Baaghi TV

Tag: عدالت

  • صنم جاوید کے کاغذات نامزدگی مسترد،الیکشن کمیشن کے وکیل سے دلائل طلب

    صنم جاوید کے کاغذات نامزدگی مسترد،الیکشن کمیشن کے وکیل سے دلائل طلب

    لاہور ہائی کورٹ میں پی ٹی آئی ایکٹویسٹ صنم جاوید خان کی اپیلٹ ٹریبونل کے فیصلے کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔

    جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے صنم جاوید کی درخواست پر سماعت کی،صنم جاوید کے وکیل نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ریٹرننگ افسر جس اکاؤنٹ کی بات کر رہے ہیں یہ پرانا اکاؤنٹ ہے، الیکشن کمیشن نے کوئی دو دن پہلے یہ رول نکالا ہے جس کے باعث صنم جاوید کے کاغذات مسترد کیے گئے ہیں.

    عدالت نے استفسار کیا کہ الیکشن کمیشن کے وکیل یہ بتائیں کیا یہ الیکشن کی تاریح اناؤنس ہونے سے پہلے الیکشن ترمیم کی ہے یا بعد میں؟ وکیل الیکشن کمیشن نے بتایا کہ یہ رول میں الیکشن کمیشن کی جانب سے الیکشن کی تاریح دینے سے پہلے ترمیم کی گئی ہے، عدالت نے الیکشن کمیشن کے وکیل سے دلائل طلب کرتے ہوئے سماعت کل تک ملتوی کر دی۔

    صنم جاوید کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں مؤقف اپنایا گیا تھا کہ ایپلٹ ٹریبونل اور ریٹرننگ افسر نے حقائق کے برعکس فیصلہ سنایا۔ اپیلٹ ٹریبونل نے جوائنٹ اکاؤنٹ کو بنیاد بنا کر کاغذات مسترد کیے۔ صنم جاوید کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے،درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت صنم جاوید کے کاغذات نامزدگی منظور کرے اور الیکشن لڑنے کی اجازت دے

    واضح رہے کہ صنم جاوید کے  نظر بندی کے احکامات واپس لئے گئے تھے، صنم جاوید کی رہائی کا امکان تھا تا ہم بعد میں پولیس نے انہیں ایک اور مقدمے میں گرفتار کر لیا،

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

    واضح رہے کہ صنم جاوید کی کئی مقدمات میں ضمانت منظور ہو چکی ہے تا ہم عدالت سے رہائی کے بعد صنم جاوید کو دوبارہ نئے مقدمے میں گرفتار کر لیا جاتا ہے,آٹھ نومبر کو پی ٹی آئی کارکن صنم جاوید کو جیل سے رہا ہوتے ہی دوبارہ گرفتار کرلیا گیا تھا،20 اکتوبر کو بھی تحریک انصاف کی رکن صنم جاوید خان اور ان کی ساتھی خواتین کو کوٹ لکھپت جیل سے رہائی ملنے کے بعد ان کے جیل سے باہر نکلتے ساتھ ہی پولیس نے دوبارہ گرفتار کر لیا تھا،25 ستمبر کو بھی جناح ہاؤس حملہ کیس میں رہائی پانے والی پی ٹی آئی کارکن صنم جاوید اور دیگر خواتین کو پھر سے گرفتار کرلیا تھا،

  • کسی کیخلاف اتنے مقدمات درج کرنا قانون کا مذاق ہے،ارشد شریف کیس میں ریمارکس

    کسی کیخلاف اتنے مقدمات درج کرنا قانون کا مذاق ہے،ارشد شریف کیس میں ریمارکس

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں صحافی و اینکر ارشد شریف پر ملک بھر میں درج مقدمات کی تفصیلات فراہمی کی درخواست پر سماعت ہوئی.

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر سماعت کی.دوران سماعت جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ ارشد شریف پر کتنے مقدمات تھے؟وکیل شعیب رزاق نے عدالت میں کہاکہ آخری اطلاع کے مطابق ارشد شریف پر 16 مقدمات تھے،ارشد شریف پر دہشتگردی ، ریاست مخالف سرگرمیوں کے مقدمات تھے،گوادر اور ملک کے دور دراز علاقوں میں یہ مقدمات درج ہو رہے تھے،ہمیں تو نہ مقدمات کی کاپی اور نہ ہی تفصیلات دی جارہی تھی، جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک اینکر یا صحافی کے انٹرویو کی بنیاد پر بہت سے مقدمات درج ہو جاتے ہیں،کیا 25کروڑ عوا م نے انٹرویو کے الفاظ سنے تو 25کروڑ مقدمات درج ہوں گے؟کیا ایک گوادر، ایک سبی ایک حیدر آباد میں مقدمہ درج کروائے گا،اس طرح ملک بھر میں مقدمات کا اختیارات سے تجاوز ہے، جو پہلی ایف آئی آر کسی ایکٹ پر ہوگی اس کی ہی پیروی ہوگی، یہ کام تو بھیڑبکریوں والا ہے، ایسے ہی عوام کو ٹریٹ کیا جاتا ہے، گوادر سبی اور پسنی میں مقدمات درج کرا دیئے گئے،ایک انٹرویو پر اتنے مقدمات کیسے درج ہوں گے،یہی کرنا تھا تو پہلے ہی شخصی آزادی نہیں دینی تھی،سٹیٹ کو ایسے کام کرنے ہی نہیں چاہئیں کہ اس پر لوگ ٹریٹ کریں یا بولیں،کسی کے خلاف اتنے مقدمات درج کرنا قانون کا مذاق ہے،سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق تو ایک واقعے پر دوسرے ایف آئی آر نہیں ہو سکتی

    جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی غلط کام ہوا ہے تو غلط کام پر پراسیکیوٹ ہونا چاہئے،ریاست کو ایسے کام نہیں کرنے چاہئیں کہ لوگ کمنٹ کریں اور پھر اس کے نتائج نکلیں ،جرنلسٹ کیخلاف کارروائی ہو سکتی ہے مگر اس کا طریقہ کار موجود ہے،آئندہ سماعت پر بتائیں کہ ایف آئی آرز کا سٹیٹس کیا ہے؟کیا ایک ہی ٹویٹ یا انٹرویو پر مقدمات درج ہوئے؟تمام ایف آئی آرز کو ریکارڈ پر رکھیں، تربت اور پسنی والے ہی باخبر ہیں صرف، اسلام آباد والے نہیں؟اس کا دوسرا نکتہ بھی ہے کہ سٹیٹ وہاں پر وٹیکٹ نہیں کر سکتی،یہ کہنا بہت آسان ہے کہ انڈیا اور اسرائیل فنڈنگ کررہا ہے،ریاست کا کام ہے کہ قانونی کارروائی کرے، کہنا بڑا آسان ہے کہ کوئی کسی سے پیسے لے کر یہاں بیٹھا ہوا ہے،سٹیٹ نے سپریم کورٹ میں کھڑے ہو کر اپنے جرم کا اعتراف کرلیا ہے،اغوا پر 7سال قید ہو جاتی ہے، یہاں سٹیٹ کے ادارے اغوا کررہے ہیں مگر کوئی بات ہی نہیں، عدلیہ پر بھی تنقید ہوتی ہے۔عدالتوں نے اپنا کام کرکے دکھانا ہے اور یہی سب باتوں کا جواب ہے، جسٹس محسن اختر کیانی نے کیس کی سماعت 14 فروری تک ملتوی کردی

    واضح رہے کہ صحافی ارشد شریف کو  کینیا میں گولیاں مار کر قتل کیا گیا تھا، کینیا کی حکومت کے مطابق یہ ایک مبینہ پولیس مقابلہ تھا جس میں ارشد شریف کی موت ہوئی،23 اکتوبر 2022 کو کینیا کے شہر نیروبی میں میگاڈی ہائی وے پر یہ واقعہ پیش آیا تھا جب پولیس نے ایک گاڑی پر گولیاں چلائیں، مرنیوالے کی شناخت ارشد شریف کے طور پر ہوئی،کینیا کی پولیس حکام میں اس کیس میں موقف کے حوالے سے تضاد نظر آیا.پولیس نے ابتدائی بیان میں کہا تھا کہ وہ ایک بچے کی بازیابی کے لئے موجود تھے ،مقامی تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ جس طرح گولیاں چلائی گئیں اس سے یہ نہیں لگتا کہ چلتی گاڑی پر گولیاں چلیں

    واقعے کے وقت ارشد شریف کی کار چلانے والے خرم کے مطابق وہ جائے وقوعہ سےآدھے گھنٹے کی مسافت پر ٹپاسی کے گاؤں تک گاڑی لے گئے تھے،قتل کیس میں ملوث کینیا پولیس کے پانچوں اہلکار بحال ہونے کے بعد ڈیوٹی پر واپس آگئے ہیں،

    پاکستان کی سپریم کورٹ نے ارشد شریف کے قتل پر ازخود نوٹس بھی لیا تھا تاہم کئی سماعتوں کے باوجود کیس کسی فیصلے پر نہ پہنچ سکا،

    جویریہ صدیق نے ٹویٹر پر ارشد شریف کی جانب سے مریم نواز کی والدہ کے لیے دعا کا سکرین شاٹ شیئر کیا اور مریم نواز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کچھ شرم کر۔ اللہ سے ڈر

    اسلام آباد ہائیکورٹ کاسیکرٹری داخلہ و خارجہ کو ارشد شریف کے اہلخانہ سے رابطے کا حکم

     ارشد شریف کا لیپ ٹاپ ، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے قریبی ساتھی کے پاس ہے

    ارشد شریف قتل کیس، رپورٹ میں ایسا کیا ہے جو سپریم کورٹ میں جمع نہیں کرائی جا رہی؟ سپریم کورٹ

    ارشد شریف قتل کیس،جے آئی ٹی کو تفتیش کے لئے مکمل تیار رہنا ہوگا،سپریم کورٹ

  • گلہ مرد نہیں کرتے عورتیں کرتی ہیں،پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کا ایمل ولی سے مکالمہ

    گلہ مرد نہیں کرتے عورتیں کرتی ہیں،پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کا ایمل ولی سے مکالمہ

    پشاور ہائیکورٹ میں اے این پی رہنما ایمل ولی خان کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی

    دوران سماعت اے این پی کارکنان کی جانب سے عدالت میں ہنگامہ آرائی کی گئی جس پر چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ جسٹس ابراہیم خان نے غیر ضروری افراد کو کمرہ عدالت سے باہر جانے کا حکم دیا،سماعت کے دورا ن چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ اور اے این پی رہنما ایمل ولی خان کے مابین دلچسپ مکالمہ بھی ہوا،

    جسٹس ابراہیم خان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس کی کردار کشی کی گئی ہے، ایمل ولی کون ہے، کیا وہ عدالت حاضر ہوا ہے؟چیف جسٹس ابراہیم خان نے سوشل میڈیا پر چلنے والی ویڈیو سکرین پر چلانے کی ہدایت کی،ویڈیو عدالت میں چلائی گئی، ویڈیو دیکھنے کے بعد پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس ابراہیم خان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ "میں اپنی ذات کی فکر نہیں کرتا، اگر یہ پٹھان ہے تو میں بھی پٹھان ہوں، یہ عدالت کے تقدس کا معاملہ ہے، میں انہیں کچھ نہیں کہتا میرا چھوٹا بھائی ہے، لیکن یہ ابراہیم خان کا مسئلہ نہیں عدالت کا مسئلہ ہے”

    وکیل درخواستگزار نے عدالت میں کہا کہ جو ماحول بنا ہے چیف جسٹس کو ہیرو بنانے کی کوشش کی جارہی ہے، چیف جسٹس ابراہیم خان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 15 اپریل کو میں ریٹائر ہونے جارہا ہوں، کسی پارٹی میں شمولیت اختیار نہیں کررہا،پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس ابراہیم خان نے ایمل ولی کو سامنے آنے کی ہدایت کی اور کہا کہ جس وقت میں جج تھا آپ اس وقت بھی چھوٹے تھے،ایمل ولی خان نے عدالت میں کہا کہ "میں معافی چاہتا ہوں ، لیکن یہ بات زدعام ہے، میں نے صرف گلہ کیا ہے” ایمل ولی خا ن کے بیان پر چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ ابراہیم خان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ "گلہ مرد نہیں کرتے عورتیں کرتی ہیں” جو غلط فہمی ہے وہ ختم کرنا چاہتا ہوں، 31 سال سے روزے میں ہوں کبھی کسی سے پانی نہیں پیا،دو مرتبہ ایمل ولی کی رٹ لگی ہے ان کے وکیل نے سماعت ملتوی کی ہے،ایمل ولی نے عدالت میں کہا کہ آپ میرا میڈیا ٹرائل کررہے ہیں، چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ عامر خان نے کہا کہ میں اس کیس کو لارجر بینچ کو بھیجتا ہوں، میں نے آپ کے کزن کے کیس میں میرٹ پر فیصلہ کیا ہے،جس پر ایمل ولی خان نے عدالت میں کہا کہ "ہم آپ سے خوش ہیں آپ کے ہر فیصلے کا احترام کرتے ہیں، باچا خان اور ولی خان پر غداری کیس تھے وہ بھی نکال لیں” چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ ابراہیم خان نے کہا کہ اگر آپ ایڈونس ووٹ لینا چاہتے ہیں وہ بھی آپ کو دے دوں گا، ایمل ولی خان نے عدالت میں کہا کہ میں نے عدالت کی توہین نہیں کی ہے، میں نے گلہ کیا ہے

    چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ نے کہا کہ آپ کو برخوردار کہا ہے، اپنے وکلاء سے پوچھ لیں یہ انسداد دہشت گردی کا کیس ہے، آپ کے ذہین میں بالکل نہ آئے کہ جانبداری کررہے ہیں، آپ نے جو اسٹیٹمنٹ عدالت میں دیا ہے،باہر اس کی تردید کردیں، چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ نے رٹ نمٹادی.

     پشاور ہائیکورٹ نے تاریخی فیصلہ دیا

    مجھے بلے کی آفر ہوئی میں نے انکار کر دیا

    بلے کے نشان کے بعد پی ٹی آئی کا نام و نشان بھی ختم ہوجائےگا ۔

     پی ٹی آئی کے ساتھ آج جو کچھ ہو رہا ہے وہ اسکا اپنا کیا دھرا ہے ،

    عمران خان نے تبدیلی کے نام پر عوام کو دھوکہ دیا

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

  • لاپتہ شہریوں کی بازیابی کے لئے  تصاویر سوشل میڈیا پر نشر کرنے کی ہدایت

    لاپتہ شہریوں کی بازیابی کے لئے تصاویر سوشل میڈیا پر نشر کرنے کی ہدایت

    سندھ ہائی کورٹ۔لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق درخواستوں پر سماعت ہوئی

    عدالت نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے کیا اقدامات ہوئے؟ تفتیشی افسر نے کہا کہ 21 جے آئی ٹیز اور 16 صوبائی ٹاسک فورس کے اجلاس ہو چکے ہیں ،لاپتہ افراد کے اہلخانہ نے عدالت میں کہا کہ محمد زبیر 2014 بغدادی سے لاپتا ہوا تھا اب تک کہیں سے اس کا سراغ نہیں ملا،2014 سے پولیس اسٹیشن اور عدالتوں کے چکر کاٹ رہے ہیں کہیں سے انصاف نہیں ملا،عدالت نے کہا کہ آپ لوگ پریشان نہ ہوں ہم آپ کو یقین دلاتے ہیں آپ کو انصاف ملے گا،

    ایک اور لاپتہ شخص کے اہلخانہ نے کہا کہ حسن دلاور 2015 لانڈھی سے لاپتا ہوا تھا اب تک کوئی پتہ نہیں کہاں ہے کس حال میں ہے،ثاقب آفریدی بھی 2015 سچل سے لاپتا ہوا تھا،عدالت نےا تفتیشی افسران پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ 22 ،22 جے آئی ٹیز کے باوجود بھی لاپتا شہریوں کا سراغ نہیں لگایا گیا ،

    سید نوید علی ساحل پولیس اسٹیشن سے ،ظفر اقبال سائٹ سپر ہائی وے سے اور اعزاز حسن ناظم آباد سے لاپتا ہوئے ہیں، عدالت نے تفتیشی افسران کو لاپتا شہریوں کی تلاش جاری رکھنے کی ہدایت کردی،عدالت نے لاپتا شہریوں کی بازیابی کے لئے ان کی تصاویر سوشل میڈیا پر نشر کرنے کی ہدایت کردی،عدالت نے تمام لاپتا شہریوں کی بازیابی کے لئے جدید ٹیکنالوجی اور ماڈرن ڈیواسسز کا استعمال کرنے کی ہدایت کردی،عدالت نے ایس پی انویسٹی گیشن سے آئندہ سماعت پر پیش رفت رپورٹ طلب کرلی،عدالت نے درخواستوں کی مزید سماعت 8 فروری تک ملتوی کردی

    جنسی طور پر ہراساں کرنے پر طالبہ نے دس سال بعد ٹیچر کو گرفتار کروا دیا

    غیر ملکی خاتون کے سامنے 21 سالہ نوجوان نے پینٹ اتاری اور……خاتون نے کیا قدم اٹھایا؟

    بیوی طلاق لینے عدالت پہنچ گئی، کہا شادی کو تین سال ہو گئے، شوہر نہیں کرتا یہ "کام”

    50 ہزار میں بچہ فروخت کرنے والی ماں گرفتار

    ایم بی اے کی طالبہ کو ہراساں کرنا ساتھی طالب علم کو مہنگا پڑ گیا

    تعلیمی ادارے میں ہوا شرمناک کام،68 طالبات کے اتروا دیئے گئے کپڑے

    خاتون پولیس اہلکار کے کپڑے بدلنے کی خفیہ ویڈیو بنانے پر 3 کیمرہ مینوں کے خلاف کاروائی

  • سنگین غداری کیس، پرویز مشرف کی اپیل غیر مؤثر، سزا ئے موت کا فیصلہ برقرار

    سنگین غداری کیس، پرویز مشرف کی اپیل غیر مؤثر، سزا ئے موت کا فیصلہ برقرار

    سپریم کورٹ،سابق صدر پرویز مشرف کی سزائے موت کیخلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی

    سابق صدر پرویز مشرف کی سزائے موت برقرار، سپریم کورٹ نے فیصلہ سُنا دیا، عدالت نے ورثاء کیطرف سے عدم پیروی پر سزا کیخلااف اپیل مسترد کردی۔سپریم کورٹ نے پرویز مشرف غداری کیس سننے والی خصوصی عدالت کو ختم کرنے کا فیصلہ بھی کالعدم قرار دیدیا،سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کو خصوصی عدالت سے ہونے والی سزا درست قرار دے دی

    سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ سپریم کورٹ میں پرویز مشرف کی اپیل پر کسی نے بھی نمائندگی نہیں کی ،وکیل پرویز مشرف نے کہا کہ پروہز مشرف کے لواحقین نے میرے پیغامات پر کوئی جواب نہیں دیا، سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کی اپیل عدم پیروی پر غیر موثر قرار دے دی ،فیصلے میں کہا کہ عدالت کے سامنے دو سوالات تھے،کیا مرحوم کے دنیا سے چلے جانے کے بعد اپیل سنی جا سکتی ہے،اگر سزائے موت برقرار رہتی ہے تو کیا مشرف کے قانونی ورثاء مرحوم کو ملنے والی مراعات کے حقدار ہیں، متعدد بار کوشش کے باوجود بھی مشرف کے ورثاء سے رابطہ نہیں ہو سکا،ہمارے پاس کوئی آپشن نہیں ہے سوائے اس کے کہ سزائے موت برقرار رکھیں،

    سزائے موت لاہور ہائی کورٹ کے جج مظاہر حسین نقوی نے ختم کی تھی ،پرویز مشرف 5 فروری 2023 کو وفات پاچکے ہیں

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں چار رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی، جسٹس منصور علی شاہ ،جسٹس امین الدین خان ،جسٹس اطہر من اللہ بنچ میں شامل تھے،وکیل حامد خان اور وکیل سلمان صفدر روسٹرم پر آ گئے،وکیل حامد خان نے کہا کہ پرویز مشرف نے سزا کے خلاف اپیل دائر کر رکھی ہے جو کرمنل اپیل ہے،جبکہ ہماری درخواست لاہور ہائیکورٹ کے سزا کالعدم کرنے کے فیصلے کیخلاف ہے جو آئینی معاملہ ہے، دونوں اپیلوں کو الگ الگ کر کے سنا جائے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ موجودہ کیس میں لاہور ہائیکورٹ کے دائرہ اختیار اور اپیل دو الگ معاملات ہیںپہلے پرویز مشرف کے وکیل سلمان صفدر کو سن لیتے ہیں،

    وفاقی حکومت نے پرویز مشرف کی سزا کے خلاف اپیل کی مخالفت کر دی ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان سے استفسار کیا کہ آپ پرویز مشرف کی اپیل کی مخالفت کر رہے ہیں یا حمایت؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ پرویز مشرف کی اپیل کی مخالفت کر رہے ہیں،

    وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ سابق صدر پرویز مشرف کے اہلخانہ سے کوئی ہدایات نہیں اور نہ ہی اہلخانہ کو کیس بارے علم ہے،نومبر سے ابھی تک 10 سے زائد مرتبہ رابطہ کیا ہے،کیس بارے حق میں یا خلاف کوئی ہدایات نہیں دی گئیں،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے براہ راست بھی انکو نوٹسز جاری کیے تھے، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کے اہلخانہ کو اخبار اشتہار کے زریعے نوٹس بھی کیا تھا، میں دو صورتوں میں عدالتی معاونت کر سکتا ہوں،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آپ صرف قانونی صورتحال پر ہی عدالتی معاونت کرسکتے ہیں،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ مفروضوں کی بنیاد پر فیصلے نہیں ہونے چاہیے، ورثا کے حق کیلئے کوئی دروازہ بند نہیں کرنا چاہتے،عدالت 561اے کا سہارا کیسے لے سکتی ہے؟ وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ اس عدالت کے اٹھائے گئے اقدام کو سراہتا ہوں، مشرف کے ورثا پاکستان میں مقیم نہیں ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپکے لاہور ہائی کورٹ بارے تحفظات کیا ہے؟وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ اس بارے آپکے چیمبر میں کچھ گزارشات ضرور کروں گا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم کسی کو چیمبر میں نہیں بلاتے، پرویز مشرف کے ورثاء کی عدم موجودگی میں تو ان کے وکیل کو نہیں سن سکتے،

    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آرٹیکل 12 کے تحت پرویز مشرف کے ساتھ ملوث تمام افراد کے خلاف عدالتی دروازے تو کھلے ہیں،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ ایمرجنسی کے نفاذ میں پرویز مشرف تنہا ملوث نہیں تھے،اس وقت کے وزیراعظم، وزیر قانون، پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ کے ججز بھی ملوث تھے،پرویز مشرف کو سنے بغیر خصوصی عدالت نے سزا دی، ایک شخص کو پورے ملک کے ساتھ ہوئے اقدام پر الگ کر کے سزا دی گئی،

    سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا،سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کیس کا فیصلہ سنانے کا عندیہ دے دیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم شائد آج ہی اس کیس کا فیصلہ سنا دیں، سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کیس میں پانچ منٹ کا وقفہ کردیا

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

    پرویز مشرف کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کے حوالہ سے کیس کی سماعت

    پرویز مشرف کی نااہلی کے خلاف دائر درخواست خارج

    عدالتی سوال ہے کہ ملزم کی وفات پر کیا اپیل غیر موثر نہیں ہوئی؟

  • خود کو قانون سے بالاتر ہونے کا تصور ختم ہونا چاہئے،اسلام آباد ہائیکورٹ

    خود کو قانون سے بالاتر ہونے کا تصور ختم ہونا چاہئے،اسلام آباد ہائیکورٹ

    اسلام آباد ہائیکورٹ: بلوچ طلباء کی جبری گمشدگیوں کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی

    اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل،درخواست گزار وکلاء ایمان مزاری، عطاء اللہ کنڈی اور ہادی چھٹہ عدالت پیش ہوئے،اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اب تک 68 افراد کو بازیاب کرایا گیا،بازیاب افراد کی لسٹ میڈم ایمان مزاری کے ساتھ شئیر کی گئی ہے، جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ آخری سماعت پر انہوں 28 افراد کی بازیابی کرنے کا کہا تھا،ایمان مزاری نے کہا کہ اب تک 56 افراد کو بازیاب کرلیا گیا جبکہ 12 تاحال لاپتہ ہیں،عدالت نے وزارت داخلہ کو متاثرہ لوگوں کے لواحقین سے ملاقات کا کہا تھا،وزارت داخلہ کا متاثرہ افراد کے خاندانوں کے ساتھ ملاقات افسوناک رہی،اٹارنی جنرل آفس یا کسی اور آفس سے اب تک کوئی خاص پراگریس نہیں ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہمارے مطابق 15 تاحال لاپتہ ہیں جبکہ ان کے مطابق 12 لاپتہ ہیں،ایمان مزاری نے کہا کہ درخواست گزار فیروز بلوچ کے حوالے سے کہا گیا کہ انکو ریلیز کردیا گیا،آج صبح فیروز بلوچ کے فیملی سے بات ہوئی وہ تاحال لاپتہ ہے،عدالت نے استفسار کیا کہ اٹارنی جنرل صاحب یہ بتائیں کہ ان لوگوں کو ریلیز کردیا یا گھر پہنچایا؟ وفاقی حکومت کا undertaking دینے پر عدالت نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ وفاقی حکومت ہی جبری گمشدگیوں میں ملوث ہیں؟کیا ہم بھی وزیراعظم آفس، وزارت داخلہ یا وزارت دفاع سے بیان حلفی لیں؟ وزیراعظم آفس، وزارت داخلہ و دیگر بڑے دفاتر یہاں بیان حلفی دیں کہ آئندہ کوئی لاپتہ نہیں ہوگا،ریاست کے اداروں کو قانون کی پاسداری پر یقین کرنا چاہیے،ریاستی ادارے عدالتوں پر یقین نہیں کرتے اسی لیے لوگوں کو اٹھایا جارہا ہے،ہمارے سامنے پولیس کا ادارہ ریاست کا فرنٹ فیس ہے،

    ایمان مزاری نے سابق نگران وزیر داخلہ سرفراز بگٹی کے لاپتہ افراد کے لواحقین سے ناروا سلوک کی شکایت کی،اور کہا کہ نگران وزیر داخلہ نے خواتین کو کہا اگر آپ کے پیارے کو مارا گیا تو آپ کو بتا دیں گے،

    دوران سماعت جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اور اسکے اداروں کو عدالتوں پر اعتماد کرنا ہو گا،ریاست اور اسکے ادارے رول آف لاء کو نہیں مانتے اس لیے جبری گمشدگیاں ہوتی ہیں،پولیس ریاست کا فرنٹ فیس ہے، دوسرے ادارے فرنٹ فیس نہیں ہیں،کیا مشکل ہے کہ پولیس ایک ضمنی لکھ کر انٹیلی جنس کے افسروں کو ملزم بنا دے گی،وقت آئے گا کہ انٹیلی جنس ایجنسیوں کے افسران پراسیکیوٹ ہونگے، اگر تھانے پر چھاپہ ماریں اور کوئی بندہ بازیاب ہو تو پولیس والے کی تو نوکری چلی جاتی ہے،دوسری طرف انٹیلی جنس ایجنسیوں سے متعلق صورتحال بالکل مختلف ہے،میرے سامنے کوئی مسنگ بلوچ بازیابی کے بعد نہیں آیا جس سے میں سوال کر سکوں؟جو لوگ بازیاب ہوئے پتہ نہیں وہ ٹھیک ہے بھی یا نہیں، انکی صحت کی صورتحال کیا ہوگی،مسنگ پرسنز کا تصور صرف ہمارے جیسے ملکوں میں ہی ملتا ہے باقی ملکوں میں نہیں، آج آپ نہ کریں لیکن ایک وقت میں اعلی ترین عہدیدار بھی پراسیکیوٹ ہونگے،دہشتگردوں کا ٹرائل بھی انسداد دہشتگردی کی عدالتوں میں ہوتا ہے،کیا امر مانع ہے کہ بلوچ شدت پسندوں کا ٹرائل بھی انہی عدالتوں میں ہو، بلوچستان میں اپنی انسداد دہشتگردی عدالتیں فعال کریں ٹرائل ہو سکتا ہے،سسٹم پر اعتماد کریں، کیا امر مانع ہے کہ دہشتگرد کا ٹرائل نہ ہو سکے اور وہ بری ہو جائے،یہ درخواست گزار بھی کبھی نہیں چاہیں گے کہ دہشتگردوں کو پروٹیکٹ کریں،ریاست کا سپاہی مرتا ہے تو آپ ان کے لیے شہدا پیکج کا اعلان کرتے ہیں،جو لوگ ریاست کے لیے قربانی دیتے ہیں وہ پولیس ہو،فوج ہو یا کوئی بھی شہری ہو،حق سب کا ہے،مغرب میں تو بڑے سےبڑے قاتل کو بھی ضمانت دیتے ہیں یہاں ہم نہیں کرتے،تین تین سال تک ہم ٹرائل مکمل نہیں کرتے،جن لوگوں کا لسٹ آپ نے مہیا کیا، ان میں کتنے لوگ ہیں جن کے خلاف کریمنل کیسسز ہیں؟،اس سائڈ کو کوئی اعتراض نہیں کہ آپ کس کے خلاف مقدمہ درج کریں یا کسی عدالت پیش کریں،مسلہ یہ ہے کہ جو لوگ لاپتہ ہو جاتے ہیں ان کے خاندان والے انکو پھر کبھی دیکھتے ہی نہیں،

    وکیل ایمان مزاری نے کہا کہ فیملیز کے مطابق سی ٹی ڈی اٹھاتے ہیں اور بعد میں مقدمہ درج ہوتا ہے،سی ٹی ڈی نے جن لوگوں کو اٹھایا اور عدالتوں میں پیش کیا وہ بری ہوگئے، عدالت نے کہا کہ پاکستان جیسا ملک اس قسم کے معاملات کو برداشت نہیں کرسکتا،بلوچستان سے لوگ اسلام آباد آئے ہیں اپنا پرامن احتجاج ریکارڈ کرنے، نیشنل پریس کلب کے باہر اگر یہ بیٹھے ہیں تو انکو سہولیات مہیا کرنا ہوگی،ایمان مزاری نے کہا کہ ڈیتھ اسکواڈ کے زریعے مظاہرین کو دھمکایا جارہا ہے، جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ یہ ڈیتھ اسکواڈ کیا ہے ؟ ایمان مزاری نے کہا کہ یہ حکومتی سرپرستی میں ایک سکواڈ ہے جو لوگوں کو مارتے ہیں،اٹارنی جنرل نے ایمان مزاری سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ڈیتھ اسکواڈ کی جانب سے دھمکیوں پر آپ درخواست دیں، جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ یہ ڈیتھ اسکواڈ نام سے ہی سمجھ آتا ہے،ان بچے بچیوں کا کوئی قصور نہیں، یہ پاکستانی ہیں،ہم نے ان کو دیکھنا ہیں کیونکہ ہمارے سامنے کوئی لاپتہ شخص کھڑا نہیں،ان نو سالوں میں میرے سامنے ایک بازیاب شخص آیا تھا جس نے کہا کہ سی ٹی ڈی نے مجھے اٹھایا تھا،ان معاملات میں وزیراعظم، وزارت داخلہ، وزارت دفاع ہی جوابدہ ہے،

    جسٹس محسن اختر کیانی نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا سپریم کورٹ میں آپکی یہ بیان حلفی جمع کرائی گئی ہے؟اٹارنی جنرل نے کہا کہ نہیں بیانی حلفی ابھی جمع نہیں ہوئی مگر جلد جمع کریں گے،عدالت نے کہا کہ وزارتوں کے لوگ موجود ہیں یہ چیزیں پاکستان کی بہت بڑی بدنامی بنی ہے، ہم معاشی مسائل کا شکار ہیں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی بھی کررہے ہیں، جن 12 لاپتہ افراد کی لسٹ اٹارنی جنرل کو دیں اور آپ نے دیکھنا ہے،

    عدالت نے سمی دین بلوچ سے استفسار کیا کہ آپ نے کچھ کہنا ہے؟ سمی دین بلوچ نے عدالت میں کہا کہ عدالتی حکم پر وزیراعظم نے فواد حسن فواد کی سربراہی میں کمیٹی بنائی تھی،کمیشن نے بتایا کہ جو لوگ دس سال سے زائد عرصہ سے لاپتہ ہیں انکا کچھ نہیں بتاسکتے،عدالت نے کہا کہ ایک بات پر یقین کریں کہ جو لوگ دس سال ہو یا پندرہ سال سے انکی معلومات حکومت فراہم کریگی،اگر کوئی زندہ ہے یا مرے ہیں حکومت اپکو معلومات فراہم کریں گی، سمی دین بلوچ نے کہا کہ ہمارے والدین مرتے وقت بھی اپنے لاپتہ بچوں کو یاد کرتے ہیں،ہم اس چیز سے نکلنا چاہتے ہیں،ابھی ایک شخص نو سال بعد بازیاب ہوا مگر ان کے گھر والوں سے کہا گیا کہ کسی سے بات نہیں کرنی،ہمیں وفاقی وزرا نے بھی کہا تھا کہ اگر آپ کے لاپتہ افراد سے متعلق بتائیں گے تو آپ شور نہیں کریں گے، عدالت نے کہا کہ پہلے لاپتہ افراد کو بازیاب ہونے دیں پھر جس ادارے نے آپ سے بیان حلفی لی ہے اسی کا دیکھا جائے گا، عدالت نے تھانہ کوہسار کے ایس ایچ او کو دونوں مظاہرین کے سیکورٹی انتظامات فراہمی کی ہدایت کر دی

    دوران سماعت عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ خود کو قانون سے بالاتر ہونے کا تصور ختم ہونا چاہئے، وزیراعظم، داخلہ اور دفاع کے سیکرٹریز کو بیان حلفی دینا ہو گا کہ جبری گمشدگی کی ہے ، نہ آئندہ ہو گی،جو افراد لاپتہ ہیں چاہے دس سال سے زائد ہوگیا انہیں بتانا پڑے گا، وہ افراد زندہ ہیں یا مر گئے بتانا پڑے گا

    بلوچ خاتون نے عدالت میں کہا کہ آپ ہمیں امید دے دیں ورنہ شاید ہم کبھی مڑ کر واپس نہ آئیں، جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ جن پر الزام ہے انہی سے ہم نے کہنا ہے ،بلوچ خاتون نے کہا کہ ہمیں کہا جاتا ہے کہ آپ کے پیاروں سے متعلق بتائیں گے تو آپ شور نہیں مچائیں گے،

    عدالت نے کیس کی سماعت 13 فروری تک کے لئے ملتوی کردی

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے بلوچ مظاہرین کی گرفتار ی کا کیس نمٹا دیا

    بلوچ لانگ مارچ،300 افراد گرفتار،مذاکراتی کمیٹی قائم،آئی جی سے رپورٹ طلب

    ایک ماہ میں بلوچ طلباء کی ہراسگی روکنے سے متعلق کمیشن رپورٹ پیش کرے ،عدالت

     دو ہفتوں میں بلوچ طلبا کو ہراساں کرنے سے روکنے کیلئے کئے گئے اقدامات کی رپورٹ طلب

    کسی کی اتنی ہمت کیسے ہوگئی کہ وہ پولیس کی وردیوں میں آکر بندہ اٹھا لے،اسلام آباد ہائیکورٹ

    کیا آپ شہریوں کو لاپتہ کرنے والوں کی سہولت کاری کر رہے ہیں؟ قاضی فائز عیسیٰ برہم

    لوگوں کو لاپتہ کرنے کے لئے وفاقی حکومت کی کوئی پالیسی تھی؟ عدالت کا استفسار

    لاپتہ افراد کیس،وفاق اور وزارت دفاع نے تحریری جواب کے لیے مہلت مانگ لی

    عدالت امید کرتی تھی کہ ان کیسز کے بعد وفاقی حکومت ہِل جائے گی،اسلام آباد ہائیکورٹ

     ”بلوچ یکجہتی کونسل“ کےاحتجاجی مظاہرے کی حقیقت

  • توشہ خانہ کیس، عمران ،بشریٰ پر آج پھر فرد جرم عائد نہ ہو سکی

    توشہ خانہ کیس، عمران ،بشریٰ پر آج پھر فرد جرم عائد نہ ہو سکی

    توشہ خانہ اور 190ملین پاونڈ ریفرنسسز کی سماعت پیر تک ملتوی کر دی گئی

    توشہ خانہ ریفرنس میں ملزمان پر فرد جرم عائد نہ ہو سکی ،190ملین پاونڈ ریفرنس میں ملزمان کو نقول کی تقسیم بھی 8جنوری تک موخر کر دی گئی،بشری بی بی اور عمران خان کی درخواست ضمانتوں پر سماعت بھی 8جنوری تک ملتوی کر دی گئی،عمران خان کی جانب سے بیٹوں سے ٹیلیفونک گفتگو کی استدعا،عدالت نے منظور کرلی ،سماعت کے دوران چیئرمین پی ٹی آئی کی بانی چیئرمین سے ملاقات کی درخواست بھی منظور کرلی گئیں

    ملک ریاض کے وارنٹ گرفتاری معطل کرنے کی درخواست خارج
    190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل میں ملک ریاض کی جانب سے انکے وکیل فاروق ایچ نائیک پیش ہوئے۔فاروق ایچ نائیک نے عدالت میں تین درخواستیں دائر کیں۔ایک درخواست وڈیو لنک کے ذریعے پیشی دوسری درخواست حاضری سے استثنیٰ کی تھی۔تیسری درخواست ملک ریاض کے وارنٹ گرفتاری معطل کرنے کی تھی۔عدالت نے ملک ریاض کے وارنٹ گرفتاری معطل کرنے کی درخواست خارج کردی۔وڈیو لنک اور حاضری سے استثنیٰ کی درخواستیں فاروق ایچ نائیک نے واپس لے لیں،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب تک ملزم عدالت میں خود پیش نہیں ہوتا استثنیٰ نہیں دے سکتے،

    ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب نے توشہ خانہ کیس میں فرد جرم عائد کرنے پر زور دیا۔ڈپٹی پراسیکوٹر جنرل نیب سردار مظفر عباسی نے کہا کہ توشہ خانہ کیس میں ریفرنس کی نقول کی فراہمی کو 7 روز مکمل ہو چکے ۔ لطیف کھوسہ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی ضمانت کی درخواستوں کو پہلے سنا جائے ۔ عدالت نے فرد جرم عائد کرنے اور درخواست ضمانت پر سماعت کیلئے 8 جنوری کی تاریخ مقرر کر دی

    توشہ خانہ کیس، سپریم کورٹ میں عمران خان کی اپیل پر اعتراض عائد

    واضح رہے کہ احتساب عدالت نے عمران خان کی درخواست ضمانت خارج کی تھی جسکے بعد نیب نے عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں گرفتار کیا تھا،عمران خان اڈیالہ جیل میں ہیں، سائفرکیس میں بھی عمران خان پر فرد جرم عائد ہو چکی ہے، القادر ٹرسٹ کیس میں بھی عمران خان جوڈیشیل ریمانڈ پر ہیں

     کاغذات میں ظاہر نہ کرنیوالے سیاستدانوں کیخلاف درخواست پر عدالت نے فیصلہ سنا دیا

    سابق چیئرمین اور وزیراعظم کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس کے نکات سامنے آگئے۔

    عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس دائر

  • اسلام آباد ہائیکورٹ،ہاکی فیڈریشن کا نیا صدر مقرر کرنے پر نگران وزیراعظم کو نوٹس جاری

    اسلام آباد ہائیکورٹ،ہاکی فیڈریشن کا نیا صدر مقرر کرنے پر نگران وزیراعظم کو نوٹس جاری

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے پاکستان ہاکی فیڈریشن کا نیا صدر مقرر کرنے پر نگران وزیراعظم کو نوٹس جاری کر دیا، عدالت نے آئندہ ہفتے تک جواب طلب کرلیا

    وزیراعظم کو پاکستان ہاکی فیڈریشن کے پیٹرن انچیف کے طور پر نوٹس جاری کیا گیا، صدر بریگیڈیئر ریٹائرڈ محمد خالد سجاد کھوکھر کی درخواست پر نوٹسز جاری کیے گئے،پٹیشنر نے اپنی جگہ طارق منصور بگٹی کو پاکستان ہاکی فیڈریشن کا ایڈہاک بنیاد پر صدر بنانے کا نوٹی فکیشن چیلنج کیا تھا،کیس کی سماعت کے تحریری حکمنامہ میں لکھا گیا کہ پٹیشنر کے وکیل کے مطابق وزیراعظم نے 21 دسمبر 2023 کو طارق بگٹی کو ہاکی فیڈریشن کا صدر مقرر کیا، وکیل کے مطابق پٹیشنر 18 اگست 2022 کو چار سال کی مدت کے لیے ہاکی فیڈریشن کے صدر منتخب ہوئے،پٹیشنر کے مطابق پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر کی چار سالہ مدت مکمل ہونے پر آئندہ الیکشن 2026 میں ہوں گے، پٹیشنر کے وکیل نے کہا ہاکی فیڈریشن کے پیٹرن انچیف کے پاس صدر کو ہٹا کر کسی اور کو عہدہ دینے کا اختیار نہیں،

    صدر پاکستان ہاکی فیڈریشن میرطارق حسین بگٹی نے پانچ رکنی کمیٹی بنادی۔

    پاکستان واپڈا ٹیم ماڑی پیٹرولیم آزادی کپ ہاکی ٹورنامنٹ کی چیمپین بن گئی

    حیدر حسین کی جگہ رانا مجاہد ہاکی فیڈریشن کے سیکرٹری منتخب

  • ایچ ای سی نے 18تعلیمی اداروں کو نئے داخلے کرنے سے روک دیا

    ایچ ای سی نے 18تعلیمی اداروں کو نئے داخلے کرنے سے روک دیا

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 18میڈیکل کے اعلی تعلیمی اداروں کے غیر قانونی طور ہر کام کرنے کا انکشاف ہوا ہے، ایچ ای سی نے 18تعلیمی اداروں کو نئے داخلے کرنے سے روک دیا مگر معطلی کے آڈرز پبلک کرنے سے انکار کردی،

    پاکستان انفارمیشن کمیشن نے ای ای سی کو 18میڈیکل کے شعبہ میں اعلیٰ تعلیم دینے والے اداروں کے معطلی آڈرز شائع کرنے کا حکم دے دیا۔اگر ایچ ای سی نے معطلی کے احکامات دیئے ہیں تو ان کو پبلک کیوں نہیں کیا جارہا،معطلی کے احکامات پبلک کریں تاکہ شفافیت آئے ۔غیر قانونی طور پر کام کرنے والے 18مختلف یونیورسٹیوں سے الحاق شدہ میڈیکل کالج ہیں ۔پاکستان انفارمیشن کمیشن (پی آئی سی) نے ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کو حکم دیا ہے کہ وہ اسلام آباد میں بغیر این او سی کے کام کرنے والی 18 شعبہ صحت کے تعلیمی اداروں کی معطلی کے احکامات کو عوامی طور پر شائع کرے، یہ معلومات کے حق کو برقرار رکھنے اور تعلیمی شعبے میں شفافیت کو فروغ دینے کے لیے ضروری ہے ۔

    جمعرات کو پاکستان انفارمیشن کمیشن میں شہری کی درخواست پر سماعت ہوئی شہری نے این او سی کے بغیر کام کرنے والے اداروں اور اس حوالے سے ایچ ای سی کی طرف سے معطلی کے آڈر کی کاپی دینے کی درخواست کی سماعت کی ۔یہ فیصلہ شہری انور الدین کی جانب سے دائر کی گئی اپیل کے جواب میں سامنے آیا ہے، جس نے متاثرہ اداروں میں نئے طلباء کے داخلے پر پابندی کے معطلی کے احکامات کی کاپیاں مانگی تھیں۔

    ان اداروں میں بشیر انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ سائنسز، کام ویو انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی، ڈیکسن انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ سائنسز، انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ اینڈ مینجمنٹ سائنسز، اسلام آباد میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج، ایچ بی ایس میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج، نووا انسٹی ٹیوٹ آف ماڈرن اسٹڈیز، پی اے سی ای اور کے ای ڈی جی ای انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ سائنسز، پی ایچ آر انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ سائنسز، راول انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ سائنسز، یسرا انسٹی ٹیوٹ آف ری ہیبلیٹیشن سائنسز، پرائم انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ سائنسز، این سی ایس انسٹی ٹیوٹ آف سائنسز، امان میڈیکل انسٹی ٹیوٹ، کے ایم یو انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ سائنسز، مارگلہ انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ سائنسز۔ ، میڈکس انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ سائنسز، اور ہیلتھ ایڈ کالج آف نرسنگ اینڈ ہیلتھ سائنسز شامل ہیں جن کے بارے میں ایچ ای سی نے کہاکہ ہے کہ این او سی نہ ہونے کی وجہ سے ان اداروں میں داخلوں کو روکنے کے آڈرز کئے ہیں ۔

    ابتدائی طور پر، ایچ ای سی نے معلومات دینے سے کرنے سے انکار کر دیا اور یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ اس سے ان کے موقف پر منفی اثر پڑے گا اور اداروں کی رازداری کی خلاف ورزی ہوگی۔ تاہم، پی آئی سی کی سماعت کے دوران، ایچ ای سی کے نمائندے، حماد بن سیف نے اعتراف کیا کہ معطلی کے احکامات جاری پالیسی کی وجہ سے جاری کیے گئے تھے جس میں داخلوں کو عارضی طور پر روکنا ضروری تھا۔ پی آئی سی نے ایچ ای سی کے دلائل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’’این او سی کے بغیر کام کرنے والے اداروں کو معطل کرنے کا حکم ایچ ای سی کا حکم ہے اس لیے یہ تھرڈ پارٹی کی معلومات نہیں ہے جیسا کہ ایچ ای سی نے استدعا کی ہے۔‘‘ کمیشن نے ایچ ای سی کو 10 کام کے دنوں میں معطلی کے احکامات کی کاپیاں اپیل کنندہ کو فراہم کرنے کی ہدایت کی، عدم تعمیل پر جرمانے کی کارروائی کا انتباہ دیا۔

    تاحیات نااہلی کے معاملے کی سماعت کیلئے سات رکنی لارجر بینچ تشکیل

    نااہلی کی درخواست پر فیصل واوڈا نے ایسا جواب جمع کروایا کہ درخواست دہندہ پریشان ہو گیا

    الیکشن کمیشن کے نااہلی کے اختیارات،فیصل واوڈا نے تحریری معروضات جمع کروا دیں

    مزید برآں، پی آئی سی نے اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں مناسب نظم و نسق کو یقینی بنانے کے لیے نئی الحاق کی پالیسی کو جلد از جلد حتمی شکل دینے کی اہمیت پر زور دیا۔ پی آئی سی کا یہ فیصلہ ایچ ای سی کے اندر شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنانے اور معلومات کے عوامی حق کو فروغ دینے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ معطلی کے احکامات کا انکشاف اداروں کی جانب سے قواعد و ضوابط کی عدم تعمیل پر روشنی ڈالے گا اور طلباء کو غیر منظور شدہ پروگراموں میں داخلہ لینے سے ممکنہ طور پر بچائے گا۔(محمداویس).

  • وائٹ کالر کرائم سے ملک کو بہت نقصان پہنچتا ہے،چیف جسٹس

    وائٹ کالر کرائم سے ملک کو بہت نقصان پہنچتا ہے،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ، ملزم عمار رفیق کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتےہوئے کہا کہ وائٹ کالر کرائم کوئی عام جرم نہیں ہے، وائٹ کالر کرائم سے ملک کو بہت نقصان پہنچتا ہے،جعلی انوائسز پر اتنا بڑا کلیم کیا گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کوئی زبردستی کسی کے اکاؤنٹ میں کیسے پیسے گھسا سکتا ہے؟ یہ عام جرم نہیں، ملزم کو ضمانت کس بنیاد پر دیں؟جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ اربوں کا فراڈ ہے،

    وکیل درخواست گزار نے مؤقف اپنایا کہ ملزم نے کچھ نہیں کیا سب ٹیکس کنسلٹنٹ کا کام ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کنسلٹنٹ نے بھی ہیر پھیر کر کے فائدہ ملزم کو ہی پہنچایا،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ میں اپنی درخواست واپس لیتا ہوں، سپریم کورٹ نے درخواست واپس لینے کی بنیاد پر خارج کردی

    ملزم عمار رفیق نے ضمانت بعد از گرفتاری کے لیے سپریم کورٹ رجوع کیا تھا جو اربوں روپے کے ٹیکس فراڈ کے جرم میں گرفتار ہے

    جمعیت علماء اسلام کی کرپشن اور دردناک کہانی، ثبوت آ گئے، مبشر لقمان نے پول کھول دیا

    پشاور فلائنگ کلب کے جہاز کی فروخت،مبشر لقمان کا مؤقف بھی آ گیا

    قاضی کا کھڑاک،الیکشن 8 فروری کو،عدت میں بدعت،جنرل فیض حاضر ہو

    عمران اور بشریٰ کی آخری ملاقات، تیاریاں ہو گئیں

    بالآخر عمران ریاض بول ہی پڑے، کیا کہا ؟ پی ٹی آئی کا جلسہ، عمران خان کا خطاب تیار

    کاکڑ سے ملاقات، غزہ اور مجبوریاں، انسانیت شرما گئی

    نور مقدم کو بے نور کرنے والا آزادی کی تلاش میں،انصاف کی خریدوفروخت،مبشر لقمان ڈٹ گئے

    میچ فکسنگ، خطرناک مافیا ، مبشر لقمان کی جان کو خطرہ

    اسرائیل پر حملہ کی اصل کہانی مبشر لقمان کی زبانی

    مبش لقمان کا کہنا تھا کہ ضیا الحق کی مدد کرنے والوں میں نواز شریف سب سے آگے تھے

    پاکستان میں ہزاروں بچوں کو مارنے کی تیاری،چیف جسٹس،خاموش قاتلوں کا حساب لیں،

    بلاول اور آصف زدراری کی شدید لڑائی،نواز کا تیر نشانے پر،الیکشن اکتوبر میں

    وزیراعظم سمیت کروڑوں کا ڈیٹا لیک،سیاست کا 12واں کھلاڑی کون

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی