Baaghi TV

Tag: طالبان

  • نیوزی لینڈ کے انکار کے بعد حاملہ صحافی نے مدد کیلئے طالبان سے رجوع کر لیا

    نیوزی لینڈ کے انکار کے بعد حاملہ صحافی نے مدد کیلئے طالبان سے رجوع کر لیا

    افغانستان میں مقیم نیوزی لینڈ کی حاملہ صحافی نے کہا ہے کہ ان کے اپنے ملک کی جانب سے کورونا وائرس کی پابندیوں کے باعث ان کو ملک واپس آنے سے روکنے کے بعد انہوں نے مدد کے لیے طالبان سے رجوع کیا ہے۔

    باغی ٹی وی :نیوزی لینڈ ہیرالڈ میں شائع اپنے ایک مضمون میں شارلٹ بلیز نے لکھا کہ میرا نام شارلٹ بلیز ہے اور میں کرائسٹ چرچ نیوزی لینڈ سے ہوں، لیکن افغانستان میں مقیم ہوں آپ شاید مجھے اس کیوی صحافی کے طور پر جانتے ہوں گے جس نے اپنی افتتاحی پریس کانفرنس میں طالبان سے پوچھا؛ "آپ خواتین اور لڑکیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کیا کریں گے؟-

    برطانیہ کے مختلف علاقوں میں طوفان :ہرطرف تباہی :ہزاروں گھر بجلی سے محروم

    شارلٹ نے لکھا کہ یہ بہت ستم ظریفی ہے کہ کبھی وہ طالبان کے خواتین کے ساتھ سلوک کے بارے میں سوال اٹھاتی تھیں اور اب وہ اپنی حکومت کے خواتین کے ساتھ رویے کے بارے میں سوال اٹھا رہی ہیں جب طالبان ایک غیر شادہ شدہ، حاملہ خاتون کو محفوظ پناہ دیتے ہیں اس سے آپ کا مؤقف کمزور ہوتا ہے۔

    شارلٹ نے کالم میں لکھا کہنیوزی لینڈ کے کورونا وائرس ریسپانس کے وزیر کرس ہپکنز نے انہیں بتایا کہ انہوں نے حکام سے کہا ہے کہ کیا شارلٹ بلیز کے کیسز میں مناسب طریقہ کار پر عمل کیا ہے جسے ابتدائی طور پر دیکھنے سے لگتا ہے کہ معاملے کی مزید وضاحت کی ضرورت ہے۔

    نیوزی لینڈ نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اچھے انتظامات کیے ہیں، 50 لاکھ کی آبادی کے ملک نیوزی لینڈ میں وبا کے دوران صرف 52 اموات ریکارڈ ہوئیں تاہم قومی سطح پر پابندی ہے کہ ملک کے اپنے شہری بھی ملک واپسی پر افواج کے زیر انتظام قرنطینہ ہوٹلز میں 10 روز علیحدگی میں گزاریں گے جس کی وجہ سے وطن واپس آنے والے ہزاروں لوگ جگہ ملنے کے انتظار میں ہیں۔

    بھارت نے جاسوسی کیلئے اسرائیل سے پیگاسس اسپائی وئیرخریدا،رپورٹ

    بیرون ملک برے حالات میں پھنسے شہریوں کی کہانیاں وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن اور ان کی حکومت کے لیے شرمندگی کا باعث ہے لیکن شارلٹ بلیز کی صورتحال خاص طور پر کافی الگ ہے۔

    بلیز نے بتایا کہ گزشتہ سال امریکی افواج کے انخلا کی کوریج کے لیے وہ الجزیرہ کے لیے کام کر رہی تھیں اور انہوں نے طالبان سے ان کے خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ سلوک سے متعلق سوالات پوچھ کر عالمی توجہ حاصل کی تھی جب وہ ستمبر میں قطر گئیں تو انہیں اپنے ساتھی جم کے ساتھ حاملہ ہونے کا معلوم ہوا جو نیویارک ٹائمز کے ساتھ کام کرنے والے ایک فری لانس فوٹوگرافر ہیں۔

    انہوں نے اپنے حاملہ ہونے کو ایک معجزہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں ڈاکٹرز کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ ان کے بچے نہیں ہوسکتے، اب وہ مئی میں بچی کو جنم دیں گی قطر میں بغیر شادی کے جنسی تعلقات غیر قانونی ہیں –

    چین میں پاکستان کے نوادرات کی نمائش

    اپنے کلام میں انہوں نے لکھا کہ قہ اطر میں گائناکالوجسٹ کے پاس گئیں جس میں ڈاکٹر نے انہیں حاملہ ہونے کا بتایا تو انہوں نے ڈاکٹر سے پوچھا فرضی طور پر، اگر میں حاملہ ہوں، تو کیا آپ پولیس کو بتائیں گے ڈاکٹر نے کہا "میں نہیں کروں گی، لیکن میں آپ کا علاج نہیں کر سکتی اور میں صرف اتنا کہہ سکتی ہوں کہ آپ کو جلد از جلد شادی کرنے یا ملک سے باہر جانے کی ضرورت ہے۔”

    بلیز نے لکھا کہ اس لیے انہوں نے سوچا کہ انہیں واپس جانا چاہیے، انہوں نے کئی مرتبہ نیوزی لینڈ کے قرعہ اندازی کے نظام کے تحت بھی وطن واپس جانے کی کوشش کی مگر کامیاب نہیں ہوسکیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے نومبر میں الجزیرہ سے استعفیٰ دے دیا تھا اپنی آمدنی، ہیلتھ انشورنس اور رہائش کھو دی اور وہ اپنےساتھی کے آبائی ملک بیلجیئم چلی گئی تھیں لیکن وہ وہاں زیادہ دیر نہیں ٹھہر سکیں کیونکہ وہ بیلجئم کی رہائشی نہیں تھیں، اس کے بعد ان دونوں کے پاس رہنے کے لیے واحد دوسری جگہ افغانستان تھی کیونکہ ان کے پاس صرف افغانستان کا ویزہ تھا۔

    کورونا ویکسین لگوانے سے انکار،نوواک جوکووچ دبئی ٹینس ٹورنامنٹ کھیلیں گے؟

    شارلٹ بلیز نے کہا کہ انہوں نے طالبان کے سینئر رہنما کے ساتھ بات کی جنہوں نے انہیں بتایا کہ وہ افغانستان میں آرام سے رہ سکتی ہیں۔

    شارلٹ بلیز نے بتایا کہ انہیں طالبان نے کہا کہ آپ لوگوں کو بتادیں کہ آپ شادی شدہ ہیں اور اگر کوئی سنگین معاملہ ہو تو ہمیں آگاہ کریں اور پریشان نہ ہوں میں نے –

    انہوں نے لکھا کہ ہمیں نیوزی لینڈ کے زچگی کے ماہرین اور طبی ماہرین کے خطوط موصول ہوئے ہیں تاکہ افغانستان میں بچے کی پیدائش کے خطرات اور حمل کے دوران زیادہ تناؤ کے اثرات کی تصدیق کی جا سکے۔ ہم نے الٹراساؤنڈز، اپنے تعلقات کی حمایت میں خطوط، بینک سٹیٹمنٹس، ہماری کوویڈ ویکسینیشن بشمول بوسٹرز، میرے استعفیٰ کے شواہد اور تب سے ہمارا سفری سفرنامہ شامل کیا۔ ہم نے MIQ اور امیگریشن نیوزی لینڈ کو 59 دستاویزات جمع کرائیں، جن میں ہمارے وکیل کی طرف سے لکھا گیا ایک کور لیٹر بھی شامل ہے جس میں ہماری صورتحال کا خلاصہ کیا گیا ہے لیکن انہوں نے ہنگامی واپسی کے لیے ان کی درخواست مسترد کر دی۔

    افغانستان میں امدادی کارروائیاں محدود کرنے والے قوانین معطل کئے جائیں،اقوام متحدہ

    نیوزی لینڈ کے قرنطینہ سینٹر اور قرنطینہ نظام کے مشترکہ سربراہ کرس بنی نے ہیرالڈ کو بتایا کہ شارلٹ بلیز کی ہنگامی درخواست اس شرط کے تحت نہیں آتی جس کے مطابق وہ 14 دن کے اندر سفر کریں حکام نے شارلٹ بلیز سے رابطہ کیا ہے اور ان سے مطلوبہ شرائط کے مطابق درخواست تیار کرنے کا کہا ہے۔

    کرس بنی نے لکھا کہ یہ کوئی غیرمعمولی بات نہیں ہے اور نیوزی لینڈ کے مشکل میں پھنسے شہریوں کی مدد کے لیے کام کرنے والی ٹیم کی ایک مثال ہے۔

    اسرائیلی صدرمتحدہ عرب امارات کا دورہ کریں گے

  • افغانستان میں امدادی کارروائیاں محدود کرنے والے قوانین معطل کئے جائیں،اقوام متحدہ

    افغانستان میں امدادی کارروائیاں محدود کرنے والے قوانین معطل کئے جائیں،اقوام متحدہ

    نیویارک: اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیوگوتریس نے کہا ہے کہ افغانستان میں روزمرہ کی زندگی جہنم بن چکی ہے۔

    باغی ٹی وی : سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کا کہنا تھاکہ افغانستان میں روزمرہ کی زندگی جہنم بن چکی ہےافغانستان میں امدادی کارروائیاں محدود کرنے والے قوانین معطل کئے جائیں اورعالمی امداد سے سرکاری ورکرز کی تنخواہیں ادا کی جائیں۔

    امریکی صدرکے افغانستان میں ناکامی اور انخلا بیان پر طالبان کا ردعمل

    انتونیوگوتریس نے مزید کہا کہ ایسے اصولوں اور شرائط کو معطل کرنے کی ضرورت ہے جو نہ صرف افغانستان کی معیشت بلکہ زندگی بچانے والی کارروائیوں کو بھی محدود کرتے ہیں۔

    طالبان دہشتگردی کے خطرات کم کرنے کیلئےعالمی برادری اورسکیورٹی کونسل کےساتھ مل کر کام کریں۔

    واضح رہے کہ حال ہی میں افغانستان کے وزیراعظم مولوی محمد حسن اخوند نے تمام حکومتوں بالخصوص مسلم ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ طالبان کی حکومت کو تسلیم کریں افغانستان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد مقرر کردہ نگراں وزیر اعظم ملا حسن اخوندزادہ نے عہدے سنبھالنے کے 4 ماہ بعد حال ہی میں پہلی پریس کانفرنس کی اس اہم پریس کانفرنس میں وزیراعظم ملا حسن اخوند زادہ کے ہمراہ افغانستان میں اقوام متحدہ کے پروجیکٹس کے انتظامی امور کی نگرانی کرنے والے ارکان بھی موجود تھے۔

    اسلامی ممالک ہماری حکومت کو تسلیم کریں، طالبان

    وزیراعظم ملا محمد حسن اخوند نے کابل میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان ممالک سےمطالبہ کرتا ہوں کہ وہ ہماری حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے میں پہل کریں، اس افغانستان کو تیزی سے ترقی کرنے میں مدد ملے گی ایسا ہم اپنی سیاست کے لیے نہیں بلکہ افغان عوام کے لیے چاہتے ہیں-

    طالبان نے یورپی ممالک کے دورے کو کامیابی کی پہلی سیڑھی قراردیا

  • طالبان نے  یورپی ممالک کے دورے کو کامیابی کی پہلی سیڑھی قراردیا

    طالبان نے یورپی ممالک کے دورے کو کامیابی کی پہلی سیڑھی قراردیا

    اوسلو: طالبان نے اقتدار سنبھالنے کے بعد پہلی بار یورپی ممالک کے دورے کو کامیابی کی پہلی سیڑھی قراردیا کہا کہ اوسلو میں مغربی سفارت کاروں کے ملاقات ساتھ بذات خود ایک بڑی کامیابی ہے۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اوسلو میں طالبان کا وفد وزیر خارجہ کی سربراہی میں مغربی ممالک کے سفارت کاروں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں مذاکرات کا مقصد دو دہائیوں کے جنگ زدہ افغانستان میں انسانی بحران کا حل ڈھونڈنا ہے۔

    امارات اسلامیہ افغانستان میں امریکی شہری دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے

    میٹنگ میں یورپی یونین، امریکہ، برطانیہ، فرانس، اٹلی اور ناروے کے نمائندوں نے طالبان کے وفد کے ساتھ اس کے وزیر خارجہ امیر خان متقی کی قیادت میں ملاقات کی تین روزہ اجلاس میں طالبان کے مندوب نے مغربی مذاکرات کاروں پر زور دیا کہ وہ افغان اثاثوں کو غیر منجمد کریں اور سیاسی گفتگو کی وجہ سے عام افغانوں کو سزا نہ دیں۔

    منشیات کےعادی افراد طالبان کے لئے بڑا چیلنج بن گئے

    طالبان کے مندوب شفیع اللہ اعظم نے مزید کہا کہ فاقہ کشی، شدید سردیوں کی وجہ سے، میں سمجھتا ہوں کہ اب وقت آگیا ہے کہ عالمی برادری افغانیوں کی حمایت کرے، نہ کہ ان کے سیاسی تنازعات کی وجہ سے انہیں سزا دی جائے ان ملاقاتوں سے ہمیں یقین ہے کہ افغانستان کے انسانی ہمدردی، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں مدد ملے گی۔

    امریکی صدرکے افغانستان میں ناکامی اور انخلا بیان پر طالبان کا ردعمل

    اوسلو کی برفانی پہاڑی کی چوٹی پر واقع سوریا موریا ہوٹل میں ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے وزیر خارجہ ملا امیر اللہ متقی کا کہنا تھا کہ ملاقات کا کوئی نتیجہ نکلے یا نہیں لیکن مغرب میں مغربی ممالک کے سفارت کاروں سے مذاکرات کا آغاز ہی ہوجانا اپنی ذات میں ایک بڑی کامیابی ہے ان ملاقاتوں سے ہمیں یقین ہے کہ افغانستان کے انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے صحت اور تعلیم کے شعبوں میں بھی مغربی ممالک کا تعاون حاصل ہوگا۔

    دوسری جانب عالمی برادری کا اصرار ہے کہ طالبان امداد کی بحالی سے پہلے افغانستان میں بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی کو یقینی بنائیں جن میں لڑکیوں کی تعلیم، خواتین کی ملازمتوں میں واپسی اور تمام طبقات کو حکومت میں جگہ دینا شامل ہیں۔

    طالبان سے فائرنگ کے تبادلے میں قومی اپوزیشن گروپ کے 8 مزاحمتی جنگجو ہلاک

    طالبان کے گزشتہ برس اگست میں اقتدار سنبھالنے کے بعد افغانستان کے بیرون ملک اثاثوں اور اربوں ڈالرز کے فنڈز کو منجمد کردیا گیا تھا جو افغان بجٹ کا 80 فیصد بنتے ہیں۔ فنڈز اچانک رک جانے سے کار مملکت ٹھپ اور آدھی سے زیادہ آبادی بھوک کا شکار ہوگئی ہے۔


    مذاکرات کے آغاز سے قبل اتوار کے روز افغانستان کے لیے امریکا کے خصوصی نمائندے تھامس ویسٹ نے اس امید کا اظہار کیا تھا کہ ایک مستحکم، حقوق کا احترام کرنے والی اور کثیر النسلی افغان حکومت کے قیام کے لیے ہم اپنے اتحادیوں، شراکت داروں اور امدادی اداروں کے ساتھ مل کر نہ صرف انسانی بحران سے نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں بلکہ طالبان کے ساتھ اپنے خدشات کے حوالے سے بھی ڈپلومیسی جاری رکھیں گے۔

    اسلامی ممالک ہماری حکومت کو تسلیم کریں، طالبان

    ناروے نے طالبان اور مغربی ممالک کو مذاکرات کے لیے پلیٹ فارم تو فراہم کیا ہے تاہم اب تک طالبان حکومت کو تسلیم نہیں کیا ہے البتہ مذاکرات کی میزبانی کرنے پر ناروے کو کہیں کہیں تنقید کا بھی سامنا ہے اور وزارت خارجہ کے دفتر کے باہر احتجاجی مظاہرے بھی کیے گئےجس پر ناروے کے وزیر خارجہ نے وضاحت کی کہ ان مذاکرات کا مقصد طالبان کو قانونی حیثیت دینے یا تسلیم کرنا نہیں بلکہ جنگ زدہ ملک کو درپیش انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے اقدامات کرنا ہیں۔

    افغانستان میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے طالبان کمانڈرسمیت 6 افراد ہلاک

    طالبان کے ساتھ ملاقات کے پہلے دور میں شامل خواتین کے حقوق کی کارکن جمیلہ افغانی نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ ایک مثبت ملاقات تھی جہاں طالبان نے خیر سگالی کا مظاہرہ کیا لیکن یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ طالبان کے اقدامات کیا ہوں گے۔

    مذاکرات کے پہلے دور میں شریک ایک اور خاتون کارکن محبوبہ سراج نے کہا کہ طالبان نے ہمارا خیر مقدم کیا اور ہماری بات سنی۔ میں پر امید ہوں کہ فریقین ایک دوسرے کے بارے میں شکوک کا خاتمہ کرکے افہام و تفہیم پر قائل ہوجائیں گے۔

    طالبان کا تعلیم کے حقوق کا مطالبہ کرنے والی خواتین پرکالی مرچ کا اسپرے

  • مذاکرات کیلئے افغان طالبان کا وفد ناروے روانہ:امریکی سینیٹرز نے بھی جوبائیڈن کو کہہ دیا

    مذاکرات کیلئے افغان طالبان کا وفد ناروے روانہ:امریکی سینیٹرز نے بھی جوبائیڈن کو کہہ دیا

    کابل :امریکا حکام سے مذاکرات کیلئے افغان طالبان کا وفد ناروے روانہ:امریکی سینیٹرز نے بھی جوبائیڈن کو کہہ دیا،اطلاعات کے مطابق امریکا حکام سے مذاکرات کیلئے افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی کی قیادت میں طالبان وفد ناروے روانہ ہوگیا ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کا وفد اوسلو میں امریکی حکام سے ملاقاتیں کرےگا، افغان طالبان ناروے کےحکام سے بھی ملاقاتیں کریں گے، افغان طالبان کاوفد چار روزہ دورے پرناروے گیا ہے،افغان طالبان وفد کےناروے میں قیام میں توسیع کا بھی امکان ہے۔

    امریکی کانگریس کے 13 ارکان نے افغانستان کو انسانی امداد فراہم کرنے کے لیے صدر جو بائیڈن کو خط لکھاہے۔خط میں لکھا گیا ہے کہ افغان عوام کی مدد نہ کی تو افغانستان ایک بار پھر ہمارے دشمنوں کا محفوظ ٹھکانہ نہ بن جائےگا۔

    دوسری جانب افغان وزارت خارجہ کے ترجمان عبدالقھار بلخی نے امریکی صدر بائیڈن کے اس بیان کو مسترد کیا ہے جس میں ان کا کہنا تھا کہ افغانستان متحد ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔

    افغان وزارت خارجہ کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اختلاف رائے غیر ملکی حملہ آوروں نے اپنی بقاء کیلئے پیدا کیا۔

    واضح رہے کہ امریکی صدر نے وائٹ ہاؤس میں پریس بریفنگ میں کہا تھا کہ افغانستان سے افواج اس لئے واپس بلالیں کیونکہ افغانستان کو ایک حکومت کے تحت متحد کرنا ممکن نہیں

  • امریکی صدرکے افغانستان میں ناکامی اور انخلا  بیان پر طالبان کا ردعمل

    امریکی صدرکے افغانستان میں ناکامی اور انخلا بیان پر طالبان کا ردعمل

    واشنگٹن: امریکی صدر جو بائیڈن افغانستان سے انخلا کے سوال پربھڑک اٹھے اور الٹا صحافیوں پر ہی سوال داغ دیا کہ کیا آپ افغانوں کو ایک حکومت پر متحد کرسکتے ہیں۔

    باغی ٹی وی :عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو میں امریکی صدر جوبائیڈن افغانستان سے فوجیوں کے انخلا اور 20 سالہ جنگ کو ضائع کرنے کے سوال پر صحافیوں پر برس پڑے اور جواب میں صحافیوں سے کہا ہے کہ افغانستان سے فوجیں واپس بلانے کی وجہ یہ بھی تھی کہ جنگ زدہ ملک میں سب کو ایک حکومت کے تحت متحد کرنا ممکن نہیں رہا تھا اور اگر آپ میں سے کوئی ایسا کرسکتا ہے تو ہاتھ کھڑا کرے۔

    اسلامی ممالک ہماری حکومت کو تسلیم کریں، طالبان

    صدر جوبائیڈن نے مزید کہا کہ افغانستان حکومتوں کا قبرستان اسی لیے رہا ہے کیوں کہ وہاں اتحاد ناپید ہے ہم ہر ہفتے اس 20 سالہ جنگ پر ایک ارب ڈالر خرچ کر رہے تھے اور مزید اس خرچے کے متحمل نہیں ہوسکتے تھے۔

    امریکی صدر نے مزید کہا کہ افغانستان سے فوجی انخلا کا فیصلہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں ہوا تھا اور ہم نے اسے عملی جامہ پہنایا ہے تاکہ قیمتی جانوں، وسائل اور اخراجات کو بچایا جا سکے۔

    دوسری جانب امارت اسلامیہ افغانستان نے امریکی صدر جوبائیڈن کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے اپنے اتحاد سے ہی بیرونی حملہ آوروں اور طاقتور ممالک کو شکست دی۔

    افغانستان میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے طالبان کمانڈرسمیت 6 افراد ہلاک

    افغانستان میں طالبان حکومت کے وزارت خارجہ کے ترجمان عبدالقہار بلخی نے اپنی ٹوئٹ میں افغانوں کے درمیان تقسیم اور اتحاد نہ ہونے کے امریکی صدر جو بائیڈن کے بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔


    ترجمان وزارت خارجہ نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ افغانستان غیر ملکی تسلط کے دوران کبھی متحد نہیں رہا بلکہ اکثریت حملہ آوروں کے خلاف اپنی قانونی جدوجہد میں مضبوطی سے متحد رہی ہے افغانستان کے بارے میں مسٹر بائیڈن کا "حکومت کا قبرستان” ہونے کا تبصرہ بذات خود افغان اتحاد کا اعتراف ہے۔


    ترجمان نے کہا کہ تقسیم نہیں بلکہ صرف "متحدہ” قومیں حملہ آوروں اور عظیم سلطنتوں کے زوال کا سبب بنتی ہیں قبضے کے خاتمے کے بعد، ہم نے دیکھا کہ کس طرح ہم نےمحدود وسائل کے باوجود مختصر مدت میں امن قائم کیا مجموعی سلامتی کو یقینی بنایا، اور ملک میں مرکزی حکومت قائم کرکے افغان قوم کو متحد کیاہم نے اتحاد کے ذریعے ہی خود سے بڑی قوتوں کو شکست دی۔


    ترجمان عبدالقہار بلخی نے مزید کہا کہ افغانوں کے درمیان معمولی اختلافات بھی بیرونی حملہ آوروں کی جانب سے اپنی بقا کے لیے اکسانے کے باعث ہوا تھا اور ایسا تب ہی ہوا ہے جب افغانستان پر بیرونی حملہ آور حکومت کر رہے ہوافغانوں نے اپنے مشترکہ اسلامی عقائد، وطن اور معروف تاریخ کے ذریعے بڑی بڑی طاقتوں کو شکست دی اور اب ایک برابری کی قوم بننے کی جانب گامزن ہیں-

  • طالبان سے فائرنگ کے تبادلے میں قومی اپوزیشن گروپ کے 8 مزاحمتی جنگجو ہلاک

    طالبان سے فائرنگ کے تبادلے میں قومی اپوزیشن گروپ کے 8 مزاحمتی جنگجو ہلاک

    کابل: طالبان سے فائرنگ کے تبادلے میں 8 افغان مزاحمت کار ہلاک ہو گئے-

    باغی ٹی وی : غیرملکی خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق طالبان نے افغانستان کے شمال میں ایک جھڑپ میں قومی اپوزیشن گروپ کے 8 مزاحمتی جنگجوؤں کو ہلاک کر دیا پولیس کے مطابق طالبان اور نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (این آر ایف) کے جنگجو کے مابین صوبہ بلخ میں لڑائی ہوئی تھی۔

    منشیات کےعادی افراد طالبان کے لئے بڑا چیلنج بن گئے

    صوبائی پولیس کے ترجمان آصف وزیری نے ایک آڈیو پیغام میں صحافیوں کو بتایا کہ این آر ایف کے 8 جنگجو طالبان کے ساتھ ’براہ راست جھڑپ‘ میں مارے گئے طالبان فورسز نے این آر ایف کے جنگجوؤں سے گولہ بارود اور مشین گنیں بھی قبضے میں لے لیں۔ این آر ایف کے ترجمان نے تاحال تبصرہ کرنے کی درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا۔

    یہ لڑائی طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی کی تہران میں احمد شاہ مسعود کے بیٹے احمد مسعود کے ساتھ بات چیت کے دو ہفتے سے بھی کم وقت کے بعد ہوئی ہے۔

    افغانستان میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے طالبان کمانڈرسمیت 6 افراد ہلاک

    اس سربراہی اجلاس کے بعد مزاحمتی دھڑے کے ایک اہلکار نے کہا تھا کہ این آر ایف اور طالبان ’الگ الگ صفحات‘ پر ہیں اور مفاہمت کا کوئی امکان نہیں ہے
    این آر ایف فورسز نے گزشتہ برس طالبان کے قبضے کے خلاف آخری جنگ لڑی اور وادی پنجشیر کی طرف پسپائی اختیار کی جو کہ ستمبر میں حکومتی دستوں کے ہتھیار ڈالنے کے ہفتوں بعد گر گئی تھی۔

    واضح رہے کہ این آر ایف کی قیادت طالبان مخالف کمانڈر احمد شاہ مسعود کے بیٹے کر رہے ہیں۔

    اسلامی ممالک ہماری حکومت کو تسلیم کریں، طالبان

    قبل ازیں افغانستان کے صوبے کنٹرمیں فائرنگ سے طالبان کمانڈرسمیت 6 افراد ہلاک ہوگئے تھےمقامی حکام کا کہنا تھا کہ مرنے والوں میں کمانڈرکا بیٹا بھی شامل ہے واقعہ ذاتی دشمنی کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے فائرنگ کے واقعہ کی تحقیقات کی جارہی ہیں افغانستان میں فائرنگ کے واقعات میں لوگوں کی ہلاکت میں اضافہ ہوا ہے۔

    افغانستان میں شدید زلزلہ،12 افراد جاں بحق

  • اسلامی ممالک ہماری حکومت کو تسلیم کریں، طالبان

    اسلامی ممالک ہماری حکومت کو تسلیم کریں، طالبان

    افغانستان کے وزیراعظم مولوی محمد حسن اخوند نے تمام حکومتوں بالخصوص مسلم ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ طالبان کی حکومت کو تسلیم کریں۔

    باغی ٹی وی: افغان اردو کے مطابق طالبان کے افغانستان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد مقرر کردہ نگراں وزیر اعظم ملا حسن اخوندزادہ نے عہدے سنبھالنے کے 4 ماہ بعد پہلی پریس کانفرنس کی اس اہم پریس کانفرنس میں وزیراعظم ملا حسن اخوند زادہ کے ہمراہ افغانستان میں اقوام متحدہ کے پروجیکٹس کے انتظامی امور کی نگرانی کرنے والے ارکان بھی موجود تھے۔


    افغان حکومت کی اکنامک کانفرنس میں 20 ممالک کے نمائندوں نے کانفرنس میں شرکت کی، 40 ممالک کے نمائندوں نے کانفرنس کو آن لائن جوائن کیا،افغانستان کی معاشی صورتحال، نجی شعبہ اور بینکنگ سیکٹر کے مسائل پر بات چیت ہوئی-

    افغانستان میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے طالبان کمانڈرسمیت 6 افراد ہلاک

    وزیراعظم ملا محمد حسن اخوند نے کابل میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان ممالک سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ ہماری حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے میں پہل کریں، اس افغانستان کو تیزی سے ترقی کرنے میں مدد ملے گی ایسا ہم اپنی سیاست کے لیے نہیں بلکہ افغان عوام کے لیے چاہتے ہیں، افغانستان کے وزیراعظم کے مطابق طالبان نے امن اور سلامتی کی بحالی کے لیے تمام شرائط پوری کی ہیں۔


    وزیراعظم ملا محمد حسن اخوند نے پہلی اقتصادی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت تسلیم کروانے کے لیے طالبان نے دنیا کی تمام شرائط پوری کی ہیں، اب بالخصوص اسلامی ممالک کو طالبان حکومت تسلیم کرنے میں پہل کرنی چاہیے۔


    وزیراعظم ملا محمد حسن اخند نے کہا کہ جو لوگ ہم پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہیں وہ خود پابندیاں لگا کر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ اگر انہیں واقعی انسانی معاشرے کا درد ہے تو آئیں افہام و تفہیم کے ذریعے انسانی مسائل پر قابو پانے کی طرف حقیقی قدم اٹھائیں۔


    وزیراعظم ملا محمد حسن اخند نے کہا کہ ہم عالمی برادری کی انسانی امداد کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ افغانستان کو موجودہ بحران پر قابو پانے کے بعد بھی ترقیاتی امداد کی ضرورت ہوگی لیکن ہمیں ترقیاتی امداد کے بارے میں مختلف انداز میں سوچنے کی ضرورت ہے۔


    جبکہ وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی نے کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ امریکہ افغانستان کے مرکزی بینک کے اثاثوں کو بحال کرے اور افغانستان کو پیسے کی منتقلی میں امدادی تنظیموں اور افغانوں کے لئے تمام رکاوٹیں ختم کرے –


    قائم مقام وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی کا اقتصادی کانفرنس میں خطاب کہا کہ افغانستان میں سرمایہ کاری کا اچھا موقع ہے، غیر ملکیوں سرمایہ داروں کو سمجھنا چاہیے کہ امارت اسلامیہ نے تسلیم کی تمام شرائط پوری کی ہیں-


    اقوام متحدہ کی ایلچی ڈیبورا لیونز نے کہا کہ اقوام متحدہ افغانستان کی معیشت کو بحال کرنے میں مدد کر رہا ہے۔ انسانی امداد ایک عارضی حل ہے۔ معاشی مسائل کو بنیادی طور پر حل کرنے کی ضرورت ہے، انہوں نے مزید کہا کہ خواتین اور لڑکیاں معیشت میں اہم کردار ادا کرتی ہیں-

    منشیات کےعادی افراد طالبان کے لئے بڑا چیلنج بن گئے

    واضح رہے کہ ابھی تک کسی حکومت نے طالبان کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا ہے، کیونکہ افغانستان نے نئی حکومت میں ایسے کئی افراد کو اپنی عبوری حکومت کو شامل کیا ہے جن کے نام بین الاقوامی پابندیوں کی فہرست میں شامل ہیں۔

    طالبان کا تعلیم کے حقوق کا مطالبہ کرنے والی خواتین پرکالی مرچ کا اسپرے

    افغانستان میں شدید زلزلہ،12 افراد جاں بحق

  • منشیات کےعادی افراد طالبان کے لئے بڑا چیلنج بن گئے

    منشیات کےعادی افراد طالبان کے لئے بڑا چیلنج بن گئے

    کابل:منشیات کے عادی افراد طالبان کے لئے ایک بڑا چیلنج بن گئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : عرب میڈیا "الجزیرہ” کے مطابق منشیات کے عادی بے گھر افغان منشیات لینے کے لیے پلوں کے نیچے جمع ہوتے ہیں اور طالبان اکثر انہیں پکڑتے اور مار تے پیٹتے ہوئے زبردستی علاج کے مراکز میں لے جاتے ہیں تاکہ سخت سردی کے باعث جانی نقصان سے بچایا جا سکے۔

    طالبان نے غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث سینکڑوں ارکان کو برطرف کردیا

    رپورٹ کے مطابق دارالحکومت کابل کے بحالی مرکز میں تقریباً 350 افراد پر مشتمل عملہ ہے اور یہ تقریباً ایک ہزارمریضوں کی دیکھ بھال کررہا ہے جبکہ نئے مریضوں کی آمد کے بعد وسائل محدود ہوگئے ہیں اس کے باوجود طالبان تقریباً 3 ہزار 500 منشیات کے عادی افراد کو بھی اسی بحالی مرکز میں لے آئے ہیں گنتی کے چند بحالی مراکز دوسرے شہروں میں بھی نجی خیراتی ادارے کے تعاون سے چلا رہے ہیں۔

    واں برس مارچ سے لڑکیوں کے تمام اسکول کھول دیئے جائیں گے،ذبیح اللہ مجاہد

    افغانستان ان چند ایک ممالک کے فہرست میں شامل ہے جہاں ہیروئن اور میتھم فیٹامین کی بڑی مقدار موجود ہے، اس میں زیادہ تر دنیا کی بلیک مارکیٹوں میں برآمد کی جاتی ہے۔

    ایک ہسپتال کے سربراہ احمد ظاہر سلطانی منشیات کے عادی افراد کے علاج کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ طالبان نے دارالحکومت کے مختلف علاقوں سے منشیات کے عادی افراد کو گرفتار کیا اور انہیں کابل میں منشیات کے بحالی سینٹر میں ڈال دیا گیا۔

    طالبان کا تعلیم کے حقوق کا مطالبہ کرنے والی خواتین پرکالی مرچ کا اسپرے

    واضح رہے کہ اس سے قبل شفافیت کو برقرار رکھنے کے لیے طالبان حکومت نے ایسے 2 ہزار 840 ارکان کو برطرف کردیا ہے جو اپنی غیر قانونی سرگرمیوں کے باعث امارت اسلامیہ کی بدنامی کا باعث بن رہے تھے طالبان حکومت کے وزیر لطیف اللہ حکیمی نے عالمی میڈیا کو بتایا کہ عوامی شکایات اور دیگر ذرائع سے حاصل ہونےوالی معلومات کےبعد ان ارکان کےخلاف شفاف جانچ پڑتال کی گئی مکمل تحقیقات کےبعد 2 ہزار 480 ارکان کوبرطرف کیا گیا یہ لوگ کرپشن، منشیات کی اسمگلنگ اور لوگوں کی نجی زندگیوں میں مد اخلت کرنے میں ملوث تھے اور بعض داعش کے ساتھ بھی منسلک تھے۔

    لطیف اللہ حکیمی نے مزید بتایا تھا کہ یہ افراد اپنی غیر قانونی سرگرمیوں کے باعث اماراتِ اسلامی کی بدنامی کا باعث بن رہے تھے تنظیم میں تطہیر کا عمل جارہے گا تاکہ مستقبل میں ایک شفاف عوام دوست پولیس اور فوج بنائی جاسکے۔

    سیکیورٹی کیوں نہیں دی،شہزادہ ہیری برطانوی حکومت کیخلاف عدالت پہنچ گئے

  • طالبان کا تعلیم کے حقوق کا مطالبہ کرنے والی خواتین پرکالی مرچ کا اسپرے

    طالبان کا تعلیم کے حقوق کا مطالبہ کرنے والی خواتین پرکالی مرچ کا اسپرے

    کابل:تعلیم کے حقوق کا مطالبہ کرنے والی خواتین نے بتایا کہ ایک گروپ پر طالبان نے کالی مرچ کا اسپرے فائر کیا-

    باغی ٹی وی :غیرملکی خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق افغانستان میں تین مظاہرین نے کہا ہے کہ طالبان فورسز نے کابل میں کام اور تعلیم کے حقوق کا مطالبہ کرنے والی خواتین کے ایک گروپ پر کالی مرچ کا اسپرے فائر کیا۔

    رواں برس مارچ سے لڑکیوں کے تمام اسکول کھول دیئے جائیں گے،ذبیح اللہ مجاہد

    رپورٹ کے مطابق کابل یونیورسٹی کے سامنے تقریباً 20 خواتین جمع ہوئیں، جو ’مساوات اور انصاف‘ کے نعرے لگا رہی تھیں اور بینرز اٹھائے ہوئے تھیں جن پر ’خواتین کے حقوق، انسانی حقوق‘ لکھا ہوا تھا تین خواتین مظاہرین نے اے ایف پی کو بتایا کہ احتجاج کو بعد میں طالبان نے منتشر کر دیا جو کئی گاڑیوں میں وقوعہ پر پہنچے تھے۔

    مظاہرے میں شریک ایک نے کہا کہ جب ہم کابل یونیورسٹی کے قریب تھے، طالبان کی 3 گاڑیاں آئیں اور ایک گاڑی کے جنگجوؤں نے ہم پر کالی مرچ کااسپرے استعمال کیا میری دائیں آنکھ جلنے لگی، میں نے ان میں سے ایک سے کہا ’تم شرم کرو‘ اور پھر اس نے اپنی بندوق کی نوک میری طرف کردی۔

    دو دیگر مظاہرین کا کہنا تھا کہ ان میں سے ایک خاتون کو اسپرے کے کی وجہ سے آنکھوں اور چہرے پر الرجی سے ہسپتال جانا پڑا جبکہ اے ایف پی کے ایک نمائندے نے ایک جنگجو کو ایک ایسے شخص کا موبائل فون ضبط کرتے دیکھا جو مظاہرے کی فلم بندی کر رہا تھا۔

    ادھر امارات اسلامیہ افغانستان کے نائب وزیر اطلاعات اور ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے اعلان کیا ہے کہ رواں برس مارچ سے ملک بھر میں لڑکیوں کے تمام اسکول کھول دیئے جائیں گے لڑکیوں کے اسکول کھولنے کے انتظامات آخری مراحل میں داخل ہوگئے ہیں افغانستان کے نئے سال کا آغاز 21 مارچ سے ہوتا ہے اور رواں برس نئے سال کی شروعات سےلڑکیوں اور خواتین کےلیے اسکول کالجز کھول دیئے جائیں گے تاہم مخلوط تعلیم کی ہرگز اجازت نہیں ہوگی ہم لڑکیوں کی تعلیم کے خلاف نہیں تاہم مخلوط نظام تعلیم کے خاتمے اور علیحدہ عمارتوں کے انتظامات سمیت نصاب میں تبدیلی کے باعث لڑکیوں کے اسکول کھولنے میں کچھ وقت لگا۔

    طالبان نے غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث سینکڑوں ارکان کو برطرف کردیا

    واضح رہے کہ گزشتہ برس اکتوبر میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خواتین کو حکومت میں شامل کرنے اور لڑکیوں کی تعلیم سے متعلق کیے گئے وعدوں کو پورا نہ کرنے پر طالبان حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایاتھا اقوام متحدہ کےجنرل سیکرٹری انتونیو گوتریس نےمیڈیا سے گفتگو میں طالبان حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ میں خاص طور پر افغان خواتین اور لڑکیوں سے متعلق کیے گئے وعدے پورا ہوتے نہ دیکھ کر گھبرا گیا ہوں۔

    اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے طالبان سے خواتین اور لڑکیوں سے کیے گئے اپنے وعدوں کو پورا کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ عالمی انسانی حقوق اور قوانین کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور جب تک وعدے پورے نہیں ہوتے طالبان سے مطالبے جاری رکھیں گے۔

    برطانوی الزامات بہت زیادہ 007 ٹائپ فلمیں دیکھنے کا نتیجہ ہیں ،چین

    انتونیو گوتریس نے خبردار کیا تھا کہ 2001 سے 30 لاکھ لڑکیوں نے اسکول میں داخلہ لیا ہے جن کے خواب طالبان کی وعدہ خلافی کے باعث ادھورے رہ جانے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔ افغان معیشت میں بھی خواتین کا نمایاں کردار ہے جن کے بغیر معیشت کی بحالی ناممکن ہے۔

    اقوام متحدہ کے سربراہ نے عالمی قوتوں سے اپیل کی تھی کہ افغانستان کو معاشی تباہی سے بچانے کے لیے مزید رقم عطیہ کریں کیوں کہ تاحال افغانستان کے بیرون ملک مقیم ملکی اثاثے منجمد اور ترقیاتی امداد معطل ہیں۔

    بھارت میں انتہا پسند ہندو وکیلوں کا اذان پر پابندی کا مطالبہ

  • طالبان نے غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث سینکڑوں ارکان کو برطرف کردیا

    طالبان نے غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث سینکڑوں ارکان کو برطرف کردیا

    کابل: طالبان حکومت نے عوامی شکایات پر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث 2 ہزار 840 ارکان کو برطرف کردیا ہے۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق شفافیت کو برقرار رکھنے کے لیے طالبان حکومت نے ایسے 2 ہزار 840 ارکان کو برطرف کردیا ہے جو اپنی غیر قانونی سرگرمیوں کے باعث امارت اسلامیہ کی بدنامی کا باعث بن رہے تھے۔

    افغانستان میں سخت انسانی بحران ہے:امریکا افغان اثاثوں کی بحالی پرعمل کرے:افغان…

    طالبان حکومت کے وزیر لطیف اللہ حکیمی نے عالمی میڈیا کو بتایا کہ عوامی شکایات اور دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کے بعد ان ارکان کےخلاف شفاف جانچ پڑتال کی گئی مکمل تحقیقات کے بعد 2 ہزار 480 ارکان کو برطرف کیا گیا یہ لوگ کرپشن، منشیات کی اسمگلنگ اور لوگوں کی نجی زندگیوں میں مد اخلت کرنے میں ملوث تھے اور بعض داعش کے ساتھ بھی منسلک تھے۔

    اسرائیل کا افغان مہاجرین کے لیے 5 لاکھ ڈالرمدد کا اعلان

    لطیف اللہ حکیمی نے مزید بتایا کہ یہ افراد اپنی غیر قانونی سرگرمیوں کے باعث اماراتِ اسلامی کی بدنامی کا باعث بن رہے تھے تنظیم میں تطہیر کا عمل جارہے گا تاکہ مستقبل میں ایک شفاف عوام دوست پولیس اور فوج بنائی جاسکے۔

    اگرمالی امداد نہ دی گئی توافغانستان میں لوگ بھوک و افلاس سے مرجائیں گے،اقوام متحدہ

    دوسری جانب طالبان حکومت نے جوبائیڈن انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ اقوام متحدہ کے سربراہ کے انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے امریکا میں منجمد افغان فنڈز کی فوری بحالی کے مطالبے پر توجہ دے ترجمان طالبان اور نائب وزیر اطلاعات ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کے مطالبے کو پورا کرتےہوئےامریکا انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے منجمد افغان فنڈز کو فوری طور پر بحال کرے۔

    عالمی برادری کسی سیاسی تعصب کے بغیر افغان عوام کی مدد کرے،ملا عبدالغنی برادر

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ذبیح اللہ مجاہد نے مزید لکھا کہ امریکا کو عالمی آواز کا مثبت جواب دینا چاہیے اور افغانستان کے فنڈز جاری کردینے چاہیئے تا کہ انسانی بحران کے شکار ملک اپنے عوام کو سہولیات اور آسانی فراہم کرسکے۔

    افغانستان کی حکومت کو کیسے قانونی حیثیت دی جا سکتی؟ اشرف غنی کا مشورہ

    ترجمان طالبان کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ افغانستان میں رونما ہونے والے ڈراؤنے خواب کو روکنے کے لیے منجمد فنڈز بحالی میں پہل کرے۔

    کامیاب مذاکرات کےباوجودطالبان حکومت کوباضابطہ طورپرتسلیم کرنےکا کوئی ارادہ نہیں،…