Baaghi TV

Tag: عام انتخابات

  • انتخابات 2024، کاغذات نامزدگی مسترد ہونے پر اپیلوں پر سماعت

    انتخابات 2024، کاغذات نامزدگی مسترد ہونے پر اپیلوں پر سماعت

    عام انتخابات 2024، سکروٹنی کا عمل مکمل ہونے کےبعد کاغذات نامزدگی مسترد کیے جانے کے خلاف اپیلوں پر الیکشن ٹربیونل10 جنوری تک فیصلہ کرے گا،اپیلیں جمع کروانے کے لئے ہائی کورٹس میں امیدواروں کی اپیلوں کی وصولی کے لئے خصوصی سیل بنا دیا گیا ہے۔ریٹرننگ افسران کی طرف سے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے تحریری مصدقہ فیصلے جاری کردیے گئے ہیں ۔ ہائی کورٹ ٹربیونلز دس جنوری تک تمام اپیلوں کے فیصلے کریں گے۔

    کاغذات نامزدگی منظور یا مسترد کرنے کے خلاف اپیلوں کے فیصلوں میں 4روز باقی ہیں،اپیلوں کی تعداد کو شیڈول کے مطابق نمٹانے کے لیے مزید 3ججز کو بطور الیکشن اپیلیٹ ٹربیونل تعینات کردیا گیا ،لاہور ہائیکورٹ کی پرنسپل پر اپیلوں کی سماعت کے لیے ججز کی تعداد 6ہوگئی ،جسٹس شکیل احمد پرنسپل سیٹ پر اپیلوں کی سماعت کریں گے ،جسٹس طارق ندیم پرنسپل سیٹ پر اپیلوں کی سماعت کریں گے ،جسٹس احمد ندیم ارشد پرنسپل سیٹ پر اپیلوں کی سماعت کریں گے.

    این اے 122،عمران خان کے کاغذات مستر د ہونے پر اپیل،آر او سے کل تک جواب طلب
    بانی پی ٹی آئی عمران خان کے این اے 122 سے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف اپیل پر سماعت ہوئی، جسٹس طارق ندیم نے بطور اپیلیٹ ٹریبونل سماعت کی،ٹریبونل نے نوٹس جاری کرتے ہوئے آر او سے کل جواب طلب کر لیا ،وکیل عمران خان نے کہا کہ آر او نے سزا یافتہ ہونے کا اعتراض عائد کر کے کاغذات نامزدگی مسترد کیے ، تجویز کنندہ اور تائیدکنندہ کا کا حلقہ این اے 122 سے نہ ہونے کا اعتراض عائد کیا گیا ،ٹریبونل آر اوکا فیصلہ کالعدم قرار دے ، ٹریبونل بانی پی ٹی آئی کو الیکشن لڑنے کی اجازت دے ،

    پی پی 80 سرگودھا، مریم نواز کے کاغذات نامزدگی منظور
    مسلم لیگ ن کی چیف آرگنائزر مریم نواز کے سرگودھا پی پی 80 کے کاغذات نامزدگی منظور کر لیے ہیں،دائر اعتراضات کی اپیل ٹریبونل نے خارج کردی،مہر طاہر نے مریم نواز کے کاغذات نامزدگی منظوری کو چیلنج کیا تھا،اپیلیٹ ٹربیونل نے آر او کا فیصلہ درست قرار دے دیا،

    نواز شریف کے کاغذات نامزدگی کیخلاف اپیل ناقابل سماعت قرار،درخواست دہندہ پیش ہی نہ ہوا
    لاہور ہائیکورٹ: الیکشن ایپلٹ بنچ میں لاہور سے قائد ن لیگ نواز شریف کے کاغذات نامزدگی منظوری کے خلاف اپیل پر سماعت ہوئی،الیکشن اپیلٹ بنچ نے اپیل ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دی،اپیل کنندہ عدالت میں پیش نہ ہوا۔نہ انکے وکیل پیش ہوئے،جسٹس رسال حسن سید نے شہری شاہد اورکزئی کی الیکشن اپیل پر سماعت کی، اپیل میں الیکشن کمیشن، ریٹرننگ افسر سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے،اپیل میں کہا گیا کہ نواز شریف کو سپریم کورٹ نے تاحیات نااہل قرار دیا ، ریٹرننگ افسر نے غیر قانونی طور پر کاغذات نامزدگی منظور کیے ، ٹریبونل کاغذات نامزدگی منظوری کا فیصلہ کالعدم قرار دے ،

    حماد اظہر اور ان کے والد محمد اظہر کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے خلاف اپیل پر سماعت ہوئی، وکیل حماد اظہر نے کہا کہ تجویز کنندہ اور تائید کنندہ کو ریٹرننگ افسر کے سامنے پیش ہونے نہیں دیا گیا ،ریٹرننگ افسر نے اسی بنیاد پر کاغذات نامزدگی مسترد کر دیے ، فاضل جج نے کہا کہ تجویز کنندہ اور تائید کنندہ کو کہاں ہیں ،ٹریبونل نے تجویز کنندہ اور تائید کنندہ کو طلب کر لیا ، فاضل جج نے کہا کہ ریٹرننگ افسر تجویز اور تائید کنندہ سے مل کر ان کی تصدیق کر لیں ، ریٹرننگ افسر دونوں سے تصدیق کے بعد رپورٹ دیں ،ٹریبونل نے سماعت کچھ دیر کے لیے ملتوی کر دی ،حماد اظہر اور میاں اظہر نے پی پی 171 سے کاغذات نامزدگی جمع کروائے تھے

    جمشید دستی کی اہلیہ اور بھتیجے کے کاغذات منظور
    ملتان الیکشن اپلیٹ ٹریبونل میں سابق رکن قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما جمشید دستی، ان کی اہلیہ نازیہ اور بھتیجے صمد دستی کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے خلاف دائر 8 اپیلوں پر سماعت ہوئی،الیکشن ٹریبونل نے جمشید دستی کی اہلیہ نازیہ دستی اور بھتیجے عبدالصمد دستی کے کاغذات نامزدگی منظور کرلیے ہیں،جمشید دستی نے این اے 175 اور این اے 176 میں کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے خلاف اپیل دائر کر رکھی ہے،جمشید دستی نے پی پی 268، پی پی 269 اور پی پی 270 کے لئے اپیلیں دائر کر رکھی ہیں،جمشید دستی کی بیوی نازیہ نے این اے 175 اور این اے 176 میں کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے خلاف اپیلیں دائر کی تھیں،جمشید دستی کے بھتیجے صمد نے این اے 176 میں کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے خلاف اپیل دائر کر رکھی ہے

    عابد شیر علی کے کاغذات نامزدگی منظور ی کیخلاف اپیل،ریکارڈ طلب
    لاہور ہائیکورٹ: مسلم لیگ ن کے رہنماء عابد شیر علی کے کاغذات نامزدگی منظور ہونے کے خلاف اپیل پر سماعت ہوئی،الیکشن اپیلٹ بنچ نے ریٹرننگ افسر کو ریکارڈ سمیت طلب کر لیا،جسٹس اسجد جاوید گھرال نے بطور الیکشن ایپلٹ ,بنچ نے سماعت کی،حلقہ کے ووٹر محمد جہانگیر نے کاغذات نامزدگی منظوری کے خلاف اپیل دائر کی ہےجس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ عابد شیر علی حلقہ این اے 102 فیصل آباد سے امیدوار ہیں،کاغذات نامزدگی کے ساتھ جمع کروایا گیا حلف نامہ جھوٹ پر مبنی ہے،عابد شیر علی پر تھانہ فیکٹری ایریا فیصل آباد میں مقدمہ درج ہے،ٹربیونل آر او کے کاغذات نامزدگی منظور کرنے کے فیصلے کو کالعدم قرار دے،

    فواد چودھری کی اہلیہ حبا فواد نااہل قرار، فواد کی بھی نااہلی کا امکان
    راولپنڈی ایپلیٹ ٹریبیونل نے فواد چوہدری کی اہلیہ حبا فواد کو 9 بنک اکاؤنٹس اورمتعدد غیر ملکی دورے چھپانے پر الیکشن میں حصہ لینے کے لیے نااہل قرار دے دیا،،فواد چوہدری کے این اے 60 اور 61 سے گزشتہ روز کا کاغذات منظوری کا حکمنامہ واپس لے کر 9 جنوری تک جواب طلب کر لیا گیا، ٹربیونل نے کہاکہ” فواد چوہدری نے کاغذات میں اپنی بیوی کے بنک اکاؤنٹس ،اثاثے غیر اورملکی دورے چھپائے ، کیوں نہ فواد چودھری کو بھی حقائق چھپانے پر نااہل قرار دیا جائے ،

    این اے 132، شہباز شریف کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کی اپیل خارج
    این اے 132، سابق وزیراعظم شہباز شریف کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کی اپیل خارج کر دی گئی، ہائیکورٹ الیکشن ٹربیونل نے وکیل کی عدم پیشی پر اپیل خارج کی ،

    اسید قیصر،تیمور سلیم جھگڑا، فخر خان خلجی،انصر اقبال کے کاغذات نامزدگی منظور
    این اے 264 کوئٹہ اور پی بی 45 سے پی ٹی آئی رہنما فخر خان خلجی کے کاغذات نامزدگی منظور کر لیے گئے،این اے 83 سرگودھا: اسامہ غیاث میلہ کے کاغذات نامزدگی منظور ہو گئے،پی پی 73 سرگودھا: انصر اقبال ہرل کے کاغذات منظور ہو گئےالیکشن ٹریبیونل کی طرف سے سابق اسپیکرقومی اسمبلی اسد قیصر کے کاغذات نامزدگی درست قراردے دیئے گئے، اسد قیصر کو الیکشن لڑنے کی اجازت مل گئی،پشاور ہائیکورٹ الیکشن ٹربیونل نے تیمور سلیم جھگڑا کی اپیل منظور کرلی,جسٹس عتیق شاہ نے تیمور سلیم جھگڑا کے کاغذات درست قراردیئے, این اے 28 ،پی کے 75 اور پی کے 79 سے کاغذات مسترد ہوئےتھے،کراچی این اے 242 اور پی ایس 111 سے امیدوار تحریک انصاف امجد آفریدی کے کاغذات نامزدگی الیکشن ٹریبونل سے منظورہو گئے،این اے 243 کراچی سے امیدوار تحریک انصاف سبحان ساحل کے کاغذات نامزدگی الیکشن ٹریبونل سے منظورہو گئے،پی ایس 113 سے پی ٹی آئی کے امیدوار حسنین چوہان کی اپیل بھی منطور کی گئی ،پیپلز پارٹی کے رؤف احمد کی بھی ریٹرننگ افسر کے فیصلے کے خلاف اپیل منظور کر لی گئی، آزاد امیدوار رفیعہ حسن کو پی ایس 126 سے اور این اے 237 سے آزاد امیدوار فیضان ذیشان کو الیکشن لڑنے کی اجازت مل گئی،

    زرتاج گل، سمابیہ طاہر،صاحبزادہ محبوب سلطان،غلام مرتضیٰ ستی،میجرر طاہر صادق کے کاغذات منظور
    اٹک، پی ٹی آئی کے میجرریٹائرڈ طاہر صادق کے کاغذات نامزدگی بھی منظور ہو گئے،پی پی 10 سے پی ٹی آئی رہنما کرنل ر اجمل صابر راجہ کے کاغذات نامزدگی منظورہو گئے،کہروڑ پکا این اے 154 سے پی ٹی آئی امیدوار اختر کانجو کے کاغذات نامزدگی منظورہو گئے،مری این اے 51 سے پی ٹی آئی رہنما غلام مرتضیٰ ستی کے کاغذات نامزدگی منظورہو گئے،جھنگ سے پی ٹی آئی رہنما صاحبزادہ محبوب سلطان کے کاغذات نامزدگی منظورہو گئے،پی پی 77 سرگودھا سے پی ٹی آئی رہنما سرفراز خان کیانی کے کاغذات نامزدگی منظور ہو گئے،واثق قیوم عباسی اور سمابیہ طاہر کے کاغذات نامزدگی الیکشن ٹریبونل سے منظور ہوگئے۔ڈیرہ غازی خان سے زرتاج گل اورانکے شوہر ہمایوں کے کاغذات نامزدگی منظورہو گئے،اخوند ہمایوں رضا کے PP-288 پر نامزدگی بھی ہائیکورٹ سے منظورہو گئی،صُوبائی اسمبلی پی پی -159 سے مہر شرافت علی کے کاغذات نامزدگی منظورہو گئے

    این اے 150، 151،پی پی 218، شاہ محمود قریشی "آؤٹ” زین قریشی،مہربانو قریشی کے کاغذات منظور
    ملتان: الیکشن ٹریبونل ، شاہ محمود قریشی کی این اے 150 ، این اے151 پی پی 218 سے اپیلیں مستردکر دی گئیں، زین قریشی اور مہر بانو قریشی کی این اے 150 ، این اے 151 اور پی پی 218 سے کاغزات منظور کر لئے گئے،زین قریشی اور مہربانو قریشی کو پی پی 219 سے بھی الیکشن لڑنے کی اجازت مل گئی،، قریشی خاندان کے 9 اپیلوں پر جسٹس سرفراز علی ڈوگر نے سماعت کی

    ڈیرہ غازی خان،پی ٹی آئی امیدوار سردار محی الدین کھوسہ کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیے گئے

    واضح رہے کہ گزشتہ روز عوامی مسلم لیگ کے شیخ رشید،اعجاز الحق، فردوس شمیم نقوی،اعظم نیازی،ایمان طاہر،علی ناصر بھٹی، ناز طاہر ،راجہ راشد حفیظ،اسپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان،سردار اختر مینگل، این اے 72 سے پی ٹی ائی امیدوار غلام عباس، این اے 262 پر پاکستان تحریک انصاف بلوچستان کے جنرل سیکرٹری سالار خان کاکڑ کے کاغذات نامزدگی منظور ہو گئے تھے،شاہ محمود قریشی، زین قریشی، حلیم عادل شیخ کے کاغذات نامزدگی منظورہو گئے تھے، حلیم عادل شیخ کے بھی منظور ہو گئے تھے،مرزا اختیار بیگ کو این اے 241 سے الیکشن لڑنے کی مشروط اجازت ملی تھی،عمر ایوب، فوزیہ بہرام،بابر نواز، عنصر اقبال کے کاغذات نامزدگی منظور ہو گئے تھے، ایاز امیر،شوکت بسرا، زلفی بخاری، نعیم حیدر پنجوتھا، عمر تنویر بٹ، میاں غوث،علی اعجاز بٹر ،راجہ بشارت، شعیب شاہین، عامر مغل کے کاغذات نامزدگی منظور ہو گئے تھے.

    پشاور۔الیکشن ٹربیونل نے این اے 21 مردان سے پی ٹی آئی امیدوار مجاہد علی خان کی اپیل منظور کرلی .الیکشن ٹربیونل نے پی کے 92 کوہاٹ سے پی ٹی آئی امیدوار شفیع اللہ جان،پی کے 56 مردان سے پی ٹی آئی امیدوار امیر فرزند ، این اے 22 اور پی کے 58 مردان سے پی ٹی آئی امیدوار عبدالسلام آفریدی، پی کے 54 مردان سے پی ٹی آئی امیدوار عدنان خان، پی کے 88 سے پی ٹی آئی امیدوار میاں عمر کی اپیل منظور کرلی. الیکشن ٹربیونل نے سابق صوبائی وزیر شہرام خان ترکئی کی اپیل منظور کرلی،الیکشن ٹربیونل نے محفوظ فیصلہ سنا دیا، اپیل منظور کر لی،

    تمام امیدواران کو الیکشن کا برابر موقع ملنا چاہئے

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

    ٹکٹوں کی تقسیم،ن لیگ مشکل میں،امیدوار آزاد لڑیں گے الیکشن

    کسی بھی امیدوار کے تجویز ،تصدیق کنندہ کی ہراسگی برداشت نہیں ہوگی،عدالت

     این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    الیکشن کمیشن کا فواد حسن فواد کو عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

  • پیپلز پارٹی نے سندھ اور بلوچستان کے امیدواروں کا اعلان کر دیا

    پیپلز پارٹی نے سندھ اور بلوچستان کے امیدواروں کا اعلان کر دیا

    پیپلز پارٹی نے الیکشن میں سندھ اور بلوچستان سےقومی اور صوبائی اسمبلیوں کیلئے امیدواروں کے ناموں کا اعلان کر دیا

    بلاول زرداری دو سیٹوں، لاڑکانہ سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 194 اور این اے 196 قمبر شہدادکوٹ سے جبکہ آصف علی زرداری شہید بے نظیرآباد سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 207 سے الیکشن میں حصہ لیں گے۔سابق ایم این اے خورشید شاہ این اے 201 سکھر، شازیہ مری این اے 209 سانگھڑ، نفیسہ شاہ خیرپور کی جنرل نشست این اے 202 سے میدان میں اتریں گی جبکہ شکارپور میں قومی اسمبلی کیلئے غوث بخش مہر کے بیٹے شہریار مہر کو ٹکٹ جاری کیا گیاْ۔

    کراچی سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 230 آغا رفیع اللہ، این اے 231 سے عبدالحکیم بلوچ، این اے 242 کیماڑی سے عبدالقادر مندوخیل اور این اے 243 سے عبدالقادر پیٹل الیکشن میں حصہ لیں گے، نبیل گبول کراچی سے این اے 239 اور جام عبدالکریم جوکھیو این اے 229 سے انتخابات لڑیں گے،قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 227 دادو سے عرفان لغاری، این اے 228 سے رفیق احمد جمالی پیپلز پارٹی کے امیدوار ہونگے۔

    صوبائی اسمبلی کیلئے بھی امیدواروں کے نام فائنل کردیے گئے ہیں، سابق وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ پی ایس 77 جام شورو، فریال تالپور پی ایس 10 لاڑکانہ، شرجیل انعام میمن پی ایس 61 حیدرآباد اور نثار شاہ پی ایس 25 سکھر سے الیکشن میں حصہ لیں گے۔اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی پی ایس 9 شکارپور، امتیاز شیخ پی ایس 7 شکارپور، سردار شاہ پی ایس 49 عمر کوٹ، تیمور تالپور پی ایس 51 عمر کوٹ، سعیدغنی پی ایس 105 کراچی اور نجمی عالم پی ایس 110 کراچی سے الیکشن لڑیں گےسابق صوبائی وزیر عذرا پیچوہو پی ایس 36 شہید بے نظیر آباد اور جام خان شورو پی ایس 60 حیدرآباد سے الیکشن لڑیں گے۔

    پاکستان پیپلزپارٹی نے بلوچستان میں قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی سے امیدواروں کے ناموں کا بھی اعلان کردیا ہے، بی اے پی اور پی ٹی آئی سے پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہونے والی تمام سابق اراکین اسمبلی کو پارٹی ٹکٹس مل گئے۔

    پاکستان پیپلزپارٹی کے نوٹیفکیشن کے مطابق این اے 251 سے عبدالباقی مردان زئی، این اے 252 سے اسرار ترین، این اے 254 سے غلام فرید رئیسانی، این اے 256 سے عبدالرحمان زہری، این اے 257 سے عبدالوہاب بزنجو، این اے 259 سے ملک شیر گورگیج پی پی پی کے امیدوار ہونگے۔قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 261 سے سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان ثنا اللہ زہری، این اے 262 سے محمد رمضان اچکزئی، این اے 263 سے روزی خان کاکڑ، این اے 264 سے جمال رئیسانی، این اے 265 سے خان محمد ترین اور این اے 266 سے نذر محمد کاکڑ پی پی پی کے امیدوار ہونگے۔

    اسی طرح بلوچستان اسمبلی کے حلقے پی بی 1 شیرانی سے عبدالرحمان، پی بی 8 سے سرفراز ڈومکی، پی بی 9 سے نصیب اللہ مری، پی بی 10 ڈیرہ بگٹی سے سرفراز بگٹی، پی پی پی کے امیدوار ہونگے۔بلوچستان کی صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی بی 13 نصیر اباد سے صادق عمرانی، پی بی 16 جعفرآباد سے چنگیز جمالی، پی بی 18 خضدار سے ثنا اللہ زہری، پی بی 19 خضدار ٹو سے شکیل درانی، پی بی 21 حب سے علی حسن زہری کو پارٹی ٹکٹ دیا گیا ہے۔بلوچستان کے حلقہ پی بی 23 آواران سے سابق وزیر اعلیٰ عبدالقدوس بزنجو، پی بی 25 کیچ سے ظہور بلیدی، پی بی 32 چاغی سے عارف جان محمد حسنی اور پی بی 45 کوئٹہ سے علی مدد جتک پی پی پی کے امیدوار ہونگے

    تمام امیدواران کو الیکشن کا برابر موقع ملنا چاہئے

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

    ٹکٹوں کی تقسیم،ن لیگ مشکل میں،امیدوار آزاد لڑیں گے الیکشن

    کسی بھی امیدوار کے تجویز ،تصدیق کنندہ کی ہراسگی برداشت نہیں ہوگی،عدالت

     این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    الیکشن کمیشن کا فواد حسن فواد کو عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

     

  • نو لاکھ میں سے 5لاکھ79 ہزار191 انتخابی  عملے کی ضروری تربیت مکمل

    نو لاکھ میں سے 5لاکھ79 ہزار191 انتخابی عملے کی ضروری تربیت مکمل

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے عام انتخابات 2024 کے لیے انتخابی عملے کی ترجیحی بنیادوں پر تربیت کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے اور اب تک 5لاکھ79 ہزار191 افراد کی ضروری تربیت مکمل ہو چکی ہے جبکہ بقیہ 4 لاکھ 62 ہزار 222 افراد کی تربیت یکم فروری2024 تک مکمل ہو جائے گی۔

    الیکشن کمیشن کے ترجمان کے مطابق الیکشن کمیشن نے عام انتخابات میں تعینات ہونے والے 9 لاکھ 854 ہزار 413 نفوس پر مشتمل انتخابی عملہ کی تربیت کا آغاز نومبر2023 کے آخری ہفتہ میں کیا۔انتخابی عملہ میں ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران، ریٹرننگ افسران، پریذائڈنگ افسران، اسسٹنٹ پریذائڈنگ افسران اور دیگر انتخابی عملہ شامل ہے۔تربیتی پروگرام کے دوران غیر حاضر رہنے والے عملہ کے خلاف سخت تادیبی کاروائی عمل میں لائی جا رہی ہے لہذا عام انتخابات کے دوران انتخابی ذمہ داریاں تفویض کیے جانے والے تمام سرکاری ملازمین کو تربیتی نشسستوں میں اپنی حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    علاوہ ازیں الیکشن کمیشن کی خصوصی ہدایات پر مرکزی کنٹرول روم 26 دسمبر 2023 سے مکمل فعال ہے اور روزانہ کی بنیادوں پر موصولہ شکایات کا ازالہ کر رہا ہے۔مرکزی کنٹرول روم میں اب تک 45 شکایات موصول ہوئیں اور ان تمام کا ازالہ کیا جا چکا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ الیکشن کمیشن سیکریٹریٹ میں قائم مرکزی شکایت سیل میں آنے والی 165 شکایات پر فوری کاروائی کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ضروری ہدایات جاری کی گئیں اور تمام شکایات کا ازالہ ہو چکا ہے۔ مرکزی کنٹرول روم کے ما تحت 180 کنٹرول روم صوبائی، ڈویژنل اور ضلعی سطح پر بھی فعال کر دیے گئے ہیں جو انتخابات کی نگرانی اور شکایات کے فوری ازالے کے لیے مرکزی کنٹرول روم کی معاونت کر رہے ہیں۔

    ملک بھر کے تمام اضلاع میں تعینات مانیٹرنگ ٹیمیں بھی متحرک ہو گئی ہیں جو امیدواران کی جانب سے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے والے تمام تشہیری مواد کو روزانہ کی بنیادوں پر ہٹانے میں مصروف ہیں۔ مذید برآں اب تک ضابطہ اخلاق کی دیگر خلاف ورزیوں پر ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسرز کی جانب سے نوٹسز بھی جاری کیے جارہے ہیں جن پر انکوائری کے بعد قانون کے مطابق کاروائی عمل میں لائی جائے گی

    ن لیگ کے محسن رانجھا نے پی ٹی آئی والوں پر پرچہ کٹوا دیا .

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

  • عام انتخابات:بنگلہ دیش میں فوج تعینات

    عام انتخابات:بنگلہ دیش میں فوج تعینات

    بنگلہ دیش میں عام انتخابات میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے فوج کو تعینات کر دیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : برطانوی خبررساں ادارے "روئٹرز "کے مطابق بنگلہ دیش میں قومی انتخابات سے قبل تشدد کے خدشے کے پیش نظر بدھ کے روز ملک بھر میں فوج تعینات کر دی گئی ہےفوجیوں نے بکتر بند گاڑیوں میں دارالحکومت ڈھاکا میں قائم عارضی کیمپوں کا سفر کیا تاکہ سول انتظامیہ کو امن و سلامتی برقرار رکھنے میں مدد مل سکے۔

    بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے اتوار کو ہونے والے انتخابات کا بائیکاٹ کیا ہے کیونکہ وزیر اعظم شیخ حسینہ نے ان کے استعفے کے مطالبے کو ماننے سے انکار کر دیا ہے اور انتخابات کو چلانے کے لئے کسی غیر جانبدار اتھارٹی کو اقتدار سونپ دیا ہےحسینہ واجد بار بار بی این پی پر حکومت مخالف مظاہروں کو بھڑکانے کا الزام عائد کرتی رہی ہیں جو اکتوبر کے اواخر سے ڈھاکا میں جاری ہیں اور جس میں کم از کم 10 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    امریکا میں مسجد کے باہر فائرنگ سے پیش امام شہید

    فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ فوجی صرف پولنگ افسران کی درخواست پر کارروائی کریں گےبحریہ کو دو ساحلی اضلاع میں تعینات کیا گیا ہے اور فضائیہ دور دراز پہاڑی علاقوں میں پولنگ اسٹیشنوں تک ہیلی کاپٹر کی مدد فراہم کرے گی لوگوں کو خدشہ ہے کہ گزشتہ دو مہینوں میں بنگلہ دیش میں جو تشدد ہوا ہے وہ انتخابات کے بعد واپس آ سکتا ہے۔

    حسینہ واجد جنہوں نے 2009 میں اقتدار میں آنے کے بعد سے سخت کنٹرول برقرار رکھا ہوا ہے، ان پر آمریت، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، اظہار رائے کی آزادی پر کریک ڈاؤن کرنے اور اپنے ناقدین کو جیل میں بھیجتے ہوئے اختلاف رائے کو دبانے کے الزامات لگائے گئے ہیں۔

    کمپیوٹر کی بورڈ میں نئی "کی” کا اضافہ

    ان کی سب سے بڑی حریف اور 2 بار وزیر اعظم رہنے والی بی این پی رہنما خالدہ ضیاء بدعنوانی کے الزامات کے تحت گھروں میں نظربند ہیں، ان کے بیٹے اور بی این پی کے قائم مقام چیئرمین طارق رحمان جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں کیونکہ ان کے خلاف کئی الزامات عائد کیےگئےتھے جن سے وہ انکار کرتے ہیں حسینہ واجد کی حکومت پر مغربی ممالک کیجانب سے آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کرانے کا دباؤ ہے۔

  • عام انتخابات، کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کیخلاف اپیلوں پر سماعت

    عام انتخابات، کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کیخلاف اپیلوں پر سماعت

    عام انتخابات 2024، سکروٹنی کا عمل مکمل ہونے کےبعد کاغذات نامزدگی مسترد کیے جانے کے خلاف اپیلوں کا وقت ختم ہو چکا، الیکشن ٹربیونل اپیلوں پر 10 جنوری تک فیصلہ کرے گا،اپیلیں جمع کروانے کے لئے ہائی کورٹس میں امیدواروں کی اپیلوں کی وصولی کے لئے خصوصی سیل بنا دیا گیا ہے۔ریٹرننگ افسران کی طرف سے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے تحریری مصدقہ فیصلے جاری کردیے گئے ہیں ۔ ہائی کورٹ ٹربیونلز دس جنوری تک تمام اپیلوں کے فیصلے کریں گے۔

    این اے 72 سے پی ٹی آئی امیدوار غلام عباس کے کاغذات نامزدگی منظور
    لاہور ہائیکورٹ کے ایپلٹ ٹربیونل نے این اے 72 سے پی ٹی ائی امیدوار غلام عباس کے کاغذات نامزدگی منظور کر لیے،عدالت نے ریٹرنگ افسر کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا،اپیل میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ ریٹرنگ افسر نے حقائق کے برعکس کاغذات نامزدگی مسترد کیے، کاغذات نامزدگی پر دائر اعتراضات خلاف قانون ہیں،عدالت ریٹرنگ افسر کے اعتراضات کو کالعدم قرار دے،عدالت کاغذات منظور کرنے کا حکم دے،

    این اے 264، اختر مینگل کی اپیل منظور،الیکشن لڑنے کی اجازت مل گئی
    کوئٹہ کے الیکشن ٹربیونل نے سردار اختر مینگل کو الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی، کاغذات نامزدگی منظورکر لئے، سردار اختر مینگل نے این اے 264 کوئٹہ 3 کے آر او کے فیصلے کیخلاف الیکشن ٹربیونل سے رجوع کیا تھا،اس موقع پر اختر مینگل کے وکیل کا کہنا تھا کہ اختر مینگل کی اپیل دائر کی تھی، این اے 264 پر اسکو ٹربیونل نے منظور کر لیا ہے، ہماری ابھی تین درخواستیں پینڈنگ ہیں، بلوچستان کے ایک نامور سیاستدان جو بلوچستان کی پہچان ہے اسکو الیکشن لڑنے کا موقع ملا، بدنیتی کی وجہ سے کاغذات آر او نے مسترد کئے تھے،دوسری جانب این اے 262 پر پاکستان تحریک انصاف بلوچستان کے جنرل سیکرٹری سالار خان کاکڑ کے کاغذات نامزدگی منظور کرلئے گئے.

    این اے 15، نواز شریف کے کاغذات نامزدگی منظوری کیخلاف اپیل پر نوٹس جاری
    سابق وزیراعظم نواز شریف کے کاغذات منظوری کے خلاف دائر اپیل سماعت کے لئے منظور کر لی گئی، تحریک انصاف کے رہنما، سابق وفاقی وزیر اعظم سواتی نے نواز شریف کے این اے 15 سے کاغذات نامزدگی کی منظوری پر اپیل دائر کی تھی، الیکشن ٹربیونل نے اعظم سواتی کی اپیل منظور کر لی اور سماعت کے لئے مقرر کر دی، اعظم سواتی کی نواز شریف کیخلاف اپیل پر سماعت کل ہو گی،الیکشن ٹربیونل نے نوٹس جاری کر دیا، اپیل پر سماعت الیکشن ٹربیونل کے سربراہ جسٹس کامران حیات اپیل کریں گے

    پشاور،کاغذات نامزدگی کیخلاف اپیلوں پر الیکشن ٹریبونل کے جسٹس شکیل احمد نے171 اپیلوں پر سماعت کی،اسد قیصر، شیر افضل مروت،تیمور سلیم جھگڑا، شہرام ترکئی، محمود جان،شیر علی، افتخار مشوانی، عبدالسلام، عاطف خان اور شاندانہ گلزار سمیت 171 اپیلوں پر نوٹسز جاری کر دیئے گئے، 5 سے 9 جنوری تک نوٹسز پر سماعت ہوگی

    اسپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان کو الیکشن لڑنے کی اجازت مل گئی
    الیکشن ٹربیونل نے اسپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان کی اپیل منظور کر لی،ریٹرننگ آفیسر کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا،سبطین خان کو صوبائی حلقہ پی پی 88 میانوالی سے الیکشن لڑنے کی اجازت مل گئی،الیکشن ٹربیونل نے اسپیکر پنجاب اسمبلی پر تمام اعتراضات ناقص قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیئے

    سندھ ہائیکورٹ: ڈاکٹر ذوالفقار مرزا، فہمیدہ مرزا، کی اپیل پر سماعت ہوئی،ٹربیونل نے الیکشن کمیشن اور اور رٹرنگ افسران کو 8 جنوری کے لیے نوٹس جاری کردیئے ،ریٹرنگ افسر نے فہمیدہ مرزا اور ذوالفقار مرزا این اے 223 بدین سے کاغذات نامزدگی مسترد کیے تھے

    سابق پی ٹی آئی ایم این اے کوٹ ادو شبیر علی قریشی ملتان سے گرفتار
    ملتان: سابق پی ٹی آئی ایم این اے کوٹ ادو شبیر علی قریشی ملتان سے گرفتارکر لئے گئے،ا شبیر علی قریشی کو انکے وکیل طارق محمود ڈوگر کے چیمبر سے گرفتار کیا گیا ،وکلاء کے موبائل فون اور گاڑی کی چابیاں بھی چھین لی گئی۔ شبیر علی قریشی الیکشن ٹریبونل میں کاغذات نامزدگی مسترد کیے جانے پر پیش ہوئے تھے

    اعظم نیازی،ایمان طاہر،علی ناصر بھٹی، ناز طاہر ،راجہ راشد حفیظ کےکاغذات منظور
    راولپنڈی،این اے 90 میانوالی سے اعظم خان نیازی کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف اپیل منظور کر لی گئی،ریٹرنگ افیسر کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا، گیا،اعظم خان نیاِزی کو الیکشن لڑنے کی اجازت مل گئی،حلقہ این اے 56 اور پی پی 17 سے تحریک انصاف کے راجہ راشد حفیظ کی اپیل منظور کر لی گئی،حلقہ این اے 58 اوع پی پی 20 چکوال سے علی ناصر بھٹی کی اپیل منظور کر لی گئی،میجر ریٹائرڈ طاہر صادق کی دو بیٹیوں کے کاغذات نامزدگی پر اعتراضات مسترد کاغذات نامزدگی منظور ،الیکشن ٹریبونل نے ریٹرننگ افس کے جانب سے عائد کردہ اعتراض مستردکر دیئے ،حلقہ این اے 50 سے ایمان طاہر اور ناز طاہر نے کاغذات مسترد ہونے کے خلاف اپیل کی تھی

    این اے 236 سے پی ٹی آئی رہنما فردوس شمیم نقوی کے کاغذات منظور
    الیکشن ٹریبونل کے جج جسٹس خادم حسین تنیو نے این اے 236 سے پی ٹی آئی رہنما فردوس شمیم نقوی کی اپیل کی سماعت کی،الیکشن ٹریبونل نے فردوس شمیم نقوی کی اپیل منظور کرلی ،الیکشن ٹریبیونل نے ریٹرنگ افسر کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے نامزدگی فارم بحال کردیے ،فردوس شمیم نقوی کے کاغزات منظور کرلیے ،وکیل نے کہا کہ پی ٹی آئی کے کاغذات سیاسی بنیادوں پر مسترد کیے جارہے تھے اسلئے ایک سے زیادہ کاغزات جمع کراۓ، جسٹس خادم حسین نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ سیاسی تقریرنا کریں آپ صرف قانون کی بات کریں ، وکیل نے کہا کہ پارٹی کا نشان نہ ہونے پر کاغزات مسترد کیے گئے ،جسٹس خادم حسین نے کہا کہ یہ تو پارٹی بعد میں فیصلہ کرے گی کون امیدوار ہوگا، جانچ پڑتال کے مرحلے پر کیسے مسترد ہوگئے،قانون بتائیں کس شق کے تحت کاغزات نامزدگی کے وقت انتخابی نشان ہونا ضروری ہے ؟ کیا تحریک انصاف نے امیدوار سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے ؟ اعتراض کنندہ نے کہا کہ بیان حلفی میں پارٹی کا تعلق بتانا ضروری ہے جو فردوس شمیم نقوی نے نہیں کیا ، جب بیان حلفی میں ہی غلط معلومات دی گئی ہیں تو کاغزات کیسے منظور ہوں گے ؟الیکشن ٹربیونل نے کہا کہ آپ کو کیسے پتا ان کا تعلق پی ٹی آئی سے نہیں ہے ؟ فردوس شمیم نقوی این اے 236 سے ریٹرننگ افسر نے کاغذات نامزدگی مسترد کردیے تھے

    پرویز الہیٰ، مونس الہیٰ کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کیخلاف اپیلوں پر نوٹس جاری
    پرویز الہی، مونس الہی اور قیصرہ الہی کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے خلاف اپیلوں پر سماعت ہوئی،جسٹس راحیل کامران نے ریٹرننگ آفیسر سے کل جواب طلب کرلیا ،ٹربیونل نے اپیلوں پر رجسٹرار آفس کا اعتراض ختم کردیا ،رجسٹرار آفس نے ریٹرننگ آفیسر کے فیصلے کی کاپی ساتھ نہ لگانے کا اعتراض لگایا تھا ، پرویز الہی مونس الہی اور قیصرہ الہی نے قومی اور صوبائی اسمبلی کے حلقوں سے کاغذات مسترد ہونے کے خلاف ایپلٹ ٹریبیونل میں اپیلیں دائر کی، درخواست میں‌مؤقف اپنایا کہ ریٹرننگ افسران نے خلاف قانون کاغذات نامزدگی مسترد کی ہے ، ٹربیونل ریٹرننگ افسران کے فیصلوں کو کلدم قرار دے کر کاغذات نامزدگی منظور کرے.

    اسلام آباد کے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد کئے جانے کے خلاف 51 اپیلوں پر نوٹسسز جاری
    اسلام آباد ہائی کورٹ، الیکشن اپلیٹ ٹریبونل ،عام انتخابات کے لیے اسلام آباد کے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد کئے جانے کے خلاف 51 اپیلوں پر کل کےلئے نوٹسسز جاری کر دیئے گئے،پی ٹی آئی کے الیاس مہربان، عامر مغل، شیراز کیانی، زبیر فاروق و دیگر کی اپیلوں پر الیکشن کمیشن کو نوٹسسز جاری، کل تک جواب طلب کر لیا گیا،الیکشن اپلیٹ ٹریبیونل کے جج جسٹس ارباب محمد طاہر نے کیس کی سماعت کی،الیکشن کمیشن کی جانب سے ضیغم انیس عدالت کے سامنے پیش ہوئے،شیراز کیانی کی جانب سے رضوان شبیر کیانی ایڈوکیٹ عدالت پیش ہوئے، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ میرے خلاف اعتراض ہے کہ موٹر سائیکل اور گاڑی کا نہیں بتایا،موٹر سائیکل اور گاڑی تین سال پہلے بیچ دی ہیں،عدالت نے وکیل الیکشن کمیشن سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ان تمام کیسسز میں کل کےلئے نوٹسسز کرونگا،

    آپ تو اشتہاری ہیں ناں؟ عدالت کا امیدوار سے مکالمہ
    عامر مغل کی جانب سے عادل عزیز قاضی ایڈوکیٹ عدالت پیش ہوئے ،وکیل نے کہا کہ اعتراض ہے کہ آپ دو مقدمات میں نامزد ہیں، عدالت نے وکیل عامر مغل سے استفسار کیا کہ آپ تو اشتہاری بھی ہیں ناں؟ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ متعلقہ عدالت کے سامنے سرنڈر کر چکا ہوں، ان دو مقدمات کا علم نہیں تھا،

    عدالت نے الیاس مہربان کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ پر اعتراض ہے کہ آپ کے خلاف مقدمات درج ہیں، وکیل الیاس مہربان نے کہا کہ کہا گیا کہ میرے خلاف تین مقدمات درج ہیں،تینوں ایف آئی آرز کی کاپیاں میرے پاس ہیں مگر کہیں پر میرا نام نہیں،وکیل زبیر فاروق نے کہا کہ میرے کاغذاتِ پر تین اعتراضات ہیں، مقدمات ، انکم ٹیکس اور اثاثے نہ بتانے کا اعتراض میرے کاغذات پر لگایا گیا ،مقدمات میں 2019 میں بری ہوچکا ہوں، گاڑی کا حوالہ دیا جو بیچ چکا ہوں، انکم ٹیکس جون تک میرا کلئیر ہے اور اثاثے بھی ڈکلیئر ہیں،الیکشن اپلیٹ ٹریبونل نے تمام اپیلوں پر الیکشن کمیشن کو کل کےلئے نوٹسسز جاری کر دیئے،عدالت نے اپیلوں پر سماعت کل تک کےلئے ملتوی کردی

    خواجہ سرا نایاب علی کے کاغذات نامزدگی منظور ہونے پر اعتراض، نوٹس جاری
    اسلام آباد سے خواجہ سرا نایاب علی کے کاغذات نامزدگی منظوری پر بھی اعتراض کر دیا گیا،کاغذات نامزدگی جمع کرانے والی نایاب علی کے کاغزات منظوری کے خلاف اپیل پر سماعت ہوئی،الیکشن اپلیٹ ٹریبیونل کے جج جسٹس ارباب محمد طاہر نے کیس کی سماعت کی،وکیل نے کہا کہ نایاب علی کے کاغذاتِ پر ٹرانسجینڈر ہونے کی وجہ سے اعتراض ہے، ان کے شناختی کارڈ میں میل، فی میل نہیں بلکہ ایکس لکھا ہے، جب تک ان کے شناختی کارڈ پر میل یا فی میل نہ لکھا ہو یہ انتخابات نہیں لڑسکتے، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے اس معاملے کو ریٹرننگ افسر کے پاس اٹھایا تھا؟ آپکی درخواست ہی مکمل نہیں، اس درخواست کو میں یہاں پر خارج کرسکتاہوں،آپ نے جو اعتراضات اٹھائے تھے کیا وہ تحریری تھے یا زبانی تھے؟ عدالت نےفریقین کو نوٹسسز جاری کر دیئے اورپیر تک کے لئے جواب طلب کر لیا

    سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کے کاغزات نامزدگی منظور
    الیکشن ٹربیونل نے شیخ رشید کی اپیل منظور کر لی ریٹرننگ آفیسر کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا،حلقہ این اے 56 سے کاغذات نامزدگی درست قرار ۔تمام اعتراضات مستردکر دئے گئے،حلقہ این اے 57 سے کاغذات نامزدگی درست قرار ۔اعتراضات مسترد کر دئے گئے،الیکشن ٹریبونل کے جج مرزا وقاص رئوف نے اپیل پر فیصلہ سنا دیا

    مسلم لیگ ضیا کے اعجاز الحق کے کاغذات نامزدگی بھی منظور
    لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ نے پاکستان مسلم لیگ ضیاء الحق شہید کے سربراہ اعجاز الحق کے کاغذات نامزدگی منظور کر لئیے لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ نے اعجاز الحق کے کاغذات پر ریٹرننگ افسر کے اعتراضات کو مسترد کردیا

    تمام امیدواران کو الیکشن کا برابر موقع ملنا چاہئے

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

    ٹکٹوں کی تقسیم،ن لیگ مشکل میں،امیدوار آزاد لڑیں گے الیکشن

    کسی بھی امیدوار کے تجویز ،تصدیق کنندہ کی ہراسگی برداشت نہیں ہوگی،عدالت

     این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    الیکشن کمیشن کا فواد حسن فواد کو عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

  • ن لیگ نے بلوچستان سے قومی وصوبائی امیدواروں کو ٹکٹ دے دیئے

    ن لیگ نے بلوچستان سے قومی وصوبائی امیدواروں کو ٹکٹ دے دیئے

    ن لیگ نے بلوچستان کے لیئے قومی و صوبائی اسمبلی کی نشتوں پر امیدواروں کا اعلان کر دیا

    مسلم لیگ ن نے بلوچستان سے قومی اسمبلی کی نشتوں کے لیئے پارٹی ٹکٹ کا اعلان کر دیا گیا،این اے 252 کے لیئے سردار یعقوب ناصر، این اے 253 سردار دوستین ڈومکی، این اے 254 عبدالغفور،این اے 255میر خان محمد جمالی، این اے 256 عبدالخالق، این اے 257 جام کمال، این اے 258 اسلم بلیدی،این اے 259یعقوب بزنجو، این اے 260 سردار فتح حسنی، این اے 261 میر عطااللہ لانگو، این 262 نواب سلمان خلجی،این اے 263 جمال شاہ کاکڑ، این اے 264 حاجی ارض محمد باریچ، این اے 265 سعید اللہ ترین، این اے 266 حاجی عبدالمنان درانی مسلم لیگ ن کے امیدوار ہوں گے

    تمام امیدواران کو الیکشن کا برابر موقع ملنا چاہئے

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

    ٹکٹوں کی تقسیم،ن لیگ مشکل میں،امیدوار آزاد لڑیں گے الیکشن

    کسی بھی امیدوار کے تجویز ،تصدیق کنندہ کی ہراسگی برداشت نہیں ہوگی،عدالت

     این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    الیکشن کمیشن کا فواد حسن فواد کو عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

  • انتخابات سے متعلق سروے کرنے پر ٹی وی چینلز کیخلاف کارروائی کا حکم

    انتخابات سے متعلق سروے کرنے پر ٹی وی چینلز کیخلاف کارروائی کا حکم

    انتخابات سے متعلق سروے کرنے پر ٹی وی چینلز کیخلاف کارروائی کا حکم، الیکشن کمیشن نے پیمرا کو ہدایت دے دی

    الیکشن کمیشن کی جانب سے چیئرمین پیمرا کو مراسلہ ارسال کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے والے میڈیا کے خلاف ایکشن لیا جائے,بعض چینلز پول سروے نشر کر رہے ہیں، ضابطہ اخلاق کے مطابق اسکی ممانعت ہے ، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو پولنگ اسٹیشن اور حلقوں سے سروے اور پول کرانے سے روکا گیا ہے ،یہ سرگرمیاں ووٹر پر اثر انداز ہوتی ہیں اور الیکشن عمل میں خلل ڈالتی ہیں، پیمرا ایسے چینلز کے خلاف فوری ایکشن لے کر رپورٹ جمع کرائے

    letter

    الیکشن کمیشن نے قومی میڈیا کے لیے 17 نکاتی ضابطہ اخلاق جاری کر دیا
    قومی میڈیا میں پرنٹ، الیکٹرانک، ڈیجیٹل میڈیا اور سوشل میڈیا انفلونسرز شامل ہیں،جاری ضابطہ اخلاق کے مطابق الیکشن مہم کے دوران قومی میڈیا پاکستان کے نظریات، خودمختاری اور سیکورٹی کے خلاف تعصب پر مبنی رائے کی عکاسی نہیں کرے گا،ایسے بیانات یا الزامات جن سے قومی اتحاد، امن و امان کی صورت حال کا خطرہ ہو کو نشر نہیں کیا جائے گا،کوئی ایسا مواد شامل نہیں ہو گا جو کسی امیداوار، سیاسی جماعت پر صنف، مذہب، برادری کی بنیاد پر زاتی حملہ ہو، خلاف ورزی پر قانونی کاروائی ہو گی،ایک امیدوار کے دوسرے امیدوار پر الزام پر دونوں اطراف سے بیان اور تصدیق کی جائے گی،پیمرا، پی ٹی اے، پی آئی ڈی،وزارت اطلاعات کا سائبر ڈیجیٹل ونگ سیاسی جماعتوں اور امیداروں کو دی گئی کوریج مانیٹر کرے گا، امیداور اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے ادائیگی کی تفصیلات پولنگ ڈے کے 10 دن کے اندر دے گا، پیمرا، پی ٹی اے، پی آئی ڈی،وزارت اطلاعات کا سائیبر ڈیجیٹل ونگ ضابطہ اخلاق پر عملدرامد کے لیے الیکشن کمیشن کی معاونت کرے گا،حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے میڈیا نمائندوں اور ہاوسز کو تحفظ فراہم کریں گے،قومی خزانہ سے کسی سیاسی جماعت یا امیدوار کی مہم نہیں چلائی جائے گی،ووٹرز کی اگہی کے پروگرام چلائے جائیں گے ، الیکشن کے دن سے 48 گھنٹے قبل الیکشن میڈیا مہم ختم کر دی جائے گی،الیکشن عمل میں رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی،انٹرنس ایگزٹ پولز، پولنگ اسٹیشن یا حلقے میں سروے سے اجتناب کیا جائے گا جس سے ووٹر متاثر ہو،صرف تسلیم شدہ میڈیا نمائندگان ایک دفعہ کیمرے کے ساتھ پولنگ عمل کی ویڈیو بنانے پولنگ اسٹیشن میں داخل ہوں گے، خفئہ بیلٹ کی ویڈیو نہیں بنائی جائیں گی،میڈیا نمائندگان گنتی کا بغیر کیمرا کے مشاہدہ کریں گے،میڈیا نمائندگان الیکشن سے قبل، دوران یا بعد میں رکاوٹ نہیں ڈالیں گے،پولنگ ختم ہونے کے ایک گھنٹے تک نتیجہ نشر نہیں کیا جائے گا،نتائج نشر کرتے وقت بتایا جائے گا کہ یہ غیر سرکاری، نامکمل نتائج ہیں جنھیں آر او کی جانب سے اعلان تک حتمی نہ سمجھا جائے،ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر صحافی یا میڈیا ادارے کی ایکریڈیشن ختم کی جا سکتی ہے،

    تمام امیدواران کو الیکشن کا برابر موقع ملنا چاہئے

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

     این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    الیکشن کمیشن کا فواد حسن فواد کو عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

    ٹکٹوں کی تقسیم،ن لیگ مشکل میں،امیدوار آزاد لڑیں گے الیکشن

    تحریک انصاف کے وکیل شعیب شاہین چیف جسٹس پاکستان کے سامنے پیش

  • عام انتخابات،کاغذات نامزدگی مسترد ہونے پر اپیلیں دائر ہونا شروع

    عام انتخابات،کاغذات نامزدگی مسترد ہونے پر اپیلیں دائر ہونا شروع

    عام انتخابات 2024، سکروٹنی کا عمل مکمل ہونے کےبعد کاغذات نامزدگی مسترد کیے جانے کے خلاف آج سے اپیلیں سنی جائیں گی، کاغذات نامزدگی مسترد ہونے یا ان کی منظوری کے خلاف اپیلیں 3 جنوری تک دائر کی جاسکتی ہیں، الیکشن ٹربیونل اپیلوں پر 10 جنوری تک فیصلہ کرے گا،اپیلیں جمع کروانے کے لئے ہائی کورٹس میں امیدواروں کی اپیلوں کی وصولی کے لئے خصوصی سیل بنا دیا گیا ہے۔ریٹرننگ افسران کی طرف سے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے تحریری مصدقہ فیصلے جاری کردیے گئے ہیں ۔ ہائی کورٹ ٹربیونلز دس جنوری تک تمام اپیلوں کے فیصلے کریں گے۔

    عام انتخابات،24698 کاغذات نامزدگی میں سے 3240 مسترد کئے گئے، تفصیل جاری
    ملک بھر میں ریٹرننگ افسران کی جانب سے منظور کیے گئے کاغذات نامزدگی کی تفصیل جاری کر دی گئی، قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی جنرل نشستوں کے لیے جمع کروائے گئے 24698 کاغذات نامزدگی میں سے 22711 منظور کیے گئے ریٹرننگ افسران نے 3240 کاغذات نامزدگی مسترد کیے،قومی اسمبلی کیلئے 7 ہزار 473 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے،ریٹرننگ افسران نے چھ ہزار چار سو انچاس امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور،ایک ہزار چوبیس کے کاغذات مسترد کیے،صوبائی اسمبلیوں کیلئے اٹھارہ ہزار چار سو اٹہتر امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے،چاروں صوبوں میں دو ہزار دو سو سولہ امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد ہوئے،چار صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں کیلئے سولہ ہزار دو سو باسٹھ امیدواروں کے کاغذات منظور کیے گئے،

    election

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں قائم الیکشن ٹربیونل نے کام کا آغاز کردیا
    کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف پی ٹی آئی وکیل شعیب شاہین کی اپیلیں سماعت کے لئے مقررکر دی گئی،الیکشن ٹریبونل جسٹس ارباب محمد طاہر کل سماعت کریں گے

    میاں محمود الرشید، منصور صابر،شمیم نقوی، خرم شیر زمان،ڈاکٹر مسرورو دیگر نے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے پر اپیل دائر کر دی
    پی پی 176قصور سے ریٹرننگ افسر کا فیصلہ الیکشن ٹربیونل میں چیلنج کردیاگیا،منصور صابر انصاری نے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے فیصلے کےخلاف اپیل دائر کی،اپیل میں مؤقف اپنایا کہ پی ٹی آئی سے تعلق کی بنیاد پر ریٹرننگ افسر نے بلاجواز کاغذات نامزدگی مستردکئے۔پی پی 31گجرات سے ریٹرننگ افسر کا فیصلہ الیکشن ٹربیونل میں چیلنج کردیاگیا،ق لیگ کےضیغم عباس نے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے فیصلے کےخلاف اپیل دائر کردی،کراچی کے حلقے این اے 236 سے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف پی ٹی آئی کے رہنما فردوس شمیم نقوی کی اپیل پر ریٹرننگ افسرصوبائی اور وفاقی حکومت سے جواب طلب کر لیا گیا۔پی پی 169 سے پی ٹی آئی امیدوار سابق وزیر میاں محمودالرشید کے کاغذات نامزدگی مسترد ، میاں محمودالرشید نے ریٹرنگ آفیسر کے فیصلے کے خلاف الیکشن ٹریبونل میں اپیل دائر کر دی ،مؤقف اختیار کیا گیا کہ ریٹرنگ آفیسر نے حقائق کے برعکس کاغذات نامزدگی مسترد کیے.این اے 247 پر خرم شیر زمان نے کاغذاتِ نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف اپیل دائر کر دی۔ ڈاکٹر مسرور سیال نے این اے 230 اور 231 کے لیے آر آوز کے فیصلے کے خلاف اپیلیں دائر کیں،این اے 244 سے آفتاب جہانگیر نے کاغذاتِ نامزدگی مسترد کرنے کے خلاف اپیل دائر کر دی،این اے 245، 246 سے ڈاکٹر سعید آفریدی نے آر او کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر دی،عطاء اللّٰہ ایڈووکیٹ نے این اے 245 میں کاغذاتِ نامزدگی مسترد کیے جانے کے خلاف اپیل دائر کر دی ہے،پشاور،پی ٹی آئی رہنماعلی محمد خان کی کاغذات نامزدگی مستردہونے کیخلاف اپیل دائرکر دی گئی،علی محمد خان کے کاغذات مسترد ہونے کیخلاف اپیل پاور آف اٹارنی کے تحت دائر کی گئی،علی محمد خان نے پرسنل سیکریٹری فہد خٹک کو پاور آف اٹارنی دیا،این اے 21 مردان سے پی ٹی آئی کے امیدوار مجاہد خان، پی کے57 سے ظاہر شاہ طورو، پی کے 58 سے عبدالسلام ،پی کے 60 سے امیدوار افتخار مشوانی، پی کے 56 سے امیر فرزند خان، این اے 35 کوہاٹ سے آفتاب عالم اور این اے31 ہنگو سے یوسف خان نے اپیل دائر کی ہے.

    شعیب شاہین نے اپنے کاغذات نامزدگی مسترد کئے جانے کیخلاف اپیل دائر کردی
    اسلام آباد ہائیکورٹ،تحریک انصاف کے امیدوار شعیب شاہین نے اپنے کاغذات نامزدگی مسترد کئے جانے کیخلاف اپیل دائر کردی ،شعیب شاہین نے اسلام آباد کے تین قومی اسمبلی کے حلقوں سے کاغذات نامزدگی جمع کروائے تھے،ریٹرننگ افسر نے تینوں حلقوں سے شعیب شاہین کے کاغذات نامزدگی مسترد کردئیے تھے ،اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر اپیل میں شعیب شاہین کا ریٹرنگ افسر کا حکم کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی، استدعا کی گئی کہ ریٹرننگ افسر کا تیس دسمبر کا حکم کالعدم قرار دے کر کاغذات نامزدگی منظور کرنے کا حکم دیا جائے،

    این اے 130، نواز شریف کے کاغذات منظوری کیخلاف اپیل دائر
    سابق وزیراعظم نواز شریف کی این اے 130 سے کاغذات کی منظوری کے خلاف الیکشن ٹریبونل میں اپیل دائرکر دی گئی،اپیل پاکستان عوامی محاذکے سربراہ اشتیاق چودھری ایڈووکیٹ نے دائر کی ، اپیل میں مؤقف اپنایا گیا کہ نواز شریف کوسپریم کورٹ نے تاحیات نااہل قرارردیا ، نوازشریف الیکشن لڑنے کے اہل نہیں ،ریٹرننگ افسر نے حقائق کے برعکس نوازشریف کے کاغذات منظور کئے ،نوازشریف کے کاغذات نامزدگی مسترد کرکے نااہل قرار دیا جائے ،
    apeel

    شیخ رشید نے اثاثوں کی مکمل تفصیلات فراہم نہیں کیں،ریسٹ ہاؤس رکے بل بھی نہیں دیا، فیصلہ
    شیخ رشید احمد کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا گیا،ریٹرننگ افسر سید نظارت علی نے شیخ رشید کو اعتراضات کی کاپیاں فراہم کر دی ،فیصلے میں کہا گیا کہ شیخ رشید احمد نے اپنے اثاثوں کی مکمل تفصیلات فراہم نہیں کی، ظاہر کردہ اثاثوں کی مالیت سرمایہ کاری سے مطابقت نہیں رکھتی،شیخ رشید نے کاغذات میں سال 2021 سے 2023 کی آمدن کا ذکر نہیں کیا،محکمہ جنگلات مری کے ریسٹ ہاوس کا بل بھی ادا نہیں کیا گیا، شیخ رشید نے ادائیگی کے بغیر 4 ستمبر 2022 سے 9 ستمبر 2022 تک ریسٹ ہاوس میں قیام کیا، شیخ رشید احمد کے ذمہ 3 لاکھ 22 ہزار روپے سرکاری بل واجب الادا ہیں،شیخ راشد شفیق بھی اپنی اہلیہ کے ٹیکس ریٹرن جمع کروانے میں ناکام رہا،شیخ راشد شفیق اپنے اثاثوں کی مکمل تفصیلات فراہم کرنے میں بھی ناکام رہا،شیخ رشید نے این اے 56 جبکہ شیخ راشد شفیق کے این اے 57 سے کاغذات نامزدگی مسترد ہوئے تھے

    یہ الیکشن نہیں‌مذاق، فیصلے کی مصدقہ کاپی ابھی تک نہیں ملی، شیخ رشید
    عوامی مسلم لیگ کے سربراہ، سابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے ایک ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ این اے 56 اور 57 کے آر او نے کل شام ساڑھے 4 بجے مصدقہ کاپیاں دینے کا وعدہ کیا تھا میرے وکلاء رات 11 بجے تک وہاں بیٹھے رہے لیکن ان کو کاپیاں فراہم نہیں کی گئیں،میرا آج پہلی بار سکندر سلطان راجہ سے کہنا چاہتا ہوں کہ یہ الیکشن نہیں مذاق ہے ،ہمارے اوپر غلط، بے بنیاد الزام لگایا گیاہمیں کاپیاں فراہم کی جائے ہم ہائی کورٹ جانا چاہتے ہیں،ہمارے وکلاء آر او آفس کے باہر موجود ہیں ان کو ہدایت کی جائے کہ وہ فیصلے کی کاپی دیں،آر او کو ہدایت دی جائے کہ وہ فیصلے کی کاپی دیں تاکہ ہم اپنا حق لے سکیں،اللہ کی مدد اور عوام کی طاقت سے این اے 56 اور 57 میں اپنی جیت کا لوہا منوائیں گے

    این اے 89،عمران خان کے کورنگ امیدوار کی کاغذات نامزدگی مستر د ہونے پر اپیل دائر
    بیرسٹر عمیر خان نیازی نے کاغذاتِ نامزدگی مسترد کرنے کا ریٹرننگ افسر کا فیصلہ ،ٹربیونل میں اپیل دائر کر دی گئی،این اے 89 میانوالی سے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے کورنگ امیدوار کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے پر اپیل دائر کر دی گئی ہے،عمیر نیازی کی جانب سے یہ اپیل انکے وکلا نے راولپنڈی ٹریبونل میں دائر کی ہے، اپیلٹ ٹریبونل نے عمیر نیازی کے کاغذات مسترد کیے جانے کے خلاف اپیل سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے کل کی تاریخ مقرر کر دی ہے اور فریقین کو نوٹس جاری کر دیے ہیں،اپیلٹ ٹریبونل نے جسٹس مرزا وقاص رؤف اور جسٹس چوہدری عبدالعزیز اپیل کی سماعت کریں گے

    کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف ڈی جی خان سے تحریک انصاف کے محی الدین کھوسہ نے ایپلیٹ ٹریبونل میں اپیل دائر کردی ، محی الدین کھوسہ کے صوبائی حلقہ پی پی 260 سے کاغذات نامزدگی مسترد ہوئے تھے

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے دو ججز الیکشن ایپلیٹ ٹریبونل میں آج سے اپیلیں سنیں گے،جسٹس طارق محمود جہانگیری اور جسٹس ارباب محمد طاہر پر مشتمل الیکشن ایپلیٹ ٹریبونل کاغذات منظور یا مسترد ہونے کے خلاف اپیلوں پر سماعت کرے گا

    پشاور ہائیکورٹ کی جانب سے الیکشن ٹربیونل کے لئے نامزد ججز اپیلوں کو سنیں گے،جسٹس شکیل احمد پشاور کے لئے الیکشن ٹربیونل کے جج ہیں، جسٹس نعیم انور مینگورہ بنچ کے لئے الیکشن ٹربیونل کے جج مقرر ہیں، جبکہ جسٹس کامران حیات ایبٹ آباد اور جسٹس فہیم ولی ڈی آئی خان بنچ کے لئے الیکشن ٹربیونل کے جج ہیں،جسٹس فضل سبحان ہائیکورٹ بنوں بنچ کے لئے الیکشن ٹربیونل کے جج ہیں،

    سندھ ہائیکورٹ میں ریٹرننگ افسران کے فیصلوں کے خلاف اپیلیں دائر ہونا شروع ہوگئی ہیں،سندھ ہائیکورٹ میں قائم الیکشن ٹریبونل میں پی ٹی آئی رہنما فردوس شمیم نقوی اور آزاد امیدوار مظہر علی جونیجو کی جانب سے اپیل دائر کی گئی،فردوس شمیم نقوی کے کاغذات مسترد ہونے کے خلاف سماعت جسٹس ارشد حسین کریں گے، جبکہ مظہر علی جونیجو ایڈووکیٹ کی اپیل کی سماعت جسٹس خادم حسین تنیو کریں گے

    بلوچستان میں بھی کاغذات نامزدگی مسترد کئے جانے خلاف اپیلیں آج سے الیکشن ٹربیونل میں جمع کرائی جائیں گی، اپیلوں کی سماعت کے لئے بلوچستان ہائیکورٹ کے دو جج جسٹس ہاشم کاکڑ اور جسٹس محمد عامر نواز رانا مقرر کئے گئے ہیں،قومی اسمبلی اور مخصوص نشستوں کے لئے جمع کرائے گئے کاغذات مسترد کئے جانے پر سماعت جسٹس ہاشم کاکڑ کریں، جبکہ صوبائی اسمبلی اور بلوچستان کی مخصوص نشستوں کی سماعت جسٹس محمد عامر نواز رانا کریں گے

    واضح رہے کہ آر او نے عمران خان، پرویز الہی، سمیت پی ٹی آئی کے اکثر رہنماؤں کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیئے تھے،

    این اے 122،عمران خان کے کاغذات نامزدگی پر دائر اعتراضات پر فیصلہ محفوظ

    تمام امیدواران کو الیکشن کا برابر موقع ملنا چاہئے

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

    ٹکٹوں کی تقسیم،ن لیگ مشکل میں،امیدوار آزاد لڑیں گے الیکشن

    کسی بھی امیدوار کے تجویز ،تصدیق کنندہ کی ہراسگی برداشت نہیں ہوگی،عدالت

     این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    الیکشن کمیشن کا فواد حسن فواد کو عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

  • کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال مکمل، کون کون الیکشن لڑے گا؟

    کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال مکمل، کون کون الیکشن لڑے گا؟

    عام انتخابات، امیدواروں کی سکروٹنی کا آج آخری روز تھا، سکروٹنی مکمل کر لی گئی ہے
    تحریک انصاف کے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد کئے گئے ہیں، صرف چند امیدواروں کے کاغذات منظور ہوئے ہیں، تحریک انصاف نے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کو چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے

    کاغذاتِ نامزدگی منظور یا مسترد کیے جانے کے خلاف اپیل 3 جنوری تک کی جاسکے گی اور ان اپیلوں پر انتخابی ٹریبونل 10 جنوری تک فیصلہ کریں گے، امیدوار اپنے کاغذات 12 جنوری تک واپس لے سکیں گے، امیدواروں کو انتخابی نشان 13 جنوری کو دیے جائیں گے ،

    اسلام آباد، شعیب شاہین کے تین حلقوں سے کاغذات مسترد،بابر اعوان کے منظور
    اسلام آباد کے تین حلقوں کے لیے مجموعی طور پر 209 امیدواروں نے کاغزات نامزدگی جمع کروائے۔این اے 48 سے 61 میں سے 39 کاغذات نامزدگی منظور 22 کے مستردہو گئے،این اے 47 میں 75 میں سے36 کاغذات نامزدگی منظور -39 کےمسترد ہو گئے،این اے 46 میں سے 73 امیدواروں میں سے 41کے منظور 32کے مسترد کردئیے گئے۔
    عمران خان کے ترجمان ایڈووکیٹ شعیب شاہین کے کاغذات نامزدگی اسلام آباد کے تینوں حلقوں سے مسترد کر دیئے گئے،وکیل شعیب شاہین کے اسلام آباد کے تینوں حلقوں این اے 46,47,48 سے کاغزات نامزدگی مسترد کر دئیے گئے،،ایڈووکیٹ سپریم کورٹ نیاز اللہ نیازی کے کاغذاتِ نامزدگی این اے 47 اسلام آباد سے مسترد کر دیئے گئے،اسلام آباد حلقہ این اے 46 سے پی ٹی آئی کے امیدوار ایڈووکیٹ سردار مصروف خان اور بابر اعوان کے کاغذاتِ نامزدگی منظور کر لئے گئے،اسلام آباد کے این اے 46 سے خالد یوسف چوہدری کے کاغذات نامزدگی منظور کر لئے گئے،مسلم لیگ ن کےرہنماء زیشان نقوی اور انجم عقیل خان کے بھی کاغذات نامزدگی منظورکر لئے گئے،ڈاکٹر طارق فضل چوہدری، مصطفیٰ نواز کھوکھر، خرم نواز، عمران اشرف کے کاغذات نامزدگی منظورکر لئے گئے،این اے 48 سے سابق ڈپٹی میئر چوہدری رفعت،راجہ خرم نواز،شیخ انصر عزیز،ڈاکٹر طارق فضل چوہدری اور مصطفی نواز کھوکھر کے کاغذات نامزدگی منظور کئے گئے ہیں اسی حلقے سے پی ٹی آئی کے شعیب شاہین کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دئیے گئے۔این اے 47 سے چوہدری رفعت، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری،ن لیگ کے زیشان نقوی،آزاد امیدوار راجہ خرم نواز، پی ٹی آئی رہنماء بابر اعوان اور استحکام پاکستان پارٹی کے عامر کیانی کے بھی کاغذات نامزدگی منظور کرلئے گئے۔این اے47 سے آزاد امیدوار مصطفی نواز کھوکھر کے بھی کاغذات نامزدگی منظور کئے گئے ہیں،شعیب شاہین کے این اے47سے بھی کاغذات نامزدگی مسترد کئے گئے ہیں۔این اے 46 سے پیپلزپارٹی رہنما راجہ عمران اشرف ، مسلم لیگ ن کےرہنما زیشان نقوی اور انجم عقیل خان کے بھی کاغذات نامزدگی منظورکرلیے گئے۔ پی ٹی آئی رہنما شعیب شاہین کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دئے گئے، ڈاکٹر بابر اعوان اور انکے بیٹے عبداللہ بابراعوان کے کاغذات منظور کرلیے گئے.

    اسلام آباد کے دو حلقوں سے جماعت اسلامی کے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی بھی مسترد
    اسلام آباد کے دو حلقوں سے جماعت اسلامی کے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی بھی مستردکر دیئے گئے،این اے 47 سے کاشف چوہدری کے کاغذات نامزدگی مسترد ہوئے،این اے 48 سے جماعت اسلامی کے امیداوار ملک عبدالعزیز کے کاغذات نامزدگی مسترد ہوئے،این اے 46 سے میاں اسلم کے کاغذات نامزدگی منظور ہوگئے

    اسلام آباد، خواجہ سرا نایاب علی کے این اے 46 اور 47 سے کاغذات منظور
    اسلام آباد میں این اے 46 اور 47 سے خواجہ سرا نایاب علی کے کاغذات نامزدگی منظورہو گئے ہیں،نایاب علی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کی اور بتایا کہ اسلام آباد کے دو حلقوں سے اس کے کاغذات منظور ہو گئے ہیں،نایاب علی نے کاغذات نامزدگی جمع کرواتے وقت کہا تھا کہ ملک کی پہلی خواجہ سرا ہوں جس نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں ،میں نے حلقہ این 46 اور 47 کے لئے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں ،اسلام آبا د کے گیارہ لاکھ ووٹرز میں سے پانچ لاکھ خواتین ہیں ،میں خواتین اور کچی آبادیوں کے حقوق کے لئے کام کروں گی ،اسلام آباد کے مظلوم طبقوں کی نمائندگی کروں گی ،ایم این ایز اور ایم پی ایز آپ کو صرف الیکشن کے دنوں میں ہی نظر آتے ہیں ،اسلام آباد سب سے بڑا مسئلہ کچی آبادیوں کا ہے ،کچی آبادیوں میں رہنے والوں کے لئے کوئی متبادل نہیں دیا ،خواتین کو اسلام آباد سے کوئی نمائندگی نہیں دی گئی ،خواجہ سرا کمیونٹی کو سیاست میں ایک گالی بنا دیا ہے ،بہت سے سیاسی رہنماؤں کو خواجہ سرا کہہ کر گالی دی جاتی ہے ،مجھے آر او نے کاغذات نامزدگی نہیں دے رہے تھے ،سوشل میڈیا پر ویڈیو لگانے پر مجھ سے معذرت کی گئی

    این اے 89 میانوالی،این اے 122 لاہور، سابق وزیراعظم عمران خان کے کاغذات نامزدگی مسترد
    سابق وزیراعظم پاکستان عمران احمد خان نیازی کے NA89 میانوالی 1 سے کاغذات نامزدگی مستردکر دیئےگئے ہیں، پی پی 85 میانوالی عبدالرحمن المعروف ببلی خان کے کاغذات نامزدگی بھی مسترد کردئیے گئے ہیں،این اے 122 سے بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کاغذات نامزدگی مسترد کر دیئے گئے،ریٹرننگ افسر نے کاغذات نامزدگی پر اعتراضات کے حوالے سے محفوظ فیصلہ سنا دیا ، عمران خان این اے 122 سے الیکشن نہیں لڑ سکیں گے.

    این اے 127،لطیف کھوسہ، عطا تارڑ، بلاول،خالد نیک و دیگر کے کاغذات منظور،اعجاز چودھری کے مسترد
    حلقہ این اے 122 سے اظہر صدیق کے کاغذات نامزدگی منظور کر لئے گئے ہیں، اسی حلقہ سےمرکزی مسلم لیگ کے حافظ طلحہ سعید کے کاغذات نامزدگی بھی منظور کر لئے گئے ہیں،این اے 18 سیکرٹری جنرل تحریک انصاف عمر ایوب کے کاغذات نامزدگی منظورکر لئے گئے،این اے 8 باجوڑ سے پاکستان تحریک انصاف کے نوجوان رہنما ریحان زیب خان کے کاغذات نامزدگی منظورکر لئے گئے،این اے 99 سے تحریک انصاف کے عادل رفیع چیمہ کے کاغذات منظور کر لئے گئے،این اے 128 لاہور سے امیدوار تحریک انصاف سلمان اکرم راجہ کے کاغذات نامزدگی منظور ہوگئے۔این اے 115 شیخوپورہ امیدوار تحریک انصاف خرم شہزاد ورک اور پی پی 141 شیخوپورہ سے طیاب راشد سندھو کے کاغذات نامزدگی منظور ہوگئے۔تحریک انصاف کے حلیم عادل شیخ کراچی،اکمل باری لاہور،سعداللہ بلوچ فیصل آباد،راشد طفیل قصور کے کاغذات نامزدگی منظور ہوئے ہیں.این اے 127 سے تحریک انصاف کے امیدوار کریم کلواڑ،ظہیر عباس کھوکھر کی اہلیہ،خرم لطیف کھوسہ اور لطیف کھوسہ کے کاغذات نامزدگی منظور مگر سب سے مضبوظ امیدوار اعجاز چوہدری کے کاغذات مسترد ہوگئے۔اعجاز چوہدری نے 2018 میں اس حلقہ سے 77 ہزار ووٹ لیے تھے وہ اسی حلقہ کے رہائشی ہیں۔اسی حلقے سے بلاول زرداری،عطا تارڑ،ہما میر،سمیع اللہ، آصف جٹ، اسلم گل،خالد نیک ودیگر کے کاغذات منظور ہو گئے،این اے 128 سے شفقت محمود کے بھی کاغذات نامزدگی منظور کرلیے گئے،

    این اے 130،نواز شریف کے کاغذات منظور،یاسمین راشد کے مسترد
    علیم خان، حمزہ شہباز،خواجہ عمران نذیر، علی پرویز، چودھری سالک، حنیف عباسی،سیف الملوک کھوکھر کے کاغذات منظور

    سابق وزیراعظم، مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کے این اے 242 سے کاغذات نامزدگی منظورکر لئے گئے ہیں،این اے 122 مسلم لیگ کے رہنما خواجہ سعد رفیق کے کاغذات نامزدگی منظورکر لئے گئے،این اے 102 سے ن لیگ کے عابد شیر علی کے کاغذات منظور کر لئے گئے، این اے 102 سے استحکام پاکستان کے فرخ حیبیب اور پی ٹی آئی جہانزیب امتیاز گل کے کاغذات منظورکر لئے گئے،این اے 130 لاہور سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور کر لئے گئے جبکہ اسی حلقے سے تحریک انصاف کی یاسمین راشد کے کاغذات مسترد کر دیئے گئے،سرگودھا این اے 82 سے 11 امیدوار کے کاغذات نامزدگی منظورکئے گئے ہیں، پیپلز پارٹی کے ندیم افضل چن ، ن لیگ کے مختار احمد برتھ کے کاغذات نامزدگی منظورکئے گئے ہیں.این اے 125 لاہورسےمسلم لیگ ن کے رہنما سیف الملوک کھوکھر کے کاغذات نامزدگی منظور کر لئے گئے،حلقہ پی پی 147 سے مسلم لیگ(ن) کے رہنما حمزہ شہباز کے کاغذات نامزدگی منظور کرلیے گئے جبکہ مسلم لیگ(ن) کے رہنما مجتبیٰ شجاع الرحمٰن کے کاغذات نامزدگی بھی منظور کر لیے گئے،حلقہ این اے 119 سے مریم نواز ، عبدالعلیم خان ،خواجہ عمران نذیر ،شائستہ پرویز، علی پرویز کے کاغذات نامزدگی منظورکر لئے گئے،،پی پی 32 سے چودھری سالک حسین ، شافع حسین کے کاغذات نامزدگی منظورکر لئے گئے،حلقہ این اے 56 سے حنیف عباسی،دانیال چوہدری کے کاغذات نامزدگی منظور کرلئے گئے،حلقہ این اے 242 ضلع کیماڑی سے صدر مسلم لیگ (ن) شہباز شریف کے کاغذات نامزدگی منظور کر لئے گئے، اسی حلقے سے ایم کیو ایم پاکستان کے مصطفیٰ کمال ، پیپلز پارٹی کے قادر مندوخیل، پاکستان تحریک انصاف کے رضوان خانزادہ کے کاغذات نامزدگی بھی منظور ہوگئے.

    این اے 100، رانا ثناء اللہ، انکی اہلیہ، داماد کے کاغذات منظور، پی ٹی آئی امیدوار کے مسترد
    این اے 100 سے سابق وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کے کاغذات نامزدگی منظور کر لئے گئے،رانا ثنا اللہ کی اہلیہ نبیلہ ثنا، داماد احمد شہریار کے کاغذات منظور کر لئے گئے،پی ٹی آئی کے ڈاکٹر نثار احمد جٹ کے کاغذات مسترد کر دیئے گئے، پیپلز پارٹی کی سدرہ سعید بندیشہ کے کاغذات منظورکر لئے گئے،جماعت اسلامی کے عظیم طاہر رندھاوا کے کاغذات منظورکر لئے گئے،این اے 99 سے ن لیگ کے میاں فاروق ، قاسم فاروق ، تحریک انصاف کے عادل رفیع چیمہ کے کاغذات منظور کر لئے گئے،تحریک انصاف کے عمر فاروق کے کاغذات مستردکر دیئے گئے،

    جہانگیر ترین، جاوید ہاشمی، عون چودھری کے کاغذات منظور،معاویہ اعظم طارق کے مسترد
    ملتان این اے 149 سے جاوید ہاشمی، جہانگیرترین، عامر ڈوگر کے کاغزات نامزدگی منظورکر لئے گئے ہیں،این اے 124 سے استحکام پاکستان کے رہنما عون چوہدری کے کاغذات نامزدگی منظور ہو گئے،جہانگیر ترین کے این اے 155 لودھراں سے کاغذات نامزدگی منظورکر لئے گئے،جہانگیر ترین کے پی پی 227 لودھراں سے بھی کاغذات نامزدگی منظورکر لئے گئے،سابق نگران وفاقی وزیر اور پیپلزپارٹی کےرہنما میر سرفراز بگٹی کے کاغذات نامزدگی بھی منظور کرلیے گئے،سرفراز بگٹی پی بی 10 ڈیرہ بگٹی سے انتخابی میدان میں اترے ہیں۔چیئرمین سیںٹ صادق سنجرانی کے کاغذات نامزدگی این اے 260 اور پی بی 32 چاغی سے منظور کر لئے گئے،این اے 65 پشین میں فضل الرحمان کے کاغذات نامزدگی منظورکر لئے گئے،حلقہ این اے 53، آزاد امیدوار چودھری نثار علی خان، استحکام پاکستان کے غلام سرور خان، مسلم لیگ ن کے انجینئر قمر الاسلام کے کاغذات نامزدگی منظور کرلیے گئے۔

    سراج الحق،عامر کیانی، ملک ابرار کے کاغذات منظور،راجہ بشارت،اعجازالحق کے مسترد
    پرویز خٹک،مولانا فضل الرحمان، امیر مقام،امیر حیدر ہوتی، غلام احمد بلور،ایمل ولی خان کے کاغذات منظور

    لوئر دیر سے سراج الحق کے کاغذات منظور جبکہ پی ٹی آئی کے سابق رکن قومی اسمبلی محمد بشیر خان کے کاغذات نامزدگی مستردکر دیئے گئے،این اے 55 سے استحکام پاکستان پارٹی کے عامر محمود کیانی، ن لیگ کے ملک ابرار کے کاغذات منظور، مسلم لیگ ضیاء کے اعجاز الحق،پی ٹی آئی کے راجہ بشارت، راجہ ناصر، عمر تنویر بٹ کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیئے گئے.این اے 44 ڈیرہ اسماعیل خان سے جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے کاغذات منظور کرلیے گئے، چیئرمین پی ٹی آئی پی پرویز خٹک کے این اے 33 نوشہرہ سے ،مسلم لیگ ن کے امیر مقام کے این اے 11 شانگلہ سے ، این اے 22 مردان سے عوامی نیشنل پارٹی کے امیر حیدر ہوتی کے کاغذات نامزدگی کو منظورکرلیا گیا ، این اے 32 پشاور سے عوامی نیشنل پارٹی کے غلام احمد بلور ،این اے 25 چارسدہ سے اے این پی کے ایمل ولی خان ،این اے 27 سے سابق ارکان قومی اسمبلی نور الحق قادری اور اقبال آفریدی کے کاغذات نامزدگی بھی منظورکرلیے گئے

    کراچی ضلع جنوبی پی ایس 106،صوبائی اسمبلی کی نشست پی ایس 106 پر 31 امیدواروں کے کاغذات منظور کئے گئے ہیں،ریٹرننگ آفیسر کی منظوری کے بعد فہرست آویزاں کر دی گئیں ،شازیہ عمر ،سید عبدالرشید ،عبدالوحید ہنگورو،عبدالغفور سومرو کے کاغذات منظور کئے گئے ہیں،پی ایس 106 کی نشست پر 32 امیدواروں نے کاغذات جمع کروائے تھے

    این اے 234 سے 27 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد،صرف چھ کے منظور
    شہر قائد کراچی کے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 234 میں سب سے زیادہ کاغذات نامزدگی مسترد کئے گئے ہیں، این اے 234 میں 33 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے تھے جس میں سے 27 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد کئے گئے ہیں،صرف چھ امیدواروں کےکاغذات منظور کئے گئے ہیں،این اے 234 سے ایم کیو ایم کے صادق افتخار، پیپلز پارٹی کے محمد علی راشد اور پی ٹی آئی کے امیدوار فہیم خان کے کاغذات مسترد ہوئے ہیں، این اے 234 سے ن لیگ کے سلیم ضیا کے کاغذاتِ نامزدگی منظور ہوئے ہیں.این اے 234 سے تحریک لبیک کے امیدوار عبدالستار،بہری کمال،دلاور گلزار،فراز الرحمان،محمد شاہد کے کاغذات نامزدگی منظور ہوئے ہیں،

    پی پی 284 سے سابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے کاغذات نامزدگی منظورکر لئے گئے ہیں،سابق وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان احمد خان نے آزاد حیثیت سے کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے ،2018 کے انتخابات میں سابق وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان احمد خان بزدار حلقہ 285 سے پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے تھے ۔

    این اے 128،کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے بعد چاہت علی خان نے بڑا مطالبہ کر دیا
    چاہت فتح علی خان کا بھی الیکشن لڑنے کا خواب پورا نہ ہو سکا، این اے 128 سے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیئے گئے، چاہت فتح علی خان کے کاغذات نامزدگی دوہری شہریت کی وجہ سے مسرد کئے گئے، کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے بعد چاہت فتح علی خان کا کہنا تھا ، آج میری سکروٹنی تھی ، میرے کاغذات مسترد کر دیئے کہ میرے پاس دو شہریت ہیں، ایک پاکستان کی اور ایک برطانیہ کی، پاکستان کے قانون میں ہے کہ دو شہریتیں رکھ سکتا ہوں، اس وجہ سے میرے کاغذات مسترد ہو گئے ایک کروڑ پاکستانی دنیا میں‌آباد ہیں، ہر ہفتے کروڑوں ڈالر پاکستان بھیجتے جس کی وجہ سے ہماری اکانومی ٹھیک رہتی ہے، مودبانہ گزارش ہے کہ ایسا لا بنائیں کہ جن کو ملک کی خدمت کرنے کا شوق ہو وہ الیکشن میں حصہ لے سکیں

    قاسم سوری،شاہ محمود قریشی،زین قریشی،خرم لطیف کھوسہ کے کاغذات نامزدگی مسترد
    اختر مینگل،حماد اظہر، نعیم حیدر پنجوتھا، میجر (ر) غلام سرور چیمہ، عادل سعید گجر ،چودھری غلام عباس، احسن عباس ایڈووکیٹ ،عمران خان کے کزنز عرفان اللہ نیازی، رفیق خان نیازی کے کاغذات نامزدگی مسترد

    تھرپارکر کے قومی اسمبلی حلقے این اے214 ون پر شاہ محمود قریشی اور انکےبیٹے مخدوم زین قریشی کے کاغذات نامزدگی مستردکر دیئے گئے،این اے 44، این اے 45 ڈیرہ اسماعیل خان، علی امین گنڈا پور کے کاغذاتِ نامزدگی مستردکر دیئے گئے،این اے 122 لاہور سے خرم لطیف کھوسہ کے کاغذات نامزدگی بھی مسترد کر دیئے گئے، این اے 263 سے پی ٹی آئی رہنما قاسم خان سوری کے کاغذات نامزدگی مستردکر دیئے گئے،این اے 121 سے مسرت جمشید اور ان کے شوہر جمشید اقبال چیمہ کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دئیے گئے ۔این اے 82عمران خان کے وکیل نعیم پنجوتہ کے کاغذات نامزدگی مستردکر دئیے گئے،نعیم حیدر کا کہنا ہےکہ این اے 82 سے میرے کاغذات نامزدگی بلا وجہ مسترد کر دئیے گئے ہیں.آپ کا کپتان کے ایک کھلاڑی سے یوں خوف زدہ ہو جانا ہمارے لیے یہ ہی جیت ہے،این اے 72، پسرور سیالکوٹ، چودھری غلام عباس، احسن عباس ایڈووکیٹ کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیئے گئے،پی پی 90 دریا خان، بھکر،عمران خان کے کزنز عرفان اللہ نیازی، رفیق خان نیازی کے کاغذات نامزدگی مستردکر دیئے گئے،پی پی 172 سے سابق وفاقی حماد اظہر کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیے گئے،ملتان این اے 151 سے بھی وائس چیئرمین پی ٹی آئی شاہ محمود قریشی کے کاغذات مسترد کردئے گئے ، این اے 151 سے زین قریشی ، مہر بانو قریشی کے کاغزت نامزدگی مستردکر دیئے گئے،ملتان کے حلقہ پی پی 218 سے شاہ محمود قریشی کے کاغذات مستردکر دیئے گئے،پی پی 202، تحریک انصاف کے میجر (ر) غلام سرور چیمہ، عادل سعید گجر کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیئے گئے،پی پی 203،رائے حسن نواز، رائے مرتضیٰ اقبال، رائے محمد اقبال کے کاغذات مستردکر دیئے گئے،این اے 130 یاسمین راشد کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیئے گئے،این اے 73 ڈسکہ، سیالکوٹ، علی اسجد ملہی، باؤ رضوان کے کاغذاتِ نامزدگی مسترد کر دیئے گئے،باجوڑسے منتخب سابق رکن قومی اسمبلی گل ظفر خان اور سابق صوبائی وزیر انور زیب خان کے کاغذات نامزدگی مسترد کردئے گئے،بی این پی کے سربراہ سردار اختر مینگل کے این اے 264 سے کاغذات نامزدگی مستردکر دیے گئے،پنڈی کے حلقہ این اے 57 سے پی ٹی آئی امیدوار سمابیہ طاہر کے کاغذات نامزدگی بھی مسترد کر دیئے گئے،این اے 133سے پی ٹی آئی کے عظیم الدین لکھوی کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیئے گئے، پی ٹی آئی کے سردار حسن موکل ، حاجی مقصود کے کاغذات نامزدگی مستردکر دیئے گئے،قصور سے ن لیگ کے سابقہ ایم پی اے نعیم صفدر انصاری ،سابقہ ایم این اے وسیم اختر شیخ کے کاغذات نامزدگی منظورکر لئے گئے،جھنگ سے سابق وفاقی وزیر صاحبزادہ محبوب سلطان کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیئے گئے

    اسد قیصر،شہرام ترکئی، شہریارآفریدی،عاطف خان، شاہد خٹک،پرویز الہی، مونس الہیٰ، قیصرہ الہیٰ، فواد چودھری کے کاغذات مسترد
    این اے 19 صوابی: اسد قیصر کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیئے گئے،این اے 20 صوابی: شہرام تراکئی کے کاغذات نامزدگی مستردکر دئے گئے،این اے 35، کوہاٹ: شہریار خان آفریدی کے کاغذات مستردکر دیئے گئے،این اے 38، کرک: شاہد خٹک، عنایت اللہ خٹک کے کاغذات مسترد کر دیئے گئے،پی کے 59 رہنما تحریک انصاف عاطف خان کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیئے گئے،مردان پی کے 55 اور پی کے 56 سے تحریک انصاف کے امیدوار طفیل انجم اور امیر فرزند کے کاغذات نامزدگی مستردکر دیئے گئے،سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری ان کی اہلیہ حبا فواد سمیت بیشتر امیدواروں کے این اے 61 اور پی پی 26 سے کاغذات نامزدگی مستردکر دیئے گئے،این اے 69، منڈی بہاوالدین: چودھری پرویز الہیٰ، مونس الہیٰ، قیصرہ الہیٰ کے کاغذاتِ نامزدگی مستردکر دیئے گئے،جھنگ سابق ایم پی اے مولانا معاویہ اعظم کے این اے 109 سے کاغذات نامزدگی مسترد ہوگئے،این اے 212 سے تحریک انصاف کے سید ممتاز علی شاہ کے بھی کاغذات نامزدگی مستردہو گئے، این اے 264 پر آزاد امیدوار و سابق صوبائی وزیرخالدلانگو کےکاغذات نامزدگی بھی مسترد ہوگئے ہیں ریٹرننگ افسر نے بتایا کہ نیب کیس کی وجہ سے خالد لانگوکے کاغذات مسترد کیےگئے ہیں۔پی پی 84خوشاب سے فتح خالق بندیال اور فیصل بندیال کے بھی کاغذات مستردکر دیئے گئے،پی پی 244 چشتیاں سے سابق صوبائی وزیر ملک مظفر خان کے بھی کاغذات مستردکر دیئے گئے،این اے 79 سے تحریک انصاف کے تمام اہم رہنماؤں کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیئے گئے،تحریک انصاف کے ظفر اللہ چیمہ،سہیل ظفر چیمہ، رضوان ظفر چیمہ،علی وکیل خان,رانا ساجد علی کے کاغذات مستردکر دیئے گئے،اقصی رانا،نباء اعجاز، ماجد علی کے کاغذات بھی مسترد کر دیئے گئے،ٹوبہ ٹیک سنگھ NA106سے پاکستان تحریک انصاف کے ضلعی صدر میاں عبدالباسط ایڈووکیٹ کے کاغذات نامزدگی مستردکر دیئے گئے، چوہدری سعید اکبر پی ٹی ائی ٹوبہ کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیئے گئے،حلقہ این اے 112 سے سابق ایم این اے بلال ورک اور پی ٹی آئی رہنماء رانا جمیل حسن کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیئے گئے،پی ٹی آئی رہنماء محمد نواز چڈھر کے کاغذات نامزدگی بھی مسترد کر دئیے گئے،این اے 112 سے 18 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور ہوئے.رحیم یار خان،جاوید وڑائچ NA-172، رئیس محبوب NA-174، آصف مجیدPP-262، چوہدری شفیق، نعیم شفیق PP-263، سجاد وڑائچPP-265، میاں غوثNA-170،ڈاکٹر فیصل جمیلPP-259 سب کے کاغذات نامزدگی مسترد ہو گئے،کوٹ ادو،این اے 180 سے سابق گورنر پنجاب غلام مصطفیٰ کھر اور انکی بیوی ایونیہ مصطفیٰ کھر کے کاغذات نامزدگی بھی مستردہو گئے،این اے 170 میاں غوث محمد کے کاغذات نامزدگی مستردہو گئے،این اے 172 جاوید اقبال وڑائچ کے کاغذات نامزدگی مستردہو گئے،پی پی 94چنیوٹ: تیمور امجد لالی کے کاغذات نامزدگی مستردہو گئے ،ایڈوکیٹ شیر افضل مروت کےا حلقہ NA-32 پشاور سے کاغذات نامزدگی مستردہو گئے،عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کے کاغذات نامزدگی بھی مسترد کر دیئے گئے،بہاولپور این اے 164 سے امیدوار تحریک انصاف اور طارق بشیر چیمہ کے روایتی حریف نعیم وڑائچ کے کاغذات مستردہو گئے، این اے 187 راجن پورسے سابق ایم این اے نصراللہ دریشک،سابق صوبائی وزیر حسنین بہادر دریشک کے بھی کاغذات نامزدگی مستردہو گئے،پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار اعجاز چوہدری کے این اے 127 سے کاغذات نامزدگی مسترد کردیے گئے ہیں،پی پی 88 سے سپیکر پنجاب اسمبلی سردار محمد سبطین خان کے کاغذات نامزدگی مسترد ہو گئے،سبطین خان کے بیٹوں علی اکبر خان اور علی جعفر خان کے کاغذات بھی مسترد ہوگئے،این اے 119 سے صنم جاوید اور عباد فاروق کے کاغذات نامزدگی معلومات چھپانے اور غلط بیانی کی بنیاد پر مسترد کر دئیے گئے،
    kaghzat

    شیخ رشید، شیر افضل مروت کے کاغذات مسترد،این اے 128 سےسلمان اکرم راجہ کے کاغذات نامزدگی منظور

    این اے 58 چکوال ایاز امیر ،این اے 59 پرویز الہیٰ، اہلیہ ،حافظ عماریاسر کے کاغذات مسترد
    این اے 58 چکوال سے امیدوار تحریک انصاف ایاز امیر کے کاغذات نامزدگی مستردہو گئے، این اے 59چکوال ٹو سے پرویز الہی اور ان کی اہلیہ قیصرہ الہیی،حافظ عمار یاسر کے کاغذات مسترد ہو گئے،حلقہ پی پی 20 سے چوہدری علی ناصر بھٹی،چوہدری اعجاز حسین فرحت کے کاغذات نامزدگی مستردہو گئے،حلقہ پی پی 21سے راجہ طارق افضل کالس کے کاغذات نامزدگی مسترد ہو گئے،حلقہ پی پی 22چکوال 3سے سابق صوبائی وزیر حافظ عمار یاسر کے کاغذات نامزدگی مستر د ہو گئے،فوزیہ بہرام،سردار آفتاب اکبر اور ملک فدا حسین کے کاغذات مسترد کر دیئے گئے،پی ٹی آئی تلہ گنگ کے ضلعی صدر حکیم نثار کے کاغذات نامزدگی منظور ہو گئے، حافظ عمار یاسر کے بھائی طلحہ زبیر کے کاغذات نامزدگی منظورہو گئے،اٹک سے میجرطاہرصادق سمیت 5 امیدواروں کےکاغزات نامزدگی مسترد ، میجرطاہرصادق کےبیٹےزین الہی کےکاغزات بھی مسترد کر دیے گئے

    مری، این اے 51،سات امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد
    مری قومی اسمبلی حلقہ این اے 51 لسٹ جاری کر دی گئی ،مری 36 امید واروں کے کاغذات نامزدگی جانچ پڑتال کے بعد منظور ہوئے ،سات امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دئے گئے ، پی ٹی آئی کے سابق ایم پی اے میجر ر لطاسب ستی کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیے گئے ،تحصیل صدر پی ٹی ائی سہیل عرفان عباسی کے کاغذات نامزدگی بھی مسترد کر دیئے گئے، غلام مرتضی ستی کے کاغذات نامزدگی بھی مسترد کر دیئے گئے، پی ٹی آئی کے سنئیر راہنما سردار محمد سلیم خان کے کاغذات نامزدگی منظور ہوئے ،ریٹرنگ آفیسر ڈسٹرکٹ مری کی جانب سے فائنل لسٹ جاری کر دی گئی

    آصف زرداری، بلاول، یوسف رضا گیلانی کے کاغذات نامزدگی منظور
    این اے 148 سے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے کاغذات نامزدگی منظورکر لئے گئے،پاکستان پیپلز پارٹی کے ایڈیشنل سیکرٹری جنرل و ترجمان بلاول بھٹو زرداری، ذوالفقار علی بدر کے کاغذات نامزدگی دو صوبائی حلقوں سے منظور کر لئے گئے،ذوالفقار علی بدر کے پی پی 161 اور پی پی 162 سے کاغذات نامزدگی منظورکئے گئے ہیں،پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما "سینیٹر یوسف بلوچ کے حلقہ این اے 239 اور پی ایس 107 لیاری سے کاغذات نامزدگی منظور ہوگئے ہیں.حلقہ این اے 207 سے سابق صدر آصف زرداری کے کاغذات نامزدگی منظور کر لئے گئے ہیں،حلقہ این اے 127 لاہور سے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے کاغذات نامزدگی منظور کرلیے گئے ہیں

    لاڑکانہ کے دو حلقوں سے بلاول کے کاغذات منظور
    پیپلز پارٹی کے چیئرمی بلاول زرداری کے لاڑکانہ سے کاغذات نامزدگی منظور کر لئے گئے ہیں، بلاول کے حلقہ این اے 194 اور این اے 196 سے کاغذات منظورکئے گئے ہیں،بلاول کے مقابلے میں جے یو آئی کے امیدوار مولانا راشد محمود سومرو کے بھی دونوں حلقوں سے کاغذات منظور ہو گئے ہیں،حلقہ این اے 195 سے جی ڈی اے کے صفدر عباسی کے کاغذات نامزدگی منظور ہوگئے ہیں,دوسری جانب صوبائی اسمبلی کی نشستوں کے لیے لاڑکانہ کے حلقہ پی ایس 10 سے فریال تالپور حلقہ اور پی ایس 13 سے پیپلز پارٹی کے عدنان الطاف انڑ کے کاغذات نامزدگی منظور ہوگئے ہیں۔

    مرکزی مسلم لیگ کے نواز شریف،مریم نواز،خواجہ سعد رفیق کے مقابلے میں امیدواروں کے کاغذات منظور
    پاکستان مرکزی مسلم لیگ لاہور کے امیدواران کی سکروٹنی مکمل کاغذات نامزدگی منظورکر لئے گئے،پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو کے این اے 130 سے کاغذاتِ نامزدگی منظور کر لیے گئے ،خالد مسعود سندھ نواز شریف کے مقابلے میں الیکشن لڑیں گے، حافظ طلحہ سعید کے این اے 122 سے کاغذاتِ نامزدگی منظور کر لیے گئے،حافظ طلحہ سعد خواجہ سعد رفیق کے مقابلے میں میدان میں ہوں گے، انجنئیر عادل خلیق کے پی پی 145 سے کاغذات نامزدگی منظورہو گئے، انجنئیر حارث ڈار کے این اے 129 حارث ڈار سے کاغذات نامزدگی منظورہو گئے،حافظ عبد الروف کے این اے 119 سے کے کاغزات نامزدگی منظورہو گئے،حافظ راشد سندھو کے این اے 123 سے کاغذات نامزدگی منظورہو گئے، عمران لیاقت بھٹی کے این اے 126 سے کاغذات نامزدگی منظورہو گئے، سیٹھ اکرم کے پی پی 164 سے کے کاغذات نامزدگی منظور ہو گئے، فہیم گل کے پی پی 154 سے کاغذات نامزدگی منظورہو گئے، عمر فاروق گجر کے این اے 120 سے کاغذات نامزدگی منظور ہو گئے، ڈاکٹر یوسف کے پی پی 158 سے کاغذات نامزدگی منظورہو گئے، میاں زاہد منیر کے پی پی 146 سے کاغذات نامزدگی منظورہو گئے، حافظ راشد محمود کے پی پی 173 سے کاغذات نامزدگی منظور ہو گئے، رانا محمد حسین عامر کےاین اے 117 سے کاغذات نامزدگی منظورہو گئے،

    جھنگ،معاویہ اعظم طارق کے این اے 109 سےکاغذات مسترد،پی پی 127 سے منظور، احمد لدھیانوی کے قومی وصوبائی دونوں‌سیٹوں پر منظور
    جھنگ کے 3 قومی اور 7 صوبائی امیدواروں کی لسٹیں جاری کر دی گئی ہیں،جھنگ کی تین قومی اور سات صوبائی اسمبلی کی نشستوں سے اہم شخصیات کے کاغذات نامزدگی منظورکئے گئے ہیں،این اے 108 سے مخدوم فیصل صالح حیات ، شیخ محمد اکرام ، غلام بی بی بھروانہ کے کاغذات نامزدگی منظور ہو گئے ہیںَ، این اے 108 سے صاحبزادہ محبوب سلطان، افتخار بلوچ ،، سمیت 3 امیدوران کے کاغذات مسترد ہو گئے ہیں، این اے 109 سے شیخ محمد وقاص اکرم، شیخ یعقوب ،غلام بی بی بھروانہ، محبوب سلطان ، محمد احمد لدھیانوی کے کاغذات منظور جبکہ شیخ محمد یونس اور مولانا معاویہ اعظم سمیت 4 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیئے گئے ہیں. این اے 110 سے صاحبزادہ امیر سلطان ، سائمہ اختر بھروانہ ، بربر علی خان ، مولانا آصف معاویہ سمیت 17 امیدوراوں کے کاغذات نامزدگی منظورکئے گئے ہیں،حلقہ پی پی 125 سے مخدوم فیصل صالح حیات ، تیمور بھٹی، غلام محمد گاڑی اور نیلم سیال سمیت تمام امیدوں کے کاغذات نامزدگی منظورکئے گئے ہیں، حلقہ پی پی 126 خرم عباس سیال ، علی نواز بھروانہ ،، غلام بی بی بھروانہ ،، مخدوم اسد حیات ،، مہر محمد اسلم بھروانہ ،، مہر محمد نواز بھروانہ کے کاغذات نامزدگی منظور جبکہ 4 امید واروں کے کاغذات نامزدگی مسترد کئے گئے ہیں، حلقہ پی پی 127 سے مولانا احمد لدھیانوی ، مسرور نواز ،،شیخ محمد اکرم ، مولانا معاویہ اعظم ، شیخ یعقوب ، راشدہ یعقوب ، شیخ شیراز اکرم ،، شیخ فواد اکرم سمیت تمام کے کاغذات نامزدگی منظور کئے گئے ہیں، پی پی 128 سے غضنفر عباس ، خالد سرگانہ، مولانا انس معاویہ ،، ڈاکٹر عبداللہ جبار سمیت تمام امیدوں کے کاغذات نامزدگی منظور کئے گئے ہیں، پی پی 129 سے محمد آصف معاویہ ، قمر حیات کاٹھیہ ، شہباز علی ، خالد غنی ،سائمہ اختر بھروانہ کے کاغذات نامزدگی منظور جبکہ 4 امیدوران کے کاغذات نامزدگی مسترد کئے گئے ہیں، حلقہ پی پی 130 سے محبوب سلطان ، امیر عباس ، نوازش علی خان ،،، شہباز احمد ،،کے کاغذات نامزدگی منظور جبکہ 2 امیدوران کے کاغذات نامزدگی مسترد کئے گئے ہیں، پی پی 131 سے میاں محمد اعظم چیلہ ،، فیصل حیات جبوانہ سمیت تمام امیدوں کے کاغذات نامزدگی منظورہو گئے ہیں.

    بہاولنگر،شوکت بسرا،انکی اہلیہ،ملک مظفر، شہزاد رشید جٹ،اعجاز فاطمہ کے کاغذات مسترد،حافظ سعد رضوی کے منظور
    بہاولنگر ، کاغذات نامزدگی سکروٹنی مرحلہ مکمل پی ٹی آئی کو بڑے جھٹکے ، الیکشن 2024 کاغذات نامزدگی کی سیکروٹنی کا مرحلہ مکمل ہوگیا ،ضلع بھر میں پی ٹی آئی کے اکثریتی مضبوط امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد ہوگئے ، پی ٹی آئی رہنماء شوکت محمود بسراء اور انکی اہلیہ کے حلقہ این اے 163 سے کاغذات نامزدگی مسترد ہو گئے،ضلعی صدر پی ٹی آئی سابق ایم پی اے ملک مظفر کے کاغذات نامزدگی مسترد ہو گئے، پرویزالہی کے قریبی ساتھی سابق مشیر وزیراعلی پنجاب شہزاد رشید جٹ کے 2 حلقوں سے کاغذات نامزدگی مسترد ہو گئے، سابق ایم پی اے پی ٹی آئی جنوبی پنجاب کے رہنماء عبداللہ وینس کے کاغذات نامزدگی بھی مسترد ہو گئے،پی ٹی آئی خواتین ونگ کی ضلعی صدر اعجاز فاطمہ کے کاغذات نامزدگی بھی مستردہو گئے،

    ضلع بہاولنگر قومی اسمبلی کی چار نشستوں پر کل 81 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے تھے ،حلقہ این اے 160 سے ٹی ایل پی کے سربراہ علامہ سعد رضوی سمیت تمام 13 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور ہوئے ہیں، حلقہ این اے 161 سے ماں بیٹا اور باپ بیٹا سمیت 28 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور ایک امیدوار کے مسترد ہوئے ہیں،حلقہ این اے 162 سے 20 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور 1 امیدوار کے مسترد کردئیے گئے . حلقہ این اے 163 سے 20 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور پی ٹی آئی کے شوکت بسراء اور انکی اہلیہ سمیت 5 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد کردئیے گئے ،ضلع بہاولنگر کی آٹھ صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر 187 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے تھے ، حلقہ پی پی 238 میں 17 امیدواروں کے کاغذات منظور جبکہ پی ٹی آئی خواتین ونگ کی ضلعی صدر اعجاز فاطمہ اور سابق مشیر پرویز الہی شہزاد رشید جٹ سمیت 3 کے کاغذات نامزدگی مسترد کئے گئے،حلقہ پی پی 239 میں 25 امیدواروں کے کاغذات منظور جبکہ سابق مشیر وزیراعلی پنجاب شہزاد رشید جٹ سمیت 4 کے کاغذات نامزدگی مسترد کردئیے گئے، حلقہ پی پی 240 سے تمام 35 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور کر لئے گئے، حلقہ پی پی 241 میں 25 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور 2 امیدواروں کے مسترد کردئیے گئے ، حلقہ پی پی 242 سے تمام 23 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور کر لئے گئے، حلقہ پی پی 243 سے 15 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور پی ٹی آئی جنوبی پنجاب کے رہنماء سابق ایم پی اے عبداللہ وینس کے کاغذات نامزدگی مسترد کردئیے گئے،حلقہ پی پی 244 سے 23 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور ضلعی صدر پی ٹی آئی سابق ایم پی اے ملک مظفر سمیت 5 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد کردئیے گئے

    مرکزی مسلم لیگ نے پورے ملک سے قومی و صوبائی حلقوں سے 529 امیدوار میدان میں اتار دیئے
    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم نے کہا ہے کہ مرکزی مسلم لیگ کی جانب سے پورے ملک سے کاغذات نامزدگی جمع کروا دئیے گئے ہیں۔تفصیلات کے مطابق مرکزی مسلم لیگ نے پورے ملک میں قومی و صوبائی حلقوں سے 529 امیدواران کو میدان میں اتار دیا ہے۔ قومی اسمبلی کے حلقہ سے 162 جبکہ صوبائی اسمبلی کے حلقہ سے 367 امیدوار میدان میں اتارے ہیں۔مرکزی مسلم لیگ کے قومی و صوبائی حلقوں کے امیدواران کی سکروٹنی کا سلسلہ جاری ہے۔ مرکزی سیکرٹریٹ سے جاری کردہ بیان میں پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم کا کہنا تھا کہ پاکستان مرکزی مسلم لیگ خدمت کی سیاست پر یقین رکھتی ہے اور اسی کو بنیاد بنا کر سیاست کے میدان میں اتری ہے۔ سیاستدانوں نے قوم کو شدید مایوس کیا ہے۔ہمارے سیاستدانوں نے ملک و قوم کی خدمت کی بجائے ایک دوسرے کی پگڑیاں اچھالنے اور آڈیو ویڈیو لیک کی سیاست کو اپنا وطیرہ بنا کر رکھا ہے۔پاکستان مرکزی مسلم لیگ ملک میں چلتی سیاسی روایت کو تبدیل کرکے حقیقی خدمت کی سیاست کا ٹرینڈ لانچ کرے گی۔

    مرکزی مسلم لیگ کراچی، قومی اسمبلی کے 19،صوبائی کے 39 امیدواروں کے کاغذات منظور
    مرکزی مسلم لیگ کراچی کے قومی اسمبلی کے لیے 19 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور کر لئے گئے،مرکزی مسلم لیگ کراچی کے 39 امیدواروں کے صوبائی اسمبلی کےلیے کاغذات نامزدگی منظور کر لئے گئے،مرکزی مسلم لیگ کے نائب صدر فیصل ندیم کے این اے 235 سے کاغذات نامزدگی منظور کر لئے گئے،مرکزی مسلم لیگ کراچی کے صدر احمد ندیم اعوان کےPS97 سے کاغذات نامزدگی منظور کر لئے گئے، مرکزی مسلم لیگ کے امیدوار عبدالرحیم کےNA229 سے،محمد شاہد صدیقNA232سے ،مدثر یعقوبNA233سے،رمحمد عمارNA234سے،انجینئر عمران علی NA236سے ،فیصل ہارون NA237سے ،محمد یوسف بھاٹی NA238سے،حمزہ میمن NA239سے،مہدی اسحاقNA240سے ،تاج محل NA241سے ،عبدلوحید عابد NA242سے ،عبدالرحیم NA243سے ،سید رباب حیدر NA245سے ،امجد اسلام امجد NA246سے ،محمد امین NA247سے،نورین کامران NA248سے،عبدالعظیم خان NA249سے،محمد بلال حیدرNA250سے ،انجینئرعمار عبداللہ رفیق PS84سے ،آدم خان PS85سے،محمد بلال PS86سے ،انیس انصاریPS89سے،مطیع اللہ PS90سے ،انجینئر نعمان علی PS91سے ،ایڈوکیٹ طاہر حمیدPS93سے،عمیر شکیل PS94سے،ہزار خان شر بلوچPS96سے،حافظ عبدالقیوم PS98سے،مفتی محمد یوسف خانPS99سے ،سید محبوب علی PS100سے، عارف PS102سے ،محمد خالد شاہ PS103سے ،محمد عمر PS104سے ، سید اسامہ اخترPS105سے،محمد عمران PS106سے ،محمد خان PS107سے ،عبدالرافعPS109سے،جنید میمن PS110سے،عبدالوہاب PS112سے ،حماد احمدPS113سے ،عبدلقادر ناگوریPS114سے،سجاد حسین اعوان PS115سے ،قاری الیاسPS116سے ،تحسین مقبولPS118سے،محمد یحییٰPS119سے ،امداد علی PS120سے، عبدالرحمن PS121 سے ،محمد فیصل چوہدریPS123سے،محمد اسلم PS124سے ،بابر احمد PS125سے ،جرائد ہمدانی PS126سے ،عمران احمد شیخ PS127سے ،اسما انصاریPS128سے،اقبال راجپوتPS129سے ،فیصل رحمن PS130 سے کاغذات نامزدگی منظورہو گئے

    این اے 223،فہمیدہ مرزا،ذوالفقار مرزا،حسام مرزا کے کاغذات مسترد
    بدین میں این اے 223 پر گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے رہنماؤں اورمرزا فیملی کے کاغذات نامزدگی مسترد کردیے گئے ہیں، مرزا فیملی کے خلاف پیپلز پارٹی کے امیدوار حاجی رسول بخش چانڈیو نے اعتراضات جمع کروائے تھے، اعتراض میں کہا گیا تھا کہ مرزا فیملی بینکوں کی نادہندہ ہے،آر او محمد نواز نے فیصلہ سنایا اور مرزا فیملی کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیئے،آر او نے این اے 223 پر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا، ذوالفقار مرزا اور ان کے بیٹے حسام مرزا کے کاغذات نامزدگی مسترد کئے،مرزا فیملی کے پی ایس 70، 71 اور 72 کا فیصلہ ہونا باقی ہے

    مریم نوازکے کاغذات نامزدگی تمام حلقوں سے منظور
    مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نوازکے کاغذات نامزدگی تمام حلقوں سے منظور ہوگئے ہیں،مریم نواز نے قومی اسمبلی کے دو حلقوں این اے 119،اور 120 جبکہ صوبائی اسمبلی کے تین حلقوں‌ پی پی 159، 160 اور 165 میں کاغذات نامزدگی جمع کروائے تھے.مریم نواز نے پنجاب اسمبلی کے سرگودھا کے ایک حلقے پی پی 80 سے بھی کاغذات جمع کروائے تھے، سرگودھا سے بھی مریم نواز کے کاغذات نامزدگی منظور کر لئے گئے ہیں، دوسری جانب مریم نواز کے کاغذات نامزدگی پر اعتراض دائر کر دیا گیا،درخواست گزار کا کہنا ہے کہ ریٹرننگ افسر کی طرف سے مصدقہ کاپی نہیں دی جا رہی،مریم نواز سزا یافتہ ہیں ، ان کی نااہلی معطل ہوئی ہے، سزا معطل نہیں ہوئی، مریم نواز نے مختلف ٹی وی چینلز پر انٹرویوز میں اثاثے مختلف بتائے ہیں، آئین کے آرٹیکل 62،63 کے مطابق مریم نواز صادق اور امین نہیں ہیں،صحافی نے درخواست گزار سے سوال کیا کہ مریم کی لیگل ٹیم سکروٹنی کروا کر جا چکی ہے،جس پر اعتراض کنندہ کا کہنا تھا کہ ریٹرننگ افسر نے اگر من مرضی کی تو آگے ٹریبونل میں جائیں گے

    این اے 50،زلفی بخاری، این اے 15 اعظم سواتی کے کاغذات مسترد
    تحریک انصاف کے رہنمازلفی بخاری کے این ایے 50 سے کاغذاتِ نامزدگی مسترد کر دیئے گئے، این اے 15 سے اعظم سواتی کے کاغذات نامزدگی بھی مسترد کر دیئے گئے،بورے والا میں پولیس پی ٹی آئی رہنما خالد نثار عائشہ نذیر کے تائید کنندہ کو گرفتار کرکے لے گئی،پولیس کی بھاری نفری مونسپل کمیٹی کے گیٹ پہ تعینات تھی،پولیس نے رات گئے پی ٹی ائی رہنماوں تائید کنندہ کے گھروں پہ بھی چھاپے مارے، پی ٹی آئی امیدوار ارشاد ارائیں کے تجویز کنندہ ماجد حبیب گرفتار کر لئے گئے،سابق ڈسٹرکٹ انفارمیشن سیکرٹری پی ٹی آئی شہباز قریشی کے گھر بھی پولیس نے چھاپہ مارا، تحریک انصاف کے سابق ایم این اے علی محمد خان کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیئے گئے ہیں،این اے 23پرانتخابات لڑنے کے لئے کاغذات نامزدگی جمع کرنے والےعلی محمد خان کا نام فائنل لسٹ میں موجود نہیں،علی محمد خان پر مختلف دفعات کے تحت مقدمات درج ہے۔کاغذات نامزدگی مسترد ہونے پر علی محمد خان کا کہنا تھا کہ میرے آبائی علاقہ مردان سے میرے کاغذات نامزدگی برائے این اے 23 بغیر کسی مناسب قانونی اور صحیح وجہ کے مسترد کر دئیے گئے،لیکن شاید یہ ” وجہ“ کافی ہے کہ میں عمران خان کے ساتھ ہوں !کوئی بات نہیں ایک امتحان اور صحیح !اس غیر قانونی اور غلط فیصلہ کے خلاف ہائی کورٹ الیکشن ٹرائیبونل میں اپیل کریںنگے۔ اپنے رب سےامید ہے انصاف ملے گا۔ نہ ہمت ہاریں گے نہ حوصلہ ہاریں گے نہ خان کو چھوڑیں گے اور نہ ہی حق کے راستے کو !افسوس اپنے کاغذاتِ نامزدگی کے مسترد ہونے کا نہیں بلکہ دکھ اس بات کا ہے کہ ملک کی جمہوریت اور انصاف کے نظام کیساتھ کھلواڑ جاری ہےاور الیکشن جیسے اہم ترین قومی زمہ داری کو مذاق بنا دیا گیا ہے۔ پاکستان زندہ باد

    این اے 90 میانوالی، پی ٹی آئی امیدوار عمارہ نیازی گرفتار
    این اے 90 میانوالی سے تحریک انصاف کی امیدوار، اور خواتین ونگ کی ضلعی صدر عمارہ نیازی کو گرفتار کر لیا گیا، عمارہ نیازی کاغذات نامزدگی کی سکروٹنی کے لئے آر او آفس پہنچی تھیں جہاں سے پولیس نے انہیں گرفتار کیا ،پولیس کے مطابق ضلع کچہری کے احاطے سے عمارہ نیازی کو گرفتار کیا گیا ہے،عمارہ نیازی 9 مئی واقعات کے مقدمات میں مطلوب تھیں

    عابد شیر علی کے این اے 102 سے کاغذات نامزدگی پر اعتراض عائد
    مسلم لیگ ن کے رہنما عابد شیر علی کے این اے 102 سے کاغذات نامزدگی پر اعتراض عائد کر دیا گیا،عابد شیر علی کے خلاف چند سال قبل پولیس کانسٹیبل کو دھمکیاں دینے کا کیس سامنے آ گیا، حلقہ کے ووٹر رانا عدنان جاوید نے ریٹرننگ افسر کو درخواست دے دی،درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ عابد شیر علی کے خلاف تھانہ مدینہ ٹاؤن کے کانسٹیبل کو دھمکیاں دینے پر دہشتگردی عدالت میں مقدمہ درج ہے، کیمینل ریکارڈ کے باعث عابد شیر علی کے کاغذات نامزدگی مسترد کیے جائیں۔

    این اے 71، عثمان ڈار کی والدہ، بیوی کے کاغذات مسترد
    این اے 71،عثمان ڈار کی ماں اور بیوی کے کاغذات نامزدگی مسترد، دونوں سرکاری ادارے کی نادہندہ نکلیں،عثمان ڈار کی والدہ نے ن لیگی رہنما خواجہ آصف کے مقابلے میں الیکشن لڑنے کا اعلان کیا تھا اور کاغذات نامزدگی جمع کروائے تھے،عروبہ ڈار کے کاغذات نامزدگی بھی مسترد کر دیے گئے، آر او نے واجبات کی عدم ادائیگی اور اثاثے ظاہر نہ کرنے پر کاغذات نامزدگی مسترد کئے

    این اے 150، شاہ محمود قریشی، زین، مہر بانو کے کاغذات نامزدگی پر اعتراض
    این اے 150 میں بھی شاہ محمود قریشی ، زین قریشی اور مہر بانو قریشی کے کاغذات نامزدگی کیخلاف اعتراض جمع ہو گئے، اعتراض مد مقابل امیدور چوہدری وحید آرائیں نے جمع کروائے ، چوہدری وحید آرائیں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں خود این اے 150 سے امیدوار ہوں ، شاہ محمود قریشی ، زین قریشی ، مہربانو قریشی نے بھی اسی حلقے سے جمع کروائے ، اتنے بڑے لیڈر شاہ محمود قریشی نے اسٹامپ پیپر جعلی جمع کروائے ، شاہ محمود قریشی نے اسلام آباد کا اسٹامپ پیپر ملتان جمع کروایا ، شاہ محمود قریشی اور ان کے تائید کنندہ کے جعلی دستخط تھے، بڑے لوگ جو مرضی بلنڈر کریں ایسا نہیں ہے کہ ان کیخلاف کوئی نہیں جاسکتا ہے۔ شاہ محمود قریشی ، زین قریشی ، مہر بانو قریشی نے غلط دستاویزات جمع کروائے تینوں امیدواروں کے کاغزات نامزدگی مسترد کرنے کی استدعا کی ہے ،

    شاہ محمود قریشی،زین ،مہر بانو قریشی کے کاغذات مسترد ہونے کا امکان
    جنرل الیکشن 2024 شاہ محمود قریشی ، زین قریشی اور مہربانو قریشی کے لیے الیکشن لڑنا مشکل ہوگیا ،شاہ محمود قریشی ، زین قریشی اور مہربانو کے وکلاء ریٹرننگ آفیسر کو اعتراضات مطمئن نہ کرسکے ، شاہ محمود قریشی کے وکلاء ریٹرننگ آفیسر کے سامنے پیش ہوئے،اعتراض کنندہ نوید الحق آرائیں نے کہا کہ شاہ محمود قریشی نے بیان حلفی میں جعل سازی کی ، کاغزات نامزدگی پر شاہ محمود کے دستخط جعلی ہیں ، شاہ محمود قریشی 91 ہزار کے ڈیفالٹر ہیں ، شاہ محمود قریشی کے تجویز اور تائید کنندہ دونوں غیر حاضر ہیں،این اے 150 سے زین قریشی پر بھی اعتراضات عائد کئے گئے، زین قریشی کے تائید کنندہ حاضر جبکہ تجویز کنندہ غیر حاضر رہے دستخط کی تصدیق نہیں ہوسکی ،مہربانو قریشی کا تجویز کنندہ این اے 150 سے نہیں ،دوسری جانب زین قریشی اور مہر بانو قریشی کے تجویز کنندہ اور تائید کنندہ کو آر او آفس کے باہر سے حراست میں لےلیا گیا،نامعلوم افراد زین قریشی اور مہر بانو قریشی کے تجویز کنندہ اور تائید کنندہ کو گاڑی میں بٹھا کر ساتھ لے گئے

    سیاست سے دستبرداری کا اعلان کرنیوالے میاں بیوی این اے 121 میں کاغذات جمع کرانے میں کامیاب
    سیاست سے دستبرداری کا اعلان کرنے والے میاں بیوی این اے 121 میں کاغذات جمع کرانے میں کامیاب ہو گئے ہیں،مسرت جمشید چیمہ اور جمشید اقبال چیمہ کے کاغذات منظور ہوں گے یا نہیں، آر او فیصلہ آج کرے گا۔این اے 121سے ن لیگ کے رہنما شیخ روحیل اصغر کے کاغذات نامزدگی منظور ہوچکے ہیں،رہنما ن لیگ سردار ایاز صادق کے کاغذات بھی منظور ہوچکے ہیں،دونوں رہنماؤں کے بیٹے کورنگ امیدوار ہیں۔قانون دان اظہر صدیق کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال ہوچکی، منظوری کا فیصلہ آج ہوگا ۔ن لیگ چھوڑ کر تحریک انصاف میں آنے والے وسیم قادر کے کاغذات کی جانچ پڑتال بھی مکمل ہوچکی ،منظوری کا فیصلہ آج ہوگا ۔وسیم قادر سابق ڈپٹی میئر لاہور اور سابق رکن صوبائی اسمبلی رہ چکے ہیں۔این اے 121 سے 24امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرواے ، جن کی جانچ پڑتال کی جاچکی ۔این اے 121 کے آر او حامد محمود ملہی ہیں۔

    علی امین گنڈا پور، مجید نیازی کے کاغذات مسترد،ایاز امیر کے کاغذات پر اعتراض
    این اے 44علی امین گنڈا پور کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیئے گئے،این اے 181لیہ سے مجید نیازی کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیئے گئے،این اے 87ملک عمر اسلم اعوان ،ملک حسن اعوان کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیے گئے،تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل عمر ایوب نے علی امین گنڈاپور اور مراد سعید سمیت دیگر پی ٹی آئی رہنماؤں کے کاغذات نامزدگی مسترد کیے جانے کی مذمت کی،علی امین خان گنڈا پور، مراد سعید، صاحبزادہ صبغت اللہ، ڈاکٹر امجد خان، فضل حکیم خان، میاں شرافت، سلیم الرحمان کے کاغذات نامزدگی مسترد کیے گئے ہیں،

    این اے 58،ایاز امیر کے کاغذات پر اعتراض، فیصلہ محفوظ
    حلقہ این اے 58 چکوال پر امیدوار قومی اسمبلی ایاز امیر کے کاغذاتِ نامزدگی پر اعتراضات عائد ہو گئے، ایاز امیر نے اعتراضات کا تسلی بخش جواب نہ دے سکے۔فیصلہ محفوظ کر لیا گیا،ایاز امیر پی ٹی آئی کے پلیٹ فارم سے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔اسی حلقہ سے استحکام پاکستان پارٹی کے ذوالفقار دولہہ امیدوار ہیں، ذوالفقار دولہہ تحریک انصاف میں تھے تاہم انہوں‌نے تحریک انصاف چھوڑ کر استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی ہے، سردار ذوالفقار دولہہ کو سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کا انتہائی قریبی تصور کیا جاتا ہے،

    صنم جاوید کے کاغذات نامزدگی پر اعتراض، بل جمع کروا دیا ، جواب
    صنم جاوید کے کاغذات نامزدگی پر اعتراضات کا معاملہ ،صنم جاوید کے وکیل شکیل احمد پاشا ریٹرننگ افسر پی پی 150 کے سامنے پیش ہو گئے،صنم جاوید کے والد اور والدہ بھی ریٹرنگ آفیسر کے سامنے پیش ہو گئے،صنم جاوید کے وکیل نے اعتراضات بارے تحریری جواب ریٹرنگ افسر کو جمع کروا دیا ، شکیل پاشا نے کہا کہ صنم جاوید کے خلاف شکایت کنندہ ریٹرنگ افسر کے سامنے پیش نہیں ہوا، صنم جاوید کو ہراساں اور پریشان کیا جا رہا ہے،جعلی شکایت کنندہ تیار کیا گیا ،صنم جاوید کے کاغذات نامزدگی پر دائر اعتراض میں کہا گیا ہے کہ صنم جاوید کے گھر کا بجلی کا بل ادا نہیں ہوا ،صنم جاوید پر اعتراض شہری محمد حفیظ نے دائر کیا ،صنم جاوید کے جواب میں کہا گیا ہے کہ صنم جاوید کے گھر کا بجلی کا بل ادا کردیا گیا ہے

    بڑے بڑے نام جنہوں نے کاغذات ہی جمع نہیں کروائے
    عام انتخابات 2024 میں کئی بڑے سیاستدانوں نے کاغذات نامزدگی جمع نہیں کروائے،اسد عمر، اسفند یار ولی ،شاہد خاقان عباسی ، فیصل واوڈا، خسرو بختیار عمران اسماعیل ، علی زیدی ،علی اعوان نے کاغذات نامزدگی جمع نہیں کروائے،خواتین سیاست دانوں میں ملیکہ بخاری ، شیری مزاری ،سمیراملک ،عندیب عباس نے کاغذات نامزدگی جمع نہیں کروائے، فخر امام ، سردار ریاض احمد خان ، نواب یوسف تالپور، اسلم بھوتانی ،محسن داوڑ، علی وزیر، نور الحق قادری ، مفتاح اسماعیل ، امجد نیازی، چوہدری شجاعت ،صداقت عباسی نے بھی کاغذات نامزدگی جمع نہیں کروائے

    این اے 122،عمران خان کے کاغذات نامزدگی پر دائر اعتراضات پر فیصلہ محفوظ

    تمام امیدواران کو الیکشن کا برابر موقع ملنا چاہئے

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

    ٹکٹوں کی تقسیم،ن لیگ مشکل میں،امیدوار آزاد لڑیں گے الیکشن

    کسی بھی امیدوار کے تجویز ،تصدیق کنندہ کی ہراسگی برداشت نہیں ہوگی،عدالت

     این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    الیکشن کمیشن کا فواد حسن فواد کو عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

    واضح رہے کہ حلقہ این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور کر لئے گئے ہیں،فیصل ندیم کے این اے 235سے کاغذات نامزدگی منظور کر لئے گئے ہیں،ایبٹ آباد پی کے 45 کے بعد این اے سترہ سے بھی سپیکر کے پی اسمبلی مشتاق احمد غنی کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیئے گئے، آر او نے مؤقف اپنایا کہ سپیکر کے پی اسمبلی عدالتی مفرور ہیں ،سفری ضمانت کے باوجود واپس نہیں آئے،این اے 264 سے اختر مینگل،این اے 262 سے ن لیگ امیدوار کے کاغذات منظورکر لئے گئے ہیں،پی پی 114 سے استحکام پاکستان کے فرخ حبیب کے کاغذات نامزدگی منظور ہو گئے ہیں،این سے 247، مصطفیٰ کمال کے کاغذات نامزدگی منظورہو گئے ہیں،این اے55 سے محمد اعجاز الحق کے کاغذات نامزدگی منظورکر لئے گئے ہیں، مرکزی مسلم لیگ کے حافظ طلحہ سعید کے این اے 122 سے کاغذات نامزدگی منظورکر لئے گئے ہیں،حافظ سعد رضوی کے کاغذات نامزدگی این اے 50 اٹک سے منظورہو گئے ہیں،ن لیگی رہنما عابد شیر علی کے کاغذات نامزدگی منظوری،میاں طاہر جمیل کے بھی منظورکر لئے گئے ہیں،مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو کے این اے 130سے کاغذات نامزدگی منظور کر لئے گئے ہیں،این اے 244 سے ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار کے کاغذات نامزدگی منظور کر لئے گئے ہیں،

  • عام انتخابات،کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال ،امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ

    عام انتخابات،کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال ،امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ

    عام انتخابات 2024، امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کا عمل جاری ہے

    عام انتخابات 2024 میں مخصوص نشستوں سے متعلق شیڈول میں تبدیلی
    الیکشن کمیشن نے ایک بار پھر انتخابی شیڈول میں تبدیلی کردی ،الیکشن کمیشن نے عام انتخابات 2024 میں مخصوص نشستوں سے متعلق شیڈول میں تبدیلی کردی.الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستوں پر کاغذات نامزدگی کی سکروٹنی کا وقت بڑھا دیا.الیکشن کمیشن کے مطابق امیدواروں کی اسکروٹنی 30دسمبر کے بجائے 13جنوری تک ہوگی،امیدواروں کے کاغذات نامزدگی پر اعتراضات 16جنوری تک دائر کئے جاسکیں گے، ٹربیونلز20جنوی تک اعتراضات پر فیصلہ کرسکیں گے، امیدوار اپنے کاغذات نامزدگی 22جنوری تک واپس لے سکیں گے، امیدواروں کی حتمی فہرست 23جنوری کوجاری ہوگی، شیڈول میں تبدیلی صرف مخصوص نشستوں پر لاگو ہیں۔ جنرل نشستوں کے شیڈول میں کوئی تبدیلی نہیں گئی۔

    اسلام آباد کے تینوں حلقوں میں سکروٹنی کا عمل جاری ہے،این اے 46 میں طلب کیے گئے 16 امیدواروں میں سے اب تک سات کی سکروٹنی مکمل ہو گئی ہے،این اے 46 سے ذیشان نقوی اور انجم عقیل خان کے کاغذات کی سکروٹنی مکمل ہو گئی ہے،این اے 47 میں طلب کیے گئے 16 امیدواروں میں سے اب تک چھ کی سکروٹنی مکمل ہو گئی ہے،این اے 48 میں طلب کیے گئے 5 امیدواروں میں سے اب تک تین کی سکروٹنی مکمل ہو گئی ہے،این اے 47 اور این اے 48 سے چوہدری الیاس مہربان اور ان کے بھائی اشتیاق مہربان کے کاغذاتِ نامزدگی کی سکروٹنی مکمل ہو گئی ہے،سکروٹنی کا عمل شام ساڑھے چار بجے تک جاری رہے گا،کاغذاتِ نامزدگی کے منظور یا مسترد ہونے کے حوالے سے فیصلہ کل کیا جائے گا.

    این اے 149،جہانگیر ترین کے الیکشن لڑنے کے خلاف دائر اعتراضات پر فیصلہ محفوظ
    این اے 149 ملتان،جہانگیر ترین کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کا معاملہ،سپریم کورٹ کی جانب سے 2017 کے تاحیات نااہلی کے فیصلے پر وکیل جہانگیر ترین نے ریٹرننگ افسر کے سامنے دلائل دیئے، وکیل نے کہا کہ الیکشن ایکٹ 2017 میں پارلیمنٹ کی جانب سے ترمیم کے بعد نااہلی کی مدت زیادہ سے زیادہ 5 سال ہوچکی،جہانگیر ترین کی نااہلی کی مدت نومبر 2022 میں مکمل ہوچکی ، جہانگیر ترین الیکشن لڑنے کے لئے مکمل طور پر اہل ہیں ، اعتراض کنندہ نے نااہلی کے فیصلے کے علاؤہ دیگر کسی نقطے پر اعتراض نہ ہونے کا اعتراف کیا،ریٹرننگ افسر حتمی فیصلہ کل 30 دسمبر کو سنائیں گے، جہانگیر خان ترین کے الیکشن لڑنے کے خلاف دائر اعتراضات پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا

    این اے 242 ،شہباز شریف کے کاغذات نامزدگی پر پیپلز پارٹی نے اعتراض عائد کر دیا
    سابق وزیراعظم ،ن لیگ کے صدر شہباز شریف کے حلقہ این اے 242 سے کاغذات نامزدگی پر اعتراض عائد کر دیئے گئے،شہباز شریف کے کاغذات نامزدگی پر اعتراض پیپلز پارٹی کے امیدوار مسعود مندو خیل نے کئے ، اعتراض میں کہا گیا کہ شہباز شریف نے وزیراعظم کی حیثیت سے تنخواہ اور مراعات لینے کا ذکر نہیں کیا،حلف نامے میں بیرون ملک جائیداد اور بیوی بچوں کو قرض دینے کا منی ٹریل نہیں دیا، وزیراعظم کے عہدے کے دوران 5 کمپنیوں سے لاتعلق رہے یا نہیں، کوئی ذکر نہیں کیا، شہباز شریف کے این اے 242 سے کاغذات نامزدگی پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا، اسی حلقے سے مصطفیٰ کمال ایم کیو ایم کے امیدوار ہیں،

    اس الیکشن کمیشن کے ہوتے ہوئے صاف شفاف الیکشن کیسے ہو سکتے؟ طلال چودھری برس پڑے
    این اے 96 جڑانوالہ سے طلال چودھری کے کاغذات نامزدگی منظور ہو گئے ہیں، اس موقع پر مسلم لیگ ن کے رہنما طلال چودھری نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن اتنا کمزور ہے کہ شیڈول بھی اپنی مرضی کا نہیں دے سکا، الیکشن کمیشن کے فیصلے بھی ہوا میں اڑا دیے جاتے ہیں، ایسا الیکشن کمیشن جو اپنے فیصلوں‌پر عمل نہیں کروا سکتا، شیڈول خود نہیں‌دے سکتا، ایسے الیکشن کمیشن کے ہوتے ہوئے صاف شفاف الیکشن کیسے ہو سکتے ہیں،الیکشن کمیشن کو دوسروں کا پابند نہیں ہونا چاہئے بلکہ عدالتوں کو الیکشن کمیشن کے پیچھے کھڑا ہونا چاہئے نہ کہ مداخلت کی جائے، فارن فنڈنگ ہوئی، آٹھ سال بعد فیصلہ کیا لیکن کسی کو سزا نہیں دے سکا، توہین الیکشن کمیشن جو کیمروں کے سامنے آئی، اس پر سٹے آجاتا ہے، الیکشن کمیشن اپنی عزت، فیصلو‌ں کو بھرم نہیں رکھ سکتا وہ پاکستان میں صاف شفاف الیکشن کیسے کروائے گا، صاف شفاف الیکشن ایک مضبوط الیکشن کمیشن سے ہوں‌گے.

    الیکشن کمیشن نے قومی میڈیا کے لیے 17 نکاتی ضابطہ اخلاق جاری کر دیا
    قومی میڈیا میں پرنٹ، الیکٹرانک، ڈیجیٹل میڈیا اور سوشل میڈیا انفلونسرز شامل ہیں،جاری ضابطہ اخلاق کے مطابق الیکشن مہم کے دوران قومی میڈیا پاکستان کے نظریات، خودمختاری اور سیکورٹی کے خلاف تعصب پر مبنی رائے کی عکاسی نہیں کرے گا،ایسے بیانات یا الزامات جن سے قومی اتحاد، امن و امان کی صورت حال کا خطرہ ہو کو نشر نہیں کیا جائے گا،کوئی ایسا مواد شامل نہیں ہو گا جو کسی امیداوار، سیاسی جماعت پر صنف، مذہب، برادری کی بنیاد پر زاتی حملہ ہو، خلاف ورزی پر قانونی کاروائی ہو گی،ایک امیدوار کے دوسرے امیدوار پر الزام پر دونوں اطراف سے بیان اور تصدیق کی جائے گی،پیمرا، پی ٹی اے، پی آئی ڈی،وزارت اطلاعات کا سائبر ڈیجیٹل ونگ سیاسی جماعتوں اور امیداروں کو دی گئی کوریج مانیٹر کرے گا، امیداور اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے ادائیگی کی تفصیلات پولنگ ڈے کے 10 دن کے اندر دے گا، پیمرا، پی ٹی اے، پی آئی ڈی،وزارت اطلاعات کا سائیبر ڈیجیٹل ونگ ضابطہ اخلاق پر عملدرامد کے لیے الیکشن کمیشن کی معاونت کرے گا،حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے میڈیا نمائندوں اور ہاوسز کو تحفظ فراہم کریں گے،قومی خزانہ سے کسی سیاسی جماعت یا امیدوار کی مہم نہیں چلائی جائے گی،ووٹرز کی اگہی کے پروگرام چلائے جائیں گے ، الیکشن کے دن سے 48 گھنٹے قبل الیکشن میڈیا مہم ختم کر دی جائے گی،الیکشن عمل میں رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی،انٹرنس ایگزٹ پولز، پولنگ اسٹیشن یا حلقے میں سروے سے اجتناب کیا جائے گا جس سے ووٹر متاثر ہو،صرف تسلیم شدہ میڈیا نمائندگان ایک دفعہ کیمرے کے ساتھ پولنگ عمل کی ویڈیو بنانے پولنگ اسٹیشن میں داخل ہوں گے، خفئہ بیلٹ کی ویڈیو نہیں بنائی جائیں گی،میڈیا نمائندگان گنتی کا بغیر کیمرا کے مشاہدہ کریں گے،میڈیا نمائندگان الیکشن سے قبل، دوران یا بعد میں رکاوٹ نہیں ڈالیں گے،پولنگ ختم ہونے کے ایک گھنٹے تک نتیجہ نشر نہیں کیا جائے گا،نتائج نشر کرتے وقت بتایا جائے گا کہ یہ غیر سرکاری، نامکمل نتائج ہیں جنھیں آر او کی جانب سے اعلان تک حتمی نہ سمجھا جائے،ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر صحافی یا میڈیا ادارے کی ایکریڈیشن ختم کی جا سکتی ہے،

    این اے 244 سے ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار کے کاغذات نامزدگی منظور
    کراچی سے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 244 سے ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار کے کاغذات نامزدگی منظور ہو گئے، اس موقع پر فاروق ستار نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ جیسے جیسے انتخابی عمل آگے بڑھ رہا ہے عوام کی دلچسپی میں بھی اضافہ ہورہا ہے، اب تک جمہوریت کے ثمرات عام آدمی تک نہیں پہنچے،ہماری بصیرت کو (ن) لیگ نے سراہا اور اتفاق کیا یہ طے کیا کہ اگر اللہ نے موقع دیا تو آئین میں ترامیم کا کام ہوگا،مسلم لیگ ن سے طے پایا کہ مل جل کر آگے بڑھنا ہے اور عوام کی خدمت کرنی ہے،جی ڈی اے کی تمام جماعتوں سے ہمارے رابطے اور ملاقاتیں ہیں، دوسرے لوگ ہمارے ساتھ نہیں چلے تو ہمارے لیے آگے ان کے ساتھ چلنا مشکل ہوگا

    عمران خان نادہندہ،سزا یافتہ،این اے 89میں کاغذات نامزدگی پر اعتراض
    بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان بھی نادہندہ نکلے ،عمران خان کے ذمہ محکمہ سوشل سیکورٹی کے 36 لاکھ 88 ہزار 6 سو 80 روپے کے نادہندہ ہیں ،عمران خان کے خلاف این اے 89 میں درخواست دی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ عمران خان نے مطلوبہ رقم کی ریکوری نہ ہونے تک کاغذات نامزدگی منظور نہ کئے جائیں،اس ضمن میں پنجاب سوشل سیکورٹی کی طرف حلقہ این اے 89 میانوالی ون کے ریٹرننگ آفیسر کو مراسلہ جاری کیا گیا ہے،امیدوار حلقہ این اے 89 کے میجر خرم حمید روکھڑی نے بھی عمران خان کاغذات نامزدگی پر اعترض اٹھا دیا ،درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ عمران خان توشہ خانہ کیس میں سزا یافتہ ہے ، آئین پاکستان کی شق 62 کے تحت عمران خان مطلوبہ معیار پر پورا نہیں اترتے ،سزا یافتہ اور نااہل ہونے کی وجہ سے عمران خان کے کاغذات مسترد کئے جائیں،سماعت کے بعد آر او نے فیصلہ محفوظ‌کر لیا جو کل سنایا جائے گا

    این اے چار سوات، مراد سعید کے کاغذات نامزدگی مسترد
    تحریک انصاف کے اشتہاری رہنما مراد سعید کے این اے 4 سوات سے کاغذات نامزدگی مسترد ہو گئے ہیں،مراد سعید مختلف مقدمات میں مطلوب ہے جس کی وجہ سے کاغذات مسترد ہوئے ہیں،تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ مراد سعید کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کو عدالت میں چیلنج کیا جائے گا،مراد سعید کے حلقہ این اے 2 سے بھی کاغذات نامزدگی مسترد کر دیئے گئے ہیں،مراد سعید کے بعد فضل حکیم کے بھی کاغذات نامزدگی مسترد ہو گئے ہیں،

    این اے 99 سابق ایم این اے رانا آصف توصیف نے کاغذات نامزدگی واپس لے لیے ،رانا آصف توصیف تحریک انصاف کے امیدوار تھےرانا آصف توصیف نے الیکشن نہ لڑنے اور کاغذات نامزدگی کی واپسی کو ذاتی مصروفیت بتایا ۔ذرائع کے مطابق امیدوار رانا آصف توصیف کے گھر پر پولیس چھاپے الیکشن سے دستبرداری کی وجہ بنی ۔

    حلقہ پی پی 171،حماد اظہر کے کاغذات نامزدگی پر اعتراض عائد
    لاہور کے حلقہ پی پی 171 سے پی ٹی آئی رہنما حماد اظہر کے کاغذات نامزدگی پر اعتراض عائد کر دیا گیا، اعتراض عائد کیا گیا کہ حماد اظہر مختلف مقدمات میں اشتہاری ہیں اور کاغزات نامزدگی پر دستخط اصل نہیں،ریٹرننگ افسر حماد اظہر کے کاغذات نامزدگی مسترد کرے،حماد اظہر کے کاغذات پر رانا عرفان ایڈووکیٹ نے اعتراض دائر کیا .

    عمر ایوب کا آر اوز کو پی ٹی آئی امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے احکامات دیے جانے کا انکشاف
    تحریک انصاف کے رہنما عمر ایوب نے آر اوز کو پی ٹی آئی امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے احکامات دیے جانے کا انکشاف کیا ہے، عمر ایوب کا کہنا ہے کہ ریٹرننگ افسران کو 30 دسمبر کو پی ٹی آئی کے بہت سے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں، قانون کے مطابق کاغذات نامزدگی کو جانچ پڑتال کے فوراً بعد قبول یا مسترد کیا جاتا ہے، اس بار ریٹرننگ افسران نے کہا ہے کہ وہ اپنا فیصلہ 30 دسمبر 2023کو دیں گے، صاف ظاہر ہے کہ ریٹرننگ افسران کو پی ٹی آئی کے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کو معمولی بنیادوں پر مسترد کرنے کے احکامات دیئے جائیں گے، یہ مرحلہ پی ٹی آئی کے امیدواروں کے خلاف طاقت کے غیر قانونی استعمال کا تسلسل ہے،

    این اے 60،چوہدری شہباز کے تجویز کنندہ چوہدری شاہنواز کو پولیس نے گرفتار کرلیا
    این اے 60جہلم،سابق وفاقی وزیر چوہدری شہباز کے کاغذات نامزدگی ہوئے ہیں،چوہدری شہباز کے تجویز کنندہ چوہدری شاہنواز کو پولیس نے گرفتار کرلیا، فیصل چوہدری نے چوہدری شاہنواز کی گرفتاری کے خلاف الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کر دی،فیصل چوہدری نے آر او، ڈی آر او اور ڈی پی او جہلم کے کے خلاف الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کر رکھی ہے،پی ٹی آئی نے ورکروں کو حراساں کیے جانے کے حوالے سے بھی الیکشن کمیشن میں درخواست دے رکھی ہے،الیکشن کمیشن چیف سیکرٹری اور آئی پنجاب کو شکایات کے ازالے کے احکامات جاری کر چکا ہے

    نعیم پنجوتھا کا مریم نواز پر افتخار گوندل کو اغوا کرنے کا الزام
    عمران خان کے وکیل نعیم پنجوتھا نے مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز پر افتخارگوندل کو اغواء کرانے کا الزام لگا دیا، نعیم پنجوتھا سرگودھا سے مریم نواز کے مقابلے میں امیدوار ہیں، سرگودھا میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے نعیم پنجوتھا کا کہنا تھا کہ مریم نواز نے پی ٹی آئی کے امیدوار افتخار گوندل کو اغواء کروا کے مرضی کا بیان دلوایا مریم نواز سمجھتی تھیں کہ انہیں پی پی 80 میں مدِ مقابل امیدوار نہیں ملے گا، پی پی 80 سے مجھ سمیت پی ٹی آئی کے 12 امیدواروں نے کاغذاتِ نامزدگی جمع کروائے ہیں،

    مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو کے این اے 130سے کاغذات نامزدگی منظور
    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو کے این اے 130 سے کاغذات نامزدگی منظور۔ اس موقع پر پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نے کہا ہے کہ پوری دنیا کے ساتھ چلنے کے لیے آئین اور قانون کے مطابق پاکستان میں الیکشن انتہائی ضروری ہیں۔پورے ملک میں قومی و صوبائی حلقوں سے امیدواران کو الیکشن کے میدان میں اتارا ہے ۔ پاکستان کی عوام سابقہ سیاسی جماعتوں سے مایوس ہوچکی ہے۔ عوام نئے چہروں کو دیکھنا چاہتے ہیں۔ پاکستان میں موجود غربت اور معاشی بحران کی ذمہ دار وہ تمام سیاسی جماعتیں ہیں جو اقتدار میں رہی ہیں۔ ان سیاسی جماعتوں کا وطیرہ ہے کہ یہ صرف انتخابات کے دنوں میں پاکستان کو لوٹنے کے لیے متحرک ہوتی ہیں۔پاکستان مرکزی مسلم لیگ ان تمام سیاسی جماعتوں کی راہ میں رکاوٹ بنے گی۔

    این اے 127، بلاول کے کاغذات پر اعتراض کرنیوالا حلقے کا رہائشی ہی نہیں، جواب جمع
    این اے 127 ،چیرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے کاغذات نامزدگی کے اعتراضات پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا،بلاول بھٹو زرداری کے وکیل نے تحریری دستاویزات اور دلائل آر او کو جمع کروا دیے ،جواب میں کہا گیا کہ بلاول بھٹو زرداری کے دیگر حلقوں سے کاغذات نامزدگی منظور ہوچکے ہیں،بلاول کے کاغذات نامزدگی پر اعتراض کرنے والا این اے 127 کا ووٹر ہی نہیں ،اعتراض کرنے والا نارووال کا رہائشی ہے اس لئے اس اعتراض کی کوئی حیثیت نہیں ،بلاول کے کاغذات نامزدگی میں پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینزلکھا گیا ہے جو کہ ایک انسانی غلطی ہے، بلاول بھٹو کے سندھ میں کاغذات نامزدگی منظور ہو چکے ہیں، صرف پنجاب میں مسئلہ ڈالا گیا ہے، بلاول بھٹو کے کاغذات نامزدگی پر پنجاب میں جان بوجھ کر اعتراض لگایا گیا ہے

    ن لیگ من پسند بیوروکریسی کے ذریعے دھاندلی کا تجربہ رکھتی ہے،جماعت اسلامی
    جماعت اسلامی کے رہنما میاں اسلم کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن اپنے ڈی سی اور آئی جی اسلام آباد کے تبادلے کے فیصلے پہ عملدرآمد کروائے،پی ڈی ایم کے تقرر کردہ افسران کی موجودگی میں شفاف الیکشن کی توقع نہیں، الیکشن کمیشن تاحال اپنے فیصلے پہ عملدرآمد میں ناکام ہے، الیکشن شفاف بنانے کے لیے افسران کا تبادلہ ناگزیر ہے،ن لیگ من پسند بیوروکریسی کے ذریعے دھاندلی کا تجربہ رکھتی ہے، اسلام آباد میں پی ڈی ایم بالخصوص ن لیگ کے تقرر کردہ افسران کیسے غیر جانبدار رہیں گے،

    انتخاب کے روز پولنگ کے اوقات کا اعلان
    عام انتخابات،الیکشن کمیشن نے قومی اورصوبائی اسمبلی کے لئے انتخاب کے روز پولنگ کے اوقات کا اعلان کر دیا، الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق آٹھ فروری کو ووٹر صبح آٹھ سے شام پانچ بجے تک ووٹ ڈال سکیں گے،الیکشن کمیشن آف پاکستان نے چار وں صوبائی الیکشن کمشنرز کو ہدایات جاری کردی ہیں،الیکشن کمیشن نے اپنے فیصلے سے ریٹرننگ آفیسرز کو بھی آگاہ کردیاہے

    این اے 122،عمران خان کے کاغذات نامزدگی پر دائر اعتراضات پر فیصلہ محفوظ

    تمام امیدواران کو الیکشن کا برابر موقع ملنا چاہئے

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    الیکشن کمیشن کا فواد حسن فواد کو عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

    ٹکٹوں کی تقسیم،ن لیگ مشکل میں،امیدوار آزاد لڑیں گے الیکشن

    کسی بھی امیدوار کے تجویز ،تصدیق کنندہ کی ہراسگی برداشت نہیں ہوگی،عدالت

    واضح رہے کہ حلقہ این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور کر لئے گئے ہیں،فیصل ندیم کے این اے 235سے کاغذات نامزدگی منظور کر لئے گئے ہیں،ایبٹ آباد پی کے 45 کے بعد این اے سترہ سے بھی سپیکر کے پی اسمبلی مشتاق احمد غنی کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیئے گئے، آر او نے مؤقف اپنایا کہ سپیکر کے پی اسمبلی عدالتی مفرور ہیں ،سفری ضمانت کے باوجود واپس نہیں آئے،این اے 264 سے اختر مینگل،این اے 262 سے ن لیگ امیدوار کے کاغذات منظورکر لئے گئے ہیں،پی پی 114 سے استحکام پاکستان کے فرخ حبیب کے کاغذات نامزدگی منظور ہو گئے ہیں،این سے 247، مصطفیٰ کمال کے کاغذات نامزدگی منظورہو گئے ہیں،این اے55 سے محمد اعجاز الحق کے کاغذات نامزدگی منظورکر لئے گئے ہیں، مرکزی مسلم لیگ کے حافظ طلحہ سعید کے این اے 122 سے کاغذات نامزدگی منظورکر لئے گئے ہیں،حافظ سعد رضوی کے کاغذات نامزدگی این اے 50 اٹک سے منظورہو گئے ہیں،ن لیگی رہنما عابد شیر علی کے کاغذات نامزدگی منظوری،میاں طاہر جمیل کے بھی منظورکر لئے گئے ہیں،