Baaghi TV

Tag: عدالت

  • سابق رکن قومی اسمبلی خادم حسین کی جعلی ڈگری کی بنیاد پر نااہلی درست قرار

    سابق رکن قومی اسمبلی خادم حسین کی جعلی ڈگری کی بنیاد پر نااہلی درست قرار

    سپریم کورٹ،مسلم لیگ ق کے سابق رکن قومی اسمبلی خادم حسین کی جعلی ڈگری کی بنیاد پر نااہلی درست قرار دے دی گئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار کے مرنے کے بعد بہتر ہےکہ مقدمہ نہ چلائیں، جعلی ڈگری کا معاملہ درخواست گزار کے مرنے کیساتھ ہی ختم ہوگیا،کیا کیس کا کوئی فوجداری پہلو ہے اگر ہے تو سن لیتے ہیں ، وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ لواحقین کا اصرار ہے کہ مقدمہ سن کر جعلی ڈگری کا دھبہ ختم کیا جائے،پوری تعلیم میں نے محمد اختر خادم کے نام پر حاصل کی، سیاست خادم حسین کے نام سے کی شناختی کارڈ بھی اسی نام سے بنوایا،جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار زندہ ہوتے تو کچھ ثابت ہو سکتا تھا،مرنے کے بعد لواحقین درست نام کیسے ثابت کرینگے؟

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کوئی بیان حلفی یا دستاویزات بطور شواہد دکھا دیں،نام بدلنے کا موقف ہے تو ثبوت پیش کرنا بھی آپکی ذمہ داری ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی ،محمد اختر خادم عرف خادم حسین 2008 میں این اے 188سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے ،ہائیکورٹ نے بی اے کی جعلی ڈگری کی بنیاد پر نااہل قرار دے دیا تھا ،درخواست گزار نے ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی

    جب تک سزا کا فیصلہ معطل نہ ہو اس وقت تک امیدوار الیکشن نہیں لڑسکتا،چیف جسٹس
    دوسری جانب چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سابق مشیرخزانہ بلوچستان خالدلانگو کے عام انتخابات میں حصہ لینے کے کیس کی سماعت کی ، درخواست گزار کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اپنایا کہ خالد لانگو عام انتخابات میں حصہ لینا چاہتے ہیں، فیصلہ معطل کیا جائے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جب تک سزا کا فیصلہ معطل نہ ہو اس وقت تک امیدوار الیکشن نہیں لڑسکتا خالد لانگو کے گھر سے ٹرکوں کے حساب سے پیسے پکڑے گئے، ان کے گھر سے 2 ارب24 کروڑ 91 لاکھ روپے برآمد ہوئے، صرف 26 ماہ کی کم سزا کیوں دی گئی؟ بلوچستان سے ایسے لوگوں کو انتخابات لڑنے سے دور رکھنا چاہیے، آپ کے موکل کو تو جیل کے دروازے کی طرف جانا چاہیے، کیا بلوچستان کے پیسے مزید چوری کرنے کیلئے الیکشن لڑنا ہے؟ کس دنیا میں رہتے ہیں آپ؟ گھر سے برآمد ملکی اور غیر ملکی کرنسی ٹرکوں پر لاد کرلے جائی گئی، ایسے لوگ بلوچستان کے دشمن ہیں، نیب کی تاریخ میں کسی کو اتنی کم سزا نہیں ہوئی ہوگی، مہربانی فرمائیں، بلوچستان کے لوگوں کو بخش دیں، صوبے میں ایک سڑک تک نہ بن سکی، ایسے لوگ ہی بلوچستان کھاگئے

    دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز نے سوال اٹھایا کہ کیا اس شخص کے اتنے زیادہ تعلقات ہیں جو نیب اپیل دائر نہیں کررہا، کیا نیب آپ کے مؤکل کے کنٹرول میں تھا جواپیل دائرنہیں کی گئی؟ نیب کا کمال دیکھیں، ٹرک بھرکے پیسے پکڑے گئے اورکم سزا کے خلاف اپیل نہیں ہوئی، جوپیسہ پکڑا گیا وہ کاروبار یا جائیداد سے نہیں بنایا گیا، چھوٹے چھوٹے کیسز میں تو نیب فوری اپیل دائر کردیتا ہے، نیب کرپشن کا سہولت کار بنا ہوا ہے،عدالت نے خالد لانگو کی درخواست واپس لینے کی بنیاد پر خارج کردی

    تمام امیدواران کو الیکشن کا برابر موقع ملنا چاہئے

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

    ٹکٹوں کی تقسیم،ن لیگ مشکل میں،امیدوار آزاد لڑیں گے الیکشن

    کسی بھی امیدوار کے تجویز ،تصدیق کنندہ کی ہراسگی برداشت نہیں ہوگی،عدالت

     این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    الیکشن کمیشن کا فواد حسن فواد کو عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

  • پشاور ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ، تحریک انصاف سے "بلا”پھر لے لیا گیا

    پشاور ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ، تحریک انصاف سے "بلا”پھر لے لیا گیا

    پشاور ہائیکورٹ نے تحریک انصاف انٹراپارٹی انتخابات اور انتخابی نشان کیس کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا

    پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس اعجاز خان نے 6 صفحات پر مشتمل فیصلہ تحریر کیا،تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے وکیل نے اعتراض اٹھایا کہ عدالت نے دائرہ اختیار کو نظر انداز کیا،مقدمے میں مرکزی فریق کو بغیر سنے حکم امتناع جاری کیا گیا، دیا جانے والا انٹر ریلیف پورے مقدمے پر اثر انداز ہوا ہے، فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت حکم امتناع کو واپس لیتی ہے، الیکشن کمیشن آئین اور قانون کے مطابق الیکشن کا انعقاد کرے، درخواست گزار کے تحفظات مرکزی درخواست میں سنے جائیں گے، جو پہلے سے مقرر کردہ تاریخ پر سنی جائے گی

    چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر علی خان نے بلے کا نشان واپس لئے جانے کے فیصلہ آنے پر سپریم کورٹ جانے کا اعلان کر دیا
    اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا تھا کہ ہم اس فیصلے کیخلاف کل سپریم کورٹ میں اپیل کریں گے،تحریک انصاف سے بلا لینے پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہوگا، آپ ہم سے انتخابی نشان بلا لیں گے تو دنیا کبھی الیکشن قبول نہیں کرے گی،سپریم کورٹ کہہ چکی کہ پارٹی سےانتخابی نشان لینا اسے تحلیل کرنے کے مترادف ہے سپریم کورٹ تحریک انصاف کا انتخابی نشان بلا بحال نہیں کرتی تو ہر امیدوار الگ الگ نشان پر لڑے گا جس سے کنفیوژن پیدا ہوگی،اس سے آپ کرپشن اور ہارس ٹریڈنگ کی بنیاد رکھیں گے

    قبل ازیں پشاور ہائیکورٹ، پی ٹی آئی انٹراپارٹی الیکشن اور انتخابی نشان کیس، الیکشن کمیشن کی ہائیکورٹ کے 26 دسمبر آرڈر پر نظرثانی درخواست پر سماعت ہوئی،پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن اور انتخابی نشان کیس پر الیکشن کمیشن کا فیصلہ بحال کرتے ہوئے حکم امتناع واپس لے لیا،عدالت نے محفوظ فیصلہ سنا دیا، عدالت نے الیکشن کمیشن کی نظرثانی اپیل منظور کی اور الیکشن کمیشن کا 22 دسمبر کا فیصلہ بحال کردیا،

    جسٹس اعجاز خان نے سماعت کی، الیکشن کمیشن کے وکیل سکندر بشیر مہنمد اور پی ٹی آئی کے وکیل شاہ فیصل اتمانخیل عدالت میں پیش ہوئے، جسٹس اعجاز خان نے الیکشن کمیشن کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپکے دلائل ہم نے سنے، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ میں سماعت سننے کے لئے آیا ہوں، وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ سینئر وکیل قاضی انور آرہے ہیں پھر دلائل پیش کریں گے، ہمیں تھوڑا وقت دیا جائے، عدالت نے کہا کہ ٹھیک ہے جب آپکا مین کونسل آجائے پھر سن لیں گے

    الیکشن کمیشن کیخلاف آپکی توہین عدالت کی درخواست نہیں آئی،پشاور ہائیکورٹ کے جج کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ
    دوبارہ سماعت ہوئی، تو پی ٹی آئی کے سینئر وکیل قاضی انور ایڈووکیٹ پیش ہو گئے،الیکشن کمیشن کے وکیل نے عدالت میں کہا کہ قاضی انور ایڈووکیٹ میرے استاد ہیں، میں نے وکالت کی پریکٹس ان کے ساتھ شروع کی تھی،قاضی انور ایڈووکیٹ نے کہا کہ میں اور بیرسٹر گوہر اس کیس میں وکیل ہیں،سیاسی جماعتوں نےعدالت میں کہا کہ وہ الیکشن کمیشن کے ساتھ کھڑی ہیں،جسٹس اعجاز خان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے آپ سے سیکھا ہے کہ قانون کے لیے یہ باتیں بے معنی ہیں عدالت سے باہر کیا ہوتا ہے اس کا سماعت کے ساتھ کچھ کام نہیں،قاضی انور ایڈووکیٹ نے کہا کہ پولیس کی بھاری نفری موجود ہے، ادھر آتے ہوئے مجھے روکا گیا،میری تلاشی لی گئی، کیا الیکشن کمیشن ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف عدالت آ سکتا ہے؟ ان کی رٹ ٹھیک نہیں ہے، 26 دسمبر کو فیصلہ آیا، اس پر ابھی تک عمل نہیں کیا گیا، الیکشن کمیشن نے اب تک ویب سائٹ پر انٹرا پارٹی انتخابات سرٹیفکیٹ جاری نہیں کیا، جسٹس اعجاز خان نے کہا کہ کیا اس کے خلاف توہین عدالت درخواست دائر کی ہے۔ آپ کی طرف سے کوئی توہین عدالت درخواست نہیں آئی۔ قاضی انور ایڈوکیٹ نے کہا کہ ہمارے امیدواروں کے کاغذات مسترد ہوئے الیکشن کمیشن بتائے انھیں نے کیا کیا۔9 جنوری کو سماعت کے لئے مقرر ہے, 9 جنوری میں کتنے دن باقی ہیں،الیکشن کمیشن نے استدعا کی ہے کہ 26 دسمبر کا آرڈر واپس لیا جائے۔یہ کیس 9 تاریخ کو ڈویژن بینچ نے سننا،جب انہوں نے ویب سائٹ پر سرٹیفکیٹ پبلش نہیں کیا تو ان کو مسئلہ کیا ہے، جسٹس اعجاز خان نے کہا کہ یہ اب ان سے ہم پوچھیں گے، قاضی انور ایڈوکیٹ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو ایک سیاسی جماعت کے خلاف استعمال نہیں کرنا چاہئے تھا، الیکشن کمیشن کو اس آرڈر سے مشکلات ہے۔جسٹس اعجاز خان نے استفسار کیا کہ کیا الیکشن کمیشن عدالت سے رجوع کر سکتا ہے ؟

    جسٹس اعجاز خان نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا ایک اعتراض یہ بھی ہے کہ اس کو پہلے لاہور ہائیکورٹ میں دائر کیا تھا پھر یہاں آگئے، قاضی انور ایڈوکیٹ نے کہا کہ اس کا مجھے پتہ نہیں ہے، معلومات کروں گا، اس کیس میں ایڈووکیٹ جنرل اور اٹارنی جنرل والے بھی پیش ہوئے، جسٹس اعجاز خان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کہا ہے ہم اس میں فریق نہیں ہیں،وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ یہ اس دن پیش ہوئے لیکن پھر بعد میں ان کو پتہ چلا، اور ان کو کسی نے بتایا کہ آپ کا کام نہیں ہے، اس دن ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے ایک گھنٹے سے زائد دلائل دیے، ہم کہتے رہے آپ دلائل پیش نہ کریں آپ کا کام نہیں،

    عدالت نےفریقین کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا تھا جو اب سنا دیا گیا ہے، قاضی انور ایڈوکیٹ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کےپاس انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم قرار دینےکااختیار نہیں،پی ٹی آئی نے 2013 اور 2018 انتخابات بلےکے نشان پر لڑے ہیں،

    واضح رہےکہ الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی الیکشن کو آئین کے برخلاف قرار دیتے ہوئے کالعدم کیا تھا جس کے بعد پی ٹی آئی سے بلے کا نشان چھن گیا تھا تاہم تحریک انصاف نے کمیشن کے فیصلے کو پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا،پشاورہائیکورٹ نے پی ٹی آئی انٹراپارٹی انتخابات اور انتخابی نشان سے متعلق الیکش کمیشن کافیصلہ معطل کرتے ہوئے تحریک انصاف کو انتخابی نشان بلا بحال کیا تھا

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کا انتخابی نشان بلا واپس لے لیا تھا، تحریک انصاف نے پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی، جس پر عدالت نے پی ٹی آئی کو انتخابی نشان بلا واپس دینے کا حکم دیا تھا ،تاہم ابھی تک پی ٹی آئی کو انتخابی نشان نہیں مل سکا، الیکشن کمیشن کی جانب سے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر دی ہے تو وہیں بانی رہنما تحریک انصاف اکبر ایس بابر نے بھی پشاور ہائیکورٹ کے اس فیصلے کو چیلنج کرنے کا اعلان کر رکھا ہے.

    تمام امیدواران کو الیکشن کا برابر موقع ملنا چاہئے

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

     این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    الیکشن کمیشن کا فواد حسن فواد کو عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

    ٹکٹوں کی تقسیم،ن لیگ مشکل میں،امیدوار آزاد لڑیں گے الیکشن

    تحریک انصاف کے وکیل شعیب شاہین چیف جسٹس پاکستان کے سامنے پیش

    انتخابات سے متعلق سروے کرنے پر ٹی وی چینلز کیخلاف کارروائی کا حکم

  • کوئٹہ نازیبا ویڈیو سیکنڈل،عدالت نے دو ملزمان کو بری کر دیا

    کوئٹہ نازیبا ویڈیو سیکنڈل،عدالت نے دو ملزمان کو بری کر دیا

    کوئٹہ کے علاقے قائد آباد میں لڑکیوں کی نازیبا ویڈیو بنانے کے کیس میں سیشن جج کوئٹہ نے 2 ملزمان کو بری کرنے کا حکم دے دیا

    عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ ویڈیو اسکینڈل کیس میں مقدمے کو ثابت نہیں کر پائی، کسی بھی معقول شک و شبہ سے بالاتر الزام لگایا گیا ہے، اپیل کنندگان کیس میں الزام سے بری ہیں، ٹرائل کورٹ کا ناقص فیصلہ قابل اعتماد نہیں ہے،وکیل ایاز ظہور نے کہا کہ سیشن کورٹ نے کیس میں ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو مسترد کر دیا

    جوڈیشنل مجسٹریٹ سیون نے گزشتہ سال 11 اکتوبر کو نازیبا ویڈیو بنانے کے مقدمے کا فیصلہ سنایا تھا،عدالت نے ویڈیو اسکینڈل کے دو مرکزی کرداروں ہدایت اللّٰہ اور خلیل کو تین تین سال قید کی سزا سنائی تھی،کورٹ نے دونوں ملزمان کو پانچ پانچ لاکھ روپے جرمانے کی ادائیگی کا بھی حکم دیا تھا،دونوں ملزمان نے 27 دسمبر 2021ء کو ایک لڑکی کو اپنے گھر میں قید کر کے اس کی نازیبا ویڈیو بنائی تھی، ملزمان سے مزید لڑکیوں کی نازیبا ویڈیوز بھی برآمد ہوئی تھیں

    ایک رپورٹ کے مطابق کوئٹہ میں 200 سے زائد نوجوان لڑکیوں کو نوکری اور روزگار کا جھانسہ دے کر نشے کا عادی بنا کر انہیں تشدد اور جنسی زیادتی کا نشانہ بنا کر برہنہ ویڈیوز بنانے اور بلیک میل کرنے والے گروہ کا سرغنہ، بدنامِ زمانہ ڈرگ ڈیلر حبیب اللہ کا بیٹا سابقہِ کونسلرہدایت خلجی نامی درندے نے یہ گھناؤنا کھیل بلوچستان یونیورسٹی کی طالبات سے شروع کیا، سینکڑوں طالبات کو اپنے پیسے اور سیاسی اثرورسوخ کا استعمال کرکے نوکری کا لالچ دیا اور انہیں نشہ کی لت میں ڈال کر نازیبا ویڈیوز بنائیں جن کے ذریعے بعد میں انہیں بلیک میل کرکے اپنے گھناؤنے مقاصد کے لیے استعمال کرتا رہا، اس سارے گندے کھیل میں اسے بااثر سیاسی افراد کی پشت پناہی حاصل رہی جن کے پاس لڑکیوں کو بھیجا جاتا تھا اس لیے بھی اس کے خلاف کبھی کوئی خاص کاروائی نہیں ہوئی.

    نوجوان نسل کو منشیات سے روکنا کس کا کام ، وفاقی وزیر ہوا بازی میدان میں آ گئے

    بھارت، آندھرا پردیش کے سابق اسپیکرشیو پرساد کی خودکشی

    بھارتی فوجی خاتون کو شادی کا جھانسہ دے کر 14 برس تک عزت لوٹتا رہا،مقدمہ درج

    بیس ہزار کے عوض خاتون نے ایک ماہ کی بیٹی کو فروخت کیا تو اس کے ساتھ کیا ہوا؟

    بھارتی پولیس اہلکاروں کی غیر ملکی خاتون سے 5 ماہ تک زیادتی

    ایک ہزار سے زائد خواتین، ایک سال میں چار چار بار حاملہ، خبر نے تہلکہ مچا دیا

    ایک برس میں 10 ہزار سے زائد کسانوں نے کس ملک میں خودکشی کی؟

    فرار ہونیوالے ملزمان میں سے کتنے ابھی تک گرفتار نہ ہو سکے؟

    طالب علم سے زیادتی کر کے ویڈیو بنانیوالے ملزم گرفتار

    ملازمت کے نام پر لڑکیوں کی بنائی گئیں نازیبا ویڈیوز،ایک اور شرمناک سیکنڈل سامنے آ گیا

  • سارہ انعام کیس،ثمینہ شاہ کی بریت کیخلاف درخواست دائر

    سارہ انعام کیس،ثمینہ شاہ کی بریت کیخلاف درخواست دائر

    سارہ انعام قتل کیس میں مقتولہ کے والد انعام الرحیم نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا،

    مقتولہ سارہ انعام کے والد انعام الرحیم نے مجرم شاہنواز امیر کی والدہ ثمینہ شاہ کو بری کرنے کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر دی ہے،سارہ انعام کے والدنے وکیل راؤ عبد الرحیم کے ذریعے اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی ، اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر اپیل میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ سیشن عدالت نے ثمینہ شاہ کو کیس سے بری کیا،سیشن عدالت کا ثمینہ شاہ کو کیس سے بری کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے، ثمینہ شاہ کو زیادہ سے زیادہ سزا سنائی جائے،

    اس موقع پر عدالت کے باہر مقتولہ سارہ انعام کے والد انعام الرحیم نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وقوعہ والے روز فارم ہاؤس پر 3 افراد تھے،شاہنواز امیر نے قتل کیا، جبکہ اس کی والدہ ثمینہ شاہ بھی وہاں موجود تھی، ایسا ہو نہیں سکتا کہ ثمینہ شاہ جرم میں ملوث نہ ہو، مجرم شاہنواز امیر کو جو سزا سنائی گئی اس سے مطمئن ہوں

    سارہ انعام قتل کیس میں عدالت نے ملزم شاہنواز امیر کو موت کی سزا سنا رکھی ہے،عدالت نے فیصلہ ملزم اور مقتولہ سارہ انعام کے اہل خانہ کی موجودگی میں سنایا تھا,فیصلے کے وقت عدالت میں شاہنواز امیر کے والد ایاز امیر اور شریک ملزمہ والدہ ثمینہ شاہ بھی موجود تھیں. عدالت نے ملزم شاہنواز کی والدہ ملزمہ ثمینہ شاہ کو عدم ثبوت کی بنا پر بری کر دیا،عدالت نے ملزم شاہنواز امیر پر 10 لاکھ جرمانہ بھی عائد کردیا.

    واضح رہے کہ صحافی ایاز امیر کے بیٹے شاہنواز امیر نے اپنی اہلیہ سارہ کو 23 ستمبر 2022 کی رات قتل کردیا تھا ایاز میر کی بہو دبئی سے واپس آئی تھی شاہنواز نشے کا عادی تھا اس نے نشے کی حالت میں اپنی بیوی کا قتل کیا۔ سارہ کا قتل بھی بالکل نور مقدم والے وحشیانہ طریقے سے کیا گیا۔ لوہے کا راڈ مارا پھر پانی کے ٹپ میں ڈبودیا۔ شاہنواز امیر کی کینیڈین نژاد سارہ سے تیسری شادی تھی مقتولہ سارہ دبئی میں ملازمت کرتی تھی اور دونوں کی تین ماہ پہلے ہی شادی ہوئی تھی مقتولہ کا سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر شاہنواز سے رابطہ ہوا تھا، پھر دونوں نے شادی کر لی

    قتل کے بعد ملزم نے اپنے والد ایاز امیر کو لاش کی تصویر بھیجی، پولیس نے ملزم کو گرفتار کر رکھا ہے، پولیس نے ایاز امیر کو بھی گرفتار کیا تھا تا ہم عدالت نے اس مقدمے سے ایاز امیر کو ڈسچارج کیا ہے،قتل کا مقدمہ تھانہ شہزاد ٹاؤن میں درج کیا گیا تھا،

    ایاز امیر کی بہو کا پوسٹمارٹم مکمل،سارہ کے قتل کی وجہ کا تعین نہ ہوسکا

    پہلے مارا، گھسیٹ کر واش روم لے گیا،ایاز امیر کے بیٹے نے سفاکیت کی انتہا کر دی

    سر پر ڈمبل مارا،آلہ قتل بھی خود برآمد کروایا،ایاز امیر کے بیٹے کیخلاف مقدمہ درج

    شک تھا سارہ کا کسی کے ساتھ کوئی افیئر ہے۔ ایاز امیر کے بیٹے کا بیوی کو قتل کرنے کے بعد بیان،

    ایاز میر کے بیٹے کی خوفناک درندگی :سارہ انعام ،کینیڈین شہری،دبئی آئی،گاڑی خریدی ،مگرپھرکیاہوا؟ہولناک انکشافات

    شاہنواز امیر نے اپنی سزائے موت کے فیصلے کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل دائر کردی

  • عمر ڈاربازیابی کیس، کل تک رپورٹ طلب

    عمر ڈاربازیابی کیس، کل تک رپورٹ طلب

    لاہور ہائیکورٹ،عمر ڈار کی بازیابی سے متعلق کیس پر سماعت ہوئی

    عدالت نے پولیس کو کل تک تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا،جسٹس علی باقر نجفی نے درخواست پر سماعت کی، آئی جی پنجاب کی جانب سے رپورٹ جمع کروا دی گئی، رپورٹ میں کہا گیا کہ عمر ڈار پولیس کی حراست میں نہیں ہے،عدالت نے حکم دیا کہ آئی جی کو دی گئی فوٹیج دکھائیں،فوٹیج میں نظر آنے والے پولیس اہلکاروں کے بارے بتائیں،وکیل عمر ڈار نے کہا کہ تمام سی سی ٹی وی فوٹیج پیش کرنے کی ہدایت دے دیں، عدالت نے حکم دیا کہ علاقے کے ہوٹلز وغیرہ سے فوٹیج کے کر آئی جی کو دکھائیں،

    جسٹس علی باقر نجفی نے عثمان ڈار کی والدہ کی درخواست پر سماعت کی,دائر درخواست میں آئی جی پنجاب، سی سی پی او لاہور سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے،درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ پولیس یونیفارم میں ملبوس افراد سمیت 40 سے زائد لوگ عمر ڈار کو اغوا کر کے لے گئے،مغوی کی والدہ سیالکوٹ سے خواجہ آصف کیخلاف الیکشن لڑ رہی ہیں.مغوی کے خاندان کو مسلسل سیاسی انتقام کا نشان بنایا جا رہا ہے،

    تمام امیدواران کو الیکشن کا برابر موقع ملنا چاہئے

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

     این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    الیکشن کمیشن کا فواد حسن فواد کو عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

    ٹکٹوں کی تقسیم،ن لیگ مشکل میں،امیدوار آزاد لڑیں گے الیکشن

    تحریک انصاف کے وکیل شعیب شاہین چیف جسٹس پاکستان کے سامنے پیش

    انتخابات سے متعلق سروے کرنے پر ٹی وی چینلز کیخلاف کارروائی کا حکم

  • جعلی رسیدیں کیس،عمران خان، بشریٰ کی ضمانت میں‌توسیع

    جعلی رسیدیں کیس،عمران خان، بشریٰ کی ضمانت میں‌توسیع

    بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف جعلی رسیدوں کے کیسز کی سماعت ہوئی

    ایڈیشنل سیشن جج طاہر عباس سِپرا کی آج رخصت کے باعث ڈیوٹی جج احمد ارشد نے کی،دورانِ سماعت بشریٰ بی بی اپنے وکلاء خالد یوسف، عمیر نیازی اور عثمان گل کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئیں،عدالت نے بشریٰ بی بی کو حاضری لگا کر جانے کی اجازت دے دی،ڈیوٹی جج نے سوال کیا کہ کیسز کے تفتیشی افسر کدھر ہیں؟ عدالت آئے ہی نہیں؟ عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف کیسز میں استغاثہ سے کوئی بھی عدالت نہیں آیا،

    عمران خان کو عدالت میں پیش کرنے سے متعلق رپورٹ بھی عدالت میں جمع نہیں کروائی گئی،عدالت نےعمران خان کو پیش کرنے بارے رپورٹ طلب کر رکھی تھی،عدالت نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ضمانت میں 16 جنوری تک توسیع کر دی

    تمام امیدواران کو الیکشن کا برابر موقع ملنا چاہئے

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

    ٹکٹوں کی تقسیم،ن لیگ مشکل میں،امیدوار آزاد لڑیں گے الیکشن

    کسی بھی امیدوار کے تجویز ،تصدیق کنندہ کی ہراسگی برداشت نہیں ہوگی،عدالت

     این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    الیکشن کمیشن کا فواد حسن فواد کو عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

  • خرم لطیف کھوسہ  کو  رہا کرنے کا حکم

    خرم لطیف کھوسہ کو رہا کرنے کا حکم

    لاہور: سابق گورنر اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما لطیف کھوسہ کے صاحبزادےخرم لطیف کھوسہ کو لاہور ہائی کورٹ رہا کرنے اور درج کی گئی ایف آئی آر بھی خارج کرنے کا حکم دیا ہے۔

    باغی ٹی وی: لاہور ہائیکورٹ میں خرم لطیف کھوسہ کی بازیابی کےلیے دائر درخواست پر سماعت ہوئی ،جسٹس علی باقر نجفی نے درخواست پر سماعت کی،جس میں عدالت نے انہیں پیش کرنے کا حکم دیا تھا، عدالت نے سرکاری وکیل سے استفسار کیا کہ انہیں کس کیس میں گرفتار کیا گیا؟ جس پر وکیل نے بتایا کہ جو ایف آئی آر آپ کے سامنے رکھی تھی، اسی کیس میں گرفتار کیا گیا، پہلے ایف آئی آر ہوئی، پھر انہیں گرفتار کیا گیا۔

    سرکاری وکیل نے عدالت کو مزید بتایا کہ ملزم کا کہنا ہے کہ اس کی گرفتاری کل ہوئی ہے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مطابق ان کی گرفتاری آج ہوئی، عدالت نے ریمارکس دئیے کہ آپ نے وکلا کو ہتھکڑیاں لگا کر کیوں عدالت میں پیش کیا؟ جس پر سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ قانون سب کےلیے ایک ہے۔

    ادارہ شماریات نے مہنگائی کے نئےاعداد و شمار جاری کر دیئے

    اس سے قبل تفتیشی افسر نے عدالت میں کہا کہ خرم لطیف کھوسہ نے پولیس افسر سے کہا تم مجھے جانتے نہیں ہو، میں 5 نسلوں سے وکالت میں ہوں،جس پر سرکاری وکیل نے جواب دیا کہ انہوں نے پولیس افسر کے کپڑے پھاڑے ہیں، عدالت نے ریمارکس دیے تو پھر آپ نے شرٹ قبضے میں لی ہوگی، جس پر سرکاری وکیل نے جواب دیا کہ جی، وہ شرٹ قبضے میں لی ہے سرکاری وکیل نے کہا کہ کسی ملزم کے عمل کو دیکھا جاتا ہے اس کے وکیل ہونے کو نہیں،عدالت نے دوبارہ استفسار کیا کہ ویڈیو میں شرٹ پھاڑنے کا عمل ریکارڈ ہوا ہوگا۔ جس پر وکیل نے جواب دیا کہ جی نہیں، وہ کسی اور ویڈیو میں ہوا ہوگا۔

    عدالت نے استفسار کیا کہ اگر کسی نے غصہ میں کوئی بات کہہ دی تو کیا آپ دہشتگری کا پرچہ کاٹیں گے؟ جس پر سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ ٹنر روڈ پر پولیس کا جانا منع تو نہیں، 9 مئی کو بھی لوگوں نے جو کچھ کیا، اس کا تصور نہیں کیا جاسکتاعدالت نے ریمارکس دئیے کہ آپ 9 مئی والے واقعے کا اس سے نہ موازنہ نہ کریں، سرکاری وکیل نے کہا کہ نہ ہی یہ گرفتاری غیر قانونی ہے اور نہ غلط ہے،خرم لطیف کھوسہ کے وکیل نے مؤقف پیش کیا کہ ایف آئی آر میں جو درج ہے، ایسا کچھ نہیں ہوا، اگر ایسا کچھ ہوتا تو ویڈیو میں بھی ہوتاعدالت نے دلائل سننے کے بعد خرم لطیف کھوسہ کی ہتھکڑیاں کھولنے کا حکم دے دیا، اور درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

    پنجاب کو فنڈ کی ضرورت نہیں یہ کماؤ پتر ہے،نگران وزیراعظم

  • لاہور ہائیکورٹ نے خرم لطیف کھوسہ کو 6 بجے پیش کرنے کا حکم دے دیا

    لاہور ہائیکورٹ نے خرم لطیف کھوسہ کو 6 بجے پیش کرنے کا حکم دے دیا

    خرم لطیف کھوسہ کی گرفتاری کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں درخواست پر سماعت ہوئی

    ربیعہ باجوہ ایڈوکیٹ نے عدالت میں کہا کہ خرم کھوسہ کے چیمبر پر دھاوا بولا گیا ہراساں کیا گیا ،اگر یہ صورتحال رہی ہائی کورٹ بھی محفوظ نہیں رہے گی ، لطیف کھوسہ نے کہا کہ یہ غیر قانونی حراست کا معاملہ ہے عدالت مداخلت کرے ، عدالت اس معاملے میں پر فوری حکم جاری کرے ، خرم لطیف کھوسہ نے ایسا کیا کیا کہ دہشت گردی کی دفعات لگائی گئیں،ہم آج صبح سے تمام عدالتیں چھان کر آ گئے خرم کو پیش نہیں کیا گیا ،جسٹس علی باقر نجفی نے استفسار کیا کہ دکھائیں وہ ویڈیو کدھر ہے،

    سرکاری وکیل کی ہائیکورٹ بار کی نائب صدر سے تلخ کلامی ہوئی،ربیعہ باجوہ ایڈوکیٹ نے کہا کہ ٹنل روڈ بار کا حصہ ہے، وہ سینئر وکیل ہیں،ایک وقت تھا کہ ظلم اور زیادتی ہوتی تھی تو سرکاری وکیل مخالفت کرتے تھے، لیکن اب تو انتہا ہوچکی ہے، لطیف کھوسہ نے کہا کہ اگر یہ ویڈیو میں ثابت کردیں کہ وردی پھاڑی یا گریبان پکڑا تو ہم اپنی درخواست واپس لے لیں گے،سرکاری وکیل نے کہا کہ جو ویڈیو عدالت میں دیکھائی گئی وہ صرف اس حد تک نہیں ہے، لطیف کھوسہ نے کہا کہ یہ پھٹی وردی عدالت میں پیش کردیں، سرکاری وکیل نے کہا کہ یہ ہائیکورٹ ہے وہ تفتیش ہوگی اور کورٹ آف لاء میں پیش کی جائے گی یہاں نہیں، لاہور ہائیکورٹ نے خرم لطیف کھوسہ کو 6 بجے پیش کرنے کا حکم دے دیا

    واضح رہے کہ خرم لطیف کھوسہ کو گزشتہ روز پولیس نے گرفتار کیا تھا

  • صنم جاوید کی عدالت پیشی،بنایا وکٹری کا نشان،بولیں،مریم کا مقابلہ کروں گی

    صنم جاوید کی عدالت پیشی،بنایا وکٹری کا نشان،بولیں،مریم کا مقابلہ کروں گی

    سیشن کورٹ لاہور ،مسلم لیگ ن کا آفس جلانے کا مقدمہ ،پولیس نے صنم جاوید کو دو روزہ جسمانی ریمانڈ ختم ہونے پر عدالت پیش کر دیا

    اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے، صنم جاوید قیدی وین سے اتریں تو اپنے وکیل کے ہمراہ عدالت پیش ہوئیں، اس موقع پر صنم جاوید نے وکٹری کا نشان بھی بنایا، پولیس نے صنم جاوید کا مزید جسمانی ریمانڈ مانگ لیا،پولیس نے عدالت میں کہا کہ صنم جاوید سے تفتیش کرنی ہے، جسمانی ریمانڈ دیا جائے، صنم جاوید کے وکیل نے جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کر دی،عدالت نے وکلاء کے دلائل کے بعد فیصلہ محفوظ کیا جو اب سنا دیا گیا ہے، عدالت نے صنم جاوید کا ایک روز کا مزید جسمانی ریمانڈ دے دیا، تھانہ ماڈل ٹاؤن پولیس نے صنم جاوید کے خلاف مقدمہ درج کر رکھا ہے۔

    صنم جاوید کی ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں وہ قیدی وین میں موجود ہیں، صنم جاوید سے سوال کیا گیا کہ الیکشن کہاں سے لڑیں گی، جس کے جواب میں صنم جاوید نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ “جہاں سے مریم نواز الیکشن لڑے گی، اسی حلقے سے میں لڑوں گی، میری سمجھ میں نہیں آرہا ڈر کس بات کا ہے؟کاغذ بھی ریجکٹ کروانے ہیں ضمانتیں بھی نہیں ہونے دینی “میں سچی ہوں سچ کے ساتھ کھڑی ہوں اب یہ جیلیں یہ ریمانڈ میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے میرے لئے میرا اللہ کافی ہے

    واضح رہے کہ صنم جاوید کے  نظر بندی کے احکامات واپس لئے گئے تھے، صنم جاوید کی رہائی کا امکان تھا تا ہم بعد میں پولیس نے انہیں ایک اور مقدمے میں گرفتار کر لیا،

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

    واضح رہے کہ صنم جاوید کی کئی مقدمات میں ضمانت منظور ہو چکی ہے تا ہم عدالت سے رہائی کے بعد صنم جاوید کو دوبارہ نئے مقدمے میں گرفتار کر لیا جاتا ہے,آٹھ نومبر کو پی ٹی آئی کارکن صنم جاوید کو جیل سے رہا ہوتے ہی دوبارہ گرفتار کرلیا گیا تھا،20 اکتوبر کو بھی تحریک انصاف کی رکن صنم جاوید خان اور ان کی ساتھی خواتین کو کوٹ لکھپت جیل سے رہائی ملنے کے بعد ان کے جیل سے باہر نکلتے ساتھ ہی پولیس نے دوبارہ گرفتار کر لیا تھا،25 ستمبر کو بھی جناح ہاؤس حملہ کیس میں رہائی پانے والی پی ٹی آئی کارکن صنم جاوید اور دیگر خواتین کو پھر سے گرفتار کرلیا تھا،

  • منظور پشتین کےجسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد،عدالت نے جیل بھجوا دیا

    منظور پشتین کےجسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد،عدالت نے جیل بھجوا دیا

    اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس میں منظور پشتین کے خلاف تھانہ ترنول میں درج مقدمے کی سماعت ہوئی

    پولیس نے منظور پشتین کو 2 روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر عدالت میں پیش کیا،اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے، پولیس نے عدالت سے منظور پشتین کے مزیدجسمانی ریمانڈ کی استدعا کی، ملزم منظور پشتین کے وکیل نے درخواست ضمانت دائر کی،عدالت نے پولیس کی استدعا مسترد کر دی اور منظور پشتین کو جوڈیشیل ریمانڈ‌پر بھجوا دیا، ملزم کے وکیل کی جانب سے درخواست ضمانت پر عدالت نے فریقین کو دو جنوری کے نوٹس جاری کر دیئے

    واضح رہےکہ منظور پشتین پر اسلام آباد میں دفعہ 144 کی خلاف ورزی کامقدمہ درج ہےمنظور پشتین کو بلوچستان کے حکام نے گرفتار کر کےاسلام آباد پولیس کے حوالے کیا تھا،وہ مختلف مقدمات میں اسلام آباد پولیس کو مطلوب تھے

    پشتون تحفظ موومنٹ کے حق میں بلاول کے بعد مریم نواز بھی بول پڑیں

    ریاست مخالف مہم، پی ٹی ایم کے خلاف پاکستان کے وکلاء نے کاروائی کا مطالبہ کردیا

    پی ٹی ایم کا بیانیہ نیا نہیں ،فواد چودھری

    پی ٹی ایم پاکستان کا نعرہ لگائے تو….وزیر داخلہ کی پی ٹی ایم کو بڑی پیشکش