر خارج ہوتے ہیں صحت مند معدے میں یہ ذرات ان جرثوموں کی زندگی کا حصہ ہوتے ہیں جو انسانی صحت کے حوالے سے اہم کردار ادا کرتے ہیں موٹاپے کے شکار افراد کے معدے میں موجود رکاوٹ کمزور ہوتی ہے اور اس کے نتیجے میں یہ ذرات خون میں شامل ہوکر جسم کے دیگر حصوں تک پہنچ جاتے ہیں-

    درجہ حرارت میں تشویشناک اضافہ،اقوام متحدہ نے خبردار کر دیا

  • سعودی عرب سے پاکستان آنیوالی مسافر میں منکی پاکس کی تصدیق

    سعودی عرب سے پاکستان آنیوالی مسافر میں منکی پاکس کی تصدیق

    سعودی عرب سے پاکستان پہنچنے والے ایک اور مسافر میں منکی پاکس کی تصدیق ہوگئی۔

    باغی ٹی وی: پمز انتظامیہ کے مطابق مکہ سے آج اسلام آباد پہنچنے والی خاتون لیب ٹیکنیشن منکی پاکس کی مریضہ نکلی منکی پاکس سے متاثرہ خاتون کا پمز کے آئسولیشن وارڈ میں علاج کیا جا رہا ہے دوسری جانب قومی ادارہ برائے صحت اسلام آباد نے بھی 19 سالہ خاتون کے منکی پاکس میں مبتلا ہونے کی تصدیق کی ہے۔

    بھارت میں 2 ہزار کا نوٹ ختم کرنے کا فیصلہ

    قومی ادارہ برائے صحت کے مطابق اب تک سعودی عرب سے پاکستان آئے 4 افراد میں منکی پاکس کی تصدیق ہوچکی ہے، تاہم پاکستان میں منکی پاکس مقامی سطح پر پھیلنے کے کوئی شواہد نہیں ملے ہیں۔

    منکی پاکس (Mpox)) ایک متعدی بیماری ہے جو منکی پوکس وائرس کی وجہ سے ہوتی ہے۔ 1958ء میں پہلی بار یہ وبا ڈنمارک میں تحقیق کے لیے رکھے گئے بندروں میں پھوٹی تھی، اسی لیے اس کا نام منکی پاکس رکھا گیا۔

    انسانوں میں اس کا پہلا کیس 1970ء میں جمہوریہ کانگو میں 9ماہ کے بچے میں ریکارڈ کیا گیا جب وہاں اسمال پاکس وبا پر قابو پانے کے لیے کوششیں کی جارہی تھیں۔ 1980ء میں چیچک کے خاتمے اور دنیا بھر میں چیچک کی ویکسینیشن ختم کیے جانے کے بعد منکی پاکس مسلسل وسطی، مشرقی اور مغربی افریقا میں ابھر رہا ہے جبکہ 2022ء -2023ء میں عالمی وبا کے طور پر سامنے آئی ہے۔

    نواز شریف کے نام پرلندن میں نامعلوم افراد نے ایک اور گاڑی رجسٹر کرالی

    افریقی خطے سے باہر یہ انفیکشن انسانوں کے سفر یا جانوروں کے ذریعے پھیلا اور مئی 2022ء کے بعد سے منکی پاکس ان ممالک میں بھی رپورٹ ہونا شروع ہوا جہاں اس سے پہلے کوئی ایک کیس بھی نہ تھا۔ اب تک یہ وائرس برطانیہ، امریکا، کینیڈا، سنگاپور اور پاکستان سمیت کئی ممالک میں رپورٹ ہوچکا ہے۔ اس بیماری میں تکلیف دہ ددوڑے، بڑے آبلے دار دانے اور بخار ہوسکتا ہے۔ زیادہ تر لوگ مکمل طور پر صحت یاب ہو جاتے ہیں، لیکن کچھ بہت بیمار ہو جاتے ہیں۔

    یہ بیماری انسانوں سے انسانوں اور کبھی کبھی جانورورں سے انسانوں میں رابطے کے ذریعے پھیلتی ہے، آمنے سامنے (بات کرنا یا سانس لینا) متاثرہ شخص کو چھونے، بوسہ لینے یا جنسی تعلق کے ذریعے، جانور کے کاٹنے، خراش لگنے، ان کا شکار کرتے، کھال اتارتے یا پکاتے وقت، منکی پاکس وائرس سے آلودہ چادروں، کپڑوں یا سوئیوں کا استعمال، حاملہ خواتین سے بچے کو وائرس کی منتقلی-

    باراک اوباما اورمتعدد صحافیوں سمیت 500 امریکیوں کی روس میں داخلے پرپابندی عائد

  • برطانیہ میں  تین افراد کے ڈی این اے کے ساتھ بچے کی پیدائش

    برطانیہ میں تین افراد کے ڈی این اے کے ساتھ بچے کی پیدائش

    برطانیہ میں پہلی بار تین افراد کا ڈی این اے استعمال کرتے ہوئے ایک بچے کی پیدائش کا واقعہ سامنے آیا ہے جس کا مقصد بچوں کو وراثت میں لاعلاج بیماریوں سے بچنا ہے۔

    باغی ٹی وی : "دی گارجئین” کے مطابق برطانیہ کے تولیدی صحت کے ادارے نے تصدیق کی ہے کہ بچے کی تولید کے لیے زیادہ تر ڈی این اے دونوں والدین سے لیا گیا جب کہ تقریباً 0.1 فیصد ڈی این اے اسے عطیہ کرنے والی خاتون کا ہےاس منفرد تکنیک سے بچوں کی ہیدائش ممکن بنانے کا مقصد نومولود کو تباہ کن مائٹوکونڈریل امراض سے محفوظ رکھنے کی کوشش ہے۔ برطانیہ میں اس قسم کا پہلابچہ پیدا ہوا ہے تاہم دنیا بھرمیں اب تک اس تکنیک کے ذریعے پانچ بچے پیدا ہوچکے ہیں۔

    ڈائٹنگ سے مرد و خواتین میں بانجھ پن کا امکان بڑھ سکتا ہے،تحقیق

    یہ تکنیک، جسے مائٹوکونڈریل ڈونیشن ٹریٹمنٹ (MDT) کے نام سے جانا جاتا ہے، صحت مند خواتین عطیہ دہندگان کے ایگس سے آئی وی ایف(IVF) ایمبریوز بنانے کے لیے ٹشو کا استعمال کرتی ہے جو نقصان دہ تغیرات سے پاک ہوتے ہیں اور ماؤں سے بچوں کو منتقل ہونے کا امکان ہوتا ہے اس عمل نے "تین والدین کے بچے” کے فقرے کو جنم دیا ہے، حالانکہ بچوں میں ڈی این اے کا 99.8 فیصد سے زیادہ ماں اور باپ سے آتا ہے۔

    بچے کی پیدائش کے حوالے سے برطانیہ کے تولیدی صحت کے ادارے نے مزید کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی ہیں۔

    ایم ڈی ٹی پر تحقیق، جسے مائٹوکونڈریل ریپلیسمنٹ تھراپی (ایم آر ٹی) کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، برطانیہ میں نیو کیسل فرٹیلیٹی سنٹر کے ڈاکٹروں نے شروع کیا تھا۔ اس کام کا مقصد تبدیل شدہ مائٹوکونڈریا میں مبتلا خواتین کو جینیاتی عوارض سے گزرنے کے خطرے کے بغیر بچے پیدا کرنے میں مدد کرنا تھا۔ لوگ اپنے تمام مائٹوکونڈریا کو اپنی ماں سے وراثت میں لیتے ہیں، اس لیے نقصان دہ تغیرات عورت کے تمام بچوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔

    ہمیں ڈراؤنے خواب کیوں آتے ہیں اوران سے چھٹکارا کیسے پایا جائے؟

    متاثرہ خواتین کے لیے، قدرتی تصور اکثر ایک جوا ہوتا ہے۔ کچھ بچے صحت مند پیدا ہوسکتے ہیں کیونکہ وہ تبدیل شدہ مائٹوکونڈریا کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ وراثت میں حاصل کرتے ہیں۔ لیکن دوسروں کو کہیں زیادہ وراثت مل سکتی ہے اور شدید، ترقی پسند اور اکثر مہلک بیماریاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ 6,000 میں سے ایک بچہ مائٹوکونڈریل عوارض سے متاثر ہوتا ہے۔

    مائٹوکونڈریل بیماریاں لاعلاج ہیں اورنومولود کیلئے پیدائش کے بعد گھنٹوں یا دنوں میں جان لیوا ثابت ہو سکتی ہیں۔ کئی خاندانوں نے اس بیماری کے باعث ایک سے زائد بچے کھو چکے ہیں اس لیے ان کیلئےاس تکنیک کو صحت مند بچہ پیدا کرنے کا واحد آپشن سمجھاجاتا ہے۔

    انسان کے 20,000 جینز میں سے زیادہ تر جسم کے تقریباً ہر خلیے کے نیوکلئس میں جڑے ہوتے ہیں۔ لیکن ہر نیوکلئس کے گردخلیےکا پاور ہاؤس کہلائے جانےوالے نقطے دار ہزاروں مائٹوکونڈریا ہیں جن کے اپنے جین ہیں مائٹوکونڈریا جسم کے ہرخلیےمیں موجود چھوٹے چھوٹے حصے ہوتے ہیں جو کھانے کو قابل استعمال توانائی میں تبدیل کرتے ہیں جو ہمارےاعضاء کوبناتے ہیں مائٹوکونڈریا کو نقصان پہنچانے والے تغیرات جسم کو توانائی فراہم کرنے میں ناکام رہتے ہوئے دماغ کو نقصان پہنچانے، پٹھوں کی کمزوری،دل کی خرابی اوراندھے پن کا باعث بنتے ہیں۔

    فرنچ فرائز کھانے سے نفسیاتی صحت پرمنفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں،تحقیق

    یہ بیماری بچے کو صرف ماں سے منتقل ہوتی ہے اس لیے اس قسم کے جدید آئی وی ایف سے کسی صحتمند شخص سے مائٹو کونڈریا حاصل کیاجاتا ہے، اس عطیہ کرنے کیلئے 2 طریقے اپنائے جاتے ہیں۔ ایک ماں کے انڈے کو باپ کے نطفہ سے فرٹیلائز کرنے کے بعد اوردوسرا فرٹیلائزیشن سے پہلے ہوتا ہے۔

    مائٹوکونڈریا میں اپنی جینیاتی معلومات یا ڈی این اے ہوتا ہے یعنی تکنیکی طور پراس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچے والدین کے علاوہ اعطیہ دہندہ کا ڈی این اے بھی وراثت میں لیتے ہیں۔ یہ نسل در نسل منتقل ہونے والی ایک مستقل تبدیلی ہے۔

    واضح رہے کہ عطیہ دہندہ کا ڈی این اے صرف صحت مند مائٹوکونڈریا کیلئے ضروری ہے جو ،بچے کی دیگر خصلتوں جیسے کہ ظاہری شکل کو متاثر نہیں کرتا اور اس تکنیک کا مطلب ہرگزیہ نہیں ہے کہ پیدا ہونے والے بچے کا کوئی دوسرا والد یا والدہ بھی ہے۔

    وہ غذائی عوامل جو عالمی سطح پرٹائپ 2 ذیا بیطس کا سبب بنتے ہیں

    برطانیہ میں ایسے بچوں کی پیدائش کی اجازت دینے کیلئے 2015 میں قوانین متعارف کرائے گئے تھے تاہم اسے فوری طور پر فروغ نہیں دیا گیا اورپہلے بچے کی پیدائش اب سامنے آئی ہے۔

    ہیومن فرٹیلائزیشن اینڈ ایمبریالوجی اتھارٹی کے مطابق اس طریقہ کارسے 20 اپریل 2023 تک 5 سے کم بچے پیدا ہوئے جن کے خاندانوں کی شناخت چھپانے کیلئے صحیح تعداد نہیں بتائی جارہی ہے۔

  • انگلیوں کی پوریں کیسے وجود میں آتی ہیں، سائنسدانوں نے معمہ حل کر لیا

    انگلیوں کی پوریں کیسے وجود میں آتی ہیں، سائنسدانوں نے معمہ حل کر لیا

    ہماری انگلیوں کے سروں پر پرنٹس کس طرح بنتی ہیں یہ ایک دیرینہ سائنسی معمہ ہےتاہم اب سائنسدانوں نے اس معمہ کوحل کردیاہے، جس سےنہ صرف اس عمل کو ظاہر کیا گیا ہے جس سےانگلیوں کےنشان بنتے ہیں، بلکہ اس کے ذمہ دار جینز بھی ہیں اوریہ پتہ چلتا ہے، ہمارے مخصوص پرنٹس اسی رجحان سے نکلتے ہیں جس سے زیبرا کی دھاریاں اور چیتے کے دھبے بنتے ہیں-

    باغی ٹی وی: کئی سالوں سے، یونیورسٹی آف ایڈنبرا کے ترقیاتی ماہر حیاتیات ڈینس ہیڈن، جیمز گلووراور ان کے ساتھی انگلیوں کے نشانات میں خصوصی دلچسپی کے ساتھ، جلد کی نشوونما اور پختگی کےطریقےکی تحقیقات کر رہے تھے فنگرپرنٹس جو آپ کی انگلیوں کے سِروں پر گھومتی اور ابھری لکیریں ہیں، پیدائش سے پہلے ہی وجود میں آجاتی ہیں یہ پوریں ہر انگلی کےتین نقطوں سےپھیلناشروع ہوتی ہیں؛ ایک ناخن کے نیچے سے، انگلی کے بیچ سے اور انگلی کی نوک کی قریب ترین جگہ سے۔

    طاقت ور ترین سمندری طوفان ’موچا‘ بنگلادیش کے ساحل سے ٹکرانے کیلئے تیار

    سائنس دان جانتے تھے کہ فنگرپرنٹس جِلد کے نیچے چھوٹی چھوٹی گہرائیاں بننے سے پیدا پوتے ہیں اور یہ گہرائیاں نیچے تک چلی جاتی ہیں جن کے نچلے ترین حصے میں خلیے تیزی سے بڑھتے ہیں اور وہ بھی نیچے کی طرف بڑھتےچلےجاتے ہیں لیکن چند ہفتوں بعد خلیات نیچے کی طرف بڑھنا رُک جاتے ہیں۔ اس کے بجائےوہ اوپر کی طرف بڑھنا شروع کردیتے ہیں اور جلد کواوپرکی طرف دھکیلتے ہیں جس سے جلد پر ابھری لکیریں بن جاتی ہیں۔

    تاہم یہ کوئی نہیں جانتا تھا کہ وہ کون سی ایسی چیز ہے جوفنگرپرنٹس کے آخری ڈیزائن کا تعین کرتی ہے۔ یہ جاننے کے لیے کہ پوروں کی نمو میں کون سے مالیکیول شامل ہو سکتے ہیں، محققین نے جلد کے ایک اور جُز کا جائزہ لیا جو جلد کے اوپر ہی نہیں بلکہ اندر نیچے کی طرف بھی بڑھتا ہے اور وہ ہے بال۔

    ہمیں ڈراؤنے خواب کیوں آتے ہیں اوران سے چھٹکارا کیسے پایا جائے؟

    ٹیم نے بالوں کے خلیوں کی نشوونما کا موازنہ ابھرتے ہوئے فنگر پرنٹس سے کیا۔ سائنسدانوں نے اندازہ لگایا کہ ایک جیسے ہی مالیکیولز دونوں کے نیچے کی طرف بڑھنے کے لیے ذمہ دار ہیں۔ دونوں میں کچھ خاص قسم کے مالیکیولز ہوتے ہیں جو خلیوں کے درمیان سگنلز کو منتقل کرتے ہیں۔

    جیف راسموسن، واشنگٹن یونیورسٹی کے ایک ترقیاتی ماہر حیاتیات جو اس کام میں شامل نہیں تھے نے کہا کہ ایک چیز جو میرے سامنے کھڑی تھی وہ صرف مختلف طریقوں کی وسعت تھی جسے وہ کاغذ میں استعمال کرتے ہیں وہ تمام مختلف قسم کے طریقہ کار واقعی [ایک] مربوط کہانی بنانے میں ان کی مدد کرتے ہیں۔

    یہ کہانی جسم کے بافتوں کی بیرونی تہہ سے شروع ہوتی ہے، جسے اپیتھیلیم کہتے ہیں۔ ہیڈن کی ٹیم نے بالآخر پایا کہ انگلیوں کے نشان بالوں کے پٹکوں سے بہت ملتے جلتے نظر آنے لگتے ہیں: دونوں اپیتھیلیم پر خلیات کی چھوٹی ڈسکس کے طور پر شروع ہوتے ہیں، اور دونوں صورتوں میں، خلیے EDAR اور WNT سمیت پروٹین کے ایک سوٹ کے لیے جینز کو چالو کرتے ہیں۔

    تنہائی سگریٹ نوشی سےزیادہ خطرناک،جبکہ قبل از وقت موت کےخطرےکو30 فیصد تک بڑھا دیتی ہے

    بالوں اور فنگر پرنٹس دونوں میں WNT،EDAR اورBMP نامی مالیکیولز ہوتے ہیں ۔WNT خلیات کی پیداوار کو بڑھاتا ہے جس سے جلد کو ابھرنے میں مدد ملتی ہے۔ WNT خلیوں کو EDAR پیدا کرنے کی بھی ہدایت کرتا ہے جس کے نتیجے میں WNT کی سرگرمی مزید بڑھ جاتی ہے۔

    دوسری طرفBMP ان تمام کارروائیوں کو روکتا ہے۔ جہاںBMP بہت زیادہ ہوتا ہے وہاں جلد کے خلیوں کی تعمیر رُک جاتی ہے اور اس طرح زیادہ BMP والی جگہیں انگلی کے پوروں کے درمیان سطحی رہتی ہیں۔

    ڈائٹنگ سے مرد و خواتین میں بانجھ پن کا امکان بڑھ سکتا ہے،تحقیق

  • ہمیں ڈراؤنے خواب کیوں آتے ہیں اوران سے چھٹکارا کیسے پایا جائے؟

    ہمیں ڈراؤنے خواب کیوں آتے ہیں اوران سے چھٹکارا کیسے پایا جائے؟

    ایک اندازے کے مطابق 50 فیصد سے 85 فیصد نوجوانوں کو ہفتے میں دو سے تین بار ڈراؤنے خواب آتے ہیں-

    باغی ٹی وی: سی این این کے مطابق عام طور پر ڈراؤنے خواب بچپن میں زیادہ آتے ہیں لیکن ایک اندازے کے مطابق 50 فیصد سے 85 فیصد نوجوانوں کو ہفتے میں دو سے تین بار ڈراؤنے خواب آتے ہیں البتہ ہم سبھی نے اپنی زندگی میں ایک بارڈراؤنےخواب دیکھنےکا تجربہ لازمی کیا ہوگا-

    ڈائٹنگ سے مرد و خواتین میں بانجھ پن کا امکان بڑھ سکتا ہے،تحقیق

    نیند اور صحت کےماہرنفسیات ڈاکٹر جوشوا ٹال کا کہنا ہےکہ ہمارےخوابوں میں عام طورپروہ چیزیں شامل ہوتی ہیں جوہم دن بھرسر گرمی کررہے ہیں جس سےکچھ محققین یہ قیاس کرتے ہیں کہ خواب اور آنکھوں کی تیز حرکت والی نیند یادداشت کے استحکام اورعلمی تجدید کے لیے ضروری ہےڈراؤنےخواب نیند کے دوران تصویروں میں ان کو دوبارہ چلا کر ان واقعات کو سمجھنے کی دماغ کی کوششیں ہیں۔

    ڈاکٹر جوشوا ٹال کا کہنا ہےکہ ڈراؤنے خواب وہ ہیں جنہیں امریکن اکیڈمی آف سلیپ میڈیسن کہتے ہیں "روشن، حقیقت پسندانہ اور پریشان کن خواب جن میں عام طور پر بقا یا سلامتی کے لیے خطرات شامل ہوتے ہیں، جو اکثر اضطراب، خوف یا دہشت کے جذبات کو جنم دیتے ہیں۔

    ڈاکٹر جوشوا ٹال کا کہنا ہےکہ کچھ محققین کا ماننا ہے کہ خواب دیکھنےسےیادداشت بھی بہتر ہوتی ہے اگرکسی کو بہت زیادہ ڈراؤنے خواب آتے ہیں جس کی وجہ انہیں ہر وقت پریشانی کا سامنا رہتا ہے تو اسے انگریزی میں nightmare disorder کہتے ہیں، اس کےعلاج کے لیے پہلے ڈاکٹر سے رجوع کیا جانا چاہیے تاکہ آپ ادویات کا استعمال کرسکیں۔

    تنہائی سگریٹ نوشی سےزیادہ خطرناک،جبکہ قبل از وقت موت کےخطرےکو30 فیصد تک بڑھا دیتی ہے

    تاہم ڈراؤنے خواب کا علاج بھی ضروری ہے کیونکہ اس کا تعلق بے خوابی، ڈپریشن اور خودکشی جیسےرویوں سے بھی ہےچونکہ ڈراؤنے خواب نیند کی کمی کا سبب بھی بن سکتے ہیں اس لیے ان کا تعلق دل کی بیماری اور موٹاپے سے بھی ہے۔

    اگر کسی کو بار بار ڈراؤنے خواب آتے ہیں – ہفتہ میں ایک یا دو بار سے زیادہ – جو کام پر یا لوگوں کے درمیان پریشانی یا خرابی کا باعث بنتے ہیں، تو اسے ڈراؤنے خواب کی خرابی ہو سکتی ہے۔ علاج میں دوائیں اور رویے کے علاج شامل ہیں۔

    اکثر ڈراؤنے خوابوں سے نمٹنا ضروری ہے کیونکہ ان کا تعلق بے خوابی، ڈپریشن اور خودکشی کے رویے سے بھی ہے۔ چونکہ ڈراؤنے خواب نیند کی کمی کا سبب بھی بن سکتے ہیں، اس لیے ان کا تعلق دل کی بیماری اور موٹاپے سے بھی ہے۔

    اگر آپ کو بھی ڈراؤنے خواب سے خوفزدہ یا پریشان ہیں تو رات کو بہتر نیند کے لیے نیچے دیے ہوئے ان اقدامات کو پر عمل کرکے کچھ حد تک فائدہ ہوسکتا ہے، آپ کو اپنے ڈراؤنے خوابوں کو کم کرنے اور اپنی نیند اور معیار زندگی کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔

    انٹرنیٹ کا مسلسل استعمال اور ڈیمینشیا

    1:نیند کا وقت مقرر کریں

    بچپن میں اپنے بڑوں سے سنتے آئے ہیں کہ رات کو جلدی سونا اور صبح جلدی اٹھنا جسمانی اور ذہنی صحت کے لیے انتہائی فائدہ مند ہے لیکن عمر کے ساتھ ساتھ نوجوانوں میں یہ عادت ختم ہوتی جارہی ہے، اکثر نوجوان رات کو دیرتک جاگتے اور صبح دیر سے اٹھتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی نیند متاثر ہوتی ہے ڈراؤنے خواب آنکھوں کی تیز حرکت والی نیند کےدوران ہوتے ہیں، وہ مرحلہ جس کےدوران ہمارے پٹھے آرام کرتے ہیں اور ہم خواب دیکھتے ہیں

    یونیورسٹی آف کیلیفورنیا میں ڈیوڈ گیفن سکول آف میڈیسن میں میڈیسن کی پروفیسر اور امریکن اکیڈمی آف سلیپ میڈیسن کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی رکن جینیفر مارٹن کہتی ہیں کہ نوجوانوں میں ڈراؤنے خواب کا علاج کا سب سے مؤثر طریقہ یہ ہے کہ آپ رات کو جلدی سو جائیں تاکہ آپ کی نیند پوری ہوسکے۔

    زمین موسمیاتی تبدیلیوں کے بحران کے باعث "نامعلوم مقام” پر پہنچ گئی ہے،سائنسدانوں کا انتباہ …

    صحت مند نیند کا تعلق صحت سے ہے، اس کے علاوہ رات کو کچھ وقت کیلئے ورزش کرکے اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ کا کمرے میں اندھیرا ہو اور گرمی کا احساس نہ ہو، رات کو کافی، چائے سے پرہیز کریں۔

    مارٹن نے کہا کہ بالغوں میں ڈراؤنے خوابوں کے مسائل کا علاج کرنے کا ایک مؤثر ترین طریقہ دراصل انہیں زیادہ اچھی طرح سے سونا ہے (اس لیے) وہ کم ہی جاگتے ہیں مارٹن نے کہا ایک صحت مند نیند کا معمول اچھی نیند کو جنم دیتا ہے۔ ورزش کرکے، سونے اور جاگنے کے اوقات مقرر کرکے، اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ کا کمرہ تاریک اور ٹھنڈا ہو، دوپہر کے بعد محرک مشروبات سے پرہیز کریں اور آرام دہ سرگرمیوں میں مشغول ہوں۔

    2: رات کو سونے سے قبل کھانے سے گریز کریں

    نیشنل سلیپ فاؤنڈیشن کے مطابق اپنے مقررہ وقت پر کھانا کھانے سے میٹابولزم میں اضافہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے دماغ چاق و چوبند رہتا ہے اور ڈراؤنے خواب آسکتے ہیں اس لیے رات کو سونے سے دو سے تین گھنٹے قبل کچھ بھی کھانے سے گریز کریں جبکہ کچھ لوگ ہلکا ناشتہ کھانے کے بعد بہتر سوتے ہیں، آپ کو سونے سے دو سے تین گھنٹے پہلے کھانا چھوڑ دینا چاہیے۔ اگر آپ دیکھتے ہیں کہ بعد میں آپ کو ڈراؤنے خواب آتے ہیں، تو سونے سے پہلے رات کے وقت ناشتے یا بھاری کھانے سے پرہیز کریں۔

    مارٹن نے کہا کہ الکحل والے مشروبات رات بھر بے چینی اور بیداری پیدا کر سکتے ہیں – ممکنہ طور پر آپ کو ڈراؤنے خواب یاد رکھنے میں مدد کرتے ہیں۔

    مصنوعی ذہانت ٹیکنالوجی اندازوں سے کہیں زیادہ خطرناک ہے،اے آئی کے گاڈ فادر نے خبردار …

    3: روزمرہ کی ادویات میں تبدیلی

    اگر آپ کی روزمرہ کی ادویات میں تبدیلی آئی ہے جس کی بعد آپ ڈراؤنے خواب سے خوفزدہ ہورہے ہیں تو فوری ڈاکٹر سے رجوع کریں میلاٹونن ایک ہارمون ہے جو پرسکون نیند کی حوصلہ افزائی کیلئے کام کرتا ہے، اس کی ادویات کے استعمال سے ڈراؤنے خواب کم آتے ہیں، اگر آپ بھی نیند میں بہتری، ڈراؤنے خواب سے نجات اور پریشانی سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے میلاٹونن کا استعمال کرنا چاہتے ہیں تو پہلے ڈاکٹر سے رجوع کرلیں۔

    4: تناؤ کو کم کرنے والی ورزش

    ورزش جسمانی صحت کے لیے بہترین علاج ہے، اس لیے رات کو سونے سے قبل ایسی ورزش کریں جس سے تناؤ میں کمی آسکے ڈراؤنے خواب ہمارے اعصابی نظام کو متحرک کرتا ہے اور اس سے آنے والے خطرات سے جسم قدرتی طور پر ردعمل دیتا ہے اس لیے اعصابی نظام کو پرسکون رکھنے کے لیے رات کو ورزش کرکے سونے سے ڈراؤنے خواب سے کچھ حد تک کمی آسکتی ہے۔

    ماہرین فلکیات کا پہلی بار ستارے کو نگلتے ہوئے سیارے کا مشاہدہ کرنے کا دعویٰ

  • تنہائی سگریٹ نوشی سےزیادہ خطرناک،جبکہ قبل از وقت موت کےخطرےکو30 فیصد تک بڑھا دیتی ہے

    تنہائی سگریٹ نوشی سےزیادہ خطرناک،جبکہ قبل از وقت موت کےخطرےکو30 فیصد تک بڑھا دیتی ہے

    امریکی ماہرین نے تنہائی کو ایک دن میں 15 سگریٹ پینے سے بھی زیادہ خطرناک قرار دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : یو ایس سرجن جنرل نے منگل کو صحت عامہ کی تازہ ترین وبا کا اعلان کرتے ہوئےکہا کہ کورونا کے دور میں تنہائی کے گہرے احساس نے لاکھوں امریکیوں کو متاثر کیا انہوں نے کہا کہ امریکہ میں وسیع پیمانے پر تنہائی صحت کو اتنا ہی خطرناک بناتی ہے جتنا کہ روزانہ 15 سگریٹ پینا، جس سے صحت کی صنعت کو سالانہ اربوں ڈالر کا نقصان ہوتا ہے۔

    قبول نہیں کرتے کہ سعودی عرب کو ہمارا دشمن سمجھا جائے،ایران

    ڈاکٹر وویک مورتھی نے اپنے دفتر سے 81 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں کہا کہ تقریباً نصف امریکی بالغوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے تنہائی کا تجربہ کیا ہے۔

    مورتھی نے دی ایسوسی ایٹڈ پریس کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ اب ہم جانتے ہیں کہ تنہائی ایک عام احساس ہے جس کا بہت سے لوگ تجربہ کرتے ہیں۔ یہ بھوک یا پیاس کی طرح ہے۔ یہ ایک ایسا احساس ہے جب جسم ہمیں اس وقت بھیجتا ہے جب ہمیں بقا کے لیے کوئی چیز درکار ہوتی ہےامریکہ میں لاکھوں جدوجہد کر رہے ہیں، اور یہ درست نہیں ہے۔ اسی لیے میں نے یہ ایڈوائزری جاری کی تاکہ اس جدوجہد سے پردہ ہٹایا جا سکے جس کا بہت زیادہ لوگ تجربہ کر رہے ہیں۔

    ڈائٹنگ سے مرد و خواتین میں بانجھ پن کا امکان بڑھ سکتا ہے،تحقیق

    ماہرین کے مطابق امریکا میں تقریباً 50 فیصد لوگوں کو تنہائی کے متاثرین سمجھا جاتا ہے، اس لیے امریکی صحت کے حکام سماجی تنہائی کا منشیات کے استعمال یا موٹاپے کی طرح سنجیدگی سےعلاج کرنے پر زور دے رہے ہیں ماہرین کے مطابق تنہائی سگریٹ پینے سے زیادہ خطرناک ہونےکے علاوہ قبل ازوقت موت کی وجہ بھی بنتی ہے۔

    سرجن جنرل کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لوگوں نے کورونا وائرس وبائی امراض کے دوران اپنے دوستوں کے ساتھ میل جول ختم کیا امریکیوں نے 2020 میں دوستوں کے ساتھ روزانہ تقریباً 20 منٹ گزارے، جو تقریباً دو دہائیوں پہلے روزانہ 60 منٹ سے کم تھے تنہائی خاص طور پر 15 سے 24 سال کی عمر کے نوجوانوں کو متاثر کر رہی ہے۔

    عالمی ادارہ صحت نے کووڈ 19 کیلئے نافذ عالمی ایمرجنسی ختم کرنے کا اعلان کردیا

    ، رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ تنہائی قبل از وقت موت کے خطرے کو تقریباً 30 فیصد تک بڑھا دیتی ہے کمزور سماجی تعلقات رکھنے والوں میں بھی فالج اور دل کی بیماری کا خطرہ زیادہ ہوتا ہےتحقیق کےمطابق تنہائی کسی شخص کے ڈپریشن، اضطراب اورڈیمنشیا کا سامنا کرنے کے امکانات کو بھی بڑھا دیتی ہے۔ مورتی نے کوئی ایسا ڈیٹا فراہم نہیں کیا جس سے یہ واضح ہو کہ کتنے لوگ تنہائی یا تنہائی سے براہ راست مرتے ہیں۔

    سرجن جنرل کام کی جگہوں، اسکولوں، ٹیکنالوجی کمپنیوں، کمیونٹی تنظیموں، والدین اور دیگر لوگوں سے ایسی تبدیلیاں کرنے کی اپیل کر رہے ہیں جس سے روابط کو فروغ ملے۔ وہ لوگوں کو کمیونٹی گروپس میں شامل ہونے کا مشورہ دیتے ہے اور جب وہ دوستوں سے ملاقات کر رہے ہوتے ہیں تو اپنے فون استعمال نہ کریں –

    سگریٹ نوشی چھوڑنے کیلئے تُرک شہری نے اپنا سر پنجرے میں بند کر لیا

    ٹیکنالوجی نے تنہائی کے مسئلے کو تیزی سے بڑھا دیا ہے، رپورٹ میں ایک تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ جو لوگ روزانہ دو گھنٹے یا اس سے زیادہ وقت تک سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں ان میں سماجی طور پر الگ تھلگ محسوس کرنے کا امکان ان لوگوں کے مقابلے میں دو گنا زیادہ ہوتا ہے جو اس طرح کی ایپس پر ایک دن میں 30 منٹس کم وقت استعمال کرتے تھے۔

    مورتھی نے کہا کہ سوشل میڈیا خاص طور پر تنہائی میں اضافہ کر رہا ہے۔ اس کی رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ ٹیکنالوجی کمپنیاں بچوں کے لیے خاص طور پر ان کے سوشل میڈیا رویے کے ارد گرد تحفظات تیار کرتی ہیں۔

    12 سال بعد کوئی ملک غریب نہیں ہوگا. بل گیٹس کا دعویٰ

    مورتھی نے کہا کہ "اندرونی بات چیت کا واقعی کوئی متبادل نہیں ہے۔ "جیسا کہ ہم اپنی بات چیت کے لیے ٹیکنالوجی کو زیادہ سے زیادہ استعمال کرنے کی طرف منتقل ہوئے، ہم نے ذاتی طور پر اس بات چیت سے بہت کچھ کھو دیا۔ ہم ایسی ٹیکنالوجی کو کیسے ڈیزائن کرتے ہیں جو ہمارے تعلقات کو کمزور کرنے کے بجائے مضبوط کرتی ہے؟اس کہانی کو یہ ظاہر کرنے کے لیے اپ ڈیٹ کیا گیا ہے کہ سرجن جنرل نے کہا کہ تنہائی صحت کے لیے اتنا ہی خطرناک ہے جتنا کہ روزانہ 15 سگریٹ پینا-

    5 مئی کو "سائے کی طرح کا”جزوی چاند گرہن دیکھا جاسکے گا، سعودی ماہر فلکیات

  • ڈائٹنگ سے مرد و خواتین میں بانجھ پن کا امکان بڑھ سکتا ہے،تحقیق

    ڈائٹنگ سے مرد و خواتین میں بانجھ پن کا امکان بڑھ سکتا ہے،تحقیق

    ایک تحقیق میں ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ ڈائٹنگ کی وجہ سے مرد و خواتین دونوں میں بانجھ پن کا امکان بڑھ سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی:وزن میں کمی اور جسم کو موٹاپے سے محفوظ رکھنے کے لیے ڈائٹنگ ایک نارمل عمل ہے جسے دنیا کے مختلف ممالک میں لوگ اپناتے ہیں ڈائٹنگ کرنا ممکنہ طور پر وزن میں کمی کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے لیکن یہ تولید پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔

    فرنچ فرائز کھانے سے نفسیاتی صحت پرمنفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں،تحقیق

    میڈیکل جرنل ’دی رائل سوسائٹی‘ میں شائع ہونے والی تحقیق میں برطانوی ماہرین نےانکشاف کیا ہے کہ ڈائٹنگ سے بانجھ پن کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

    ماہرین نےتحقیق کیلئے انسانوں سے مشابہت رکھنے والی زیبرا مچھلیوں کی ڈائٹنگ کرائی اوراس مقصد کے لیے انہیں دو گروپوں میں تقسیم کیا جس میں سے ایک گروپ کو ہر وقت غذا دی گئی جب کہ دوسرے گروپ کو مخصوص اوقات میں غذا دی دونوں گروپوں میں مادہ اور نر مچھلیاں شامل تھیں-

    اسنیپ چیٹ نے بھی اے آئی ٹیکنالوجی ٹول کو ایپ کا حصہ بنا …

    ان پر تحقیق 15 دن تک کی گئی جس کے بعد نارویچ، انگلینڈ میں یونیورسٹی آف ایسٹ اینگلیا کے محققین نے یہ جانچا کہ ڈائٹنگ کی وجہ سے جہاں مچھلیوں کا وزن کم ہوا تھا وہیں ان میں زرخیزی کے مسائل بھی جنم لے چکے تھے البتہ قد میں کسی قسم کی بھی کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی تھی۔

    آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کے مطابق، زیبرا فش کو عام طور پر اس طرح کے مطالعے میں استعمال کیا جاتا ہے کیونکہ ان کے تمام اہم اعضاء میٹابولزم میں شامل ہوتے ہیں۔

    تحقیقی رپورٹ کے مطابق ماہرین نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ جن مادہ اور نر مچھلیوں کو ڈائٹنگ پررکھا گیا ان میں بانجھ پن کی علامات نمایاں تھیں،ڈائٹنگ سے زرخیزی کے مسائل بڑھ سکتے ہیں، انسان بانجھ پن کا شکار ہو سکتے ہیں لیکن ابھی اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

    وہ غذائی عوامل جو عالمی سطح پرٹائپ 2 ذیا بیطس کا سبب بنتے ہیں