Baaghi TV

Tag: صحت

  • وزیراعلی مریم نواز  کے ہیلتھ پراجیکٹ مثال بن گئے

    وزیراعلی مریم نواز کے ہیلتھ پراجیکٹ مثال بن گئے

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف کی قیادت میں صوبے میں صحت کے شعبے میں انقلابی اقدامات کیے گئے ہیں جو عوامی خدمت کے نئے ریکارڈ بن چکے ہیں۔ مریم نوازشریف کے منصوبوں نے صحت کے شعبے میں جدیدیت، سہولت اور معیار کو نئے سطح تک پہنچایا ہے۔ ان کی حکومت نے عوامی صحت کے فوائد کے لیے متعدد پراجیکٹس شروع کیے ہیں جن کا اثر نہ صرف شہری علاقوں بلکہ دور دراز دیہات تک بھی محسوس کیا جا رہا ہے۔

    لاہور میں قائم محمد نوازشریف کینسر ہسپتال، جو کہ پاکستان کا پہلا پبلک سیکٹر کینسر ہسپتال ہے، تیزی سے تکمیل کی طرف گامزن ہے۔ اس ہسپتال میں جدید طریقہ علاج متعارف کرایا جائے گا، جن میں چین کے طریقہ علاج "نوکیموتھراپی” اور "نوسرجری” شامل ہیں۔ اس سے کینسر کے مریضوں کو بہتر علاج اور زیادہ سہولت ملے گی۔

    کارڈیالوجی انسٹی ٹیوٹ سرگودھا
    سرگودھا میں محمد نوازشریف انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی بھی تکمیل کے قریب ہے۔ یہ انسٹی ٹیوٹ علاقے میں دل کے مریضوں کے لیے ایک اہم سہولت فراہم کرے گا اور امراض قلب کے علاج میں انقلاب لائے گا۔

    پنجاب ایئر ایمبولینس سروس کا آغاز
    پنجاب پاکستان کا پہلا صوبہ بن چکا ہے جس نے ایئر ایمبولینس سروس کا باقاعدہ آغاز کیا ہے۔ اس سروس کے ذریعے دور دراز علاقوں سے مریضوں کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا جا سکے گا، جس سے جانیں بچانے میں مدد ملے گی۔

    کلینک آن ویل اور فیلڈ ہسپتال: 68 لاکھ مریضوں کی خدمت
    "کلینک آن ویل” اور "فیلڈ ہسپتال” جیسے منصوبوں کے ذریعے تقریباً 68 لاکھ مریضوں کو طبی سہولتیں فراہم کی گئیں۔ ان سروسز کے تحت موبائل کلینکس اور فیلڈ ہسپتال دیہاتی اور پسماندہ علاقوں میں جا کر لوگوں کا علاج کر رہے ہیں۔ ان ہسپتالوں میں ایکسرے، لیب ٹیسٹ، الٹراساؤنڈ، فرسٹ ایڈ اور ماں بچے کی صحت کی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔

    پنجاب بھر کے دیہی مراکز صحت کی ری ویمپنگ
    وزیراعلیٰ مریم نوازشریف کی قیادت میں پنجاب بھر کے 2800 سے زائد ہسپتالوں کی ری ویمپنگ کی گئی ہے۔ یہ مراکز صحت اب جدید طبی سہولتوں سے آراستہ ہیں اور عوام کو بہتر علاج فراہم کرنے کے قابل ہیں۔ روایتی بی ایچ یوز (بنیادی ہیلتھ یونٹس) کو "مریم ہیلتھ کلینک” میں تبدیل کر دیا گیا ہے، جہاں جدید علاج اور میڈیکل سہولتیں دستیاب ہیں۔

    فیلڈ ہسپتال: دور دراز علاقوں میں نئی سہولت
    پنجاب کے دور دراز علاقوں میں فیلڈ ہسپتالوں کی بے مثال سروس جاری ہے۔ ان ہسپتالوں نے تقریباً 9 لاکھ 50 ہزار مریضوں کو علاج کی سہولت فراہم کی ہے۔ فیلڈ ہسپتالوں میں 60 ہزار ایکسرے، ایک لاکھ 35 ہزار لیب ٹیسٹ اور مختلف نوعیت کی دیگر میڈیکل سروسز فراہم کی جا رہی ہیں۔

    دل کے مریضوں کے لیے خصوصی پروگرام
    وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے دل کے مریض بچوں کے لیے "چیف منسٹر ہارٹ سرجری پروگرام” کا آغاز کیا ہے۔ اس پروگرام کے تحت بچوں کو مفت علاج اور آپریشن کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ اس اقدام سے دل کے مریض بچوں کی زندگی میں نمایاں بہتری آ رہی ہے۔

    مریضوں کے علاج میں آسانیاں اور سہولتیں
    وزیراعلیٰ مریم نوازشریف کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت عوامی صحت کو ترجیح دیتی ہے اور اس مقصد کے لیے وسائل کی کمی کو کسی صورت نہیں آنے دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ "ہم عوام کو سرکاری ہسپتالوں میں پرائیویٹ کلینک سے بہتر ماحول فراہم کرنا چاہتے ہیں۔ ہر ہسپتال میں بہتری لانا چاہتے ہیں تاکہ ہر مریض کو مفت علاج اور میڈیسن ملے۔”مریم نوازشریف کی قیادت میں پنجاب میں صحت کے شعبے میں مزید اقدامات متعارف کرائے جائیں گے۔ ضلعی ہسپتالوں میں سپیشلسٹ ڈاکٹروں کی کمی کو پورا کرنے اور سپیشل پیکیجز کے تحت علاج کی سہولتیں فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ علاوہ ازیں، پنجاب کے تمام ضلعی ہسپتالوں میں کیتھ لیب اور کارڈیالوجی سینٹر مرحلہ وار بنایا جائے گا تاکہ دل کے مریضوں کو فوری علاج مل سکے۔

    چین،کار حادثے میں 35 افراد کو کچلنے والے ملزم کو سزائے موت

    بجلی چوری کی روک تھام کے لئے ٹھوس اقدامات لئے جائیں.وزیراعظم

  • خراٹوں کے علاج کی پہلی میڈیسن کی منظوری

    خراٹوں کے علاج کی پہلی میڈیسن کی منظوری

    امریکا میں خراٹوں کے علاج کی پہلی میڈیسن کی منظوری دے دی گئی-

    باغی ٹی وی :نیند کے دوران خراٹے لینا ایسا عمل ہے جس سے نہ صرف آس پاس کے افراد متاثر ہوتے ہیں بلکہ خراٹے لینے والے شخص کی نیند پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں،خراٹے لینے والے صرف 2 فیصد افراد کو کوئی سنگین پیچیدگی لاحق ہوتی ہے ورنہ 98 فیصد افراد میں عام وجہ ناک سے لے کر گردن کے نیچے تک کی جگہ میں کوئی رکاوٹ ہونا ہوتی ہے۔

    بہت زیادہ وزن، زیادہ تھکاوٹ، کسی بیماری جیسے بلڈ پریشر یا شوگر کی دوائیں لینا، اینٹی ڈپریسنٹس لینا، ناک کے مسائل جیسے ناک کی ہڈی یا گوشت بڑھا ہوا ہونا، ہڈی ٹیڑھی ہونا یا غدود ہونا خراٹوں کی وجوہات ہوسکتے ہیں،ماہرین کے مطابق خراٹے لینے سے نہ صرف آس پاس موجود افراد کی نیند خراب ہوتی ہے، بلکہ خود اس شخص کی نیند بھی متاثر ہوتی ہے، خراٹے لینے والا شخص گہری نیند نہیں سو پاتا، اور نیند پوری نہ ہونے سے نتیجتاً اگلے دن اس کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔

    جی ایچ کیو حملہ کیس، دو ملزمان اشتہاری قرار

    اکثر خراٹوں کی وجہ obstructive sleep apnea (او ایس اے) نامی عارضہ ہوتا ہےاو ایس اے کے شکار افراد کی سانس نیند کے دوران بار بار رکتی ہے جس سے خراٹوں کے ساتھ ساتھ متعدد طبی پیچیدگیوں کا خطرہ بھی بڑھتا ہے، اب خراٹوں کا شکار بنانے والے اس عارضے کا علاج کرنے والی پہلی دوا کی امریکا میں منظوری دی گئی ہے۔

    او ایس اے کے علاج کے لیے زیپ باؤنڈ نامی دوا کی منظوری یو ایس فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) کی جانب سے دی گئی اس دوا کے کلینیکل ٹرائل میں دریافت کیا گیا تھا کہ زیپ باؤنڈ کے استعمال سے او ایس اے سے متاثر موٹاپے کے شکار افراد میں سانس رکنے کی شرح میں 63 فیصد تک کمی آتی ہے۔

    پی ایس ایل 10، مستفیض الرحمان نے رجسٹریشن کروا لی

    ایک سال تک جاری رہنے والا ٹرائل 2 مرحلوں میں ہوا تھاایک مرحلے میں ایسے افراد شامل تھے جن کو صرف زیپ باؤنڈ کا استعمال کرایا گیا اور دوا کے نتائج کا موازنہ placebo استعمال کرنے والے گروپ کے ساتھ کیا گیا،دوسرے مرحلے میں زیپ باؤنڈ کے ساتھ لوگوں کو پازیٹیو ائیرویز پریشر (پی اے پی) ڈیوائس کا استعمال کرایا گیا۔

    پی اے پی ڈیوائس کو ابھی او ایس اے کے علاج کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اس گروپ کے نتائج کا موازنہ placebo استعمال کرنے والے افراد سے کیا گیا۔

    کرسمس کا تہوار محبت، اخوت اور امن کا پیغام دیتا ہے،سحر کامران

    ماہرین کے مطابق یہ او ایس اے کا علاج کرنے والی پہلی دوا ہے اس دوا کے استعمال سے جسمانی وزن میں کمی آتی ہے جس سے او ایس اے کے مسئلے پر قابو پانے میں مدد ملتی ہے، ایف ڈی اے کے کی منظوری کے بعد ڈاکٹروں اور مریضوں کو موٹاپے اور او ایس اے جیسے دونوں مسائل کا علاج کرنے میں مدد ملے گی۔

    محققین کے مطابق اس دوا پر ہونے والی دیگر تحقیقی کام میں دریافت کیا گیا تھا کہ اس کے استعمال سے ہارٹ فیلیئر اور گردوں کے امراض کا پھیلاؤ بھی رک جاتا ہے او ایس اے اب بھی ایسا مرض ہے جس کی اکثر تشخیص نہیں ہوتی، حالانکہ اس کے نتیجے میں دل کی شریانوں کے امراض کا خطرہ بڑھتا ہے، ایسا ہی موٹاپے سے بھی ہوتا ہے تو دونوں کا علاج کرنا صحت کے لیے بہترین ثابت ہوگا۔

    وزیراعظم کی ہدایت،پاراچنار میں امدادی سرگرمیوں کیلئے ہیلی کاپٹر مختص

  • ذیابیطس اور وزن میں کمی کی ادویات بینائی کا سبب بننے لگیں

    ذیابیطس اور وزن میں کمی کی ادویات بینائی کا سبب بننے لگیں

    محققین نے ذیابیطس اور وزن میں کمی کی دو مشہور ادویات اور آنکھوں کے ایک نایاب مسئلے کے درمیان ایک تشویشناک تعلق پایا ہے-

    باغی ٹی وی: میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ جو لوگ ذیابیطس اور وزن کم کرنے کی کچھ دوائیں لیتے ہیں، جیسے اوزیمپک اور ویگووی (Ozempic and Wegovy) لینے سے لوگوں میں NAION نامی آنکھوں کی نایاب حالت ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے، جو بینائی کی کمی کا سبب بن سکتا ہے۔

    نائیون آنکھوں کی ایک نایاب حالت ہے جہاں آپٹک اعصاب، جس میں دس لاکھ سے زائد چھوٹے ریشے موجود ہوتے ہیں، خون کا بہاؤ کافی نہیں ہوتا ہے، جس کی وجہ سے اچانک بینائی ختم ہوجاتی ہے یہ صرف چند لوگوں کو متاثر کرتا ہے جس کا بدقسمتی سے ابھی تک کوئی مؤثر علاج نہیں مل سکا۔

    تحقیق سے پتا چلا ہے کہ ذیابیطس کے لیے سیمگلوٹائڈ لینے والے افراد میں NAION ہونے کا امکان 4 گنا زیادہ ہوتا ہے جو لوگ اسے وزن کم کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں ان کے لیے خطرہ 7 گنا زیادہ بڑھ جاتا ہے۔

    آنکھوں کے ماہر ڈاکٹر ریزو کے مطابق میں یہ نہیں کہہ رہا کہ مریض اپنی دوائی لینا چھوڑ دیں یہ صرف ایک انتباہ ہے کہ وہ زیادہ محتاط رہیں، ڈاکٹروں اور مریضوں کو اس دوا کو استعمال کرنے کا فیصلہ کرنے سے قبل اس کے خطرات اور استعمال سے متعلق بات کرنی چاہئے۔

    تحقیق میں بتایا گیا کہ موٹاپے کے علاج کے لیے سیماگلوٹائڈ لینے سے آنکھوں کی نایاب حالت کا خطرہ 7 گنا بڑھ جاتا ہے، اور اسے ٹائپ 2 ذیابیطس کے علاج کے لیے استعمال کرنے سے خطرہ 4 گنا بڑھ جاتا ہے ٹائپ 2 ذیابیطس کے 710 مریضوں میں سے سیماگلوٹائڈ لینے والوں میں NAION ہونے کا امکان تقریباً 9 فیصد تھا، جب کہ دوسری دوائیں لینے والوں میں 2 فیصد سے بھی کم خطرے کا امکان تھا۔

  • افغانستان ،خواتین    کی میڈیکل تعلیم پر پابندی سے صحت اور تعلیم پر سنگین اثرات

    افغانستان ،خواتین کی میڈیکل تعلیم پر پابندی سے صحت اور تعلیم پر سنگین اثرات

    افغانستان :خواتین کی میڈیکل تعلیم پر پابندی سے صحت اور تعلیم پر سنگین اثرات سامنے آئے ہیں

    خواتین کی میڈیکل تعلیم پر پابندی کا فیصلہ ہیبت اللہ اخوند زادہ کی جانب سے کیا گیا،خواتین کی میڈیکل تعلیم پر پابندی کے باعث افغانستان میں شرح اموات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، خواتین اور بچوں کی صحت کی دیکھ بھال تک رسائی محدود ہو گئی ہے،اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق; حمل اورولادت کے دوران ہر ایک لاکھ پیدائشوں میں 600 سے زیادہ اموات ہوتی ،طالبان نے بعض صوبوں میں خواتین کے مرد مریضوں کے علاج پر پابندی عائد کردی، خواتین کی میڈیکل تعلیم پر پابندی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، خواتین کی میڈیکل تعلیم پرپابندی سے انسانی زندگیوں کو بھی داؤ پر لگا دیاگیا،2021ء میں افغان طالبان نے چھٹی جماعت سے لیکر یوینورسٹی تک لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی عائد کی تھی،افغانستان میں یہ غیر انسانی اقدامات عالمی برادری کیلئے ایک چیلنج ہیں ،افغانستان میں غیرانسانی اقدامات طالبان کے پرتشدد اور انتہاپسند ایجنڈے کو آشکار کر رہے ہیں، افغانستان کی خواتین اور بچوں کو بنیادی حقوق کیلئے عالمی برادری کی حمایت کی ضرورت ہے

    دو بھگوڑے، بے شرم چوہے،معصوم نوجوانوں کو گمراہ کرنا چھوڑ دو۔شیر افضل مروت

    بیلسٹک میزائل پروگرام کی حمایت سے انکار دیرینہ پالیسی ہے،امریکی محکمہ خارجہ

  • پاکستان میں منکی پاکس کا ایک اور کیس

    پاکستان میں منکی پاکس کا ایک اور کیس

    اسلام آباد: پاکستان میں منکی پاکس کا ایک اور کیس سامنے آگیا ،منکی پاکس کا مریض اپر دیر کا رہائشی ہے جو 18 دسمبر کو سعودیہ سے اسلام آباد پہنچا تھا-

    باغی ٹی وی : خلیجی ملک سے اسلام آباد آنے والے 32 سالہ نوجوان میں منکی پاکس کی تصدیق ہوگئی،وزارت صحت کے حکام نے منکی پاکس کے کیس کی تصدیق کی اور بتایا کہ متاثرہ شخص خلیجی ملک اسلام آباد ایئرپورٹ پہنچا ،ایئرپورٹ پر دوران اسکریننگ مسافر میں منکی پاکس علامات پائی گئیں جس پر مریض کو ایئرپورٹ سے پمز منتقل کیا گیا۔

    وزارت صحت کے مطابق منکی پاکس سے متاثرہ مریض اس وقت پمز اسپتال میں زیر علاج ہے، سربراہ انفیکشنز ڈیزیز پمز کے مطابق منکی پاکس سے متاثرہ شخص کا تعلق خیبر پختون خوا کے علاقے اپر دیر سے ہے اور اس کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

    واضح رہے کہ پاکستان میں اب تک منکی پاکس کے 8 کیسز سامنے آچکے ہیں۔

  • سرکاری اسپتالوں سے چوری کی گئی لاکھوں روپے مالیت کی ادویات برآمد

    سرکاری اسپتالوں سے چوری کی گئی لاکھوں روپے مالیت کی ادویات برآمد

    پنجاب کے وزیرِ صحت خواجہ عمران نذیر نے سوہاوہ میں ایک اہم کارروائی کے دوران سرکاری اسپتالوں سے چوری کی گئی لاکھوں روپے مالیت کی ادویات برآمد کرلی ہیں۔

    وزیرِ صحت خواجہ عمران نذیر نے چیف ڈرگ کنٹرولر کے ہمراہ سوہاوہ کے علاقے میں چھاپہ مارا، جس کے دوران 30 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی چوری شدہ ادویات برآمد ہوئیں۔ذرائع کے مطابق یہ ادویات کھاریاں، راولپنڈی اور وفاقی اسپتالوں سے چوری کی گئی تھیں اور انہیں اوپن مارکیٹ میں فروخت کیا جا رہا تھا۔ اس کارروائی کے دوران ایک ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے جو سرکاری اسپتالوں سے ادویات چوری کر کے انہیں غیر قانونی طور پر مارکیٹ میں بیچ رہا تھا۔صوبائی وزیر صحت خواجہ عمران نذیر نے اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری اسپتالوں سے ادویات کی چوری ایک سنگین جرم ہے اور اس سلسلے میں مزید تحقیقات جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس معاملے میں کسی قسم کی نرمی نہیں برتے گی اور چوری کی گئی ادویات کی فروخت میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔خواجہ عمران نذیر نے یہ بھی کہا کہ صحت کے شعبے میں اصلاحات کے ذریعے اس نوعیت کی وارداتوں کو روکنے کے لیے مزید اقدامات کیے جائیں گے تاکہ عوام کو مفت اور معیاری علاج کی سہولت فراہم کی جا سکے۔

    یہ کارروائی عوامی صحت کے نظام میں شفافیت اور انصاف کے فروغ کے لیے ایک اہم قدم سمجھی جارہی ہے۔ وزیرِ صحت نے مزید کہا کہ عوام کی خدمت میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور چوروں کو ہر صورت قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔یہ کارروائی اس بات کا غماز ہے کہ حکومت عوامی وسائل کے تحفظ کے لیے سرگرم ہے اور سرکاری اداروں میں کرپشن اور بدعنوانی کے خلاف ایک مضبوط موقف اختیار کر رہی ہے۔

    ماسکو،دھماکے میں جنرل اور انکا معاون ہلاک

    شانگلہ: چکیسر میں پولیس چوکی پر دہشتگردوں کا حملہ، 2 اہلکار شہید

  • نامعلوم بیماری نے 143 افراد کی جان لے لی

    نامعلوم بیماری نے 143 افراد کی جان لے لی

    کنشاسا: افریقی ملک ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو کے جنوب مغربی صوبے میں نومبر کے دوران ایک نامعلوم بیماری نے 143 افراد کی جان لے لی۔

    باغی ٹی وی: روئٹرز کے مطابق متاثرہ افراد کو فلو جیسی علامات تھیں، جن میں شدید بخار اور سر درد شامل تھے۔ کوانگو صوبے کے ڈپٹی گورنر ریمی ساکی اور صوبائی وزیر صحت اپولینائر یومبا نے بتایا کہ ایک طبی ٹیم پانزی ہیلتھ زون بھیجی گئی ہے تاکہ نمونے جمع کر سکے اور بیماری کی شناخت کے لیے تجزیہ کر سکے۔

    سول سوسائٹی کے رہنما سیفورین مانزنا نے روئٹرز کو بتایا کہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے کیونکہ متاثرہ افراد کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ جہاں یہ بیماری پھیل رہی ہے وہ ایک دیہی علاقہ ہےبیمار افراد علاج کی عدم دستیابی کی وجہ سے اپنے گھروں میں ہی دم توڑ رہے ہیں،وبائی امراض کے ایک مقامی ماہر کے مطابق خواتین اور بچے اس بیماری سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔

    عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ایک ترجمان نے کہا کہ اقوام متحدہ کی صحت ایجنسی کو پچھلے ہفتے اس بیماری کی موجودگی سے آگاہ کیا گیا تھا اور وہ کانگو کی پبلک ہیلتھ وزارت کے ساتھ مل کر مزید تحقیقات کر رہی ہے۔

  • افغان طالبان  کا خواتین کو نرسنگ اور دائی کے کورسز سمیت صحت کی تعلیم سے روکنے کا حکم

    افغان طالبان کا خواتین کو نرسنگ اور دائی کے کورسز سمیت صحت کی تعلیم سے روکنے کا حکم

    کابل: افغانستان میں طالبان قیادت نے اعلیٰ تعلیم پر پابندی کے بعد خواتین کو نرسنگ اور دائی کے کورسز سمیت صحت کی تعلیم سے روکنے کا حکم دے دیا۔

    باغی ٹی وی: دی ٹیلیگراف کے مطابق طالبان نے افغانستان میں خواتین کی نرسوں اور دائیوں کی تربیت پر پابندی لگا دی ہے، جس سے خواتین کی صحت اور تعلیم کو ایک اور دھچکا لگا ہے،پابندی کا اعلان پیر کے روز کابل میں ایک اجلاس کے دوران وزارتِ صحت عامہ کے حکام نے طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ کے حکم پر عمل کرتے ہوئے کیا،اس کا اطلاق نجی اور سرکاری دونوں اداروں پر ہوتا ہے۔

    وزارت صحت کے حکام نے تعلیمی اداروں کے سربراہان کوپابندی سے آگاہ کرتے ہوئے خواتین سے 10 دن میں حتمی امتحان لینے کی ہدایت کردی تاہم اس ضمن میں کوئی تحریری حکم جاری نہیں کیا گیا،خواتین اب دائی، نرسنگ، دندان سازی اور لیبارٹری سائنسز سمیت اہم شعبوں میں کام کرنے کے قابل نہیں ہوں گی، جو کہ 3 دسمبر سے نافذ العمل ہوں گی، جس سے افغان خواتین کے لیے مواقع مزید محدود ہوں گے۔

    پیر کے روز وزارت صحت کے حکام نے میڈیکل کی تعلیم فراہم کرنے والے اداروں کے سربراہان سے ملاقات میں پابندی سے آگاہ کیاحکام کی جانب سے اس فیصلےکی وجوہات بتانے سے گریز کیا گیا اور صرف یہ بتایا گیا کہ یہ طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوند زا د ہ کا حکم ہے،کچھ اداروں کی جانب سے حکام سے مزید وضاحت طلب کی گئی ہے جبکہ دیگر ادارے کوئی تحریری حکم نہ ملنے کے با عث معمول کےمطابق کام کررہے ہیں۔

    واضح رہے کہ طالبان نے اقتدار میں آنے کے بعد لڑکیوں پر سیکنڈری سطح کے بعد تعلیم جاری رکھنے پر پابندی عائد کردی تھی جس کے بعد لڑکیوں کی اعلیٰ تعلیم کے لیے میڈیکل سمیت چند ہی شعبے دستیاب تھے۔

  • ایڈز کے خطرے سےدوچار افراد کیلئے  حکمت عملی بنانا ترجیح ہے،وزیراعظم

    ایڈز کے خطرے سےدوچار افراد کیلئے حکمت عملی بنانا ترجیح ہے،وزیراعظم

    پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج ایڈز کا دن منایا جا رہا ہے،دنیا بھر میں ہر سال یکم دسمبر کو ایڈز سے بچاؤ کا دن منایا جاتا ہے،ایڈز کا عالمی دن دنیا میں پہلی بار 1987ء میں منایا گیا،اس حوالے سے وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف نے بھی پیغام جاری کیا ہے-

    باغی ٹی وی : وزیراعظم نے اپنے پیغام میں کہا کہ ایچ آئی وی کے خلاف حکمت عملی کو مؤثر بنانے کے لیے پرعزم ہیں، یقینی بنا رہے ہیں کہ ایڈز کے خلاف مہم میں کوئی پیچھے رہ نہ جائے، اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے اعلامیہ کی پاسداری اور تمام برادریوں کی شمولیت کو فروغ دینا ایڈز کو صحت عامہ کے خطرے کے طور پر ختم کرنے کے لیے ضروری ہے، ایسے افراد جو ایڈز کے خطرے سے دو چار ہیں ان کے لیے حکمت عملی بنانا ترجیح ہے، صحت کے نظام کو مضبوط بناتے رہیں گے-

    شہباز شریف نے کہا کہ ایچ آئی وی/ایڈز نہ صرف صحت کا ایک چیلنج بلکہ ایک اہم سماجی و اقتصادی مسئلہ ہے جو کہ معاشی نظام کے لیے بھی ایک خطرہ ہے، ایڈز کی جانچ اور علاج کی کوریج میں ایک خلا ہے جس کے حوالے سے کام کرنے کی ضرورت ہے ہماری اجتماعی کوششوں کے باوجود پاکستان میں ایچ آئی وی کی وبا بڑھ رہی ہے جس کے لیے اختراعی اور پائیدار کوششوں کی ضرورت ہے-

    وزیراعظم نے کہا کہ مساوات اور شمولیت پر مبنی حکمت عملی کے ذریعے ہی ہم ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کو روک سکتے ہیں، مضبوط سیاسی ارادہ اور مؤثر قیادت قومی ایچ آئی وی حکمت عملی کو نافذ کرنے کے لیے ضروری ہیں، آج ہمیں عہد کرنا ہوگا کہ ایڈز سے پاک ملک کے لیے متحد ہو جائیں، ایڈز سےپاک مستقبل صرف اجتماعی کوششوں کےذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے جو انسانی وقار، مساوات اور شمولیت کو فروغ دے۔

  • پاکستان میں پولیو وائرس کے مزید 3 نئے کیسز

    پاکستان میں پولیو وائرس کے مزید 3 نئے کیسز

    ملک میں پولیو وائرس کے کیسز میں اضافہ ہوتا جارہا ہے،پاکستان میں پولیو وائرس کے مزید 3 نئے کیسز سامنے آگئے۔

    باغی ٹی وی: ذرائع وزارت صحت کی جانب سے بتایا گیا ہے ملک میں پولیو سے مزید 3 بچے متاثر ہوگئے جس کے بعد متاثرہ بچوں کی تعداد 55 ہوگئی ہے پولیو سے متاثر ہونے والے 2 بچوں کا تعلق بلوچستان اور ایک کا تعلق خیبرپختونخوا سے ہے، بلوچستان میں پولیو وائرس کے شکار بچوں کی تعداد 26 اور خیبرپختونخوا میں متاثرہ بچوں کی تعداد 14ہوگئی ہے سندھ میں اب تک پولیو سے 13 بچےمتاثر ہیں جبکہ اسلام آباد اورپنجاب میں ایک ایک بچہ پولیو سے متاثرہوا۔

    دوسری جانب اسی حوالے سے محکمہ صحت بلوچستان نے بتایا کہ پولیو کے نئے کیسز ضلع ژوب اور جعفر آباد سے رپورٹ ہوئے، رواں سال ژوب سے رپورٹ ہونے والا پولیو کا یہ تیسرا اور جعفرآباد سے دوسرا کیس ہےاس سے قبل قلعہ عبداللہ سے پولیو کے 6،کوئٹہ سے 3، قلعہ سیف اللہ، پشین اورچمن سے پولیو کے 2 ،2 کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ ڈیرہ بگٹی، چاغی، جھل مگسی، خاران، نوشکی اور لورالائی سے پولیوکا ایک، ایک کیس رپورٹ ہو چکا ہے۔