Baaghi TV

Tag: طالبان

  • کابل:طالبان نے اپنی حکومت کو تسلیم کرنے کا مطالبہ دہرایا

    کابل:طالبان نے اپنی حکومت کو تسلیم کرنے کا مطالبہ دہرایا

    کابل :طالبان حکام نے علما کے اجتماع میں دنیا کے دیگر ممالک سے اپنی حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا لیکن لڑکیوں کے اسکول کھولنے جیسے مطالبات پورے کرنے کے بارے میں کوئی عندیہ نہیں دیا۔

    رائٹرز کے مطابق افغانستان میں طالبان حکام اور علماء، عمائدین اور قومی سرکردہ شخصیتوں کے اجتماع کے بعد جاری اعلامیے میں کہا کہ ہم علاقائی، بین الاقوامی اور خاص طور پر اسلامی ممالک سے کہتے ہیں کہ وہ ‘امارت اسلامی افغانستان’ کو تسلیم کرکے تمام پابندیاں ختم اور مرکزی بینک کے منجمد اثاثے جاری کریں اور افغانستان کی ترقی میں مدد کریں۔ امارات اسلامی افغانستان سے موسوم طالبان حکومت کو اب تک باضابطہ طور پر کسی بھی ملک نے تسلیم نہیں کیا ہے۔

    طالبان اپنے اعلان سے پیچھے ہٹ گئے ہیں جس میں انہوں نے کہا کیا تھا کہ تمام اسکول مارچ میں کھل جائیں گے، جس کے بعد ہائی اسکولوں کی کافی لڑکیوں کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے جبکہ اس فیصلے کو مغربی ممالک نے تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

    طالبان کے سربراہ ہیبت اللہ اخوندزادہ جو عام طور پر قندھار میں رہتے ہیں اور عوامی مقامات پر کم ہی نظر آتے ہیں تاہم وہ کابل میں منعقدہ اس اجتماع میں شریک ہوئے اور کہا کہ غیرملکیوں کو احکامات نہیں دینا چاہئیں۔

    واضح رہے کہ مغربی ممالک کی جانب سے فنڈنگ روکنے اور سخت پابندیوں کے نفاذ سے افغانستان کی معیشت بحران کا شکار ہے، ان ممالک کا کہنا ہے کہ طالبان حکومت کو انسانی حقوق، خاص طور پر خواتین کے حقوق کے بارے میں اپنی پالیسیوں کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے اور ساتھ ہی تمام اقوام می شرکت سے جامع اور وسیع البنیاد حکومت کا قیام ایک لازمی امر ہے۔
    حادثے میں تین افراد جاں بحق ہوئے جبکہ زخمی ہونے والوں میں پائلٹ سمیت سات افراد شامل ہیں۔اطلاعات کے مطابق افغانستان کے صوبے جوزجان میں طالبان کا ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہو گیا، حادثے میں تین افراد جاں بحق، سات زخمی ہو گئے۔

    غیرملکی میڈیا کے مطابق طالبان نے واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ جمعرات کی شام کو ہیلی کاپٹر جس میں دس افراد سوار تھے، تکنیکی خرابی کے باعث جوزجان کے مرکز شبرغان شہر میں گر کر تباہ ہو گیا۔

  • افغان لویہ جرگہ کا عالمی برادری سے طالبان حکومت تسلیم کرنےکا مطالبہ

    افغان لویہ جرگہ کا عالمی برادری سے طالبان حکومت تسلیم کرنےکا مطالبہ

    کابل: افغانستان میں ہونے والے لویہ جرگہ کے شرکا نے عالمی برادری سے طالبان حکومت تسلیم کرنےکا مطالبہ کر دیا۔افغان میڈیا کے مطابق افغانستان کے دارالحکومت کابل میں تین روزہ لویہ جرگہ کا اختتام ہوگیا ہے، جرگے میں مختلف قراردادوں کی منظوری دی گئی۔

    جرگے میں منظور کی جانے والی قراردادوں میں کہا گیا ہےکہ امارت اسلامیہ کی حکومت جائز ہے، تمام علاقائی، بین الاقوامی ممالک خصوصاً اسلامی ممالک امارت اسلامیہ کی حکومت کو تسلیم کریں اور عالمی برادری افغانستان پر سے تمام پابندیاں ختم کرکے افغان اثاثے بحال کرے۔

    پاکستانی سفیرکی یورپین ایکسٹرنل ایکشن سروس کےڈپٹی سیکریٹری…

    جرگےکا کہنا تھا کہ امارت اسلامیہ کی دوسرے ممالک میں مداخلت کی پالیسی نہیں، دوسرے ممالک بھی افغانستان کے معاملات میں مداخلت نہ کریں۔

    دیگر قراردادوں میں موجودہ افغان حکومت کے خلاف مسلح مخالفت بغاوت ہونے، داعش سے کسی قسم کا تعلق ممنوع ہونے، منشیات کے خلاف امارت اسلامیہ کے فرمان کی حمایت، میڈیا کے ذریعے اشتعال پھیلانے والے علما کو روکنے اور ملک میں قومی اتحاد کی ترغیب دینے پر شرکا نے اتفاق کیا۔

    لویہ جرگہ میں 4 ہزار سے زائد افغان علما، سیاسی و سماجی اور کاروباری شخصیات نے شرکت کی۔

  • افغان طالبان نے خراب کوالٹی کے تیل کے 12 ایرانی ٹینکرزواپس بھیج دیئے

    افغان طالبان نے خراب کوالٹی کے تیل کے 12 ایرانی ٹینکرزواپس بھیج دیئے

    طالبان نے خراب کوالٹی کا تیل افغانستان میں لانے پر 12 ایرانی آئل ٹینکرز کو واپس ایران بھیج دیا گیا-

    باغی ٹی وی : افغان میڈیا کے مطابق طالبان سیکیورٹی حکام کے مطابق ایران سے درآمد کیے گئے تیل کے 12 ٹرکوں میں ناقص معیار کا تیل موجود پایا گیا ملک میں داخل ہونے سے روک دیا گیا جس کے بعد ٹینکرز ایران واپس چلے گئے-

    صوبہ نمروز کے طالبان گورنر، صوبائی پولیس چیف، نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سیکورٹی کے نمائندے، کسٹمز اور محکمہ نارم اینڈ سٹینڈرڈ کے حکام کی موجودگی میں طالبان چیف آف پولیس آفس میں کرائم کنٹرول کے ڈائریکٹر قاری عبدالرحیم حذیفہ نے بتایا کہ نارم اینڈ اسٹینڈرڈ ڈپارٹمنٹ کی لیبارٹری میں جانچ کے بعد ایران سے درآمد کیے گئے 5 لاکھ لیٹر آئل کے 12 ٹینکروں میں خراب کوالٹی کا تیل پایا گیا جس کے بعد ٹینکروں کو واپس ایران بھیج دیا گیا۔

    صوبہ نمروز کے متعدد مقامی لوگوں نے طالبان کے اس اقدام کو سراہا ہے اور کہا ہے کہ ناقص معیار کا تیل فضائی آلودگی میں معاون اور شہریوں کیلئے سنگین مسائل کا باعث بن رہا ہے۔

    یوکرین روس جنگ میں ایک اور صحافی جاں بحق

    واضح رہے کہ اس سے قبل طالبان کے نائب وزیر اعظم ملا عبدالغنی برادر کی زیر صدارت اقتصادی کمیشن کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ مذکورہ بالا ٹیم خراب کوالٹی کے پیٹرولیم اور گیس مصنوعات کی نشاندہی کرنے اور ان کی درآمد پر پابندی عائد کرنے کی ذمہ دار ہوگی۔

    ایشین فٹبال کپ 2023: چین کی دستبرداری کے بعد ٹورنامنٹ کی میزبانی کیلئے بولی جون کے آخر میں ہوگی

  • طالبان حکومت کی بھارت کو کابل میں دوبارہ سفارتخانہ کھولنے کی پیشکش

    طالبان حکومت کی بھارت کو کابل میں دوبارہ سفارتخانہ کھولنے کی پیشکش

    کابل: طالبان حکومت نے بھارت کو کابل میں دوبارہ سفارتخانہ کھولنے کی پیشکش کردی۔

    باغی ٹی وی : افغان میڈیا کے مطابق قطرمیں طالبان کےسیاسی دفترکےترجمان سہیل شاہین نےایک انٹرویومیں کہا کہ بھارت کابل میں دوبارہ سفارتخانے کھولے گا تواس کےسفارتکاروں کومکمل سیکورٹی فراہم کی جائےگی بھارت کوقومی اورباہمی مفادات کےبنیاد پرطالبان حکومت سے تعلقات قائم کرنا چاہئیں اورسابق افغان حکام سے روابط نہیں رکھنے چاہئیں۔

    طالبان حکومت،افغان ایئرپورٹس کےمعاملات چلانےکیلئےیواےای سےمعاہدہ کرے گی

    سہیل شاہین کا یہ بیان اس وقت آیا جب حال ہی میں بھارتی خبررساں ادارے انڈین ایکسپریس نے دعویٰ کیا تھا کہ بھارت افغانستان میں سفارت خانہ دوبارہ کھولنے پر غور کر رہا ہے-

    سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ افغانستان میں کام کرنے والے تمام غیرملکی سفارتکاروں کو مکمل تحفظ فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔بہت سے سفارت خانے کابل میں کام کررہے ہیں اورانہیں بھرپورسیکورٹی دی گئی ہےبھارتی سفارتخانے اورسفارتکاروں کوبھی سیکورٹی فراہم کی جائے گی اور اگربھارت افغانستان میں جاری منصوبے مکمل کرنا چاہے گا یا نئے منصوبے شروع کرنا چاہے گا تو اس کا خیرمقدم کریں گے۔

    دوسری جانب بھارت نے افغانستان میں طالبان حکومت کے ساتھ سفارتی سرگرمیوں کی بحالی پرغور کرنا شروع کردیا ہے اور ابتدائی طور پرافغان اہلکار ہی سفارت خانےمیں ذمہ داریاں سنبھالیں گےاس حوالےسے معروف بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس نے دعویٰ کیا تھا کہ بھارتی سیکیورٹی اہلکاروں کی ایک ٹیم ورکنگ انوائرمنٹ، امن و امان کی صورت حال اور سفارت خانہ کے تحفظ سے متعلق زمینی حقائق کا جائزہ لینے کابل بھی گئی تھی۔

    پاکستان اور ایران کے درمیان صحت کے مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کے فروغ پر اتفاق

    انڈین ایکسپریس نے یہ بھی دعویٰ بھی کیا تھا کہ ابھی سینیئر سطح کے سفارت کاروں کو بھیجنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے البتہ ابھی صرف مقامی اہلکار سفارت خانے میں فرائض انجام دیں گے تاہم ضرورت پڑنے پر قونصلر کی خدمات تک توسیع کی جا سکتی ہے۔

    بھارتی وزارت خارجہ کے حکام نے انڈین ایکسپریس کو بتایا تھا کہ مقامی افغان اہلکاروں کے ساتھ سفارت خانہ کھولنے کا مطلب طالبان حکومت کو تسلیم کرنا ہرگز نہیں ہے۔ تاحال طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کا فیصلہ نہیں ہوسکا ہے۔

    واضح رہے کہ بھارت نے گزشتہ برس اگست کے وسط میں افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے کابل میں اپنا سفارت خانہ بند کر دیا تھا۔

  • کابل: خواتین اینکرز سے اظہار یکجہتی ، مرد اینکرز نے بھی چہرے ڈھانپ لیے

    کابل: خواتین اینکرز سے اظہار یکجہتی ، مرد اینکرز نے بھی چہرے ڈھانپ لیے

    افغانستان میں تحریک طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ خواتین ٹی وی پریزینٹرز پربرقع مسلط نہیں کرتےمگرچہرہ ڈھانپنے کو کہا ہے-

    باغی ٹی وی : طالبان حکومت کی وزارت امر بالمعروف و نہی عن المنکر نے ایک حکم نامے کے ذریعے اتوار تک خواتین اینکرز کو چہرہ ڈھانپ کر ٹی وی اسکرین پر آنے کی ڈیڈ لائن دی تھی جس کے بعد معروف ترین افغان ٹی وی "طلوع نیوز”، "شمشاد ٹی وی”، "وان ٹی وی” اور "اریانا” چینلز پر تمام خواتین پریزنٹرز اتوار کے روز نقاب پہنے نمودار ہوئیں اُنہوں نے صرف اپنی آنکھیں اور ماتھے کو ظاہر کیا۔

    افغان خواتین اینکرزنے چہرہ ڈھانپنے کا حکم مسترد کردیا

    غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق طالبان حکومت کی جانب سے خواتین اینکرز کو چہرہ ڈھانپ کر ٹی وی اسکرین پر آنے کے حکم پر مرد اینکرز بھی اظہار یکجہتی کے لیے اپنے چہرے ماسک سے چھپا کر ٹی وی اسکرین پر آئے اور لائیو پروگرام کیے۔


    افغانستان کے دارالحکومت کابل میں نجی ٹی وی چینل طلوع نیوز کے نیوز بلیٹن اور ٹاک شو کے مرد اینکرز اپنا چہرہ ڈھانپ کر اسکرین پر نمودار ہوئےمر اینکرز کا کہنا ہےکہ یہ اقدام اپنی کولیگز خواتین پریزینٹرز کو چہرہ ڈھانپ پر کر ٹی وی اسکرین پر آنے کے طالبان حکومت کے حکم کے ردعمل میں اُٹھایا ہے جس سے ہمیں اندازہ ہوا کہ ناک اور ہونٹ کپڑے سے ڈھکے ہوں تو بولنے اور سانس میں لینے میں کتنی تکلیف ہوتی ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے طلوع نیوز کے ڈائریکٹر خپلواک ساپئی کا کہنا تھا کہ حکم نامے پر عملدرآمد شروع کر دیا ہے تاہم طالبان کے سپریم لیڈر کے فرمان میں خواتین پریزنٹرز کے پردے کے حوالے سے کوئی واضح اشارہ نہیں تھا میرے خیال میں ٹی وی پر خواتین کی تصویر یا ویڈیو ورچوئل ہوتی ہے اور وہ اصل میں موجود نہیں ہوتیں اس لیے یہ حکم ان پر لاگو نہیں ہوتا۔

    سابق نائب افغان صدر رشید دوستم سمیت40جلا وطن افغان رہنماؤں کا قومی مزاحمت کونسل…

    جبکہ وزارت امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے ترجمان عاکف مہاجر کا کہنا ہے کہ چہرہ ڈھانپنے کا حکم یہ ہمارا نہیں بلکہ اللہ کا حکم ہے۔ چہرہ ڈھانپنا بھی پردے کا حصہ ہے۔

    دوسری جانب غیرملکی خبررساں ادارے” العربیہ ” کو دیئے گئے انٹرویو میں ذبیح اللہ مجاہد نےکہا کہ حجاب اور برقع ان کےملک کی ثقافت کا حصہ ہیں افغان حکومت نے براڈکاسٹروں پر برقع نافذ کیا لیکن ہم خواتین ٹی وی پریزینٹرز سےکہتے ہیں کہ وہ اپنا منہ اور ناک ڈھانپیں اس کے لیے محض ماسک کافی ہے مگر پردہ اسلامی شریعت میں لازمی ہے۔

    طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے انٹرویو میں میں خواتین کے حقوق کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہاکہ یونیورسٹیاں ان کے لیے کھلی ہیں اور حکومت سیکیورٹی نافذ کرنے کے لیے کام کر رہی ہے تاکہ طالبات کو اسکولوں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے قابل بنایا جا سکے۔

    پاسداران انقلاب کے ایک سینئر کرنل کے قتل کا بدلہ لیں گے،ایرانی صدر کا اعلان

    انہوں نے پوست اور افیون کی کاشت کے مسئلے پر بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکیوں نے افیون کی کاشت کو فروغ دیا ہے جس کی وجہ سے لاکھوں نوجوانوں کو اس کا عادی بنا دیا گیا ہے۔ موجودہ حکومت نے اس سے نمٹنے کے لیے کام کیا ہے۔ اس کے لیے دنیا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ نشےکی لعنت سے نجات دلانے میں ہماری مدد کرے۔

    ذبیح اللہ نے کہا کہ ان کا ملک افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا اور جنگ کے خاتمے کے بعد اس میں سلامتی اور استحکام کے لیے کام کر رہا ہے افغانستان بدعنوانی اور رشوت ستانی کے خاتمے کے بعد اپنے اندرونی وسائل پر انحصار کرتا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے موجودہ حکومت کو تسلیم کرنے اور اس کی مدد کا مطالبہ کیا اور افغانستان سے بالخصوص امریکا کے خلاف کسی بھی خطرے کو روکنے کے لیے اپنے ملک کے عزم کا اعادہ کیا۔

    موجودہ افغان حکومت کی جانب سےسابق حکومت کی شخصیات کو شامل نہ کرنےکی وجہ کےبارےمیں انہوں نےکہاکہ حکومت میں مختلف طبقات کی شخصیات شامل ہیں طالبان نے”دوحہ معاہدے” میں ملک چھوڑنے والی شخصیات کو شامل کرنے کا عہد نہیں کیا تھا۔ سابق صدر اشرف غنی، ان کے حامی اور دیگر پہلے طالبان کے خلاف لڑتے رہے اور پھر ملک چھوڑ گئے۔

    موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث درجہ حرارت میں اضافہ،لوگوں کی ننید کا دورانیہ کم ہو گیا

  • افغان خواتین اینکرزنے چہرہ ڈھانپنے کا حکم مسترد کردیا

    افغان خواتین اینکرزنے چہرہ ڈھانپنے کا حکم مسترد کردیا

    کابل: افغانستان کے ٹی وی چینلز نے خواتین اینکرز کے چہرے ڈھانپنے کے حوالے سے طالبان کے حکم نامے کو مسترد کردیا۔

    باغی ٹی وی : عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق افغانستان کے ٹی وی چینلز پر خواتین اینکرز طالبان کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے چہروں کو ڈھانپے بغیر اسکرین پر آئیں۔

    لاہور میں دسویں جماعت کی طالبہ کا دن دیہاڑے اغوا

    افغانستان کے مشہور ٹی وی چینلز میں شمار طلوع نیوز، شمشاد ٹی وی اور ون ٹی وی نے ہفتے کو لائیو پروگرام نشر کیے، جس میں خواتین اینکرز کے چہرے نظر آرہے تھے۔

    منہ ڈھانپے بغیر پروگرام پیش کیے جانے سے متعلق شمشاد ٹی وی کے ہیڈ آف نیوز عابد احساس نے ڈی ڈبلیو (DW) سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ہماری خواتین ساتھیوں کو تشویش ہے کہ اگر وہ اپنے چہرے کو ڈھانپتی ہیں تو اگلے حکم میں انہیں کام کرنے سے روکنے کے لیے کہا جائے گا، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ابھی تک اس حکم پر عمل نہیں کیا۔

    ایک خاتون پریزینٹر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر کہا کہ طالبان اقتدار میں آکر پھر سے سخت موقف اخیتار کررہے ہیں جبکہ اس حکمنامہ کے بعد سے ہم ملک چھورنے کا سوچ رہے ہیں۔

    افغانستان میں خواتین میں خودکشی کے رجحان میں اضافہ

    یاد رہے کہ طالبان نے افغانستان میں ٹی وی نشریات کا حصہ بننے والی تمام خواتین کو نشریات کے دوران چہرے کو ڈھانپنے کا حکم دیا تھا۔


    افغان وزارت امربالمعروف ونہی عن المنکر کی جانب سے جاری کردہ حکم میں کہا گیا تھا کہ اس کا اطلاق افغانستان میں تمام میڈیا اداروں میں کام کرنے والی تمام خواتین پر ہوگا یہ فیصلہ حتمی ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی-

    اس سے قبل خواتین پریزینٹرز کے لیے صرف سر پر سکارف پہننا لازمی تھا جبکہ گزشتہ دنوں افغان طالبان کی حکومت نے لڑکیوں کے سیکینڈری اسکولز جانے پر بھی پابندی لگادی تھی تاہم وزیر داخلہ سراج الدین حقانی نے اسکول کھولنے سے متعلق اچھی خبر کا جلد اعلان کیا تھا۔

    طالبان کی حکومت اس سے قبل خواتین کے پارکوں میں جانے اورریسٹورنٹس میں کھانا کھانے پربھی پابندی عائد کرچکی ہے۔ عوامی مقامات پرخواتین کومکمل پردہ کرکے کے آنے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔

    سابق نائب افغان صدر رشید دوستم سمیت40جلا وطن افغان رہنماؤں کا قومی مزاحمت کونسل بنانےکا فیصلہ

  • طالبان نےخواتین  سے متعلق سخت فیصلے واپس نہ لئے تو؟  امریکا نے خبردار کر دیا

    طالبان نےخواتین سے متعلق سخت فیصلے واپس نہ لئے تو؟ امریکا نے خبردار کر دیا

    واشنگٹن: امریکا نے خواتین سے متعلق سخت فیصلوں پر طالبان کو خبردار کر دیا-

    باغی ٹی وی : امریکی میڈیا کے مطابق امریکہ نے کہا ہے کہ اگر طالبان حکومت افغانستان میں خواتین پر غیر ضروری گھر سے باہر نکلنے، برقع پہننے کی شرط اور لڑکیوں کی تعلیم سے متعلق اپنے سخت فیصلوں کو واپس نہیں لیتی تو سخت اقدامات پر مجبور ہوں گے۔

    طالبان سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ کا عالمی برادری سے طالبان حکومت کو تسلیم…

    امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ طالبان سے خواتین کے عوامی مقامات پر برقع پہننے کو لازمی قرار دینے کے حکم کو واپس لینے کے لیے براہ راست بات کی ہے اگرخواتین سے متعلق سخت فیصلوں کو واپس نہیں لیا جاتا تو امریکہ طالبان پر دباؤ بڑھانے کے لیے سخت اقدامات بھی اٹھا سکتا ہے ہمارے پاس بہت سے ایسے ٹولز ہیں جنہیں استعمال کر کے طالبان پر دباؤ بڑھایا جا سکتا ہے۔

    امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ان اقدامات اور ٹولز سے متعلق وضاحت نہیں کی تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ افغانستان میں امدادی کاموں اور فنڈز کی فراہمی کو مشروط کرسکتا ہے۔

    افغانستان کے شہر مزار شریف کی مسجد میں دھماکہ،5 افراد جاں بحق درجنوں زخمی

    واضح رہے کہ گزشتہ دنوں امیر طالبان ملا ہبت اللہ اخوندزادہ نے خواتین کو عوامی مقامات پر چہرہ اور سر سے پاؤں تک ڈھانپنے والا برقع پہننے کا حکم دیا جبکہ ایک ماہ قبل ہی امیر طالبان کی مداخلت پر ہی لڑکیوں کے سیکنڈری اسکولوں کو کھلنے کے ایک ہی گھنٹے بعد دوباہ بند کروا دیا گیا تھا جبکہ تاحال خواتین کو ملازمتوں پر واپس سے روک رکھا ہے۔

    افغانستان میں طالبان حکومت کے قیام کو آٹھ ماہ سے زائد عرصہ ہو چکا ہے تاہم اب تک دنیا کے کسی بھی ملک نے اس حکومت کو نہ تو تسلیم کیا ہے اور نہ ہی اس کے ساتھ سفارتی روابط قائم کیے ہیں حال ہی میں افغان طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ نے ایک بار پھر عالمی برادری سے طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا تھا-

    ہیبت اللہ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آج کی دنیا سمٹ کر ایک گاؤں بن چکی ہے افغانستان کا عالمی امن و سلامتی میں اپنا ایک کردار ہے اور اسے پورا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ عالمی برادری اسلامی اماراتِ افغانستان کو تسلیم کرے۔

    کابل کے ہائی سکول میں 3 دھماکے ،4 افراد ہلاک ،متعدد زخمی

  • ازبکستان نے افغانستان کو ہوائی جہاز اور ہیلی کاپٹرز واپس کرنے سے انکار کردیا

    ازبکستان نے افغانستان کو ہوائی جہاز اور ہیلی کاپٹرز واپس کرنے سے انکار کردیا

    ازبکستان نے افغانستان کو ہوائی جہاز اور ہیلی کاپٹرز واپس کرنے سے انکار کردیا ہے۔

    باغی ٹی وی :امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق ازبکستان نے اپنے بیان میں کہا کہ گزشتہ برس طالبان کے برسراقتدار آنے کے دوران سابق سرکاری فوجیوں کی جانب سے لائے گئے ہیلی کاپٹرز اور طیارے امریکا کی ملکیت ہیں اس لئے انہیں امریکی مرضی کے بغیر طالبان کے حوالے نہیں کیا جائے گا۔

    طالبان سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ کا عالمی برادری سے طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کا مطالبہ

    ازبک صدر شوکت مرزائیف کے ایک سینئر مشیر عصمت اللہ ارگاشیف نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا کہ امریکا سابق افغان حکومت کی مالی امداد کررہا تھا، امریکا نے ہی ان ہیلی کاپٹرز اور طیاروں کی ادائیگی کی ہے، اس لئے ہم سمجھتے ہیں کہ یہ مکمل طور پر امریکی انتظامیہ پر منحصر ہے کہ وہ ان کے ساتھ کیا کرتا ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ برس طالبان کے برسراقتدار آنے کے دوران افغان فضائیہ کے درجنوں پائلٹس بڑی تعداد میں ہیلی کاپٹرز اور جنگی و تربیتی طیارے ازبکستان اور تاجکستان لے گئے تھے صرف ازبکستان میں سابق افغان فوج کے زیر استعمال 50 ہیلی کاپٹرز اور 4 طیارے آئے تھے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کی یوم القدس پر فلسطینیوں سے اظہاریکجہتی

    امریکی محکمہ دفاع کے ایک ترجمان میجر روب لاڈوک کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ تاجکستان اور ازبکستان کا طالبان کو طیارے واپس کرنے کا کوئی ارادہ نہیں، یہ طیارے ازبکستان اور تاجکستان کے ساتھ مشترکہ علاقائی سیکیورٹی تعاون کے نتیجے میں موجود ہیں۔

    دوسری جانب طالبان کا کہنا ہے کہ طیارے افغان عوام کی ملکیت تھے، انہیں افغان حکومت کے حوالے کیا جانا چاہیے۔

    قبل ازیں طالبان سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ نے عید الفطر کی نسبت سے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آج کی دنیا سمٹ کر ایک گاؤں بن چکی ہے افغانستان کا عالمی امن و سلامتی میں اپنا ایک کردار ہے اور اسے پورا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ عالمی برادری اسلامی اماراتِ افغانستان کو تسلیم کرے۔

    افغانستان کے شہر مزار شریف کی مسجد میں دھماکہ،5 افراد جاں بحق درجنوں زخمی

  • ٹک ٹاک اورپب جی پر پابندی عائد

    ٹک ٹاک اورپب جی پر پابندی عائد

    طالبان نے ویڈیو شیئرنگ ایپ ٹک ٹاک اور شوٹنگ گیم پب جی پر پابندی عائد کر دی ہے

    خبر رساں ادارے کے مطابق طالبان ٹیم کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ طالبان کی اخلاقی پولیسنگ مہم کے ایک حصے کے طور پر افغانستان میں ٹک ٹاک ویڈیو ایپ پر پابندی عائد کی جائے گی انعام اللہ سمنگانی نے کہا کہ وسیع پیمانے پر استعمال ہونے والی سوشل میڈیا ایپلی کیشن نوجوان نسل کو گمراہ کر رہی ہےٹک ٹاک کا مواد اسلامی قوانین کے مطابق نہیں تھا، اس لیے اس پر پابندی لگائی گئی

    افغانستان کی کل آبادی کا تقریباً 23 فیصد انٹرنیٹ استعمال کرنے والا ہے اس پابندی کا فیصلہ کابینہ کے اجلاس کے دوران لیا گیا پچھلے سال اقتدار میں آنے کے بعد پہلی بار طالبان نے کسی ایپ پر پابندی لگائی ہے، طالبان کے ترجمان سمنگانی نے کہا کہ کابینہ نے جنوبی کوریا کے مشہور جنگی میدان پب جی گیم کو روکنے اور افغان ٹیلی ویژن چینلز کو “غیر اخلاقی” مواد نشر کرنے سے روکنے کا بھی فیصلہ کیا ہے

    طالبان ترجمان نے مزید کہا کہ انہیں بہت شکایات موصول ہو رہی تھیں کہ کیسے یہ ایپس لوگوں کا وقت ضائع اور انہیں گمراہ کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں اس سلسلے میں وزارت مواصلات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کو بھی حکم دیا جا چکا ہے کہ وہ ان ایپس کو انٹرنیٹ سرورز سے ہٹا دیں اور انہیں افغانستان میں ہر کسی کے لیے ناقابل رسائی بنائیں

    اس سے قبل افغانستان کے بے دخل کیے گئے سابق صدر اشرف غنی کی حکومت نے بھی پب جی گیم پر پابندی عائد کرنے کی کوشش کی تھی تاہم وہ اس میں ناکام رہے تھے

    جو نقشے عدالت میں پیش کئے گئے وہ سب جعلی،یہ سب ملے ہوئے ہیں، مارگلہ ہلز کیس میں چیف جسٹس کے ریمارکس

    نور مقدم قتل کیس، ظاہر جعفر پر ایک اور مقدمہ درج

    مارگلہ کی پہاڑیوں پر تعمیرات پر پابندی عائد

    ایف نائن پارک میں شہری پر حملے کا مقدمہ تھانہ مارگلہ میں درج کر لیا گیا

    وفاقی وزیر ریلوے اعظم سواتی بھی اسلام آباد پولیس کے خلاف بول اٹھے

    اسلام آباد جرائم کا گڑھ بن گیا، روز پولیس مقابلے، ڈکیتیاں، وجہ کیا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    اسلام آباد ڈاکوؤں کیلیے جنت بن گیا، یکے بعد دیگرے آٹھ وارداتیں

    اسلام آباد،ایک رات میں 14 وارداتیں،پولیس اہلکار بنیادی سہولیات سے محروم

  • افغانستان سے پاکستانی سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کے واقعات باعث تشویش ہیں،حنا ربانی کھر

    افغانستان سے پاکستانی سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کے واقعات باعث تشویش ہیں،حنا ربانی کھر

    افغانستان سے پاکستانی سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کے واقعات باعث تشویش ہیں،حنا ربانی کھر

    وزیر مملکت برائے خارجہ امور حنا ربانی کھر سے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان ایمبیسڈر محمد صادق کی وزارت خارجہ میں ملاقات ہوئی

    ایڈیشنل سیکرٹری افغانستان عامر آفتاب قریشی و ڈی جی افغانستان، آصف میمن بھی اس موقع پر موجود تھے نمائندہ ء خصوصی برائے افغانستان ایمبیسڈر محمد صادق نے افغانستان اور خطے میں امن و امان کی صورتحال کے حوالے سے وزیر مملکت برائے خارجہ حنا ربانی کھر کو تفصیلی بریفنگ دی

    وزیر مملکت برائے خارجہ امور حنا ربانی کھرکا کہنا تھا کہ افغانستان سے پاکستانی سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کے واقعات باعث تشویش ہیں، پاکستان، افغانستان کی آزادی، خود مختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرتا ہے،پاکستان کیلئے مستحکم اور پرامن افغانستان انتہائی اہمیت کا حامل ہے، پاکستان، افغانستان سمیت خطے میں قیام امن کیلئے اپنی کاوشیں جاری رکھنے کیلئے پر عزم ہے ،

    قبل ازیں رکن قومی اسمبلی حنا ربانی کھر نے وزیراعظم محمد شہباز شریف کی کابینہ میں وزیر مملکت برائے خارجہ امور کا چارج سنبھال لیا حنا ربانی کھر منگل کو اپنی نئی ذمہ داریاں سنبھالنے کے لیے وزارت خارجہ پہنچیں تو سیکرٹری خارجہ سہیل محمود اور دیگر اعلیٰ حکام نے ان کا استقبال کیا پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والی حنا ربانی کھر اس سے قبل فروری 2011 سے مارچ 2013 تک وزیر خارجہ رہ چکی ہیں۔ اس سے قبل وہ وزیر مملکت برائے خزانہ اور اقتصادی امور بھی رہ چکی ہیں