Baaghi TV

Tag: صحت

  • حیض کی بندش کا شکار خواتین  کیلئے وٹامن ڈی اور کیلشیم سپلیمنٹس کتنا نقصان دہ؟

    حیض کی بندش کا شکار خواتین کیلئے وٹامن ڈی اور کیلشیم سپلیمنٹس کتنا نقصان دہ؟

    ایریزونا: ایک نئی تحقیق میں سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ حیض کی بندش کا شکار خواتین میں وٹامن ڈی اور کیلشیم سپلیمنٹس لینے سے دل کی بیماری سے مرنے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے-

    باغی ٹی وی : اینالز آف انٹرنل میڈیسن جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق وہ خواتین جو حیض کی عمر سے گزر چکی ہیں اور وٹامن ڈی اور کیلشیم سپلیمنٹس لیتی ہیں ان میں دل کی بیماری سے مرنے کا خطرہ زیادہ ہوجاتا ہے،وٹامن ڈی اور کیلشیم سپلیمنٹس کینسر سے مرنے کے امکانات کو اگرچہ 7 فیصد کم کرتے ہیں لیکن خواتین میں مہلک امراضِ قلب کے امکانات 6 فیصد تک بڑھا بھی دیتے ہیں۔ کیلشیم اور وٹامن ڈی کے سپلیمنٹس اکثر پوسٹ مینوپاسل خواتین کے لیے تجویز کیے جاتے ہیں تاکہ ہڈیوں کے گرنے سے بچا جا سکے۔

    رپورٹ میں میں بتایا گیا ہے کہ جن خواتین نے کیلشیم اور وٹامن ڈی کے سپلیمنٹس لیے ان میں کینسر سے موت کا خطرہ 7 فیصد کم تھا لیکن دل کی بیماری سے موت کا خطرہ 6 فیصد زیادہ تھا۔

    مطالعہ کے مصنفین نے لکھا کہ ہمارے مطالعے میں کل کینسر کا 11 فیصد کم خطرہ بھی پایا گیا، جس میں کولوریکٹل کینسر اور چھاتی کے کینسر کے 31٪ اور 19٪ کم واقعات شامل ہیں۔”

    امریکا کی ایریزونا یونیورسٹی میں ہیلتھ سائنسز کی پروفیسر اور سرکردہ محقق سنتھیا تھامسن نے کہا کہ کیلشیم سپلیمنٹس سے شریانوں میں کیلشیم کی زیادتی ہوسکتی ہے جس کی وجہ سے امراض قلب سے ہونے والی موت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اگرچہ مطالعے میں کومبو سپلیمنٹس کا خواتین میں کینسر کے خطرے کے حوالے سے تھوڑا فائدہ بھی پایا گیا تاہم اس سے دل کی مہلک بیماری کی بھی نشاندہی کی گئی۔

    ماہرین نے بتایا کہ ان نتائج کے علاوہ روزانہ کیلشیم اور وٹامن ڈی سپلیمنٹس لینے سے بڑی عمر کی خواتین میں گردے کی پتھری کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔

    ایریزونا یونیورسٹی کے محققین نے کیلشیم اور وٹامن ڈی کے نتائج دیکھنے کیلئے اب تک کے سب سے بڑے بے ترتیب ٹرائل کے لیے ایک فالو اپ تجزیہ کیا، جس میں 36,000 پوسٹ مینوپاسل خواتین پر ان سپلیمنٹس کے صحت کے نتائج کا جائزہ لیا گیا، تاہم، مطالعہ کے مصنفین نوٹ کرتے ہیں کہ جس طرح سے مطالعہ کیا گیا تھا، اس کی وجہ سے نتائج کی وضاحت احتیاط سے کی جانی چاہیے۔

  • الخدمت فاؤنڈیشن نے 2023میں 21ارب 49کروڑ فلاحی کاموں پر خرچ کئے،ڈاکٹرحفیظ الرحمن

    الخدمت فاؤنڈیشن نے 2023میں 21ارب 49کروڑ فلاحی کاموں پر خرچ کئے،ڈاکٹرحفیظ الرحمن

    الخدمت فاؤنڈیشن پاکستا ن نے سال 2023میں 21ارب 49کروڑ فلاحی کاموں پر خرچ کئے،یتیم بچوں،طلبہ وطالبات ،مریضوں،ایمرجنسی ڈیزاسٹر و دیگرشعبوں میں 2کروڑ 5لاکھ افراد کی خدمت کی گئی،39ڈیزاسٹر مینجمنٹ سنٹرز کے ذریعے الخدمت کے 67ہزاررضاکاروں نے 6لاکھ 25ہزارمتاثرین کوریلیف پہنچایاگیا،22آغوش سنٹرزاورگھروں میں 29ہزارسے زائدیتیم بچوں کی کفالت کررہی ہے،الخدمت فاؤنڈیشن 5269 مستحق طلبہ وطالبات کو436ملین کی سکالرشپ فراہم کرچکی ہے۔

    صدرالخدمت فاؤنڈیشن پاکستان ڈاکٹرحفیظ الرحمن نے الخدمت رازی ہاسپٹل اسلام آباد کی ڈونرکانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ 7ارب 50کروڑ صرف شعبہ صحت پرسالانہ خرچ کررہے ہیں،2023 میں دوران سال 52 ہسپتالوں ،50میڈیکل سنٹرز، 113ڈائیگناسٹک سنٹرز، 310ایمبولنس،54فارمیسی،1144میڈیکل کیمپ کے ذریعے 1کروڑ2لاکھ 21 ہزار 527افراد کوہیلتھ کی سہولیات فراہم کی گئیں۔ میڈیکل ڈائریکٹرڈاکٹرطاہرفاروق نے اس موقع پر ہاسپٹل کی کارکردگی اور مستقبل کے اہداف پر شرکاء کوبریف کیا۔اسداللہ بھٹو،حزب اللہ جکھڑو،عبد الحفیظ بجارانی،حامد اطہرملک سمیت بڑی تعداد میں عمائدین اورڈونرز سالانہ ڈونرکانفرنس میں شریک تھے۔

    ڈاکٹرحفیظ الرحمن نے کہاکہ 2022کے سیلاب کے دوران متاثرہونے والی 70ہزارخواتین کو الخدمت سیف مدرسیف چائلڈپروگرام کے ذریعے رجسٹرڈ کیا اوران کی زچگی سے متعلق تمام امورمیں انھیں میڈیکل اورغذائی سہولیات فراہم کی گئیں جس پر الخدمت نے ایک ارب روپے خرچ کئے۔ اہل خیرکیلئے یہ مواقع ہیں کہ وہ جنت میں اپنا گھربنانے کیلئے الخدمت فاؤنڈیشن کے پراجیکٹس میں اپنامال خرچ کریں،اللہ کی راہ میں خرچ کیا جائے والا مال کئی گنابڑھ کرواپس ملے گا۔ سالانہ رپورٹ کے مطابق ڈیزاسٹرمینجمنٹ کے شعبہ نے دوران سال 30ہزار840 متاثرہ خاندانوں کو فوڈ پیکج 8,310کو خیمے اور ٹینٹ فراہم کئے، قیدیوں، معذوروں،اقلیتی کمیونٹی سمیت دیگرطبقات کے 39لاکھ 36ہزار افراد کوامدادفراہم کی گئی۔ الخدمت فاؤنڈیشن مستحق افراد کو کاروبارکیلئے 14 ہزار افراد کو 43کروڑ کے بلاسود قرض فراہم کرچکی ہے۔

    تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس – ایک جائزہ ،تحریر: راجہ ارشد

    ہیلتھ لیوی ،تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

    ویسے تو ہیلتھ لیوی کی منظوری 2019جون میں ہوچکی ہے

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    ” ہیلتھ لیوی کے نفاذ میں تاخیر کیوں” تحریر: افشین

     اگر کھلے مقام پر کوئی سگریٹ پی رہا ہو تو اسکو "گھوریں”

    تمباکو سے پاک پاکستان…اک امید

    تمباکو سے پاک پاکستان، آئیے،سگریٹ نوشی ترک کریں

  • روزانہ تین کپ چائے کا استعمال بڑھاپا آنے کی رفتار کم کرتی ہے،تحقیق

    روزانہ تین کپ چائے کا استعمال بڑھاپا آنے کی رفتار کم کرتی ہے،تحقیق

    چینگڈو: ماہرین نے ایک تحقیق میں بتایا ہے کہ روزانہ تین کپ چائے پینے سے بڑھاپا آنے کی رفتار کو کم کیا جا سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی: چینی محققین کے مطابق سیاہ اور سبز چائے میں موجود پولی فینولز، تھینائن اور کیفین جیسے صحت مند کیمیا خلیوں کو پہنچے نقصان کو کم کرتے ہوئے اعضا کو طویل مدت تک فعال رکھ کر عمر بڑھنے کے عمل پر مثبت اثرات مرتب کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں، تحقیق میں سب سے زیادہ فوائد ان افراد میں دیکھے گئے جو مستقل چائے پینے والے تھے لیکن لوگوں کا یہ عادت اپنا کر صحت کو بہتر کرنا بھی مشاہدے میں آیا۔

    سیچوان یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر یی شیانگ کے مطابق محققین کو تحقیق میں مشاہدہ ہوا کہ روزانہ تین کپ چائے کی کھپت بڑھاپے کے خلاف فوائد فراہم کر سکتا ہےجس کی وجہ چائے میں متعدد بائیو ایکٹیو مرکبات کا موجود ہونا ہے۔

    ایلزیویئر جرنل میں شائع ہونے والی تازہ ترین تحقیق میں دیکھا گیا کہ یہ مشروب کس طرح عمر درازی کے عمل کو متاثر کرتا ہےتحقیق میں محققین نے برطانیہ سے تعلق رکھنے والے 37 سے 73 برس کی عمر کے 5998 افراد جبکہ 30 سے 79 برس کے درمیان 7931 چینی افراد کے ڈیٹا کا مطالعہ کیا۔

    تحقیق میں ان افراد سے چائے(سبز چائے، اولونگ چائے اور سیاہ روایتی چائے) کی کھپت کی مقدار کے متعلق پوچھا گیابعد ازاں ان افراد کے خون کے خاص ٹیسٹ کے ذریعے ڈی این اے میں دیکھی گئی اور حیاتیاتی عمر درازی کا تعین کیا گیا۔

    اس سے قبل کی جانے والی تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ چائے پینے سے ذیا بیطس اور قلبی مرض کے خطرات میں کمی لائی جا سکتی ہے چائے میں پولی فینولز نامی مرکبات پائے جاتے ہیں جو طاقتور اینٹی آکسیڈنٹس ہوتے ہیں اور یہ کینسر اور ڈیمیشنیا جیسی اعصابی بیماریوں سے بچنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

  • سانپ کے زہر سے بلڈ پریشر کا  علاج دریافت

    سانپ کے زہر سے بلڈ پریشر کا علاج دریافت

    ساؤ پاؤلو: سائنسدانوں نے سانپ کے زہر سے بلڈ پریشر کا علاج دریافت کیا ہے-

    باغی ٹی وی : سائنسدانوں نے ایک ایسی قسم کے سانپ کا زہر دریافت کیا ہے جو انسان کو بلڈ پریشر کے مسائل میں مدد فراہم کر سکتا ہے جرنل بائیو کیمی میں شائع ہونے والی ایک نئی تحقیق میں سائنس دانوں کو جنوبی امریکی سانپ کی ایک قسم بوتھروپس کوٹیارا کے زہر میں ایسا پروٹین ملا ہے جو اپنے اندر کم یا زیادہ بلڈ پریشر کے مسئلے سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    برازیل کی فیڈرل یونیورسٹی آف ساؤ پاؤلو کے میڈیکل اسکول سے تعلق رکھنے والے محققین نے سانپ کے زہر میں بی سی-7 اے نامی ایک پروٹین دریافت کیا ہے جو بلڈ پریشر کو کم کر سکتا ہے یہ پروٹین بالکل انہی پروٹینز کی طرح کام کرتا ہے جو بلڈ پریشر کو کم کرنے کی دوا کیپٹوپرل بنانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔

    چاند پر امریکی خلائی مشن روانہ ،ناسا نے ماؤنٹ ایورسٹ کے ٹکڑے چاند پر بھیج …

    سائنسدانوں کے مطابق سانپ کے زہر میں موجود اس پروٹین کو اگر مناسب خوراکوں میں استعمال کیا جائے تو یہ ایک دن مطبی علاج کے طور پر استعمال کیا جا سکے گا کیپٹوپرل اور دیگر ادویات اینجیوٹینسن-کنورٹنگ انزائم (اے سی ای) نامی خامروں کی سرگرمی روک کر کام کرتی ہیں، جو جسم میں خون کے دباؤ کو قابو کرنے کے لیے اہم ہوتا ہے۔

    بھارت کا شمسی خلائی مشن سورج کے مدار میں داخل

    تحقیق کے شریک مصنف پروفیسر ایلگزینڈر تاشیما نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ زہر ہمیں حیران کرنے سے کبھی نہیں چوکتے، اتنی معلومات کے باوجود تازہ دریافتیں ممکن ہیں تمام دستیاب ٹیکنالوجی کے باوجود ان زہروں میں بہت سی ایسی چیزیں ہیں جن کا مطالعہ کیا جانا ابھی باقی ہے۔

    امریکی وزیر خارجہ کا مشرق وسطیٰ کادورہ، اردن کے بعد قطر پہنچ گئے

    ماہرین کے مطابق یہ دریافت اے سی ای سے بچانے والی نئی اقسام کی ادویات کے لیے راہ ہموار کر سکتی ہے جو بلڈ پریشر کو کم کرتی ہیں سانپ کے زہر میں 197 قسم کے پروٹین دریافت ہوئے جن میں 189 پروٹینز پہلی بار دیکھے گئے ہیں۔

  • بیرون ملک سے آنے والے مزید 2 مسافروں میں کورونا کی تشخیص

    بیرون ملک سے آنے والے مزید 2 مسافروں میں کورونا کی تشخیص

    اسلام آباد: بیرون ملک سے آنے والے مزید 2 مسافروں میں کوروناوائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔

    باغی ٹی وی : ترجمان محکمہ صحت سندھ کے مطابق بلوچستان کیچ کا رہائشی 26 سال کا مسافر اتوار کو ابوظبی سے کراچی پہنچا تھا جبکہ27 سال کا اٹک کا رہائشی دوسرا مسافر جدہ سے کراچی آیا تھا دونوں مسافروں کو قرنطینہ کی ہدایت کے ساتھ گھروں کو روانہ کردیا گیا، لیبارٹری ٹیسٹ کی رپورٹ آنے کے بعد کووڈ کی قسم کا معلوم ہوسکے گا۔

    واضح رہے کہ اس سے پہلے بھی بیرون ملک سے آئے 4 مسافروں میں کورونا کی تشخیص ہوئی تھی، اسلام آباد سمیت زیادہ ترائیرپورٹس پرباہر سے آنے والوں کی کووڈ ٹیسٹنگ شروع ہوگئی ہے، بیرون ملک سے آنے والے 2 فیصد مسافروں کی لازمی کووڈ ٹیسٹنگ ہوگی۔

    انسدادِ پولیو مہم جاری،بچوں کو بروقت قطرے پلوائیں،ضلعی انتظامیہ

    غیر ملکی اخبار میں شائع مضمون ’مصنوعی ذہانت‘ کی مدد سے لکھا گیا تھا،عمران خان …

    نیب نے نواز شریف اور اہلخانہ کیخلاف شریف ٹرسٹ کیس میں انویسٹیگیشن بند کر دی

  • ملک کے مختلف اضلاع کے 14 ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق

    ملک کے مختلف اضلاع کے 14 ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق

    اسلام آباد: ملک کے مختلف اضلاع کے 14 ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے-

    باغی ٹی وی:ترجمان وزارت صحت کے مطابق پشاور کے 3، حیدر آباد کے 2 اور کراچی شرقی کے 2 نمونوں میں پولیو وائرس پایاگیاکراچی وسطی، کیماڑی اور غربی سے ایک ایک نمونے میں وائرس نکلا ہے جبکہ سکھر، کوئٹہ، کوہاٹ اور اسلام آباد کے بھی ایک ایک نمونے میں وائرس رپورٹ ہوا۔

    ترجمان کا کہنا تھاکہ تمام نمونوں میں پایا جانے والا پولیو وائرس سرحد پار سے آیا ہے ترجمان وزارت صحت نے عوام سے اپیل کی کہ صرف پولیو ویکسینیشن کے ذریعے ہی بچوں کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے، والدین 5 سال سے کم عمر بچوں کو لازمی پولیو کے قطرے پلوائیں۔

    بولیویا میں 22 کروڑ ڈالر مالیت کی منشیات یورپ اسمگل کرنے کی کوشش ناکام

    انٹونی بلنکن کا دورہ ترکیہ،ترک صدر سے ملاقات

    فلم”اینیمل” کے اداکار نے لڑکی کی جان بچا لی

  • پاکستان میں  کورونا کی نئی قسم کے پھیلاؤ میں تیزی

    پاکستان میں کورونا کی نئی قسم کے پھیلاؤ میں تیزی

    اسلام آباد: قومی ادارہ صحت (این آئی ایچ) نے پاکستان میں ایک مرتبہ پھر کورونا کیسز کی تصدیق کردی۔

    باغی ٹی وی: ملک میں سردیوں کے باعث روایتی موسمی بیماریاں میں کچھ کیسز میں علامات ان روایتی بیماریوں جیسے الرجی، نزلہ، کھانسی، بخار وغیرہ سے مخلتف ہیں ،بی بی سی کے مطابق ان مریضوں میں کورونا کی ایک نئی قسم جے این 1 اور انفلوئنزا کی تشخیص ہوئی ہے۔

    گذشتہ ہفتے عالمی ادارہ برائے صحت (ڈبلیو ایچ او) کی جانب سے کورونا وائرس کی نئی قسم ”جے این 1“ کے حوالے سے ایک وارننگ جاری کی گئی تھی این آئی ایچ کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے میں کورونا کے ملک بھر میں 16 مثبت کیس رپورٹ ہوئے ہیں ملک بھر میں 3 ہزار 609 کورونا ٹیسٹ 24 سے 30 دسمبر تک کیے گئے 41 ممالک میں کورونا کے نئے ویرینٹ جے این ون کے کئی کیسز سامنے آچکے ہیں۔

    قاسم سلیمانی کا سب سے اہم کردار اور خدمات "مزاحمتی محاذ کو زندہ کرنا” ہے،علی …

    بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے پھیپھڑوں کے امراض کے ڈاکٹر عرفان ملک نے بتایا کہ کورونا، انفلوئنزا اور آر ایس وی وائرس میں پائی جانے والے علامات کو ٹریپل ڈیکر جبکہ کورونا اور انفلوئنزا وائرس سے متاثر ہونے والے مریضوں میں پائی جانے والی علامات کو ڈبل ڈیکر وائرس کہا جاتا ہے،ہمارے پاس اس وقت مریض کورونا کی تمام علامات کے ساتھ آ رہے ہیں ،جبکہ پاکستان کے پاس اس وقت کورونا کے نئے وائرس جے این 1 کو ٹیسٹ کرنے والی کٹس موجود نہیں،اس وائرس کی موجودگی کا پتا لگانے کیلئے انتہائی حساس کٹ چاہیے ہوتی ہیں جو اس وقت ہمارے پاس بڑے پیمانے پر موجود نہیں۔

    دوسری جانب نگراں صوبائی وزیر برائے صحت ڈاکٹر جاوید اکرم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ابھی تک کوئی ایک کیس بھی پاکستان میں جے این 1 وائرس کا رپوٹ نہیں ہوا البتہ دنیا میں یہ تیزی سے پھیل رہا ہے اس لیے ہم نے بروقت اقدام اٹھاتے ہوئے ٹیسٹنگ کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں تاکہ معلوم کر سکیں کہ اس کا پھیلاؤ کتنا ہے۔

    بھارت روس بڑھتے تعلقات پر مغربی ممالک کو شدید تشویش

    کورونا کی نئی قسم میں بخار، کھانسی، گلا خراب ہونا، جسم میں درد، سینے پر بوجھل پن یا تکلیف اور سانس لینے میں دشواری، بلغم اور کچھ مریضوں میں الٹی کا آنا شامل ہے، متاثرہ شخص کو کم از کم پانچ دن تک اپنے آپ کو قرنطینہ کرنا ہو گا، ماسک کا استعمال لازمی کریں اور ہاتھوں کو بار بار دھوئیں۔ مجمعے یا رش والی جگہ پر جانے سے گریز کریں اور متاثرہ شخص سے دور رہیں۔

    آسڑیلیا میں پادری نے 45 سال چرچ کیلئے وقف کرنے کے بعد اسلام قبول …

  • ہینڈ سینیٹائزر کا استعمال  بچوں کیلئے مضر صحت ہو سکتا ہے

    ہینڈ سینیٹائزر کا استعمال بچوں کیلئے مضر صحت ہو سکتا ہے

    حالیہ تحقیق میں ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ ہینڈ سینیٹائزر کا استعمال بچوں کے لئے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے-

    باغی ٹی وی : ہمارے ہاتھ جراثیم کو سب سے زیادہ تیزی سے پکڑتے ہیں۔ ہم روزمرہ کی سرگرمیوں کو انجام دینے کے لیے ہاتھوں کا ہی استعمال کرتے ہیں تاہم انفیکشن سے بچنے کے لیے اپنے ہاتھوں کو لگاتار دھونا اور بھی ضروری ہو جاتا ہے،طبی ماہرین ہر تھوڑی دیر بعد ہاتھ دھونے کو ترجیح دیتے ہیں، اس طرح ہینڈ سینیٹائزر اس بات کو یقینی بنانے کے بھی کام آتے ہیں کہ آپ کے ہاتھ جراثیم سے پاک اور محفوظ رہیں،آج کل نہ صرف بڑوں بلکہ بچوں میں بھی ہاتھوں کو جراثیم سے بچانے کے لیے ہینڈ سینیٹائزر کا استعمال عام ہوچکا ہے۔

    حالیہ رپورٹ میں ہینڈ سینیٹائزر سے متعلق امریکی سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اور پریوینشن کے محققین نے دریافت کیا ہے کہ بچے عام طور پر ہینڈ سینیٹائزر میں موجود مادوں کو نگلنے کے عادی ہوجاتے ہیں جس کے نتیجے میں سنگین نتائج سامنے آسکتے ہیں محققین نے ہینڈ سینیٹائزر نگلنے والے بچوں میں تیزابیت، ایپنیا اور کوما جیسے سنگین اثرات کا پتہ لگایا ہے۔

    ایرانی کمانڈر میجر جنرل رضا موسوی کی تہران میں تدفین کر دی گئی

    اس تحقیق میں 2011 سے 2014 کے دوران 12 سال کی عمر کے بچوں میں زہریلے مراکز کی جانب سے رپورٹ کیے گئے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا گیا تاکہ امریکہ میں بچوں کے الکحل سینیٹائزر کے اخراج کا مطالعہ کیا جا سکے،ہینڈ سینی ٹائزر دو طرح کے ہوتے ہیں، ایک الکوحل ہینڈ سینیٹائزر اور دوسرا نان الکوحل سینی ٹائزر۔

    تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ 6 سے 12 سال کی عمر کے بچوں کو جان بوجھ کر الکحل ہینڈ سینی ٹائزرز کا استعمال کرنا پڑا۔ 2011 سے 2014 کے دوران 12 سال کی عمر کے بچوں میں کل 70،669 ہینڈ سینی ٹائزر ایکسپوزر کی اطلاع ملی، جن میں سے 65،293 میں 92 فیصد شراب نوشی اور 85،376 فیصد غیر الکوحل ایکسپوزر تھے یہ بھی نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ بڑے بچوں میں موسمِ گرما کے مہینوں کے دوران خطرات کم ہوتے ہیں-

    بھارتی حکومت کیجانب سےصحافیوں کے فون کی جاسوسی کا انکشاف

  • پانی میں زیادہ دیر تک رہنے سے ہاتھوں پر جھڑیاں کیوں پڑتی ہیں؟

    پانی میں زیادہ دیر تک رہنے سے ہاتھوں پر جھڑیاں کیوں پڑتی ہیں؟

    آپ بہت دیر تک ہاتھ پانی میں ڈبو کر رکھیں تو انگلیوں کے پوروں کی جلد سکڑ جاتی ہے اسی طرح بہت دیر پانی میں رہنے پر پیروں کی انگلیوں کے پوروں کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایسا ہوتا کیوں ہے؟ ماہرین کا کہنا ہے کہ دراصل اس کے پیچھے اعصابی نظام کارفرما ہوتا ہے۔

    باغی ٹی وی : بتایا یہی جاتا ہے کہ انسانی جسم کا سب سے بڑا عضو جگر ہے، مگر حقیقیت یہ ہے کہ جلد انسانی جسم کا سب سے بڑا عضو ہے۔ ایک بالغ شخص کی جلد کا کل وزن لگ بھگ آٹھ پاؤنڈ (تقریباﹰ چار کلو) تک ہوتا ہے اور یہ تقریباﹰ بائیس مربع فٹ تک کے حجم کی حامل ہوتی ہے۔

    جلد جسم کی حرارت برقرار رکھنے کا ایک عمدہ آلہ ہے اور واٹر پروف بھی ہے۔ مگر آپ نے دیکھا ہو گا کہ پانی میں بہت دیر تک ہاتھ موجود رہے یا آپ خود سوئنگ کے لیے کسی تالاب یا کسی سوئمنگ پول میں اتریں تو کچھ وقت میں آپ کے ہاتھوں اور پیروں کے پوروں کی جلد سکڑ جائے گی اور وہاں عارضی جھریاں بیدار ہو جائیں گے یہ کوئی زندگی اور موت کا مسئلہ نہیں ہے اس لیے شاید آپ نے اس کی وجوہات پر غور بھی نہ کیا ہو، مگر اس سے جڑے سائنسی حقائق نہایت دلچسپ ہیں۔

    شمالی کوریا نے ایک بار پھر ایٹمی حملے کی دھمکی دیدی

    پانی میں طویل مدت تک رہنے کے بعد انگلیوں پر جھریاں پڑنے کے عمل کو انگریزی میں ’aquatic wrinkling‘ کہا جاتا ہے ابتدائی طور پر جھریوں کی وجہ جلد میں پانی کے جذب ہونے کو سمجھا جاتا تھا تاہم اب ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ پانی کی وجہ سے انگلیوں میں جھریاں پڑنے کے عمل کے پیچھے دراصل اعصابی نظام کارفرما ہے پانی میں ڈوبنے پر اعصابی نظام جلد کی اوپری تہوں میں خون کی نالیوں میں تھوڑا تغیر لے آتا ہے اس تبدیلی کی وجہ سے جلد سکڑ جاتی ہے اور جھریاں نمایاں ہوجاتی ہیں یہ ردعمل گیلے ماحول میں گرفت کو بڑھانے کیلئے ہوتا ہے اور اشیاء کو بہتر طریقے سے سنبھالنے میں مدد کرتا ہے۔

    مزید برآں جھریاں پڑنے کا یہ عمل ایک خود مختار اعصابی نظام کے تحت ہوتا ہے یہ ان افراد میں نہیں ہوتا ہے جن کی انگلیوں میں کوئی اعصابی حسیات کا نقص ہو بہرحال یہ ایک عارضی اور بے ضرر ردعمل ہے جو جلد کے خشک ہونے کے بعد معمول پر آجاتا ہے۔

    ناسانے یورینس کی دلکش تصاویر جاری کر دیں

    سائنسی تحقیق کے مطابق پانی میں ہاتھ یا پاؤں ڈبونے پر جلد کے بالکل نیچے نظامِ دورانِ خون میں تبدیلی ہوتی ہے اگر اعصابی نظام درست کام کر رہا ہو، تو وہ ہاتھ زیادہ دیر پانی میں ڈوبے رہنے پر خون لانے اور لے جانے والی نالیوں کو سکڑنے کے احکامات دیتا ہے اس کی وجہ سے شریانوں اور وریدوں میں خون کی مقدار کم ہوتی ہے اور وہ سکڑتی ہیں۔ اس لیے جلد جھریوں میں تبدیلی ہوتی ہے۔

    یہ عارضی جھریاں غالباﹰ ارتقائی طور پر فائدہ مند تھیں۔ کچھ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ ان جھریوں کی وجہ پانی میں چیزوں کو بہتر گرفت سے پکڑنا ہو سکتی ہے۔ اس حوالے سے چند تجربات بھی کیے گئے ہیں، جن میں سنگ مر مر کو خشک ہاتھوں اور گیلے ہاتھوں اور پھر عارضی جھریوں کی حامل انگلیوں کے ساتھ اٹھایا گیا۔ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ پانی میں ان جھریوں کی وجہ سے انسانی ہاتھ کی پکڑ بہتر دیکھی گئی ہے-

    اے آئی ٹیکنالوجی موت کےامکانات کی درست پیشگوئی کرسکتا ہے؟

    ایسا ہی پیروں کے ساتھ بھی ہے گیلی زمین پر ننگے پیر چلتے ہوئے انگلیوں پر پیدا ہونے والی یہ عارضی جھریاں پھسلنے سے بچاتی ہیں سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر اس عمل کا آغاز ہزاروں لاکھوں برس قبل انسانی جد میں کسی کو بارش میں شکار بننے سے بچنے کے لیے فرار ہونے سے ہوا ہو۔ تاہم دیگر سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ان جھریوں سے ہاتھوں اور پیروں کی گرفت پر کچھ فرق نہیں پڑتا اور ان عارضی جھریوں کی پیدائش کی وجہ کچھ اور ہو سکتی ہے۔

  • شیر خوار  بچوں کی آنکھوں کو مسلنے کی  کیفیت کو نظر انداز کرنا والدین کیلئے درست نہیں

    شیر خوار بچوں کی آنکھوں کو مسلنے کی کیفیت کو نظر انداز کرنا والدین کیلئے درست نہیں

    کثروبیشتر شیر خوار اور نومولود بچے اپنی آنکھوں کو مسلتے ہیں، بچے اپنی آنکھوں کو کیوں رگڑتے ہیں اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں، جیسے الرجین، دانت نکلنا، یا انفیکشن، اگر آپ اپنے بچے کو اکثر آنکھیں رگڑتے ہوئے دیکھتے ہیں تو بچوں کی اس کیفیت کو نظر انداز کرنا والدین کیلئے درست نہیں۔

    باغی ٹی وی:والدین بچوں کی اس کیفیت کو نیند پوری نہ ہونے اور چڑچڑے پن سے منسلک کردیتے ہیں ماہرین کے مطابق بچوں کی اس کیفیت کے پیچھے کئی وجوہات ہوسکتی ہیں اور ان کو دور بھی کیا جاسکتا ہے،جیسا کہ بچوں کی آنکھوں کو رگڑنے کی سب سے عام وجوہات میں سے ایک یہ ہے کہ یہ ان کی نشوونما کا ایک عام حصہ ہے بچے اپنے اعضاء اور حرکات پر محدود کنٹرول کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں، ان کی آنکھوں کو رگڑنا ابتدائی جسمانی عمل میں سے ایک ہے جو وہ کرنا سیکھتے ہیں۔

    خشک یعنی آنکھوں میں نمی کی کمی کے سبب آنکھوں میں ہونے والی اینٹھن کو کم کرنے کے لیے بچے اپنے ہاتھوں سے آنکھیں رگڑتے ہیں،چونکہ شیرخواراور نومولود بچوں میں نیند کا دورانیہ کافی زیادہ ہوتا ہے، اس لیے نیند پوری نہ ہونے کی وجہ سے ان پرغنودگی طاری ہونے لگتی ہے،عموماً بچے اس کیفیت کے سبب اپنی آنکھوں کو بری طرح مسلتے ہیں، جب بچہ نیند میں ہوتا ہے تو وہ اپنی آنکھیں رگڑتا ہے، تو اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ وہ صرف آرام کرنے اور سو جانے کی کوشش کر رہا ہے۔ بچوں کے تھکے ہوئے ہونے پر ان کی آنکھوں کو رگڑنا ایک فطری اضطراب ہے بچوں کے لیے نیند اہم ہے- انہیں عام طور پر تقریباً 12 سے 16 گھنٹے سونا چاہیے-

    بچے اکثر آنکھ میں کسی چیز کے چلے جانے کی وجہ سے بھی اپنی انکھوں کو مسلتے ہیں، والدین کو کسی صورت بچوں کی اس حرکت کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے،بچوں کے آنکھوں کے مسلنے کی وجہ آنکھوں میں کسی قسم کی الرجی بھی ہوسکتی ہے ہاتھوں سے آنکھ مسلنے سے ناخن کے آنکھ میں لگ جانے سے بچوں کو تکلیف بھی ہوسکتی ہےوالدین کو چاہیئے کہ وہ بچوں کے ہاتھوں پر دستانے چڑھادیں، اگر دستا نے موجود نہ ہوں تو بچوں کی آستینوں کو لمبا کردیں