Baaghi TV

اپنے الوداع کہنے کا وقت خود چن سکنا بھی ایک انعام ہے،جیفری ایپسٹین کا سوسائیڈ نوٹ منظرعام پر

usa

بدنام زمانہ سرمایہ کار اور جنسی جرائم کے ملزم جیفری ایپسٹین سے منسوب ایک مبینہ خفیہ ہاتھ سے لکھی گئی تحریر انٹر نیٹ پر گردش کر رہی ہے-

امریکا میں ایک وفاقی جج نے بدنام زمانہ سرمایہ کار اور جنسی جرائم کے ملزم جیفری ایپسٹین سے منسوب ایک مبینہ خفیہ ہاتھ سے لکھی گئی تحریر منظر عام پر لانے کا حکم دے دیا ہے جو ان کی موت سے تقریباً ایک ماہ قبل لکھی گئی تھی۔

جولائی 2019 کی اس تحریر میں دعویٰ کیا گیا کہ کئی ماہ تک جاری رہنے والی تحقیقات میں ان کے خلاف کچھ نہیں مل جبکہ نوٹ میں ایک جملہ خاص طور پر توجہ کا مرکز بن گیا جو یہ تھا ’اپنے الوداع کہنے کا وقت خود چن سکنا بھی ایک انعام ہے، تم چاہتے ہو میں پھوٹ پھوٹ کر روؤں؟ کوئی فائدہ نہیں، یہ اس کے قابل نہیں‘۔

امریکی اخباردی نیویارک ٹائمز نے عدالت سے نوٹ جاری کرنے کی درخواست کی تھی مؤقف اختیار کیا گیا کہ اب اس دستاویز کو خفیہ رکھنے کی کوئی قانونی وجہ باقی نہیں رہی،جج نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ اس نوٹ کو منظر عام پر لانا شفافیت اور احتساب کے اصولوں کے مطابق ہے اور اس سے عدالتی نظام پر عوامی اعتماد برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔

یہ نوٹ ایپسٹین کے سابق سیل میٹ نکولس ٹارٹاگلیونے کے مطابق ایک کتاب کے اندر چھپا ہوا ملا تھا ٹارٹاگلیونے کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ تحریر جولائی 2019 میں ایپسٹین کی پہلی مبینہ خودکشی کی کوشش کے بعد دریافت کی۔

ٹارٹاگلیو ایک سابق پولیس افسر اور 4 افراد کے قتل میں سزا یافتہ مجرم ہیں وہ پہلے بھی اس نوٹ کا ذکر ایک پوڈکاسٹ میں کرچکے ہیں اگرچہ ایپسٹین نے کبھی ان پر جیل سیل میں حملے کا الزام لگایا تھا تاہم ٹارٹاگلیونے نے اس الزام کی تردید کی تھی۔

عدالت کے مطابق یہ دستاویز پہلے ٹارٹاگلیونے کے مجرمانہ مقدمے کے باعث خفیہ رکھی گئی تھی تاہم اب جج نے اسے جاری کرنے کی اجازت دے دی ہے،امریکی حکام اور میڈیا اداروں نے اب تک اس نوٹ کی تحریر یا اس کی مکمل صداقت کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔

واضح رہے کہ جیفری ایپسٹین اگست 2019 میں نیویارک کی جیل میں مردہ پائے گئے تھے جہاں وہ کم عمر لڑکیوں کی اسمگلنگ اور جنسی استحصال کے مقدما ت کا سامنا کر رہے تھےامریکی حکام نے ان کی موت کو خودکشی قرار دیا تھا تاہم اس واقعے کے بعد سے متعدد سازشی نظریات اور سوالات زیرِ گردش رہے ہیں۔

More posts