Baaghi TV

Tag: عدالت

  • چلہ کاٹا مگر پنڈی کی پگ پر داغ نہیں لگنےدیا ، شیخ رشید

    چلہ کاٹا مگر پنڈی کی پگ پر داغ نہیں لگنےدیا ، شیخ رشید

    راولپنڈی، شیخ رشید احمد اور شیخ راشد شفیق کے خلاف 9 مئی کے درج مقدمات میں عبوری ضمانت کا معاملہ، عدالت نے عبوری ضمانت کی درخواست پر سماعت ساڑھے 11 تک ملتوی کر دی

    شیخ رشید اور شیخ راشد شفیق انسداد دہشت گردی عدالت پیش ہوئے ،شیخ رشید کے وکیل سردار عبدالرزاق ایڈووکیٹ ساڑھے 11 بجے عدالت پیش ہوں گے، کیس کی سماعت انسداد دہشت گردی عدالت کے جج اعجاز اصف کریں گے

    عدالت پیشی کے موقع پر شیخ رشید کا کہنا تھا کہ گرفتار ہوا تو میں اور میرا بھتیجا راشد شفیق دونوں جیل سے قلم دوات کے نشان پر الیکشن لڑیں گے، اپنے خلاف ہونے والے کیسز پر اُف تک نہیں کی، معاملہ اللہ پر چھوڑ دیا،چلہ بھی کاٹا اور قربانی بھی دی لیکن کوئی پریس کانفرنس نہیں کی، ہم نے پنڈی کی پگ پر داغ نہیں لگنے دیا اور اب ووٹ ڈالنا آپ کا کام ہے، قلم دوات کے نشان پر 8 فروری کو دو حلقوں میں اکثریت سے جیتیں گے، راولپنڈی کے لوگوں کو احساس ہے کہ خدمت کس کا نام ہے اور کس نے کی ہے

    شیخ رشید کا کہنا تھا عوام کو مہنگائی اور بیروزگاری کے جہنم میں پھینکا گیا اس کا بدلہ لینے نکلے ہیں، ایک چیز کلیئر کرنا چاہتا ہوں کہ کبھی کسی کے خلاف پریس کانفرنس نہیں کی، کبھی کسی کے خلاف غلط بات کی اور نہ میں کروں گا۔

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    عام انتخابات، پاکستان میں موروثی سیاست کا خاتمہ نہ ہو سکا،

    سمیرا ملک نے آزاد حیثیت میں انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا

    عام انتخابات، آصفہ انتخابی مہم چلانے کے لئے میدان میں آ گئیں

    صارفین کا کہنا ہے کہ "تنظیم سازی” کرنے والوں‌کو ٹکٹ سےمحروم کر دیا گیا

    مسلم لیگ ن نے عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے سابق دیور احمد رضا مانیکا کو بھی ٹکٹ جاری کر دیا

    واضح رہے کہ گزشتہ روز تحریک انصاف نے امیدواروں کو ٹکٹ جاری کئے ہیں تا ہم شیخ رشید کے مقابلے میں ٹکٹ جاری کر دیئے، شیخ رشید کو ٹکٹ نہ دیا، جس پر شیخ رشید سیخ پا ہیں، سوشل میڈیا پر بھی پی ٹی آئی کارکنان مطالبہ کر رہے ہیں کہ شیخ رشید کو ٹکٹ دیا جائے،ایک صارف کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی قیادت نے ٹکٹوں پر نظرثانی نہ بھی کی تو میرے خیال میں پنڈی اور جہلم کے ووٹرز اتنے باشعور ہیں کہ وہ شیخ رشید اور فواد چوہدری کی کارکردگی، حلقوں میں ترقیاتی کام اور عمران خان کی تحریک میں قربانیوں کے اعتراف میں انہی کو ووٹ دیں گے۔ اخلاقی جرات کا تقاضا تو یہی ہے کہ پی ٹی آئی کے امیدوار شیخ صاحب اور فواد صاحب کے حق میں دستبردار ہوجائیں۔

  • پرویز الہیٰ کی اہلیہ کے کاغذات منظور،مونس الہیٰ نااہل قرار

    پرویز الہیٰ کی اہلیہ کے کاغذات منظور،مونس الہیٰ نااہل قرار

    لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے چودھری پرویزالہٰی، مونس الہٰی اور قیصرہ الہٰی کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے خلاف درخواستوں پر سماعت کی

    لاہور ہائیکورٹ نے سابق وزیراعلی پنجاب پرویز الٰہی کی اہلیہ قیصرہ الٰہی کو حلقہ این اے 64 ،69 اور پی پی 32 سے الیکشن لڑنے کی اجازت دے،مونس الٰہی عام انتخابات 2024ء کے لیے نااہل قرار دے دیئے گئے،جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے آر او اور ٹریبونل کا فیصلہ کالعدم قرار دیا،پرویز الہیٰ کی اپیل پر ابھی تک فیصلہ نہیں سنایا جا سکا

    پرویز الہی کے وکیل شہزاد شوکت نے دلائل دیئے اور کہا کہ کاغذات نامزدگی میں حقائق چھپانے کا الزام عائد کیا گیا،کاغذات نامزدگی میں الزام ہے کہ سات اسلحہ لائسنس کا ذکر نہیں کیا گیا،کاغذات نامزدگی میں اسپیشل اکاؤنٹ نہ ہونے کا الزام عائد کیا گیا ،قانون کے مطابق کاغذات میں چیزیں درج ہیں،کاغذات نامزدگی کو چھیننے کی کوشش کی گئی، پرویز الہی سینئر سیاست دان ہیں انکو الیکشن لڑنے کی اجازت دی جائے ،اکاؤنٹ کے حوالے سے آر او نے بے بنیاد فیصلہ کیا،ایک سے زیادہ اکاؤنٹ ہونا کوئی جرم نہیں،جسٹس باقر نجفی نے استفسار کیا کہ کیا امیدورا خود آر او کے پاس پیش ہوئے،وکیل نے کہا کہ ہمارے تو تمام امیدواروں کو اٹھایا ہوا ہے،پرویز الہی تو جیل میں ہیں،عدالت نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو آپ نے شکایت کی درخواست جمع کرائی،آپکو پہلے الیکشن کمیشن کے پاس جانا چاہیے تھا،وکیل نے کہا کہ یہ کیس بھی عجیب نوعیت کا ہے،پرویز الہی وغیرہ کے پیپر صرف اس لیے مسترد کیے گئے کہ وہ ایک سے زیادہ اکاؤنٹ رکھتے ہیں یا پھر جو اکاؤنٹ سیز ہو چکے ہیں انکے واچر جمع نہیں کرائے،

    وکیل پرویز الہیٰ نے کہا کہ تصدیق کنندہ اور تجویز کنندہ کو گرفتار کیا گیا، امجد پرویز ان کے کاغذات نامزدگی جمع کرانے گئے تو ان کو حراست میں لے لیا گیا،جسٹس علی باقر نجفی نے ریمارکس دیئے کہ یہ تو الیکشن کمیشن کی ذمہ داری تھی کہ وہ بروقت احکامات جاری کرتا،پرویز الہی کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے خلاف سماعت مکمل ہو گئی،عدالت نے پرویز الہی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    تمام امیدواران کو الیکشن کا برابر موقع ملنا چاہئے

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

     این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    پیپلز پارٹی کی ایک کارنر میٹنگ میں اپنے ہی جیالوں کو دھمکی

    سمیرا ملک نے آزاد حیثیت میں انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا

    عام انتخابات، آصفہ انتخابی مہم چلانے کے لئے میدان میں آ گئیں

    صارفین کا کہنا ہے کہ "تنظیم سازی” کرنے والوں‌کو ٹکٹ سےمحروم کر دیا گیا

    عام انتخابات، پاکستان میں موروثی سیاست کا خاتمہ نہ ہو سکا،

  • بلے کا انتخابی نشان، سپریم کورٹ میں سماعت کل تک ملتوی

    بلے کا انتخابی نشان، سپریم کورٹ میں سماعت کل تک ملتوی

    سپریم کورٹ میں پشاور ہائیکورٹ فیصلے کیخلاف الیکشن کمیشن کی درخواست پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز کی سربراہی میں تین رکنی بنیچ نے سماعت کی،جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی بنچ میں شامل تھے،الیکشن کمیشن نے گزشتہ روز پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا پشاور ہائی کورٹ کا تفصیلی فیصلہ آ گیا ہے؟وکیل حامد خان نے عدالت میں کہا کہ تفصیلی فیصلہ ابھی نہیں آیا،مخدوم علی خان نے بلے کا نشان واپس کرنے کا فیصلہ پڑھ کر سنا دیا،

    تحریک انصاف کے وکیل حامد خان کمرہ عدالت، علی ظفر لاہور رجسٹری سے ویڈیو لنک پر موجود تھے، وکیل حامد خان نے کہا کہ ہمیں کوئی نوٹس موصول نہیں ہوا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیس کی فائل میں نے بھی نہیں پڑھی، آپ مقدمہ کیلئے کب تیار ہونگے؟ وکیل حامد خان نے کہا کہ پیر کو سماعت رکھ لیں، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ کل امیدواروں کو انتخابی نشان الاٹ ہونے ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پیر تک سماعت ملتوی کرنے کیلئے ہائی کورٹ کا حکم معطل کرنا پڑے گا،ہم تو ہفتے اور اتوار کو بھی سماعت کیلئے تیار ہیں، وکیل حامد خان نے کہا کہ اس صورت میں تیاری کیلئے کل تک کا وقت دیں،

    وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ تحریک انصاف نے انٹرا پارٹی الیکشن کیلئے پی ٹی آئی کا الیکشن کمیشن قانونی طور تشکیل نہیں دیا ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا یہ حقیقت درست ہے، وکیل حامد خان نے کہا کہ یہ بات درست نہیں الیکشن کمیشن اپیل قابل سماعت نہیں۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ اگر اپیل کے قابل سماعت ہونے کا اعتراض ہے تو حامد خان پہلے آپ دلائل دیں۔وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ انٹرا پارٹی الیکشن کیلئے پی ٹی آئی کے الیکشن کمیشن کی تشکیل قانون طور پر درست نہیں تھی،وکیل حامد خان نے کہا کہ اس معاملے پر دلائل دینے کو تیار ہوں، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ بتائیں سیاسی جماعت انتخابات کیلئے فیڈرل الیکشن کمشنر کیسے تعینات کرتی ہے،الیکشن کمیشن کا کہنا ہے پی ٹی آئی کا فیڈرل الیکشن کمشنر بھی درست تشکیل نہیں ہوا،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ جمال اکبر انصاری فیڈرل الیکشن کمشنر تھے، تحریک انصاف کے گزشتہ پارٹی انتخابات 2017 میں ہوئے تھے،پارٹی آئین کے مطابق تحریک انصاف 2022 میں پارٹی انتخابات کرانے کی پابند تھی،الیکشن کمیشن نے پارٹی آئین کے مطابق انتخابات نہ کرانے پر پی ٹی آئی کو نوٹس جاری کیا، جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ پی ٹی آئی کے آئین میں الیکشن کمشنر کی تعیناتی کا طریقہ کار کہاں درج ہے؟ وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ پہلے جمال انصاری بعد میں نیاز اللہ نیازی پی ٹی آئی کے چیف الیکشن کمشنر بنے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پارٹی آئین کے مطابق الیکشن کمیشن کے باقی ارکان کون تھے؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر کے علاوہ کوئی اور ممبر تعینات نہیں تھا،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے حامد خان سے سوال کیا کہ کیا یہ بات درست ہے؟ وکیل حامد خان نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے وکیل کی یہ بات درست نہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ الیکشن کمیشن ارکان کی تقرری کی دستاویزات کہاں ہیں؟ وکیل حامد خان نے کہا کہ کیس کی تیاری کیلئے وقت اسی لئے مانگا تھا،الیکشن کمیشن کی اپیل قابل سماعت اور حق دعوی نہ ہونے پر بھی دلائل دوں گا،مناسب ہوگا پہلے حق دعویٰ اور قابل سماعت ہونے کا نکتہ سن لیں،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو ریگولیٹ کرنا اور شفاف انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے، وکیل حامد خان نے کہا کہ سپریم کورٹ قرار دے چکی ہے کہ کوئی ادارہ اپنے فیصلے کے دفاع میں اپیل نہیں کر سکتا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کسٹم کلیکٹر بھی اپنے فیصلے کیخلاف ہائی کورٹ میں اپیلیں کرتے ہیں،وکیل حامد خان نے کہا کہ عدالت نے مسابقتی کمیشن اور وفاقی محتسب کے کیسز میں اداروں کو اپنے فیصلوں کیخلاف اپیلوں سے روکا تھا،کیا کوئی جج بھی اپنے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرسکتا ہے؟چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا آئینی اداروں پر ان فیصلوں کا اطلاق ہو سکتا ہے؟قانون اور آئین کے تحت قائم ادارے ایک جیسے نہیں ہوسکتے،آئین کے تحت بنا الیکشن کمیشن آئین کے مطابق ہی اختیارات استعمال کرے گا،کوئی ایسا فیصلہ دکھائیں جہاں آئینی اداروں کو اپیلوں سے روکا گیا،وکیل حامد خان نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا انحصار آئین نہیں الیکشن ایکٹ پر ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کی بات مان لی تو یہ آئینی ادارے کو ختم کرنے والی بات ہوگی،

    کیا الیکشن کمیشن اپنے خلاف فیصلہ آنے پر سرینڈر کر دے؟ چیف جسٹس
    سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی کی انتخابی نشان کیس کی سماعت پیر تک ملتوی کرنے کی استدعا مسترد کردی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ الیکشن کمیشن اپیل نہ کرے تو اسکے فیصلے بے معنی ہوجائیں گے، وکیل حامد خان نے کہا کہ متاثرہ فریق اپیل کر سکتا ہے الیکشن کمیشن نہیں، کیا ڈسٹرکٹ جج خود اپنا فیصلہ کالعدم ہونے کی خلاف اپیل کر سکتا ہے؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ڈسٹرکٹ جج عدلیہ کے ماتحت ہوتا ہے الیکشن کمیشن الگ آئینی ادارہ ہے، کیا الیکشن کمیشن اپنے خلاف فیصلہ آنے پر سرینڈر کر دے؟ حامد خان صاحب ایک آئینی ادارے کا قانونی ادارے سے تقابل نہ کریں،آپ نے جو دوفیصلوں کا حوالہ دیا وہ قانونی اداروں کے حوالے سے ہے،وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ ہرآئینی ادارہ قانون کے تحت چلتا ہے اورالیکشن کمیشن الیکشن ایکٹ کے قانون کے مطابق چلتا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ چلیں ہم نے آپ کے اعتراض کو نوٹ کرلیا ہے، آپ کے پاس اعتراضات کرنے کا بالکل حق موجود ہے،وکیل حامد خان نے کہا کہ ہمیں کل ہی نوٹس ملا ہے ہم تیار نہیں ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے سے ابھی تک یہ بات سمجھ آئی ہےکہ پارٹی نے اپنے ہی آئین کے تحت الیکشن نہیں کرایا، حامد خان صاحب،آپ دستاویزات داخل کرنا چاہتے ضرور کریں، آپ چاہتے ہیں کہ عدالت الیکشن کمیشن کا ریکارڈ منگوالے توہم وہ بھی منگوالیتے ہیں،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ پی ٹی آئی کے پارٹی الیکشن کیخلاف چودہ شکایات ملی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے استفسار کیا کہ یہ درخواستیں کس نے دائر کیں؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ درخواستیں دینے والے تحریک انصاف کے لوگ تھے،

    کسی آئینی ادارے کا کام خود نہیں کرینگے،چیف جسٹس
    اکبر ایس بابر کے وکیل روسٹرم پر آ گئے، اور کہا کہ ہماری درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا گیا ، اکبر ایس بابر فاونڈر ممبر پی ٹی آئی ہے، اکبر ایس بابر پارٹی میں مختلف عہدوں پر تعینات رہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پھر وہ پی ٹی آئی کے ممبر کیوں نہیں؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل حامد خان سے سوال کیا کہ کیا آپ نے اکبر ایس بابر کو پارٹی سے نکال دیا؟وکیل حامد خان نے کہا کہ شکایت کنندگان پی ٹی آئی کے ارکان نہیں تھے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ فاونڈر ممبر تو میرے حساب سے کبھی ختم نہیں ہوتا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا انہوں نے کسی اور جماعت میں شمولیت اختیار کی؟ حامد خان نے کہا کہ یہ تو ایک اور بحث ہے کہ کون فاونڈنگ ممبر ہے کون نہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ حامد خان صاحب کیا آپ تحریک انصاف کے فاونڈنگ ممبر نہیں ؟وکیل حامد خان نے کہا کہ جی میں پارٹی کا فاونڈنگ ممبر ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کسی آئینی ادارے کا کام خود نہیں کرینگے،الیکشن کمیشن کے وکیل کو کیس کے حقائق سے آگاہ کرنے دیں،پارٹی الیکشن کمیشن کی تقرری کی دستاویز کہاں ہے؟ وکیل حامد خان نے کہا کہ عدالت باضابطہ نوٹس جاری کرتی تو آج دستاویزات بھی لے آتے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پی ٹی آئی خود ہائی کورٹ گئی تھی انہیں تو اپیل دائر ہونے پر حیران نہیں ہونا چاہیے تھا،الیکشن کمیشن سے کارروائی کا مکمل ریکارڈ منگوا لیتے ہیں،

    بلے کا انتخابی نشان، سپریم کورٹ میں سماعت میں وقفہ
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ابھی سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس ہے،اجلاس کے بعد ڈیڑھ بجے تک کیس کی سماعت دوبارہ شروع کریں گے،دو صوبوں کے چیف جسٹس صاحبان سپریم جوڈیشل کونسل اجلاس کیلئے انتظار کررہے ہیں،ہم جمہوریت پر چلتے ہیں، مجھے اندازہ نہیں ہے ہم کب دستیاب ہونگے،ڈیڑھ بجے تک آپ لوگ آزاد ہیں، عدالت نے الیکشن کمیشن سے کیس کی اوریجنل فائل منگوا لی.

    پی ٹی آئی کا الیکشن کون کون لڑ سکتا ہے؟ چیف جسٹس
    وقفے کے بعد دوبارہ سماعت ہوئی،الیکشن کمیشن کے وکیل مخدوم علی خان نے دلائل کا دوبارہ آغاز کر دیا ، وکیل الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے انٹراپارٹی انتخابات کیس میں 64 صفحات پر مشتمل فیصلہ دیا، الیکشن کمیشن کے پولیٹیکل فنانس ونگ نے بھی انٹراپارٹی انتخابات پر سوالات اٹھائے تھے، الیکشن کمیشن کے مطابق تحریک انصاف کے انتخابات قانون کے مطابق نہیں تھے، پی ٹی آئی کے انتخابات خفیہ اور پیش کی گئی دستاویزات حقائق کے مطابق نہیں تھے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو پی ٹی آئی کے آئین پر اعتراض نہیں ہے؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے مطابق پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی الیکشن پارٹی آئین کے تحت نہیں ہوئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ تحریک انصاف نے آئین تو بہت اچھا بنایا ہے،وکیل الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کا کیس یہی ہے کہ انتخابات پارٹی آئین کے مطابق نہیں ہوئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پی ٹی آئی کا الیکشن کون کون لڑ سکتا ہے؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ پارٹی انتخابات صرف ممبران ہی لڑ سکتے ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل کون ہیں؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ پہلے اسد عمر تھے اب عمر ایوب سیکرٹری جنرل ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا اسد عمر نے پی ٹی آئی چھوڑ دی ہے؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق اسد عمر تحریک انصاف چھوڑ چکے ہیں، اسد عمر سیکرٹری جنرل کیسے بنے الیکشن کمیشن ریکارڈ پر کچھ نہیں ہے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سوال کیا کہ پی ٹی آئی کے انتخابات کہاں ہوئے تھے؟ کسی ہوٹل میں ہوئے یا کسی دفتر یا گھر میں؟ پی ٹی آئی وکلا نے کہا کہ چمکنی کے گرائونڈ میں ہوئے تھے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا کوئی نوٹیفیکیشن ہے جس میں بتایا گیا ہو کہ پارٹی الیکشن کس جگہ ہونگے؟ جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ چھوٹے سے گم نام گائوں میں انتخابات کیوں کرائے؟چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ریکارڈ پر تو کچھ نہیں ہے کہ پشاور میں جس جگہ پارٹی الیکشن ہوا،پارٹی ارکان کو کیسے معلوم ہوا کہ ووٹ ڈالنے کہاں جانا ہے؟پی ٹی آئی وکلاء جواب نہیں دینا چاہتے تو آگے چلتے ہیں،پارٹی ممبران کو تو معلوم ہونا چائیے کہ ووٹ ڈالنے کہاں جانا ہے، چیف الیکشن کمشنر پی ٹی آئی نیاز اللہ نیازی نے کہا کہ واٹس ایپ پر لوگوں کو بتایا تھا اور لوگ پہنچے بھی،ویڈیو موجود ہے عدالت میں چلا لیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ویڈیوز باہر جا کر چلا لیں ہم دستاویزات پر کیس چلاتے ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کتنے ممبر ہیں آپ کی جماعت کے؟نیازاللہ نیازی نے کہا کہ پی ٹی آئی کے 8 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ ممبر ہیں، ووٹنگ ہوئی تھی،وڈیوز چلاکر دیکھ لیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے نیازاللہ نیازی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ آج وکیل نہیں پارٹی ہیں،آپ کوکوئی تمیزہے کہ سینئروکلا کی موجودگی میں اجازت لے کربات کرتے ہیں،آپ کی پارٹی کے وکیل موجود ہیں آپ بیٹھ جائیں،آپ کے سینئر وکلا موجود ہیں ،ہم ہر کسی کو نہیں سن سکتے ،آپ کا وکیل کون ہے آپ پارٹی ہیں،یا تو کہہ دیں کے آپ خود وکیل ہیں ،نیازاللہ نیازی نے کہا کہ میرے حامد خان وکیل ہیں،

    ریکارڈ کے مطابق کیس زیرالتواء ہونے کے دوران ہی دوبارہ پارٹی انتخابات ہوگئے تھے، جسٹس محمد علی مظہر
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ پی ٹی آئی کے 2 دسمبر سے پہلے کب الیکشن ہوئے؟وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ پی ٹی آئی کے آخری الیکشن جون 2017 میں ہوئے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل الیکشن کمیشن سے استفسار کیا کہ ان کاکہنا ہےکہ آخری الیکشن دسمبرمیں ہوئے دستاویزات سے بتائیں،کیا الیکشن کمیشن کا یہ حکم چیلنج ہوا تھا؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ میں فیصلہ چیلنج ہوا تھا جو لارجر بنچ کو ریفر کیا گیا لیکن فیصلہ نہ ہوسکا، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق کیس زیرالتواء ہونے کے دوران ہی دوبارہ پارٹی انتخابات ہوگئے تھے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا دونوں پارٹی انتخابات میں وہی عہدیداران منتخب ہوئے تھے؟ وکیل حامد خان نے کہا کہ اس حوالے سے ہدایات اور ریکارڈ لیکر ہی آگاہ کر سکوں گا،الیکشن کمیشن نے 20 دن میں پارٹی الیکشن کرانے کا کہا تھا اس لئے دوبارہ کرائے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ لاہور ہائی کورٹ میں زیرالتواء درخواست کیا واپس لے لی ہے؟وکیل حامد خان نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کو درخواست غیر موثر ہونے سے آگاہ کر دیا ہے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر بلے کا انتخابی نشان بنتا ہے تو پی ٹی آئی کو ملنا چاہیے،ہم نے پی ٹی آئی کے مقدمہ کیلئے جوڈیشل کونسل اجلاس آگے کیا،پی ٹی آئی انتخابات کرانے آئی تو 12 دن میں انتخابات کی تاریخ دے دی، انتخابات کی تاریخ دی تو علی ظفر خوش اور اٹارنی جنرل ایڈووکیٹ جنرلز سب خوش، آپ الیکشن کمیشن کے خلاف توہین عدالت کی درخواست لائے ہم نے فوری طور پر الیکشن کمیشن سے جواب مانگ لیا، آپ لاہور ہائیکورٹ گئے وہاں لارجر بنچ بنا دیا،آپ لاہور ہائیکورٹ کو چھوڑ کر پشاور چلے گئے ریلیف مل گیا،اب اور کیا کریں؟

    انٹرا پارٹی انتخابات کا ایک کیس لاہور دوسرا پشاور میں کیسے چل سکتا ہے؟ چیف جسٹس
    بیرسٹر گوہر نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے چیئرمین پی ٹی آئی کو پارٹی عہدے کیلئے نااہل کرنے کیلئے کیس چلایا، پارٹی انتخابات اور چیئرمین پی ٹی آئی نااہلی کیسز ایک ساتھ چلانے کی درخواست کی تھی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیس لاہور ہائی کورٹ میں زیر التواء تھا تو پشاور ہائی کورٹ نے کیسے سن لیا؟ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پارٹی انتخابات کی حد تک لاہور ہائیکورٹ والا کیس غیرموثر ہوچکا ہے، انٹراپارٹی انتخابات پشاور میں ہوئے تھے اس لئے پٹیشن بھی وہیں کیے گئے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بیرسٹر گوہر سے سوال کیا کہ آپ کس حیثیت میں دلائل دے رہے ہیں؟ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ عدالت کی معاونت کر رہا ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ حامد خان سینئر وکیل ہیں انہیں بات کرنے دیں، بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہم پشاور ہائی کورٹ میں فورم شاپنگ کرنے نہیں گئے تھے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ فورم شاپنگ کی بات آپ نے کی،میں نے نہیں کی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پی ٹی آئی کو لاہور ہائی کورٹ کیوں پسند نہیں آئی؟وکیل حامد خان نے کہا کہ پشاور کے علاوہ کہیں بھی سکیورٹی نہیں مل رہی تھی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سکیورٹی کیلئے عدالت سے رجوع کیا جا سکتا تھا، من پسند عدالتوں سے رجوع کرنے سے سسٹم خراب ہوتا ہے، وکیل حامد خان نے کہا کہ لیول پلیئنگ فیلڈ کا مقدمہ عدالت میں زیر التواء ہے،ہر طرف گرفتاریوں کی وجہ سے پشاور میں سکیورٹی ملنے پر وہاں انتخابات کرائے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ انٹرا پارٹی انتخابات کا ایک کیس لاہور دوسرا پشاور میں کیسے چل سکتا ہے، کیا پشاور ہائی کورٹ میں دائرہ اختیار کا نکتہ اٹھایا تھا؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ پشاور ہائی کورٹ میں دائرہ اختیار سمیت دو ہائی کورٹس والا نکتہ بھی اٹھایا تھا، لاہور ہائی کورٹ پی ٹی آئی کی ایک درخواست خارج کر چکی ہے، پشاور ہائی کورٹ میں مقدمہ زیرالتواء ہونے کی وجہ سے لاہور ہائی کورٹ نے درخواست خارج کی،چیف جسسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پھر تو لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ رکاوٹ نہیں بنے گا، کیا لاہور ہائیکورٹ کے سنگل بنچ کا فیصلہ پی ٹی آئی نے چیلنج کیا؟وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ میں انٹراکورٹ اپیل دائر کی گئی تھی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق تو انٹراکورٹ اپیل واپس لے لی گئی تھی، وکیل حامد خان نے کہا کہ جن درخواستوں کا ذکر ہو رہا ہے وہ امیدواروں نے اپنے طور پر دائر کی تھیں، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ درخواست گزار عمر آفتاب صدر پی ٹی آئی شیخوپورہ ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ درخواست میں کی گئی استدعا پارٹی کی جانب سے تھی، پشاور اور لاہور ہائی کورٹ میں تضاد تو آ گیا ہے،کیا لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ پی ٹی آئی نے چیلنج کیا ہے؟ وکیل حامد خان نے کہا کہ پی ٹی آئی بطور جماعت فریق ہی نہیں تھی تو چیلنج کیسے کرتی؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ایک ہائیکورٹ کے سنگل بنچ کا فیصلہ ہو دوسری ہائیکورٹ کے ڈویژن بنچ کا تو فوقیت کسے ملے گی؟ وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ ڈویژن بنچ کے فیصلے کو فوقیت دی جائے گی، عمر ایوب کو اختیار نہیں تھا کہ نیازاللہ نیازی کو چیف الیکشن کمشنر تعینات کرتے،

    جب پی ٹی آئی حکومت میں تھی تو الیکشن کمیشن نے ریلیف دیدیا تھا، چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پی ٹی آئی کا پہلے موقف تھا کہ جون 2022 والے انتخابات درست تھے،دوبارہ الیکشن پر جو عہدیدار فارغ ہوئے کیا ان کے حقوق متاثر نہیں ہوئے؟ کیا پہلے والے انتخابات بھی بلامقابلہ تھے؟ لگتا ہے پارٹی انتخابات پر پی ٹی آئی اور الیکشن کمیشن کا پرانا جھگڑا چل رہا ہے،وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ سال 2021 میں انتخابات کا نوٹس جاری کیا تو جواب آیا کہ کرونا کی وجہ سے نہیں کرا سکتے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جب پی ٹی آئی حکومت میں تھی تو الیکشن کمیشن نے ریلیف دیدیا تھا، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ پی ٹی آئی کو حکومت میں ہوتے ہوئے بھی شوکاز دیا تھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کہنا چاہ رہے ہیں نگران حکومت کے دبائو میں کام نہیں کر رہے، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ کرونا کی وجہ سے پی ٹی آئی کو ایک سال کی مہلت دی تھی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ الیکشن کمیشن کا پی ٹی آئی کیساتھ رویہ اب سخت ہوگیا ہے یا پہلے سے تھا، الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو وقت مانگنے پر ایک سال دیا پھر کہا انتخابات ٹھیک نہیں ہوئے،پہلے پی ٹی آئی سرکاری پارٹی تھی اب شاید نہیں ہے، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ پی ٹی آئی آئین کے مطابق چیف الیکشن کمشنر کا انتخاب ہونا ضروری ہے، نیاز اللہ نیازی کا تقرر کسی بھی انتخاب کے بغیر ہوا،

    الیکشن لڑنے کا بنیادی حق چھین لیں تو آمریت قومی اور نجی سطح پر بھی آ جائے گی،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ الیکشن لڑنے کا بنیادی حق ہر شہری اور جماعت کا ہے،الیکشن لڑنے کا بنیادی حق چھین لیں تو آمریت قومی اور نجی سطح پر بھی آ جائے گی، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ کیا دیگر جماعتوں کے آئین کو بھی اتنی باریکی سے دیکھا جاتا ہے؟ کیا باقی جماعتوں میں بھی بلامقابلہ انتخاب ہوتا ہے یا صرف پی ٹی آئی میں ہوا ہے؟ڈی جی لاء الیکشن کمیشن نے کہا کہ ریکارڈ دیکھ کر جواب دینگے، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ آج پارٹی انتخابات نہ کرانے پر 13 سیاسی جماعتوں کو ڈی لسٹ کیا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ یہ بات بہت وزن رکھتی ہے کہ حکومت میں ہوتے ہوئے بھی پی ٹی آئی کو نوٹس کیا گیا تھا،کیا کہیں ایسا تو نہیں کہ آپ تحریک انصاف کے ساتھ امتیازی سلوک کرہے ہیں، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ کوئی امتیازی سلوک نہیں کیا، ایکٹ تمام سیاسی جماعتوں پر لاگو ہوتا ہے،الیکشن کمیشن کے مطابق پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل آج بھی اسد عمر ہی ہیں، جسٹس مسرت نے کہا کہ پارٹی انتخابات کی آگاہی کیلئے قانون میں کوئی طریقہ کار ہے؟ ہر شخص کے پاس واٹس ایپ کی سہولت تو نہیں ہوتی،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ قانون صرف شفاف انٹراپارٹی انتخابات کی بات کرتا ہے،

    بلے کا نشان تو پارٹی انتخابات درست ہونے کی صورت میں ہی مل سکتا ہے،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سارا جھگڑا 22 دسمبر کے انتخابات کا ہے،سب سے پہلے تو ہائیکورٹ کو ڈکلئیر کرنا تھا کہ انتخابات درست ہوئے، انتخابات درست ہوئے تو انتخابی نشان کا مسئلہ آئے گا، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی انتخابات درست قرار دینے کا ڈیکلریشن نہیں دیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ بنیادی چیز جمہوریت ہے، ملک اور سیاسی جماعتوں میں بھی جمہوریت ہونی چاہیے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے پی ٹی آئی وکیل حامد خان کی تعریف کردی، کہا حامد خان صاحب کل پوری تیاری کرکے آئیں اور مخدوم علی خان کو بولڈ کریں، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ پی ٹی آئی کی پٹیشن میں بھی انٹرا پارٹی انتخابات درست قرار دینے کی استدعا نہیں تھی، استدعا انتخابات سرٹیفکیٹ جاری کرنے اور انتخابی نشان کیلئے کی گئی تھی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر صرف پارٹی انتخابات درست قرار پاتے تو باقی کسی استدعا کی ضرورت نہیں تھی،لاہور ہائی کورٹ نے کہا تھا الیکشن ایکٹ کی دفعات کالعدم قرار دیے بغیر الیکشن کمیشن کا دائرہ اختیار ختم نہیں ہوسکتا،کیا پی ٹی آئی کی ہائیکورٹ میں استدعائیں آئین کیخلاف نہیں تھیں؟ وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ میری نظر میں استدعا آئین کیخلاف تھیں، جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ اسد عمر نے پارٹی عہدہ چھوڑا تو ایسے میں پی ٹی آئی کا آئین کیا کہتا ہے؟ کیا ہنگامی طور پر کوئی سیکرٹری جنرل تعینات ہوسکتا ہے؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سیکرٹری جنرل اگر الیکشن کمشنر کی نامزدگی کریں تو بھی ون مین شو نہیں ہوسکتا، کیا پشاور ہائی کورٹ نے پارٹی انتخابات پر کوئی رائے دی ہے؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ مختصر فیصلے میں پارٹی انتخابات کا ذکر نہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ "بلے کا نشان تو پارٹی انتخابات درست ہونے کی صورت میں ہی مل سکتا ہے”پشاور ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا حکم دیا ہے،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا حکم دینے کا مطلب ہے الیکشن کمیشن جائزہ نہیں لے سکتا،

    تین سال میں فارن فنڈنگ کا فیصلہ نہیں ہوا؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا حیرت کا اظہار
    الیکشن کمیشن کے وکیل مخدوم علی خان نے مختلف عدالتی فیصلوں کے حوالے دیئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ فارن فنڈنگ کیس الیکشن کمیشن میں چل رہا ہے اس کا کیا بنا؟وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ حتمی فیصلہ نہیں آیا پی ٹی آئی کو شوکاز جاری کردیا گیا تھا، شوکاز پر کاروائی ابھی جاری ہے، ڈی جی لاء الیکشن کمیشن نے کہا کہ سنگل بینچ نے تو شواہد ریکارڈ کرنے کی ہدایت دی تھی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ تین سال میں فارن فنڈنگ کا فیصلہ نہیں ہوا؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ فارن فنڈنگ میں بھی بے پناہ بے ضابطگی تھی،

    انٹراپارٹی انتخابات درست نہ ہوئے تو پی ٹی آئی کو نتائج کا سامنا کرنا ہوگا،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے کہا کہ دھرنا کیس میں الیکشن کمیشن نے قانون کو کاسمیٹک کہا تھا، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ قانون پر عمل کرنے یا نہ کرنے کا آپشن نہیں ہوتا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ نو سال سے ممنوعہ فنڈنگ کیس ہی نہیں ہوسکا، الیکشن کمیشن حکام نے کہا کہ ممنوعہ فنڈنگ کے حوالے سے قانونی چارہ جوئی چلتی رہی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سپریم کورٹ نے 2018 میں الیکشن کمیشن کو کارروائی کا حکم دیا تھا، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ پشاور ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کے اختیارات پر مبنی قانون غیرموثر کر دیا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ انٹراپارٹی انتخابات درست نہ ہوئے تو پی ٹی آئی کو نتائج کا سامنا کرنا ہوگا،لاہور ہائیکورٹ میں پانچ رکنی بنچ میں آج سماعت تھی علی ظفر نے التواء مانگا،

    اکبر ایس بابر سے بانی رکن ہونے،پی ٹی آئی سے اکبر ایس بابر کو نکالنے کا ثبوت طلب
    وکیل اکبر ایس بابر نے کہا کہ پشاور ہائی کورٹ میں نوٹس کیا گیا نہ موقف سنا گیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ میڈیا سے معلوم ہوا تھا تو پہنچ جاتے،حامد خان بھی آج خود پیش ہوئے ہیں،وکیل نے کہا کہ اکبر ایس بابر پی ٹی آئی کے ممبر ہیں، کاغذات نامزدگی لینے مرکزی سیکرٹریٹ گئے لیکن کچھ نہیں دیا گیا، الیکشن سے پہلے پی ٹی آئی نے پریس ریلیز جاری کی تھی، ہر شہری کا حق ہے وہ کوئی بھی سیاسی جماعت جوائن کر سکتا ہے،اکبر ایس بابر پی ٹی آئی کے بانی رکن ہیں کبھی مستعفی ہوئے نہ کوئی اور جماعت جوائن کی، عدالت نے اکبر بابر سے بانی رکن ہونے کا ثبوت مانگ لیا ،پی ٹی آئی سے اکبر بابر کو نکالنے کی دستاویزات بھی طلب کر لی گئی، تفصیلی فیصلہ کب آئے گا، چیف جسٹس نے عدالتی عملے کو رجسٹرار پشاور ہائیکورٹ سے معلومات لینے کی ہدایت کر دی

    پی ٹی آئی کے بلے کے نشان کے حوالے سے کیس کی سماعت کل صبح 10 بجے تک ملتوی کر دی گئی،الیکشن کمیشن کے وکیل مخدوم علی خان نے دلائل مکمل کرلئے،تحریک انصاف کے وکلا کل دلائل کا آغاز کریں گے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ حامد خان صاحب آپ تھکے ہوئے لگ رہے ہیں، ہم بھی تھک گئے ہیں،آپ آج دلائل دیں گے یا کل؟ ہم کل صرف آپ کیلئے بیٹھیں گے، بتائیں کس وقت سماعت رکھیں،ہم انتخابات کروانا چاہتے ہیں ، آپ جو چاہیں گے ہم وہ کریں گے، فیصلہ نہیں صرف سماعت کا وقت، وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ کل ساڑھے نو بجے دلاٸل شروع کروں گا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ چلیں ہم سماعت کل دس بجے شروع کر لینگے،

    دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ الیکشن کمیشن ایک آئینی ادراہ ہے جس کا کام صاف و شفاف انتخابات کرانا ہے،

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کو بلے کا انتخابی نشان ملنے کے معاملے پر الیکشن کمیشن نے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کردی ہے،الیکشن کمیشن نے اپنی اپیل میں پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی ہے،الیکشن کمیشن کی درخواست میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی نے انٹرا پارٹی انتخابات الیکشن ایکٹ کے مطابق نہیں کرائے،

    واضح رہے کہ پشاور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کا پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات سے متعلق 22 دسمبر کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا، بلے کا نشان بحال ہو گیا،پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس اعجاز انور اور سید ارشد علی نے فیصلہ سنا دیا ۔پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کو بلے کے نشان پر انتخابات لڑنے کی اجازت دے دی۔پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کی درخواست منظور کر لی

    مجھے بلے کی آفر ہوئی میں نے انکار کر دیا

    بلے کے نشان کے بعد پی ٹی آئی کا نام و نشان بھی ختم ہوجائےگا ۔

     پی ٹی آئی کے ساتھ آج جو کچھ ہو رہا ہے وہ اسکا اپنا کیا دھرا ہے ،

    عمران خان نے تبدیلی کے نام پر عوام کو دھوکہ دیا

    الیکشن میں میں جہاں بھی ہوں گا وہاں جیت ہماری ہی ہوگی

     بانی پی ٹی آئی اب قصہ پارینہ بن چکے

    عمران خان ملک میں الیکشن نہیں چاہتا ، وہ صدارتی نظام چاہتاہے 

  • صنم جاوید کے کاغذات نامزدگی مسترد،الیکشن کمیشن کے وکیل سے دلائل طلب

    صنم جاوید کے کاغذات نامزدگی مسترد،الیکشن کمیشن کے وکیل سے دلائل طلب

    لاہور ہائی کورٹ میں پی ٹی آئی ایکٹویسٹ صنم جاوید خان کی اپیلٹ ٹریبونل کے فیصلے کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔

    جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے صنم جاوید کی درخواست پر سماعت کی،صنم جاوید کے وکیل نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ریٹرننگ افسر جس اکاؤنٹ کی بات کر رہے ہیں یہ پرانا اکاؤنٹ ہے، الیکشن کمیشن نے کوئی دو دن پہلے یہ رول نکالا ہے جس کے باعث صنم جاوید کے کاغذات مسترد کیے گئے ہیں.

    عدالت نے استفسار کیا کہ الیکشن کمیشن کے وکیل یہ بتائیں کیا یہ الیکشن کی تاریح اناؤنس ہونے سے پہلے الیکشن ترمیم کی ہے یا بعد میں؟ وکیل الیکشن کمیشن نے بتایا کہ یہ رول میں الیکشن کمیشن کی جانب سے الیکشن کی تاریح دینے سے پہلے ترمیم کی گئی ہے، عدالت نے الیکشن کمیشن کے وکیل سے دلائل طلب کرتے ہوئے سماعت کل تک ملتوی کر دی۔

    صنم جاوید کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں مؤقف اپنایا گیا تھا کہ ایپلٹ ٹریبونل اور ریٹرننگ افسر نے حقائق کے برعکس فیصلہ سنایا۔ اپیلٹ ٹریبونل نے جوائنٹ اکاؤنٹ کو بنیاد بنا کر کاغذات مسترد کیے۔ صنم جاوید کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے،درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت صنم جاوید کے کاغذات نامزدگی منظور کرے اور الیکشن لڑنے کی اجازت دے

    واضح رہے کہ صنم جاوید کے  نظر بندی کے احکامات واپس لئے گئے تھے، صنم جاوید کی رہائی کا امکان تھا تا ہم بعد میں پولیس نے انہیں ایک اور مقدمے میں گرفتار کر لیا،

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

    واضح رہے کہ صنم جاوید کی کئی مقدمات میں ضمانت منظور ہو چکی ہے تا ہم عدالت سے رہائی کے بعد صنم جاوید کو دوبارہ نئے مقدمے میں گرفتار کر لیا جاتا ہے,آٹھ نومبر کو پی ٹی آئی کارکن صنم جاوید کو جیل سے رہا ہوتے ہی دوبارہ گرفتار کرلیا گیا تھا،20 اکتوبر کو بھی تحریک انصاف کی رکن صنم جاوید خان اور ان کی ساتھی خواتین کو کوٹ لکھپت جیل سے رہائی ملنے کے بعد ان کے جیل سے باہر نکلتے ساتھ ہی پولیس نے دوبارہ گرفتار کر لیا تھا،25 ستمبر کو بھی جناح ہاؤس حملہ کیس میں رہائی پانے والی پی ٹی آئی کارکن صنم جاوید اور دیگر خواتین کو پھر سے گرفتار کرلیا تھا،

  • کسی کیخلاف اتنے مقدمات درج کرنا قانون کا مذاق ہے،ارشد شریف کیس میں ریمارکس

    کسی کیخلاف اتنے مقدمات درج کرنا قانون کا مذاق ہے،ارشد شریف کیس میں ریمارکس

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں صحافی و اینکر ارشد شریف پر ملک بھر میں درج مقدمات کی تفصیلات فراہمی کی درخواست پر سماعت ہوئی.

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر سماعت کی.دوران سماعت جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ ارشد شریف پر کتنے مقدمات تھے؟وکیل شعیب رزاق نے عدالت میں کہاکہ آخری اطلاع کے مطابق ارشد شریف پر 16 مقدمات تھے،ارشد شریف پر دہشتگردی ، ریاست مخالف سرگرمیوں کے مقدمات تھے،گوادر اور ملک کے دور دراز علاقوں میں یہ مقدمات درج ہو رہے تھے،ہمیں تو نہ مقدمات کی کاپی اور نہ ہی تفصیلات دی جارہی تھی، جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک اینکر یا صحافی کے انٹرویو کی بنیاد پر بہت سے مقدمات درج ہو جاتے ہیں،کیا 25کروڑ عوا م نے انٹرویو کے الفاظ سنے تو 25کروڑ مقدمات درج ہوں گے؟کیا ایک گوادر، ایک سبی ایک حیدر آباد میں مقدمہ درج کروائے گا،اس طرح ملک بھر میں مقدمات کا اختیارات سے تجاوز ہے، جو پہلی ایف آئی آر کسی ایکٹ پر ہوگی اس کی ہی پیروی ہوگی، یہ کام تو بھیڑبکریوں والا ہے، ایسے ہی عوام کو ٹریٹ کیا جاتا ہے، گوادر سبی اور پسنی میں مقدمات درج کرا دیئے گئے،ایک انٹرویو پر اتنے مقدمات کیسے درج ہوں گے،یہی کرنا تھا تو پہلے ہی شخصی آزادی نہیں دینی تھی،سٹیٹ کو ایسے کام کرنے ہی نہیں چاہئیں کہ اس پر لوگ ٹریٹ کریں یا بولیں،کسی کے خلاف اتنے مقدمات درج کرنا قانون کا مذاق ہے،سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق تو ایک واقعے پر دوسرے ایف آئی آر نہیں ہو سکتی

    جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی غلط کام ہوا ہے تو غلط کام پر پراسیکیوٹ ہونا چاہئے،ریاست کو ایسے کام نہیں کرنے چاہئیں کہ لوگ کمنٹ کریں اور پھر اس کے نتائج نکلیں ،جرنلسٹ کیخلاف کارروائی ہو سکتی ہے مگر اس کا طریقہ کار موجود ہے،آئندہ سماعت پر بتائیں کہ ایف آئی آرز کا سٹیٹس کیا ہے؟کیا ایک ہی ٹویٹ یا انٹرویو پر مقدمات درج ہوئے؟تمام ایف آئی آرز کو ریکارڈ پر رکھیں، تربت اور پسنی والے ہی باخبر ہیں صرف، اسلام آباد والے نہیں؟اس کا دوسرا نکتہ بھی ہے کہ سٹیٹ وہاں پر وٹیکٹ نہیں کر سکتی،یہ کہنا بہت آسان ہے کہ انڈیا اور اسرائیل فنڈنگ کررہا ہے،ریاست کا کام ہے کہ قانونی کارروائی کرے، کہنا بڑا آسان ہے کہ کوئی کسی سے پیسے لے کر یہاں بیٹھا ہوا ہے،سٹیٹ نے سپریم کورٹ میں کھڑے ہو کر اپنے جرم کا اعتراف کرلیا ہے،اغوا پر 7سال قید ہو جاتی ہے، یہاں سٹیٹ کے ادارے اغوا کررہے ہیں مگر کوئی بات ہی نہیں، عدلیہ پر بھی تنقید ہوتی ہے۔عدالتوں نے اپنا کام کرکے دکھانا ہے اور یہی سب باتوں کا جواب ہے، جسٹس محسن اختر کیانی نے کیس کی سماعت 14 فروری تک ملتوی کردی

    واضح رہے کہ صحافی ارشد شریف کو  کینیا میں گولیاں مار کر قتل کیا گیا تھا، کینیا کی حکومت کے مطابق یہ ایک مبینہ پولیس مقابلہ تھا جس میں ارشد شریف کی موت ہوئی،23 اکتوبر 2022 کو کینیا کے شہر نیروبی میں میگاڈی ہائی وے پر یہ واقعہ پیش آیا تھا جب پولیس نے ایک گاڑی پر گولیاں چلائیں، مرنیوالے کی شناخت ارشد شریف کے طور پر ہوئی،کینیا کی پولیس حکام میں اس کیس میں موقف کے حوالے سے تضاد نظر آیا.پولیس نے ابتدائی بیان میں کہا تھا کہ وہ ایک بچے کی بازیابی کے لئے موجود تھے ،مقامی تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ جس طرح گولیاں چلائی گئیں اس سے یہ نہیں لگتا کہ چلتی گاڑی پر گولیاں چلیں

    واقعے کے وقت ارشد شریف کی کار چلانے والے خرم کے مطابق وہ جائے وقوعہ سےآدھے گھنٹے کی مسافت پر ٹپاسی کے گاؤں تک گاڑی لے گئے تھے،قتل کیس میں ملوث کینیا پولیس کے پانچوں اہلکار بحال ہونے کے بعد ڈیوٹی پر واپس آگئے ہیں،

    پاکستان کی سپریم کورٹ نے ارشد شریف کے قتل پر ازخود نوٹس بھی لیا تھا تاہم کئی سماعتوں کے باوجود کیس کسی فیصلے پر نہ پہنچ سکا،

    جویریہ صدیق نے ٹویٹر پر ارشد شریف کی جانب سے مریم نواز کی والدہ کے لیے دعا کا سکرین شاٹ شیئر کیا اور مریم نواز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کچھ شرم کر۔ اللہ سے ڈر

    اسلام آباد ہائیکورٹ کاسیکرٹری داخلہ و خارجہ کو ارشد شریف کے اہلخانہ سے رابطے کا حکم

     ارشد شریف کا لیپ ٹاپ ، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے قریبی ساتھی کے پاس ہے

    ارشد شریف قتل کیس، رپورٹ میں ایسا کیا ہے جو سپریم کورٹ میں جمع نہیں کرائی جا رہی؟ سپریم کورٹ

    ارشد شریف قتل کیس،جے آئی ٹی کو تفتیش کے لئے مکمل تیار رہنا ہوگا،سپریم کورٹ

  • گلہ مرد نہیں کرتے عورتیں کرتی ہیں،پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کا ایمل ولی سے مکالمہ

    گلہ مرد نہیں کرتے عورتیں کرتی ہیں،پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کا ایمل ولی سے مکالمہ

    پشاور ہائیکورٹ میں اے این پی رہنما ایمل ولی خان کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی

    دوران سماعت اے این پی کارکنان کی جانب سے عدالت میں ہنگامہ آرائی کی گئی جس پر چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ جسٹس ابراہیم خان نے غیر ضروری افراد کو کمرہ عدالت سے باہر جانے کا حکم دیا،سماعت کے دورا ن چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ اور اے این پی رہنما ایمل ولی خان کے مابین دلچسپ مکالمہ بھی ہوا،

    جسٹس ابراہیم خان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس کی کردار کشی کی گئی ہے، ایمل ولی کون ہے، کیا وہ عدالت حاضر ہوا ہے؟چیف جسٹس ابراہیم خان نے سوشل میڈیا پر چلنے والی ویڈیو سکرین پر چلانے کی ہدایت کی،ویڈیو عدالت میں چلائی گئی، ویڈیو دیکھنے کے بعد پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس ابراہیم خان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ "میں اپنی ذات کی فکر نہیں کرتا، اگر یہ پٹھان ہے تو میں بھی پٹھان ہوں، یہ عدالت کے تقدس کا معاملہ ہے، میں انہیں کچھ نہیں کہتا میرا چھوٹا بھائی ہے، لیکن یہ ابراہیم خان کا مسئلہ نہیں عدالت کا مسئلہ ہے”

    وکیل درخواستگزار نے عدالت میں کہا کہ جو ماحول بنا ہے چیف جسٹس کو ہیرو بنانے کی کوشش کی جارہی ہے، چیف جسٹس ابراہیم خان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 15 اپریل کو میں ریٹائر ہونے جارہا ہوں، کسی پارٹی میں شمولیت اختیار نہیں کررہا،پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس ابراہیم خان نے ایمل ولی کو سامنے آنے کی ہدایت کی اور کہا کہ جس وقت میں جج تھا آپ اس وقت بھی چھوٹے تھے،ایمل ولی خان نے عدالت میں کہا کہ "میں معافی چاہتا ہوں ، لیکن یہ بات زدعام ہے، میں نے صرف گلہ کیا ہے” ایمل ولی خا ن کے بیان پر چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ ابراہیم خان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ "گلہ مرد نہیں کرتے عورتیں کرتی ہیں” جو غلط فہمی ہے وہ ختم کرنا چاہتا ہوں، 31 سال سے روزے میں ہوں کبھی کسی سے پانی نہیں پیا،دو مرتبہ ایمل ولی کی رٹ لگی ہے ان کے وکیل نے سماعت ملتوی کی ہے،ایمل ولی نے عدالت میں کہا کہ آپ میرا میڈیا ٹرائل کررہے ہیں، چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ عامر خان نے کہا کہ میں اس کیس کو لارجر بینچ کو بھیجتا ہوں، میں نے آپ کے کزن کے کیس میں میرٹ پر فیصلہ کیا ہے،جس پر ایمل ولی خان نے عدالت میں کہا کہ "ہم آپ سے خوش ہیں آپ کے ہر فیصلے کا احترام کرتے ہیں، باچا خان اور ولی خان پر غداری کیس تھے وہ بھی نکال لیں” چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ ابراہیم خان نے کہا کہ اگر آپ ایڈونس ووٹ لینا چاہتے ہیں وہ بھی آپ کو دے دوں گا، ایمل ولی خان نے عدالت میں کہا کہ میں نے عدالت کی توہین نہیں کی ہے، میں نے گلہ کیا ہے

    چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ نے کہا کہ آپ کو برخوردار کہا ہے، اپنے وکلاء سے پوچھ لیں یہ انسداد دہشت گردی کا کیس ہے، آپ کے ذہین میں بالکل نہ آئے کہ جانبداری کررہے ہیں، آپ نے جو اسٹیٹمنٹ عدالت میں دیا ہے،باہر اس کی تردید کردیں، چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ نے رٹ نمٹادی.

     پشاور ہائیکورٹ نے تاریخی فیصلہ دیا

    مجھے بلے کی آفر ہوئی میں نے انکار کر دیا

    بلے کے نشان کے بعد پی ٹی آئی کا نام و نشان بھی ختم ہوجائےگا ۔

     پی ٹی آئی کے ساتھ آج جو کچھ ہو رہا ہے وہ اسکا اپنا کیا دھرا ہے ،

    عمران خان نے تبدیلی کے نام پر عوام کو دھوکہ دیا

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

  • لاپتہ شہریوں کی بازیابی کے لئے  تصاویر سوشل میڈیا پر نشر کرنے کی ہدایت

    لاپتہ شہریوں کی بازیابی کے لئے تصاویر سوشل میڈیا پر نشر کرنے کی ہدایت

    سندھ ہائی کورٹ۔لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق درخواستوں پر سماعت ہوئی

    عدالت نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے کیا اقدامات ہوئے؟ تفتیشی افسر نے کہا کہ 21 جے آئی ٹیز اور 16 صوبائی ٹاسک فورس کے اجلاس ہو چکے ہیں ،لاپتہ افراد کے اہلخانہ نے عدالت میں کہا کہ محمد زبیر 2014 بغدادی سے لاپتا ہوا تھا اب تک کہیں سے اس کا سراغ نہیں ملا،2014 سے پولیس اسٹیشن اور عدالتوں کے چکر کاٹ رہے ہیں کہیں سے انصاف نہیں ملا،عدالت نے کہا کہ آپ لوگ پریشان نہ ہوں ہم آپ کو یقین دلاتے ہیں آپ کو انصاف ملے گا،

    ایک اور لاپتہ شخص کے اہلخانہ نے کہا کہ حسن دلاور 2015 لانڈھی سے لاپتا ہوا تھا اب تک کوئی پتہ نہیں کہاں ہے کس حال میں ہے،ثاقب آفریدی بھی 2015 سچل سے لاپتا ہوا تھا،عدالت نےا تفتیشی افسران پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ 22 ،22 جے آئی ٹیز کے باوجود بھی لاپتا شہریوں کا سراغ نہیں لگایا گیا ،

    سید نوید علی ساحل پولیس اسٹیشن سے ،ظفر اقبال سائٹ سپر ہائی وے سے اور اعزاز حسن ناظم آباد سے لاپتا ہوئے ہیں، عدالت نے تفتیشی افسران کو لاپتا شہریوں کی تلاش جاری رکھنے کی ہدایت کردی،عدالت نے لاپتا شہریوں کی بازیابی کے لئے ان کی تصاویر سوشل میڈیا پر نشر کرنے کی ہدایت کردی،عدالت نے تمام لاپتا شہریوں کی بازیابی کے لئے جدید ٹیکنالوجی اور ماڈرن ڈیواسسز کا استعمال کرنے کی ہدایت کردی،عدالت نے ایس پی انویسٹی گیشن سے آئندہ سماعت پر پیش رفت رپورٹ طلب کرلی،عدالت نے درخواستوں کی مزید سماعت 8 فروری تک ملتوی کردی

    جنسی طور پر ہراساں کرنے پر طالبہ نے دس سال بعد ٹیچر کو گرفتار کروا دیا

    غیر ملکی خاتون کے سامنے 21 سالہ نوجوان نے پینٹ اتاری اور……خاتون نے کیا قدم اٹھایا؟

    بیوی طلاق لینے عدالت پہنچ گئی، کہا شادی کو تین سال ہو گئے، شوہر نہیں کرتا یہ "کام”

    50 ہزار میں بچہ فروخت کرنے والی ماں گرفتار

    ایم بی اے کی طالبہ کو ہراساں کرنا ساتھی طالب علم کو مہنگا پڑ گیا

    تعلیمی ادارے میں ہوا شرمناک کام،68 طالبات کے اتروا دیئے گئے کپڑے

    خاتون پولیس اہلکار کے کپڑے بدلنے کی خفیہ ویڈیو بنانے پر 3 کیمرہ مینوں کے خلاف کاروائی

  • سنگین غداری کیس، پرویز مشرف کی اپیل غیر مؤثر، سزا ئے موت کا فیصلہ برقرار

    سنگین غداری کیس، پرویز مشرف کی اپیل غیر مؤثر، سزا ئے موت کا فیصلہ برقرار

    سپریم کورٹ،سابق صدر پرویز مشرف کی سزائے موت کیخلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی

    سابق صدر پرویز مشرف کی سزائے موت برقرار، سپریم کورٹ نے فیصلہ سُنا دیا، عدالت نے ورثاء کیطرف سے عدم پیروی پر سزا کیخلااف اپیل مسترد کردی۔سپریم کورٹ نے پرویز مشرف غداری کیس سننے والی خصوصی عدالت کو ختم کرنے کا فیصلہ بھی کالعدم قرار دیدیا،سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کو خصوصی عدالت سے ہونے والی سزا درست قرار دے دی

    سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ سپریم کورٹ میں پرویز مشرف کی اپیل پر کسی نے بھی نمائندگی نہیں کی ،وکیل پرویز مشرف نے کہا کہ پروہز مشرف کے لواحقین نے میرے پیغامات پر کوئی جواب نہیں دیا، سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کی اپیل عدم پیروی پر غیر موثر قرار دے دی ،فیصلے میں کہا کہ عدالت کے سامنے دو سوالات تھے،کیا مرحوم کے دنیا سے چلے جانے کے بعد اپیل سنی جا سکتی ہے،اگر سزائے موت برقرار رہتی ہے تو کیا مشرف کے قانونی ورثاء مرحوم کو ملنے والی مراعات کے حقدار ہیں، متعدد بار کوشش کے باوجود بھی مشرف کے ورثاء سے رابطہ نہیں ہو سکا،ہمارے پاس کوئی آپشن نہیں ہے سوائے اس کے کہ سزائے موت برقرار رکھیں،

    سزائے موت لاہور ہائی کورٹ کے جج مظاہر حسین نقوی نے ختم کی تھی ،پرویز مشرف 5 فروری 2023 کو وفات پاچکے ہیں

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں چار رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی، جسٹس منصور علی شاہ ،جسٹس امین الدین خان ،جسٹس اطہر من اللہ بنچ میں شامل تھے،وکیل حامد خان اور وکیل سلمان صفدر روسٹرم پر آ گئے،وکیل حامد خان نے کہا کہ پرویز مشرف نے سزا کے خلاف اپیل دائر کر رکھی ہے جو کرمنل اپیل ہے،جبکہ ہماری درخواست لاہور ہائیکورٹ کے سزا کالعدم کرنے کے فیصلے کیخلاف ہے جو آئینی معاملہ ہے، دونوں اپیلوں کو الگ الگ کر کے سنا جائے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ موجودہ کیس میں لاہور ہائیکورٹ کے دائرہ اختیار اور اپیل دو الگ معاملات ہیںپہلے پرویز مشرف کے وکیل سلمان صفدر کو سن لیتے ہیں،

    وفاقی حکومت نے پرویز مشرف کی سزا کے خلاف اپیل کی مخالفت کر دی ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان سے استفسار کیا کہ آپ پرویز مشرف کی اپیل کی مخالفت کر رہے ہیں یا حمایت؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ پرویز مشرف کی اپیل کی مخالفت کر رہے ہیں،

    وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ سابق صدر پرویز مشرف کے اہلخانہ سے کوئی ہدایات نہیں اور نہ ہی اہلخانہ کو کیس بارے علم ہے،نومبر سے ابھی تک 10 سے زائد مرتبہ رابطہ کیا ہے،کیس بارے حق میں یا خلاف کوئی ہدایات نہیں دی گئیں،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے براہ راست بھی انکو نوٹسز جاری کیے تھے، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کے اہلخانہ کو اخبار اشتہار کے زریعے نوٹس بھی کیا تھا، میں دو صورتوں میں عدالتی معاونت کر سکتا ہوں،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آپ صرف قانونی صورتحال پر ہی عدالتی معاونت کرسکتے ہیں،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ مفروضوں کی بنیاد پر فیصلے نہیں ہونے چاہیے، ورثا کے حق کیلئے کوئی دروازہ بند نہیں کرنا چاہتے،عدالت 561اے کا سہارا کیسے لے سکتی ہے؟ وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ اس عدالت کے اٹھائے گئے اقدام کو سراہتا ہوں، مشرف کے ورثا پاکستان میں مقیم نہیں ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپکے لاہور ہائی کورٹ بارے تحفظات کیا ہے؟وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ اس بارے آپکے چیمبر میں کچھ گزارشات ضرور کروں گا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم کسی کو چیمبر میں نہیں بلاتے، پرویز مشرف کے ورثاء کی عدم موجودگی میں تو ان کے وکیل کو نہیں سن سکتے،

    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آرٹیکل 12 کے تحت پرویز مشرف کے ساتھ ملوث تمام افراد کے خلاف عدالتی دروازے تو کھلے ہیں،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ ایمرجنسی کے نفاذ میں پرویز مشرف تنہا ملوث نہیں تھے،اس وقت کے وزیراعظم، وزیر قانون، پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ کے ججز بھی ملوث تھے،پرویز مشرف کو سنے بغیر خصوصی عدالت نے سزا دی، ایک شخص کو پورے ملک کے ساتھ ہوئے اقدام پر الگ کر کے سزا دی گئی،

    سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا،سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کیس کا فیصلہ سنانے کا عندیہ دے دیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم شائد آج ہی اس کیس کا فیصلہ سنا دیں، سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کیس میں پانچ منٹ کا وقفہ کردیا

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

    پرویز مشرف کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کے حوالہ سے کیس کی سماعت

    پرویز مشرف کی نااہلی کے خلاف دائر درخواست خارج

    عدالتی سوال ہے کہ ملزم کی وفات پر کیا اپیل غیر موثر نہیں ہوئی؟

  • خود کو قانون سے بالاتر ہونے کا تصور ختم ہونا چاہئے،اسلام آباد ہائیکورٹ

    خود کو قانون سے بالاتر ہونے کا تصور ختم ہونا چاہئے،اسلام آباد ہائیکورٹ

    اسلام آباد ہائیکورٹ: بلوچ طلباء کی جبری گمشدگیوں کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی

    اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل،درخواست گزار وکلاء ایمان مزاری، عطاء اللہ کنڈی اور ہادی چھٹہ عدالت پیش ہوئے،اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اب تک 68 افراد کو بازیاب کرایا گیا،بازیاب افراد کی لسٹ میڈم ایمان مزاری کے ساتھ شئیر کی گئی ہے، جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ آخری سماعت پر انہوں 28 افراد کی بازیابی کرنے کا کہا تھا،ایمان مزاری نے کہا کہ اب تک 56 افراد کو بازیاب کرلیا گیا جبکہ 12 تاحال لاپتہ ہیں،عدالت نے وزارت داخلہ کو متاثرہ لوگوں کے لواحقین سے ملاقات کا کہا تھا،وزارت داخلہ کا متاثرہ افراد کے خاندانوں کے ساتھ ملاقات افسوناک رہی،اٹارنی جنرل آفس یا کسی اور آفس سے اب تک کوئی خاص پراگریس نہیں ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہمارے مطابق 15 تاحال لاپتہ ہیں جبکہ ان کے مطابق 12 لاپتہ ہیں،ایمان مزاری نے کہا کہ درخواست گزار فیروز بلوچ کے حوالے سے کہا گیا کہ انکو ریلیز کردیا گیا،آج صبح فیروز بلوچ کے فیملی سے بات ہوئی وہ تاحال لاپتہ ہے،عدالت نے استفسار کیا کہ اٹارنی جنرل صاحب یہ بتائیں کہ ان لوگوں کو ریلیز کردیا یا گھر پہنچایا؟ وفاقی حکومت کا undertaking دینے پر عدالت نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ وفاقی حکومت ہی جبری گمشدگیوں میں ملوث ہیں؟کیا ہم بھی وزیراعظم آفس، وزارت داخلہ یا وزارت دفاع سے بیان حلفی لیں؟ وزیراعظم آفس، وزارت داخلہ و دیگر بڑے دفاتر یہاں بیان حلفی دیں کہ آئندہ کوئی لاپتہ نہیں ہوگا،ریاست کے اداروں کو قانون کی پاسداری پر یقین کرنا چاہیے،ریاستی ادارے عدالتوں پر یقین نہیں کرتے اسی لیے لوگوں کو اٹھایا جارہا ہے،ہمارے سامنے پولیس کا ادارہ ریاست کا فرنٹ فیس ہے،

    ایمان مزاری نے سابق نگران وزیر داخلہ سرفراز بگٹی کے لاپتہ افراد کے لواحقین سے ناروا سلوک کی شکایت کی،اور کہا کہ نگران وزیر داخلہ نے خواتین کو کہا اگر آپ کے پیارے کو مارا گیا تو آپ کو بتا دیں گے،

    دوران سماعت جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اور اسکے اداروں کو عدالتوں پر اعتماد کرنا ہو گا،ریاست اور اسکے ادارے رول آف لاء کو نہیں مانتے اس لیے جبری گمشدگیاں ہوتی ہیں،پولیس ریاست کا فرنٹ فیس ہے، دوسرے ادارے فرنٹ فیس نہیں ہیں،کیا مشکل ہے کہ پولیس ایک ضمنی لکھ کر انٹیلی جنس کے افسروں کو ملزم بنا دے گی،وقت آئے گا کہ انٹیلی جنس ایجنسیوں کے افسران پراسیکیوٹ ہونگے، اگر تھانے پر چھاپہ ماریں اور کوئی بندہ بازیاب ہو تو پولیس والے کی تو نوکری چلی جاتی ہے،دوسری طرف انٹیلی جنس ایجنسیوں سے متعلق صورتحال بالکل مختلف ہے،میرے سامنے کوئی مسنگ بلوچ بازیابی کے بعد نہیں آیا جس سے میں سوال کر سکوں؟جو لوگ بازیاب ہوئے پتہ نہیں وہ ٹھیک ہے بھی یا نہیں، انکی صحت کی صورتحال کیا ہوگی،مسنگ پرسنز کا تصور صرف ہمارے جیسے ملکوں میں ہی ملتا ہے باقی ملکوں میں نہیں، آج آپ نہ کریں لیکن ایک وقت میں اعلی ترین عہدیدار بھی پراسیکیوٹ ہونگے،دہشتگردوں کا ٹرائل بھی انسداد دہشتگردی کی عدالتوں میں ہوتا ہے،کیا امر مانع ہے کہ بلوچ شدت پسندوں کا ٹرائل بھی انہی عدالتوں میں ہو، بلوچستان میں اپنی انسداد دہشتگردی عدالتیں فعال کریں ٹرائل ہو سکتا ہے،سسٹم پر اعتماد کریں، کیا امر مانع ہے کہ دہشتگرد کا ٹرائل نہ ہو سکے اور وہ بری ہو جائے،یہ درخواست گزار بھی کبھی نہیں چاہیں گے کہ دہشتگردوں کو پروٹیکٹ کریں،ریاست کا سپاہی مرتا ہے تو آپ ان کے لیے شہدا پیکج کا اعلان کرتے ہیں،جو لوگ ریاست کے لیے قربانی دیتے ہیں وہ پولیس ہو،فوج ہو یا کوئی بھی شہری ہو،حق سب کا ہے،مغرب میں تو بڑے سےبڑے قاتل کو بھی ضمانت دیتے ہیں یہاں ہم نہیں کرتے،تین تین سال تک ہم ٹرائل مکمل نہیں کرتے،جن لوگوں کا لسٹ آپ نے مہیا کیا، ان میں کتنے لوگ ہیں جن کے خلاف کریمنل کیسسز ہیں؟،اس سائڈ کو کوئی اعتراض نہیں کہ آپ کس کے خلاف مقدمہ درج کریں یا کسی عدالت پیش کریں،مسلہ یہ ہے کہ جو لوگ لاپتہ ہو جاتے ہیں ان کے خاندان والے انکو پھر کبھی دیکھتے ہی نہیں،

    وکیل ایمان مزاری نے کہا کہ فیملیز کے مطابق سی ٹی ڈی اٹھاتے ہیں اور بعد میں مقدمہ درج ہوتا ہے،سی ٹی ڈی نے جن لوگوں کو اٹھایا اور عدالتوں میں پیش کیا وہ بری ہوگئے، عدالت نے کہا کہ پاکستان جیسا ملک اس قسم کے معاملات کو برداشت نہیں کرسکتا،بلوچستان سے لوگ اسلام آباد آئے ہیں اپنا پرامن احتجاج ریکارڈ کرنے، نیشنل پریس کلب کے باہر اگر یہ بیٹھے ہیں تو انکو سہولیات مہیا کرنا ہوگی،ایمان مزاری نے کہا کہ ڈیتھ اسکواڈ کے زریعے مظاہرین کو دھمکایا جارہا ہے، جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ یہ ڈیتھ اسکواڈ کیا ہے ؟ ایمان مزاری نے کہا کہ یہ حکومتی سرپرستی میں ایک سکواڈ ہے جو لوگوں کو مارتے ہیں،اٹارنی جنرل نے ایمان مزاری سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ڈیتھ اسکواڈ کی جانب سے دھمکیوں پر آپ درخواست دیں، جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ یہ ڈیتھ اسکواڈ نام سے ہی سمجھ آتا ہے،ان بچے بچیوں کا کوئی قصور نہیں، یہ پاکستانی ہیں،ہم نے ان کو دیکھنا ہیں کیونکہ ہمارے سامنے کوئی لاپتہ شخص کھڑا نہیں،ان نو سالوں میں میرے سامنے ایک بازیاب شخص آیا تھا جس نے کہا کہ سی ٹی ڈی نے مجھے اٹھایا تھا،ان معاملات میں وزیراعظم، وزارت داخلہ، وزارت دفاع ہی جوابدہ ہے،

    جسٹس محسن اختر کیانی نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا سپریم کورٹ میں آپکی یہ بیان حلفی جمع کرائی گئی ہے؟اٹارنی جنرل نے کہا کہ نہیں بیانی حلفی ابھی جمع نہیں ہوئی مگر جلد جمع کریں گے،عدالت نے کہا کہ وزارتوں کے لوگ موجود ہیں یہ چیزیں پاکستان کی بہت بڑی بدنامی بنی ہے، ہم معاشی مسائل کا شکار ہیں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی بھی کررہے ہیں، جن 12 لاپتہ افراد کی لسٹ اٹارنی جنرل کو دیں اور آپ نے دیکھنا ہے،

    عدالت نے سمی دین بلوچ سے استفسار کیا کہ آپ نے کچھ کہنا ہے؟ سمی دین بلوچ نے عدالت میں کہا کہ عدالتی حکم پر وزیراعظم نے فواد حسن فواد کی سربراہی میں کمیٹی بنائی تھی،کمیشن نے بتایا کہ جو لوگ دس سال سے زائد عرصہ سے لاپتہ ہیں انکا کچھ نہیں بتاسکتے،عدالت نے کہا کہ ایک بات پر یقین کریں کہ جو لوگ دس سال ہو یا پندرہ سال سے انکی معلومات حکومت فراہم کریگی،اگر کوئی زندہ ہے یا مرے ہیں حکومت اپکو معلومات فراہم کریں گی، سمی دین بلوچ نے کہا کہ ہمارے والدین مرتے وقت بھی اپنے لاپتہ بچوں کو یاد کرتے ہیں،ہم اس چیز سے نکلنا چاہتے ہیں،ابھی ایک شخص نو سال بعد بازیاب ہوا مگر ان کے گھر والوں سے کہا گیا کہ کسی سے بات نہیں کرنی،ہمیں وفاقی وزرا نے بھی کہا تھا کہ اگر آپ کے لاپتہ افراد سے متعلق بتائیں گے تو آپ شور نہیں کریں گے، عدالت نے کہا کہ پہلے لاپتہ افراد کو بازیاب ہونے دیں پھر جس ادارے نے آپ سے بیان حلفی لی ہے اسی کا دیکھا جائے گا، عدالت نے تھانہ کوہسار کے ایس ایچ او کو دونوں مظاہرین کے سیکورٹی انتظامات فراہمی کی ہدایت کر دی

    دوران سماعت عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ خود کو قانون سے بالاتر ہونے کا تصور ختم ہونا چاہئے، وزیراعظم، داخلہ اور دفاع کے سیکرٹریز کو بیان حلفی دینا ہو گا کہ جبری گمشدگی کی ہے ، نہ آئندہ ہو گی،جو افراد لاپتہ ہیں چاہے دس سال سے زائد ہوگیا انہیں بتانا پڑے گا، وہ افراد زندہ ہیں یا مر گئے بتانا پڑے گا

    بلوچ خاتون نے عدالت میں کہا کہ آپ ہمیں امید دے دیں ورنہ شاید ہم کبھی مڑ کر واپس نہ آئیں، جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ جن پر الزام ہے انہی سے ہم نے کہنا ہے ،بلوچ خاتون نے کہا کہ ہمیں کہا جاتا ہے کہ آپ کے پیاروں سے متعلق بتائیں گے تو آپ شور نہیں مچائیں گے،

    عدالت نے کیس کی سماعت 13 فروری تک کے لئے ملتوی کردی

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے بلوچ مظاہرین کی گرفتار ی کا کیس نمٹا دیا

    بلوچ لانگ مارچ،300 افراد گرفتار،مذاکراتی کمیٹی قائم،آئی جی سے رپورٹ طلب

    ایک ماہ میں بلوچ طلباء کی ہراسگی روکنے سے متعلق کمیشن رپورٹ پیش کرے ،عدالت

     دو ہفتوں میں بلوچ طلبا کو ہراساں کرنے سے روکنے کیلئے کئے گئے اقدامات کی رپورٹ طلب

    کسی کی اتنی ہمت کیسے ہوگئی کہ وہ پولیس کی وردیوں میں آکر بندہ اٹھا لے،اسلام آباد ہائیکورٹ

    کیا آپ شہریوں کو لاپتہ کرنے والوں کی سہولت کاری کر رہے ہیں؟ قاضی فائز عیسیٰ برہم

    لوگوں کو لاپتہ کرنے کے لئے وفاقی حکومت کی کوئی پالیسی تھی؟ عدالت کا استفسار

    لاپتہ افراد کیس،وفاق اور وزارت دفاع نے تحریری جواب کے لیے مہلت مانگ لی

    عدالت امید کرتی تھی کہ ان کیسز کے بعد وفاقی حکومت ہِل جائے گی،اسلام آباد ہائیکورٹ

     ”بلوچ یکجہتی کونسل“ کےاحتجاجی مظاہرے کی حقیقت

  • توشہ خانہ کیس، عمران ،بشریٰ پر آج پھر فرد جرم عائد نہ ہو سکی

    توشہ خانہ کیس، عمران ،بشریٰ پر آج پھر فرد جرم عائد نہ ہو سکی

    توشہ خانہ اور 190ملین پاونڈ ریفرنسسز کی سماعت پیر تک ملتوی کر دی گئی

    توشہ خانہ ریفرنس میں ملزمان پر فرد جرم عائد نہ ہو سکی ،190ملین پاونڈ ریفرنس میں ملزمان کو نقول کی تقسیم بھی 8جنوری تک موخر کر دی گئی،بشری بی بی اور عمران خان کی درخواست ضمانتوں پر سماعت بھی 8جنوری تک ملتوی کر دی گئی،عمران خان کی جانب سے بیٹوں سے ٹیلیفونک گفتگو کی استدعا،عدالت نے منظور کرلی ،سماعت کے دوران چیئرمین پی ٹی آئی کی بانی چیئرمین سے ملاقات کی درخواست بھی منظور کرلی گئیں

    ملک ریاض کے وارنٹ گرفتاری معطل کرنے کی درخواست خارج
    190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل میں ملک ریاض کی جانب سے انکے وکیل فاروق ایچ نائیک پیش ہوئے۔فاروق ایچ نائیک نے عدالت میں تین درخواستیں دائر کیں۔ایک درخواست وڈیو لنک کے ذریعے پیشی دوسری درخواست حاضری سے استثنیٰ کی تھی۔تیسری درخواست ملک ریاض کے وارنٹ گرفتاری معطل کرنے کی تھی۔عدالت نے ملک ریاض کے وارنٹ گرفتاری معطل کرنے کی درخواست خارج کردی۔وڈیو لنک اور حاضری سے استثنیٰ کی درخواستیں فاروق ایچ نائیک نے واپس لے لیں،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب تک ملزم عدالت میں خود پیش نہیں ہوتا استثنیٰ نہیں دے سکتے،

    ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب نے توشہ خانہ کیس میں فرد جرم عائد کرنے پر زور دیا۔ڈپٹی پراسیکوٹر جنرل نیب سردار مظفر عباسی نے کہا کہ توشہ خانہ کیس میں ریفرنس کی نقول کی فراہمی کو 7 روز مکمل ہو چکے ۔ لطیف کھوسہ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی ضمانت کی درخواستوں کو پہلے سنا جائے ۔ عدالت نے فرد جرم عائد کرنے اور درخواست ضمانت پر سماعت کیلئے 8 جنوری کی تاریخ مقرر کر دی

    توشہ خانہ کیس، سپریم کورٹ میں عمران خان کی اپیل پر اعتراض عائد

    واضح رہے کہ احتساب عدالت نے عمران خان کی درخواست ضمانت خارج کی تھی جسکے بعد نیب نے عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں گرفتار کیا تھا،عمران خان اڈیالہ جیل میں ہیں، سائفرکیس میں بھی عمران خان پر فرد جرم عائد ہو چکی ہے، القادر ٹرسٹ کیس میں بھی عمران خان جوڈیشیل ریمانڈ پر ہیں

     کاغذات میں ظاہر نہ کرنیوالے سیاستدانوں کیخلاف درخواست پر عدالت نے فیصلہ سنا دیا

    سابق چیئرمین اور وزیراعظم کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس کے نکات سامنے آگئے۔

    عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس دائر