Baaghi TV

Tag: عدالت

  • خدیجہ شاہ الیکشن لڑنے کا ارادہ نہیں رکھتی،شوہر کا بیان

    خدیجہ شاہ الیکشن لڑنے کا ارادہ نہیں رکھتی،شوہر کا بیان

    لاہور ہائیکورٹ: خدیجہ شاہ کی نظربندی اور توہین عدالت کی درخواستوں پر علیحدہ علیحدہ سماعت ہوئی

    عدالت نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل غلام سرور نہنگ کو ہدایات کیلئے مہلت دیدی،عدالت نے کہا کہ آپ بیان حلفی دینے کے حوالے سے ہدایات لے کر ایک گھنٹے بعد بتائیں، اگر خدیجہ شاہ آئندہ ایسا نہ کرنے کا بیان دیتی ہیں تو کیا حرج ہے ،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ خدیجہ شاہ کی طرف سے بیان حلفی بھی دینے کو تیار ہیں،جسٹس علی باقر نجفی نے جہانزیب امین کی درخواست پر سماعت کی

    خدیجہ شاہ کے شوہر جہانزیب امین نے خدیجہ شاہ کی نظر بندی کو چیلنج کر رکھا ہے ،درخواست میں ڈی سی لاہور سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے،درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ 15 نومبر کو ڈی سی لاہور نے خدیجہ شاہ کی نظر بندی کا نوٹیفکیشن جاری کیا،خدیجہ شاہ کی نظر بندی بدنیتی پر مبنی ہے، عدالت خدیجہ شاہ کی فوری رہائی کا حکم دے،خدیجہ شاہ کو نظر بند کرنے والے حکام کے خلاف کارروائی کا حکم دیا جائے،خدیجہ شاہ کو لاہور کی حدود سے باہر لیجانے سے روکا جائے،

    دوسری جانب خدیجہ شاہ کے شوہر جہانزیب امین نے لاہور ہائیکورٹ میں میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ خدیجہ شاہ الیکشن لڑانے کا ارادہ نہیں رکھتی ،خدیجہ شاہ نے کبھی الیکشن لڑنے کے حوالے سے اظہار بھی نہیں کیا،پہلے بھی ہماری فیملی ممبران نے کہا کہ خدیجہ شاہ پی ٹی آئی میں نہیں ہیں ،خدیجہ شاہ نا پی ٹی آئی کی رکن ہیں نا کوئی آفیشل عہدہ رکھتی ہیں

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

  • اسلام آباد ہائیکورٹ  کا نواز شریف کی العزیزیہ اپیل میرٹ پر سننے کا فیصلہ

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا نواز شریف کی العزیزیہ اپیل میرٹ پر سننے کا فیصلہ

    سابق وزیراعظم نواز شریف اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گئے
    العزیزیہ ریفرنس میں سزا کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی سابق وزیراعظم نواز شریف کی اپیل پر سماعت ہوئی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نےسماعت کی،سابق وزیر اعظم نواز شریف اپنی لیگل ٹیم کے ہمراہ کمرہ عدالت میں موجود تھے،نواز شریف کے وکلاء اعظم نذیر تارڑ، امجد پرویز روسٹرم پر موجودتھے، نیب کی جانب سے وکلاء کی ٹیم روسٹرم پر موجودتھی، نواز شریف کے وکیل امجد پرویز نے کہا کہ 24 دسمبر 2018 کے فیصلے کیخلاف یہ اپیل ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا یہ پانامہ کیس سے متعلق ہے،وکیل امجد پرویز نے کہا کہ جی یہ پانامہ سے متعلق ہے، پانامہ کسز میں تین ریفرنسز دائر کیے گئے تھے،فلیگ شپ ریفرنس میں احتساب عدالت نے نواز شریف کو بری کیا تھا،

    نواز شریف کے وکیل امجد پرویز نے کہا کہ فلیگ شپ ریفرنس میں نواز شریف کی سزا بڑھانے کی اپیل گزشتہ سماعت پر نیب واپس لے چکا، نیب نے سپریم کورٹ کے احکامات پر ریفرنسز دائر کیے جن میں ایک جیسا الزام تھا،فلیگ شپ ریفرنس میں احتساب عدالت نے نواز شریف کو بری کر دیا تھا،ایک ہی الزام پر الگ الگ ریفرنس دائر کیے گئے،ہم نے درخواست دی تھی کہ ایک الزام پر صرف ایک ہی ریفرنس دائر ہونا چاہئے تھا،احتساب عدالت نے ٹرائل الگ الگ کیا لیکن فیصلہ ایک ساتھ سنانے کا کہا تھا، اسلام آباد ہائیکورٹ نے ٹرائل کورٹ کا ایک ساتھ ہی فیصلہ سنانے کا حکم برقرار رکھا تھا، اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلے میں کہا تھا ایک ساتھ تینوں کیسز کے فیصلے سے آسمان نہیں گر جائے گا،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف پر کیا الزام عائد کیا گیا تھا؟وکیل امجد پرویز نے کہا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف پر اس کیس میں بھی آمدن سے زائد اثاثوں کا الزام عائد کیا گیا تھا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے نواز شریف کے وکیل سے استفسارکیا کہ العزیزیہ سٹیل مل کہاں پر رجسٹرڈ ہے؟ وکیل امجد پرویز نے کہا کہ العزیزیہ سٹیل مل 2001 میں سعودی عرب میں رجسٹر کرائی گئی اور نواز شریف اُس دور میں جلاوطنی کاٹ رہے تھے اور پبلک آفس ہولڈر نہیں تھے، میاں نواز شریف کا ہمیشہ موقف رہا کہ اُنکا العزیزیہ سٹیل مل سے کبھی بھی کسی قسم کا تعلق نہیں رہا بلکہ سٹیل مِل اُنکے والد میاں محمد شریف کی ملکیت تھی،میاں محمد شریف اپنی زندگی میں بچوں کو جیب خرچ بھی خود ہی دیتے تھے،

    وکیل امجد پرویز نے کہا کہ گواہوں کے بیانات سے متعلق چارٹ عدالت میں پیش کرنے کی اجازت چاہتا ہوں ،بائیس میں سے 13 گواہوں نے صرف ریکارڈ پیش کیا،5 سیزر میمو اور دو طلبہ کے نوٹس پہنچانے والے گواہ ہے ،کوئی وقوعہ کا عینی شاہد گواہ نہیں ہے ، محبوب عالم اور واجد ضیا ہی دو مرکزی گواہ تھے ،

    نیب پراسیکیوٹر نے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی ویڈیو کا معاملہ عدالت کے سامنے اٹھا دیا،نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ نواز شریف کے وکلاء میرٹ پر دلائل دے رہے ہیں لیکن اُس سے پہلے اِنکی سزا سنانے والے احتساب عدالت کے جج سے متعلق ایک درخواست بھی موجود ہے اسکو پہلے دیکھ لیں،وکیل امجد پرویز نے کہا کہ جی، جج کی وڈیو کے حوالے سے درخواستیں ہیں،نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ اس حوالے سے مریم نواز نے بھی پریس کانفرنس کی تھی، معاملہ سپریم کورٹ گیا تھا، وکیل امجد پرویز نے کہا کہ سپریم کورٹ نے قرار دیا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ ہی اس پر فیصلہ دے سکتی ہے،نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ مناسب ہوگا میرٹ پر دلائل دینے سے پہلے ویڈیو والی درخواست پر فیصلہ کیا جائے، وکیل امجد پرویز نے کہا کہ ہم جج ارشد ملک کی ویڈیو سے متعلق درخواست کو اب پریس نہیں کرنا چاہتے کیونکہ وہ جج صاحب اب وفات پا چکے ہیں اس معاملے پر مزید بات کرنا مناسب نہیں رہا، نواز شریف کے وکلاء نے مرحوم جج ارشد ملک کی ویڈیو سے متعلق اپنی درخواست کی پیروی سے معذرت کر لی

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے نواز شریف کے وکیل سے استفسارکیا کہ جج ارشد ملک کو برطرف کرنے کا نوٹیفیکیشن واضح نہیں ہے بتائیں اگر آپ درخواست کی پیروی کرنا چاہتے ہیں تو اس عدالت میں سکرین لگا کر ویڈیو کا جائزہ لے کر دیکھیں کہ یہ ریمانڈ بیک کرنے کا فِٹ کیس کیسے نہیں ہو گا؟ وکیل امجد پرویز نے کہا کہ میں اپنے کلائنٹ سے ہدایات لینے کے بعد عدالت میں بیان دے رہا ہوں کہ ہم اپنی اس درخواست پر مزید کارروائی نہیں چاہتے، وکیل نواز شریف اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ عدالت نے یقینی بنانا ہے کہ انصاف ہوتا ہوا نظر بھی آئے، نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ارشد ملک کو لاہور ہائی کورٹ نے عہدے سے برطرف کر دیا تھا،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ عدالت کو ٹھوس مواد چاہیے کہ ارشد ملک اگر بددیانت تھے تو معاملہ کافی سنگین ہوگا، اگر جج کا کنڈکٹ اس کیس کے فیصلے کے وقت ٹھیک نہیں تھا، بدیانت تھا تو اس کے اثرات ہوں گے ، ہمیں بتائیں ان کو بطور جج کیوں برطرف کیا گیا تھا ؟ چارج کیا تھا ؟ اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ میرٹ پر ہمارا کیس پہلے سے بہتر ہے ، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کے نوٹیفکیشن سے ارشد ملک پر عائد الزام واضح نہیں ہو رہا، کیا عدالت ویڈیو کا جائزہ لیکر فیصلہ کرے کہ مقدمہ ٹرائل کورٹ کو ریمانڈ کرنا ہے یا نہیں، کیونکہ نوازشریف کی درخواست موجود ہے اس لئے یہ فیصلہ آپ کا ہوگا،وکیل امجد پرویز نے کہا کہ نواز شریف ویڈیو سکینڈل والی درخواست واپس لینا چاہتے ہیں،نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ درخواست واپس لینے پر اعتراض نہیں ہے،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ آپ اس درخواست کی پیروی کریں گے تو ہم اس کو دیکھیں گے ، ارشد ملک اب نہیں ہیں لیکن باقی لوگ ابھی موجود ہیں ،عدالت نے نواز شریف کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ کا فیصلہ ہے کہ آپ اس درخواست کی پیروی کرنا چاہتے ہیں یا نہیں ؟ وکیل امجد پرویز نے کہا کہ مجھے ہدایت دی گئی ہے جج ارشد ملک ویڈیو اسیکنڈل سے متعلق درخواست کی پیروی نہیں کرنا چاہتے ،میں جج ارشد ملک کے حوالے سے دعا گو ہوں اب وہ اس دنیا میں نہیں ہیں ،

    نواز شریف کے وکیل اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ نواز شریف کے ساتھ پہلے ہی بہت زیادتیاں ہو چکی ہیں، ہماری استدعا ہے کہ یہی عدالت میرٹ پر نواز شریف کی اپیل پر فیصلہ کر دے اس سے قبل بھی دو اپیلوں پر فیصلہ اسی عدالت میں ہو چکا ہے،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے نواز شریف کے وکیل اعظم نذیر تارڑ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیس اگر ریمانڈ بیک کر بھی دیتے ہیں تو نواز شریف ملزم تصور ہونگے سزا یافتہ نہیں. ٹرائل کورٹ نے دوبارہ کیس کا فیصلہ کرنا ہو گا اور اگر نیب کا یہی رویہ رہا تو پھر تو آپکو مسئلہ بھی نہیں ہو گا تو آپ کیوں پریشان ہو رہے ہیں؟ نواز شریف کے وکیل اعظم نذیر تارڑ نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے ہی نواز شریف کی العزیزیہ اپیل پر میرٹ پر فیصلہ کرنے کی استدعا کی،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ اِس عدالت کے سامنے تین آپشنز ہیں، ایک راستہ کہ اپیل خارج کردیں، دوسرا کہ اپیل منظور کر کے نواز شریف کو بری کر دیں اور تیسرا راستہ یہ ہے کہ اپیل منظور کر کے کیس احتساب عدالت کو واپس بھجوا دیں، ہم یہاں اسکرین لگا دیں گے اور وڈیو چلا دیں گے،لیکن یہ بات یاد رکھیں کہ یہ دو دھاری تلوار بھی ثابت ہوسکتی ہے، اعظم نذیر تارڑ نے معاملہ احتساب عدالت کو واپس بھجوانے کی مخالفت کی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ایک یہ کہ ہم خود اضافی شواہد دیکھ کر میرٹ پر فیصلہ کردیں،اگر آپ کہتے ہیں تو میرٹ پر فیصلہ کردیں گے، ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے، اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ آپ نے ہمیں اپنا فیصلہ بتانا ہے،اس کیس میں مرحوم جج نے مکمل ٹرائل ہی نہیں کیا، اکیس گواہ پہلے ہی اپنے بیانات ریکارڈ کرا چکے تھے، نواز شریف کے ساتھ پہلے ہی بہت زیادتیاں ہو چکی ہیں، ہماری استدعا ہے کہ یہی عدالت میرٹ پر نواز شریف کی اپیل پر فیصلہ کر دے، نیب نے العزیزیہ ریفرنس دوبارہ احتساب عدالت کو بھیجوانے کی استدعا کر دی،نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ہماری استدعا ہے کہ احتساب عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر کیس ٹرائل کورٹ کو ریمانڈ بیک کر دیں،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں اگر آپ کہتے ہیں تو میرٹ پر فیصلہ کر دیں گے، تو جج ارشد ملک کی ویڈیو سے متعلق درخواست کو چھوڑا نہیں جا سکتا، آپ ہمیں بتا دیں کہ آپ کیا چاہتے ہیں؟ وکیل امجد پرویز نے کہا کہ ہمیں کیس دوبارہ احتساب عدالت کو بھیجنے پر کوئی اعتراض نہیں لیکن احتساب عدالت کو ٹرائل ایک ماہ میں مکمل کرنے کی ڈائریکشن دیدیں، اسلام آباد ہائیکورٹ نے نواز شریف کی العزیزیہ اپیل میرٹ پر سننے کا فیصلہ کر لیا. نیب کی کیس ٹرائل کورٹ کو دوبارہ فیصلے کیلئے بھیجنے کی استدعا مسترد کر دی گئی

    احتساب عدالت نے 24 دسمبر 2018 کو العزیہ سٹیل ملز ریفرنس میں نواز شریف کو 7 سال قید اور 2.5 ملین پاونڈ جرمانے کی سزا سنائی تھی،نواز شریف نے احتساب عدالت کے فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کر رکھی ہے، نواز شریف نے اپنے خلاف سات سال قید اور جرمانے کی سزا کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی ہے،نیب نے العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں نواز شریف کی سزا بڑھانے کی استدعا کر رکھی ہے

    کمرہ عدالت نمبر ایک میں داخلے کے لیے رجسٹرار آفس کی جانب سے خصوصی پاسز جاری کئے گئے ہیں،نواز شریف کی عدالت پیشی کے موقع پر سیکورٹی کے خصوصی انتظامات کئے گئے ہیں

    نواز شریف عدالت پیشی کے لئے لاہور سے روانہ ہوئے اور اسلام آباد پہنچ گئے،قائد مسلم لیگ ن نواز شریف کی اسحاق ڈار کی رہائش گاہ پر قانونی ٹیم سے مشاورت ہوئی،سینیٹر اعظم نذیر تارڑ، عطاء تارڑ اور قانونی ٹیم کے دیگر ارکان موجود تھے،ن لیگی رہنما اسحاق ڈار، مریم اورنگزیب، بلال کیانی اور دیگر رہنما بھی مشاورت میں موجود تھے،لیگل ٹیم نے نواز شریف کو العزیزیہ ریفرنس کیس پر تفصیلی بریفنگ دی،اعظم نذیر تارڑ نے کیس سے متعلق تیاری پر نواز شریف کو بریفنگ دی،نواز شریف نے قانونی ٹیم کی کیس سے متعلق تیاری پر شاباش دی

    آئے روز وزیراعظم کو اتار دیا جائےتو پھر ملک کیسے چلے گا ،نواز شریف

    قصے،کہانیاں سن رہے ہیں،یہ کردار تھا ان لوگوں کا،نواز شریف کا عمران خان پر طنز

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

  • موٹروے زیادتی کیس،دو ملزمان کی سزائے موت کیخلاف اپیل پر دلائل طلب

    موٹروے زیادتی کیس،دو ملزمان کی سزائے موت کیخلاف اپیل پر دلائل طلب

    لاہور ہائیکورٹ میں موٹروے زیادتی کیس میں دو ملزمان کی سزائے موت کیخلاف اپیل پر سماعت ہوئی۔

    لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور اور جسٹس علی ضیاء باجوہ پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کیس پر سماعت کی۔ عدالت نے وکلاء سے حتمی دلائل طلب کر لیے، ملزم عابد حسین ملہی اور شفقت بگا نے اپنی سزائے موت کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا،سماعت کے دوران سرکاری وکیل پیش نہیں ہوئے،

    پولیس نے ملزموں کے خلاف 9 ستمبر 2020 کو مقدمہ درج کیا تھا،انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے دونوں ملزموں کو خاتون کی بے حرمتی کے جرم میں سزائے موت کا حکم سنایا تھا۔ اپیل میں سزائے موت کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے.

    20 مارچ 2021 کو انسداد دہشتگردی عدالت کے جج نےموٹروے کیس کا فیصلہ سنایا تھاعدالت نے ملزمان کو سزائے موت سنائی ،عدالت نےعابد ملہی اورشفقت بگا کوسزائے موت سنا دی ،انسداد دہشتگردی عدالت کے ایڈمن جج ارشد حسین نے فیصلہ لکھوایا تھا،ملزم عابدملہی اورشفقت بگاکو376/2 کے تحت سزائےموت سنائی گئی دونوں ملزمان کودفعہ365اےمیں عمرقیدکی سزاسنائی گئی ، دونوں ملزمان کودفعہ392میں 14،14سال قیدکی سزاسنائی گئی دونوں ملزمان کو دفعہ 440 کے تحت 5،5سال قیدکی سزاسنائی گئی.

    طلبا کے ساتھ زیادتی کرنے، ویڈیو بنا کر بلیک میل کرنے والے سابق پولیس اہلکار کو عدالت نے سنائی سزا

    لاہور میں 2 بچیوں کے اغوا کی کوشش ناکام،ملزم گرفتار

    پولیس ناکے پر 100روپے کے تنازعے پر دو پولیس اہلکار آپس میں لڑ پڑے

    موٹروے کے قریب خاتون سے مبینہ زیادتی ،پولیس کی 20 ٹیمیں تحقیقات میں مصروف

    ‏موٹروے پر اجتماعی زیادتی کا سن کر دل دہل گیا ، ملوث تمام افراد کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے ، مریم نواز

    موٹر وے کے قریب خاتون سے اجتماعی زیادتی،سراج الحق کا ملزمان کی گرفتاری کیلئے 48 گھنٹوں کا الٹی میٹم

    درندہ صفت مجرمان کو پھانسی کی سزا دی جائے۔ دردانہ صدیقی

    موٹروے زیادتی کیس،سی سی پی او کے بیان پر کابینہ کو معافی مانگنی چاہئے تھی،عدالت،ریکارڈ طلب

    موٹرے پر سفر ذرا احتیاط سے، سینیٹر کی گاڑی پر حملہ،پولیس کا روایتی بیان،ملزم فرار

    ریپ کے مجرموں کو نامرد بنانے کی بجائے کونسی سزا دینی چاہئے؟ انصار عباسی کی تجویز

    بچوں سے زیادتی کے مجرموں کوسرعام سزائے موت ،علامہ ساجد میر نے ایسی بات کہہ دی کہ سب حیران

    موٹروے زیادتی کیس،گجرپورہ سے تفتیش تبدیل ،مرکزی ملزم کا شناختی کارڈ بلاک

    واضح رہے کہ  لاہور کے علاقے گجر پورہ میں موٹر وے پر خاتون کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انتہائی افسوسناک واقعہ پیش آیا تھا۔ دو افراد نے موٹر وے پہ ایک گاڑی کا شیشہ توڑ کر خاتون اور ان کے بچوں کو باہر نکالا جس کے بعد انہیں قریبی جھاڑیوں میں لے جا کر خاتون کو بچوں کے سامنے مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنایا۔

    گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والی خاتون لاہور سے گوجرانوالا جارہی تھی، کار کا پٹرول ختم ہونے کے باعث موٹروے پر گاڑی روک کر شوہر کا انتظار کر رہی تھی، پہلے خاتون نے اپنے ایک رشتے دار کو فون کیا، رشتے دار نے موٹر وے پولیس کو فون کرنے کا کہا۔

    موٹروے ہیلپ لائن پر خاتون کو جواب ملا کہ گجر پورہ کی بِیٹ ابھی کسی کو الاٹ نہیں ہوئی اور موٹر وے پولیس بھی نہیں آئی۔ رشتے داروں کے پہنچنے سے پہلے ہی دو افراد نے خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنایا، ملزمان خاتون سے ایک لاکھ روپے نقد، سونے کے زیورات اور اے ٹی ایم کارڈز بھی لے گئے

  • پی آئی اے کی نجکاری کیخلاف درخواست،اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری

    پی آئی اے کی نجکاری کیخلاف درخواست،اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری

    لاہور ہائیکورٹ، پی آئی اے کی نجکاری کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے درخواست پر سماعت 20دسمبر تک ملتوی کردی ،عدالت نے اٹارنی جنرل پاکستان کو عدالتی معاونت کیلئے نوٹس جاری کر دیے ،عدالت نے جواب داخل کرانے کیلئے فریقین کو ایک اور مہلت دے دی،جسٹس راحیل کامران شیخ نے نبیل جاوید کاہلوں کی درخواست پر سماعت کی،درخواست میں وفاق سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے

    لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ نگران حکومت کو روز مرہ امور چلانے کا اختیار ہے، نگران حکومت پالیسی معاملات پر فیصلے نہیں کرسکتی،نگران حکومت نے قومی ادارے پی آئی اے کی نجکاری کا فیصلہ کیا ،پی آئی اے کی نجکاری کیلئے بھی نگران حکومت نے اقدامات کر لئے ،آئین کے مطابق نگران حکومت کو پی آئی اے کی نجکاری کا اختیار نہیں، قومی اثاثے پی آئی اے کی نجکاری کی بجائے اصلاح کی جائے،عدالت نگران حکومت کو پی آئی اے کی نجکاری سے روکنے کا حکم دے ،عدالت پی آئی اے کی نجکاری کے اقدامات کالعدم قرار دے ،

    پشاور فلائنگ کلب کے جہاز کی فروخت،مبشر لقمان کا مؤقف بھی آ گیا

    پی آئی اے کا ایک اور فضائی میزبان کینیڈا میں لاپتہ

    پی آئی اے،بوئنگ 777 طیارے کے انجن میں آگ،حادثے سے بچ گیا

    پی آئی اے اور گو لوٹ لو کی جانب سے قرعہ اندازی، گاڑیاں اور سمارٹ فون کے انعامات

    پی آئی اے ایک بار پھر مشکل کا شکار،اکاونٹس منجمد

    پرواز سے قبل پی آئی اے عملے کیلئے شراب نوشی کا ٹیسٹ لازمی قرار

     پی آئی اے کے دو مزید فضائی میزبان ٹورنٹو میں پراسرار طور پر لاپتہ 

     سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) مدد کیلئے سامنے آگئی

  • کئی سال گزر گئے اپنے پیارے کو دیکھے ہوئے،لاپتہ شخص کی والدہ کی عدالت میں دہائی

    کئی سال گزر گئے اپنے پیارے کو دیکھے ہوئے،لاپتہ شخص کی والدہ کی عدالت میں دہائی

    کراچی: سندھ ہائی کورٹ, لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق درخواستوں پر سماعت ہوئی

    لاپتہ افراد کی عدم بازیابی پر عدالت نےتفتیشی افسران پر برہمی کا اظہارکیا،عدالت نے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے سنجیدہ کوششیں کرنے کی ہدایت کردی، دوران سماعت عدالت میں لاپتہ شخص کی والدہ نے کہا کہ میرے بیٹے کو کراچی سے گرفتار کرکے منشیات کا مقدمہ درج کردیا گیا،عدالت نے تفتیشی افسر کو شفاف تحقیقات کی ہدایت کردی،ایک والدہ کا کہنا تھا کہ کئی سال گزر گئے اپنے پیارے کو دیکھے ہوئے،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ کورٹ نے گھر والوں کی مالی معاونت کا حکم دیا تھا، عدالت نے سیکرٹری داخلہ کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا،عدالت نے سیکرٹری داخلہ سے تازہ رپورٹ طلب کرلی،عدالت نے جے آئی ٹی اور صوبائی ٹاسک فورس کے اجلاس جاری رکھنے کی بھی ہدایت کردی،درخواست گزاروں میں مسماۃ فرحانہ ، مسماۃ عارفہ ، مسماۃ مونا، منہاس الدین، بسیراں، ممتاز ، بلال اور ثناء شامل ہیں

    گزشتہ روز درخواست کی سماعت کے دوران لاپتہ افراد کے اہل خانہ میں سے ایک نے دوران سماعت بات کرتے ہوئے کہا کہ میں ہاتھ جوڑکر التجا کرتا ہوں، یہ کیس بند کر دیں اور یہ تماشہ بھی، میرے بھائی فرقان کا کچھ معلوم نہیں ہوسکا ہے، دھکے کھلائے جا رہے ہیں، پولیس کے پاس جاتے ہیں تو وہ کہتی ہے ہمارے پاس نہیں ہیں، 9سال ہوگئے لاپتا فرقان اور ندیم کو بازیاب نہیں کرایا جاسکا.

    تعلیمی ادارے میں ہوا شرمناک کام،68 طالبات کے اتروا دیئے گئے کپڑے

     چارکار سوار لڑکیوں نے کارخانے میں کام کرنیوالے لڑکے کو اغوا کر کے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا

    لاپتہ افراد کی عدم بازیابی، سندھ ہائیکورٹ نے اہم شخصیت کو طلب کر لیا

     لگتا ہے لاپتہ افراد کے معاملے پر پولیس والوں کو کوئی دلچسپی نہیں

    سندھ ہائیکورٹ کا تاریخی کارنامہ،62 لاپتہ افراد بازیاب کروا لئے،عدالت نے دیا بڑا حکم

    اگلے مرحلے پر آئی جی کو بھی طلب کرسکتے ہیں

    واضح رہے کہ لاپتہ افراد کیس میں ایک گزشتہ سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ کیا آپ کو معلوم ہے جبری گمشدگی کیا ہوتی ہے؟ جبری گمشدگی سے مراد ریاست کے کچھ لوگ ہی لوگوں کو زبردستی غائب کرتے ہیں، جس کا پیارا غائب ہو جائے ریاست کہے ہم میں سے کسی نے اٹھایا ہے تو شرمندگی ہوتی ہے، ریاست تسلیم کرچکی کہ یہ جبری گمشدگی کا کیس ہے،انسان کی لاش مل جائے انسان کو تسلی ہوجاتی ہے،جبری گمشدگی جس کے ساتھ ہوتی ہے وہی جانتا ہے، بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہونے دیں گے، اگر آپ ان چیزوں کو کھولیں گے تو شرمندگی ہو گی

  • القادر ٹرسٹ کا چیریٹی ایکٹ کے تحت رجسٹریشن مسترد ہونے کیخلاف درخواست دائر

    القادر ٹرسٹ کا چیریٹی ایکٹ کے تحت رجسٹریشن مسترد ہونے کیخلاف درخواست دائر

    اسلام آباد ہائیکورٹ: القادر ٹرسٹ کا چیریٹی ایکٹ کے تحت رجسٹریشن کا معاملہ ایک پھر ہائیکورٹ پہنچ گیا

    ڈائریکٹر لیبر اینڈ انڈسٹریز کی جانب سے رجسٹریشن کی درخواست مسترد ہونے کے خلاف ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر دی گئی،اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈائریکٹر لیبر اینڈ انڈسٹریز اور چیف کمشنر اسلام آباد کو نوٹسز جاری کر دیے،اسلام آباد ہائی کورٹ نے بشری بی بی اور بانی پی ٹی آئی کی درخواست پر نوٹس جاری کیے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کیس کی سماعت کی،اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں ڈائریکٹر لیبر اینڈ انڈسٹریز کے فیصلے کو کلعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی،القادر ٹرسٹ کی جانب سے وکیل جہانزیب سکھیرا عدالت میں پیش ہوئے۔درخواست میں ڈائریکٹر لیبر اینڈ انڈسٹریز کو فریق بنایا گیا ہے،عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی

    واضح رہے کہ 30 نومبر کولیبر اینڈ انڈسٹری ڈیپارٹمنٹ نے القادر ٹرسٹ کی رجسٹریشن کی درخواست مسترد کئے جانے سے متعلق عدالت کو آگاہ کردیا تھا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورںگزیب نے القادر ٹرسٹ کی درخواست پر سماعت کی،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ توبہ توبہ ،آپ لوگ بہت خراب ہو ، جان بوجھ کر معاملے کو تاخیر میں ڈالا گیا، سرکاری وکیل نے کہا کہ منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت اداروں کی طرف سے کلیئرنس کرانا ہوتی ہے،عدالت نے استفسار کیا کہ تمام اداروں کی رجسٹریشن سے پہلے یہی طریقہ کار اپنایا جاتا ہے یا یہاں معاملہ الگ ہے ؟

    عمران خان نے کل اداروں کے خلاف زہر اگلا ہے،وزیراعظم

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

  • الیکشن ملتوی کرنے کی درخواست،ہمارا کوئی لینا دینا نہیں،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    الیکشن ملتوی کرنے کی درخواست،ہمارا کوئی لینا دینا نہیں،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں الیکشن شیڈول روکنے کیلئے دائر درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے سماعت کی، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں،یہ معاملہ الیکشن کمیشن کے سامنے اٹھائیں،کیا آپ نے الیکشن ایکٹ پڑھا ہے؟ ووٹر لسٹ بنانا اور اسکی سکروٹنی کرنا الیکشن کمیشن کا کام ہے، عدالت مناسب سمجھے گی تو الیکشن کمیشن کو جائزے کی ہدایت کردے گی،ایسا تو نہیں ہو سکتا کہ ہم پورے پاکستان کا ریکارڈ کھول کر بیٹھ جائیں،آپ الیکشن کمیشن کو دی گئی درخواست کو ساتھ لگائیں اس پر جلد آرڈر کا کہہ دیں گے ، درخواست گزار کے وکیل نے دستاویزات جمع کرانے کیلئے مہلت مانگ لی ،عدالت نے سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں الیکشن ملتوی کروانے کی درخواست دائر کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کثیر تعداد میں افغان باشندوں کو غیر قانونی شناختی کارڈ جاری ہونے کا انکشاف ہوا ہے ، الیکشن شیڈول جاری کرنے سے روکا جائے

    شہری آفتاب عالم ورک نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی ،الیکشن شیڈول جاری کرنے سے روکنے کی درخواست پر بنچ تشکیل دے دیا گیا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کل درخواست پر سماعت کریں گے،شہری کی درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے رجسٹرار آفس نے نمبر لگا دیا،شہری نے وکیل اختر عباس اور شاہ رخ شیخ کے ذریعے درخواست دائر کی،دائر درخواست میں کہا گیا کہ ملک بھر میں افغان باشندوں کو ملک سے واپس افغانستان جانے کا حکم دیا گیا ،انکشاف ہوا خبروں میں آیا سعودی عرب اور ملک میں ہزاروں جعلی شناختی کارڈ افغانیوں کو جاری ہوئے ، افغان باشندوں کے جعلی شناختی کارڈز پر ووٹ بھی کثیر تعداد میں بن چکے ،اس تناظر میں الیکشن کمیشن کو الیکٹرول رول پر نظر ثانی کا حکم دیا جائے ، نادرا کو حکم دیا جائے کثیر تعداد میں جن افغان باشندوں نے فراڈ سے شناختی کارڈ بنائے بلاک کرکے ووٹ ڈیلیٹ کرائیں ، نادرا کو حکم دیا جائے وہ جعلی شناختی کارڈ ڈیلیٹ کرکے الیکشن کمیشن کو آگاہ کرے ،پٹیشن کے زیر التوا ہوتے ہوئے الیکشن کمیشن کو شیڈول جاری کرنے سے روکا جائے،

    عام انتخابات،حتمی حلقہ بندیوں کی اشاعت

    انتخابات میں تاخیر کے ذمہ داران کیخلاف کاروائی کیلئے جلد سماعت کی درخواست دائر 

    جسٹس اطہر من اللہ نے 41 صفحات کا اضافی نوٹ جاری کر دیا

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

    میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے دل کے اندر کبھی کوئی انتقام کا جذبہ نہ لے کر آنا، نواز شریف

    نواز شریف ،عوامی جذبات سے کھیل گئے

  • الیکشن ملتوی کروانے کیلیے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر

    الیکشن ملتوی کروانے کیلیے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں الیکشن ملتوی کروانے کی درخواست دائر کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کثیر تعداد میں افغان باشندوں کو غیر قانونی شناختی کارڈ جاری ہونے کا انکشاف ہوا ہے ، الیکشن شیڈول جاری کرنے سے روکا جائے

    شہری آفتاب عالم ورک نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی ،الیکشن شیڈول جاری کرنے سے روکنے کی درخواست پر بنچ تشکیل دے دیا گیا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کل درخواست پر سماعت کریں گے،شہری کی درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے رجسٹرار آفس نے نمبر لگا دیا،شہری نے وکیل اختر عباس اور شاہ رخ شیخ کے ذریعے درخواست دائر کی،دائر درخواست میں کہا گیا کہ ملک بھر میں افغان باشندوں کو ملک سے واپس افغانستان جانے کا حکم دیا گیا ،انکشاف ہوا خبروں میں آیا سعودی عرب اور ملک میں ہزاروں جعلی شناختی کارڈ افغانیوں کو جاری ہوئے ، افغان باشندوں کے جعلی شناختی کارڈز پر ووٹ بھی کثیر تعداد میں بن چکے ،اس تناظر میں الیکشن کمیشن کو الیکٹرول رول پر نظر ثانی کا حکم دیا جائے ، نادرا کو حکم دیا جائے کثیر تعداد میں جن افغان باشندوں نے فراڈ سے شناختی کارڈ بنائے بلاک کرکے ووٹ ڈیلیٹ کرائیں ، نادرا کو حکم دیا جائے وہ جعلی شناختی کارڈ ڈیلیٹ کرکے الیکشن کمیشن کو آگاہ کرے ،پٹیشن کے زیر التوا ہوتے ہوئے الیکشن کمیشن کو شیڈول جاری کرنے سے روکا جائے،

    عام انتخابات،حتمی حلقہ بندیوں کی اشاعت

    انتخابات میں تاخیر کے ذمہ داران کیخلاف کاروائی کیلئے جلد سماعت کی درخواست دائر 

    جسٹس اطہر من اللہ نے 41 صفحات کا اضافی نوٹ جاری کر دیا

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

    میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے دل کے اندر کبھی کوئی انتقام کا جذبہ نہ لے کر آنا، نواز شریف

    نواز شریف ،عوامی جذبات سے کھیل گئے

     نوازشریف کی ضبط شدہ پراپرٹی واپس کرنے کی درخواست پر نیب کو نوٹس جاری

  • توہین الیکشن کمیشن کیس، ٹرائل اڈیالہ جیل میں ہو گا، فیصلہ آ گیا

    توہین الیکشن کمیشن کیس، ٹرائل اڈیالہ جیل میں ہو گا، فیصلہ آ گیا

    بانی چیئرمین پی ٹی آئی اور فواد چودھری کے خلاف توہین الیکشن کمیشن کیس کے جیل ٹرائل سے متعلق محفوظ فیصلہ سنا دیا گیا

    الیکشن کمیشن نے فیصلے میں کہا کہ کیس کا ٹرائل اڈیالہ جیل میں ہوگا ، الیکشن کمیشن نے وزارت داخلہ کو انتظامات کرنے کی ہدایت کر دی،کیس کی سماعت 13 دسمبر کو اڈیالہ جیل میں ہوگی،وزارت داخلہ نے بانی چیئرمین کو الیکشن کمیشن پیش کرنے سے معذرت کی تھی،وزارت داخلہ نے وزارت قانون سے رائے لیکر بانی چیئرمین تحریک انصاف اور فواد چوہدری کا اڈیالہ جیل میں ٹرائل کی درخواست کی تھی، الیکشن کمیشن نے وزارت قانون کی رائے موصول ہونے پر فیصلہ محفوظ کیا تھا

    الیکشن کمیشن کے پاس اڈیالہ جیل کے علاوہ سماعت کیلئے کوئی اور طریقہ موجود نہیں،تحریری فیصلہ
    بانی چئیرمین تحریک انصاف و فواد چوہدری کے خلاف توہین الیکشن کمیشن کیس ،اڈیالہ جیل میں کیس کی سماعت سے متعلق تحریری فیصلہ جاری کر دیا گیا،5 صفحات پر مشتمل فیصلہ بانی چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان اور دو صفحات پر مشتمل فیصلہ فواد چوہدری سے متعلق ہے، فیصلے میں کہا گیا کہ وزارت داخلہ نے بانی چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان اور فواد چوہدری کو سیکیورٹی وجوہات کی بناء پر الیکشن کمیشن پیش کرنے سے معذرت کی،وزارت داخلہ نے دیگر مقدمات کی طرح اڈیالہ جیل میں ٹرائل کرنے کی تجویز دی،وزارت قانون نے بھی اڈیالہ جیل میں کیس کا ٹرائل کرنے کی رائے دی۔ بانی چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف توہین الیکشن کمیشن کیس دوہزار بائیس سے زیر سماعت ہے،متعدد بار بانی چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان کو اس کیس میں طلب کیا وارنٹ گرفتاری جاری کئے مگر وہ پیش نا ہوئے،بانی چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان کے وکلا کی جانب سے بار بار التواء کی درخواستیں دائر ہوئیں،توہین الیکشن کمیشن و چیف الیکشن کمشنر کیس کو مزید تاخیر کا شکار نہیں بنایا جاسکتا،بانی چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان کے پروڈکشن آرڈرز کی تعمیل ممکن نہیں ہے،
    الیکشن کمیشن کے پاس اڈیالہ جیل کے علاوہ سماعت کیلئے کوئی اور طریقہ موجود نہیں ،اس کیس کی سماعت وزارت داخلہ اور قانون کے رائےکے مطابق کیس اڈیالہ جیل میں کی جائے گی، 13 دسمبر کو 4 رکنی بینچ اڈیالہ جیل میں اس کیس کی سماعت کرے گا،

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

    توہین الیکشن کمیشن کیس میں عمران خان پر فرد جرم عائد ہونی ہے، جیل میں ہونے کی وجہ سے عمران خان کو الیکشن کمیشن پیش نہیں کیا جا رہا تھا،ایک سماعت کے دوران ممبر الیکشن کمیشن نثار درانی نے کہا کہ اگر چیئرمین پی ٹی آئی کو سیکورٹی خدشات ہیں تو سماعت جیل میں نوٹیفائی کرسکتے ہیں؟ سیکرٹری داخلہ نے کہا کہ اگر الیکشن کمیشن حکام جیل جانا چاہتے ہیں تو نوٹیفائی کرسکتے ہیں، وزارت داخٰلہ اجازت دے گی چیئرمین پی ٹی آئی کیس کی جیل میں سماعت کرلیں،پی ٹی آئی وکیل شعیب شاہین کمیشن میں پیش ہوئے اور کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کے ساتھ ایک بار ملاقات کی اجازت ملی، ملاقات کے دوران کاغذ پینسل تک لیکر جانے کی اجازت نہیں ہوتی ، کمیشن مناسب آرڈر دے ، ممبر سندھ نثار درانی نے کہا کہ ہم خود ہی اڈیالہ جیل چلے جاتے ہیں ، جب ہم جائیں گے آپکو تمام سہولیات مل جائیں گی،

    الیکشن کمیشن کے جیل ٹرائل کے فیصلے کو مسترد کر تے ہیں ،وکیل شعیب شاہین
    الیکشن کمیشن کے جیل ٹرائل کے فیصلے کے بعد عمران خان کے وکیل شعیب شاہین نے الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دو تاریخوں میں ہمیں بتایا گیا کہ وزارت داخلہ رپورٹ دی جائیں گی ، مگر نہیں دی گئیں ،ہم الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کو مسترد کر تے ہیں ،آرڈر سنانے کے لیے بھی ممبر نہیں آئے ایک اہلکار کو بھیجاگیا،اگر آپ نے انصاف کا قتل کرنا ہے تو یہ آئین کی خلاف ورزی ہے،الیکشن کمیشن کا پی ٹی آئی کے خلاف یہ پہلا فیصلہ نہیں ہے،ہم نے اکاؤنٹس کی تمام تفصیلات کمیشن میں جمع کروا دی ہیں ،پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم قرار دیے گئے،جب ان پر تنقید کی جاتی ہے تو توہینِ الیکشن کمیشن کیس بن جاتا ہے،

  • ہائیکورٹ سپریم کورٹ کا فیصلہ کیسے کالعدم قرار دے سکتی ہے؟ چیف جسٹس

    ہائیکورٹ سپریم کورٹ کا فیصلہ کیسے کالعدم قرار دے سکتی ہے؟ چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں ایکسائز ڈیوٹی ایکٹ 2005 سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی،عدالت نے سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے پر حیرت کا اظہار کیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے ایکسائز ڈیوٹی ایکٹ 2005 کے سیکشن 3 اے کو 2011 میں درست قرار دیا،2013 میں سندھ ہائیکورٹ نے اسی نوٹیفکیشن کو غیر آئینی کیسے قرار دیا،ہائیکورٹ سپریم کورٹ کا فیصلہ کیسے کالعدم قرار دے سکتی ہے،؟ سندھ ہائیکورٹ نے تو سپریم کورٹ کے فیصلے کو ہی نظر انداز کر دیا،

    دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ایڈووکیٹ خالد جاوید سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ بار بار ایڈووکیٹ فروغ نسیم کی بات کیوں کرہے ہیں،ایڈووکیٹ فروغ نسیم کی جانب سے التوا کی درخواست دائر کی گئی،فروغ نسیم اپنی التوا کی درخواست میں کہتے ہیں بیمار ہوں ڈیڑھ ماہ بعد سماعت کی جائے،یہ انتہائی نامعقول درخواست ہے،یہ ایک سینئر وکیل کا رویہ ہے،کیس کی سماعت میں ساڑھے بارہ بجے تک وقفہ کر دیا گیا