Baaghi TV

Tag: عدالت

  • لاہور ہائیکورٹ نے خرم لطیف کھوسہ کو 6 بجے پیش کرنے کا حکم دے دیا

    لاہور ہائیکورٹ نے خرم لطیف کھوسہ کو 6 بجے پیش کرنے کا حکم دے دیا

    خرم لطیف کھوسہ کی گرفتاری کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں درخواست پر سماعت ہوئی

    ربیعہ باجوہ ایڈوکیٹ نے عدالت میں کہا کہ خرم کھوسہ کے چیمبر پر دھاوا بولا گیا ہراساں کیا گیا ،اگر یہ صورتحال رہی ہائی کورٹ بھی محفوظ نہیں رہے گی ، لطیف کھوسہ نے کہا کہ یہ غیر قانونی حراست کا معاملہ ہے عدالت مداخلت کرے ، عدالت اس معاملے میں پر فوری حکم جاری کرے ، خرم لطیف کھوسہ نے ایسا کیا کیا کہ دہشت گردی کی دفعات لگائی گئیں،ہم آج صبح سے تمام عدالتیں چھان کر آ گئے خرم کو پیش نہیں کیا گیا ،جسٹس علی باقر نجفی نے استفسار کیا کہ دکھائیں وہ ویڈیو کدھر ہے،

    سرکاری وکیل کی ہائیکورٹ بار کی نائب صدر سے تلخ کلامی ہوئی،ربیعہ باجوہ ایڈوکیٹ نے کہا کہ ٹنل روڈ بار کا حصہ ہے، وہ سینئر وکیل ہیں،ایک وقت تھا کہ ظلم اور زیادتی ہوتی تھی تو سرکاری وکیل مخالفت کرتے تھے، لیکن اب تو انتہا ہوچکی ہے، لطیف کھوسہ نے کہا کہ اگر یہ ویڈیو میں ثابت کردیں کہ وردی پھاڑی یا گریبان پکڑا تو ہم اپنی درخواست واپس لے لیں گے،سرکاری وکیل نے کہا کہ جو ویڈیو عدالت میں دیکھائی گئی وہ صرف اس حد تک نہیں ہے، لطیف کھوسہ نے کہا کہ یہ پھٹی وردی عدالت میں پیش کردیں، سرکاری وکیل نے کہا کہ یہ ہائیکورٹ ہے وہ تفتیش ہوگی اور کورٹ آف لاء میں پیش کی جائے گی یہاں نہیں، لاہور ہائیکورٹ نے خرم لطیف کھوسہ کو 6 بجے پیش کرنے کا حکم دے دیا

    واضح رہے کہ خرم لطیف کھوسہ کو گزشتہ روز پولیس نے گرفتار کیا تھا

  • صنم جاوید کی عدالت پیشی،بنایا وکٹری کا نشان،بولیں،مریم کا مقابلہ کروں گی

    صنم جاوید کی عدالت پیشی،بنایا وکٹری کا نشان،بولیں،مریم کا مقابلہ کروں گی

    سیشن کورٹ لاہور ،مسلم لیگ ن کا آفس جلانے کا مقدمہ ،پولیس نے صنم جاوید کو دو روزہ جسمانی ریمانڈ ختم ہونے پر عدالت پیش کر دیا

    اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے، صنم جاوید قیدی وین سے اتریں تو اپنے وکیل کے ہمراہ عدالت پیش ہوئیں، اس موقع پر صنم جاوید نے وکٹری کا نشان بھی بنایا، پولیس نے صنم جاوید کا مزید جسمانی ریمانڈ مانگ لیا،پولیس نے عدالت میں کہا کہ صنم جاوید سے تفتیش کرنی ہے، جسمانی ریمانڈ دیا جائے، صنم جاوید کے وکیل نے جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کر دی،عدالت نے وکلاء کے دلائل کے بعد فیصلہ محفوظ کیا جو اب سنا دیا گیا ہے، عدالت نے صنم جاوید کا ایک روز کا مزید جسمانی ریمانڈ دے دیا، تھانہ ماڈل ٹاؤن پولیس نے صنم جاوید کے خلاف مقدمہ درج کر رکھا ہے۔

    صنم جاوید کی ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں وہ قیدی وین میں موجود ہیں، صنم جاوید سے سوال کیا گیا کہ الیکشن کہاں سے لڑیں گی، جس کے جواب میں صنم جاوید نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ “جہاں سے مریم نواز الیکشن لڑے گی، اسی حلقے سے میں لڑوں گی، میری سمجھ میں نہیں آرہا ڈر کس بات کا ہے؟کاغذ بھی ریجکٹ کروانے ہیں ضمانتیں بھی نہیں ہونے دینی “میں سچی ہوں سچ کے ساتھ کھڑی ہوں اب یہ جیلیں یہ ریمانڈ میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے میرے لئے میرا اللہ کافی ہے

    واضح رہے کہ صنم جاوید کے  نظر بندی کے احکامات واپس لئے گئے تھے، صنم جاوید کی رہائی کا امکان تھا تا ہم بعد میں پولیس نے انہیں ایک اور مقدمے میں گرفتار کر لیا،

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

    واضح رہے کہ صنم جاوید کی کئی مقدمات میں ضمانت منظور ہو چکی ہے تا ہم عدالت سے رہائی کے بعد صنم جاوید کو دوبارہ نئے مقدمے میں گرفتار کر لیا جاتا ہے,آٹھ نومبر کو پی ٹی آئی کارکن صنم جاوید کو جیل سے رہا ہوتے ہی دوبارہ گرفتار کرلیا گیا تھا،20 اکتوبر کو بھی تحریک انصاف کی رکن صنم جاوید خان اور ان کی ساتھی خواتین کو کوٹ لکھپت جیل سے رہائی ملنے کے بعد ان کے جیل سے باہر نکلتے ساتھ ہی پولیس نے دوبارہ گرفتار کر لیا تھا،25 ستمبر کو بھی جناح ہاؤس حملہ کیس میں رہائی پانے والی پی ٹی آئی کارکن صنم جاوید اور دیگر خواتین کو پھر سے گرفتار کرلیا تھا،

  • منظور پشتین کےجسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد،عدالت نے جیل بھجوا دیا

    منظور پشتین کےجسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد،عدالت نے جیل بھجوا دیا

    اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس میں منظور پشتین کے خلاف تھانہ ترنول میں درج مقدمے کی سماعت ہوئی

    پولیس نے منظور پشتین کو 2 روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر عدالت میں پیش کیا،اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے، پولیس نے عدالت سے منظور پشتین کے مزیدجسمانی ریمانڈ کی استدعا کی، ملزم منظور پشتین کے وکیل نے درخواست ضمانت دائر کی،عدالت نے پولیس کی استدعا مسترد کر دی اور منظور پشتین کو جوڈیشیل ریمانڈ‌پر بھجوا دیا، ملزم کے وکیل کی جانب سے درخواست ضمانت پر عدالت نے فریقین کو دو جنوری کے نوٹس جاری کر دیئے

    واضح رہےکہ منظور پشتین پر اسلام آباد میں دفعہ 144 کی خلاف ورزی کامقدمہ درج ہےمنظور پشتین کو بلوچستان کے حکام نے گرفتار کر کےاسلام آباد پولیس کے حوالے کیا تھا،وہ مختلف مقدمات میں اسلام آباد پولیس کو مطلوب تھے

    پشتون تحفظ موومنٹ کے حق میں بلاول کے بعد مریم نواز بھی بول پڑیں

    ریاست مخالف مہم، پی ٹی ایم کے خلاف پاکستان کے وکلاء نے کاروائی کا مطالبہ کردیا

    پی ٹی ایم کا بیانیہ نیا نہیں ،فواد چودھری

    پی ٹی ایم پاکستان کا نعرہ لگائے تو….وزیر داخلہ کی پی ٹی ایم کو بڑی پیشکش

  • شہر یارآفریدی،شاندانہ گلزار ،تھری ایم پی او کے تحت گرفتاری،فیصلہ آ گیا

    شہر یارآفریدی،شاندانہ گلزار ،تھری ایم پی او کے تحت گرفتاری،فیصلہ آ گیا

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں شہریار آفریدی اور شاندانہ گلزار کی تھری ایم پی او کے تحت گرفتاری کے کیس کی سماعت ہوئی۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس بابر ستار نے محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیا، عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کے پاس تھری ایم پی او جاری کرنے کا اختیار نہیں، تھری ایم پی کا اختیار صرف وفاقی کابینہ کے پاس ہونا چاہیے، شہریار آفریدی اور شاندانہ گلزار کی درخواستیں منظور کی جاتی ہیں، تھری ایم او اختیارات کا پی او 18، 1980 کا قانونا غیر قانونی قرار دیا جاتا ہے، ‏شہریار آفریدی اور شاندانہ گلزار کے خلاف جاری ایم پی او آرڈر بھی کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔

    ابھی ایم پی او کو کالعدم تو نہیں کیا بلکہ کچھ شرائط عائد کی ہیں

    پرامن احتجاج ہرکسی کا حق ہے،9 مئی کو جو کچھ ہوا اسکےحق میں نہیں 

    عدالت کے گیٹوں پر پولیس کھڑی ہے آنے نہیں دیا جارہا 

    کنیز فاطمہ کا کہنا تھا کہ کوئی بھی محب وطن پاکستانی ایسی واقعات کو پسند نہیں کرتا،

     شہریار آفریدی کو ڈیتھ سیل میں رکھا گیا یے

    ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کے اختیارات سے متعلق عدالت نے دو عدالتی معاونین مقرر کیے تھے،عدالتی معاونین بیرسٹر صلاح الدین اور وقار رانا عدالت میں دلائل دے چکے،اسلام آباد ہائیکورٹ نے شہریار آفریدی اور شاندانہ گلزار کے خلاف ایم پی او آرڈر معطل کر رکھاتھا،عدالت نے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو مزید ایم پی او آرڈر جاری کرنے سے روک رکھا تھا

    واضح رہے کہ شہر یار آفریدی کی جیل سے رہائی ہوئی تو انہیں تھری ایم پی او کے تحت گرفتارر کر لیا گیا تھا ، شاندانہ گلزر کو بھی گرفتار کر لیا تھا جس پر دونوں‌نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی،عدالت نے سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا جو آج سنا دیا گیا ہے

  • توشہ خانہ تحائف، سیاستدانوں کیخلاف کاروائی کی درخواست مسترد

    توشہ خانہ تحائف، سیاستدانوں کیخلاف کاروائی کی درخواست مسترد

    لاہور ہائیکورٹ: توشہ خانہ تحائف کو الیکشن کمیشن کے کاغذات میں ظاہر نہ کرنیوالے سیاستدانوں کیخلاف درخواست پر عدالت نے فیصلہ سنا دیا

    عدالت نے درخواست ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دی،عدالت نے فیصلے میں کہا کہ درخواست قابل سماعت نہیں ہے ،درخواست گزار متاثرہ فریق نہیں ہے،جسٹس راحیل کامران شیخ نےشہری تنویر سرور کی درخواست پر فیصلہ سنایا

    لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ الیکشن کمیشن نے جانبداری کا مظاہرہ کیا،صرف ایک شخصیت کے خلاف کارروائی کی گئی،الیکشن کمیشن نے توشہ خانہ کیس میں پسند اور نا پسند کو ملحوظ خاطر رکھا،چیئرمین تحریک انصاف کے خلاف توشہ خانہ میں کاروائی کر کے نااہل قرار دیا گیا،الیکشن کمیشن نے کسی دوسرے رکن اسمبلی کے خلاف شکایت درج نہیں کی،تحائف لینے اور ظاہر نہ کرنے والے اراکین اسمبلی کے خلاف یکساں کاروائی ہونی چاہیے،عدالت الیکشن کمیشن کو توشہ خانہ کے تحائف ظاہر نہ کرنے والے ممبران اسمبلی کے خلاف قانونی کارروائی کا حکم دے،

    توشہ خانہ کیس، سپریم کورٹ میں عمران خان کی اپیل پر اعتراض عائد

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

    عمران خان کاتوشہ خانہ کیس میں دو روزہ جسمانی ریمانڈ 

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

  • صنم جاویدکی نظربندی کے خلاف درخواست،عدالت برہم

    صنم جاویدکی نظربندی کے خلاف درخواست،عدالت برہم

    صنم جاوید کی نظر بندی کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    صنم جاوید نظر بندی کیس ،ڈی سی لاہور نے نظر بندی کا آڑدر واپس لے لیا،عدالت میں ڈی سی لاہور کی رپورٹ پیش کر دی گئی،جسٹس علی باقر نجفی تھوڑی دیر تک صنم جاوید کے والد کی درخواست پر سماعت کریں گے

    قبل ازیں صبح سماعت ہوئی تو عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر آج جواب نہ آیا تو میں درخواست پر فیصلہ کر دوں گا۔آرڈر میں لکھوں گا کہ حکومت اور اسکے ادارے اختیارات کا غلط اور ناجائز استعمال کر رہے ہیں ، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ صوبائی کابینہ کی میٹنگ ہونے تک مہلت دی جائے، وکیل درخؤاست گزار نے کہا کہ دو دسمبر کو نظر بندی ہوئی جو دو جنوری کو ختم ہو جائے گی ،سسٹم کو ڈی ریل یونے سے بچایا جائے، عدالت نے کہا کہ لگتا ہے ہوم سیکرٹری سوئے رہتے ہیں ،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ عدالت نے چاروں کیسوں میں ضمانتیں لے لیں ۔

    عدالت نے درخواست گزار کے وکیل کو دلائل کے لیے طلب کر رکھے ہیں ،عدالت نے ڈی سی لاہور نظر ثانی کی درخواست پر فیصلہ کرکے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے رکھا ہے ،جسٹس علی باقر نجفی نے صنم جاوید کے والد جاوید اقبال کی درخواست پر سماعت کی،صنم جاوید کے خلاف جلاو گھیراو ،عسکری ٹاور حملہ کیس زیر سماعت ہیں۔عدالت نے تین کیسز میں صنم جاوید کی رہائی کی درخواست ضمانتوں کو منظور کر لیا ۔13مئی کو صنم جاوید کو نظر بند کیا گیا تھا ۔عدالت نے اس نظر بندی کو کالعدم قرار دے دیا تھا، اب 12دسمبر کو دوبارا ڈی سی لاہور نے صنم جاوید کو نظر بند کر دیا ہے، اس نظر بندی کی قانونی حیثیت نہ ہے ،عدالت اس نظر بندی کے آرڈر کو کالعدم قرار دے،

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    واضح رہے کہ صنم جاوید کی کئی مقدمات میں ضمانت منظور ہو چکی ہے تا ہم عدالت سے رہائی کے بعد صنم جاوید کو دوبارہ نئے مقدمے میں گرفتار کر لیا جاتا ہے،صنم جاوید نے لاہور ہائیکورٹ میں توہین عدالت کی درخواست بھی دائر کر رکھی ہے عدالت میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ عدالت میں انکے خلاف دو مقدمات ظاہر کرتے ہوئے تیسرے مقدمہ میں گرفتار کر لیا گیا ،عدالت آئی جی پنجاب پولیس کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی عمل میں لائے.

    آٹھ نومبر کو پی ٹی آئی کارکن صنم جاوید کو جیل سے رہا ہوتے ہی دوبارہ گرفتار کرلیا گیا تھا،20 اکتوبر کو بھی تحریک انصاف کی رکن صنم جاوید خان اور ان کی ساتھی خواتین کو کوٹ لکھپت جیل سے رہائی ملنے کے بعد ان کے جیل سے باہر نکلتے ساتھ ہی پولیس نے دوبارہ گرفتار کر لیا تھا،25 ستمبر کو بھی جناح ہاؤس حملہ کیس میں رہائی پانے والی پی ٹی آئی کارکن صنم جاوید اور دیگر خواتین کو پھر سے گرفتار کرلیا تھا،

  • سموگ،ماحولیاتی آلودگی کا باعث بننے والی انڈسٹریز کی بجلی کنکشن کاٹنے کا عندیہ

    سموگ،ماحولیاتی آلودگی کا باعث بننے والی انڈسٹریز کی بجلی کنکشن کاٹنے کا عندیہ

    لاہور ہائیکورٹ: اسموگ کے تدارک کے لیے دائر درخواستوں پر سماعت ہوئی

    عدالت نے بار بار ماحولیاتی آلودگی کا باعث بننے والی انڈسٹریز کی بجلی کنکشن کاٹنے کا عندیہ دے دیا، عدالت نے حکم دیا کہ کمیشن کی رپورٹ کی روشنی میں واپڈہ فوری انڈسٹریز کے خلاف کاروائی کرے ،سٹرکوں پر چھڑکاؤ کا پانی نہر اور وضو کا ذخیرہ شدہ پانی استعمال کیا جائے ،عدالتی احکامات کی خلاف وزری کرنے پر واسا ذمہ دار ہوگا ،وکیل جوڈیشل کمیشن نے کہا کہ میچز کے دوران لائٹس کے لیے استعمال ہونے والے جنریٹرز ماحول دوست ہونے چاہیے،وکیل پی ڈی ایم نے کہا کہ پی ڈی ایم کی سانس ایپ کو مزید بڑھایا جارہا ہے ، جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ چیزوں کو سادہ رکھیں مشکل نا کرو،نئے سال کے لیے نئے عزم اور ٹارگٹ سیٹ کریں ،نئے سال میں ہمیں عہد کرنا ہوگا کہ ہم نے دنیا کے ماحول کو کس طرح صاف رکھنا ہے ،اللہ تعالٰی نئے سال کو ہمارے لیے ترقی اور خوشیوں بھر کرے،جسٹس شاہد کریم نے شہری ہارون فاروق سمیت دیگر کی درخواستوں پر سماعت کی,وفاقی حکومت کے وکیل اسد باجوہ ایڈووکیٹ پیش ہوئے

    سائیکل کرائے پر دینے کے لیے مختلف پوائنٹ بنانے کے لیے اسیکم بنائی جائے

    آلودگی پھیلانے والی فیکٹروں کو سیل کرنے کا حکم

     ہفتے میں 2روز گھر سے کام کرنے کی پالیسی پر عمل کرائیں

    گھروں میں گاڑیاں دھونے والوں کے خلاف بھی کارروائی یقینی بنائی جائے

  • کسی بھی امیدوار کے تجویز ،تصدیق کنندہ کی ہراسگی برداشت نہیں ہوگی،عدالت

    کسی بھی امیدوار کے تجویز ،تصدیق کنندہ کی ہراسگی برداشت نہیں ہوگی،عدالت

    ہائی کورٹ راولپنڈی بنچ میں انتخابی پٹیشن کی سماعت ہوئی

    عدالت نے کہا کہ کسی بھی امیدوار کے تجویز ،تصدیق کنندہ کی ہراسگی برداشت نہیں ہوگی،تمام امیدواروں کے کاغذات نامزدگی سکروٹنی میں خلل نہ ڈالا جائے،پولیس کسی امیدوار کے تجویز تصدیق کنندگان کو گرفتار ہراساں کرنے سے باز رہے، آئین اور قانون کے مطابق ہر جماعت امیدوار کو سکروٹنی انتخابی مہم کا آئینی اختیار ہے،

    ہائی کورٹ نے میجر طاہر صادق ان کی بیٹی کے تجویز تصدیق کنندگان گرفتاری پر آئی جی سے رپورٹ مانگ لی،عدالت نے کہا کہ کاغزات نامزدگی فارم سکروٹنی میں مداخلت برداشت نہیں ہوگی،ہائی کورٹ نے سخت ڈائریکشن کے ساتھ اٹک، مری، کہوٹہ چکوال تحریک انصاف کے 9 امیدواروں کی پٹیشنیں ڈسپوز آف کر دیں ،پٹیشنوں کی سماعت ہائی کورٹ راولپنڈی بنچ کے جج جسٹس چودھری عبدالعزیز نے کی

    دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ: تحریک انصاف کے لاہور سے صوبائی اسمبلی امید وار کو ہراساں کرنے کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی،عدالت نے تحریک انصاف کے امیدوار احسان اللہ ساجد ایڈووکیٹ کی درخواست پر پولیس سمیت دیگر کو نوٹس جاری کر دیئے ،جسٹس شہرام سرور نے ربیعہ باجوہ ایڈووکیٹ کے توسط سے دائر درخواست پر سماعت کی ،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ درخواست گزار پی پی 160 سے امید وار ہیں لیکن انہیں ہراساں کیا جا رہا ہے،درخواست گزار کے پہلے کاغذات نامزدگی چھیننے گئے اور اب ہراساں کیا جا رہا ہے، درخواست گزار کو ہراساں کرنے سے روکا جائے، درخواست پر مزید سماعت کل ہوگی

     الیکشن کمیشن کو تمام شکایات پر فوری ایکشن لیکر حل کرنے کا حکم

    کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے وقت میں 2 دن کا اضافہ 

    ن لیگ کے محسن رانجھا نے پی ٹی آئی والوں پر پرچہ کٹوا دیا .

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

  • ہتھکڑی لگا کر شاہ محمود قریشی کی عدالت پیشی،ایس ایچ او نے مکے مارے،گالیاں دیں،قریشی

    ہتھکڑی لگا کر شاہ محمود قریشی کی عدالت پیشی،ایس ایچ او نے مکے مارے،گالیاں دیں،قریشی

    تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی کو ڈیوٹی مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کر دیا گیا

    شاہ محمود قریشی کو پولیس اہلکاروں نے ہتھکڑیاں لگا کر عدالت پیش کیا ،اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے،شاہ محمود قریشی کو جوڈیشل کمپلیکس راولپنڈی پہنچا یا گیا،شاہ محمود قریشی کو جوڈیشل کمپلیکس کے عقبی دروازے سے بخشی خانے منتقل کیا گیا،شاہ محمود قریشی کو ڈیوٹی مجسٹریٹ سید جہانگیر علی کی عدالت میں پیش کیاگیا،جوڈیشل کمپلیکس کے اندر راولپنڈی پولیس کی بھاری نفری موجودتھی

    شاہ محمود قریشی نے مجسٹریٹ کے سامنے بیان دیتے ہوئے کہا کہ میں اسٹیٹ منٹ ریکارڈ کرانا چاہتا ہوں، مجھے سپریم کورٹ کے قائم مقام جسٹس سمیت تین جسٹس صاحبان نے مجھے ضمانت دی، مچلکہ جمع کرا کر مجھے ضمانت کا حکم دیا گیا، میری رہائی کا روبکار جاری ہوتے ہی تھری ایم پی او جاری کیا گیا،میں کیسے عوام کے لیئے خطرہ ہوں؟میں کئی ماہ سے اڈیالہ جیل میں قید ہوں، مجھے رات آکر کہا گیا کہ تھری ایم پی او واپس لیتے ہیں ،شاہ محمود قریشی نے ڈیوٹی مجسٹریٹ کے سامنے تھری ایم پی او کا آرڈر پیش کر دیا،اور کہا کہ چھبیس تاریخ کو تھری ایم پی او کا آرڈر دیا گیا ،پھر واپس لے لیا گیا،ہاتھ سے چھبیس تاریخ کاٹ کر 27 کر دیا گیا،مجھے غیرقانونی طور پر رکھا گیا،میں جیل کی حدود میں تھا وہاں پنجاب پولیس گرفتار کرنے پہنچی،میں پانچ بار ممبر پارلیمنٹ رہ چکا ہوں، ایس ایچ او جمال نے مجھے مکے لاتیں ماریں،ایس ایچ او اشفاق چیمہ نے گالیاں دیں،میری چھاتی میں درد تھا ،کل رات ٹھنڈے کمرے میں رکھا گیا، سونے نہیں دیا، لائٹیں جلا کر بار بار جگایا گیا، شورمچایا گیا، مجھے ذہنی اورجسمانی طورپر ٹارچرکیا گیا، ایک ٹیم آئی کہ 9 مئی کےلئے بیان ریکارڈ کرنا ہے، یہ مجھے 9 مئی واقعات میں ملوث کرنا چاہتے ہیں، اُس دن تو میں کراچی تھا، میری بیگم کی سرجری ہوئی تھی،میں نے پاکستان کی نمائندگی کی ہر جگہ پاکستان کی صفائیاں دیں، میرے ساتھ اب یہ سلوک کیا جا رہا ہے اور میں کئی ماہ سے جیل میں ہوں، کیا یہ انصاف ہے مجھ پر تشدد ہوا، اوپر اللّٰہ نیچے آپ کا قلم ہے،میں نےپاکستان کا عالمی سطح پر مقدمہ لڑا،میں پاکستان اور اداروں کی عالمی دنیا میں صفائیاں دیتا رہا ہوں،کیا یہ انصاف ہے،شاہ محمود قریشی عدالت میں آبدیدہ ہوگئے،کہا قرآن پاک پر حلف دیتا ہوں میں 9 مئی کو راولپنڈی کیا، پنجاب میں بھی نہیں تھا،میری تقریر کا حوالہ دیا مکمل بات نہیں کر رہے میں نے کہا قانون کو ہاتھ میں نہیں لینا ویڈیو عدالت منگوا لے،کہا پر امن احتجاج عوام کا حق ہے،بہت ذمہ دار شخص نے کہا کہ میں 9 مئی میں صاف ہوں، کہیں گے تو میں آپ کو نام دے دوں گا، علیحدگی میں چاہیں گے تو بتا دونگا،

    دوران سماعت شاہ محمود قریشی نے عدالت میں ہتھکڑی لگے ہاتھ لہرا دیئے،تیمور ملک نے جج سے شاہ محمود قریشی کی ہتھکڑیاں کھولنے کی درخواست کی جس کے بعد ڈیوٹی مجسٹریٹ سید جہانگیر علی نے شاہ محمود قریشی کی ہتھکڑیاں کھولنے کا حکم دے دیا

    پولیس نے عدالت میں شاہ محمود قریشی کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی،پولیس نے کہا کہ ہمارے پاس بہت ٹھوس شواہد ہیں، پراسیکیوٹر نے شاہ محمود قریشی کا 2 جنوری تک ریمانڈ مانگ لیا ،شاہ محمود قریشی کے وکلا نے جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کر دی،وکیل علی بخاری نے عدالت میں کہا کہ شاہ محمود قریشی کو 24 گھنٹے تک غیر قانونی تحویل میں رکھا گیا،مقدمہ سے ڈسچارج کیا جائے، جج کو ریمانڈ دینے کی وجوہات دینی ہوں گی،جی ایچ کیو حملہ کیس میں انسداد دہشت گردی عدالت 12 ملزمان کو ڈسچارج کر چکی ہے،جن کے نام ایف آئی آر میں شامل تھے ان کی ہائی کورٹ سے ضمانت منظور ہوچکی ہے. شاہ محمود قریشی کو کیس سے ڈسچارج کیا جائے،شاہ محمود کا عدالت میں پیش کردہ بیان 16 ستمبر کا ہے 9 مئی کا نہیں،کیس سے شاہ محمود کو ڈسچارج کرنا بنتا ہے، وجن لوگوں کا جی ایچ کیو حملہ کیس میں نام تھا وہ ڈسچارج ہوئے،

    عدالت نے شاہ محمود قریشی کو جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھیج دیا،عدالت نے پراسیکیوٹر کی شاہ محمود قریشی کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کر دی.جوڈیشل کمپلیکس میں وکلاء کی جانب سے شاہ محمود قریشی کے حق میں نعرے بازی کی گئی،پولیس بکتر بند گاڑی میں شاہ محمود قریشی کو لے کر روانہ ہو گی

    نومئی کے پنڈی میں 12 مقدمات،شاہ محمود قریشی کی گرفتاری ڈال دی گئی
    شاہ محمود قریشی کے خلاف سانحہ 9 مئی کے ضلع راولپنڈی میں 12 مقدمات درج،پراسیکیوٹر نے عدالت میں کہا کہ تمام مقدمات میں ایک ساتھ تفتیش کی اجازت دی جائے،تمام 12 مقدمات میں 6 دن کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی،جی ایچ کیو، آرمی میوزیم حملہ، حساس ادارہ دفتر حملہ میٹرو بس اسٹیشن جلانے مقدمات میں بھی شاہ محمود قریشی ملزم نامزدکر دیئے گئے،شاہ محمود قریشی کی 12 مقدمات میں گرفتاری ڈال دی گئی

    میڈیا داخلے پر پابندی کے خلاف شاہ محمود قریشی کے وکیل نے درخواست دائر کر دی،بیرسٹر تیمور ملک نے کہا کہ جوڈیشل کمپلیکس میں میڈیا کے داخلے پر پابندی کسی صورت قبول نہیں، میڈیا کو جوڈیشل کمپلیکس میں داخلے کی اجازت دی جائے، ڈیوٹی مجسٹریٹ سید جہانگیر علی نے میڈیا کو جوڈیشل کمپلیکس میں داخلے کی اجازت دے دی

    واضح رہے کہ اڈیالہ جیل سے گزشتہ روز رہائی کے فوراً بعد راولپنڈی پولیس نے شاہ محمود قریشی کو تھانہ آر اے بازار کے مقدمے میں گرفتار کیا۔شاہ محمود قریشی کی مقدمہ نمبر 981 اور 708 میں گرفتاری ڈالی گئی ہے، شاہ محمود قریشی کو اڈیالہ جیل سے تھانہ آر اے بازار منتقل کردیا گیا تھا،

    شاہ محمود قریشی کی سائفر کیس میں ضمانت سپریم کورٹ نے منظور کی تھی، عمران خان کی بھی ضمانت منظور ہوئی تھی تا ہم عمران خان کی رہائی نہیں ہو سکے گی کیونکہ وہ القادر ٹرسٹ اور توشہ خانہ کیس میں جوڈیشل ریمانڈ پر ہیں

    سائفر کیس کی سماعت کل تک کیلئے ملتوی 

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کا جیل ٹرائل کالعدم قرار

    سائفر کیس،لگی دفعات میں سزا،عمر قید،سزائے موت ہے،ضمانت کیس کا فیصلہ

    دوسری جانب سابق وزیراعظم ، پیپلز پارٹی کے رہنما سید یوسف رضا گیلانی نے شاہ محمود قریشی کے ساتھ پولیس گردی کی مزمت کی اور کہا کہ شاہ محمود قریشی سمیت کسی بھی سیاستدان کے ساتھ ایسا برتاؤ قابل افسوس ہے، پیپلزپارٹی نے ہمیشہ ریاستی جبر کا مقابلہ کیا، ہم کبھی جبر و تشدد پر یقین نہیں رکھتے، شاہ محمود کسی مقدمے میں مطلوب تھے تو گرفتاری اخلاقی اقدار میں رہتے ہوئے کرنی چاہیے تھی.

  • اسلام آباد ہائیکورٹ نے سائفر کیس کا ٹرائل 11 جنوری تک روک دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے سائفر کیس کا ٹرائل 11 جنوری تک روک دیا

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے سائفر کیس کا ٹرائل 11 جنوری تک روکنے کا حکم جاری کر دیا، عدالت نے سائفر کیس میں حکم امتناع دے دیا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست پر سماعت کی اور کہا کہ یہاں پر مجھے دو سوالات کے جوابات چاہئیں، اس عدالت نے کہا تھا کہ اوپن ٹرائل ہوناچاہیے تو ان کیمرہ سماعت کیوں شروع ہوئی؟ سیکیورٹی عدالتی دائرہ اختیار نہیں تو اس میں ہم مداخلت نہیں کریں گے،عدالت نے کہا کہ سائفر کیس کا ٹرائل عارضی طور پر روکا جاتا ہے اور پہلے وفاقی حکومت اور ایف آئی اے کو نوٹس کیا جائے گا تاکہ ان کا جواب آ سکے

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے سائفر کیس ٹرائل میں 12 دسمبر کے حکم کیخلاف عمران خان کی درخواست پر وفاق کو نوٹس جاری کر دیئے. جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کیس کی سماعت کی،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ پہلے ایک درخواست میں بھی سامنے آیا تھا ،پراسکیوشن کے مطابق کابینہ کی منظوری کے بعد کیس فائل کیا گیا ،عمران خان کے وکیل نے عدالتی فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے موقف اپنایا کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت کیس درج کرانے کیلئے قانونی طریقہ نہیں اپنایا گیا.

    سماعت کے آغاز پر جسٹس میاں گل حسن نے استفسار کیا کہ آپ کا نکتہ کیا ہے؟ اس پر وکیل عثمان گل نے کہا کہ نکتہ یہ ہے کہ فرد جرم سے پہلے قانونی طریقہ کار مکمل نہیں کیا گیا، جج نے جس نوٹیفکیشن کا حوالہ دیا وہ یکم دسمبر کا ہے اور سائفر ٹرائل روزانہ کی بنیاد پر چل رہا ہے،عدالت نے استفسار کیا کہ اب تک کتنے گواہان کے بیانات مکمل ہو چکے ہیں؟ وکیل نے بتایا کہ کُل 27 گواہان میں سے 25 کے بیانات اور تین کی جرح مکمل ہوئی ہے،

    دوران سماعت بانی تحریک انصاف عمران خان کے وکیل نے سائفر ٹرائل پر حکم امتناع کی استدعا کی جسے عدالت نے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پہلے نوٹس ہوں گے،عدالت نے سائفر کیس میں فرد جرم عائد کرنے کے خلاف درخواست پر وفاق کو نوٹس جاری کردیا اور عمران خان کے وکیل کو ہدایت کی کہ آئندہ سماعت پر سائفر ٹرائل سے متعلق تمام ضروری دستاویزات جمع کرائیں،

    سائفر کیس ،ان کیمرہ کاروائی کیخلا ف درخواست پر سماعت ملتوی
    دوسری جانب سائفر کیس کی ان کیمرہ کارروائی کے خلاف درخواست پر سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کی، بیرسٹر سلمان اکرم راجا ویڈیو لنک کے ذریعے پیش ہوئے،بانی پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے وکلاء سکندر ذولقرنین، عثمان ریاض گل، انتظار پنجوتا و دیگر عدالت پیش ہوئے ،عدالتی حکم پر اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان، ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل عدالت پیش ہوئے، ایف آئی اے اسپیشل پراسیکوشن ٹیم بھی عدالت کے سامنے پیش ہوئی،سماعت کے آغاز پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مجھے کچھ تشویش ہے جس طرح کارروائی آگے بڑھ رہی ہے، بند دروازوں کے پیچھے ہونے والے ٹرائل سے متعلق اٹھنے والے سوالات کا جائزہ لینا ہے، ایک دو لوگوں یا خاندان کے افراد کی موجودگی سے بھی یہ کلوزڈ ڈور ٹرائل ہی رہے گا، اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ پراسکیوشن کے 25 گواہان کا بیان ریکارڈ کیا جاچکا ہے، 21 دسمبر کے بعد 12 گواہان کے بیانات میڈیا کی موجودگی میں ریکارڈ کیے گئے،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سماعت کے مطابق ٹرائل جیل میں ہو گا تو اوپن ہو گا ، اب صورتحال تبدیل ہوئی ہے کہ جیل ٹرائل ان کیمرہ ٹرائل ڈکلیئر کر دیا گیا ، ان کیمرہ کا سیکشن 14 کا آرڈر فیلڈ میں ہے اس کی موجودگی میں کیا ہوا ، ہم نے اس ججمنٹ میں اوپن ٹرائل کو سمجھنے کی کوشش کی ہے کیوں نہیں سمجھتے،سائفر ٹرائل کو جلد بازی میں کیا جا رہا ہے، اوپن سماعت کی اہمیت خصوصی عدالت کے جج پر واضح ہے نہ ہی پراسیکیوٹرز پر،سائفر ٹرائل اپنی نوعیت کا پہلا ٹرائل ہے،دیکھنا ہو گا کہ اس طرح کے کیسز میں آرٹیکل 10 اے کے تحت فئیر ٹرائل کا حق ملا یا نہیں؟ 1923 میں انسانی حقوق بنیادی حقوق دنیا کو معلوم نہیں تھے، یہ میرے سامنے فرسٹ ایمپریشن کا کیس ہے ، اسٹیٹ کی سیفٹی کمپرومائز نہیں ہونی چاہیے ،سپریم کورٹ کا فیصلہ دیکھیں وہ کہہ رہے ہے میٹریل ناکافی ہے،

    اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ اسٹیٹ کا موقف ہے کہ 3 ایسے گواہ تھے جن کا بیان نشر نہیں کیا جانا چاہیے تھا،ان گواہان کے بیانات 15 دسمبر کو ریکارڈ کیے گئے ہیں،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 12 دیگر گواہان کے بیانات بھی تو کلوزڈ ڈور ٹرائل میں ہوئے ہیں ناں، آپ سمجھتے کیوں نہیں ہیں ، ہم نے آپ کو سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ اوپن ٹرائل کیا ہوگا ، ان کیمرہ کرنے کی جج کی وجوہات دیکھ لیں اس میں 3 لائنیں لکھی ہوئی ہیں ، اوپن ٹرائل کیا ہے یہ واضح کر چکے ہیں، تم آ جاؤ اور تم آ جاؤ، یہ اوپن ٹرائل نہیں ہوتا، اوپن ٹرائل میں جو چاہے آ سکتا ہے، میڈیا کو اجازت ہے کہ جو چاہے آ سکتا ہے، ایسے نہیں ہوتا، اس بارے باقاعدہ آرڈر ہونا چاہیے، کیا جرح میڈیا کی موجودگی میں کی گئی؟اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ جن 3 افراد کی جرح ہوئی وہ سائفر کی کوڈ، ڈی کوڈ سے متعلق تھے، سائفر سے متعلق سیکرٹری خارجہ کا بیان بھی ان کیمرہ ہو گا،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پراسیکیوشن کو کہنا چاہیے تھا کہ جج صاحب 3 گواہان کے لیے ان کیمرہ ٹرائل کا حکم دیں تا کہ ٹرائل پر سوالات نہ اٹھیں، کبھی کبھی اچھا بھلا کیس ہوتا ہے لیکن جس طریقے سے چلایا جاتا ہے،خراب ہو جاتا ہے،پراسیکیوٹر راجا رضوان عباسی نے عدالت میں کہا کہ سائفر ان کیمرہ ٹرائل کے خلاف درخواست قابل سماعت نہیں ہے،اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ سائفر ٹرائل کے لیے 14 دسمبر کو حکم ہوا اور 15 دسمبر کو ٹرائل شروع ہوااگر عدالت چاہتی ہے کہ جرح اوپن ہو تو ہو جائے گی،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ عدالت نہیں کہہ رہی یہ ضرورت ہے کہ ٹرائل اوپن ہو اور یہ پوری دنیا میں ہوتا ہے،

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ یقین دہانی کراتا ہوں کہ ان کیمرہ جرح صرف ان 4 گواہان کی ہو گی جو دفتر خارجہ کے سائفر سکیورٹی سے جڑے ہیں،عدالت نے استفسار کیا کہ یہ چاروں گواہان دفتر خارجہ کے ملازمین ہیں؟اٹارنی جنرل نے کہا کہ چاروں گواہان دفتر خارجہ کے ملازمین ہیں۔چاروں گواہان سائفر ٹرانسکرپٹ کرنے اور سائفر سکیورٹی سسٹم سے جڑے ہیں۔ان ملازمین کا کام پوری دنیا سے سائفر ڈی کوڈ کرنا ہے، سائفر سسٹم کیسے کام کرتا ہے یہ تفصیلات پبلک کے سامنے نہیں لائی جا سکتی۔ 13 میں سے جو باقی 9 گواہان ہیں ان کی جرح دوبارہ کر لیں گےاگر عدالت 13 میں سے 9 گواہان کے بیانات کالعدم قرار دیتی ہے تو دوبارہ ہوں گے،

    عدالت نے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ اٹارنی جنرل کی اس پیشکش پر کیا کہیں گے کہ گواہان کے بیانات دوبارہ ریکارڈ کرلیے جائیں؟ وکیل سلمان اکرم راجا نے کہا کہ ہماری استدعا ہے کہ عدالت پہلے ٹرائل کورٹ کے ان کیمرہ پروسیڈنگ کے آرڈر کو دیکھے، میرے پاس پہلے 3 گواہان کے بیانات کے عدالتی آرڈر کی کاپی ہے،ہ سرٹیفائیڈ کاپی تو پبلک دستاویز ہوتی ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ میری استدعا ہوگی کہ اسے پبلک نہ کیا جائے،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں یہ دستاویزات دیکھنا چاہتا ہوں، آپ یہ مجھے فوری طور پر فراہم کریں، اس معاملے میں اہم آئینی ایشوز سامنے آئے ہیں عدالت ان کو دیکھے گی، سپریم کورٹ نے اس کیس میں اپنے فیصلے میں بھی مواد کو ناکافی قرار دیا تھا، میرا مائنڈ آج آپ نے بہت کلئیر کردیا ، عدالت نے کیس کی سماعت 11 جنوری تک کے لیے ملتوی کردی.

    سائفر کیس کی سماعت کل تک کیلئے ملتوی 

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کا جیل ٹرائل کالعدم قرار

    سائفر کیس،لگی دفعات میں سزا،عمر قید،سزائے موت ہے،ضمانت کیس کا فیصلہ

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر معاملہ؛ اعظم خان کے بعد فارن سیکرٹری بھی عمران خان کیخلاف گواہ بن گئے

    سائفر کیس، عمران خان کو بیٹوں سے بات کروانے کی اجازت