Baaghi TV

Tag: عدالت

  • توشہ خانہ،القادر ٹرسٹ،جیل ٹرائل کیخلاف درخواست چیف جسٹس کو بھجوا دی گئی

    توشہ خانہ،القادر ٹرسٹ،جیل ٹرائل کیخلاف درخواست چیف جسٹس کو بھجوا دی گئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ: توشہ خانہ تحائف اور 190 ملین پاؤنڈز ریفرنسز میں جیل ٹرائل کے خلاف اپیلوں پر سماعت ہوئی

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے بانی پی ٹی آئی کی اپیلوں پر سماعت کی،بانی پی ٹی آئی جانب سے وکلاء لطیف کھوسہ اور شعیب شاہین عدالت پیش ہوئے، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لگتا ہے یہ کیس غلطی سے اس کورٹ میں آگیا ہے، ڈویژن بنچ کا کیس ہے یہ، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ اس کیس میں نیب خود ایک پارٹی ہے،کوئی ملازم ہوتا تب یہ اس عدالت کا بنتا تھا، لطیف کھوسہ نے کہا کہ جج محمد بشیر کی خاصیت ہے ان کے پاس نواز شریف سے بانی پی ٹی آئی سب کے کیسز لگے ہوئے ،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے لطیف کھوسہ کو جج محمد بشیر پر بات کرنے سے روک دیا، کہا کہ جج محمد بشیر پربات نہ کریں، وہ بار بار میری سفارش پر تعینات ہوئے ہیں، اس کیس کو دوبارہ مقرر کرنے کے لئے فائل چیف جسٹس کو بھجواتے ہیں، عدالت نے اپیلوں پر ڈویژن بینچ بنانے کے لیے فائل چیف جسٹس کو بھجوا دی

    واضح رہے کہ گزشتہ روز بانی تحریک انصاف کیخلاف توشہ خانہ اور القادر ٹرسٹ کیس میں جیل ٹرائل اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا،بانی تحریک انصاف عمران خان نے جیل ٹرائل کے نوٹیفکیشن کیخلاف درخواست دائر کی ، درخواست میں کہا گیا کہ القادر ٹرسٹ کیس میں چودہ نومبر کو جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا،توشہ خانہ کیس میں 28نومبر کو جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن جاری ہوا،جیل ٹرائل کے نوٹیفکیشن غیر قانونی ،بدنیتی پر مبنی ہیں ، جیل ٹرائل کے نوٹیفکیشنز کو کالعدم قرار دیا جائے ،اس درخواست کے زیر التوا رہنے تک ٹرائل کورٹ کی کارروائی کو روکا جائے، دونوں درخواستوں میں چیئرمین نیب اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے

    اڈیالہ جیل میں قیدیوں کی ساتھی قیدی کے ساتھ بدفعلی،جان بھی لے لی

    دوسری شادی کیوں کی؟ پہلی بیوی نے خود کشی کر لی

    منشیات فروش خاتون پولیس کے ساتھ کیسے چھپن چھپاؤ کر رہی؟

    نو سالہ بچے سے زیادتی کرنیوالا پولیس اہلکار،خاتون سے زیادتی کرنیوالا گرفتار

    مساج سنٹر کی آڑ میں فحاشی کا اڈہ،پولیس ان ایکشن، 6 لڑکیاں اور 7لڑکے رنگے ہاتھوں گرفتار

    واضح رہے کہ عمران خان اڈیالہ جیل میں ہیں، عمران خان پر مقدمات کی سماعت جیل میں ہی ہو رہی، عمران خان کو کسی عدالت پیش نہیں کیا جا رہا ہے، سائفر کیس کی سماعت بھی جیل میں ہو رہی ہے، توہین الیکشن کمیشن کیس کی سماعت بھی جیل میں ہوئی، دوران عدت نکاح کیس کی سماعت بھی جیل میں ہو رہی ہے، توشہ خانہ و القادر ٹرسٹ کیس کی سماعت بھی جیل میں ہو رہی ہے، عمران خان نے سائفر کیس کی سماعت کو چیلنج کیا تھا تا ہم عدالت نے اوپن ٹرائل کا حکم دیا ،سماعت جیل میں ہی ہو گی، اسی طرح عمران خان نے باقی مقدمات کے جیل ٹرائل کو بھی چیلنج کیا لیکن عمران خان کو ریلیف نہ مل سکا.

  • غیر شرعی نکاح کیس ,عمران خان اور بشری بی بی پر فرد جرم عائد

    غیر شرعی نکاح کیس ,عمران خان اور بشری بی بی پر فرد جرم عائد

    غیر شرعی نکاح کیس،سابق وزیراعظم عمران خان اور بشری بی بی پر فرد جرم عائد کردی گئی

    اڈیالہ جیل: بانی چیرمین پی ٹی آئی اور بشری بی بی کے غیر شرعی نکاح کیس کی سماعت ہوئی،عدالت نے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی پر فرد جرم عائد کر دی،بانی چیئرمین پی ٹی آئی نےصحت جرم سے انکار کیا،عدالت میں فرد جرم پڑھ کر سنائی گئی،عدالت نے ملزمان کے وکلاء کو فرد جرم کی نقول تقسیم کر دی،کیس کی سماعت سئینر سول جج قدرت اللہ نے کیس کی،عدالت نے کیس کی آئندہ سماعت 18 جنوری تک ملتوی کر دی

    دوران کیس بشریٰ بی بی عدالت سے روانہ ہو گئیں جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا،پی ٹی آئی وکیل نے کہا کہ انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کا انتظار کر لیا جائے،رضوان عباسی نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے سماعت سے نہیں روکا اور نہ ہی کوئی حکم امتنا ع دیا،عدالت نے آج کا دن فرد جرم عائد کرنے کے لیے مقرر کیا تھا ،وکیل عثمان گل نے کہا کہ ایک ملزم کی عدم موجودگی میں مشترکہ فرد جرم عائد نہیں کی جا سکتی ،دو ملزمان پر فرد جرم عائد ہو رہی جبکہ ایک موجود نہیں ،

    دوران عدت نکاح کیس، فرد جرم عائد ہونے سےپہلے بشریٰ بی بی جیل سے بھاگ گئی،عدالت کا اظہار برہمی
    عمران خان نے فردجرم سے انکار کیا اور کہا کہ آٹھ فروری قریب آرہی جانتا ہوں پراسیکیوشن کو جلدی ہے۔ایک ایک دن میں چار چار کیسز چلائے جا رہے ہیں۔ چھ سال بعد سافٹ وئر اپڈیٹ کے بعد یہ کیس یاد آیا۔ بشری بی بی کے جیل سے بغیر بتائے جانے پر عدالت نے اظہار برہمی کیا،جج قدرت اللہ نے کہا کہ کیا کسی نے بشر ی بی بی کو نہیں بتایا کہ عدالت سے اجازت لے کر جانا ہوتا ہے۔ گزشتہ سماعت پر بشری بی بی کے وارنٹ کا حکم دیا لیکن وکلا کا بھرم رکھتے ہوئے وارنٹ ایشو نہیں کیا۔وکیل عثمان گل نے کہا کہ بشری بی بی کی طبیعت خراب ہوئی جس کے بعد وہ ہسپتال جانے کے لیے گئی ہیں۔ جج نے استفسار کیا کہ بشری کس ہسپتال گئی ہیں، وکیل نے کہا کہ ہسپتال کے بارے میں معلوم نہیں ۔بشری بی بی کی میڈیکل دستاویزات عدالت میں جمع کروا دی ہیں ۔وکیل رضوان عباسی نے کہا کہ عدالت میں جمع کروائی گئی رپورٹ میں کسی میڈیکل ٹریٹمنٹ کا ذکر نہیں ۔رپورٹ میں ایسا کچھ نہیں لکھا جس کی وجہ سے بشریٰ بی بی عدالت پیش نہ ہو سکیں ۔عدالت کو چکمہ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے ،بشریٰ کے وکیل نے کہا کہ بشرا بی بی کی جیل موجودگی کے دوران طبیعت خراب ہوئی،طبیعت کبھی بھی اور کسی کی بھی خراب ہو سکتی ہے ، جج قدرت اللہ نے کہا کہ
    بشری بی بی کی جیل انٹری اور باہر جانے کی ٹائمنگ کو چیک کیا جائے،عدالتی حکم پر بشری بی بی کی جیل میں انٹری ہوئی تو عدالت کی اجازت کے بغیر وہ باہر کیسے گئی ۔فرسٹ ایڈ کی ضرورت تھی تو ہسپتال جیل میں بھی موجود ہے ،وکیل نے کہا کہ طبیعت خراب ہونے پر ٹریٹمنٹ کے لیے مریض اپنے سپیشلسٹ سے ہی رابطہ کرتا ہے،

    بشرا بی بی کی جیل اینٹری اور باہر جانے سے متعلق جیل حکام نے رپورٹ عدالت میں پیش کی،بشرا بی بی 11 بج کر 13 منٹ پر اڈیالہ جیل انٹر ہوئی۔بشری بی بی ایک بج کر 42 منٹ پر اڈیالہ جیل سے روانہ ہوئی ،بشرا بی بی خود چل کر جیل سے گئیں .وکیل رضوان عباسی نے کہا کہ بشرا بی بی نے عدالت سے اجازت لینا بھی مناسب نہیں سمجھا ،

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    عمران خان، تمہارے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں، مبشر لقمان

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا تیسرا نکاح پڑھانے والے مفتی سعید نے کہا تھا کہ اگر بشریٰ بی بی نے عدت میں نکاح پر توبہ نہیں کی تو تجدید ایمان کرنی چاہیے،مفتی محمد سعید خان نے عمران خان کے بشریٰ بی بی سے نکاح کے بارے میں کہا کہ ان کے عمران خان سے دو نکاح ہوئے تھے کیونکہ ان کا پہلا نکاح عدت کے دوران ہوا اور اس نکاح کو نکاح فاسد کہا جاتا ہےعدت مکمل ہونے کے بعد عمران خان کا بشریٰ بی بی سے دوسرا نکاح ہوا، مجھے عون چوہدری کے ذریعے علم ہوا کہ عمران خان کا بشریٰ بی بی سے نکاح عدت کے دوران ہوا جس پر میں نے ان کو کہا کہ نکاح دوبارہ ہوگا

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    واضح رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور فرید مانیکا عمران خان اور بشری بی بی پر پھٹ پڑے، خاور مانیکا رہائی کے بعد اہم انکشافات سامنے لے آئے، بشریٰ بی بی کے کرتوت عیاں کر دیئے تو وہیں ریاست مدینہ کا نام لے کر پاکستان میں حکومت کرنیوالے عمران خان کا کچہ چٹھہ بھی کھول دیا،

    جیو ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے خاور مانیکا کا کہنا تھاکہ عمران خان میری مرضی کے بغیر میرے گھر آتا تھا، پنکی کی اس سے ملاقاتوں پر میں ناراض تھا، ایک بار عمران میرے گھر آیا تو میں نے نوکر کی مدد سے اسے گھر سے نکلوا دیا، عمران خان کے اسلام آباد میں دھرنوں کے دوران بشریٰ کی بہن مریم وٹو نے بشریٰ کی ملاقات عمران خان سے کرائی، ہماری شادی 28 سال چلی، ہماری بہت خوش گوار زندگی تھی لیکن عمران نے پیری مریدی کی آڑ میں ہمارا ہنستا بستا گھر برباد کر دیا اسلام آباد میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقاتیں شروع ہو گئیں. میری والدہ کہتی تھیں کہ عمران خان اچھا آدمی نہیں، اسے گھر میں نہ آنے دیا کرو، رات کے وقت دونوں کی فون پر لمبی لمبی باتیں ہونے لگیں،

  • اسلام عورت کو خلع کا حق دیتا ہے،سپریم کورٹ

    اسلام عورت کو خلع کا حق دیتا ہے،سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ نے امریکا میں شادی اور پھر خلع لینے کے کیس کے خلاف پاکستانی شہری کی اپیل خارج کرنے کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا

    سپریم کورٹ کےجسٹس حسن اظہر رضوی نے 7 صفحات پر مشتمل فیصلہ تحریر کیا جس کے مطابق درخواست گزار نے سابق اہلیہ کے امریکا میں ہوئے نکاح کی پاکستان میں منسوخی چیلنج کی تھی،عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہےکہ خاتون امریکا کے ساتھ پاکستانی شہریت بھی رکھتی ہیں، ریکارڈ کے مطابق خلع لینے کے بعد خاتون نے امریکا میں دوسری شادی کرلی، سندھ ہائیکورٹ کا خلع لینے کے حق میں فیصلہ قانون کے مطابق درست ہے خلع کے باوجود غیرضروری طورپرسابق اہلیہ کو قانونی چارہ جوئی میں گھسیٹا گیا ، درخواست گزارنے بھی پاکستان میں دوسری شادی کرنے کی کوششں کی

    اسلامی قانون میں خلع اور متعلقہ قوانین

    عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ اسلام عورت کو خلع کا حق دیتا ہے اور میاں بیوی میں ہم آہنگی اور خوشی نہ ہو تو اسلام انہیں علیحدگی کی اجازت دیتا ہے،عدالت نے دلائل سننے کے بعد خلع کےخلاف پاکستانی شہری کی اپیل خارج کردی، درخواست گزارسہیل احمد نے سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا

    سیما کو واپس نہ بھیجا تو ممبئی طرز کے حملے ہونگے،کال کے بعد ہائی الرٹ

     سیما حیدر کے بھارت میں گرفتاری کے ایک بار امکانات

    پب جی پارٹنر ، سیما اور سچن ایک بار پھر جدا ہوا گئے

    جسم فروش خواتین اسی طریقے سے نیپال سرحد عبور کر کے بھارت آتی ہیں،

     ہماری بیٹی آج سے ہمارے لئے مر گئی

    بھارتی لڑکی کا پاکستان میں نکاح، حق مہر کتنا رکھا گیا؟

     اگر بیٹی نے اسلام قبول کیا تو سب پاکستان کیوں نہیں جاتے

    بھارت اور پاکستان کے لوگوں کے درمیان پہلے بھی شادیاں ہوتی رہی ہیں،پہلے کس کس کی شادیاں ہوئیں جانتے ہیں

  • لاپتہ شہریوں کو عدالت میں پیش کریں ورنہ خود پیش ہوں،عدالت

    لاپتہ شہریوں کو عدالت میں پیش کریں ورنہ خود پیش ہوں،عدالت

    سندھ ہائیکورٹ میں لاپتہ افراد کیس کی سماعت ہوئی،

    سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس نعمت اللہ پھلپوٹو نے سماعت کی، سرکاری وکیل اور تفتیشی افسر عدالت میں پیش ہوئے، سرکاری وکیل نے کہا کہ جے آئی ٹیز اجلاس اور تحقیقات میں دونوں شہریوں کی جبری گمشدگی ثابت ہوچکی ہے، عدالت نے استفسار کیا کہ شہری اتنے عرصے سے لاپتہ ہیں کچھ توکریں، تحقیقات میں کیا سامنے آیا؟تفتیشی افسر نے عدالت میں کہا کہ حافظ فرحان قادری پہلے بھی لاپتہ ہوا تھا اور 2020 میں دوبارہ لاپتہ ہوگیا، اس حوالے سے مدینہ کالونی تھانے میں دو مقدمات درج ہیں، عدالت نے مفرور قرار دیا ہے،

    جسٹس نعمت اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کچھ بھی ہو لاپتہ شہریوں کو اب عدالت میں پیش کرنا ہوگا،عدالت نے سیکرٹری داخلہ کو حکم دیا کہ لاپتہ شہریوں کو عدالت میں پیش کریں ورنہ خود پیش ہوں، جن شہریوں کی جبری گمشدگی ثابت ہوچکی ہے انہیں ہر صورت عدالت میں پیش کیا جائے

    بیوی طلاق لینے عدالت پہنچ گئی، کہا شادی کو تین سال ہو گئے، شوہر نہیں کرتا یہ "کام”

    50 ہزار میں بچہ فروخت کرنے والی ماں گرفتار

    ایم بی اے کی طالبہ کو ہراساں کرنا ساتھی طالب علم کو مہنگا پڑ گیا

    تعلیمی ادارے میں ہوا شرمناک کام،68 طالبات کے اتروا دیئے گئے کپڑے

    خاتون پولیس اہلکار کے کپڑے بدلنے کی خفیہ ویڈیو بنانے پر 3 کیمرہ مینوں کے خلاف کاروائی

  • عمران خان اور بشری بی بی کی ضمانت کیس،بشریٰ عدالت پیش ہو گئیں

    عمران خان اور بشری بی بی کی ضمانت کیس،بشریٰ عدالت پیش ہو گئیں

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد،بانی چئیرمین پی ٹی آئی کے خلاف 6 اور بشری بی بی کے خلاف ایک مقدمے میں درخواست ضمانت کا معاملہ،کیس کی سماعت ایڈیشنل سیشن جج طاہر عباس سپرا نے کی

    بشری بی بی وکیل خالد یوسف چوہدری کے ہمراہ عدالت پیش ہوئیں،تھانہ کوہسار کے تفتیشی افسر ریکارڈ سمیت عدالت پیش،پراسکیوٹر عدالت پیش نہ ہوئے، جج طاہر عباس سپرا نے استفسار کیا کہ کوئی پراسکیوٹر آیا ہے میں نے دلائل سننے ہیں، پولیس اہلکار نے کہا کہ کوئی پراسکیوٹر عدالت میں موجود نہیں ہے،جج طاہر عباس سپرا نے وکیل خالد یوسف سے کہا کہ آپ بحث کریں میں سن لیتا ہوں ،وکیل خالد یوسف نے کہا کہ ان کیسز میں سینئر وکیل سلمان صفدر نے دلائل دینے ہیں، آج لاہور ہائی کورٹ میں کیس ہے سلمان صفدر مصروف ہیں،جج طاہر عباس سپرا نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا ہے جتنی بھی ضمانتوں کی درخواستیں التوا میں ہیں سن کر فیصلہ کریں، مجھے نہیں لگ رہا کہ آپ ان درخواستوں کو فیصلے کی طرف لے جانا چاہتے ہیں،

    جج طاہر عباس سپرا نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ پراسیکیوٹر اور تفتیشی افسران کو بلائیں میں نے تاریخ نہیں دینی،باقی تفتیشی کہاں ہیں سارے ریکارڈ سارے پراسیکیوٹر عدالت پیش ہوں ،میں دس بجے تک انتظار کروں گا اس کے بعد بغیر سنے فیصلہ کروں گا،فیصلے کے ذمہ دار تفتیشی افسر ہوں گے،اگر سابق چیئرمین پی ٹی آئی کا پیش ہونا مشکل ہے تو بشری بی بی کا کیس کیوں التوا میں رکھ رہے ہیں،وکیل نے کہا کہ آج ہم تیار تھے بحث کے لئے سلمان صفدر میسر نہیں ہیں،عدالت نے بشری بی بی کو حاضری لگا کر جانے کی اجازت دے دی، کیس کی سماعت میں وقفہ کر دیا گیا.

    وقفے کے بعد دوبار ہ سماعت ہوئی،جج طاہر عباس سپرا نے سوال کیا کہ جی بتائیں، آگئے ہیں تفتیشی افسران؟بانی پی ٹی آئی کو شامل تفتیش کیا؟ تفتیشی افسران نے کہا عمران خان کو ابھی شامل تفتیش نہیں کیا، ایک دفعہ اڈیالہ جیل گئے تھے، بانی پی ٹی آئی نے وکلاء کی موجودگی میں بیان کا کہا،جج نے تفتیشی افسر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا کہ عمران خان کے پاس اڈیالہ جیل دوبارہ گئے تھے؟ کس کی کوتاہی ہے؟ کیوں تفتیش نہیں ہوئی؟ بانی پی ٹی آئی کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے تاریخ فکس کی؟تفتیشی افسر نے کہا کہ عمران خان کو دوبارہ کبھی شاملِ تفتیش کرنے نہیں گئے نہ تاریخ طے کی،جج طاہر عباس سپرا نے سوال کیا کہ آپ کو معلوم ہے کب عدالت میں سماعت مقرر ہے؟ کب کیس لگتا ہے؟تفتیشی افسر نے جج طاہر عباس سِپرا کے سوال پر لاعلمی کا اظہار کیا،

    اپنے گلے کیوں ڈالتے ہو؟ اڈیالہ جیل جاؤ، بیان ریکارڈ کرو، جان چھڑاؤ،جج تفتیشی افسر پر برہم
    جج نے وکیل صفائی خالد یوسف سے سوال کیا کہ کل بانی پی ٹی آئی کا کیس ہے، کیا وکلاء موجود ہوں گے؟وکیل صفائی نے کہا کہ کل بانی پی ٹی آئی کی اڈیالہ جیل میں سماعت مقرر ہے، وکلاء موجود ہوں گے۔جج نے تفتیشی افسر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اپنے گلے کیوں ڈالتے ہو؟ اڈیالہ جیل جاؤ، بیان ریکارڈ کرو، جان چھڑاؤ،جج نے وکیل صفائی کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ 30 جنوری کو لازمی بشریٰ بی بی کی درخواست پر دلائل دیں،عدالت نے بشریٰ بی بی کی درخواست ضمانت پر سماعت بھی 30 جنوری تک ملتوی کر دی

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    سمیرا ملک نے آزاد حیثیت میں انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا

    عام انتخابات، آصفہ انتخابی مہم چلانے کے لئے میدان میں آ گئیں

    صارفین کا کہنا ہے کہ "تنظیم سازی” کرنے والوں‌کو ٹکٹ سےمحروم کر دیا گیا

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    عام انتخابات، پاکستان میں موروثی سیاست کا خاتمہ نہ ہو سکا،

  • دہشتگردی کیسز،عمران خان کی  ضمانتیں منسوخ کرنے کیخلاف درخواستوں پر سماعت

    دہشتگردی کیسز،عمران خان کی ضمانتیں منسوخ کرنے کیخلاف درخواستوں پر سماعت

    لاہور ہائیکورٹ: پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کی دہشت گردی کیسوں میں ضمانتیں منسوخ کرنے کیخلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی
    دورکنی بنچ نے درخواست ضمانتوں پر سماعت کل تک ملتوی کردی، عدالت نے تمام مقدمات کے تفتیشی افسران کو ریکارڈ سمیت طلب کر لیا،جسٹس عالیہ نیلم کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے بانی چیئرمین پی ٹی آئی کی سات درخواستوں پر سماعت کی ،درخواستوں میں انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج اور تھانہ گلبرگ اور تھانہ سرور روڈ پولیس کو فریق بنایا گیا ہے

    لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا کہ درخواست گزار دہشت گردی عدالت میں مسلسل پیش ہوتے رہے،اس دوران ٹرائل کورٹ نے درخواست گزار کو توشہ خانہ کیس میں سزا سنا دی، پولیس نے درخواست گزار کو گرفتار کرکے اٹک جیل منتقل کر دیا،درخواست گزار جیل میں ہونے کی بنا پر انسدادِ دہشت گردی عدالت میں پیش نہ ہوئے،ٹرائل کورٹ نے عدم پیروی پر انکی لی گئی ضمانتوں کو کینسل کر دیا۔ٹرائل کورٹ کے اس فیصلے سے انکا ناقابل تلافی نقصان ہوا۔عدالت ٹرائل کورٹ کے ضمانتوں کو کینسل کرنے کے 11اگست کے فیصلے کو کالعدم قرار دے.

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    10جولائی تک فیصلہ کرنا ہے،آپ کو 7 اور 8 جولائی کے دو دن دیئے جا رہے ہیں 

  • الیکشن کمیشن ،عدالت سے انصاف کی امید نہیں،عوام کی عدالت جائینگے،لطیف کھوسہ

    الیکشن کمیشن ،عدالت سے انصاف کی امید نہیں،عوام کی عدالت جائینگے،لطیف کھوسہ

    تحریک انصاف کے رہنما اور قانوندان لطیف کھوسہ نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں کسی ادارے پر اعتماد نہیں الیکشن کمیشن ہو عدالت ہو ہمیں انصاف کی امید نہیں اب ہم عوام کی عدالت میں جائیں گے ، اگر ا س ملک کی جمہوریت، عوام کو بچانا چاہتے ہیں تو آرڈر کریں، آپ نے تو ہم سے فیلڈ ہی چھین لی، ہمیں کوئی اعتماد نہیں اس لئے پٹیشن واپس لیتے ہیں، عوام آٹھ فروری کو نکلے گی، پارٹی پر پابندی نہیں لگی، الیکشن کمیشن نے صرف نشان واپس لیا ہے، پارٹی دوبارہ آئے گی،

    لطیف کھوسہ کاکہنا تھا کہ جو میں نے کہنا تھا وہ کہہ دیا، عدالت نے لائیو نہیں چلایا تو میڈیا چلا دے، صحافیوں کے سامنے بات کی ہے،230 سیٹیں ہم سے چھین لی گئی ہیں، پی ٹی آئی ختم نہیں ہوئی ، جو ہمارے ساتھ ہوا اسکا بیک اپ پلان نہیں ہو سکتا، خواتین اور اقلیتی 230 سیٹیں قومی و صوبائی چھینی گئیں،پی ٹی آئی کا حکومت بنانا ضروری نہیں، ہم عوام کو حقوق دیں گے، ہماری اکثریت ہو گی تو ہم حکومت بنائیں گے،انتخابی نشان جو بھی ہو کوئی فرق نہیں پڑتا،امیدواروں ، وکلا کو گرفتار کیا گیا، کاغذات نامزدگی کے وقت لوگ گرفتار ہوئے، جانچ پڑتال کے دوران بھی ہمارے لوگ گرفتار ہوئے، وکلا کو ہم بھیجتے تھے لیکن ایسا ہی ماحول بنایا گیا، کاغذات نامزدگی پھاڑے گئے، عورتوں پر تشدد کیا گیا، لوگوں کو نظر بند کیا گیا،ہر ضلع میں ڈی آر او ڈی سی ہے،آج تک ہمیں جلسے نہیں کرنے دیئے، جو کوشش کرتا ہے اسکا گھر مسمار کروا دیتے ہیں، یہ سب سپریم کورٹ میں لے کر آئے کہ ہمارے ساتھ کیا مذاق کیاجا رہا ہے، سپریم کورٹ نے کہا کہ آئی جی ،چیف سیکرٹری کو بلائیں،انہوں نے جو جواب دیا کہ کچھ بھی نہیں ہوا، اس سے بڑا مذاق کیا ہو سکتا ہے کہ میرے بیٹے کو گرفتار کیا گیا ،لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ ہے کہ الیکشن کی وجہ سے گرفتار کیا گیا،بحرکیف چیف صاحب کی عظمتوں‌کو سلام، وہ کہتے ہیں کہ ہم تو ٹی وی دیکھتے ہی نہیں،

    لطیف کھوسہ کا مزید کہنا تھا کہ عدالتی فیصلے سے جمہوریت تباہ ہوئی ہے، میں نے اسی طرح کا انٹرا پارٹی الیکشن پیپلز پارٹی میں بھی کرایا، بلاول بھٹو اور میرے نام پر بھی پیپلز پارٹی میں کوئی امیدوار کھڑا نہ ہوا، پیپلز پارٹی میں ہم نے جب انٹرا پارٹی الیکشن کروائے تو بلامقابلہ ہوئے، انٹرا پارٹی الیکشن کرائے تو کوئی بلاول اور آصف زرداری کے سامنے کھڑا نہ ہوا، پاکستان پیپلز پارٹی بھی پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیریز کے ساتھ انتخابی الائنس کرتی ہے، پی ٹی آئی نظریاتی کے چیئرمین نے ہم سے 7 سیٹیں مانگیں تھی، پی ٹی آئی نظریاتی کو سات سیٹیں دینے کا معاہدہ ہوا، ٹکٹوں پر دستخط ہوئے، معاہدے کے بعد پی ٹی آئی نظریاتی کے چیئرمین کو اٹھا لیا گیا، پی ٹی آئی نظریاتی کے چیئرمین کو ٹی وی پر لاکر بیان دلایا گیا کہ یہ دستخط جعلی ہیں،

    تمام امیدواران کو الیکشن کا برابر موقع ملنا چاہئے

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

     این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    سمیرا ملک نے آزاد حیثیت میں انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا

    عام انتخابات، آصفہ انتخابی مہم چلانے کے لئے میدان میں آ گئیں

    صارفین کا کہنا ہے کہ "تنظیم سازی” کرنے والوں‌کو ٹکٹ سےمحروم کر دیا گیا

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    عام انتخابات، پاکستان میں موروثی سیاست کا خاتمہ نہ ہو سکا،

  • چلہ کاٹا مگر پنڈی کی پگ پر داغ نہیں لگنےدیا ، شیخ رشید

    چلہ کاٹا مگر پنڈی کی پگ پر داغ نہیں لگنےدیا ، شیخ رشید

    راولپنڈی، شیخ رشید احمد اور شیخ راشد شفیق کے خلاف 9 مئی کے درج مقدمات میں عبوری ضمانت کا معاملہ، عدالت نے عبوری ضمانت کی درخواست پر سماعت ساڑھے 11 تک ملتوی کر دی

    شیخ رشید اور شیخ راشد شفیق انسداد دہشت گردی عدالت پیش ہوئے ،شیخ رشید کے وکیل سردار عبدالرزاق ایڈووکیٹ ساڑھے 11 بجے عدالت پیش ہوں گے، کیس کی سماعت انسداد دہشت گردی عدالت کے جج اعجاز اصف کریں گے

    عدالت پیشی کے موقع پر شیخ رشید کا کہنا تھا کہ گرفتار ہوا تو میں اور میرا بھتیجا راشد شفیق دونوں جیل سے قلم دوات کے نشان پر الیکشن لڑیں گے، اپنے خلاف ہونے والے کیسز پر اُف تک نہیں کی، معاملہ اللہ پر چھوڑ دیا،چلہ بھی کاٹا اور قربانی بھی دی لیکن کوئی پریس کانفرنس نہیں کی، ہم نے پنڈی کی پگ پر داغ نہیں لگنے دیا اور اب ووٹ ڈالنا آپ کا کام ہے، قلم دوات کے نشان پر 8 فروری کو دو حلقوں میں اکثریت سے جیتیں گے، راولپنڈی کے لوگوں کو احساس ہے کہ خدمت کس کا نام ہے اور کس نے کی ہے

    شیخ رشید کا کہنا تھا عوام کو مہنگائی اور بیروزگاری کے جہنم میں پھینکا گیا اس کا بدلہ لینے نکلے ہیں، ایک چیز کلیئر کرنا چاہتا ہوں کہ کبھی کسی کے خلاف پریس کانفرنس نہیں کی، کبھی کسی کے خلاف غلط بات کی اور نہ میں کروں گا۔

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    عام انتخابات، پاکستان میں موروثی سیاست کا خاتمہ نہ ہو سکا،

    سمیرا ملک نے آزاد حیثیت میں انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا

    عام انتخابات، آصفہ انتخابی مہم چلانے کے لئے میدان میں آ گئیں

    صارفین کا کہنا ہے کہ "تنظیم سازی” کرنے والوں‌کو ٹکٹ سےمحروم کر دیا گیا

    مسلم لیگ ن نے عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے سابق دیور احمد رضا مانیکا کو بھی ٹکٹ جاری کر دیا

    واضح رہے کہ گزشتہ روز تحریک انصاف نے امیدواروں کو ٹکٹ جاری کئے ہیں تا ہم شیخ رشید کے مقابلے میں ٹکٹ جاری کر دیئے، شیخ رشید کو ٹکٹ نہ دیا، جس پر شیخ رشید سیخ پا ہیں، سوشل میڈیا پر بھی پی ٹی آئی کارکنان مطالبہ کر رہے ہیں کہ شیخ رشید کو ٹکٹ دیا جائے،ایک صارف کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی قیادت نے ٹکٹوں پر نظرثانی نہ بھی کی تو میرے خیال میں پنڈی اور جہلم کے ووٹرز اتنے باشعور ہیں کہ وہ شیخ رشید اور فواد چوہدری کی کارکردگی، حلقوں میں ترقیاتی کام اور عمران خان کی تحریک میں قربانیوں کے اعتراف میں انہی کو ووٹ دیں گے۔ اخلاقی جرات کا تقاضا تو یہی ہے کہ پی ٹی آئی کے امیدوار شیخ صاحب اور فواد صاحب کے حق میں دستبردار ہوجائیں۔

  • پرویز الہیٰ کی اہلیہ کے کاغذات منظور،مونس الہیٰ نااہل قرار

    پرویز الہیٰ کی اہلیہ کے کاغذات منظور،مونس الہیٰ نااہل قرار

    لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے چودھری پرویزالہٰی، مونس الہٰی اور قیصرہ الہٰی کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے خلاف درخواستوں پر سماعت کی

    لاہور ہائیکورٹ نے سابق وزیراعلی پنجاب پرویز الٰہی کی اہلیہ قیصرہ الٰہی کو حلقہ این اے 64 ،69 اور پی پی 32 سے الیکشن لڑنے کی اجازت دے،مونس الٰہی عام انتخابات 2024ء کے لیے نااہل قرار دے دیئے گئے،جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے آر او اور ٹریبونل کا فیصلہ کالعدم قرار دیا،پرویز الہیٰ کی اپیل پر ابھی تک فیصلہ نہیں سنایا جا سکا

    پرویز الہی کے وکیل شہزاد شوکت نے دلائل دیئے اور کہا کہ کاغذات نامزدگی میں حقائق چھپانے کا الزام عائد کیا گیا،کاغذات نامزدگی میں الزام ہے کہ سات اسلحہ لائسنس کا ذکر نہیں کیا گیا،کاغذات نامزدگی میں اسپیشل اکاؤنٹ نہ ہونے کا الزام عائد کیا گیا ،قانون کے مطابق کاغذات میں چیزیں درج ہیں،کاغذات نامزدگی کو چھیننے کی کوشش کی گئی، پرویز الہی سینئر سیاست دان ہیں انکو الیکشن لڑنے کی اجازت دی جائے ،اکاؤنٹ کے حوالے سے آر او نے بے بنیاد فیصلہ کیا،ایک سے زیادہ اکاؤنٹ ہونا کوئی جرم نہیں،جسٹس باقر نجفی نے استفسار کیا کہ کیا امیدورا خود آر او کے پاس پیش ہوئے،وکیل نے کہا کہ ہمارے تو تمام امیدواروں کو اٹھایا ہوا ہے،پرویز الہی تو جیل میں ہیں،عدالت نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو آپ نے شکایت کی درخواست جمع کرائی،آپکو پہلے الیکشن کمیشن کے پاس جانا چاہیے تھا،وکیل نے کہا کہ یہ کیس بھی عجیب نوعیت کا ہے،پرویز الہی وغیرہ کے پیپر صرف اس لیے مسترد کیے گئے کہ وہ ایک سے زیادہ اکاؤنٹ رکھتے ہیں یا پھر جو اکاؤنٹ سیز ہو چکے ہیں انکے واچر جمع نہیں کرائے،

    وکیل پرویز الہیٰ نے کہا کہ تصدیق کنندہ اور تجویز کنندہ کو گرفتار کیا گیا، امجد پرویز ان کے کاغذات نامزدگی جمع کرانے گئے تو ان کو حراست میں لے لیا گیا،جسٹس علی باقر نجفی نے ریمارکس دیئے کہ یہ تو الیکشن کمیشن کی ذمہ داری تھی کہ وہ بروقت احکامات جاری کرتا،پرویز الہی کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے خلاف سماعت مکمل ہو گئی،عدالت نے پرویز الہی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    تمام امیدواران کو الیکشن کا برابر موقع ملنا چاہئے

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

     این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    پیپلز پارٹی کی ایک کارنر میٹنگ میں اپنے ہی جیالوں کو دھمکی

    سمیرا ملک نے آزاد حیثیت میں انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا

    عام انتخابات، آصفہ انتخابی مہم چلانے کے لئے میدان میں آ گئیں

    صارفین کا کہنا ہے کہ "تنظیم سازی” کرنے والوں‌کو ٹکٹ سےمحروم کر دیا گیا

    عام انتخابات، پاکستان میں موروثی سیاست کا خاتمہ نہ ہو سکا،

  • بلے کا انتخابی نشان، سپریم کورٹ میں سماعت کل تک ملتوی

    بلے کا انتخابی نشان، سپریم کورٹ میں سماعت کل تک ملتوی

    سپریم کورٹ میں پشاور ہائیکورٹ فیصلے کیخلاف الیکشن کمیشن کی درخواست پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز کی سربراہی میں تین رکنی بنیچ نے سماعت کی،جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی بنچ میں شامل تھے،الیکشن کمیشن نے گزشتہ روز پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا پشاور ہائی کورٹ کا تفصیلی فیصلہ آ گیا ہے؟وکیل حامد خان نے عدالت میں کہا کہ تفصیلی فیصلہ ابھی نہیں آیا،مخدوم علی خان نے بلے کا نشان واپس کرنے کا فیصلہ پڑھ کر سنا دیا،

    تحریک انصاف کے وکیل حامد خان کمرہ عدالت، علی ظفر لاہور رجسٹری سے ویڈیو لنک پر موجود تھے، وکیل حامد خان نے کہا کہ ہمیں کوئی نوٹس موصول نہیں ہوا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیس کی فائل میں نے بھی نہیں پڑھی، آپ مقدمہ کیلئے کب تیار ہونگے؟ وکیل حامد خان نے کہا کہ پیر کو سماعت رکھ لیں، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ کل امیدواروں کو انتخابی نشان الاٹ ہونے ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پیر تک سماعت ملتوی کرنے کیلئے ہائی کورٹ کا حکم معطل کرنا پڑے گا،ہم تو ہفتے اور اتوار کو بھی سماعت کیلئے تیار ہیں، وکیل حامد خان نے کہا کہ اس صورت میں تیاری کیلئے کل تک کا وقت دیں،

    وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ تحریک انصاف نے انٹرا پارٹی الیکشن کیلئے پی ٹی آئی کا الیکشن کمیشن قانونی طور تشکیل نہیں دیا ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا یہ حقیقت درست ہے، وکیل حامد خان نے کہا کہ یہ بات درست نہیں الیکشن کمیشن اپیل قابل سماعت نہیں۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ اگر اپیل کے قابل سماعت ہونے کا اعتراض ہے تو حامد خان پہلے آپ دلائل دیں۔وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ انٹرا پارٹی الیکشن کیلئے پی ٹی آئی کے الیکشن کمیشن کی تشکیل قانون طور پر درست نہیں تھی،وکیل حامد خان نے کہا کہ اس معاملے پر دلائل دینے کو تیار ہوں، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ بتائیں سیاسی جماعت انتخابات کیلئے فیڈرل الیکشن کمشنر کیسے تعینات کرتی ہے،الیکشن کمیشن کا کہنا ہے پی ٹی آئی کا فیڈرل الیکشن کمشنر بھی درست تشکیل نہیں ہوا،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ جمال اکبر انصاری فیڈرل الیکشن کمشنر تھے، تحریک انصاف کے گزشتہ پارٹی انتخابات 2017 میں ہوئے تھے،پارٹی آئین کے مطابق تحریک انصاف 2022 میں پارٹی انتخابات کرانے کی پابند تھی،الیکشن کمیشن نے پارٹی آئین کے مطابق انتخابات نہ کرانے پر پی ٹی آئی کو نوٹس جاری کیا، جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ پی ٹی آئی کے آئین میں الیکشن کمشنر کی تعیناتی کا طریقہ کار کہاں درج ہے؟ وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ پہلے جمال انصاری بعد میں نیاز اللہ نیازی پی ٹی آئی کے چیف الیکشن کمشنر بنے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پارٹی آئین کے مطابق الیکشن کمیشن کے باقی ارکان کون تھے؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر کے علاوہ کوئی اور ممبر تعینات نہیں تھا،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے حامد خان سے سوال کیا کہ کیا یہ بات درست ہے؟ وکیل حامد خان نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے وکیل کی یہ بات درست نہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ الیکشن کمیشن ارکان کی تقرری کی دستاویزات کہاں ہیں؟ وکیل حامد خان نے کہا کہ کیس کی تیاری کیلئے وقت اسی لئے مانگا تھا،الیکشن کمیشن کی اپیل قابل سماعت اور حق دعوی نہ ہونے پر بھی دلائل دوں گا،مناسب ہوگا پہلے حق دعویٰ اور قابل سماعت ہونے کا نکتہ سن لیں،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو ریگولیٹ کرنا اور شفاف انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے، وکیل حامد خان نے کہا کہ سپریم کورٹ قرار دے چکی ہے کہ کوئی ادارہ اپنے فیصلے کے دفاع میں اپیل نہیں کر سکتا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کسٹم کلیکٹر بھی اپنے فیصلے کیخلاف ہائی کورٹ میں اپیلیں کرتے ہیں،وکیل حامد خان نے کہا کہ عدالت نے مسابقتی کمیشن اور وفاقی محتسب کے کیسز میں اداروں کو اپنے فیصلوں کیخلاف اپیلوں سے روکا تھا،کیا کوئی جج بھی اپنے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرسکتا ہے؟چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا آئینی اداروں پر ان فیصلوں کا اطلاق ہو سکتا ہے؟قانون اور آئین کے تحت قائم ادارے ایک جیسے نہیں ہوسکتے،آئین کے تحت بنا الیکشن کمیشن آئین کے مطابق ہی اختیارات استعمال کرے گا،کوئی ایسا فیصلہ دکھائیں جہاں آئینی اداروں کو اپیلوں سے روکا گیا،وکیل حامد خان نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا انحصار آئین نہیں الیکشن ایکٹ پر ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کی بات مان لی تو یہ آئینی ادارے کو ختم کرنے والی بات ہوگی،

    کیا الیکشن کمیشن اپنے خلاف فیصلہ آنے پر سرینڈر کر دے؟ چیف جسٹس
    سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی کی انتخابی نشان کیس کی سماعت پیر تک ملتوی کرنے کی استدعا مسترد کردی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ الیکشن کمیشن اپیل نہ کرے تو اسکے فیصلے بے معنی ہوجائیں گے، وکیل حامد خان نے کہا کہ متاثرہ فریق اپیل کر سکتا ہے الیکشن کمیشن نہیں، کیا ڈسٹرکٹ جج خود اپنا فیصلہ کالعدم ہونے کی خلاف اپیل کر سکتا ہے؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ڈسٹرکٹ جج عدلیہ کے ماتحت ہوتا ہے الیکشن کمیشن الگ آئینی ادارہ ہے، کیا الیکشن کمیشن اپنے خلاف فیصلہ آنے پر سرینڈر کر دے؟ حامد خان صاحب ایک آئینی ادارے کا قانونی ادارے سے تقابل نہ کریں،آپ نے جو دوفیصلوں کا حوالہ دیا وہ قانونی اداروں کے حوالے سے ہے،وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ ہرآئینی ادارہ قانون کے تحت چلتا ہے اورالیکشن کمیشن الیکشن ایکٹ کے قانون کے مطابق چلتا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ چلیں ہم نے آپ کے اعتراض کو نوٹ کرلیا ہے، آپ کے پاس اعتراضات کرنے کا بالکل حق موجود ہے،وکیل حامد خان نے کہا کہ ہمیں کل ہی نوٹس ملا ہے ہم تیار نہیں ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے سے ابھی تک یہ بات سمجھ آئی ہےکہ پارٹی نے اپنے ہی آئین کے تحت الیکشن نہیں کرایا، حامد خان صاحب،آپ دستاویزات داخل کرنا چاہتے ضرور کریں، آپ چاہتے ہیں کہ عدالت الیکشن کمیشن کا ریکارڈ منگوالے توہم وہ بھی منگوالیتے ہیں،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ پی ٹی آئی کے پارٹی الیکشن کیخلاف چودہ شکایات ملی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے استفسار کیا کہ یہ درخواستیں کس نے دائر کیں؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ درخواستیں دینے والے تحریک انصاف کے لوگ تھے،

    کسی آئینی ادارے کا کام خود نہیں کرینگے،چیف جسٹس
    اکبر ایس بابر کے وکیل روسٹرم پر آ گئے، اور کہا کہ ہماری درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا گیا ، اکبر ایس بابر فاونڈر ممبر پی ٹی آئی ہے، اکبر ایس بابر پارٹی میں مختلف عہدوں پر تعینات رہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پھر وہ پی ٹی آئی کے ممبر کیوں نہیں؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل حامد خان سے سوال کیا کہ کیا آپ نے اکبر ایس بابر کو پارٹی سے نکال دیا؟وکیل حامد خان نے کہا کہ شکایت کنندگان پی ٹی آئی کے ارکان نہیں تھے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ فاونڈر ممبر تو میرے حساب سے کبھی ختم نہیں ہوتا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا انہوں نے کسی اور جماعت میں شمولیت اختیار کی؟ حامد خان نے کہا کہ یہ تو ایک اور بحث ہے کہ کون فاونڈنگ ممبر ہے کون نہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ حامد خان صاحب کیا آپ تحریک انصاف کے فاونڈنگ ممبر نہیں ؟وکیل حامد خان نے کہا کہ جی میں پارٹی کا فاونڈنگ ممبر ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کسی آئینی ادارے کا کام خود نہیں کرینگے،الیکشن کمیشن کے وکیل کو کیس کے حقائق سے آگاہ کرنے دیں،پارٹی الیکشن کمیشن کی تقرری کی دستاویز کہاں ہے؟ وکیل حامد خان نے کہا کہ عدالت باضابطہ نوٹس جاری کرتی تو آج دستاویزات بھی لے آتے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پی ٹی آئی خود ہائی کورٹ گئی تھی انہیں تو اپیل دائر ہونے پر حیران نہیں ہونا چاہیے تھا،الیکشن کمیشن سے کارروائی کا مکمل ریکارڈ منگوا لیتے ہیں،

    بلے کا انتخابی نشان، سپریم کورٹ میں سماعت میں وقفہ
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ابھی سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس ہے،اجلاس کے بعد ڈیڑھ بجے تک کیس کی سماعت دوبارہ شروع کریں گے،دو صوبوں کے چیف جسٹس صاحبان سپریم جوڈیشل کونسل اجلاس کیلئے انتظار کررہے ہیں،ہم جمہوریت پر چلتے ہیں، مجھے اندازہ نہیں ہے ہم کب دستیاب ہونگے،ڈیڑھ بجے تک آپ لوگ آزاد ہیں، عدالت نے الیکشن کمیشن سے کیس کی اوریجنل فائل منگوا لی.

    پی ٹی آئی کا الیکشن کون کون لڑ سکتا ہے؟ چیف جسٹس
    وقفے کے بعد دوبارہ سماعت ہوئی،الیکشن کمیشن کے وکیل مخدوم علی خان نے دلائل کا دوبارہ آغاز کر دیا ، وکیل الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے انٹراپارٹی انتخابات کیس میں 64 صفحات پر مشتمل فیصلہ دیا، الیکشن کمیشن کے پولیٹیکل فنانس ونگ نے بھی انٹراپارٹی انتخابات پر سوالات اٹھائے تھے، الیکشن کمیشن کے مطابق تحریک انصاف کے انتخابات قانون کے مطابق نہیں تھے، پی ٹی آئی کے انتخابات خفیہ اور پیش کی گئی دستاویزات حقائق کے مطابق نہیں تھے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو پی ٹی آئی کے آئین پر اعتراض نہیں ہے؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے مطابق پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی الیکشن پارٹی آئین کے تحت نہیں ہوئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ تحریک انصاف نے آئین تو بہت اچھا بنایا ہے،وکیل الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کا کیس یہی ہے کہ انتخابات پارٹی آئین کے مطابق نہیں ہوئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پی ٹی آئی کا الیکشن کون کون لڑ سکتا ہے؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ پارٹی انتخابات صرف ممبران ہی لڑ سکتے ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل کون ہیں؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ پہلے اسد عمر تھے اب عمر ایوب سیکرٹری جنرل ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا اسد عمر نے پی ٹی آئی چھوڑ دی ہے؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق اسد عمر تحریک انصاف چھوڑ چکے ہیں، اسد عمر سیکرٹری جنرل کیسے بنے الیکشن کمیشن ریکارڈ پر کچھ نہیں ہے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سوال کیا کہ پی ٹی آئی کے انتخابات کہاں ہوئے تھے؟ کسی ہوٹل میں ہوئے یا کسی دفتر یا گھر میں؟ پی ٹی آئی وکلا نے کہا کہ چمکنی کے گرائونڈ میں ہوئے تھے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا کوئی نوٹیفیکیشن ہے جس میں بتایا گیا ہو کہ پارٹی الیکشن کس جگہ ہونگے؟ جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ چھوٹے سے گم نام گائوں میں انتخابات کیوں کرائے؟چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ریکارڈ پر تو کچھ نہیں ہے کہ پشاور میں جس جگہ پارٹی الیکشن ہوا،پارٹی ارکان کو کیسے معلوم ہوا کہ ووٹ ڈالنے کہاں جانا ہے؟پی ٹی آئی وکلاء جواب نہیں دینا چاہتے تو آگے چلتے ہیں،پارٹی ممبران کو تو معلوم ہونا چائیے کہ ووٹ ڈالنے کہاں جانا ہے، چیف الیکشن کمشنر پی ٹی آئی نیاز اللہ نیازی نے کہا کہ واٹس ایپ پر لوگوں کو بتایا تھا اور لوگ پہنچے بھی،ویڈیو موجود ہے عدالت میں چلا لیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ویڈیوز باہر جا کر چلا لیں ہم دستاویزات پر کیس چلاتے ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کتنے ممبر ہیں آپ کی جماعت کے؟نیازاللہ نیازی نے کہا کہ پی ٹی آئی کے 8 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ ممبر ہیں، ووٹنگ ہوئی تھی،وڈیوز چلاکر دیکھ لیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے نیازاللہ نیازی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ آج وکیل نہیں پارٹی ہیں،آپ کوکوئی تمیزہے کہ سینئروکلا کی موجودگی میں اجازت لے کربات کرتے ہیں،آپ کی پارٹی کے وکیل موجود ہیں آپ بیٹھ جائیں،آپ کے سینئر وکلا موجود ہیں ،ہم ہر کسی کو نہیں سن سکتے ،آپ کا وکیل کون ہے آپ پارٹی ہیں،یا تو کہہ دیں کے آپ خود وکیل ہیں ،نیازاللہ نیازی نے کہا کہ میرے حامد خان وکیل ہیں،

    ریکارڈ کے مطابق کیس زیرالتواء ہونے کے دوران ہی دوبارہ پارٹی انتخابات ہوگئے تھے، جسٹس محمد علی مظہر
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ پی ٹی آئی کے 2 دسمبر سے پہلے کب الیکشن ہوئے؟وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ پی ٹی آئی کے آخری الیکشن جون 2017 میں ہوئے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل الیکشن کمیشن سے استفسار کیا کہ ان کاکہنا ہےکہ آخری الیکشن دسمبرمیں ہوئے دستاویزات سے بتائیں،کیا الیکشن کمیشن کا یہ حکم چیلنج ہوا تھا؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ میں فیصلہ چیلنج ہوا تھا جو لارجر بنچ کو ریفر کیا گیا لیکن فیصلہ نہ ہوسکا، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق کیس زیرالتواء ہونے کے دوران ہی دوبارہ پارٹی انتخابات ہوگئے تھے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا دونوں پارٹی انتخابات میں وہی عہدیداران منتخب ہوئے تھے؟ وکیل حامد خان نے کہا کہ اس حوالے سے ہدایات اور ریکارڈ لیکر ہی آگاہ کر سکوں گا،الیکشن کمیشن نے 20 دن میں پارٹی الیکشن کرانے کا کہا تھا اس لئے دوبارہ کرائے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ لاہور ہائی کورٹ میں زیرالتواء درخواست کیا واپس لے لی ہے؟وکیل حامد خان نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کو درخواست غیر موثر ہونے سے آگاہ کر دیا ہے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر بلے کا انتخابی نشان بنتا ہے تو پی ٹی آئی کو ملنا چاہیے،ہم نے پی ٹی آئی کے مقدمہ کیلئے جوڈیشل کونسل اجلاس آگے کیا،پی ٹی آئی انتخابات کرانے آئی تو 12 دن میں انتخابات کی تاریخ دے دی، انتخابات کی تاریخ دی تو علی ظفر خوش اور اٹارنی جنرل ایڈووکیٹ جنرلز سب خوش، آپ الیکشن کمیشن کے خلاف توہین عدالت کی درخواست لائے ہم نے فوری طور پر الیکشن کمیشن سے جواب مانگ لیا، آپ لاہور ہائیکورٹ گئے وہاں لارجر بنچ بنا دیا،آپ لاہور ہائیکورٹ کو چھوڑ کر پشاور چلے گئے ریلیف مل گیا،اب اور کیا کریں؟

    انٹرا پارٹی انتخابات کا ایک کیس لاہور دوسرا پشاور میں کیسے چل سکتا ہے؟ چیف جسٹس
    بیرسٹر گوہر نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے چیئرمین پی ٹی آئی کو پارٹی عہدے کیلئے نااہل کرنے کیلئے کیس چلایا، پارٹی انتخابات اور چیئرمین پی ٹی آئی نااہلی کیسز ایک ساتھ چلانے کی درخواست کی تھی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیس لاہور ہائی کورٹ میں زیر التواء تھا تو پشاور ہائی کورٹ نے کیسے سن لیا؟ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پارٹی انتخابات کی حد تک لاہور ہائیکورٹ والا کیس غیرموثر ہوچکا ہے، انٹراپارٹی انتخابات پشاور میں ہوئے تھے اس لئے پٹیشن بھی وہیں کیے گئے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بیرسٹر گوہر سے سوال کیا کہ آپ کس حیثیت میں دلائل دے رہے ہیں؟ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ عدالت کی معاونت کر رہا ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ حامد خان سینئر وکیل ہیں انہیں بات کرنے دیں، بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہم پشاور ہائی کورٹ میں فورم شاپنگ کرنے نہیں گئے تھے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ فورم شاپنگ کی بات آپ نے کی،میں نے نہیں کی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پی ٹی آئی کو لاہور ہائی کورٹ کیوں پسند نہیں آئی؟وکیل حامد خان نے کہا کہ پشاور کے علاوہ کہیں بھی سکیورٹی نہیں مل رہی تھی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سکیورٹی کیلئے عدالت سے رجوع کیا جا سکتا تھا، من پسند عدالتوں سے رجوع کرنے سے سسٹم خراب ہوتا ہے، وکیل حامد خان نے کہا کہ لیول پلیئنگ فیلڈ کا مقدمہ عدالت میں زیر التواء ہے،ہر طرف گرفتاریوں کی وجہ سے پشاور میں سکیورٹی ملنے پر وہاں انتخابات کرائے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ انٹرا پارٹی انتخابات کا ایک کیس لاہور دوسرا پشاور میں کیسے چل سکتا ہے، کیا پشاور ہائی کورٹ میں دائرہ اختیار کا نکتہ اٹھایا تھا؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ پشاور ہائی کورٹ میں دائرہ اختیار سمیت دو ہائی کورٹس والا نکتہ بھی اٹھایا تھا، لاہور ہائی کورٹ پی ٹی آئی کی ایک درخواست خارج کر چکی ہے، پشاور ہائی کورٹ میں مقدمہ زیرالتواء ہونے کی وجہ سے لاہور ہائی کورٹ نے درخواست خارج کی،چیف جسسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پھر تو لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ رکاوٹ نہیں بنے گا، کیا لاہور ہائیکورٹ کے سنگل بنچ کا فیصلہ پی ٹی آئی نے چیلنج کیا؟وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ میں انٹراکورٹ اپیل دائر کی گئی تھی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق تو انٹراکورٹ اپیل واپس لے لی گئی تھی، وکیل حامد خان نے کہا کہ جن درخواستوں کا ذکر ہو رہا ہے وہ امیدواروں نے اپنے طور پر دائر کی تھیں، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ درخواست گزار عمر آفتاب صدر پی ٹی آئی شیخوپورہ ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ درخواست میں کی گئی استدعا پارٹی کی جانب سے تھی، پشاور اور لاہور ہائی کورٹ میں تضاد تو آ گیا ہے،کیا لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ پی ٹی آئی نے چیلنج کیا ہے؟ وکیل حامد خان نے کہا کہ پی ٹی آئی بطور جماعت فریق ہی نہیں تھی تو چیلنج کیسے کرتی؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ایک ہائیکورٹ کے سنگل بنچ کا فیصلہ ہو دوسری ہائیکورٹ کے ڈویژن بنچ کا تو فوقیت کسے ملے گی؟ وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ ڈویژن بنچ کے فیصلے کو فوقیت دی جائے گی، عمر ایوب کو اختیار نہیں تھا کہ نیازاللہ نیازی کو چیف الیکشن کمشنر تعینات کرتے،

    جب پی ٹی آئی حکومت میں تھی تو الیکشن کمیشن نے ریلیف دیدیا تھا، چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پی ٹی آئی کا پہلے موقف تھا کہ جون 2022 والے انتخابات درست تھے،دوبارہ الیکشن پر جو عہدیدار فارغ ہوئے کیا ان کے حقوق متاثر نہیں ہوئے؟ کیا پہلے والے انتخابات بھی بلامقابلہ تھے؟ لگتا ہے پارٹی انتخابات پر پی ٹی آئی اور الیکشن کمیشن کا پرانا جھگڑا چل رہا ہے،وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ سال 2021 میں انتخابات کا نوٹس جاری کیا تو جواب آیا کہ کرونا کی وجہ سے نہیں کرا سکتے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جب پی ٹی آئی حکومت میں تھی تو الیکشن کمیشن نے ریلیف دیدیا تھا، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ پی ٹی آئی کو حکومت میں ہوتے ہوئے بھی شوکاز دیا تھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کہنا چاہ رہے ہیں نگران حکومت کے دبائو میں کام نہیں کر رہے، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ کرونا کی وجہ سے پی ٹی آئی کو ایک سال کی مہلت دی تھی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ الیکشن کمیشن کا پی ٹی آئی کیساتھ رویہ اب سخت ہوگیا ہے یا پہلے سے تھا، الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو وقت مانگنے پر ایک سال دیا پھر کہا انتخابات ٹھیک نہیں ہوئے،پہلے پی ٹی آئی سرکاری پارٹی تھی اب شاید نہیں ہے، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ پی ٹی آئی آئین کے مطابق چیف الیکشن کمشنر کا انتخاب ہونا ضروری ہے، نیاز اللہ نیازی کا تقرر کسی بھی انتخاب کے بغیر ہوا،

    الیکشن لڑنے کا بنیادی حق چھین لیں تو آمریت قومی اور نجی سطح پر بھی آ جائے گی،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ الیکشن لڑنے کا بنیادی حق ہر شہری اور جماعت کا ہے،الیکشن لڑنے کا بنیادی حق چھین لیں تو آمریت قومی اور نجی سطح پر بھی آ جائے گی، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ کیا دیگر جماعتوں کے آئین کو بھی اتنی باریکی سے دیکھا جاتا ہے؟ کیا باقی جماعتوں میں بھی بلامقابلہ انتخاب ہوتا ہے یا صرف پی ٹی آئی میں ہوا ہے؟ڈی جی لاء الیکشن کمیشن نے کہا کہ ریکارڈ دیکھ کر جواب دینگے، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ آج پارٹی انتخابات نہ کرانے پر 13 سیاسی جماعتوں کو ڈی لسٹ کیا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ یہ بات بہت وزن رکھتی ہے کہ حکومت میں ہوتے ہوئے بھی پی ٹی آئی کو نوٹس کیا گیا تھا،کیا کہیں ایسا تو نہیں کہ آپ تحریک انصاف کے ساتھ امتیازی سلوک کرہے ہیں، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ کوئی امتیازی سلوک نہیں کیا، ایکٹ تمام سیاسی جماعتوں پر لاگو ہوتا ہے،الیکشن کمیشن کے مطابق پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل آج بھی اسد عمر ہی ہیں، جسٹس مسرت نے کہا کہ پارٹی انتخابات کی آگاہی کیلئے قانون میں کوئی طریقہ کار ہے؟ ہر شخص کے پاس واٹس ایپ کی سہولت تو نہیں ہوتی،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ قانون صرف شفاف انٹراپارٹی انتخابات کی بات کرتا ہے،

    بلے کا نشان تو پارٹی انتخابات درست ہونے کی صورت میں ہی مل سکتا ہے،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سارا جھگڑا 22 دسمبر کے انتخابات کا ہے،سب سے پہلے تو ہائیکورٹ کو ڈکلئیر کرنا تھا کہ انتخابات درست ہوئے، انتخابات درست ہوئے تو انتخابی نشان کا مسئلہ آئے گا، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی انتخابات درست قرار دینے کا ڈیکلریشن نہیں دیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ بنیادی چیز جمہوریت ہے، ملک اور سیاسی جماعتوں میں بھی جمہوریت ہونی چاہیے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے پی ٹی آئی وکیل حامد خان کی تعریف کردی، کہا حامد خان صاحب کل پوری تیاری کرکے آئیں اور مخدوم علی خان کو بولڈ کریں، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ پی ٹی آئی کی پٹیشن میں بھی انٹرا پارٹی انتخابات درست قرار دینے کی استدعا نہیں تھی، استدعا انتخابات سرٹیفکیٹ جاری کرنے اور انتخابی نشان کیلئے کی گئی تھی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر صرف پارٹی انتخابات درست قرار پاتے تو باقی کسی استدعا کی ضرورت نہیں تھی،لاہور ہائی کورٹ نے کہا تھا الیکشن ایکٹ کی دفعات کالعدم قرار دیے بغیر الیکشن کمیشن کا دائرہ اختیار ختم نہیں ہوسکتا،کیا پی ٹی آئی کی ہائیکورٹ میں استدعائیں آئین کیخلاف نہیں تھیں؟ وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ میری نظر میں استدعا آئین کیخلاف تھیں، جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ اسد عمر نے پارٹی عہدہ چھوڑا تو ایسے میں پی ٹی آئی کا آئین کیا کہتا ہے؟ کیا ہنگامی طور پر کوئی سیکرٹری جنرل تعینات ہوسکتا ہے؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سیکرٹری جنرل اگر الیکشن کمشنر کی نامزدگی کریں تو بھی ون مین شو نہیں ہوسکتا، کیا پشاور ہائی کورٹ نے پارٹی انتخابات پر کوئی رائے دی ہے؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ مختصر فیصلے میں پارٹی انتخابات کا ذکر نہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ "بلے کا نشان تو پارٹی انتخابات درست ہونے کی صورت میں ہی مل سکتا ہے”پشاور ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا حکم دیا ہے،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا حکم دینے کا مطلب ہے الیکشن کمیشن جائزہ نہیں لے سکتا،

    تین سال میں فارن فنڈنگ کا فیصلہ نہیں ہوا؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا حیرت کا اظہار
    الیکشن کمیشن کے وکیل مخدوم علی خان نے مختلف عدالتی فیصلوں کے حوالے دیئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ فارن فنڈنگ کیس الیکشن کمیشن میں چل رہا ہے اس کا کیا بنا؟وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ حتمی فیصلہ نہیں آیا پی ٹی آئی کو شوکاز جاری کردیا گیا تھا، شوکاز پر کاروائی ابھی جاری ہے، ڈی جی لاء الیکشن کمیشن نے کہا کہ سنگل بینچ نے تو شواہد ریکارڈ کرنے کی ہدایت دی تھی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ تین سال میں فارن فنڈنگ کا فیصلہ نہیں ہوا؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ فارن فنڈنگ میں بھی بے پناہ بے ضابطگی تھی،

    انٹراپارٹی انتخابات درست نہ ہوئے تو پی ٹی آئی کو نتائج کا سامنا کرنا ہوگا،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے کہا کہ دھرنا کیس میں الیکشن کمیشن نے قانون کو کاسمیٹک کہا تھا، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ قانون پر عمل کرنے یا نہ کرنے کا آپشن نہیں ہوتا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ نو سال سے ممنوعہ فنڈنگ کیس ہی نہیں ہوسکا، الیکشن کمیشن حکام نے کہا کہ ممنوعہ فنڈنگ کے حوالے سے قانونی چارہ جوئی چلتی رہی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سپریم کورٹ نے 2018 میں الیکشن کمیشن کو کارروائی کا حکم دیا تھا، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ پشاور ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کے اختیارات پر مبنی قانون غیرموثر کر دیا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ انٹراپارٹی انتخابات درست نہ ہوئے تو پی ٹی آئی کو نتائج کا سامنا کرنا ہوگا،لاہور ہائیکورٹ میں پانچ رکنی بنچ میں آج سماعت تھی علی ظفر نے التواء مانگا،

    اکبر ایس بابر سے بانی رکن ہونے،پی ٹی آئی سے اکبر ایس بابر کو نکالنے کا ثبوت طلب
    وکیل اکبر ایس بابر نے کہا کہ پشاور ہائی کورٹ میں نوٹس کیا گیا نہ موقف سنا گیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ میڈیا سے معلوم ہوا تھا تو پہنچ جاتے،حامد خان بھی آج خود پیش ہوئے ہیں،وکیل نے کہا کہ اکبر ایس بابر پی ٹی آئی کے ممبر ہیں، کاغذات نامزدگی لینے مرکزی سیکرٹریٹ گئے لیکن کچھ نہیں دیا گیا، الیکشن سے پہلے پی ٹی آئی نے پریس ریلیز جاری کی تھی، ہر شہری کا حق ہے وہ کوئی بھی سیاسی جماعت جوائن کر سکتا ہے،اکبر ایس بابر پی ٹی آئی کے بانی رکن ہیں کبھی مستعفی ہوئے نہ کوئی اور جماعت جوائن کی، عدالت نے اکبر بابر سے بانی رکن ہونے کا ثبوت مانگ لیا ،پی ٹی آئی سے اکبر بابر کو نکالنے کی دستاویزات بھی طلب کر لی گئی، تفصیلی فیصلہ کب آئے گا، چیف جسٹس نے عدالتی عملے کو رجسٹرار پشاور ہائیکورٹ سے معلومات لینے کی ہدایت کر دی

    پی ٹی آئی کے بلے کے نشان کے حوالے سے کیس کی سماعت کل صبح 10 بجے تک ملتوی کر دی گئی،الیکشن کمیشن کے وکیل مخدوم علی خان نے دلائل مکمل کرلئے،تحریک انصاف کے وکلا کل دلائل کا آغاز کریں گے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ حامد خان صاحب آپ تھکے ہوئے لگ رہے ہیں، ہم بھی تھک گئے ہیں،آپ آج دلائل دیں گے یا کل؟ ہم کل صرف آپ کیلئے بیٹھیں گے، بتائیں کس وقت سماعت رکھیں،ہم انتخابات کروانا چاہتے ہیں ، آپ جو چاہیں گے ہم وہ کریں گے، فیصلہ نہیں صرف سماعت کا وقت، وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ کل ساڑھے نو بجے دلاٸل شروع کروں گا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ چلیں ہم سماعت کل دس بجے شروع کر لینگے،

    دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ الیکشن کمیشن ایک آئینی ادراہ ہے جس کا کام صاف و شفاف انتخابات کرانا ہے،

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کو بلے کا انتخابی نشان ملنے کے معاملے پر الیکشن کمیشن نے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کردی ہے،الیکشن کمیشن نے اپنی اپیل میں پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی ہے،الیکشن کمیشن کی درخواست میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی نے انٹرا پارٹی انتخابات الیکشن ایکٹ کے مطابق نہیں کرائے،

    واضح رہے کہ پشاور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کا پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات سے متعلق 22 دسمبر کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا، بلے کا نشان بحال ہو گیا،پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس اعجاز انور اور سید ارشد علی نے فیصلہ سنا دیا ۔پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کو بلے کے نشان پر انتخابات لڑنے کی اجازت دے دی۔پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کی درخواست منظور کر لی

    مجھے بلے کی آفر ہوئی میں نے انکار کر دیا

    بلے کے نشان کے بعد پی ٹی آئی کا نام و نشان بھی ختم ہوجائےگا ۔

     پی ٹی آئی کے ساتھ آج جو کچھ ہو رہا ہے وہ اسکا اپنا کیا دھرا ہے ،

    عمران خان نے تبدیلی کے نام پر عوام کو دھوکہ دیا

    الیکشن میں میں جہاں بھی ہوں گا وہاں جیت ہماری ہی ہوگی

     بانی پی ٹی آئی اب قصہ پارینہ بن چکے

    عمران خان ملک میں الیکشن نہیں چاہتا ، وہ صدارتی نظام چاہتاہے