Baaghi TV

Tag: عدالت

  • اسلام آباد ہائیکورٹ،سائفر کیس کا ٹرائل روکنے کی استدعا مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ،سائفر کیس کا ٹرائل روکنے کی استدعا مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں سائفر کیس پر جیل ٹرائل کے لئے قانونی پراسس پورا نہ ہونے کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے درخواست پر سماعت کی،وکیل سکندر ذوالقرنین سلیم نے عدالت میں کہا کہ چار دسمبر کے ٹرائل کورٹ کے آرڈر کو چیلنج کیا گیا ہے۔ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی یہ آرڈر میں کیا کہہ رہے ہیں؟ وفاقی حکومت کا جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن کدھر ہے؟عمران خان کے وکیل نے کہا کہ مجھے نہیں پتہ۔ عدالت نے استفسار کیا کہ آپ کو کیوں نہیں پتہ جیل ٹرائل ہو رہا ہے؟وکیل نے کہا کہ سابق چیئرمین پی ٹی آئی نے جیل ٹرائل کے پراسس نہ ہونے کو چیلنج کر رکھا ہے، یہ حکومت کا کام ہے، جج کا نہیں کہ وہ کورٹ کے لیے جگہ کا انتخاب کرے،جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ جج کا ہی اختیار ہے، جج ٹرائل کے لیے جیل کا انتخاب کر سکتا ہے مگر وہ اوپن کورٹ ہونی چاہیے

    وکیل نے کہا کہ جج کے پاس جیل ٹرائل کی منظوری کا نوٹیفکیشن ہی نہیں تھا جب چار دسمبر کو آرڈر پاس کیا، جج نے آرڈر میں لکھا کہ نوٹیفکیشن جمع کرا دیا جائے،عدالت نے کیس کی سماعت کے بعد ایف آئی اے کو 20 دسمبر کے لئے نوٹس جاری کر دیا، سابق چیئرمین پی ٹی آئی کی حکم امتناع کی درخواست پر بھی نوٹس جاری کردیا گیا،عمران خان کے وکیل نے استدعاکی کہ عدالت آئندہ سماعت تک ٹرائل روک دے جس پر عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ رپورٹ آ جائے پھر دیکھتے ہیں،عمران خان کے وکیل کی سائفر ٹرائل فوری روکنے کی استدعا مسترد کردی گئی

    دوسری جانب ایف آئی اے پراسیکیوٹر رضوان عباسی اڈیالہ جیل پہنچ گئے ہیں، انکا کہنا ہے کہ عمران خان اور شاہ محمود قریشی پر فرد جرم عائد ہوچکی ہے تاہم کسی بھی دستاویز پر ملزمان کے دستخط ضروری نہیں ہیں،فریم چارج کرنے کا ایک طریقہ ہے فرد جرم عدالت میں پڑھ کر سنائی گئی ہے، عدالت نے ملزمان سے پوچھا کہ یہ الزامات ہیں آپ پر، ملزمان نے فرد جرم میں لگے الزامات کی صحت جرم سے انکار کیا ہے۔ فرد جرم عائد ہونے کی کارروائی گزشتہ روز مکمل کرلی گئی ہے۔ ہم نے گزشتہ روز آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی سیکشن 14 کے تحت ان کیمرا ٹرائل کی درخواست دی ہے، آج پراسیکیوشن کی جانب سے چار گواہان کو پیش کیا جائے گا

    واضح رہے کہ سائفر کیس کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہوئی، خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کیس کی سماعت کی، عمران خان اور شاہ محمود قریشی پر سائفر کیس میں فرد جرم عائد کر دی گئی،دونوں ملزمان نے صحت جرم سے انکار کیا۔ عدالت نے ایف آئی اے سے شہادتیں طلب کر لیں۔

    سائفر کیس کی سماعت کل تک کیلئے ملتوی 

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کا جیل ٹرائل کالعدم قرار

    سائفر کیس،لگی دفعات میں سزا،عمر قید،سزائے موت ہے،ضمانت کیس کا فیصلہ

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر معاملہ؛ اعظم خان کے بعد فارن سیکرٹری بھی عمران خان کیخلاف گواہ بن گئے

    سائفر کیس، عمران خان کو بیٹوں سے بات کروانے کی اجازت

  • عمران خان کا چیف جسٹس عامر فاروق پر عدم اعتماد،درخواست پر اعتراض عائد

    عمران خان کا چیف جسٹس عامر فاروق پر عدم اعتماد،درخواست پر اعتراض عائد

    بانی پی ٹی آئی عمران خان کااسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق پر عدم اعتماد کا اظہار،چیف جسٹس عامر فاروق کے خلاف عدم اعتماد کی درخواست پر رجسٹرار آفس نے اعتراضات عائد کر دیئے

    رجسٹرار آفس نے اعتراض عائد کرتے ہوئے کہا کہ درخواست میں قابل اعتراض اور عدلیہ کو سکینڈلائز کرنے والی لینگوئج استعمال کی گئی،مقدمات کی منتقلی سے متعلق ایسی درخواست کو انٹرٹین نہیں کیا جا سکتا،بانی پی ٹی آئی نے اپنے کیسز میں چیف جسٹس عامر فاروق کو بینچ سے الگ ہونے کے لیے درخواست دائر کی تھی

    عمران خان نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے مقدمات سے الگ ہونے کے لئے درخواست دائر کی تھی، اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا تھا کہ اسلام آبا ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق عمران خان کے تمام کیسز سے خود کو علیحدہ کریں ان سے انصاف ملنے کی توقع نہیں ہے، چیف جسٹس کا آفس سنبھالنے کے بعد جسٹس عامر فاروق نے سابق چیئرمین پی ٹی آئی کے معاملے میں ون مین ہائیکورٹ کا تاثر دیا، انٹرا کورٹ اپیلوں کے علاوہ ہر سنگل اور ڈویژن بنچ میں چیف جسٹس عامر فاروق نے خود کو شامل کیا.

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ملاقات کروائی جائے، اہلخانہ عدالت پہنچ گئے

    نئی حکومت ڈاکٹرعافیہ صدیقی کو رہا کرائے،مولانا عبدالاکبر چترالی کا مطالبہ

     ایک ماہ کے بعد دوسری رپورٹ آئی ہے جو غیر تسلی بخش ہے ،

    عالمی یوم تعلیم امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے نام منسوب

    امریکی جیل میں ڈاکٹرعافیہ صدیقی پرحملہ:پاکستان نے امریکہ سے بڑا مطالبہ کردیا ،

    ڈاکٹرعافیہ کی رہائی کی چابی واشنگٹن نہیں اسلام آباد میں پڑی ہے۔

  • عدالتی فیصلے کے بعد عام انتخابات کا عمل روک دیا گیا

    عدالتی فیصلے کے بعد عام انتخابات کا عمل روک دیا گیا

    ملک بھر میں عام انتخابات کا عمل روک دیا گیا

    لاہور ہائیکورٹ کے حکم کے بعد ریٹرننگ افسران کی ٹریننگ روک دی، الیکشن کمیشن ترجمان کے مطابق الیکشن کمیشن کی طرف سے ریٹرننگ افسران کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن معطل ہونے کے بعد ٹریننگ روک دی گئی، ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسرز اور ریٹرننگ آفیسرز کی جاری ٹریننگ کو روک دیا ہے، الیکشن کمیشن نے چاروں صوبائی الیکشن کمشنرز کو مراسلے ارسال کردیئے،الیکشن کمیشن نے صوبائی الیکشن کمشنرز کو ڈی آر اوز اور آر اوز کی ٹریننگ روکنے کی احکامات دیئے ہیں

    واضح رہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے 8 فروری کے عام انتخابات بیورو کریسی سے کروانے کیلئے الیکشن کمیشن کا نوٹیفکیشن معطل کردیا ہے، جسٹس علی باقر نجفی نے تحریک انصاف کی درخواست پر محفوظ فیصلہ سنایا، ایک رکنی بینچ نے عام انتخابات بیورو کریسی سے کروانے کا الیکشن کمیشن کا نوٹیفکیشن معطل کردیا،عدالت نے انتخابات بیورو کریسی سے کروانے کے خلاف درخواستوں پر لارجر بینچ تشکیل دینے کی سفارش کی اور جسٹس علی باقر نجفی نے فائل چیف جسٹس کو ارسال کردی۔عدالت نے فیصلے میں لکھا کہ الیکشن کرانے پر غریب قوم کے اربوں روپے لگتے ہیں ، اگر بڑی سیاسی جماعتیں الیکشن نتائج تسلیم نہ کریں تو قوم کا پیسہ ضائع ہوگا ،الیکشن کمیشن کو فری اینڈ فئیر الیکشن کرانے ہیں ،شفاف انتخابات کو حقیقت میں بدلنے کےلیے امیدواروں اور ووٹرز کو یکساں مواقع فراہم کرنے ہیں ۔

    دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ:الیکشن کمیشن کی پابندی کےباجود سرکاری ملازمین کے تبادلوں کےخلاف درخواست پر سماعت ہوئی،عدالت نے الیکشن کمیشن اور حکومت پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا،عدالت نے کہا کہ آگاہ کیاجائے الیکشن کمیشن کی پابندی کےباوجود تبادلے کیسے ہورہے ہیں۔جسٹس علی باقر نجفی نے زاہد حسین کی درخواست پر سماعت کی ،درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ پابندی کے باجود افسران کو دوردراز اضلاع میں ٹرانسفر کیاجارہاہے۔عام انتخابات کی تاریخ کے اعلان کےبعد الیکشن کمیشن نے تبادلوں پر پابندی عائد کررکھی ہے۔الیکشن کمیشن کی ٹرانسفر پوسٹنگ پر پابندی کی خلاف ورزی کی جارہی۔عدالت پابندی کےبعد کی جانے والی ٹرانسفرز کو کالعدم قرار دے

    پی ٹی آئی انٹراپارٹی الیکشن،یہ دھاندلی نہیں دھاندلا ہوا ہے،مریم اورنگزیب

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    بشریٰ بی بی کی سڑک پر دوڑیں، مکافات عمل،نواز شریف کی نئی ضد، الیکشن ہونگے؟

    جعلی رسیدیں، ضمانت کیس، بشریٰ بی بی آج عدالت پیش نہ ہوئیں

    عمران خان، بشریٰ بی بی نے جان بوجھ کر غیر شرعی نکاح پڑھوایا،مفتی سعید کا بیان قلمبند

  • قوم کے دشمن کو مجھے معاف کرنے کا کوئی اختیار نہیں ،نواز شریف

    قوم کے دشمن کو مجھے معاف کرنے کا کوئی اختیار نہیں ،نواز شریف

    سابق وزیراعظم، ن لیگ کے قائد نواز شریف نے پارلیمانی بورڈ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جعلی مقدمات میں بریت پر اللہ کا شکر گزار ہوں ،تینوں مقدمات میں نہ شواہد تھے نہ ثبوت تھے،

    نواز شریف کا کہنا تھا کہ ہائیکورٹ میں مقدمات کا کھوکھلا پن دنیا کے سامنے ظاہر ہو گیا،جب کچھ نہ ملا تو پانامہ کے نام پر اقامہ نکال لائے، ایک ایسا فیصلہ سنایا گیا جو دنیا میں مذاق بن کر رہ گیا،جو دکھ ہمیں دیئے گئے ان کا مداوا ہے؟ کیا مداوا ہے؟،ایک وزیراعظم کی بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر چھٹی کرا رہے ہیں،سسلین مافیا، گاڈ فادر کہتے ہیں ، کیا ججز کبھی ایسے الفاظ استعمال کرتے ہیں ؟،کہاں کہاں سے سازشی عناصر نکل کر روز شام کو دکانداری چمکاتے تھے، جس جج نے میرے خلاف فیصلہ سنایا جسٹس اعجازالالحسن کو مانیٹرنگ جج لگا دیا گیا، جج سے کہا آپ بیٹھیں ، ساری کاروائی کو مانیٹر کریں کہ نواز شریف کو جلد ازجلد سزا ہو، یہ اس ملک کیخلاف اتنی بڑی سازش ہے کہ آپ اندازہ نہیں کر سکتے،

    نواز شریف کا مزید کہنا تھا کہ میں نے کیا بگاڑا تھا، اس بینچ کا، جس نے سسلین مافیا بھی کہا، ان میں سے ایک جج تھا جس کا نام شیخ عظمت تھا، اسکی عزیزہ کا پروموشن کا کیس تھا جو میرٹ پر ہونا تھا ، وہ کہتے ہیں کہ نواز شریف کو پتہ ہونا چاہئے کہ اڈیالہ جیل میں بہت جگہ ہے، میں ملک کا وزیراعظم تھا انکی خواہش تو اس وقت سے تھی نواز شریف کو اڈیالہ جیل میں ڈالنے کی، ایسا ہوتا رہا تو ملک کا کیا حال ہو گا ،بہت افسوسناک بات ہے یہ، جو ملک و قوم نے قیمت ادا کی اس کا حساب ہونا چاہئے ،انتقام نہ سہی، میں ذاتی طور پر کسی کو نہ معاف کر سکتا ہو ں نہ رائے دے سکتا ہوں لیکن جنہوں نے قوم کے خلاف اس طرح کے کام کئے انکو نہیں بھول سکتا جوذمہ دار ہے اسکا حساب لیا جانا چاہئے ورنہ یہ کھیل تماشا جاری رہے گا،میں یہ سمجھتا ہوں کہ 25 کروڑ عوام کیخلاف یہ سازش ہوئی ، عوام کو نوٹس لینا چاہیئے،میں کسی انتقامی جذبے سے بات نہیں کر رہا لیکن یہ بہت سیریس معاملہ ہے،ہم نے 4 سال ڈالر کو باندھ کے رکھا تھا، آئی ایم ایف کو خدا حافظ کہا تھا،قوم کے دشمن کو مجھے معاف کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے، آٹھ فروری کو سب سے بڑی جے آئی ٹی اور عدالت بنے گی اور تاریخی فیصلہ دے دی، باتوں کو غور سے صرف سننا نہیں چاہئے بلکہ پلے باندھنا چاہئے،ہم نے ملک کو ایسے ہاتھوں میں نہیں چھوڑنا جو کھیل کھیلیں ،کبھی بھی نہیں ورنہ کھلنڈرے آتے رہیں گے اور پاکستا ن کو تباہی کی جانب دھکیلتے رہیں گے، مجھے اللہ نے جھوٹے مقدموں سے بری کیا،کل عدالت کی اگر کاروائی سنی ہو تو صاف صاف کہہ دیا کہ یہاں تو کوئی ثبوت ہی نہیں، کوئی کاغذات ہی نہیں،

    آئے روز وزیراعظم کو اتار دیا جائےتو پھر ملک کیسے چلے گا ،نواز شریف

    قصے،کہانیاں سن رہے ہیں،یہ کردار تھا ان لوگوں کا،نواز شریف کا عمران خان پر طنز

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

  • اقتدار کی سیاست کا حصہ نہیں بننا چاہتا، شاہد خاقان عباسی

    اقتدار کی سیاست کا حصہ نہیں بننا چاہتا، شاہد خاقان عباسی

    سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ کیسز بنتے ہیں لیکن گواہان نہیں آتے،ہم تو پہلے کہتے تھے کہ عدالتوں میں کیمرے لگوائیں،جس ملک میں عدالتی نظام غیر محفوظ ہو وہ آگے نہیں بڑھ سکتا،

    کراچی میں عدالت پیشی کے موقع پر شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ سابق چیئر مین نیب عوام سے معافی مانگیں،شاید بچت ہوجائے،انصاف کی کرسی پر بیٹھنا بہت بڑی ذمہ داری ہوتی ہے،جھوٹےکیس بنائے گئے، تماشے لگائے گئے، جسٹس ر جاوید اقبال سے آج کوئی ہے جو سوال کرے کہ جعلی کیس کیوں بنائے، جعلی فیصلے کیوں کئےیہ ناانصافی کا نظام ہے، کسی دن ہم نے ہاتھ ڈالنا ہے جاوید اقبال پر، میں آج بھی کہتا ہوں کہ ناانصافی چھوڑیں، جس ملک کا نظام ناانصافی پر مبنی ہو وہ ملک نہیں چل سکتا،عدالتیں بھری ہوئی ہیں لیکن صرف تاریخ ملتی ہے، گواہ نہیں آتے، اگر سابق وزیراعظم کو انصاف نہیں مل سکتا تو غریب آدمی کو کیسے ملے گا،ان ممالک کو دیکھیں جو ترقی کر رہے ہیں وہان بنیادی چیز انصاف کا نظام ہے

    شاہد خاقان عباسی کا مزید کہنا تھا کہ اگر انصاف نہیں ملتا تو نظام بدلیں،جو عرصہ جیل میں گزرا اسکا حساب کون دے گا ، جسٹس ر جاوید اقبال معافی مانگ لے تو شاید بچت ہو جائے، جو آدمی سپریم کورٹ کا جج رہا ہو اور کرسی پر بیٹھ کر جھوٹ بولے، جعلی مقدمے بنائے، کیا اسکا احتساب نہیں ہو گا؟ آئین میں کہاں‌لکھا ہے کہ کسی کو تاحیات نااہل کر دیں، ناانصافی نہ کیا کریں ،بھٹو صاحب کو اب کیا انصاف دیں گے، پھانسی تو لگا دیا، جعلی فیصلے دینے سے پہلے سوچا کریں،

    شاہد خاقان عباسی کا مزید کہنا تھا کہ ملک کے جو سیاسی حالات ہیں اس میں الیکشن کچھ نہیں دے گا، ایک بڑی خرابی پیدا ہو گی، جب مجھ جیسا آدمی بات کر رہا ہے تو سمجھنے کی کوشش کریں، حالات سے خوفزدہ نہیں ہوں، اس بار جتنا الیکشن آسان ہے زندگی میں کبھی نہیں تھا،اس اقتدار کی سیاست کا حصہ نہیں بنوں گا،میں نے جو فیصلہ کر لیا، اس سے پیچھے نہیں ہٹوں گا، اگر نواز شریف نے بلایا تو چلا جاؤں گا لیکن فیصلہ یہی ہے،جو آج ملک کی سیاست ہے اس سے میرا اتفاق نہیں ، سیاست کا مقصد اقتدار رہ جائے تو یہ سیاست نہیں رہتی،سب کو اقتدار چاہئے،اقتدار کا مسئلہ حل نہیں ہو رہا، عوام کے مسائل کی کوئی بات نہیں کر رہا ،

    دوسری جانب سندھ اسمبلی کے اسپیکر آغا سراج درانی نے سابق وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی سے کراچی کی احتساب عدالت میں ملاقات کی ،آغا سراج درانی نے شاہد خاقان عباسی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو سندھ آنے پر خوش آمدید کہتے ہیں،شاہد خاقان عباسی نے آغا سراج درانی کی طبیعت دریافت کی

    شہداء فورم کا فوجی عدالتوں کی بحالی کا مطالبہ

    سپریم کورٹ، فوجی عدالتوں میں سویلین کا ٹرائل کالعدم قرار

    سپریم کورٹ،فوجی عدالتوں سے متعلق درخواستیں، فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا مسترد

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

  • چوہدری نثار کے حلقے کی حلقہ بندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

    چوہدری نثار کے حلقے کی حلقہ بندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

    اسلام آباد ہائیکورٹ: چوہدری نثار علی خان کے حلقے این اے 53 اور پی پی 10 کی حلقہ بندی کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے فیصلہ محفوظ کرلیا ،الیکشن کمیشن اور وکیل درخواست گزار کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا گیا،درخواست گزار شیخ ساجد الرحمن کی جانب سے وکیل کاشف ملک ایڈوکیٹ عدالت میں پیش ہوئے،وکیل کاشف ملک نے کہا کہ سیکشن 20 کے تحت انتظامی یونٹ کو متاثر نہیں کیا جس سکتا ،عوامی سہولیات کو مد نظر رکھتے ہوئے حلقہ بندیاں کی جانی چاہیے ، الیکشن رولز 2017 کے تحت حلقہ بندی شمال کی جانب سے کی جانی چاہیے ، اس کیس میں کی گئی حلقہ بندی قانون کے مطابق نہیں کی گئی گوجر خان چالیس منٹ کی مسافت پر ہے ،

    وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ حلقہ بندی سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں کی گئیں، حلقہ بندی کو اب تبدیل نہیں کیا جا سکتا ، مجوزہ تجاویز کے مطابق ساتھ والے حلقہ این اے 52 کی آبادی مقررہ حد سے کم ہو جائے گی،

    قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 53 کی حلقہ بندی چوہدری نثار کے حلقے سے تعلق رکھنے والے شیخ ساجد الرحمن نے چیلنج کر رکھی ہے،این اے 53 اور پی پی 10 سے سے ساگری کو نکال کر گوجرخان میں شامل کردیا گیا تھا ،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ ساگری کو دوبارہ حوالہ این اے 53 میں شامل کرنے کے احکامات جاری کیے جائیں ، حلقہ این اے 53 سے سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار انتخاب لڑتے ہیں

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے عام انتخابات کے لئے ملک میں حتمی حلقہ بندیوں کی اشاعت کر دی ہے،الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مطابق ملک بھر سے قومی اسمبلی کی جنرل نشستوں کے 266 ، صوبائی اسمبلیوں کی جنرل نشستوں کے593 حلقے ہوں گے،حتمی حلقہ بندیوں کے مطابق اسلام آباد کی قومی اسمبلی کی 3 جنرل نشستیں ہوں گی، پنجاب میں قومی اسمبلی کی 141 اور صوبائی اسمبلی کی 297 جنرل نشستیں ہوں گی،سندھ میں قومی اسمبلی کی 61 اور صوبائی اسمبلی کی 130 جنرل نشستیں ہوں گی،

    ہمارا بھٹو تو واپس نہیں آئے گا، ہمیں امید ہے غلط فیصلے کو غلط کہا جائے گا

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بہت ہی اہم خبر لے کر آیا ہوں، 

    مبش لقمان کا کہنا تھا کہ ضیا الحق کی مدد کرنے والوں میں نواز شریف سب سے آگے تھے

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    وزیراعظم سمیت کروڑوں کا ڈیٹا لیک،سیاست کا 12واں کھلاڑی کون

    سپریم کورٹ کے ہاتھ 40 برسوں سے شہید ذوالفقار علی بھٹو کے لہو سے رنگے ہوئے

  • توہین عدالت کی درخواست،چیف سیکرٹری پنجاب کو نوٹس جاری

    توہین عدالت کی درخواست،چیف سیکرٹری پنجاب کو نوٹس جاری

    لاہور ہائیکورٹ، چیف سیکرٹری زاہد اختر زمان کیخلاف توہین عدالت کی درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے توہین عدالت درخواست پر چیف سیکرٹری پنجاب کو 21 دسمبر کیلئے نوٹس جاری کر دیئے،جسٹس عابد عزیز شیخ نے ڈاکٹر اظہر احسان بٹ کی درخواست پر سماعت کی،درخواست گزار کی طرف سے میاں دائود ایڈووکیٹ پیش ہوئے ،عدالت میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ درخواست گزار کو ویڈ لاک پالیسی کے برعکس گجرات سے تونسہ شریف ٹرانسفر کردیا گیا ،عدالت نے چیف سیکرٹری پنجاب کو ایک ماہ میں پالیسی کے مطابق فیصلہ کرنے کا حکم دیا ،ایک ماہ گزرنے کے باوجود چیف سیکرٹری نے درخواست پر فیصلہ نہیں کیا ،چیف سیکرٹری نے حکم عدولی کرکے توہین عدالت کی،عدالت چیف سیکرٹری زاہد اختر زمان کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کرے

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر معاملہ؛ اعظم خان کے بعد فارن سیکرٹری بھی عمران خان کیخلاف گواہ بن گئے

    سائفر کیس، عمران خان کو بیٹوں سے بات کروانے کی اجازت

  • این اے 35 کوہاٹ کی حلقہ بندی کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

    این اے 35 کوہاٹ کی حلقہ بندی کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے این اے 35 کوہاٹ کی حلقہ بندی کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا، دوران سماعت بیرسٹر عمر اعجاز گیلانی نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے کچھ حلقے چھوٹے اور کچھ بڑے بنائے ہیں نئی حلقہ بندیوں میں کچھ حلقوں میں آبادی 6 لاکھ اور کچھ کی 13 لاکھ ہے،الیکشن کمیشن کے وکیل نے عدالت میں کہا کہ الیکشن کمیشن حلقہ بندیوں میں ضلعی حدود کا پابند ہے اسی لیے کچھ حلقے بڑے اور کچھ چھوٹے ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بادی النظر میں درخواست گزار کا مؤقف قانونی طور پر مضبوط ہے الیکشن کمیشن کا مؤقف بھی زمینی حقائق کے مطابق ہے،عدالت نے استفسار کیا کہ کیا آپ کہہ رہے ہیں کہ پورے ملک میں حلقہ بندیاں قانون کے خلاف ہوئی ہیں؟

    وکیل بیرسٹر عمر اعجاز گیلانی نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے پورے ملک کی حلقہ بندیوں میں سیکشن 20 کی خلاف ورزی کی ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر ہم سیکشن 20 کے تحت چلیں اور تمام حلقوں کی آبادی کو برابر کریں تو نئی حلقہ بندیاں کرنی پڑیں گی نئی حلقہ بندیوں سے انتخابات میں تاخیر ہوسکتی ہے جس پر کچھ لوگ بہت خوش ہوں گے،

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے عام انتخابات کے لئے ملک میں حتمی حلقہ بندیوں کی اشاعت کر دی ہے،الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مطابق ملک بھر سے قومی اسمبلی کی جنرل نشستوں کے 266 ، صوبائی اسمبلیوں کی جنرل نشستوں کے593 حلقے ہوں گے،حتمی حلقہ بندیوں کے مطابق اسلام آباد کی قومی اسمبلی کی 3 جنرل نشستیں ہوں گی، پنجاب میں قومی اسمبلی کی 141 اور صوبائی اسمبلی کی 297 جنرل نشستیں ہوں گی،سندھ میں قومی اسمبلی کی 61 اور صوبائی اسمبلی کی 130 جنرل نشستیں ہوں گی،

    ہمارا بھٹو تو واپس نہیں آئے گا، ہمیں امید ہے غلط فیصلے کو غلط کہا جائے گا

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بہت ہی اہم خبر لے کر آیا ہوں، 

    مبش لقمان کا کہنا تھا کہ ضیا الحق کی مدد کرنے والوں میں نواز شریف سب سے آگے تھے

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    وزیراعظم سمیت کروڑوں کا ڈیٹا لیک،سیاست کا 12واں کھلاڑی کون

    سپریم کورٹ کے ہاتھ 40 برسوں سے شہید ذوالفقار علی بھٹو کے لہو سے رنگے ہوئے

  • العزیزیہ ریفرنس،عدالت نے فیصلہ سنا دیا، نواز شریف بری

    العزیزیہ ریفرنس،عدالت نے فیصلہ سنا دیا، نواز شریف بری

    نواز شریف کی اپیل پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے العزیزیہ ریفرنس میں اپیل منظور کرتے ہوئے نواز شریف کو بری کر دیا،عدالت نے اپیل منظور کرتے ہوئے سزا کالعدم قرار دیدی،احتساب عدالت کے فیصلے کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے معطل کردیا

    نواز شریف عدالت میں پیش ہوئے،اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے، نواز شریف کی العزیزیہ ریفرنس میں اپیل پر سماعت ہوئی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کیس کی سماعت کی، سابق وزیر اعظم نواز شریف اپنی لیگل ٹیم کے ہمراہ کمرہ عدالت میں موجود تھے،نواز شریف کے وکلاء اعظم نذیر تارڑ، امجد پرویز جبکہ نیب کی لیگل ٹیم روسٹرم پر موجود تھی،نیب کی جانب سے لیگل ٹیم میں نعیم طارق سنگیڑا، محمد رافع مقصود اور اظہر مقبول شاہ عدالت پیش ہوئے،نواز شریف کے وکیل امجد پرویز نے اپنے دلائل کا آغاز کر دیا.

    نواز شریف کے وکیل امجد پرویز روسڑم پر آگئے ، اور کہا کہ زیر کفالت کے ایک نکتے پر صرف بات کرنا چاہتا ہوں،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ آپ کے دلائل تو مکمل ہوگئے ہیں،امجد پرویز ایڈوکیٹ نے کہا کہ میں صرف ایک نکتے زیر کفالت کے معاملے پر بات کرنا چاہتا ہوں،عدالت نے استفسار کیا کہ کیا نیب نے نواز شریف کے زیر کفالت سے متعلق کچھ ثابت کیا ہے؟ وکیل امجد پرویز ایڈوکیٹ نے کہا کہ استغاثہ کے اسٹار گواہ واجد ضیاء نے اعتراف کیا تھا کہ زیر کفالت سے متعلق کوئی شواہد موجود نہیں ہیں،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ نیب نے کوئی ثبوت دیا کہ اپیل کنندہ کے زیر کفالت کون تھے؟ امجد پرویز نے کہا کہ بے نامی کی تعریف سے متعلق مختلف عدالتی فیصلے موجود ہیں،ہم نے ٹرائل کورٹ کے سامنے بھی اعتراضات اٹھائے تھے، امجد پرویز ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے مختلف حصے پڑھ رہے ہیں، عدالت نے استفسار کیا کہ کس بنیاد پر کہا گیا کہ ان شواہد کی بنیاد پرثبوت نواز شریف پر منتقل ہوگیا ہے، وکیل امجد پرویز نے کہا کہ پانامہ کیس میں سپریم کورٹ میں حسیں نواز کی دائر کردہ متفرق درخواستوں پر انحصار کیا گیا ہے،اگر ان متفرق درخواستوں کو تسلیم کر لیا جائے تو پھر بھی ثابت نہیں ہوتا کہ نواز شریف اسٹیل مل کے کبھی مالک رہے ہوں ، جن متفرق درخواستوں پر ٹرائل کورٹ نے انحصار کیا ہے،ٹرائل کورٹ نے ان متفرق درخواستوں کو ریکارڈ کا حصہ نہیں بنایا ،ٹرائل کورٹ نے تین چیزوں پر انحصار کیا،ٹرائل کورٹ نے پانامہ کیس میں دائر سی ایم اے کو بنیاد بنایا،تینوں سی ایم اے حسن نواز، مریم نواز اور حسین نواز نے جمع کرائیں،نواز شریف کی جانب سے ایک بھی سی ایم اے جمع نہیں کرائی گئی،ٹرائل کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ یہ جمع کرائی گئی سی ایم ایز مجرمانہ مواد ہیں، ایک بھی سی ایم اے ثابت نہیں کرتی کہ نواز شریف ان اثاثوں کے مالک ہیں، استغاثہ اپنا کیس ثابت کرنے میں ناکام ہوئے تو شریک ملزم کے بیان پر انحصار نہیں کیا جاسکتا ، حسین نواز نے ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ جائیداد کا والد سے تعلق نہیں ، حسین نواز کے ٹی وی انٹرویو پر انحصار کیا گیا ہے، نواز شریف کی قومی اسمبلی میں تقریر پر بھی انحصار کیا گیا، امجد پرویز نے مختلف عدالتی فیصلوں کے حوالے دیئے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ یہ جو سی ایم ایز دائر کی گئی تھیں ان میں کیا تھا؟وکیل امجد پرویز نے کہا کہ سی ایم ایز کو ریکارڈ پررکھا ہی نہیں گیا، سی ایم ایز کے ساتھ منسلک دستاویزکو ریکارڈ پر رکھا گیا،ان سی ایم ایز میں یہ کہیں نہیں لکھا کہ نواز شریف کی ملکیت تھی،بلکہ یہ لکھا تھا کہ نواز شریف کا تعلق نہیں،یہ ایک اصول ہے کہ کسی ایک مقدمے کے ثبوت کو کسی دوسرے مقدمے میں نہیں پڑھا جا سکتا،خصوصی طور پر جب دونوں مقدمات کی نوعیت الگ الگ ہو،حسین نواز کے کیپیٹل ٹاک کے انٹرویو پر بھی انحصار کیا گیا،حالانکہ اس انٹرویو میں بھی حسین نواز کہہ رہے ہیں کہ نواز شریف کا تعلق نہیں،عدالتی فیصلے میں کہا گیا مقدمات میں ملزم کو معصوم سمجھا جاتا ہے اور استغاثہ کو الزام ثابت کرنا ہوتے ہیں،ملزم کو اپنی معصومیت ثابت کرنے کیلئے مجبور نہیں کیا جاسکتا،یہی قانون اثاثوں کے مقدمات میں بھی لاگو ہوا ہے،عدالتی فیصلے میں کہا گیا مقدمات میں ملزم کو معصوم سمجھا جاتا ہے،فیصلے میں کہا گیا کہ مقدمات میں استغاثہ کو الزام ثابت کرنا ہوتے ہیں،فیصلوں کے مطابق بار ثبوت استغاثہ پر ہوتا ہے، نہ کہ ملزم پر، پراسیکیوشن نے آمدن اور اثاثوں کی قیمت بتانا تھی،پراسیکیوشن نے ثابت کرنا تھا کہ جن کے نام اثاثے ہیں وہ تو زیر کفالت ہیں، پراسیکیوشن نے ثابت کرنا تھا کہ بے نامی جائیداد بنائی گئی،اگر اس متعلق کوئی ثبوت نہیں دیا گیا تو یہ آمدن سے زائد اثاثوں کا کیس نہیں بنتا،

    وکیل امجد پرویز نے نواز شریف کو العزیزیہ ریفرنس سے بری کرنے کی استدعا کر دی ،وکیل امجد پرویز کے دلائل مکمل ، نیب کی جانب سے دلائل کا آغاز کر دیا گیا،نیب پراسیکوٹر نعیم طارق سنگیڑا نے کہاکہ سپریم کورٹ نے 28 جولائی کے فیصلے میں ریفرنس تیار کرکے دائر کرنے کی ہدایت کی، نیب نے اپنی تفتیش کی،اثاثہ جات کیس میں تفتیش کے دو تین طریقے ہی ہوتے ہیں،ہم نے جو شواہد اکٹھے کئے وہ ریکارڈ کا حصہ ہیں،،نیب ریفرنسز میں تفتیش کے لیے سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی بنائی،سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد نیب نے بے نامی اثاثوں کی تفتیش کی،اس کیس میں فرد جرم احتساب عدالت نمبر ایک کے جج محمد بشیر نے عائد کی تھی،اس میں 161 کے بیانات بھی ہیں،نیب وکیل کی جانب سے ریفرنس کی چارج شیٹ پڑھی گئی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے نیب پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ بنیادی طور پر اس کیس میں العزیزیہ اور ہل میٹل کے الزامات ہیں، العزیزیہ میں پہلے بتائیں کتنے پیسے بھیجے کیسے بھیجے کب فیکٹری لگی ؟، یہ بتائیں کہ العزیزیہ سٹیل ملز اور ہل میٹل کب بنی تھیں؟ آپ پراسیکیوٹر تھے، بتائیں آپ کے پاس کیا شواہد تھے؟ آپ بتائیں کہ آپ نے کس بنیاد پر بار ثبوت ملزم پر منتقل کیا؟قانون کو چھوڑیں، قانون ہم نے پڑھے ہوئے ہیں، آپ سیدھا مدعے پر آئیں، کوئی ریکارڈ پر ثبوت ہوگا؟ کوئی گواہ موجود ہوگا؟ ذرا نشاندہی کریں،

    نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ فرد جرم عائد کرتے ہوئے عدالت نے ملزمان معلوم زرائع لکھے، نواز شریف پرکرپشن اور کرپٹ پریکٹس کے الزام کے تحت فرد جرم عائد کی گئی،ایس ای سی پی، بنک اور ایف بی آر کے گواہ عدالت میں پیش ہوئے، یہ وائٹ کالر کرائم کا کیس ہے، پاکستان میں موجود شواہد اکٹھے کئے ہیں،بیرون ملک شواہد کے حصول کے لیے ایم ایل اے لکھے گئے ، عدالت نےکہا کہ آپ یہ بتائیں وہ کون سے شواہد ہیں جن سے آپ انکا تعلق کیس سے جوڑ رہے ہیں، جائیدادوں کی مالیت سے متعلق کوئی دستاویز تو ہوگا ؟

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ شواہد میں جانے سے پہلے ایک کنفیوژن دور کرنا چاہوں گا،آخری سماعت پر آپ نے کہا تھا کہ فیصلہ دوبارہ تحریر کرنے کیلئے ٹرائل کورٹ ریمانڈ بیک کیا جائے،ہم نے ابھی تک کوئی آرڈر جاری نہیں کیا، آپ اس اپیل پر میرٹ پر دلائل دے کر سزا برقرار رکھ سکتے ہیں،نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ العزیزیہ ریفرنس کو دوبارہ احتساب عدالت بھیجنے کی استدعا کی تھی، جج سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے اور اُس کے نوکری سے برطرف ہونے کے بعد اِس فیصلے کو درست نہیں کہا جا سکتا،العزیزیہ ریفرنس کا احتساب عدالت کا یہ فیصلہ متعصبانہ ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ہم نے ارشد ملک سے متعلق درخواست پر گزشتہ سماعت پر کوئی حکم نامہ جاری نہیں کیا تھا،یہ تو آپ نے کہا تھا کہ آپ اس درخواست پر مزید کارروائی نہیں چاہتے ،نیب وکیل کی بات درست ہے کہ سپریم کورٹ کے ارشد ملک کیس کے فیصلے میں آبزرویشنز کافی مضبوط ہیں،وہ درخواست اگر نہ بھی ہوتی، تب بھی اگر وہ فیصلہ ہمارے سامنے آجاتا تو ہم اس کو ملحوظ خاطر رکھتے،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ نیب تو آپ پر احسان کر رہا ہے، آپ کیوں لینے سے انکاری ہیں؟،العزیزیہ کا فیصلہ کالعدم ہوجائے گا اور آپ کے موکل مجرم نہیں رہیں گے، نواز شریف کے وکلاء نے کہا کہ احسان بھی تو دیکھیں کیسا ہے،اگر یہ معاملہ واپس ٹرائل کورٹ ہی جانا ہے تو بعد میں بھی ہمیں یہیں آنا پڑے گا، نیب پراسیکوٹر نےایک بار پھر کیس ریمانڈ بیک کرنے کی استدعا کر دی،اسلام آباد ہائیکورٹ نے نیب پراسیکوٹر کی ایک بار پھر کیس ریمانڈ بیک کرنے کی استدعا مسترد کر دی ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس کیس کو میرٹ پر سن کر فیصلہ کریں گے، آپ کو میرٹ پر دلائل دینے میں کتنا وقت چاہیے؟ نیب وکیل نے کہا کہ دلائل میں شواہد بتائیں گے پھر ان کا تعلق جوڑنے کی کوشش کریں گے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ چلیں پھر آپ میرٹ پر دلائل دیں، ہم میرٹ پر سن لیتے ہیں،نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ میں اپنے دلائل آدھے پونے گھنٹے میں مکمل کر لوں گا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ آپ پونے گھنٹے میں اپنے دلائل مکمل کریں،اپیل سننے کا یہی مقصد ہوتا ہے کہ جو فیصلہ دیا گیا اس کیلئے شواہد بھی موجود تھے یا نہیں،آپ نے بتانا ہے کرپشن اور کرپٹ پریکٹسز سے یہ رقم سعودی عرب بھیجی گئی ،نیب کے گواہ واجد ضیا خود مان رہے ہیں کہ کوئی ثبوت نہیں ،اس دستاویز کو درست بھی مان لیا جائے تو یہ ثابت نہیں ہوتا کہ نواز شریف کا العزیزیہ اور ہل میٹل کے ساتھ کوئی تعلق ہے ،نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ واجد ضیا نے analysis کیا کہ نواز شریف ہی اصل مالک ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ واجد ضیا تو خود مان رہا کہ ملکیت ثابت کرنے کا کوئی ثبوت نہیں، نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ہمارا کیس ہی واجد ضیا کے analysis کی بنیاد پر ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ اس ڈاکومنٹ سے کچھ ثابت نہیں ہوتا، مفروضے پر تو کبھی بھی سزا نہیں ہوتی ہے،نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ریکارڈ میں زیادہ تر دستاویزات فوٹو کاپیز ہیں ،عدالت نے کہا کہ فوٹو کاپیز عدالتی ریکارڈ کا حصہ کیسے بن سکتی ہیں ؟ اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ہمیں آج تک فوٹو کاپی کی بھی مصدقہ نقل نہیں ملی ،نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ نواز شریف کے بیٹوں کے پاس اتنے ذرائع نہیں تھے کہ وہ مِلیں لگا لیتے، عدالت نے کہا کہ یہ بتائیں کہ نواز شریف کا تعلق کیسے بنتا ہے؟ نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ یہی بتا رہا ہوں کہ نواز شریف کے بیٹوں کے پاس اتنے ذرائع موجود ہی نہیں تھے،عدالت نے کہا کہ مفروضے پر تو بات نہیں ہو سکتی، یہ بتائیں کہ نواز شریف نے کیسے کرپشن اور کرپٹ پریکٹیسز سے پیسہ باہر بھیجا؟ سٹار گواہ واجد ضیاء کہہ چکا کہ اسکا کوئی ثبوت نہیں، یہ بات بھی سامنے ہے کہ میاں محمد شریف کا کاروبار تھا،

    نواز شریف کی العزیزیہ ریفرنس میں سزا کیخلاف اپیل پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا تھا جو اب سنا دیا گیا ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ نے العزیزیہ ریفرنس میں اپیل منظور کرتے ہوئے نواز شریف کو بری کر دیا

    آئے روز وزیراعظم کو اتار دیا جائےتو پھر ملک کیسے چلے گا ،نواز شریف

    قصے،کہانیاں سن رہے ہیں،یہ کردار تھا ان لوگوں کا،نواز شریف کا عمران خان پر طنز

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

  • سپریم کورٹ،بھٹو کی پھانسی سے متعلق صدارتی ریفرنس کی سماعت جنوری تک ملتوی

    سپریم کورٹ،بھٹو کی پھانسی سے متعلق صدارتی ریفرنس کی سماعت جنوری تک ملتوی

    سپریم کورٹ میں بھٹو قتل صدراتی ریفرنس کی سماعت ،کمرہ عدالت میں سابق صدر آصف زرداری سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو، سینیٹر رضا ربانی، نئیر بخاری موجود ہیں ،پی پی رہنما نثار کھوڑو، ناصر شاہ، ڈاکٹر شیریں مزاری، ڈاکٹر نفیسہ شاہ اور دیگر بھی موجود ہیں

    سابق وزیر اعظم ذولفقار بھٹو کے قتل سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سماعت شروع ہو گئی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا نو رکنی لارجر بینچ سماعت کررہا ہے۔چیف جسٹس کی سربراہی میں لارجر بینچ میں جسٹس سردار طارق ، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس یحییٰ آفریدی شامل ہیں،جسٹس امین الدین خان ، جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس محمد علی مظہر بھی لارجر بینچ کا حصہ ہیں،جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس مسرت ہلالی بھی صدارتی ریفرنس کی سماعت کے لارجر بینچ میں شامل ہیں

    فاروق ایچ نائیک اور اٹارنی جنرل عدالت میں پیش ہوئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نےکہا کہ ہم یہ کاروائی براہ راست نشر کر رہے ہیں ،آپ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ اور یوٹیوب پر کیس براہ راست دیکھ سکتے ہیں،آپ کی درخواست سے پہلے ہی ہم نے انتظام کر لیا تھا، فاروق ایچ نائیک کی جانب سے کاروائی براہ راست نشر کرنے پر اظہار تشکر کیا گیا ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ شکریہ کی بات نہیں یہ اہم سماعت ہے، ہم صدارتی ریفرنس شروع کر رہے ہیں،اٹارنی جنرل صاحب آپ آغاز کریں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ مجھے کوئی ہدایات نہیں ملی کہ یہ ریفرنس نہ سنا جائے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے کہا کہ یہ صدارتی ریفرنس ہے تو کیا حکومت اس کو اب بھی چلانا چاہتی ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ مجھے ہدایات ہیں کہ صدارتی ریفرنس کو حکومت چلاناچاہتی ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ ریفرنس 15 صفحات پر مشتمل ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ صدارتی ریفرنس میں صدر صاحب ہم سے کیا چاہتے ہیں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ کیس آخری بار 2012 میں سنا گیا، بلاول بھٹو نے فریق بننے کی درخواست دے دی،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ میں بلاول بھٹو کی نمائندگی کرونگا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پہلے یہ دیکھ لیتے ہیں کون کس کی نمائندگی کرتا ہے، ہم آپ کو ورثا کے طور پر بھی سن سکتے ہیں اور بحثیت سیاسی جماعت کے طور پر بھی،

    عدالت نے ریفرنس میں پیش ہونے والے وکلا کے نام لکھ لیے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سپریم کورٹ کی کارروائی پہلے پاکستان ٹیلی ویژن پر نشر کرتے تھے،اب ہماری کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر کارروائی لائیو ہوگی،کون سے صدر نے یہ ریفرنس بھیجا تھا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ ریفرنس صدر زرداری نے بھیجا تھا, چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ اس کے بعد کتنے صدر آئے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ ان کے بعد دو صدور آ چکے ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کسی صدر نے یہ ریفرنس واپس نہیں لیا، سپریم کورٹ کی جانب سے پہلے ریفرنس مقرر نہ کئے جانے پر افسوس کا اظہار کرتا ہوں، احمد رضا قصوری نے کہا کہ اس کیس میں مجھے بھی سنا جائے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہر قانونی وراث کا حق ہے کہ اسے سنا جائے، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آپ ریفرنس کا ٹائٹل پڑھیں،اٹارنی جنرل نے ریفرنس میں اُٹھائے گئے سوالات عدالت کے سامنے رکھ دیئے،ریفرنس میں جج کے تعصب سے متعلق آصف زرداری کیس 2001 کا بھی حوالہ دیا گیا،جسٹس مسرت ہلالی نے استفسار کیا کہ کیا لاہور ہائی کورٹ میں ٹرائل کے دوران بنیچ پر اعتراض کی کوئی درخواست دی گئی،اٹارنی جنرل نے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق کئی درخواستیں دی گئی تھی، ،اٹارنی جنرل نے جسٹس (ر)نسیم حسن شاہ کے انٹرویو کا حوالہ دیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ یہ انٹرویو کس کو دیا گیا تھا، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ یہ انٹرویو جیو پر پروگرام جوابدہ میں افتخار احمد کو دیا گیا تھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا افتخار احمد اب بھی جیو میں موجود ہے، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ اب وہ جیو میں نہیں ہے، انٹرویو موجود ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ دو انٹرویو کا ذکر کیا گیا ہے، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ دوسرا انٹرویو کسی انجان کو دیا گیا ، دوسرے انٹرویو میں نسیم حسن شاہ نے کہا مارشل لاء والوں کی بات ماننی پڑتی ہے، احمد رضا قصوری روسٹروم پر آگئےماحمد رضا قصوری نے نسیم حسن شاہ کے نوائے وقت کے انٹرویو کا حوالہ دیامجسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ کیا آپ نسیم حسن شاہ کے انٹرویو پر انحصار کریں گے، جسٹس نسیم حسن شاہ نے یہ بتایا کہ کس نے ان پر دباو ڈالا تھا،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ اس وقت مارشل لا تھا تو مارشل لا کی بات کی گئی،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ایک سینئر ممبر بینچ میں شامل نہیں ہونا چاہتے تھے، دو اور ججز نے ذاتی وجوہات پر معذت کی، اس کے بعد 9 رکنی بنچ تشکیل دیا گیا، احمد رضا قصوری نے کہا کہ ریفرنس میں کوئی قانونی سوال نہیں اٹھایا تھا، بابر اعوان بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئے تھے،جسٹس میاں محمد علی مظہر نے کہا کہ کیا اس میں ضمنی ریفرنس بھی آیا تھا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ متفرق درخواست کے ساتھ چیزیں آئی تھیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سپریم کورٹ آرڈر میں اس کا ذکر کیوں تھا،اٹارنی جنرل نے کہا کہ 21 اپریل 2011 کو صدارتی حکمنامہ جاری کیا گیا تھا، جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ بھٹو ریفرنس میں تو کوئی سوالات تھے ہی نہیں تو سپلیمنٹری ریفرنس داخل کیوں کیا گیا؟اٹارنی جنرل نے کہا کہ صدارتی حکمنامے کے ذریعے بھٹو ریفرنس کے سوالات فریم کیے گئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ صدارتی ریفرنس کس وکیل نے دائر کیا؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ صدارتی ریفرنس 2011 میں بابر اعوان کے ذریعے دائر کیا گیا لیکن ان کا لائسنس دو سال کیلئے منسوخ ہوا، احمد رضا قصوری نے کہا کہ صدارتی ریفرنس کی 2012 میں سماعت کے دوران بابر اعوان سے سخت سوالات ہوئے،بابر اعوان کے پاس عدالتی سوالات کا جواب نہیں تھا تو وہ مشتعل ہوئے اور عدالت نے ان کا لائسنس منسوخ کیا،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ آپ ریفرنس کے سوالات پڑھیں، اس کیس میں کئی وکلا وفات پاچکے،اس کیس میں عدالتی معاونین مقرر کریں گے ، ناموں کا فیصلہ بعد میں کرتے ہیں،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ میں انٹرویوز کا ٹرانسکریپٹ اور ویڈیوز پیش کروں گا،احمد رضا قصوری نے کہا کہ تو یہ چیزیں تو میں نے دینی تھی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ وہ دیتے اور صفائی میں آجاتے،ایس ایم ظفر اور مختلف وکلا استعمال کرچکے ہیں ،علی احمد کرد صاحب کیا آپ معاونت کرینگے، علی احمد کرد نے کہا کہ جی میں معاونت کروں گا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا اعتزاز احسن اس کیس میں آئینگے؟ معاون وکیل اعتزاز احسن نے کہا کہ اعتزاز وکیل بھی ہیں بطور معاون نہیں آئینگے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ تقریر نہ کریں ہاں یا نہ میں بتائیں، معاون وکیل نے کہا کہ نہیں وہ بطور معاون نہیں آئینگے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ قاضی اشرف بھی اس کیس میں معاون تھے،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ قاضی اشرف تندرست ہیں اور پریکٹس کررہے ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا پولیس سے کیس کا اصل ریکارڈ ملا تھا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ریکارڈ اصل نہیں ملا، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ریکارڈ کے تین بنڈل آئے تھے ،

    جسٹس منصور علی شاہ نے صدارتی ریفرنس پر سوالات اٹھا دیئے ، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ سپریم کورٹ بھٹو کیس میں فیصلہ سنا چکی اور نظرثانی بھی خارج ہو چکی،ایک ختم ہوئے کیس کو دوبارہ کیسے دیکھ سکتے ہیں؟ سپریم کورٹ دوسری نظرثانی نہیں سن سکتی، ایک معاملہ ختم ہو چکا ہے، عدالت کو یہ تو بتائیں کہ اس کیس میں قانونی سوال کیا ہے،فیصلہ برا تھا تو بھی سپریم کورٹ کا فیصلہ حتمی ہے بدلا نہیں جا سکتا،یہ آئینی سوالات ہیں جن کا جواب ضروری ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے فاروق ایچ نائیک سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ عدالت کو کوئی قانونی حوالہ تو دیں،آرٹیکل 186 کے تحت دائر صدارتی ریفرنس کے ذریعے سپریم کورٹ کے فیصلوں پر نظرثانی نہیں ہو سکتی،اب ہم بھٹو فیصلے کو چھو بھی نہیں سکتے، عدالت کو بتائیں کو جو معاملہ حتمی ہو کر ختم ہو چکا اسے دوبارہ کیسے کھولیں؟ فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ بھٹو کیس عوامی اہمیت کا حامل کیس تھا، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ عوامی اہمیت کا حامل سوال صدر نے دیکھنا تھا عدالت قانونی سوال دیکھے گی، جو بھی کیس ہو عدالت قانونی سوالات کے بغیر فیصلہ کیسے کر سکتی ہے؟عدالت کس قانون کے تحت یہ ریفرنس چلائے؟ کیا جب یہ سارا کیس چلا مُلک میں آئین موجود تھا ؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ اُس وقت ملک میں مارشل لاء تھا ،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ کیس میں جو شکایات دائر ہوئی تھی اس کا ریکارڈ موصول نہیں ہوا تھا،عدالت نے حکم نامے میں رجسٹرار لاہور ہائی کورٹ کو سارا ریکارڈ فراہم کرنے کا کہا تھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جو ٹریبونل بنایا تھا اس کا کیا نام تھا ؟ فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ٹریبونل نے دیکھنا تھا کہ ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف مقدمات درست تھے یا نہیں،ٹریبونل نے ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف تمام مقدمات کو جعلی قرار دیا تھا ،اب معلوم نہیں اس ٹریبونل کا ریکارڈ کہاں ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ چاہتے ہیں کہ یہ ریفرنس کھبی نہ سنا جائے تو اعتراض اٹھاتے رہیں،ہمارے سامنے وہ بات کریں جو سامنے موجود ہے،ایسا کرنا ہے تو ایک درخواست دے دیں کہ کس کس کو احکامات دیئے جائیں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ شفیع الرحمان ٹریبونل رپورٹ کو پبلک کیا تھا،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ پھانسی کا فیصلہ سپریم کورٹ سے برقرار رہا اور نظرثانی کی اپیل بھی مسترد ہوئی ،اٹارنی جنرل آپ ہمیں اب اس ریفرنس کے قابل سماعت ہونے پرمطمئن کریں، آپ ہمیں بتائیں ارٹیکل 186 کے تحت قانونی سوال کیا ہے؟جو فیصلہ حتمی ہوچکا ہے اس کو ٹچ نہیں کرسکتے ،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے حکم نامہ لکھوانا شروع کر دیا، حکمنامہ میں کہا گیا کہ آرٹیکل 186 کے تحت صدارتی ریفرنس دائر کر دکیا گیا،آخری بار ریفرنس 2012 میں سنا گیا،بدقسمتی سے یہ ریفرنس اس کے بعد سنا نہیں گیا اور زیر التوا رہا،فاروق اییچ نائیک نے بلاول بھٹو کی جانب سے فریق بننے کی درخواست دی،فاروق ایچ نائیک نے بتایا کہ ذوالفقار بھٹو کی صرف ایک بیٹی زندہ ہیں،عدالت کو بتایا گیا کہ ذوالفقار بھٹو کے 8پوتے پوتیاں،نواسے نواسیاں ہیں،ورثا کی جانب سے جو بھی وکیل کرنا چاہے کر سکتا ہے،بلاول بھٹو کی جانب سے براہ راست نشریات کی بھی درخواست دائر کی گئی،براہ راست نشریات کی درخواست غیر موثر ہو چکی،ہم آئینی معاملات پر بھی اور کریمنل معاملات پر بھی ماہر معاون مقرر کر دیتے ہیں ،

    جسٹس منظور ملک کو عدالتی معاون بنانے کا فیصلہ کیا گیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ خواجہ حارث،خالد جاوید خان اور سلمان صفدر کو بھی عدالتی معاون بنالیتے ہیں،کیا کسی کو ان معاونین پر اعتراض ہے؟ احمد رضا قصوری نےرضا ربانی پر اعتراض کیا، اور کہا کہ عدالتی معاونین نیوٹرل ہونے چاہئیں ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ صلاح الدین،زاہد ابراہیم ،فیصل صدیقی بھی معاون ہوسکتے ہیں ،ذوالفقار علی بھٹو کے ورثا اگر اپنا وکیل مقرر کرنا چاہے تو کرسکتے ہیں، ریفرنس پر آئندہ سماعت کب رکھیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ سردیوں کی چھٹیوں کے بعد کی تاریخ رکھیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اس بار کی چھٹیوں کے بعد ہی رکھیں نا ،آخری سماعت کب ہوئی تھی،یہ کیس گیارہ سال بعد مقرر کیوں ہوا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ جواب آپ نے دینا ہے،احمد رضا قصوری نے سماعت الیکشن کے بعد تک ملتوی کرنے کی استدعا کی اور کہا کہ یہ کیس الیکشن کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ قصوری صاحب اس ریفرنس کے بعد کئی ریفرنس آئے، اس وقت بھی الیکشن معاملات تھے مگر وہ ریفرنس سنے گئے، اب یہ ریفرنس دیر آئد درست آئد پر ہے،جنوری میں آئندہ سماعت ہوگی

    علی احمد کرد روسٹرم پر آگئے اور کہا کہ کئی عدالتی معاونین کا انتقال ہوچکا ہے، کیا عدالت ان کے لیے افسوس کا اظہار نہیں کرے گی؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کرد صاحب یہ کیس بھی سنجیدگی کا متقاضی ہے، اسے سنجیدگی سے دیکھنے دیں، آپ نے کوئی بیان دینا ہے تو میڈیا پر جا کردیں ،اٹارنی جنرل سے پوچھا گیا کیا صدارتی ریفرنس کبھی واپس لیا گیا ؟عدالتی حکم پر اٹارنی جنرل نے ریفرنس پڑھ کر سنایا ،ریفرنس میں مقرر کیے گئے معاونین کا انتقال ہوچکا ہے، ایک معاون علی احمد کرد ہیں جو معاونت پر بھی رضا مند ہوئے، مخدوم علی خان کے معاون وکیل نے بتایا کہ وہ معاونت کے لیے تیار ہیں ، آرٹیکل 186 کے اسکوپ کا معاملہ توجہ طلب ہے، کس نوعیت کی رائے دی جاسکتی ہے یہ بھی اہم معاملہ ہے،معاملے کے قابل سماعت ہونے پر فوجداری اور آئینی ماہرین کی رائے کیا ہوگی؟جسٹس (ر) منظور ملک کو بھی عدالتی معاون مقرر کیا جاتا ہے،عدالتی معاون تحریری یا زبانی طور پر معاونت کرسکتے ہیں،خواجہ حارث بطور ایڈووکیٹ جنرل پنچاب کیس کا حصہ رہ چکے ہیں، خواجہ حارث کو عدالتی معاون مقرر کیا جاتا ہے، سلمان صفدر ، رضا ربانی ، خالد جاوید ، ذاہد ابراہیم اور یاسر قریشی بھی معاون مقرر کرتے ہیں ،عدالتی معاونین فوجداری اور آئینی معاملات پر رائے دیں ،یفرنس میں ایک انٹرویو کابھی حوالہ بنایا گیا ہے،احمد رضا قصوری نے بھی نسیم حسن شاہ کی کتاب کا حوالہ دیا،فاروق نائیک نے جسٹس دراب پٹیل کے انٹرویو کا بھی حوالہ دیا،فاروق نائیک اسی انٹرویو کا ٹرانسکرپٹ بھی فراہم کرینگے،

    نسیم حسن شاہ کا انٹرویو فراہم کرنے کے لیے نجی ٹی وی چینل کو بھی نوٹس جاری کر دیا گیا،حکمنامہ میں کہا گیا کہ آخری سماعت پر سپریم کورٹ بار اور عاصمہ جہانگیر کو بھی نوٹس جاری کیا گیا تھا،سپریم کورٹ بار بھی وکیل مقرر کرنا چاہتے ہیں تو کرلیں، سابق جج منظور ملک کو عدالتی معاون مقرر کر دیا گیا،جسٹس ر منظور ملک کو عدالتی معاون مقرر کیا جاتا ہے،جسٹس ر منظور ملک کی معاونت ان کی رضامندی سے مشروط ہوگی، جسٹس ر منظور ملک کرمنل معاملات پر عدالت کی معاونت کیلئے تحریری جواب یا ذاتی حیثیت میں پیش ہو سکتے ہیں،فوجداری معاملات پر عدالت کی معاونت کیلئے خواجہ حارث کو بھی عدالتی معاون مقرر کیا جاتا ہے، بیرسٹر سلمان صفدر بھی عدالتی معاون مقرر کیے جاتے ہیں،مخدوم علی خان اور احمد علی کرد پہلے سے ہی عدالتی معاون مقرر ہیں،

    سپریم کورٹ کی جانب سے 9 افراد عدالتی معاون مقرر کر دیئے گئے، سپریم کورٹ نے کہا کہ معاونت کی جائے کہ ریفرنس میں عدالت سے کس قسم کی رائے درکار ہے؟ عدلت کی معاونت کی جائے کہ صدارتی ریفرنس قابل سماعت کیسے ہے؟ ریفرنس کے قابل سماعت ہونے پر فوجداری اور آئینی معاملات پر معاونین درکار ہوں گے،عدالت کے پہلے سے 10مقرر کردہ عدالتی معاونین میں سے6 کا انتقال ہو چکا،جیو نیوز ذوالفقار بھٹو کیس سے متعلق انٹرویوز اور کلپس کا ریکارڈ فراہم کرے ،سپریم کورٹ نے جسٹس دراب پٹیل کے انٹرویو کا ریکارڈ بھی طلب کر لیا،ججز کی دستیابی پر آئندہ سماعت کی تاریخ دی جائے گی،جنوری سے صدارتی ریفرنس کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر ہوگی، جنوری میں سماعت شروع ہونے پر کوئی التوا نہیں دیا جائے گا،،ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی سے متعلق صدارتی ریفرنس کی سماعت جنوری تک ملتوی کر دی گئی،تمام عدالتی معاونین کو نوٹس جاری کر دیئے گئے،

    بھٹو ریفرنس کی کاروائی براہ راست دکھائی گئی،گزشتہ روز پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے کاروائی براہ راست دکھانے کی درخواست دائر کی تھی، درخواست بلاول بھٹو کی جانب سے وکیل فاروق ایچ نائیک نے دائر کی، سپریم کورٹ میں‌دائر درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ریفرنس کی سماعت براہ راست نشر کی جائے،

    واضح رہے کہ سابق صدر آصف زرداری نے اپریل 2011 میں صدارتی ریفرنس سپریم کورٹ میں دائر کیا تھا، جس کے بعد ذوالفقار بھٹو سے متعلق صدارتی ریفرنس پر اب تک سپریم کورٹ میں 6 سماعتیں ہوچکی ہیں، اس وقت سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اپنی سربراہی میں 11 رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا تھا جس نے 3 جنوری 2012 سے 12 نومبر 2012 تک کیس کی 6 سماعتیں کیں لیکن کوئی فیصلہ نہ دیا، صدارتی ریفرنس پر آخری سماعت 9 رکنی لارجر بینچ نے کی تھی، اب تقریباً 11 برس کے طویل عرصے بعد ریفرنس دوبارہ سماعت کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بہت ہی اہم خبر لے کر آیا ہوں، 

    مبش لقمان کا کہنا تھا کہ ضیا الحق کی مدد کرنے والوں میں نواز شریف سب سے آگے تھے

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    وزیراعظم سمیت کروڑوں کا ڈیٹا لیک،سیاست کا 12واں کھلاڑی کون