Baaghi TV

Tag: صحت

  • طلاق یافتہ والدین کے بچے کونسی خطرناک بیماری کا شکار ہو سکتے ہیں؟

    طلاق یافتہ والدین کے بچے کونسی خطرناک بیماری کا شکار ہو سکتے ہیں؟

    ایک نئی تحقیق میں ماہرین صحت نے انکشاف کیا ہے کہ طلاق یافتہ والدین کے بچوں کو فالج کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے-

    باغی ٹی وی : جریدے PLOS One میں شائع ہونے والی تحقیق میں ماہرین نے بتایا کہ جن بچوں کے والدین نے بچپن میں طلاق لی ہو، ان میں آنے والی زندگی میں فالج کا خطرہ زیادہ بڑھ جاتا ہے،تحقیق میں 65 سال یا اس سے زیادہ عمر کے 13,000 افراد کا جائزہ لیا گیا، تحقیق کے نتائج کے مطابق جن افراد کے والدین نے ان کی 18 سال کی عمر سے پہلے طلاق لے لی تھی، ان میں فالج کا سامنا کرنے کا امکان ایسے افراد کے مقابلے میں جو محفوظ خاندانوں میں پلے بڑھے تھے 60 فیصد زیادہ تھا۔

    تحقیق کی سربراہ اور ٹورنٹو کی ٹنڈیل یونیورسٹی میں نفسیات کی لیکچرر، ڈاکٹر میری کیٹ شلکے نے بتایا کہ والدین کی طلاق، فالج کے خطرے کو کئی دیگر اہم عوامل جیسے سگریٹ نوشی، کم جسمانی سرگرمی، کم آمدنی، اور تعلیم کے اثرات سے بھی بڑھا دیتی ہے اگر ان تمام عوامل کو نظرانداز بھی کر دیا جائے، تو بھی والدین کی طلاق کا تجربہ بڑی عمر میں فالج کے خطرے کو 61 فیصد تک بڑھا دیتا ہے۔

    تحقیق کے مطابق، فالج اس وقت ہوتا ہے جب دماغ میں خون کی فراہمی رک جاتی ہے یا دماغ کی کوئی خون کی نالی پھٹ جاتی ہے، جس سے دماغی نقصان اور طویل مدتی معذوری پیدا ہو سکتی ہے۔

    حالانکہ یہ تحقیق مشاہداتی نوعیت کی تھی اور یہ ثابت نہیں کرتی کہ طلاق براہ راست فالج کا سبب بنتی ہے تاہم، تحقیق میں اس حقیقت کو تسلیم کیا گیا ہے کہ والدین کی طلاق کئی ایسے عوامل کے ساتھ جڑی ہوئی ہے جو فالج کے خطرے کو بڑھا سکتے ہیں، جیسے ڈپریشن، ذیابیطس، سگریٹ نوشی اور موٹاپا۔

    فالج کی علامات کی بروقت نشاندہی سے فوری طبی علاج ممکن ہوتا ہے اس کے لیے فالج کی علامات کو جاننا ضروری ہے فالج کی علامات میں شامل ہیں، چہرے، بازو یا ٹانگ میں اچانک بے حسی یا کمزوری کا محسوس ہونا خاص طور پر جسم کے ایک طرف، اچانک الجھن، بولنے میں مشکل، یا بات کو سمجھنے میں دشواری، ایک یا دونوں آنکھوں میں دیکھنے میں اچانک پریشانی، چلنے میں دقت، چکر آنا، توازن کھونا یا ہم آہنگی کی کمی، اگرفالج کی علامات کو جلدی پہچان لیا جائے تو یہ علاج میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

  • اونٹنی کا دودھ صحت کیلئے کتنا مفید؟نئی تحقیق جاری

    اونٹنی کا دودھ صحت کیلئے کتنا مفید؟نئی تحقیق جاری

    آسٹریلیا: ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اونٹنی کے دودھ سے مدافعتی نظام کو بہت زیادہ فائدہ ہوتا ہے۔

    باغی ٹی وی : آسٹریلیا کی ایڈتھ کوون یونیورسٹی کی محققین نے اس حوے سے ایک نئی تحقیق کی،تحقیق میں گائے اور اونٹنی کے دودھ کا گہرائی میں جاکر موازنہ کیا گیا،اس تحقیق کے نتائج جرنل فوڈ کیمسٹری میں شائع ہوئے۔

    تحقیق میں ماہرین کا کہنا ہے کہ ونٹنی کے دودھ سے صحت کو چند متاثر کن فوائد حاصل ہوتے ہیں، خاص طور پر مدافعتی نظام کو بہت زیادہ فائدہ ہوتا ہے،تحقیق میں زیادہ توجہ ان پروٹینز پر مرکوز کی گئی جو مدافعتی افعال اور نظام ہاضمہ پر اثر انداز ہوتے ہیں اونٹنی کے دودھ میں ایسے مخصوص پروٹینز موجود ہوتے ہیں جو معدے کی صحت اور مدافعتی افعال کو مضبوط بنانے کے لیے بہت کارآمد ثابت ہوتے ہیں۔

    نئی امریکی انتظامیہ کی طالبان رہنماؤں کے سروں کی قیمتیں مقرر کرنے کی دھمکی

    تحقیق میں بتایا گیا کہ گائے کے دودھ میں 851 جبکہ اونٹنی کے دودھ میں 1143 پروٹینز موجود ہوتے ہیں اونٹنی کے دودھ میں موجود پروٹینز مدافعتی صحت کو سپورٹ فراہم کرتے ہیں جبکہ یہ دودھ نقصان دہ بیکٹیریا سے لڑنے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے جس سے مخصوص امراض سے تحفظ ملتا ہے لیکن نتائج کی تصدیق کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

    پاکستان میں سائبر حملوں کے خدشے، نئی ایڈوائزری جاری

    تحقیق کے مطابق اونٹنی کے دودھ میں موجود اجزا معدے میں صحت کے لیے مفید ماحول کی تشکیل میں کردار ادا کرتے ہیں اور دل کی شریانوں کے امراض بشمول ہارٹ اٹیک کا خطرہ گھٹ جاتا ہے جن افراد کو گائے کے دودھ کے استعمال سے الرجی کا سامنا ہوتا ہے، اونٹنی کا دودھ ان کے لیے مفید ہے کیونکہ اس میں وہ پروٹین نہیں ہوتا جو الرجی ری ایکشن کو متحرک کرتا ہے اسی طرح اونٹنی کے دودھ میں لیکٹوز کی سطح گائے کے دودھ کے مقابلے میں کافی کم ہوتی ہے جس کے باعث بیشتر افراد کے لیے اسے ہضم کرنا زیادہ آسان ہوتا ہے۔

    دہشتگردی صرف پاکستان کی جنگ نہیں ،سب کی مشتر کہ لڑائی ہے،محسن نقوی

  • شہر قائد میں کورونا پھیلنے کی خبریں غلط ہیں، وزیر صحت سندھ

    شہر قائد میں کورونا پھیلنے کی خبریں غلط ہیں، وزیر صحت سندھ

    کراچی: وزیرِ صحت سندھ ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے کہا ہے کہ کراچی میں کورونا وائرس کے پھیلنے کی خبریں غلط ہیں۔

    ایک بیان میں انہوں نے وضاحت کی کہ حالیہ دنوں میں 100 افراد کے کورونا ٹیسٹ کیے گئے تھے، جن میں سے صرف 7 افراد کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔ ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے بتایا کہ یہ ٹیسٹ ان لوگوں کا کیا گیا تھا جنہیں موسمی فلو اور انفلوئنزا کی ہلکی علامات تھیں، اور احتیاطاً ان کا کورونا ٹیسٹ بھی کروایا گیا۔ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے مزید کہا کہ جن افراد میں کورونا مثبت آیا، ان میں فلو کی بہت ہلکی علامات موجود تھیں۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کی موجودہ صورتِ حال میں مبتلا افراد کو ہلکی علامات کے باعث اسپتال میں داخل کرنے کی ضرورت نہیں تھی، اس لیے انہیں گھر بھیج دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں اب کورونا کو موسمی فلو کی طرح ٹریٹ کیا جا رہا ہے اور اس سے گھبرانے کی ضرورت نہیں۔

    اس کے ساتھ ہی محکمۂ صحت سندھ نے کورونا اور انفلوئنزا ایچ ون این ون کیسز کے حوالے سے اسپتالوں میں ہنگامی گائیڈ لائنز جاری کر دی ہیں۔ جاری کیے گئے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ سردیوں کے موسم میں کورونا اور ایچ ون این ون کیسز میں اضافے کے پیشِ نظر فوری اقدامات ضروری ہیں۔محکمۂ صحت نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ مشتبہ اور تصدیق شدہ کیسز کی بروقت رپورٹنگ کی جائے اور صحت کے مراکز میں پی پی ای (پرسنل پروٹیکٹیو ایکوپمنٹ) اور دیگر ضروری سامان کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ مراسلے میں یہ بھی کہا گیا کہ سرکاری اور نجی صحت کے مراکز میں انفیکشن کنٹرول کے اقدامات مزید مضبوط کیے جائیں۔

    محکمۂ صحت سندھ نے عوام میں کورونا اور انفلوئنزا کی علامات کے بارے میں آگاہی پھیلانے کی اہمیت پر زور دیا ہے اور کہا ہے کہ ماسک پہننا، ہاتھ دھونا اور سماجی فاصلے کی اہمیت کو اجاگر کیا جائے۔ محکمہ نے عوام کو بروقت طبی امداد حاصل کرنے کی ترغیب دی اور ہدایت کی کہ ان کیسز کی ہفتہ وار رپورٹ جمع کروائی جائے تاکہ صورتحال پر نظر رکھی جا سکے۔

    اس وقت کراچی میں شہری بڑی تعداد میں نزلہ، کھانسی، بخار اور دیگر موسمی بیماریوں میں مبتلا ہیں، جس کی وجہ سے کورونا اور انفلوئنزا کے کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے۔ صوبائی محکمۂ صحت نے عوام سے درخواست کی ہے کہ وہ ہدایات پر عمل کریں اور صحت کے حفاظتی تدابیر اختیار کریں تاکہ بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے

    منی ٹریل ثابت کرنا مشکل کام ، قاضی فائز عیسٰی بھی پیش نہیں کر سکے تھے،عدالت

    طالبان کے اہم رہنما کی افغان خواتین ،لڑکیوں پر تعلیمی پابندیاں اٹھانے کی اپیل

  • چار اضلاع کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق

    چار اضلاع کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق

    اسلام آباد: ملک بھر کے چار اضلاع کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے-

    باغی ٹی وی : لکی مروت کے ماحولیاتی نمونے پولیو پازیٹیو نکلے ہیں، ماحولیاتی نمونوں میں وائلڈ پولیو وائرس ون کی تصدیق ہوئی ہے، متاثرہ اضلاع سے پولیو ٹیسٹ کے لیے سیمپلنگ دسمبر 2024 میں ہوئی تھی، جس کے بعد سال 2024ء کے پولیو کیسز کی تعداد 73 ہوگئی، اسی طرح ٹنڈو الہ یار، خیرپور، ٹنڈو محمد خان کے سیوریج نمونے پہلی بار پولیو پازیٹیو نکلے ہیں۔

    واضح رہے کہ سال 2024 کے دوران ملک میں 73 پولیو کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں،بلوچستان سے 27، خیبر پختونخواہ 22، سندھ 23، پنجاب اور اسلام آباد میں ایک، ایک پولیو کیس رپورٹ ہوا ہے۔

    اس ملک کے ساتھ صرف علمائے کرام نے وفاداری کی ہے،مولانا فضل الرحمان

    خیال رہے کہ پولیو مفلوج کرنے والی بیماری ہے، جس کا کوئی علاج نہیں، پولیو کے قطروں کی متعدد خوراکیں اور 5 سال سے کم عمر کے تمام بچوں کے لیے معمول کے قطرے پلانے کے شیڈول کی تکمیل بچوں کو اس خوفناک بیماری کے خلاف اعلیٰ قوت مدافعت فراہم کرنے کے لیے ضروری ہے۔

    موٹاپا جسمانی بیماریوں کی بڑی وجہ، پروفیسر الفرید ظفر

  • موٹاپا جسمانی بیماریوں کی بڑی وجہ، پروفیسر الفرید ظفر

    موٹاپا جسمانی بیماریوں کی بڑی وجہ، پروفیسر الفرید ظفر

    لاہور: موٹاپا جسمانی بیماریوں کی بڑی وجہ،باقاعدہ سیراور ورزش کو اپنا معمول بنائیں:پرنسپل امیر الدین میڈیکل کالج پروفیسر الفرید ظفر نے کہا ہے کہ خواتین اپنی صحت کو بہتر بنانےکیلئے لائف سٹائل اور خوراک میں ضروری تبدیلیاں لائیں طبی ماہرین کا کہناہےکہ مرغن غذاؤں، جنک فوڈ اور چینی سے پرہیز،فربہ جسم، امراض قلب، ذیابیطس و دیگر بیماریوں سے بچاؤ کا موثر زریعہ ہے، سربراہ ایل جی ایچ کا کہناہے کہ صحت مند رہنے کیلئے وٹامنز کی مناسب مقدار کا انسانی جسم میں ہونا ضروری ہے-

    باغی ٹی وی : جنرل ہسپتال میں لائف سٹائل میڈیسن اورخواتین کی صحت کیلئے پیراڈائم شفٹ کے موضوع پرورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے پرنسپل امیر الدین میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر محمد الفرید ظفر نے کہا ہے کہ موٹاپا جسمانی بیماریوں کی بڑی وجہ ہے جو روزمرہ زندگی میں مشکلات کے علاوہ دیگر امراض کا باعث بھی بنتا ہے جبکہ چہل قدمی اور سیر سے موٹاپے پر قابو پانے کے علاوہ ذہنی اور جسمانی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بالخصوص خواتین اپنے طرز زندگی، روزمرہ معمولات، خوراک میں ضروری ردو بدل اور دیگر احتیاطی تدابیر اختیار کر کے خود کو نہ صرف بہت سے امراض سے محفوظ رکھ سکتی ہیں بلکہ یہ اقدام اُن کیلئے بیماریوں کی روک تھام میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے جو انہیں ادویات کے غیر ضروری استعمال سے بچانے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔

    اس ملک کے ساتھ صرف علمائے کرام نے وفاداری کی ہے،مولانا فضل الرحمان

    ان خیالات کا اظہار پرنسپل پی جی ایم آئی پروفیسر الفرید ظفر نے لاہور جنرل ہسپتال گائنی یونٹ 3کے زیر اہتمام خواتین کی صحت کے لئے ”لائف سٹائل میڈیسن اورپیرا ڈائم شفٹ” کے موضوع پر منعقد ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا پروفیسر امبرین حیدرنے اپنے لیکچر میں سادہ غذا، ورزش کے رہنما اصول اور سیلف میڈیکیشن سے بچاؤکے بارے میں تفصیلی آگاہی دی۔

    چیمپئنز ٹرافی:بھارت نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کردیا

    پروفیسر ندرت سہیل کا کہنا تھا کہ مرغن غذاؤں اور چینی سے اجتناب کر کے فربہ جسم، امراض قلب اور دیگر بیماریوں سے بچاؤ ممکن ہے۔ورکشاپ میں پروفیسر آمنہ احسن چیمہ، ڈاکٹر سائرہ فیاض، ڈاکٹر لیلیٰ شفیق، ڈاکٹر شبنم محمد علی، ڈاکٹر مصباح کوثر، ڈاکٹر مریم ذو الفقار، اور ڈاکٹر مہوش الیاس سمیت کثیر تعداد میں گائنا کالوجسٹس موجود تھیں۔ پرنسپل پروفیسر الفرید ظفر نے آگاہی ورکشاپ کے انعقاد پر پروفیسر آمنہ احسن چیمہ، ڈاکٹر سائرہ فیاض اور ڈاکٹر لیلیٰ شفیق اور اُن کی ٹیم کی کاوشوں کو بھی سراہا اور توقع ظاہر کی کہ وہ آئندہ بھی ایسی مثبت اور تعمیری سرگرمیوں کا انعقاد کرتے رہیں گے۔

    190 ملین پاؤنڈ کیس کے فیصلے پر بانی پی ٹی آئی ذرا بھی پریشان نہیں، شیخ رشید

    میڈیا سے گفتگو میں پرنسپل پروفیسر الفرید ظفر کا کہنا تھا کہ لائف سٹائل کا ہماری ذہنی و جسمانی صحت سے گہرا تعلق ہوتا ہے،لوگ اس امرکا خیال نہیں رکھتے کہ صحت کیلئے کونسی غذا مناسب ہے کیونکہ ہر وقت کھاتے رہنا اورغیر صحت بخش غذاؤں کے نتیجے میں بہت سی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ صحت مند رہنے کے لئے وٹامنز کی مناسب مقدار کا جسم میں ہونا ضروری ہے اگرچہ وٹامن ہر شخص کی ضرورت ہے تاہم خواتین کے لیے وٹامن کی اہمیت مردوں سے زیادہ ہے۔

    بنگلہ دیش سے فرار شیخ حسینہ کا جذباتی آڈیو پیغام جاری

    انہوں نے گائنا کولوجسٹس پر زور دیا کہ وہ علاج معالجے کے لئے آنے والی خواتین کو صحت مند رہنے کے سنہری اصولوں سے بھی آگاہ کریں اور خود سے ادویات کے استعمال سے بچاؤ کیلئے آگاہی فراہم کریں جبکہ مریض کو یہ بھی بتایا جائے کہ بیماری کی صورت میں مستند معالج کے مشورے سے ہی ادویات کا استعمال یقینی بنائیں-

  • وزیر اعلی کی ہدایت،محکمہ صحت کا  چار سال کے  منصوبے کا لائحہ عمل پیش

    وزیر اعلی کی ہدایت،محکمہ صحت کا چار سال کے منصوبے کا لائحہ عمل پیش

    پنجاب میں صحت کے شعبے میں ایک نیا انقلاب آ رہا ہے، وزیر اعلی مریم نواز شریف کی ہدایت پر محکمہ صحت نے صوبے میں آئندہ چار سال کے ترقیاتی منصوبے کا لائحہ عمل پیش کر دیا ہے۔ اس منصوبے میں دل، جگر اور جل جانے والے مریضوں کے علاج کے لیے جدید طبی سہولتوں کا ایک نیٹ ورک قائم کیا جائے گا، جس سے پورے صوبے میں معیاری علاج کی سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔وزیر مریم اورنگزیب کی صدارت میں پنجاب میں سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) کا پانچواں جائزہ اجلاس ہوا، جس میں صحت کی فراہمی کے بنیادی اور ثانوی نظام، پاپولیشن ویلفیئر، اعلی تعلیم اور ریسکیو 1122 کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ترقی اور منصوبہ بندی کے چیئرمین نبیل احمد اعوان، سیکرٹری آصف طفیل اور متعلقہ محکموں کے سیکرٹریوں نے شرکت کی۔

    اہم فیصلے اور اقدامات:
    لاہور میں موروثی اور خون کی بیماریوں کے علاج کے لیے ایک ادارہ قائم کرنے کا فیصلہ۔
    محکمہ صحت کو فنڈز کی بروقت فراہمی اور منصوبہ بندی پر وزیر مریم اورنگزیب نے شاباش دی۔
    ‘کلینک آن ویلز’ کے فلیگ شپ پروگرام کو تیز کرنے کی ہدایت۔
    بچوں کی نشوونما کی کمی (سٹینٹنگ گروتھ) روکنے کے لیے فولک ایسڈ اور وائرن کی فراہمی جاری رہے گی۔
    سٹینٹڈ گروتھ اور ذیابیطس کی سکریننگ کے لیے مشینوں کی فراہمی۔
    میڈیکل سٹیز اور یونیورسٹی کمپلیکسز کا قیام۔
    وزیراعلی نے ہسپتالوں میں مشینوں کی مسلسل فعالیت کو یقینی بنانے کی ہدایت دی۔
    3000 نرسوں کی بھرتی کا عمل مکمل کیا جائے گا۔
    ضلعی اور تحصیل سطح پر ہسپتالوں کی اپگریڈیشن کی رفتار بڑھانے کی ہدایت۔

    دیگر اہم اقدامات:
    بہاولپور میں 200 بستروں کا ماں اور بچے کا ہسپتال اور میانوالی میں 100 بستروں کا ہسپتال قائم کرنے کی منصوبہ بندی۔
    پتوکی اور قصور میں ٹی ایچ کیو میں 20 بیڈز پر مشتمل ٹراما سینٹر کی تعمیر۔
    لاہور، سرگودھا، فیصل آباد اور ساہیوال میں کینسر ہسپتال بنائے جا رہے ہیں۔
    1610 آئی سی یو بیڈز کی تعداد میں اضافہ کیا جائے گا۔
    وزیراعلی کے منصوبوں کے تحت 13831 ملین روپے کے فنڈز کے ساتھ بنیادی ہیلتھ یونٹس اور رورل ہیلتھ سینٹرز کی تجدید کا عمل جون تک مکمل کیا جائے گا۔
    ایمرجنسی سروسز کی بہتری کے لیے ریسکیو 1122 کے مزید سٹیشنز بنائے جائیں گے۔

    تعلیمی شعبے میں اقدامات:
    ہائیئر ایجوکیشن کی 100 سکیموں میں سے 81 جاری اور 19 نئی سکیموں پر کام کیا جا رہا ہے۔
    گوجرانوالہ یونیورسٹی کے قیام کے لیے 400 ملین مزید فنڈز فراہم کیے جائیں گے۔
    وزیر اعلی مریم نواز شریف نے کہا کہ حکومت عوام کے خادم ہیں اور اس پر کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی خواہش ہے کہ عام آدمی کی زندگی میں آسانی آئے اور تمام محکموں کی کارکردگی کو تسلی بخش بنانے کے لیے بار بار جائزہ لیا جائے گا۔

    ملک ریاض کا دبئی میں بحریہ ٹاؤن کے ہیڈ آفس کا افتتاح

    بلوچستان میں اغوا برائے تاوان کی وارداتیں بڑھ گئیں

    مریم نواز کی جعلی تصویر وائرل کرنے والا گرفتار

  • چین میں پھیلنے والا وائرس 2 دہائیوں سے پاکستان میں موجود ؟

    چین میں پھیلنے والا وائرس 2 دہائیوں سے پاکستان میں موجود ؟

    اسلام آباد: قومی ادارہ صحت نے انکشاف کیا ہے کہ چین میں پھیلنے والا وائرس 2 دہائیوں سے پاکستان میں موجود ہے-

    باغی ٹی وی: چین میں حالیہ دنوں میں ہیومین میٹا پینو وائرس (ایچ ایم پی وی) کے پھیلنے کی رپورٹس سامنے آئی ہیں یہ وائرس 14 سال اور اس سے کم عمر کی عمر کے بچوں میں پھیل رہا ہے لیکن یہ واضح نہیں کہ اس سے بیمار ہونے والوں کو کتنا خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔

    اب اس وائرس کے حوالے سے قومی ادارہ صحت (این آئی ایچ) کا بیان سامنے آیا ہے قومی ادارہ صحت کے مطابق چین میں پھیلنے والا ایچ یم پی وائرس 2 دہائیوں سے پاکستان میں موجود ہے، ایچ ایم پی وی کی پاکستان میں پہلی دفعہ تشخیص 2001 میں ہوئی تھی،2015 میں اس وائرس کے پمز اسلام آباد میں 21 کیس سامنے آئے تھے۔

    چین میں نئی وبا،پاکستان الرٹ،نگرانی بڑھا دی

    این آئی ایچ حکام نے بتایا کہ عالمی ادارہ صحت نے فی الحال ایچ ایم پی وی کے حوالے سے کوئی ایڈوائزری جاری نہیں کی،چین میں ایچ ایم پی وی کی صورتحال پر این سی او سی کا اجلاس 7 جنوری کو ہوگا پاکستان میں اس وقت موسمی انفلوئنزا خاص طور پر انفلوئنزا اے اور بی کے کیسز سامنے آرہے ہیں۔

    ٹھیکیدار کیخلاف خبریں،لاپتہ صحافی کی لاش پانی کے ٹینک سے برآمد

    دوسری جانب طبی ماہرین کا بھی کہنا تھا کہ ایچ ایم پی وی کے کیسز اکثر اوقات سامنے آتے رہتے ہیں یہ وائرس پہلی بار 2000 میں سامنے آیا تھا اور بیماری کی شدت میں اب تک کوئی بڑی تبدیلی نہیں ہوئی امریکا میں ہر سال 5 سال سے کم عمر 20 ہزار بچے اس وائرس سے متاثر ہوتے ہیں اور وہاں وائرس سے بچاؤ کیلئے کورونا والی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    داعش کے دہشتگرد اب بھی عالمی سطح پر خطرہ

  • امریکی سرجن جنرل کا شراب اور کینسر کے درمیان تعلق پر تشویش کا اظہار

    امریکی سرجن جنرل کا شراب اور کینسر کے درمیان تعلق پر تشویش کا اظہار

    امریکی سرجن جنرل، ڈاکٹر ویوک مرتی نے ایک ایڈوائزری جاری کی جس میں امریکیوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ شراب پینے سے کینسر کا خطرہ بڑھ سکتا ہے اور اس پر صحت کے انتباہی لیبل کو اپ ڈیٹ کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

    سرجن جنرل کی ایڈوائزریز عام طور پر صحت کے خطرات کے بارے میں واضح پیغامات دینے کے لیے جاری کی جاتی ہیں اور یہ کم ہی جاری کی جاتی ہیں، کیونکہ یہ مسائل جنہیں فوری طور پر عوامی آگاہی اور کارروائی کی ضرورت ہوتی ہے، ان پر ہی ان ایڈوائزریز کا اطلاق ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر، 1964 میں سگریٹ نوشی پر سرجن جنرل کی رپورٹ نے سگریٹ کو بے ضرر سمجھنے کے رویے میں تبدیلی کی تھی۔

    نئی ایڈوائزری شراب کے بارے میں اس طویل عرصے سے موجود سوچ کو چیلنج کرتی ہے کہ شراب صحت کے لیے فائدہ مند ہو سکتی ہے۔ اس رپورٹ کا مقصد یہ بتانا ہے کہ شراب کوئی نقصان دہ نہیں بلکہ ایک خطرناک عادت ہے۔ڈاکٹر مرتی نے اپنی ایڈوائزری میں کہا کہ "شراب ایک ثابت شدہ اور قابلِ روک تھام کینسر کا سبب ہے ،جو ہر سال امریکہ میں تقریباً 1 لاکھ کیسز اور 20 ہزار کینسر کی اموات کا باعث بنتا ہے ، لیکن اس خطرے سے آگاہی رکھنے والے امریکیوں کی تعداد بہت کم ہے۔”امریکہ میں تقریباً 70 فیصد لوگ شراب پیتے ہیں اور اس بات پر شدید الجھن کا شکار ہیں کہ آیا کبھی کبھار شراب پینا صحت کے لیے فائدہ مند ہے یا نہیں۔

    امریکی کینسر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی 2019 کی ایک سروے کے مطابق، صرف 45 فیصد امریکیوں نے یہ کہا تھا کہ شراب پینا کینسر کا سبب بنتا ہے۔ ڈاکٹر برائن پی۔ لی، جو کیک میڈیسن یونیورسٹی آف جنوبی کیلیفورنیا کے جگر کے ماہر ہیں اور شراب کے صحت پر اثرات پر تحقیق کرتے ہیں، کا کہنا ہے کہ "ماضی میں کی گئی تحقیقیں اتنی مضبوط نہیں تھیں اور ان کی طریقہ کار درست نہیں تھا۔”

    ڈاکٹر مرتی کی ایڈوائزری میں حالیہ سائنسی تحقیق کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ کہا گیا ہے کہ "ہلکی شراب نوشی بھی فائدے کے بجائے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔” امریکہ میں شراب پینا کینسر کا تیسرا سب سے بڑا سبب ہے، جس کے بعد تمباکو اور موٹاپا آتے ہیں۔ ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ شراب نوشی اور کینسر کے خطرات کے درمیان تعلق کم از کم سات اقسام کے کینسر میں واضح طور پر ثابت ہو چکا ہے، جن میں چھاتی، بڑی آنت، غذا کی نالی، جگر، منہ، گلے اور آواز شامل ہیں۔

    ایڈوائزری میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ شراب کینسر کے اسباب بننے کے لیے کئی مختلف طریقوں سے کام کرتی ہے۔ شراب کو جسم میں میٹابولائز کر کے ایک کیمیائی مادہ "ایسیٹالڈہائیڈ” میں تبدیل کیا جاتا ہے، جو ڈی این اے کو نقصان پہنچاتا ہے۔ اس سے سیلز بے قابو انداز میں تقسیم ہونے لگتی ہیں، جس سے کینسر پیدا ہو سکتا ہے۔ مزید یہ کہ شراب "فری ریڈیکلز” پیدا کرتی ہے جو ڈی این اے کو نقصان پہنچاتے ہیں اور کینسر کا سبب بنتے ہیں۔

    شراب ہارمونز جیسے ایسٹروجن اور ٹیسٹوسٹیرون کی سطح کو تبدیل کرتی ہے، جس سے چھاتی اور پروسٹیٹ جیسے ہارمون پر منحصر کینسر کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ شراب بی وٹامنز اور فولک ایسڈ جیسے اہم غذائی اجزاء کی کمی بھی پیدا کرتی ہے، جو کینسر سے بچاؤ میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔

    ڈاکٹر اوٹیس بلیلی، جو جان ہاپکنز یونیورسٹی میں آنکولوجسٹ ہیں، نے کہا، "اب وقت آ چکا ہے کہ لوگوں کو خبردار کیا جائے کہ شراب کی کوئی محفوظ مقدار نہیں ہوتی۔”امریکہ کے سرجن جنرل کی ایڈوائزری نے اس بات کو واضح کر دیا ہے کہ شراب کے استعمال کے صحت پر انتہائی سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، اور عوامی آگاہی میں مزید اضافہ کرنا ضروری ہے تاکہ لوگ اس کے خطرات کو سمجھیں اور مناسب فیصلے کر سکیں۔

    ڈیٹنگ ایپس پر 700 خواتین سے پیسہ بٹورنے والا 23 سالہ نوجوان گرفتار

    پریانکا چوپڑا اور نک جوناس کی ساحل پر رومانوی تصویر

    بشریٰ بی بی کی پارٹی کے قانونی معاملات میں بھی مداخلت

  • ایک سگریٹ پینے سے عمر 20 منٹ کم، تحقیق

    ایک سگریٹ پینے سے عمر 20 منٹ کم، تحقیق

    تمباکو نوشی کی عادت کو صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ تصور کیا جاتا ہے، مگر صرف ایک سگریٹ پینے کے بعد جسم پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟ اس سوال کا جواب حالیہ برطانوی تحقیق نے دیا ہے، جس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ تمباکو نوشی سے نہ صرف جسم پر فوری اثرات مرتب ہوتے ہیں بلکہ اس سے زندگی کی مدت بھی کم ہو جاتی ہے۔

    لندن کالج یونیورسٹی کی ایک حالیہ تحقیق میں بتایا گیا کہ ایک سگریٹ پینے سے انسان کی عمر میں 20 منٹ کی کمی واقع ہوتی ہے۔ یعنی اگر کوئی شخص روزانہ ایک پورا پیکٹ (20 سگریٹ) پیتا ہے تو اس کی زندگی میں تقریباً 7 گھنٹے کی کمی آجاتی ہے۔اس تحقیق کے مطابق اگر کوئی شخص روزانہ 10 سگریٹ پینے والا فرد یکم جنوری کو تمباکو نوشی چھوڑ دے اور 5 فروری تک سگریٹ سے گریز کرے تو اس کی زندگی میں ایک ہفتے کا اضافہ ہو سکتا ہے۔ اسی طرح، اگر وہ شخص 5 اگست تک تمباکو نوشی کو مکمل طور پر ترک کر دے تو اس کی زندگی کی مدت میں پورے ایک مہینے کا اضافہ ہو سکتا ہے۔ سال کے آخر تک اس کی عمر میں 50 دنوں کا اضافہ ہو سکتا ہے، جو کہ اس کو تمباکو نوشی کی عادت سے بچانے کے مترادف ہے۔

    محققین نے مزید کہا کہ زیادہ تر لوگوں کو یہ علم ہے کہ تمباکو نوشی صحت کے لیے نقصان دہ ہے، مگر ان کے خیال میں اس کے اثرات کم ہوتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق تمباکو نوشی کرنے والے ہر فرد کو اوسطاً اپنی زندگی کے 10 قیمتی سالوں سے محروم ہونا پڑتا ہے۔اس تحقیق کے لیے برسٹل ڈاکٹرز اسٹڈی کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا تھا جو 1951 میں 10 لاکھ خواتین پر شروع ہوئی تھی اور 1996 تک جاری رہی۔ اس سے پہلے 2000 میں برٹش میڈیکل جرنل میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ ایک سگریٹ پینے سے عمر میں 11 منٹ کی کمی آتی ہے، تاہم، اس نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ ایک سگریٹ سے مردوں کی عمر میں 17 منٹ اور خواتین کی عمر میں 22 منٹ کی کمی آتی ہے۔

    محققین کے مطابق تمباکو نوشی کے نتیجے میں درمیانی عمر کے افراد مختلف بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں اور بڑھاپے میں ان کی صحت مزید خراب ہو جاتی ہے۔ اس عادت کا اثر نہ صرف جسمانی صحت بلکہ ذہنی اور جذباتی حالت پر بھی پڑتا ہے۔تحقیق کے نتائج کے مطابق، محققین نے لوگوں کو اپنی صحت کے لیے تمباکو نوشی ترک کرنے کی ترغیب دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی عمر میں تمباکو نوشی کو چھوڑنا صحت کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے۔ تاہم، جتنا جلدی اس عادت سے چھٹکارا حاصل کیا جائے، اتنا ہی زیادہ فائدہ ہوتا ہے۔

    یہ تحقیق اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ تمباکو نوشی صرف سنگین بیماریوں کا سبب نہیں بنتی بلکہ ایک سگریٹ پینے سے بھی انسان کی عمر میں فوری طور پر کمی آتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، اگر لوگ تمباکو نوشی کی عادت چھوڑنے کا فیصلہ کریں تو یہ ان کی زندگی کی مدت میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔ ان تمام وجوہات کی بنا پر، تمباکو نوشی کو ترک کرنے کی کوشش کرنا ہر فرد کے لیے ضروری ہے تاکہ وہ صحت مند زندگی گزار سکے۔

    یہ تحقیق جرنل آف ایڈکشن میں شائع ہوئی ہے اور اس نے تمباکو نوشی کے مضر اثرات کو واضح کیا ہے، جو کہ لوگوں کو اس عادت کو ترک کرنے کے لیے مزید قائل کر سکتی ہے۔

    بیلجیئم کا ای سگریٹ کی فروخت پر پابندی کا اعلان

    ای سگریٹ جان لیوا،ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

    کپڑوں کی آڑ میں غیر ملکی سگریٹس،کمپیوٹر ایل سی ڈیزاسمگل کی کوشش ناکام

  • پرندوں کی بیٹ اگلی فلو وبا  روکنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے، تحقیق

    پرندوں کی بیٹ اگلی فلو وبا روکنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے، تحقیق

    نیو جرسی: امریکہ میں سائنسدانوں نے پرندوں کی بیٹ کو اگلی فلو وبا کو روکنے کے لیے تحقیق کا ذریعہ بنایا ہے۔

    باغی ٹی وی : سی این این کے مطابق پرندوں کی بیٹ، جسے گوانو بھی کہا جاتا ہے، وائرسز کا مرکز ہے اور فلو کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے، ڈیلاویئر بے جہاں ہر سال بہار میں تقریباً 25 اقسام کے پرندے آتے ہیں، اس تحقیق کے لیے ایک اہم مقام ہے۔

    سی این این کے مطابق یہ تحقیق سینٹ جوڈ چلڈرنز ریسرچ ہسپتال کے سائنسدانوں کی ٹیم کر رہی ہے، جو نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ کی مالی معاونت سے چل رہی ہے ڈاکٹر پامیلہ میکنزی اور ان کے ساتھی پیٹرک سیلر چار دہائیوں سے پرندوں کی بیٹ جمع کر رہے ہیں ڈاکٹر میکنزی نے سی این این کو بتایا، "یہاں ہر طرف قیمتی مواد موجود ہے۔”

    اسٹیٹ بینک کا انعامی بانڈز کے حوالے سے اہم اعلان

    نیوزی لینڈ سے تعلق رکھنے والے وائرولوجسٹ ڈاکٹر رابرٹ ویبسٹر نے سب سے پہلے اس بات کو سمجھا کہ فلو وائرس پرندوں کی آنتوں سے آتا ہے یہ تحقیق ان کی تخلیق ہے اور اگرچہ وہ اب 92 سال کے ہو چکے ہیں اور ریٹائر ہو چکے ہیں، وہ اب بھی ٹیم کے ساتھ شامل رہتے ہیں ویبسٹر نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پرندوں کے جسم میں یہ وائرس نظامِ تنفس کی بجائے آنتوں میں بڑھتا ہے اور پرندے اسے پانی میں بیٹ کے ذریعے پھیلاتے ہیں۔

    سنہ 1985 میں پہلی بار ویبسٹر اور ان کی ٹیم نے ڈیلاویئر بے کا دورہ کیا، جہاں 20 فیصد بیٹ کے نمونوں میں فلو وائرس پایا گیا یہ علاقہ اس وقت سے پرندوں میں فلو وائرسز کی نگرانی کے لیے اہم مقام بنا ہوا ہےتحقیق کرنے والے ماہرین کا ماننا ہے کہ یہاں کسی نئے فلو وائرس کی دریافت دنیا کو وبا کے حوالے سے پہلے سے خبردار کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔

    پنجاب وائلڈلائف کو لاہور چڑیا گھر کی نیلامی میں بڑی کامیابی

    ڈاکٹر رچرڈ ویبی، جو اب اس منصوبے کی نگرانی کرتے ہیں، اسے فلو وائرسز کی طویل المدتی تحقیق کا ایک منفرد منصوبہ قرار دیتے ہیں انہوں نے کہا کہ کسی بھی خطرے، چاہے وہ طوفان ہو یا وبا، کی پیش گوئی کے لیے ہمیں موجودہ حالات کو سمجھنا ہوگا” ڈاکٹر ویبی ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے تعاون سے جانوروں میں فلو وائرس کی تحقیق کے مرکز کے سربراہ بھی ہیں کا کہنا ہے کہ پرندوں کی بیٹ کے ذریعے وائرس کی حرکات کو سمجھنا وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اہم ثابت ہو سکتا ہے۔

    یہ پہلا موقع نہیں ہے جب امریکی کسانوں کو انتہائی پیتھوجینک برڈ فلو کا مقابلہ کرنا پڑا ہو 2014 میں، یورپ سے ہجرت کرنے والے پرندے شمالی امریکہ میں H5N8 وائرس لائے۔ جارحانہ طور پر 50 ملین سے زیادہ پرندوں کی موت کے نتیجے میں، اس وباء کو روک دیا گیا اور امریکہ برسوں تک انتہائی پیتھوجینک برڈ فلو وائرس سے پاک رہا۔

    ناسا کے خلائی جہاز کی سورج کے انتہائی قریب پرواز

    تاہم، اسی حکمت عملی نے H5N1 کو نہیں روکا ہے۔ H5N1سن 2021 کے آخر میں امریکہ پہنچا، اور متاثرہ مرغیوں میں پھیلنا جاری ہے۔ پچھلے دو سالوں میں، H5N1 وائرس نے ممالیہ جانوروں کی بڑھتی ہوئی اقسام جیسے بلیوں، لومڑیوں، اوٹروں اور سمندری شیروں کو بھی متاثر کیا ہت ، جس سے وہ انسانوں میں آسانی سے پھیلنے کے ایک قدم کے قریب پہنچ گئے ہیں۔

    H5N1 وائرس انسانوں کو متاثر کر سکتے ہیں، لیکن یہ انفیکشن اب تک ایک شخص سے دوسرے شخص تک نہیں پہنچتے ہیں کیونکہ ہماری ناک، گلے اور پھیپھڑوں کے خلیات پرندوں کے پھیپھڑوں والے خلیوں سے قدرے مختلف ریسیپٹرز رکھتے ہیں۔

    امبانی خاندان گائے کی کس خاص نسل کا دودھ پیتا ہے؟

    تاہم، اسے تبدیل کرنے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا۔سائنس جریدے میں ہونے والی ایک حالیہ تحقیق میں پتا چلا ہے کہ وائرس کے ڈی این اے میں ایک اہم تبدیلی اسے انسانی پھیپھڑوں کے خلیات تک پہنچنے کی اجازت دے گی کیپ مے کی ٹیم کو پہلے کبھی بھی ان پرندوں میں H5N1 نہیں ملا تھا جنہوں نے وہاں نمونے لیے تھے لیکن کئی ریاستوں میں گائے میں وائرس پھیلنے کے ساتھ، وہ حیران تھے کہ یہ اور کہاں ہو سکتا ہے کیا یہ ان پرندوں تک بھی پہنچ گیا تھا؟

    چاہتے ہیں اگلے چار سال میں توانائی کا شعبہ بحران سے نکل آئے،اویس لغاری

    ایک ہفتے کے دوران ٹیم 800 سے 1000 نمونے جمع کرے گی، نمونوں میں فلو کے کسی بھی وائرس کو ترتیب دیا جائے گا – وائرس کے جینیاتی کوڈ کے صحیح حروف کو پڑھا جائے گا – اور ایک بین الاقوامی ڈیٹا بیس پر اپ لوڈ کیا جائے گا، ایک قسم کی ریفرنس لائبریری جو سائنسدانوں کو انفلوئنزا کے تناؤ کو ٹریک کرنے میں مدد کرتی ہے جب وہ دنیا کا چکر لگاتے ہیں-