Baaghi TV

Tag: عدالت

  • اسلام آباد ہائیکورٹ،نومبر 2022ء کا ایم ڈی کیٹ رزلٹ دو سال کے لیے درست قرار

    اسلام آباد ہائیکورٹ،نومبر 2022ء کا ایم ڈی کیٹ رزلٹ دو سال کے لیے درست قرار

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے نومبر 2022ء کا ایم ڈی کیٹ رزلٹ دو سال کے لیے درست قرار دے دیا

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے فیصلہ جاری کر دیا، درخواست گزار کی جانب سے خلیق الرحمٰن سیفی ایڈووکیٹ نے کیس کی پیروی کی ،عدالت نے تحریری فیصلے میں کہا کہ نومبر 2022ء کا ایم ڈی کیٹ رزلٹ نومبر 2024ء تک قابل قبول ہے پٹیشنر لائبہ رؤف نے نومبر 2022ء میں ایم ڈی کیٹ پاس کیا جب ایم ڈی کیٹ پٹیشنر نے پاس کیا اس وقت قانون کے مطابق رزلٹ 2 سال کے لیے موزوں تھا، پٹیشنر نے پی ایم ڈی سی کے 14 جولائی 2023ء کا پبلک نوٹس چیلنج کیا پی ایم ڈی سی نے نوٹس میں کہا تھا 2022ء کے پاس کردہ ایم ڈی کیٹ پر 2023ء میں داخلہ نہیں ملے گا، 2021ء کی ریگولیشنز کے مطابق نومبر 2022ء کے ایم ڈی کیٹ نتائج 2 سال کے لیے موزوں ہیں، بعد میں کیے جانے والے ایڈمنسٹریٹو فیصلے سے پٹیشنر سے یہ حق واپس نہیں لیا جا سکتا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلے میں کہا کہ پٹیشنر کا ایم ڈی کیٹ رزلٹ نومبر 2022ء سے نومبر 2024ء تک موزوں ہو گا، پٹیشنرکا کیس میں جو خرچ آیا وہ بھی پی ایم ڈی سی ادا کرے گی.

    لطیف کھوسہ، چیئرمین سینیٹ بھی لڑیں گے الیکشن، کاغذات نامزدگی جمع کروانے کا سلسلہ جاری

    عام انتخابات،سیاسی رہنمامیدان میں آ گئے،مولانا،نواز،بلاول،شہباز کہاں سے لڑینگے الیکشن؟

     الیکشن کمیشن کو تمام شکایات پر فوری ایکشن لیکر حل کرنے کا حکم

    کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے وقت میں 2 دن کا اضافہ 

    ن لیگ کے محسن رانجھا نے پی ٹی آئی والوں پر پرچہ کٹوا دیا .

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

  • حسان نیازی کی الیکشن لڑنے کی درخواست پر سماعت ملتوی

    حسان نیازی کی الیکشن لڑنے کی درخواست پر سماعت ملتوی

    لاہور ہائیکورٹ: تحریک انصاف کے رہنما حسان نیازی کا عام انتخابات میں حصہ لینے کا معاملہ ،حسان نیازی کی والدہ کی کاغذات نامزدگی پر دستخط کی اجازت کے لیے درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے درخواست پر سماعت تھوڑی دیر تک ملتوی کردی،عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل نصر احمد کو پیش ہونے کی ہدایت کر دی ، عدالت نے دوران سماعت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فیس دے کر کوئی بھی کاغذات نامزدگی لے سکتا ہے، عدالت نے سرکاری وکلاء سے استفسار کیا کہ اگر کسی امیدوار کا ملٹری کورٹ میں ٹرائل چل رہا ہے تو قانون کیا کہتا ہے ؟ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ الیکشن لڑنا ہر شہری کا بنیادی حق ہے، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ فوجی عدالت ٹرائل کیس کے ملزم کو وفاقی حکومت ہی الیکشن لڑنے کی اجازت دے سکتی ہے ،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ سپریم کورٹ نے ملٹری ٹرائل جاری رکھنے کی اجازت دی لیکن حتمی فیصلہ سے روکا ہے ،جسٹس علی باقر نجفی نے حسان نیازی کی والدہ نورین نیازی کی درخواست پر سماعت کی

    درخواست میں وفاقی و ہنجاب حکومت اور کمانڈنگ افیسر کو فریق بنایا گیا ہے، درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن نے انتخابی شیڈول کا اعلان کر دیا ہے۔حسان نیازی نہ نا اہل ہیں یہ سزا یافتہ ہیں۔حسان نیازی اس وقت ملٹری کسٹڈی میں ہیں۔ لاہور ہائیکورٹ حسان نیازی کو کاغزات نامزدگی جمع کرانے کا پراسس مکمل کرنے کی اجازت دے۔

    حسان نیازی کو ایبٹ آباد سے گرفتار کیا گیا تھا، نو مئی کے واقعہ کے بعد حسان نیازی روپوش ہو گئے تھے، انہیں دوست کے گھر سے پولیس نے گرفتار کیا تھا،حسان نیازی کے والد حفیظ اللہ نیازی، تحریک انصاف کے خلاف ہیں،انہوں نے ٹویٹر پر تصدیق کی کہ حسان نیازی کو گرفتار کر لیا گیا ہے،

    واضح رہے کہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد تحریک انصاف کے شرپسندوں نے ملک بھر میں جلاؤ گھیراؤ کیا تھا، لاہور میں جناح ہاؤس سمیت دیگر عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا وہیں ن لیگ کے دفتر کو بھی آگ لگائی گئی تھی، شرپسند عناصر کے‌ خلاف کاروائیاں جاری ہیں، کئی افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے، کئی روپوش ہیں، تحریک انصاف کے رہنما پارٹی چھوڑ رہے ہیں تو دوسری جانب کارکنان اظہار لاتعلقی کر رہے ہیں

    حسان خان نیازی کو 18 اگست کو عدالت پیش کرنے کا حکم

    پائلٹس کے لائسنس سے متعلق وفاق کے بیان کے مقاصد کی عدالتی تحقیقات ہونی چاہیے، رضا ربانی

    کراچی طیارہ حادثہ کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش، مبشر لقمان کی باتیں 100 فیصد سچ ثابت

    ایئر انڈیا: کرو ممبرزکیلیے نئی گائیڈ لائن ’لپ اسٹک‘ ’ناخن پالش‘ خواتین کے لیے اہم ہدایات

  • سموگ تدارک کیس،ٹیکنالوجی میں انڈیا بہت آگے ہے،لاہور ہائیکورٹ

    سموگ تدارک کیس،ٹیکنالوجی میں انڈیا بہت آگے ہے،لاہور ہائیکورٹ

    لاہور ہائیکورٹ ، سموگ اور ماحولیاتی آلودگی کے تدارک سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    عدالت نے کرسمس پر شاپنگ سینٹرز کے لئے جمعہ، ہفتہ اور اتوار کو رات بارہ بجے تک اجازت دیدی ،عدالت نے رائس ملز کو ڈی سیل کرنے کا حکم دیدیا،عدالت نے بند روڈ سے ملحق سروس کھولنے کا حکم دیدیا،عدالت نے سانس ایپلیکیشن پی ڈی ایم اے کے حوالے کرنے کا حکم دیدیا،عدالت نے پی آئی ٹی بی کو پی ڈی ایم اے کی معاونت کی ہدایت کر دی،

    عدالت نے کنٹونمنٹ بورڈ کا واسا کے ساتھ نالوں کی صفائی میں تعاون نہ کرنے پر اظہار افسوس کیا،عدالت نے آئندہ سماعت پر متعلقہ حکام سے احکامات پر عملدرآمد رپورٹس طلب کرلیں،جسٹس شاہد کریم نے سموگ تدارک کے متعلق کیس کی سماعت کی، عدالت نے کہا کہ تمام پراجیکٹس کی تکمیل تاریخ 22 دسمبر ہے ،ٹیپا کے روڈ ماڈلنگ پروگرام کا کیا بنا؟سموگ سیزن کے بعد اس پر کام شروع کریں،ایل ڈی اے پراجیکٹس کیلئے باہر سے کنسلٹنٹ لئے جائیں تو بہتر ہے ،گاڑیوں اور ٹیکنالوجی کے معاملے میں انڈیا اور دوسرے ممالک بہت آگے ہیں،انجینئرنگ یونیورسٹی اور لمز یونیورسٹی کے طلباء کو ٹیکنالوجی کے استعمال کیلیے شامل کیا جاسکتا ہے،روف ٹاپ گارڈننگ پر بھی کام کرنے کی ضرورت ہے.

    سائیکل کرائے پر دینے کے لیے مختلف پوائنٹ بنانے کے لیے اسیکم بنائی جائے

    آلودگی پھیلانے والی فیکٹروں کو سیل کرنے کا حکم

     ہفتے میں 2روز گھر سے کام کرنے کی پالیسی پر عمل کرائیں

    گھروں میں گاڑیاں دھونے والوں کے خلاف بھی کارروائی یقینی بنائی جائے

  • بلوچ لانگ مارچ،آدھے گھنٹے میں آئی جی اسلام آباد عدالت طلب

    بلوچ لانگ مارچ،آدھے گھنٹے میں آئی جی اسلام آباد عدالت طلب

    اسلام آباد ہائیکورٹ ،بلوچ مسنگ پرسنز کے لئے لانگ مارچ نکالنے والے مظاہرین کی گرفتاری کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے آدھے گھنٹے میں آئی جی اسلام آباد کو طلب کر لیا ، پولیس کی جانب سے جونئیر افسر پیش ہونے پر عدالت نے اظہار برہمی کیا،وکیل درخواست گزار نے عدالت میں کہا کہ ایس ایس پی نے ہمیں کہا ہمیں وزیراعظم کی ہدایت ہے انکو واپس بلوچستان بھیجیں پولیس نے زبردستی تمام خواتین کو بسوں میں سوار کروا دیااس دوران آئی جی اسلام آباد تھانے پہنچے اور انہوں نے بھی کہا کسی طرح انکو یہاں سے بھیجیں، کچھ اسلام آباد میں زیرِ تعلیم طلبہ کو بھی زبردستی بسوں میں بٹھا دیا گیا، بعد ازاں اسلام آباد کی طالبات کو رہا کر دیا گیا، سارا معاملہ دیکھ کر ڈرائیورز نے بسیں چلانے سے انکار کر دیا، اس دوران آئی جی اسلام آباد تھانے پہنچے اور کہا کہ کسی طرح ان کو یہاں سے بھیجیں، اس کے بعد پولیس نے تھانے کے دروازے بند کر دیے، صبح 5 بجے پولیس نے بیان دیا کہ انہیں بحفاظت ان کے مقام پر پہنچا دیا ہے،

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ پولیس کی طرف سے کون پیش ہوا ہے؟پولیس انسپکٹر اسلام آباد ہائی کورٹ کے سامنے پیش ہوئے تو عدالت کی جانب سے پوچھا گیا کہ پھر اب آئی جی کو بلوائیں یا سیکریٹری داخلہ کو بلوائیں؟اسلام آباد ہائی کورٹ نے پولیس کو ہدایت کی کہ تمام لوگ کہاں ہیں؟ عدالت کو آگاہ کیا جائے اور آدھے گھنٹے میں عدالت کو رپورٹ جمع کروائیں، اسلام آباد ہائی کورٹ نے سماعت میں آدھے گھنٹے کا وقفہ کر دیا۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ: بلوچ مظاہرین کی گرفتاریوں اور احتجاج کا حق دینے سے روکنے کے خلاف درخواست پر دوبارہ سماعت ہوئی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نےدرخواست پر سماعت کی،آئی جی اسلام آباد عدالت کے سامنے پیش ہو گئے،درخواست گزار کی جانب سے وکیل عطا اللہ کنڈی ، ایمان مزاری ، زینب جنجوعہ عدالت کے سامنے پیش ہوئے،ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد ایاز شوکت عدالت کے سامنے پیش ہوئے ،آئی جی اسلام آباد نے عدالت میں کہا کہ عدالت کو بتایا گیا کہ ہماری حراست میں کوئی خواتین نہیں ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ صبح بتایا گیا کچھ خواتین کو زبردستی واپس بھیجا جا رہا تھا ، آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ جو واپس جانا چاہتے تھے ان کے لئے بس کا ارینج کیا گیا تھا ،آئی ٹین میں یہ خواتین بچے موجود ہیں ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیوں بچے آئی ٹین میں ہیں ؟ وہ جہاں بھی جانا چاہیں وہ جا سکتے ہیں ، وہ پرامن احتجاج کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں ،عدالت نے آئی جی اسلام آباد کو ہدایت کی کہ مناسب یہی ہے آپ پٹیشنرز ان کے وکلا کو مطمئن کریں ، جتنے آپ کی حراست میں تھے جتنے آپ نے رہا کئے سب کی رپورٹ دیں ،

    صحافی حامد میر نے عدالت میں کہا کہ کل عدالت کو بتایا گیا کہ تمام خواتین کو رہا کر دیا گیا ، تین وفاقی وزرا، آئی جی نے پریس کانفرنس کی کہ تمام خواتین کو رہا کر دیا گیا ،مجھے بتایا گیا کہ کسی بھی خاتون کو رہا نہیں کیا گیا ، میں بھی ویمن پولیس اسٹیشن چلا گیا ، خواتین بچیوں کو گھسیٹ کر لا رہے تھے میرا موبائل چھین لیا گیا ، وہاں موجود پولیس والوں نے مجھ سے بھی بدتمیزی کی ، پھر ڈرائیور نے کہہ دیا میں بس نہیں چلاؤں گا ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے آئی جی اسلام آباد سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ نہیں ہونا چاہیے تھا یہ طریقہ نہیں ہے ،احتجاج میں یہ ہوتا ہے لیکن ان کے ساتھ اس طرح کرنا مارنا پیٹنا مناسب نہیں، حامد میر سینئر صحافی ہیں ان کے ساتھ ایسا رویہ ، آخر ہم کس زمانے میں رہ رہے ہیں ،

    عدالت نے آئی جی اسلام آباد کو ہدایت کی کہ تحریری طور پر بتائیں کہ کس کس خاتون کو گرفتار کیا گیا ،ویمن پولیس اسٹیشن میں کتنی خواتین تھیں وہ رپورٹ دیں ،

    بلوچ لانگ مارچ،300 افراد گرفتار،مذاکراتی کمیٹی قائم،آئی جی سے رپورٹ طلب

    ایک ماہ میں بلوچ طلباء کی ہراسگی روکنے سے متعلق کمیشن رپورٹ پیش کرے ،عدالت

     دو ہفتوں میں بلوچ طلبا کو ہراساں کرنے سے روکنے کیلئے کئے گئے اقدامات کی رپورٹ طلب

    کسی کی اتنی ہمت کیسے ہوگئی کہ وہ پولیس کی وردیوں میں آکر بندہ اٹھا لے،اسلام آباد ہائیکورٹ

    کیا آپ شہریوں کو لاپتہ کرنے والوں کی سہولت کاری کر رہے ہیں؟ قاضی فائز عیسیٰ برہم

    لوگوں کو لاپتہ کرنے کے لئے وفاقی حکومت کی کوئی پالیسی تھی؟ عدالت کا استفسار

    لاپتہ افراد کیس،وفاق اور وزارت دفاع نے تحریری جواب کے لیے مہلت مانگ لی

    عدالت امید کرتی تھی کہ ان کیسز کے بعد وفاقی حکومت ہِل جائے گی،اسلام آباد ہائیکورٹ

  • بلوچ لانگ مارچ،300 افراد گرفتار،مذاکراتی کمیٹی قائم،آئی جی سے رپورٹ طلب

    بلوچ لانگ مارچ،300 افراد گرفتار،مذاکراتی کمیٹی قائم،آئی جی سے رپورٹ طلب

    بلوچ لانگ مارچ کے حوالے سے اسلام آباد پولیس نے سپشل رپورٹ جاری کر دی

    رپورٹ میں کہا گیا کہ 20 دسمبر 5 بجے معلوم ہوا کہ چیئرپرسن بلوچ یکجہتی کمیٹی ڈاکٹر مہارنگ بلوچ کی قیادت میں کچھ مظاہرین پشاور ٹول پلازہ پر جمع ہیں ،مظاہرین 08 گاڑیوں پر 12 بچوں اور 45 خواتین سمیت تقریباً 250 مظاہرین تھے، ایس ایس پی اور ایس پی صدر نے ان کے ساتھ مذاکرات کیے،مظاہرین کو H-9 سیکٹر میں اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے کے لیے جگہ کی پیشکش کی،مظاہرین نے اس پیشکش کو قبول کرنے سے انکار کر دیا،دوسرے آپشن کے طور پر F-9 پارک میں رہنے کی پیشکش بھی کی گئی،مظاہرین زبردستی اسلام آباد کے دائرہ اختیار میں داخل ہوئے،مظاہرین نے 26 نمبر چونگی پر سڑکیں بلاک کرنا شروع کر دیں،اسی دوران تقریباً 250 مظاہرین، جن میں سے کچھ لاٹھیوں سے لیس تھے، نیشنل پریس کلب کے سامنے جمع ہوئے اور دونوں طرف کی سڑکیں بند کر دیں،پولیس نے مظاہرین کو آگاہ کیا کہ ریڈ زون میں احتجاج پر پابندی عائد ہے،

    پریس کلب کے باہر مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا اور الزام پولیس پر عائد کیا،پولیس نے مجموعی طور پر 300 افراد کو گرفتار کیا گیا جن میں 5 خواتین شامل ہیں،مظاہرین نے قانون کو ہاتھ میں اور ریاست اور پولیس کے خلاف نعرے بازی کی،

    جو لوگ بلوچستان سے آئے ان کی طرف سے کوئی شرانگیزی نہیں کی گئی لیکن کچھ مقامی افراد نے صورتحال خراب کرنے کی کوشش کی، فواد حسن فواد
    حکومت کی جانب سے بنائی گئی مذاکراتی کمیٹی نے مذاکرات کے بعد پریس کانفرنس کی ہے، نگران وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی کا کہنا تھا کہ کل مظاہرین اسلام آباد کی حدود میں داخل ہوئے، وزیر اعظم نے مزاکرات کے لیے کمیٹی تشکیل دی، ہم نے مزاکرات کیے بچوں اور عورتوں سے بھی ملے،

    فواد حسن فواد کا کہنا تھا کہ جب مظاہرین اسلام آباد پہنچے تو انتظامیہ نے ان سے رابطہ کیا، پولیس نے مظاہرین کو دو جگہوں کی آفر کی،پریس کلب کے باہر کئی خواتین تئیس دنوں سے بیٹھی ہیں، پریس کلب کے باہر بیٹھی خواتین کو انتظامیہ نے کچھ نہیں کہا،مظاہرین اور پولیس کے درمیان کلیش ہوا، مجبورا پولیس کو مظاہرین کو گرفتار کرنا پڑا،بڑے نقصان سے بچنے کیلئے ریاست کو مجبور کچھ اقدامات کرنے پڑتے ہیں،صرف وہ لوگ تحویل میں ہیں جن کی شناخت نہیں ہوئی،کچھ مقامی افراد نے صورتحال خراب کرنے کی کوشش کی ، چہرہ ڈھانپ کر کچھ لوگوں نے پتھراو کیا جس کے بعد صورتحال خراب ہوئی ، جو لوگ بلوچستان سے آئے تھے ان میں سے کسی نے شرانگیزی نہیں کی ،احتجاج روکنا مقصد نہیں تھا ، احتجاج تو 23دن سے جاری ہے ،جولوگ بلوچستان سے آ رہے تھے ان میں سے کسی نے کوئی تشدد نہیں کیا ،کچھ لوگوں کی شناخت اور تحقیقات کا عمل جاری ہے،وزارتی کمیٹی نے قابل شناخت تمام افراد رہا کردئیے ۔

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد،بلوچ مظاہرین کے لیے سیشن عدالت سے بڑی خبر،بلوچ ہیومن ایکٹویسٹ مہارنگ بلوچ سمیت 33 بلوچ مظاہرین کو عدالت پیش کردیا گیا،جوڈیشل مجسٹریٹ نے تمام 33 بلوچ مظاہرین کو رہا کرنے کا حکم دے دیا،بلوچ مظاہرین کو جوڈیشل مجسٹریٹ شبیر بھٹی کی عدالت میں پیش کیا گیا،پانچ ہزار کے ضمانتی مچلکوں اور ایک لوکل شورٹی کے عوض ضمانت منظور کر لی گئی.

    گرفتار بلوچ خواتین کا کہنا ہے کہ ہم کسی صورت بھی وزیر اعظم کے کہنے پر کوئٹہ واپس نہیں جائینگے،ہم پریس کلب جائیں گے .

    دوسری جانب نیشنل پارٹی کے صدر اور بلوچستان کے سابق وزیراعلٰی ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کا نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ سے ٹیلوفونک رابطہ ہوا ہے، انہوں نے بلوچ لانگ مارچ کے شرکاء کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج میں شریک خواتین اور بچوں پر رات گئے تشدد اور گرفتاری پرتشویش سے آگاہ کیا.

    دوسری جانب بلوچ یکجہتی کمیٹی نے اسلام آباد میں لانگ مارچ کے شرکاء کی گرفتاری کے خلاف کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف اضلاع میں احتجاجی مظاہروں کا اعلان کر دیا،کوہلو اور بارکھان میں سینکڑوں افراد کا احتجاج، بلوچستان پنجاب شاہراہ بند کر دی گئی، کوئٹہ میں بلوچستان یونیورسٹی کے باہر دھرنا شروع ہو گیا،

    دوسری جانب بلوچ لانگ مارچ پر تشدد کیخلاف عدالت نے آئی جی و ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو طلب کر لیا تھا، بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین کی درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ کےچیف جسٹس عامر فاروق نےسماعت کے دوران آئی جی و ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو طلب کر لیا گیا۔پٹیشنرز کی جانب سے ایمان مزاری ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئیں اور کہا کہ پر امن بلوچ مظاہرین کل اسلام آباد پہنچے جن پر لاٹھی چارج اور فورس کا استعمال کیا گیا، پر امن مظاہرین کو حراست میں بھی لیا گیا جو غیر قانونی ہے، مظاہرین میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے،دوبارہ سماعت ہوئی،تو آئی جی اسلام آباد عدالت پیش ہو گئے،سماعت کے دوران چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ پاکستانی شہری ہیں اور احتجاج تو ان کا آئینی حق ہے، کسی نے کوئی دہشت گردی تو نہیں کی،آئی جی اسلام آباد اکبر ناصر خان نے عدالت میں کہا کہ مظاہرین کے پاس ڈنڈے تھے اور انہوں نے پتھر مارے جس سے کچھ لوگ زخمی ہوئے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے آئی جی اسلام آبادسے سوال کیا کہ پٹیشن میں 86 لوگوں کے نام ہیں ان کا کیا اسٹیٹس ہے؟ آئی جی نے عدالت میں کہا کہ لسٹ میں جو نام لکھے گئے ہیں ان کی کوئی تفصیل موجود نہیں، ترنول کی ایف آئی آر میں تمام لوگ رہا ہو چکے ہیں،عدالت نے استفسار کیا کہ لوگوں کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش بھی کیا ہے یا نہیں؟ تھانہ کوہسار کی ایف آئی آر کب ہوئی ہے؟ جس کے جواب میں آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ مجسٹریٹ کے سامنے ہم نے پیش کر دیا ہے،لاء افسر نے عدالت میں کہا کہ کچھ کو ڈسچارج، کچھ کو جوڈیشل اور کچھ کو شناخت پریڈ کیلئے رکھا ہے،عدالت نے آئی جی کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ دیکھیے گا آپ کا کوئی آفیسر کوئی رکاوٹ نہ ڈالے، آئی جی اسلام آباد نے عدالت میں کہا کہ ہمارے ملک کے بچے ہیں ہم خیال رکھیں گے،عدالت نے آئی جی اسلام آباد سے کل تک مزید رپورٹ طلب کرلی اور حکم دیا کہ آئی جی کل تک بتائیں کتنے افراد جوڈیشل ہوئے، کتنے گرفتار ہیں اور کتنے رہا ہوئے؟

    دوسری جانب اسلام آباد پولیس نے بلوچ یکجہتی مارچ کے شرکا کے خلاف کارِ سرکار میں مداخلت، دکانیں اور سڑکیں بلاک کرنے اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے کے الزامات کے تحت تھانہ کوہسار اور تھانہ ترنول میں مقدمات درج کر لیے ہیں۔

    بلوچ یکجہتی کمیٹی پر لاٹھی چارج اور گرفتاریوں کیخلاف بی این پی نے گورنر بلوچستان کو فوری اسلام آباد پہنچنے کی ہدایت کردی، گرفتار مظاہرین کی رہائی، انکے مطالبات کے حل کیلئے صدر، نگراں وزیراعظم اور دیگر سے ملاقات کریں گے، مسئلہ حل نہ ہوا تو گورنر استعفے دیں گے-

    علاوہ ازیں نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے بلوچ مظاہرین سے مزاکرات کے لے کمیٹی بنا دی،کمیٹی تین وفاقی وزرا پر مشتمل ہے ۔کمیٹی فواد حسن فواد۔ مرتضیٰ سولنگی اورجمال شاہ شاملِ ہیں۔کمیٹی مظاہرین سے ابھی مزاکرات کے لیے روانہ ہو گئی ہے۔

    ایک ماہ میں بلوچ طلباء کی ہراسگی روکنے سے متعلق کمیشن رپورٹ پیش کرے ،عدالت

     دو ہفتوں میں بلوچ طلبا کو ہراساں کرنے سے روکنے کیلئے کئے گئے اقدامات کی رپورٹ طلب

    کسی کی اتنی ہمت کیسے ہوگئی کہ وہ پولیس کی وردیوں میں آکر بندہ اٹھا لے،اسلام آباد ہائیکورٹ

    کیا آپ شہریوں کو لاپتہ کرنے والوں کی سہولت کاری کر رہے ہیں؟ قاضی فائز عیسیٰ برہم

    لوگوں کو لاپتہ کرنے کے لئے وفاقی حکومت کی کوئی پالیسی تھی؟ عدالت کا استفسار

    لاپتہ افراد کیس،وفاق اور وزارت دفاع نے تحریری جواب کے لیے مہلت مانگ لی

    عدالت امید کرتی تھی کہ ان کیسز کے بعد وفاقی حکومت ہِل جائے گی،اسلام آباد ہائیکورٹ

  • توشہ خانہ کیس کا فیصلہ معطل کرنے کی درخواست مسترد، عمران خان کی نااہلی برقرار

    توشہ خانہ کیس کا فیصلہ معطل کرنے کی درخواست مسترد، عمران خان کی نااہلی برقرار

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں توشہ خانہ فوجداری کارروائی کیس کی سماعت ،عدالت نے محفوط فیصلہ سنا دیا،

    عمران خان کی توشہ خانہ کیس کا سیشن کورٹ کا فیصلہ معطل کرنے کی درخواست مسترد کر دی گئی ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری نے نو صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا،

    بانی پی ٹی آئی عمران خان انتخابات میں حصہ نہیں لے سکیں گے،اسلام آباد ہائیکورٹ نے توشہ خانہ کیس میں سزا کا فیصلہ معطل کرنے کی درخواست مسترد کردی ،بانی پی ٹی آئی کے پاس سزا ختم کرانے کا آپشن ختم ہوگیا ، بانی پی ٹی آئی کو توشہ خانہ کیس میں سزا یافتہ ہیں،بانی پی ٹی آئی کی پانچ سال کیلئے نااہلی کا الیکشن کمیشن کا نوٹیفکیشن برقرار رہے گا، اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی درخواست کو ناقابل سماعت قرار دے کر مسترد کردیا

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

  • حسان نیازی کن شرائط اور کس قانون کے تحت نااہل ہوسکتا ہے؟ عدالت

    حسان نیازی کن شرائط اور کس قانون کے تحت نااہل ہوسکتا ہے؟ عدالت

    لاہور ہائیکورٹ حسان نیازی کے کاغذات نامزدگی پر دستخط کی اجازت کے لیے دائر درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے وکیل درخواست گزار سے استفسار کیا کہ کیا حسان نیازی کو سزا ہوچکی ہے، وکیل نے کہا کہ حسان نیازی کا ٹرائل چل رہا ہے ابھی وہ نااہل نہیں ہوئے،عدالت نے سرکاری وکیل سے سوال کیا کہ درخواست گزار کن شرائط اور کس قانون کے تحت نااہل ہوسکتا ہے ،وکیل نے کہا کہ اس قانونی نقطے کی تشریح ضروری ہے، عدالت نے وفاقی حکومت سمیت دیگر فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا، عدالت نے سماعت کل تک ملتوی کردی، جسٹس علی باقر نجفی نے حسان نیازی کی والدہ کی درخواست پر سماعت کی

    واضح رہے کہ عمران خان کے بھانجے حسان نیازی نے عام انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے- حسان نیازی کی والدہ نےکاغذات نامزدگی پر دستخط کی اجازت کے لیے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی ہے جس میں وفاقی و پنجاب حکومت اور کمانڈنگ افسر کو فریق بنایا گیا ہے۔

    درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہےکہ الیکشن کمیشن نے انتخابی شیڈول کا اعلان کردیا ہے، حسان نیازی نااہل ہیں اور نہ ہی سزا یافتہ ہیں، وہ اس وقت حراست میں ہیں،عدالت حسان نیازی کو کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا پراسیس مکمل کرنےکی اجازت دے، عدالت اوتھ کمشنرکو حسان نیازی سے ملاقات کرکےکاغذات نامزدگی کی تصدیق او ردستخط کی اجازت دے۔

    حسان نیازی کو ایبٹ آباد سے گرفتار کیا گیا تھا، نو مئی کے واقعہ کے بعد حسان نیازی روپوش ہو گئے تھے، انہیں دوست کے گھر سے پولیس نے گرفتار کیا تھا،حسان نیازی کے والد حفیظ اللہ نیازی، تحریک انصاف کے خلاف ہیں،انہوں نے ٹویٹر پر تصدیق کی کہ حسان نیازی کو گرفتار کر لیا گیا ہے،

    واضح رہے کہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد تحریک انصاف کے شرپسندوں نے ملک بھر میں جلاؤ گھیراؤ کیا تھا، لاہور میں جناح ہاؤس سمیت دیگر عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا وہیں ن لیگ کے دفتر کو بھی آگ لگائی گئی تھی، شرپسند عناصر کے‌ خلاف کاروائیاں جاری ہیں، کئی افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے، کئی روپوش ہیں، تحریک انصاف کے رہنما پارٹی چھوڑ رہے ہیں تو دوسری جانب کارکنان اظہار لاتعلقی کر رہے ہیں

    حسان خان نیازی کو 18 اگست کو عدالت پیش کرنے کا حکم

    پائلٹس کے لائسنس سے متعلق وفاق کے بیان کے مقاصد کی عدالتی تحقیقات ہونی چاہیے، رضا ربانی

    کراچی طیارہ حادثہ کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش، مبشر لقمان کی باتیں 100 فیصد سچ ثابت

    ایئر انڈیا: کرو ممبرزکیلیے نئی گائیڈ لائن ’لپ اسٹک‘ ’ناخن پالش‘ خواتین کے لیے اہم ہدایات

  • تحریک انصاف دور میں مقدمات،جے آئی ٹی رپورٹ میں عمر فاروق ظہور بے گناہ قرار

    تحریک انصاف دور میں مقدمات،جے آئی ٹی رپورٹ میں عمر فاروق ظہور بے گناہ قرار

    تحریک انصاف کے دور حکومت میں بے بنیاد مقدمات بھگتنے والے، دبئی میں مقیم پاکستانی تاجر،عمران خان کی جانب سے توشہ خانہ کی گھڑی خریدنے والے عمرظہور پر عائد الزامات بارے جے آئی ٹی کی رپورٹ سامنے آئی ہے

    نجی ٹی وی کے مطابق جے آئی ٹی رپورٹ لاہور ہائیکورٹ میں جمع کروائی گئی ہے، جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق عمر فاروق ظہور کے کسی جرم میں ملوث ہونے کا ثبوت نہیں ملا،تحقیقات کرنے والی ٹیم میں ایف آئی اے کے تین سینیئر ڈائریکٹرز شامل تھے، تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ تحریک انصاف کے بانی چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی مرزا شہزاد اکبر جو اس وقت لندن میں مقیم ہیں نے ایف آئی اے کو عمرفاروق کی سابقہ اہلیہ کی مدد کا کہا تھا، قانونی تقاضے پورے کیے بغیر عمر فاروق ظہور کے غیر ضمانتی وارنٹ حاصل کیے گئے اور ان کا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بلیک لسٹ کر دیا گیا تھا،جوڈیشل مجسٹریٹ عمران عابد نے فیصلے میں کہا ہے کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ حقیقت پر مبنی ہے

    جوڈیشل مجسٹریٹ کے مطابق 2009 میں ایف آئی آر کے وقت عمر فاروق ظہور پاکستان میں تھے ہی نہیں ان کے خلاف مقدمہ میرٹ اور قانون کے مطابق درج نہیں ہوا تھا،عمرفاروق ظہور کے خلاف کوئی مصدقہ مواد نہیں ملا، ناکافی شواہد پائے گئے

    گزشتہ برس انٹرپول نے عمر فاروق ظہور کا نام اپنی لسٹ سے نکال دیا تھا جبکہ ان کو لاہور کی مجسٹریٹ عدالت نے بھی بری کر دیا تھا،لاہورمجسٹریٹ کورٹ نے عمر فاروق ظہور کو جعلی شاختی کارڈ اور اپنی ہی بیٹیوں کے اغوا کے الزام سے بھی بری کیا تھا

    عمر فاروق ظہور سے کس نے رابطہ کیاِ؟

    عمر فاروق ظہور منی لانڈرنگ کے دو کیسز میں بری

    توشہ خانہ کی گھڑی؛ عمران خان کی عمرفاروق ظہور کیخلاف دی گئی درخواست خارج

    گھڑی سے متعلق انکوئری: عمرفاروق ظہور نے ثبوت پیش کردیئے

    صوفیہ مرزا کو بڑا دھچکا، عدالت نے عمر فاروق ظہور کے خلاف بیٹیوں کے اغوا کا مقدمہ خارج کردیا

    میرے مؤقف کی تصدیق ہوئی،عمران خان کو سزا پر عمر فاروق ظہور کا ردعمل

    واضح رہے کہ دبئی میں مقیم ارب پتی تاجر عمر فاروق ظہور اس انکشاف کے بعد پاکستانی خبروں کی سرخیوں میں آئے کہ انہوں نے دبئی میں ایک لین دین کے دوران سابق وزیر اعظم عمران خان کی توشہ خانہ کی قیمتی گراف گھڑی، وہ مشہور گھڑی جو سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلیمان نے عمران خان کو تحفے میں دی تھی، فرح خان سے تقریباً 2 ملین ڈالرز میں خریدی تھی۔

  • سائفر کیس، ان کیمرہ ٹرائل فوری روکنے کی استدعا مسترد،کل اٹارنی جنرل طلب

    سائفر کیس، ان کیمرہ ٹرائل فوری روکنے کی استدعا مسترد،کل اٹارنی جنرل طلب

    اسلام آباد ہائیکورٹ: بانی پی ٹی آئی کی سائفر کیس میں ان کیمرہ ٹرائل کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے درخواست پر سماعت کی،بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجہ روسٹرم پر آگئے، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ راجہ صاحب آپ کا کیس ایک گھنٹے بعد سنیں گے ،ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو بھی بلا لیتے ہیں پھر تفصیل سے دیکھ لیتے ہیں ، سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ٹرائل کورٹ کا چودہ دسمبر کا فیصلہ ہائیکورٹ کے فیصلے کی صریح خلاف ورزی ہے،کیس کی سماعت میں وقفہ کردیا گیا،

    وقفے کے بعد کیس کی سماعت ہوئی، سلمان اکرم راجہ نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے سائفر کیس کی تمام کارروائی ان کیمرہ کرا دی ہے ،عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ اٹارنی جنرل صاحب ملک میں ہیں ؟ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ جی وہ ملک میں موجود ہیں،سلمان اکرم راجہ نے عدالت میں کہا کہ ایف آئی آر پڑھ دیتا ہوں کہ اصل میں الزام کیا ہے ،پراسیکیوشن کی درخواست پر عدالت نے ٹرائل ان کیمرہ کرنے کا فیصلہ سنایا، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا عدالت نے ان کیمرا پروسیڈنگ کی درخواست پر نوٹس جاری کیا تھا ؟ملزمان پر فرد جرم کب عائد ہوئی ؟عدالت نے پوچھا کہ اس کیس میں مسئلہ ہو رہاہے ، ٹرائل کوئی کر رہاہے اور اپیلیں کوئی دوسرا وکیل ، سلمان اکرم راجہ نے عدالت کہا کہ مسٹر پنجوتھا یہاں ہیں ، یہ ٹرائل کر رہے ہیں، مسٹر پنجوتھا نے بتایا 14 دسمبر کو فرد جرم عائد ہوئی ،13 دسمبر کو ان کیمرا کارروائی کی درخواست پر 14 دسمبر کیلئے نوٹس ہوا تھا ،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہاکہ ان کیمرا کارروائی کی درخواست پر ٹرائل کورٹ نے نوٹس جاری کیا تھا ، سلمان اکرم راجہ نے عدالت میں کہا ملزمان کے اہل خانہ کو ٹرائل میں بیٹھنے کی مشروط اجازت دی گئی ہے اہل خانہ کو پابند بنایا گیا ہے کہ عدالتی کارروائی سے متعلق بات نہیں کر سکتے ،عدالت نے استفسار کیا کہ اگر فرد جرم عائد ہو گئی ہے تو یہ بھی نہیں بتا سکتے کہ فرد جرم عائد ہو گئی ہے ؟وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ بالکل انہیں پابند کیا ہے کہ وہ عدالتی کارروائی نہیں بتا سکتے ، میڈیا ، سوشل میڈیاپر سائفر کیس کی کارروائی پبلش کرنے کی پابندی لگائی گئی ہے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے سائفر کیس میں ان کیمرہ ٹرائل کے خلاف درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایف آئی اے کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت کل تک ملتوی کر دی ، عدالت نےٹرائل روکنے کی درخواست فوری منظور نہیں کی،جسٹس گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ معاملے پر اٹارنی جنرل کو سننا چاہتے ہیں

    واضح رہے کہ عمران خان نے سائفر کیس کی ان کیمرا سماعت کا ٹرائل کورٹ کا حکم چیلنج کردیا۔عمران خان کی طرف سے بیرسٹر سلمان اکرم راجہ نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی جس میں کہا گیا ہے کہ سائفر عدالت کا 14 دسمبرکا حکم نامہ اسلام آبادہائیکورٹ کے 21 نومبر کے فیصلےکی خلاف ورزی ہے، عدالت نے اپنے حکم میں سائفرکیس کی رپورٹنگ پربھی پابندی عائد کردی جو خلاف آئین ہے۔

    درخواست میں مزید کہا گیا ہےکہ بانی پی ٹی آئی نے بطور وزیراعظم اپنی آئینی ذمہ داری پوری کی، انصاف کو صرف ہونا نہیں بلکہ ہوتا دکھائی دینا چاہیے اس لیے انصاف کے تقاضے پورےکرنے کے لیے عوام اور میڈیا کی موجودگی میں اوپن ٹرائل ضروری ہے۔

    درخواست میں استدعا کی گئی ہےکہ ٹرائل کورٹ کا 14دسمبر کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے اور اس درخواست کے فیصلے تک ٹرائل کورٹ کو مزید کارروائی سے روکا جائے۔

    سائفر کیس کی سماعت کل تک کیلئے ملتوی 

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کا جیل ٹرائل کالعدم قرار

    سائفر کیس،لگی دفعات میں سزا،عمر قید،سزائے موت ہے،ضمانت کیس کا فیصلہ

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر معاملہ؛ اعظم خان کے بعد فارن سیکرٹری بھی عمران خان کیخلاف گواہ بن گئے

    سائفر کیس، عمران خان کو بیٹوں سے بات کروانے کی اجازت

  • لاہور ہائیکورٹ کا شیر افضل مروت کو رہا کرنے کا حکم

    لاہور ہائیکورٹ کا شیر افضل مروت کو رہا کرنے کا حکم

    لاہور ہائیکورٹ نے شیر افضل مروت کی نظر بندی کے خلاف دائر درخواست کا تحریری فیصلہ جاری کردیا

    جسٹس شہرام سرور چوہدری نے خالد لطیف خان کی درخواست پر فیصلہ جاری کیا ، فیصلے میں کہا گیا کہ عدالت درخواست کو باقاعدہ منظور کرتی ہے، عدالت شیر افضل مروت کو رہا کرنے کا حکم دیتی ہے،شیر افضل مروت کو شورٹی باونڈ ڈپٹی کمشنر کے پاس جمع کرانے کے بعد رہا کیا جائے،درخواست گزار کے وکیل نے بتایا کہ شیر افضل مروت پر نظر بندی کا اطلاق نہیں ہوتا،

    قبل ازیں لاہور ہائیکورٹ نے شیر افضل مروت کو رہا کرنے کا حکم دے دیا،عدالت نے ڈپٹی کمشنر کو شوٹی بانڈ جمع کرانے کے بعد رہا کرنے کا حکم دیا ،جسٹس شہرام سرور چوہدری نے شیر افضل مروت کی نظر بندی کے خلاف درخواست پر سماعت کی، شیر افضل مروت کی نظر بندی کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا،درخواست کے مطابق شیر افضل مروت لاہور ہائی کورٹ بار میں خطاب کر کے واپس روانہ ہوئے تو انہیں گرفتار کر لیا گیا، شیر افضل مروت کی نظر بندی غیر قانونی و غیر آئینی ہے

    شیر افضل مروت کی نظر بندی کے خلاف اپیل لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کی نائب صدر ربیعہ باجوہ کی جانب سے دائر کی گئی ہے،درخواست لطیف کھوسہ اور عرفان کلار ایڈووکیٹس کی وساطت سے دائر کی گئی ہے،درخواست میں پنجاب حکومت،ضلعی انتظامیہ کو فریق بنایا گیا ہے، درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ ڈی سی لاہور نے شیر افضل مروت کے خلاف غیر قانونی نظر بندی کا حکم جاری کیا،شیر افضل مروت کو سیاسی بنیادوں پر نظر بند کیا گیا،عدالت نظر بندی کے نوٹیفیکیشن کو کالعدم قرار دے،

    واضح رہے کہ  لاہور پولیس نے شیرافضل مروت کو لاہور ہائیکورٹ کے باہر سے گرفتار کر کے کوٹ لکھپت جیل منتقل کردیا،شیر افضل مروت کو تھری ایم پی او کے تحت جیل بھجوایا گیا،شیر افضل مروت کو 30 روز کےلئے نظر بندکیا گیا

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

    جیل اسی کو کہتے ہیں جہاں سہولیات نہیں ہوتیں،

    چیئرمین پی ٹی آئی پر ایک مزید مقدمہ درج کر لیا گیا

    نشہ آور اشیاء چیئرمین پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں پہلی لڑائی کی وجہ بنی،

    بشریٰ بی بی نے شوہر کے لئے چار سہولیات مانگ لیں

    پی ٹی آئی کورکمیٹی میں اختلافات،وکیل بھی پھٹ پڑا

     مروت کی گرفتاری کے بعد الیکشن کمیشن کس منہ سے کہتا ہے لیول پلینگ فیلڈ تحریک انصاف کو دی