اسرائیل میں وزیر اعظم نیتن یاہو کو کرپشن مقدمات میں سماعت اچانک ملتوی ہونے پر ایک بار پھر عبوری ریلیف مل گیا ہے-
اسرائیلی میڈیا کے مطابق پیر کے روز عدالت میں نیتن یاہو کے خلاف مقدمات کی سماعت ہونا تھی جس میں انہیں اپنا بیان ریکارڈ کروانا تھا، تاہم عین وقت پر یہ عمل مؤخر کر دیا گیا،یہ فیصلہ نیتن یاہو کے وکیل کی جانب سے رات گئے عدالت کو فراہم کی گئی نئی معلومات کے بعد کیا گیا، لیکن ان تفصیلات کو عوام کے سامنے نہیں لایا گیا عدالت نے اچانک سماعت ملتوی کر دی، جس سے وزیر اعظم کو وقتی طور پر ریلیف مل گیا ہے-
میڈیا رپورٹس کے مطابق نیتن یاہو اس وقت تین مختلف کرپشن کیسز کا سامنا کر رہے ہیں اور یہ مقدمات 2019 سے زیر سماعت ہیں، اس سے قبل بھی کئی مواقع پر ان مقدمات کی سماعت موخر ہوتی رہی ہے، جس کی بڑی وجوہات میں سیکیورٹی صورتحال اور جنگی حالات شامل رہے ہیں، حالیہ ایران-اسرائیل کشیدگی کے باعث بھی عدالتی کارروائی متاثر ہو رہی ہے۔
واضح رہے کہ نیتن یاہو 28 اپریل کو عدالت میں پیش ہوئے تھے جو ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد ان کی پہلی پیشی تھی، ماہرین کے مطابق بار بار سماعت ملتوی ہونے سے مقدمات کے حتمی فیصلے میں مزید تاخیر کا امکان ہے۔
