Baaghi TV

Tag: عدالت

  • عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ضمانتوں میں توسیع

    عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ضمانتوں میں توسیع

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد،بانی چیئرمین پی ٹی آئی کی 6 اور بشریٰ بی بی کی 1 درخواست ضمانت کا معاملہ،
    درخواستوں پر سماعت ایڈیشنل سیشن جج طاہر عباس سپرا نے کی

    بشری بی بی لیگل ٹیم کے ہمراہ عدالت کے روبرو پیش ہوئیں،بانی چئیر مین پی ٹی آئی کے وکیل خالد یوسف چوہدری عدالت پیش ہوئے،وکیل صفائی نے کہا کہ بانی چئیر مین کی درخواست ضمانت انسداد دہشت گردی عدالت نے گزشتہ روز منظور کر لی ہے۔ جج طاہر عباس سپرا نے استفسار کیا کہ کس بنیاد پہ منظور کی ہیں۔ وکیل صفائی نے کہا کہ بانی چئیر مین جائے وقوعہ پہ موجود نہ تھے۔بانی چئیر مین پی ٹی آئی کی عدالت میں پیشی کے لئے عدالت نے رپورٹ طلب کر رکھی ہے۔ جج طاہر عباس سپرا نے استفسار کیا کہ رپورٹ کہاں ہے اور پراسیکیوٹر کہاں ہیں۔پولیس کی جانب سے خاموشی دیکھنے میں آئی،وکیل صفائی نے کہا کہ یہ جان بوجھ کر سابق وزیر اعظم کو عدالت میں پیش نہیں کر رہے – ہماری گزارش ہے عدالت میں پیش کیا جائے۔

    جج طاہر عباس سپرا نے کہاکہ جہاں آپ ہوں وہاں عدالت پیش ہو جاتی ہے، یہ روایت آپ نے ڈالی،وکیل صفائی نے کہاکہ ہم تو عدالتوں میں پیش ہوتے ہیں،درخواست ضمانت قبل ازگرفتاری میں ملزم کا عدالت میں ہونا ضروری ہے،جج طاہر عباس سپرا نے کہاکہ رپورٹ منگواتا ہوں آئندہ تاریخ تک طے کرتا ہوں سماعت کہاں ہوگی؟ عدالت نے سابق چیئرمین پی ٹی آئی کی عبوری ضمانت میں 19دسمبر اور بشریٰ بی بی کی ضمانت میں 2جنوری تک توسیع کردی ،عدالت نے کیس کی سماعت 19دسمبر تک ملتوی کردی

  • جن لوگوں نے جھوٹے کیس بنائے وہ بھی آج کٹہرے میں ہیں،حمزہ شہباز

    جن لوگوں نے جھوٹے کیس بنائے وہ بھی آج کٹہرے میں ہیں،حمزہ شہباز

    لاہور، احتساب عدالت نے سابق وزیرِ اعلیٰ پنجاب ن لیگی رہنما حمزہ شہباز کی مستقل حاضری معافی کی درخواست پر نیب سے جواب طلب کر لیا

    احتساب عدالت کے جج ملک علی ذوالقرنین اعوان نے سابق وزیرِ اعظم شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے خلاف ریفرنس پر سماعت کی،حمزہ شہباز عدالت میں پیش ہوئے ، شہباز شریف کے نمائندے انوار حسین بھی عدالت میں پیش ہوئے، عدالت نے رمضان شوگر مل ریفرنس میں حمزہ شہباز کی حاضری مکمل کی، نیب وکیل نے عدالت میں کہا کہ اس کیس میں بریت کی درخواستیں دائر ہوئی تھیں، اب یہ کیس گواہوں کے بیانات سے شروع ہو گا،احتساب عدالت نے کارروائی 12 جنوری تک ملتوی کر دی،

    عدالت پیشی کے موقع پر حمزہ شہباز نے میڈیاسے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ ہم عدالت سے سرخرو ہوئے ہیں،عمران خان کی حکومت میں ہم پر جھوٹے کیس بنائے گئے، آج نواز شریف بھی با عزت بری ہو رہے ہیں، جھوٹے کیس بنا کر قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا، جن لوگوں نے جھوٹے کیس بنائے وہ بھی آج کٹہرے میں ہیں، سب کو مل کر لوگوں کے مستقبل سے متعلق جامع حکمت عملی اپنانی چاہیے، میں سیاسی کارکن ہوں، میری امید اور دعا ہے کہ الیکشن وقت پر ہوں، لیول پلیئنگ فیلڈ انتخابات کے فیئر اینڈ فری ہونے کے لیے ضروری ہے

  • تاحیات نااہلی ،سپریم کورٹ کا عدالتی فیصلے اور الیکشن ایکٹ کی ترمیم میں تضاد پر نوٹس

    تاحیات نااہلی ،سپریم کورٹ کا عدالتی فیصلے اور الیکشن ایکٹ کی ترمیم میں تضاد پر نوٹس

    سپریم کورٹ نے تاحیات نااہلی کے معاملہ پر عدالتی فیصلے اور الیکشن ایکٹ کی ترمیم میں تضاد پر نوٹس لے لیا

    سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل اور تمام صوبائی ایڈوکیٹ جنرلز کو نوٹس جاری کردیئے ،تاحیات نااہلی کی مدت کے تعین کے معاملے کو لارجز بنچ کے سامنے مقرر کرنے کیلئے ججز کمیٹی کو بھجوا دیا گیا،کیس کی سماعت جنوری 2024 میں ہوگی، سپریم کورٹ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ موجودہ کیس کو انتخابات میں تاخیر کے آلہ کار کے طور پر استعمال نہیں کیا جائےگا،موجودہ کیس کا نوٹس دو انگریزی کے بڑے اخبارات میں شائع کیاجائے،سپریم کورٹ نے نوٹس میر بادشاہ قیصرانی کی تاحیات نااہلی کے کیس میں لیا

    کیس کی سماعت کے دوران جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ کیس 2018 کے انتخابات سے متعلق ہے،اب نئے انتخابات سر پر ہیں تو یہ قابل سماعت معاملہ کیسے ہے؟وکیل درخواست گزار ثاقب جیلانی نے کہا کہ موجودہ کیس کا اثر آئندہ انتخابات پر بھی ہوگا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ میر بادشاہ قیصرانی کو نااہل کیوں کیا گیا؟ وکیل درخؤاست گزار نے کہا میر بادشاہ قیصرانی کو جعلی ڈگری کی بنیاد پر 2007 میں نااہل کیا گیا، ہائیکورٹ نے 2018 کے انتخابات میں میر بادشاہ کو لڑنے کی اجازت دے دی, میر بادشاہ قیصرانی کو آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہل کیا گیا تھا،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ اگر کسی کی سزا ختم ہو جائے تو تاحیات نااہلی کیسے برقرار رہ سکتی ہے؟وکیل درخواست گزار نے کہا کہ جھوٹے بیان حلفی پر کاغذات نامزدگی جمع کرانے والے کو نااہل ہی ہونا چاہیے، سپریم کورٹ نے آرٹیکل 62 ون ایف کی تشریح پر پانامہ کیس میں فیصلہ دے دیا تھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کی تاحیات نااہلی کے معاملے پر دو آرا ہیں،نیب کیسز میں اگر تاحیات نااہلی کی سخت سزا ہے تو قتل کی صورت میں کتنی نااہلی ہوگی؟ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ قتل کے جرم میں سیاست دان کی نااہلی پانچ سال کی ہوگی،جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بچے کے ساتھ زیادتی جیسے سنگین جرم کی سزا بھی پانچ سال نااہلی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ تاحیات نااہلی اور آرٹیکل 62 ون ایف سے متعلق کوئی نیا قانون بھی آچکا ہے؟ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ حال ہی میں الیکشن ایکٹ میں ترمیم کر کے نااہلی کی زیادہ سے زیادہ مدت پانچ سال کر دی گئی ہے،جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن ایکٹ میں ترمیم کر کے پارلیمنٹ سپریم کورٹ کے فیصلے کا اثر ختم کر سکتی ہے، الیکشن ایکٹ میں سیکشن 232 شامل کر کے سپریم کورٹ کا آرٹیکل 62 ون ایف کا فیصلہ غیر موثر ہو چکا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن ایکٹ میں ترمیم کسی نے چیلنج نہیں کیں، جب الیکشن ایکٹ میں ترمیم چیلنج نہیں ہوئیں تو دوسرا فریق اس پر انحصار کرے گا، الیکشن ایکٹ میں آرٹیکل 232 شامل کرنے سے تو تاحیات نااہلی کا تصور ختم ہو گیا ہے،انتخابات سر پر ہیں، ریٹرننگ افسر، الیکشن ٹریبونل اور عدالتیں اس مخمصے میں رہیں گی کہ الیکشن ایکٹ پر انحصار کریں یا سپریم کورٹ کے فیصلے پر، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ الیکشن ایکٹ کا اطلاق موجودہ انتخابات پر ہوگا، الیکشن ایکٹ میں سیکشن 232 کی شمولیت کے بعد تاحیات نااہلی سے متعلق تمام فیصلے غیر موثر ہو گئے،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ امام قیصرانی 2007 کے انتخابات میں گریجویشن کی جعلی ڈگری پر نااہل ہوئے، 2018 کے عام انتخابات میں میر بادشاہ قیصرانی نے میٹرک کی بنیاد پر کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے، ہائیکورٹ نے میر بادشاہ قیصرانی کو انتخابات لڑنے کی اجازت دی، آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت میر بادشاہ قیصرانی تاحیات نااہل ہیں اور انتخابات نہیں لڑ سکتے تھے،سپریم کورٹ نے فیصلہ میں نا کہا تو نااہلی کے باوجود آئیندہ انتخابات لڑیں گے، میر بادشاہ قیصرانی کی سزا کے خلاف اپیل ہائیکورٹ میں زیر التوا ہے، سپریم کورٹ ہائیکورٹ کو حکم دے کہ اپیل پر فیصلہ کرے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سپریم کورٹ ہائیکورٹ کو حکم نہیں دے سکتی،ہم ہائیکورٹ پر مانیٹرنگ جج نہیں بیٹھے ہوئے، ہم ہائیکورٹ میں زیر التوا اپیل کے معاملے پر نہیں آئینی معاملے پر فیصلہ کریں گے، آرٹیکل 63 ون جی میں پاکستان کی تباہی کرنے والے کی نااہلی پانچ سال ہے، آرٹیکل 63 ون ایچ میں اخلاقی جرائم پر نااہلی تین سال ہے،لوگ شادی کے وقت جن شرائط پر رشتہ دیتے ہیں وہ پوری نہ ہوں تو شادی ختم تو نہیں ہوتی،یہ مثال صرف سمجھانے کی غرض سے دی ہے،امین تو صرف ہم ایک ہی شخصیت کو کہتے ہیں باقی کوئی اس درجہ پر نہیں پہنچ سکتا،ہر شخص ہر وقت سچ تو نہیں بولتا،اصل نااہلی تو آرٹیکل 63 میں ہے،پاکستان کی تباہی کرنے والے کو دوبارہ سیاست میں آنا ہی نہیں چاہیئے مگر اسکی نااہلی بھی پانچ سال ہے،آئین کی زبان کو دیکھنا ہوتا ہے ہر چیز آئین میں واضح درج نہیں،جو آئین میں واضح نہیں اس کی سپریم کورٹ تشریح کر سکتی ہے وضاحت نہیں،سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ کے سامنے نااہلی کی مدت کا معاملہ نہیں تھا،سپریم کورٹ کے فیصلے اور پارلیمنٹ کی قانون سازی دونوں کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا،پارلیمنٹ کی قانون سازی چلے گی یا سپریم کورٹ کا فیصلہ اونٹ کسی کروٹ تو بیٹھنا ہے،ایک طرف سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے دوسری جانب قانون،ریٹرننگ افسر کس پر انحصار کرے گا؟انتخابات آگئے ہیں مگر کسی کو پتا نہیں کہ وہ الیکشن لڑے گا یا نہیں.

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ وفاقی حکومت کی تاحیات نااہلی سے متعلق رائے کیا ہے؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ وفاق کی یہ رائے ہے کہ الیکشن ایکٹ کا سیکشن 232 سپریم کورٹ کے فیصلے سے بالا ہے، عدالت نے کہا کہ سپریم کورٹ کے سامنے قومی اور صوبائی اسمبلی کی نااہلی سے متعلق تین اپیلیں آئیں،سپریم کورٹ کے سامنے معاملہ 2008 اور 2018 کے انتخابات سے متعلق تھا، درخواست گزار کو جعلی ڈگری کی بنیاد پر نااہلی کے ساتھ 2 سال کی سزا بھی ہوئی،درخواست گزار کی نااہلی کی سزا کیخلاف اپیل لاہور ہائیکورٹ میں زیر التواء ہے،سپریم کورٹ صرف نااہلی کے سوال کو دیکھے گی، درخواست گزار کے وکیل کے مطابق میر بادشاہ قیصرانی کی نااہلی تاحیات ہے، جبکہ نااہلی کی مدت الیکشن ایکٹ کے سیکشن 232 میں 5 سال کی گئی ہے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے مطابق سیکشن 232 سپریم کورٹ کے تاحیات نااہلی کے فیصلے سے بالا ہوگا، جبکہ وکیل درخواست گزار کے مطابق سپریم کورٹ آئین کے آرٹیکل 62 ون میں تاحیات نااہلی کی تشریح کرچکی، وکلا کے مطابق الیکشن ایکٹ کے سیکشن 232 کو چیلنج نہیں کیا گیا، آئندہ انتخابات میں اس معاملے سے ریٹرننگ افسران کو کنفیوژن ہوگیریٹرننگ افسر الیکشن ایکٹ پر انحصار کرے یا سپریم کورٹ کے فیصلے پر یہ ابہام جمہوریت کیلئے ٹھیک نہیں ، یہ بھی خدشہ ہے کہ الیکشن ٹربیونل اور عدالتیں غیر ضروری مقدمہ بازی میں پھنس جائیں گی،ایڈیشنل اٹارنی کے مطابق یہ آئینی تشریح کا معاملہ ہے اور لارجر بینچ کے سامنے مقرر ہونا چاہیے ،نااہلی سے متعلق معاملہ بنچ کی تشکیل کیلئے ججز کمیٹی کو بھجوایا جاتا ہے، اٹارنی جنرل اور تمام ایڈوکیٹ جنرلز کو معاونت کیلئے نوٹس کیا جاتا ہے، نااہلی سے متعلق معاملے پر معاونت کیلئے الیکشن کمیشن کو بھی نوٹس کیا جاتا ہے،

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ملک میں اس وقت بے یقینی کی صورتحال ہے،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب آپ نے یہ بے یقینی والی بات دوبارہ نہیں کرنی، انتخابات 8 فروری کو ہی ہونگے، غیر یقینی کی بات کرنے والا توہین عدالت کا مرتکب ہوگا، موجودہ کیس کو الیکشن کمیشن سمیت کوئی انتخابات میں تاخیر کیلئے استعمال نہیں کرے گا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ تاحیات نااہلی بارے سپریم کورٹ کا فیصلہ اور الیکشن ایکٹ دونوں ایک ساتھ نہیں چل سکتے،الیکشن ایکٹ میں ترمیم اور سپریم کورٹ کے فیصلے میں سے کسی ایک کو برقرار رکھنا ہوگا، سنگین غداری جیسے جرم پر نااہلی پانچ سال ہے تو نماز نہ پڑھنے والے یا جھوٹ بولنے والے کی تاحیات نااہلی کیوں؟ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کے بعد اس آئینی تشریح پرکم سے کم پانچ ججز کا بنچ بننا چاہیے، عدالت نے وکیل درخواست گزار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیس ہارنے یا جیتنے سے بہتر عدالت کی معاونت کرنا ہوتا ہے،آپ کے توسط سے یہ کنفیوژن دور ہوجائے گی،

    فیصل واوڈا جو بوٹ لے کر گئے وہ میرے بچوں کا ہے، خاتون کا سینیٹ میں دعویٰ

    فیصل واوڈا کے خلاف ہارے ہوئے امیدوار کی جانب سے مقدمہ کی درخواست پر عدالت کا بڑا حکم

    نااہلی کی درخواست پر فیصل واوڈا نے ایسا جواب جمع کروایا کہ درخواست دہندہ پریشان ہو گیا

    الیکشن کمیشن کے نااہلی کے اختیارات،فیصل واوڈا نے تحریری معروضات جمع کروا دیں

  • بشریٰ بی بی پر اینٹی کرپشن میں ایک اور نیب میں دو مقدمات درج،رپورٹ پیش

    بشریٰ بی بی پر اینٹی کرپشن میں ایک اور نیب میں دو مقدمات درج،رپورٹ پیش

    لاہور ہائیکورٹ،بشری بی بی کی درج مقدمات اور تحقیقات کی تفصیلات کے لیے دائر درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے درخواست گزار کے وکیل کو جواب الجواب داخل کرانے کی ہدایت کر دی،نیب اینٹی کرپشن،ایف آئی اے اور پولیس نے رپورٹس جمع کروا دی، رپورٹ کے مطابق اینٹی کرپشن میں ایک اور نیب میں دو مقدمات درج ہیں ،عدالت نے درخواست پر سماعت جنوری کے پہلے ہفتے تک ملتوی کردی،عدالت کے روبرو درخواست گزار کے وکیل سردار لطیف کھوسہ ایڈووکیٹ پیش نہ ہوئے،نیب رپورٹ میں کہا گیا کہ درخواست گزار کے خلاف توشہ خانہ اور القادر ٹرسٹ کیسز ہیں،ایک اینٹی کرپشن میں انکوائری چل رہی ہے،پنجاب پولیس میں کوئی کیس نہیں،ایف آئی اے میں کوئی مقدمہ درج نہیں ہے،جسٹس شہرام سرور چوہدری کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے درخواست پر سماعت کی

    بشری بی بی نے درج مقدمات کی تفصیلات لینے لیے ہائیکورٹ سے رجوع کررکھا ہے ،لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ سابق چیرمین پی ٹی آئی کو وزیر اعظم کے عہدے سے ہٹانے کے بعد مقدمات درج کیے جارہے ہیں.میرے خلاف درج مقدمات اور زیر انکوائریز کی تفصیلات فراہم نہیں کی جارہی،عدالت تمام مقدمات اور انکوائریوں کی تفصیلات فراہم کرنے کا حکم دے ،

     ایف آئی اے کو آڈیو کے فرانزک کا حکم

    بشریٰ بی بی،خاورمانیکا،طلاق کا ریکارڈ طلب کرنے کی درخواست مسترد

    پی ٹی آئی میں بشریٰ بی بی کی ڈکٹیٹر شپ،تحریک انصاف کا سیاسی کلچر تباہ

    پی ٹی آئی چیئرمین کیسا ہو، بشریٰ بی بی جیسا ہو،علیمہ باجی کا پارٹی پر قبضہ نامنظور ،نعرے لگ گئے

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    بشریٰ بی بی کی سڑک پر دوڑیں، مکافات عمل،نواز شریف کی نئی ضد، الیکشن ہونگے؟

  • توہین الیکشن کمیشن میں جیل ٹرائل،درخواست فل بینچ کے لئے چیف جسٹس کو ارسال

    توہین الیکشن کمیشن میں جیل ٹرائل،درخواست فل بینچ کے لئے چیف جسٹس کو ارسال

    لاہور ہائیکورٹ نے توہین الیکشن کمیشن میں جیل ٹرائل کے خلاف بانی پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست فل بینچ میں پیش کرنے کی سفارش کردی

    لاہور ہائیکورٹ کی جسٹس عالیہ نیلم نے بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی توہین الیکشن کمیشن میں جیل ٹرائل کے خلاف درخواست پر سماعت کی ،دوران سماعت عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسی نوعیت کی درخواست فل بینچ کے روبرو زیر سماعت ہے، اب تک کتنے کیسز میں جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن ہوچکا ہے؟ درخواست گزار کے وکیل نے عدالت میں کہا کہ سائفر اور القادر ٹرسٹ سے متعلق کیسز کیلئے جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن ہوا ہے.عدالت نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے وہ تمام ریکارڈ درخواست کے ساتھ لگایا ہے، ہم ایک کیس میں آرڈر کردیں تو باقیوں پر کیا اثر ہوگا، آپ تمام ریکارڈ فراہم کریں

    عدالت کی ہدایت پر عمران خان کے وکیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن 13 دسمبر کو جیل ٹرائل کیلئے پہنچ جائے گا، اس پر جسٹس عالیہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کے پاس 100 وکلا کی ٹیم ہے، فوری ریکارڈ منگوا کر ساتھ لگا دیں، وکیل نے کہا کہ ہم ریکارڈ فراہم کر دیتے ہیں آپ درخواست کو کل کےلیے مقرر کردیں، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ متفرق درخواست کے ذریعے تمام دستاویزات لف کردیں پھر دیکھتے ہیں،بعد ازاں عدالت نے عمران خان کی درخواست فل بینچ میں پیش کرنے کی سفارش کرتے ہوئے چیف جسٹس کو بھجوادی.

    درخواست میں وفاقی حکومت، الیکشن کمیشن اور اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کو فریق بنا کربانی چیئرمین پی ٹی آئی نے توہینِ الیکشن کمیشن کی کارروائی اور جیل ٹرائل کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا .درخواست سلمان اکرم راجہ اور بیرسٹر سمیر کھوسہ کی وساطت سے دائر کی گئی۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن نے اس کیس میں جیل ٹرائل کا فیصلہ کیا ہے جو غیر قانونی ہے، جیل میں خفیہ ٹرائل آئین کے آرٹیکل 4 کی خلاف ورزی ہے، الیکشن کمیشن نے 13 دسمبر کی تاریخ جیل میں فردِ جرم کی کارروائی کے لیے مقرر کی ہے۔درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن نے غیر قانونی طور پر توہینِ الیکشن کمیشن کی کارروائی شروع کی ہے، الیکشن کمیشن کے پاس اس کارروائی کا اختیار نہیں ہے۔درخواست میں استدعا کی گئی کہ لاہور ہائی کورٹ الیکشن کمیشن کا جیل ٹرائل کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دے۔

    الیکشن کمیشن نے فیصلے میں کہا کہ کیس کا ٹرائل اڈیالہ جیل میں ہوگا ، الیکشن کمیشن نے وزارت داخلہ کو انتظامات کرنے کی ہدایت کر دی،کیس کی سماعت 13 دسمبر کو اڈیالہ جیل میں ہوگی،وزارت داخلہ نے بانی چیئرمین کو الیکشن کمیشن پیش کرنے سے معذرت کی تھی،وزارت داخلہ نے وزارت قانون سے رائے لیکر بانی چیئرمین تحریک انصاف اور فواد چوہدری کا اڈیالہ جیل میں ٹرائل کی درخواست کی تھی، الیکشن کمیشن نے وزارت قانون کی رائے موصول ہونے پر فیصلہ محفوظ کیا تھا

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

  • عمران خان کی 3، شاہ محمود قریشی کی دو مقدموں میں ضمانت منظور

    عمران خان کی 3، شاہ محمود قریشی کی دو مقدموں میں ضمانت منظور

    انسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد،عمران خان کی 3 شاہ محمود قریشی کی 2 کیسز میں ضمانت کی درخواستیں منظورکر لی گئیں

    سابق چیئرمین پی ٹی آئی کی3 درخواست ضمانت30ہزار روپےمچلکوں کے عوض منظور کر لی گئی،اے ٹی سی اسلام آباد نے شاہ محمود قریشی کی 2مقدمات میں ضمانت کی درخواست منظور کی،پراسکیوٹر راجہ نوید نے کہا کہ پی ٹی آئی رہنماؤں نے جان بوجھ کر احتجاج کروایا،شاہ محمود قریشی اور سابق چیئرمین پی ٹی آئی کی ضمانتیں خارج کی جائیں،جج نے استفسار کیا کہ کیا شاہ محمود قریشی اور سابق پی ٹی آئی موقع پر موجود نہیں تھے؟پراسیکیوٹر نے کہاکہ شاہ محمود قریشی اور سابق چیئرمین پی ٹی آئی موقع پر موجود نہیں تھے، جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ دیگر شریک ملزمان کی ضمانتیں منظور ہوچکی ہیں، شاہ محمود قریشی، سابق چیئرمین پی ٹی آئی کی پانچوں درخواستیں منظور کی جاتی ہیں،

    واضح رہے کہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کارکنان نے فوجی تنصیبات پر ملک بھر میں حملے کئے تھے، شرپسند عناصر کو گرفتار کیا جا چکا ہے، گرفتار افراد کا کہنا ہے منظم منصوبہ بندی کے تحت حملے کئے گئے، شرپسند افراد نے ویڈیو بیان بھی جاری کئے ہیں جس میں انہوں نے اعتراف کیا کہ یہ سب منصوبہ بندی کے تحت ہوا، پی ٹی آئی رہنما بھی گرفتار ہیں تو اس واقعہ کے بعد کئی رہنما پارٹی چھوڑ چکے ہیں

  • چور چور  کہنے والے خود چور نکلے،190 ملین پاؤنڈز  کیس تاریخ کا سب سے بڑاڈاکہ،نواز شریف

    چور چور کہنے والے خود چور نکلے،190 ملین پاؤنڈز کیس تاریخ کا سب سے بڑاڈاکہ،نواز شریف

    سابق وزیراعظم،قائد مسلم لیگ ن نواز شریف نے ماڈل ٹاؤن میں پارٹی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر آپ نے سیاست کے میدان میں آنا ہے تو پورا پروگرام لیکر جوش و جذبہ لیکر آنا ہے کہ میں نے حلقے کے عوام کی تقدیر بدلنی ہے۔اسکے بعد ضلع صوبہ اور پھر پورے ملک تک معاملہ جاتا ہے۔ جب یہ نیت لیکر آئینگے تو ان شا اللہ پورے ملک کی تقدیر بدلے گی،

    نواز شریف کا کہنا تھا کہ چور چور چور کہنے والے خود چور نکلے ریاست مدینہ کی کہانیاں سنانے والے کے قصے آپ سن رہے ہیں قوم کو بتایا جائے ملک پر کس نے ڈاکہ ڈالا۔ 190 ملین پاؤنڈز والا کیس تاریخ کا سب سے بڑا کیس ہے،اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ بند لفافہ لہرا کر دستخط لے لیے گئے۔ کرپشن خود کرتے ہو ڈاکہ خود مارتے ہو اور الزام ہمارے اوپر لگاتے کر سزائیں دلواتے ہو کہ بیٹے سے تنخواہ نہیں لی،190 ملین پاؤنڈ سکینڈل پر آنکھوں پر پٹی باندھ کر ان سے منظوری لی گئی، اس طرح ڈاکہ ڈال کر بجلی مہنگی کر دی گئی اس طرح کے ڈاکے نہ ڈالے جاتے تو 200 یونٹ والے بجلی مفت لے رہے ہوتے،ہم ملک کیلئے کچھ کرنے کی نیت سے آئے ہیں،زندگی میں تکلیفات آتی ہیں لیکن کچھ تکلیفیں ایسی ہوتی ہیں کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جو کبھی نہیں بھرتے۔ لیکن اسکے باوجود ہم نے صبر کا دامن نہیں چھوڑا۔ ہماری اب بھی خواہش ہے کہ پاکستان کو مصیبتوں اور اس گرداب سے نکلا کر ترقی کی راہ پر ڈالا جائے، جنرل فیض نے جسٹس شوکت صدیقی سے کہا کہ ہماری دو سال کی محنت ضائع ہو جائے گی،مجھے سات سال بعد انصاف مل رہا ہے۔ملک میں ایک کھلنڈرے کو لایا گیا جس نے برا حال کردیا،آپ نے ظلم ڈھایا لیکن ازالہ کرتے کرتے کتنے سال لگ گئے،عدالت کا سرٹیفکیٹ لگا کہ یہ سارے مقدمے بوگس تھے، ہم پر بوگس مقدمے بنا کر جیلوں میں ڈالا گیا، سزائیں دی گئیں، جنہوں نے مقدمے بنائے اُن کا احتساب کون کرے گا؟ زبانی کلامی ریاست مدینہ کی بات کرتے تھے، اخلاقیات کا کچھ پتا نہیں تھا،

    قبل ازیں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ہوا،یہ پارلیمانی بورڈ کا پانچواں اجلاس تھا،اجلاس پاکستان مسلم لیگ(ن) کے قائد محمد نواز شریف اور پارٹی صدر شہباز شریف کی زیرصدارت ہو ا،

    آئے روز وزیراعظم کو اتار دیا جائےتو پھر ملک کیسے چلے گا ،نواز شریف

    قصے،کہانیاں سن رہے ہیں،یہ کردار تھا ان لوگوں کا،نواز شریف کا عمران خان پر طنز

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

  • طیبہ گل ہراسگی کیس،زندگی کا پہیہ چل رہا ہے تب تک آپکو بلاتے رہیں گے،عدالت

    طیبہ گل ہراسگی کیس،زندگی کا پہیہ چل رہا ہے تب تک آپکو بلاتے رہیں گے،عدالت

    اسلام آباد ہائی کورٹ،طیبہ گل ہراسگی کیس، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے دائرہ اختیار سے متعلق کیس 22 دسمبر تک ملتوی کر دیا گیا
    پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں چیئرمین ، ڈی جیز نیب کی طلبیوں اور سفارشات کے خلاف کیس ،جسٹس ر جاوید اقبال کو لاپتہ افراد کمیشن کے عہدے سے ہٹانے سے روکنے کے حکم میں 22 دسمبر تک توسیع کر دی گئی،اٹارنی جنرل کی غیر موجودگی میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے مہلت مانگ لی،وکیل قومی اسمبلی ایس اے رحمان کے دلائل مکمل ہو گئے، وکیل قومی اسمبلی نے کمیٹی میں طلبیوں کو قانونی قرار دے دیا ، وکیل قومی اسمبلی ایس اے رحمان نے کہا کہ کمیٹی نے اپنے اختیارات سے تجاوز نہیں کیا ،پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اپنی ڈومین میں رہ کر طلب بھی کر سکتی ہے کاروائی بھی ،پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے جو احکامات دیے اپنے قانونی دائرے میں رہ کر دیے،

    شعیب شاہین وکیل جسٹس ر جاوید اقبال نے کہا کہ ہم نے صرف اتنا پوچھا کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے پاس اختیار کیا ہے ؟ہم اس پر آئے ہیں کہ انکا اختیار کیا ہے ، یہ طلب کر بھی سکتے ہیں کہ نہیں ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے قومی اسمبلی کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ کیس سال سے چل رہا ہے،آپکو جب بلاتے ہیں آپ آجاتے ہیں ، زندگی کا پہیہ چل رہا ہے تب تک آپکو بلاتے رہیں گے ،ہم آپ سے سیکھتے ہیں اور سیکھتے رہیں گے ، ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے عدالت نے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل نہیں ہیں تو پھر آپکو آئندہ سماعت پر سنیں گے ، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ اٹارنی جنرل آئیندہ سماعت پر خود ہونگے ،میں بھی زیادہ وقت نہیں لونگا صرف کچھ گذارشات پیش کرونگا ،عدالت نے کیس کی سماعت 22 دسمبر تک کے لئے ملتوی کردی

    طیبہ گل ہراسگی کیس؛ عمران خان اور جاوید اقبال کو ایک بار پھرطلبی کا نوٹس

    واضح رہے کہ طیبہ گل نے الزام عائد کیا تھا کہ چیئرمین نیب نے انہیں ہراساں کیا ہے،سابق چیئرمین نیب جسٹس ر جاوید اقبال کے خلاف درخواست گزار طیبہ گل پی اے سی میں پیش ہوئی تھیں، طیبہ گل نے کہا کہ انیس جنوری 2019 کو مجھے نیب نے گرفتار کیا،مجھے نہیں پتہ تھا مجھے کیوں گرفتار کیا جارہا ہے،اس سے پہلے میرے خاوند کو گرفتار کیا گیا، میری ایک مرتبہ لاپتہ افراد کمیشن میں ایک لاپتہ فرد کے معاملے پرملاقات ہوئی، میرے خاوند کی چچی لاپتہ تھی مجھے جسٹس جاوید اقبال بار بار بلاتے تھے، مجھے جاوید اقبال کہتا تھا کہ آپ ہر بار خود آیا کریں،میں آپکی وجہ سے جلدی پیشی ڈالتا ہوں، مجھے بار بار بلاتا رہا اور پھر کہا کہ کسی اور مرد کے ساتھ دیکھا تو آپ کے ٹکڑے جھنگ جائیں گے، مجھے بلیک میلر کہا جاتا ہے کہ میں نے ویڈیو ریکارڈز کیوں کیں،میرے پاس پورا ریکارڈ فون کالز اور ویڈیوز موجود ہیں،

    درخواست گزار طیبہ گل کا مزید کہنا تھا کہ گرفتاری مرد اہلکاروں نے کی میرے کپڑے پھاڑے گئے،میرے جسم پر زخموں کے نشان تھے،میرے ساتھ وہ ہوا جو بت ابھی نہیں سکتی میرا میڈیکل نہیں کروایا جاتا، مجھے جج نے جوڈیشل کردیا،مجھ سے جیل میں سادہ کاغذ پر دستخط کرواکر لکھا گیا کہ میں میڈیکل نہیں کروانا چاہتی،میرے خاوند کو پچاس دن جیل رکھ کر میری ویڈیوز دکھا کر اسے ہراساں کیا گیا،مجھ پر چالیس مقدمات درج کئے گئے مجھ پر کوئلہ ٹرک چوری کرنے، بچوں سے میری زیادتی کے مقدمات بنائے گئے، میں چاہتی ہوں کہ جاوید اقبال اور شہزاد سلیم میرے سامنے بیٹھے ہوں،انہوں نے دو کروڑ کا ریفرنس فائل کردیا،

    میرے کپڑے اتارے گئے،مجھے ننگا کیا گیا ،ویڈیو بنائی گئی،نیب کے پاس لیڈیز اسٹاف بھی نہیں،طیبہ گل کا انکشاف

    درخواست گزار طیبہ گل نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں مزید انکشاف کیا کہ نیب کے ایک ڈی جی نے مجھے برہنہ کرکے ویڈیو بھی بنائی،مجھے سمجھ نہیں آئی میری ویڈیوز ایک چینل پر کیسے چل گئی،ترجمان نیب کی آڈیو میرے پاس موجود ہے، جس میں ترجمان نیب نے مجھے کہا کہ چیئرمین آپ سے صلح کرنا چاہتے ہیں،مجھے ترجمان نیب نے بتایا کہ ویڈیوز کی وجہ چیئرمین بلیک میل ہورہے ہیں،میں نے وزیر اعظم پورٹل پر شکایت کی ،مجھ سے نیوز ون کے مالک ملے جنہوں نے اپنے دفتر میں مجھ سے ویڈیوز آڈیوز لیکر چینل پرچلا دیں،پھر پی ٹی آئی کے تمام مالم جبہ طرز کے کیس ختم ہوگئے،

    چیئرمین نیب کی ویڈیو لیک کرنیوالوں کے خلاف ریفرنس دائر

    چیئرمین نیب کے خلاف خبر پر پیمرا ان ایکشن، نیوز ون کو نوٹس جاری، جواب مانگ لیا

    چیئرمین نیب کے استعفیٰ کے مطالبے پر مسلم لیگ ن میں اختلافات

    عمران خان نے ویڈیو کے ذریعے چیئرمین نیب کو کیسے بلیک میل کیا؟ سلیم صافی کے ساتھ طیبہ کا بڑا انکشاف

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیے

    طیبہ گل ویڈیو اسکینڈل،میں خاتون سے نہیں ملا، اعظم خان مکر گئے

  • حلقہ پی پی 35 اور 59 وزیر آباد اور گکھڑ منڈی کی حلقہ بندیاں کالعدم قرار

    حلقہ پی پی 35 اور 59 وزیر آباد اور گکھڑ منڈی کی حلقہ بندیاں کالعدم قرار

    لاہور ہائیکورٹ نے حلقہ پی پی 35 اور59 وزیر آباد اور گکھڑ منڈی کی حلقہ بندیاں کالعدم قرار دے دیں

    عدالت نے حلقہ این اے 123 اور این اے 120 کی حلقہ بندیوں کا معاملہ الیکشن کمیشن کو دوبارہ دیکھنے کا حکم دیدیا ،جسٹس علی باقر نجفی نے لاہور اور حافظ آباد کی حلقہ بندیوں کیخلاف درخواستوں پر سماعت کی

    حلقہ بندیوں کےحوالہ سے لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ لاہور کے حلقہ این اے 123 اور گکھڑ منڈی کے حلقوں میں تبدیلی کی گئی ،حلقہ بندیاں تبدیل کرتے وقت قانون کو مدنظر نہیں رکھا گیا ایک حلقے کی بڑھا دی گئی اور دوسرے حلقے کی آبادی کم کردی گئی، قانون میں دیئے گئے تناسب سے زیادہ یا کم حلقوں کی آبادی نہیں کی جاسکتی، عدالت غیر منصفانہ بنیاد پر گئی حلقہ بندیوں کو کالعدم قرار دے

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے عام انتخابات کے لئے ملک میں حتمی حلقہ بندیوں کی اشاعت کر دی ہے،الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مطابق ملک بھر سے قومی اسمبلی کی جنرل نشستوں کے 266 ، صوبائی اسمبلیوں کی جنرل نشستوں کے593 حلقے ہوں گے،حتمی حلقہ بندیوں کے مطابق اسلام آباد کی قومی اسمبلی کی 3 جنرل نشستیں ہوں گی، پنجاب میں قومی اسمبلی کی 141 اور صوبائی اسمبلی کی 297 جنرل نشستیں ہوں گی،سندھ میں قومی اسمبلی کی 61 اور صوبائی اسمبلی کی 130 جنرل نشستیں ہوں گی،

  • احتساب عدالت نے احد چیمہ کو ریفرنس سے بری کر دیا

    احتساب عدالت نے احد چیمہ کو ریفرنس سے بری کر دیا

    احتساب عدالت لاہور،احتساب عدالت میں مشیر وزیراعظم احد چیمہ کے خلاف امدن سے زائد اثاثہ جات کیس کی سماعت ہوئی

    عدالت نے مشیر وزیراعظم احد چیمہ کو بری کر دیا،عدالت نے احد چیمہ کی بریت کی درخواست کو منظور کر لیا,عدالت نے گزشتہ سماعت پر فیصلہ محفوظ کیا تھا،احتساب عدالت کے جج ملک علی ذولقرنین اعوان نے فیصلہ سنایا،احد چیمہ کے وکلاء کی جانب سے بریت کی درخواست دائر کی گئی تھی،نیب کی جانب سے رپورٹ عدالت میں جمع کروائی گئی

    عدالتی فیصلہ کے بعد عدالت سے باہر نکلتے ہوئے احد چیمہ کا کہنا تھا کہ مجھے آج انصاف ملا آج بڑی خوشی کا دن ہے، جب یہ سب ہو رہا تھا تو سول سیکریٹریٹ افسران نے مجھ پر اعتماد کیا، چیئرمین نیب کی بات خوش آئند ہے جہاں غلطی ہو اس کو تسلیم کیا جائے، ادارے کے سربراہ کا کام ہے غلطی کو درست کیا جائے

    محنتی سرکاری افسران کو سیاسی بنیادوں پر جھوٹے مقدمات میں الجھا یا گیا،شہباز شریف
    سابق وزیراعظم شہباز شریف نےاحد چیمہ کی بریت پر خوشی کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ احد چیمہ کو آمدن سے زائد اثاثوں کے ریفرنس سے بریت پر انہیں اور ان کے اہل خانہ کو مبارک باد پیش کرتا ہوں،چیمہ صاحب جیسے انتہائی قابل اور محنتی سرکاری افسران کو سیاسی بنیادوں پر جھوٹے مقدمات میں الجھا یا گیا، نہ صرف احد چیمہ، ان کی والدہ مرحومہ، اور بچوں کو نا قابل برداشت تکلیف پہنچائی گئی ،بیوروکریسی میں دل لگی سے کام کرنے والے افسران کی بھی حوصلہ شکنی کی گئی، امید ہے کہ آج کے انصاف پر مبنی فیصلے سے ایک مثبت روایت دوبارہ سے قائم ہو گی،

    احد چیمہ کی بریت کی درخواست پر نیب کی جمع کرائی گئی رپورٹ سامنے آ گئی،نیب رپورٹ میں کہا گیا کہ احد چیمہ کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کانیب ریفرنس نہیں بنتا۔ احد چیمہ کے تمام اثاثے انکی آمدن سے مطابقت رکھتے ہیں۔احد چیمہ کے مبینہ بے نامی داروں نے اپنی ذاتی انکم سے پراپرٹیز بنائیں۔ احد چیمہ کے مبینہ بے نامی داروں کی پراپرٹیز کو احد چیمہ سے لنک نہیں کیا جا سکتا۔ احد چیمہ کے رشتہ داروں سعدیہ منصور،منصور احمد اور نازیہ اشرف کے اکاونٹس احد چیمہ کے بے نامی اکاونٹس نہیں۔ری انوسٹی گیشن کے مطابق احد چیمہ کی کل آمدن 213 ملین اور اخراجات 131 ملین ہیں۔ احد چیمہ کے بنائے گئے اثاثے انکی آمدن کے مطابق ہی ہیں۔ری انوسٹی گیشن کے دوران احد چیمہ نے اپنی انکم اور منافع سے متعلق ریکارڈ نیب کو فراہم کیا۔

    احد چیمہ کی جانب سے جمع کرائے گئے ریکارڈ کی تصدیق کی گئی، ریکارڈ درست ثابت ہوا۔ احد چیمہ کے اثاثے انکی آمدن سے مطابقت رکھتے ہیں،نیب کیس نہیں بنتا۔

    احسن اقبال کے خلاف ریفرنس کب تک دائر کیا جائے؟ عدالت نے نیب کو بڑا حکم دے دیا

    نیب کی غفلت سے میرا بازو مستقل ٹیڑھا ہو گیا، احسن اقبال نیب اور حکومت پر برس پڑے

    ناروال اسپورٹس کمپلیکس کیس،ریفرنس دائر ہونے کے بعد احسن اقبال نے کیا مطالبہ کر دیا؟