Baaghi TV

Tag: عدالت

  • پی ٹی آئی کو جلسوں کی اجازت نہ دینے پر چیف الیکشن کمشنر کی عدالت طلبی

    پی ٹی آئی کو جلسوں کی اجازت نہ دینے پر چیف الیکشن کمشنر کی عدالت طلبی

    پی ٹی ورکرز کنونشن، جلسوں کی ا جازت نہ دینے پر توہین عدالت کا معاملہ،پشاور ہائیکورٹ نے گزشتہ سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا

    عدالت نے چیف الیکشن کمشنر اور چیف سیکرٹری کے پی کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا، تحریری فیصلہ میں کہا گیا کہ چیف الیکشن کمشنر پیش ہوکر بتائے کہ وہ خیبرپختونخوا کی صورتحال سے کتنا واقف ہے، پی ٹی آئی کو اجازت نہ دینے پر کیا نگران حکومت کے خلاف کوئی ایکشن لیا گیا، الیکشن کمیشن یہ بھی بتائے کہ الیکشن ضابطہ پر پی ٹی آئی عمل کررہی ہے یا نہیں، باقی سیاسی پارٹیاں ورکرز کنونشن, جلسے کررہی ہے تحریک انصاف کو اجازت نہیں دی جارہی۔عدالت نے 7دسمبر کو تمام فریقین کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دے دیا

    قبل ازیں سماعت ہوئی تو اس موقع پر وکیل درخواست گزار نے کہا کہ 10دسمبر کو ہم پشاور میں جلسہ کرنا چاہتے ہیں، ابھی تک اجازت نہیں دی گئی، دیگر پارٹیاں جلسے کر رہی ہیں لیکن پی ٹی آئی کو اجازت نہیں دی جا رہی۔جسٹس اعجاز انور نے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر سے استفسار کیا کہ کیا آپ کو درخواست موصول ہوئی ہے، اے ڈی سی نے بیان دیا کہ جی ہمیں درخواست موصول ہوئی اسے قانون کے مطابق دیکھا جائے گا۔عدالت نے کہا کہ جلسوں کی اجازت کیلئے آپ کس سے رپورٹ لیتے ہیں، اے ڈی سی نے کہا کہ پولیس اور اسپیشل برانچ سے رپورٹ کے بعد جلسے کی اجازت کا فیصلہ ہوتا ہے، فاضل جج نے کہا کہ کسی اور جگہ سے بھی رپورٹ لیتے ہیں یا صرف پولیس سے۔جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ جب پی ٹی آئی والے جلسہ کرتے ہیں تو دفعہ 144 لگا لیتے ہیں۔ ایسے ماحول میں الیکشن کیسے ممکن ہو سکتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ نگراں حکومت اور الیکشن کمیشن اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر رہا۔

    وکیل درخواست گزار علی زمان ایڈووکیٹ نے کہا کہ ہم نے کئی بار درخواست دی لیکن ہمیں اجازت نہیں دی جارہی جب کہ کل بھی پشاور میں جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق صاحب نے بڑا جلسہ کیا ہے،ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ رپورٹ ہے کہ امن و امان کے سیریس تھریٹس ہیں، کچھ سیاسی پارٹیز اور رہنماؤں کو سیریس تھریٹس ہے۔

    جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ الیکشن پُرامن طریقے سے ہوجائے، آپ اگر اس طرح ان رپورٹس کے پیچھے لگے رہے گے تو پھر تو الیکشن نہیں ہوں گے گزشتہ 15 دنوں میں کتنے جلسے ہوئے لیکن آپ ایک سیاسی جماعت کے پیچھے پڑے ہیں-

    خیبر پختونخوا میں ایچ ائی وی ایڈز بے قابو

    ایڈز کے خواجہ سرا مریض، ہسپتال کو فوری علاج کا حکم

    جیلوں میں 140 نوزائیدہ بچے بھی ماؤں کے ہمراہ قید، جیلوں میں ایڈز کے مریض کتنے؟

     پنجاب میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد کے حوالے سے رپورٹ پنجاب اسمبلی میں جمع 

    نوجوان مرد ہم جنس پرست ایڈز کے مریض بننے لگے،اسلام آباد میں شرح بڑھ گئی

    پنجاب میں ایڈز کے مریض بڑھنے لگے،سیکس ورکرز کے کئے گئے ٹیسٹ

    لاڑکانہ میں 11 سو سے زائد بچے ایڈز کا شکار، نیو یارک ٹائمز نے بھٹو کے شہر پر تہلکہ خیز رپورٹ شائع کر دی

    چنیوٹ :ایڈز بےقابو ہونے لگا، 2 ماہ میں 40 نئے کیسزرپورٹ

    ایچ آئی وی ایڈز کے مریضوں کو ہر جگہ امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے

  • خدیجہ شاہ پر منی لانڈرنگ کا الزام، تحقیقات شروع

    خدیجہ شاہ پر منی لانڈرنگ کا الزام، تحقیقات شروع

    خدیجہ شاہ کے خلاف منی لانڈرنگ کا الزام ، تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں

    ایف آئی اے حکام کے مطابق خدیجہ شاہ کے بینک اکاؤنٹ میں مشکوک ٹرانزکیشن سامنے آئی،ایف آئی اے نے خدیجہ شاہ کیخلاف اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت انکوئری کا اغازکر دیا ،ایف آئی اے کی جانب سے بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات کی فراہمی کے لیے متعلقہ محکموں کو خطوط بھجوا دیئے گئے،تمام ریکارڈ آنے کے بعد خدیجہ سے پوچھ گچھ کی جائیگی، خدیجہ شاہ سے جیل میں انویسٹی گیشن کی جائےگی ،بینک اکاؤنٹ سے ہونے والی بیرون ملک ٹرانزیکشن کے حوالے بھی سوالات ہوں گے

    دوسری جانب خدیجہ شاہ کی نظر بندی اور توہین عدالت کی درخواست پر سماعت 5دسمبر تک ملتوی کر دی گئی،لاہور ہائیکورٹ نے آئندہ سماعت پر نظر بندی پر کابینہ فیصلے کی رپورٹ طلب کرلی،وکیل پنجاب حکومت نے کہا کہ کابینہ کے اجلاس کے لیے سمری بھجوا دی گی ہے ،جسٹس علی باقر نجفی نے خدیجہ شاہ کے شوہر کی درخواست پر سماعت کی

    درخواست میں وفاقی حکومت ،ڈپٹی کمشنر لاہور سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے ،درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ خدیجہ شاہ کی نظر بندی بدنیتی پر مبنی ہے۔خدیجہ شاہ کو قانون کے منافی نظر بند کیا گیا ۔پولیس نے مختلف مقدمات میں نامزد تاخیر سے کیا ۔مقدمات میں تفتیش بھی میرٹ پر نہیں ہوئی ۔ عدالت خدیجہ شاہ کو لاہور کی حدود سے باہر لیکر جانے سے روکنے کا حکم دے ۔ عدالت نظر بندی کے نوٹیفکیشن کو غیر قانونی قرار دے

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

  • افغان شہریوں کی بے دخلی، سپریم کورٹ نے نوٹس جاری کر دیا

    افغان شہریوں کی بے دخلی، سپریم کورٹ نے نوٹس جاری کر دیا

    سپریم کورٹ میں غیر قانونی افغان شہریوں کی بے دخلی کیس کی سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے وفاق، ایپکس کمیٹی اور وزرات خارجہ کو نوٹس جاری کر دیا ،عدالت نے اٹارنی جنرل کو بھی نوٹس جاری کر دیا ،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ غیر قانونی افغان شہریوں کی بے دخلی کا معاملہ آئینی تشریح کا بھی ہے، اٹارنی جنرل معاملے پر لارجربینچ تشکیل دینے کے نقطے پر معاونت کریں، درخواست گزار فرحت اللہ بابر نے کہا کہ نگران حکومت کے پاس غیر قانونی شہریوں کی بے دخلی کا مینڈیٹ نہیں، جن افغان شہریوں کو بے دخل کیا جا رہا ہے وہ سیاسی پناہ کی درخواستیں دے چُکے ہیں، افغان شہریوں کے ساتھ حکومت پاکستان غیر انسانی سلوک کر رہی ہے،نگران حکومت پالیسی معاملات پر حتمی فیصلہ کرنے کا آئینی اختیار نہیں رکھتی،اس عدالت کے پاس شہریوں کے حقوق کے تحفظ کا اختیار ہے، جسٹس یحییٰ آفریدی نے استفسار کیا کہ درخواست گزاروں کے کون سے بنیادی انسانی حقوق متاثر ہوئے ہیں ان کی نشاندہی کریں؟ درخواست گزار نے کہا کہ آرٹیکل 4، 9 ،10 اے اور آرٹیکل 25 کے تحت بنیادی انسانی حقوق متاثر ہوئے ہیں، جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چالیس سال سے جو لوگ یہاں رہ رہے ہیں کیا وہ یہاں ہی رہیں اس پر عدالت کی معاونت کریں،جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کے معاہدے مہاجرین کے حقوق کو تحفظ دیتے ہیں، پاکستان اقوام متحدہ کے ان معاہدوں کا پابند ہے،عدالت نے مقدمہ کی سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی

    سپریم کورٹ میں غیر قانونی غیر ملکیوں کی بے دخلی کے خلاف درخواست دائر کی گئی تھی،سپریم کورٹ میں آرٹیکل 184/3 کی درخواست فرحت اللہ بابر، سینیٹر مشتاق، محسن داوڑ اور دیگر کی جانب سے دائر کی گئی،درخواست میں وفاق، صوبوں، نادرا، وزارت خارجہ اور داخلہ سمیت دہگر کو فریق بنایا گیا ہے۔درخواست میں استدعا کی گئی کہ نگراں حکومت کا بڑی تعداد میں لوگوں کی بے دخلی کا فیصلہ غیر قانونی قرار دیا جائے، جن کی پیدائش پاکستان میں ہوئی شہریت ان کا حق ہے، جن شہریوں کے پاس قانون دستاویز ہے ان کی بے دخلی غیر قانونی ہے۔

    غیر قانونی، غیر ملکیوں کے انخلا پر سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا کرنیوالوں کیخلاف آپریشن کا فیصلہ

    غیر قانونی مقیم 18 ہزار غیر ملکیوں کی فہرست خیبر پختونخوا پولیس کو ارسال کر دی گئی

    پاکستان میں بدامنی پھیلانے میں زیادہ ہاتھ غیر قانونی تارکین وطن کا ہے،نگران وزیراعظم

    غیر قانونی طور پر رہائش پزیر افغان مہاجرین کو ہر صورت واپس اپنے وطن جانا ہوگا، نگراں وزیر اطلاعات

    پاکستان میں غیر قانونی مقیم تمام غیر ملکی شہریوں کو 31 اکتوبر 2023 تک پاکستان چھوڑنے کا حکم

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    حکومت کا پیغام پاکستان میں مقیم تمام غیرقانونی مقیم افراد کے لیے ہے 

    افغان باشندوں کا انخلا،ڈیڈ لائن تک پاکستان چھوڑنا ہی ہو گا

  • القادر ٹرسٹ کی نئے چیریٹی ایکٹ کی تحت رجسٹریشن کی درخواست مسترد

    القادر ٹرسٹ کی نئے چیریٹی ایکٹ کی تحت رجسٹریشن کی درخواست مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ: القادر ٹرسٹ کی نئے چیریٹی ایکٹ کی تحت رجسٹریشن کی درخواست مسترد کر دی گئی

    لیبر اینڈ انڈسٹری ڈیپارٹمنٹ نے رجسٹریشن کی درخواست مسترد کئے جانے سے متعلق عدالت کو آگاہ کردیا ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورںگزیب نے القادر ٹرسٹ کی درخواست پر سماعت کی،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ توبہ توبہ ،آپ لوگ بہت خراب ہو ، جان بوجھ کر معاملے کو تاخیر میں ڈالا گیا، سرکاری وکیل نے کہا کہ منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت اداروں کی طرف سے کلیئرنس کرانا ہوتی ہے،عدالت نے استفسار کیا کہ تمام اداروں کی رجسٹریشن سے پہلے یہی طریقہ کار اپنایا جاتا ہے یا یہاں معاملہ الگ ہے ؟ عدالت نے القادر ٹرسٹ کی طرح دیگر اداروں سے طلب کئے گئے ریکارڈ کی تفصیلات طلب کرلیں،کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی گئی

    عمران خان نے کل اداروں کے خلاف زہر اگلا ہے،وزیراعظم

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

  • جسٹس مظاہر نقوی نے جوڈیشل کونسل کے شوکاز نوٹس چیلنج کر دیئے

    جسٹس مظاہر نقوی نے جوڈیشل کونسل کے شوکاز نوٹس چیلنج کر دیئے

    جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں کارروائی کا معاملہ ،جسٹس مظاہر نقوی نے جوڈیشل کونسل کے جاری کردہ دونوں شوکاز نوٹس چیلنج کردیئے

    جسٹس مظاہر نقوی کی درخواست میں وفاق کو بذریعہ وزارت قانون فریق بنایا گیا ہے، درخواست میں کہا گیا کہ میرے خلاف شکایات کو کھلی عدالت میں سنا جائے، جوڈیشل کونسل نے جسٹس مظاہر نقوی کو دو شو کاز نوٹس جاری کر رکھے ہیں،جوڈیشل کونسل میں جسٹس مظاہر نقوی کیخلاف دس شکایات زیر التوا ہیں.

    واضح رہے کہ جسٹس مظاہر نقوی کو27 اکتوبر کے کونسل اجلاس میں بھی شوکازجاری کیاگیا تھا، جس پر جسٹس مظاہر نقوی نے تین ممبران کی موجودگی پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

    جسٹس مظاہر نقوی پر الزام ہے کہ انہوں نے بطور سپریم کورٹ جج اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے اپنی آمدن سے زیادہ مہنگی لاہور میں جائیدادیں خریدی ہیں لہذا سپریم جوڈیشل کونسل اس کو فروخت کرے اور اعلیٰ عدلیہ کے جج کے خلاف کارروائی کرے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ دنوں ملک کی بار کونسلز نے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کی آڈیو لیک کے معاملے پر سپریم کورٹ کے جج مظاہر نقوی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرنے کا اعلان کیا تھا۔ جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف بلوچستان بار کونسل سمیت دیگر نے ریفرنسز دائر کر رکھے ہیں۔

    ریفرنس میں معزز جج کے عدالتی عہدے کے ناجائز استعمال کی بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں جبکہ معزز جج کے کاروباری، بااثر شخصیات کے ساتھ تعلقات بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ ریفرنس میں معزز جج کےعمران خان اور پرویز الہیٰ وغیرہ کے ساتھ بالواسطہ اور بلاواسطہ خفیہ قریبی تعلقات کی بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔

    جسٹس مظاہر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل پر اٹھائے اعتراضات

    ہائیکورٹ نے کیس نمٹا کرتعصب کا مظاہرہ کیا،عمران خان کی سپریم کورٹ میں درخواست

  • اسلام آباد،سٹریٹ کرائم،موبائل،موٹرسائیکل چوری کی وارداتوں میں اضافہ

    اسلام آباد،سٹریٹ کرائم،موبائل،موٹرسائیکل چوری کی وارداتوں میں اضافہ

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کااجلاس چئیرمین کمیٹی سینیٹر محسن عزیز کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا،

    اجلاس میں سینیٹرز کامل علی آغا، سیف اللہ ابڑو، شہادت اعوان، فوزیہ ارشد، دنیش کمار، ثانیہ نشتر، سردار محمد شفیق ترین اور ثمینہ ممتاز زہری نے شرکت کی-نگران وزیرداخلہ سرفراز بگٹی، اسپیشل سیکریٹری داخلہ،اسلام آباد کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر ، آئی جی سندھ، ڈی سی اسلام آباد، چئیرمین سی ڈی اے بھی اجلاس میں شریک ہوئے-

    اجلاس میں سینیٹر ثانیہ نشتر کی جانب سے پیش کئے گئے "The Rehriban livelihood Protection Bill, 2023″ پر تفصیلی بحث ہوئی۔موور ثانیہ نشتر نے بل کے خدوخال اور مقصد بارے کمیٹی کو بریفنگ دی۔ چئیرمین سی ڈی اے نے کہا کہ اس حوالے سے لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2015 پہلے سے ہی موجود ہے۔اگر یہ بل پاس ہوتا ہے تو ایک مساوی سٹرکچر کھڑا ہوجائےگا۔اگر پہلے سے موجود قانون میں ترمیم کرنی ہو اس کیلئے تیار ہیں جہاں بہتری کی گنجائش ہو تو اس کو بہتر ہونا چاہئے۔بل پر تفصیلی بحث کے بعد چئیرمین کمیٹی نے کہا کہ سی ڈی اے اور تمام متعلقہ ادارے دونوں بلز کا ایک تقابلی جائزہ اگلی میٹنگ میں پیش کریں۔اگلی میٹنگ میں دونوں بلز کا تقابلی جائزہ دیکھ کر ثانیہ نشتر کی طرف سے پیش کئے گئے بل کے حوالے سے فیصلہ کریں گے۔
    سینیٹر شہادت اعوان کی جانب سے پیش کیا گیا ” The Pakistan Penal Code (amendment) Bill, 2023 (Amendment in section 377A of PPC) ترمیمی بل، حکومت کی طرف سے جواب نا آنے پر موخر کردیا گیا۔
    اجلاس میں سینیٹر شہادت اعوان کی جانب سے پیش کئے گئے بلز ” The Provincial Motor vehicles ( Amendment)، Bill 2023 (Insertion of new section 101A) اور ” The Islamabad Capital Territory Charities Registration, Regulation and Facilitation (Amendment) Bill, 2023″ متفقہ طور پر منظور کئے کر لئے گئے۔

    صحافی جان محمد مہر کے قاتل کچے کے علاقے میں، چھاپے مارے جا رہے، آئی جی سندھ
    قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پارلیمنٹری رپورٹرز ایسوسیشن کے نمائندوں نے مشہور صحافی جان محمد مہر کے قتل کا معاملہ اٹھایا۔ان کا کہنا تھا کہ 108 دن ہوگئے ہیں لیکن قاتل گرفتار نہیں ہوسکے ہیں۔ آئی جی سندھ اور ایس ایس پی سکھر نے معاملے پر کمیٹی کو بریفنگ دی۔آئی جی سندھ نے کہا کہ فیڈرل یونین آف جرنلسٹ کے وفد کے ہمراہ چیف منسٹر سندھ سے اسی معاملے پر ملاقات ہوئی جنہوں نے 30 دن کا وقت دیا ہے جس میں 12 دن گزر چکے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ اطلاعات کے مطابق جان محمد مہر کے قاتل کچے کے علاقے میں داخل ہوئے ہیں۔قاتل کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔گرفتاری کیلئے اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر کوشش جاری رکھے ہوئے ہیں۔چئیرمین کمیٹی نے آئی جی سندھ کے کام اور دلیری کو سراہا اور کیس کو جلد منتقی انجام تک پہنچانے کیلئے ہدایات جاری کی۔

    چمن دھرنا، شرکاء کے پاس جائیں گے،نگران وزیر داخلہ
    اجلاس میں سینیٹر سردار محمد شفیق ترین نے چمن بارڈر پر گزشتہ کئے روز سے جاری دھرنا اور وہاں کے لوگوں کو درپیش مسائل کمیٹی میں اجاگر کئے۔انہوں نے بتایا کہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ "ون ڈکومنٹ رجیم” کے بعد چمن کے باشندوں کی تقریبا 10 ہزار دکانیں، مساجد بارڈر کے اس پر رہ گئی ہیں۔بارڈر ، ٹرانزٹ ٹریڈ بند ہیں، لوگوں کا کاروبار بند ہے۔اجلاس میں دھرنا شرکاء کے نمائندے بھی پیش ہوئے اور موجودہ حالات بارے کمیٹی کو آگاہ کیا۔نگران وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے معاملے پر تفصیل سے کمیٹی کو آگاہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مسئلے کی سنگینی کا علم ہے لیکن اس وطن کی حفاظت کرنا بھی ہماری زمہ داری ہے۔انہوں نے کمیٹی کو یقین دلایا کہ ہفتہ کے اندر کوئی ایسا میکنزم بنا لیں گے کہ ان کیلئے کاروبار میں آسانی ہو اور فریقین کیلئے ون۔ون سیچویشن ہو۔یہ ہمارے لوگ ہیں ہر پلیٹ فارم پر ان کیلئے آواز اٹھاتے رہیں گے۔مسئلے کو حل کریں گے لیکن ریاست کا نقصان نا ہو یہ بھی ملحوظ خاطر رکھنا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم کے ساتھ بیٹھ کر کوئی لائحہ عمل بنا کر دوبارہ دھرنا شرکاکے پاس جائیں ان کو ساتھ لے کر چلیں گے۔

    کمیٹی میں باجوڑ کے رہائشی سلطان محمد، جن کو ایس ایچ او ضلع خیرپور چونکونارا نے گرفتار کیا اور زیر حراست تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کیا گیا تھا، کا معاملہ اٹھایا گیا۔چئیرمین کمیٹی نے آئی جی سندھ کو ہدایت کی کہ زمہ داران کے خلاف شفاف انکوائری کر کے کمیٹی کو رپورٹ پیش کریں۔آئی جی سندھ نے یقین دلایا کہ وہ فیکٹ فائینڈنگ کمیٹی بنا کر اس کی رپورٹ کمیٹی میں پیش کردیں گے۔

    اسلام آباد ،گزشتہ برس منشیات کے 900 پرچے،رواں برس 32 فیصد اضافہ
    اسلام آباد کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر نے اسلام آباد میں چوری، ڈکیتی، سٹریٹ کرائمز کے واقعات میں اضافے اور نشے کے بڑھتے رجحانات بارے کمیٹی کو بریف کیا۔انہوں نے بتایا کہ پچھلے سال کی نسبت گھروں کی چوری، اسنیچنگ میں کمی آئی ہے جبکہ سٹریٹ کرائمز میں اضافہ ہوا ہے۔ڈولفن کو بہتر بنایا ہے، مزید 1000 کیمرے اسلام آباد میں لگا دئے گئے ہیں جس کی وجہ سے بہتری آ رہی ہے۔ائیرپورٹ کی طرف جاتے ہوئے راستوں پر مزید کیمرے لگانے کی ضرورت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پچھلے سال نشے میں ملوث افراد کے خلاف تقریبا 900 پرچے ہوئے تھے جبکہ رواں سال 32 فیصد زیادہ پرچے کئے گئے ہیں۔کالجز اینڈ یونیورسٹیز پر ہماری زیادہ توجہ ہے۔انہوں نے کہا کہ اساتذہ کو بھی طلباءپر توجہ دینی چاہئے۔چئیرمین کمیٹی نے کہا کہ موبائل اور موٹرسائیکل کی چوری میں کافی اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔اس حوالے سے اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔چئیرمین کمیٹی نےڈرگ ڈیلرز اور پارٹی ہاوسز کے خلاف کریک ڈاون تیز کرنے کی ہدایت کر دی،

    گاڑی یا موٹر سائیکل چلانے والے شخص پر موبائل فون کے استعمال پر پابندی
    شہادت اعوان کی جانب سے پیش کردہ پروونشل موٹر وہیکلز (ترمیمی) بل کا جائزہ لیا گیا، سینیٹر شہادت اعوان نے کہا کہ گاڑی یاموٹرسائیکل پر بیٹھ کر کوئی آدمی موبائل استعمال نہ کرے، سینیٹرسیف اللہ ابڑو نے کہا کہ یہ بل پہلے پاس ہوچکا ہے تو دوبارہ بحث کی کیا ضرورت ہے، آئی جی اسلام آباد پولیس نے بل کی ایک شق پر اعتراض اٹھا دیا،سیکرٹری کمیٹی نے کہا کہ پہلے بل لیپس ہوچکا تھا اس لیے دوبارہ لایا گیا، کمیٹی نے معمولی ترمیم کے ساتھ پروونشل موٹروہیکلز ترمیمی بل منظور کرلیا،بل کے تحت گاڑی یا موٹر سائیکل چلانے والے شخص پر موبائل فون کے استعمال پر پابندی ہوگی،بل کے تحت صرف ایمرجنسی کی صورت میں ہی موبائل فون استعمال کی اجازت ہوگی.

    آئے روز وزیراعظم کو اتار دیا جائےتو پھر ملک کیسے چلے گا ،نواز شریف

    قصے،کہانیاں سن رہے ہیں،یہ کردار تھا ان لوگوں کا،نواز شریف کا عمران خان پر طنز

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

  • بیوہ کی زمین پر قبضہ،کیپٹن ر صفدر،جنید صفدر کو توہین عدالت کے نوٹس جاری

    بیوہ کی زمین پر قبضہ،کیپٹن ر صفدر،جنید صفدر کو توہین عدالت کے نوٹس جاری

    کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کا جاتی امرا سے ملحق بیوہ کی 46 کنال پر قبضہ کا معاملہ،لاہور ہائیکورٹ میں کیپٹن ر صفدر اور بیٹے جنید صفدر کیخلاف توہین عدالت درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے درخواست پر کیپٹن صفدر، جنید صفدر سمیت دیگر کو نوٹس جاری کر دیئے،جسٹس شمس محمود مرزا نے بیوہ سلامن بی بی کے بیٹے کی درخواست پر سماعت کی،درخواست گزار کی طرف سے راجہ جاوید اقبال ایڈووکیٹ پیش ہوئے،درخواست میں کہا گیا کہ پولیس سمیت انتظامیہ نے قبضے میں مداخلت اور ہراساں نہ کرنے کی عدالت میں یقین دہانی کرائی، عدالت نے انتظامیہ کی یقین دہانی پر درخواست نمٹا دی،کیپٹن رصفدر اور جنید صفدر کی موجودگی اور ایما پر 46 کنال اراضی پر زبردستی قبضہ کرلیا گیا، درخواست گزار کی 46 کنال اراضی پر موجود تعمیرات گرا دی گئیں،کیپٹن رصفدر، جنید صفدر اور انتظامی افسران نے عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی ،عدالت کیپٹن ر صفدر، جنید صفدر سمیت افسران کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کرے .

    خواجہ سرا کا یہ کام دوسروں کیلئے مشعل راہ ہے،لاہور ہائیکورٹ

    سگی بیٹی کو فحش ویڈیو دکھا کر سفاک باپ سمیت 28 افراد نے کیا ریپ

    موبائل میں فحش مواد ڈال کر دینے والا دکاندار گرفتار

    فحش ویڈیوز کا دھندہ کرنیوالے 20 ملزمان گرفتار

    لاہور سے چار بہنیں اغوا،ماں کی مدعیت میں مقدمہ درج

    مدرسہ کے تدریسی کمرہ میں 11 سالہ بچی سے فحش حرکات کرنے والا قاری گرفتار

    نکاح کا جھانسہ دیکربیوہ خاتون کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالا گرفتار

  • ایون فیلڈ ریفرنس ،نواز شریف کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے بری کر دیا

    ایون فیلڈ ریفرنس ،نواز شریف کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے بری کر دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ،سابق وزیراعظم نواز شریف کی العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنسز میں اپیلوں پر سماعت ہوئی

    نواز شریف کے خلاف صرف آخری مقدمہ العزیزیہ ریفرنس میں سزا باقی رہ گئی،نواز شریف کو انتخابی سیاست کے لیے العزیزیہ ریفرنس میں 20 دسمبر سے پہلے بری ہونا ہوگا ،نواز شریف پانامہ کیسز کے تین ریفرنسز میں سے دو میں کلئیر ہوگئے،نواز شریف ایون فیلڈ ریفرنس میں بری جبکہ فلیگ شپ ریفرنس میں نیب نے اپیل واپس لے لی ،اسلام آباد ہائیکورٹ نے العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کی اپیل پر سماعت ملتوی کردی،عدالت نے رجسٹرار آفس کو العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کی اپیل کو تاریخ دینے کی ہدایت کی ،آئندہ عام انتخابات کا شیڈول دسمبر کے دوسرے ہفتے میں جاری ہوگا ،8 فروری کے انتخابات کے لیے امیدواروں کو دسمبر کے تیسرے ہفتے تک کاغذات نامزدگی جمع کرانے ہوں گے،نواز شریف کی تاحیات نااہلی الیکشن قانون میں تبدیلی سے ختم ہوگئی

    نیب کی العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کی سزا بڑھانے اور فلیگ شپ ریفرنس میں بریت کے خلاف اپیل پر بھی سماعت ہوئی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نےسماعت کی،نواز شریف عدالت میں پیش ہوئے، نواز شریف کی قانونی ٹیم بھی عدالت میں پیش ہوئی،نواز شریف کی پیشی سے قبل اسلام آباد ہائیکورٹ کے اطراف میں سیکورٹی سخت کی گئی تھی،پانچ سو کے قریب اہلکار سیکورٹی کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں ،اسلام آباد کے پولیس کے ساتھ ایف سی اہلکار کے اہلکار بھی موجود ہیں،اسلام آباد ہائیکورٹ کی عمارت پر رینجرز اہلکار تعینات ہیں،نواز شریف کی پیشی سے قبل خواتین اہلکار بھی تعینات کی گئیں.

    نواز شریف کے وکیل امجد پرویز ایڈوکیٹ نے کہا کہ آج میں عدالت کے سامنے فرد جرم کے بعد کی کارروائی پر دلائل دوں گا، مریم نواز اور کپٹن ریٹائرڈ صفدر پر نواز شریف کی اعانت جرم کا الزام تھا،عدالت نے نواز شریف کے دونوں شریک ملزمان کی اپیل منظور کر کے بری کیا،اسلام آباد ہائیکورٹ سے شریک ملزمان کی بریت کا فیصلہ حتمی صورت اختیار کر چکا ہے، احتساب عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف کو سیکشن 9 اے سے بری قرار دیا تھا، اس کیس میں اب بس سیکشن 9 اے 5 بچا ہے جو آمدن سے زائد اثاثہ جات سے متعلق ہے،

    وکیل امجد پرویز نے نیب آرڈیننس کا سیکشن 9 اے 5 پڑھ کر سنایا اور کہا کہ سیکشن 9 اے 5 کے تحت استغاثہ کو کچھ حقائق ثابت کرنا ہوتے ہیں، سیکشن 9 اے 5 کا تقاضہ ہے کہ ملزم کو پبلک آفس ہولڈر ثابت کیا جائے، سیکشن 9 اے 5 کا تقاضا ہے کہ ملزم کو بے نامی دار ثابت کیا جائے، سیکشن 9 اے 5 کا تقاضا ہے کہ ثابت کیا جائے کہ ملزم کے اثاثے اس کے آمدن کے ذرائع سے مطابقت نہیں رکھتے،نیب آرڈیننس میں بے نامی دار لفظ کی تعریف کی گئی ہے،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میرے خیال میں سزا معطلی بھی اسی بنیاد پر ہوئی تھی،سزا معطلی کے فیصلے میں ہم نے سپریم کورٹ کے متعدد فیصلوں کا سہارا لیا تھا،بعد ازاں سپریم کورٹ نے اپنے فیصلوں میں مزید وضاحت کی ہے اس پر ہماری معاونت کریں

    وکیل امجد پرویز نے کہا کہ تحقیقاتی ایجنسی نے اثاثوں کے حصول کے وقت معلوم ذرائع آمدن سے متعلق تحقیقات کرنا ہوتی ہیں،معلوم ذرائع آمدن کا اثاثوں کی مالیت سے موازنہ کرنا ہوتا ہے، یہ مقدمہ ایسا ہے جس میں اس کے مندرجات ہی ثابت نہیں کیے گئے، انہوں نے جرم کے تمام جز ثابت کرنے تھے، نہیں کیے،امجد پرویز نے نواز شریف کے اثاثوں کی تفصیلات بمع تاریخ عدالت میں جمع کرا دیں،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ یہ اثاثہ جات ایک ہی وقت میں آئی ہیں یا الگ الگ؟ وکیل امجد پرویز نے کہا کہ 1993 سے 1996 کے درمیان یہ پراپرٹیز آئی ہیں، پورے ریفرنس میں نواز شریف کا ان پراپرٹیز سے تعلق لکھا ہی نہیں ہوا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا پراسیکیوشن نے ریفرنس میں لکھا ہے کہ نواز شریف نے یہ پراپرٹیز کب لیں؟ وکیل امجد پرویز نے کہا کہ پورے ریفرنسز میں نواز شریف کا ان پراپرٹیز سے تعلق جوڑنے کا کوئی ثبوت موجود نہیں،اس کے بعد یہ بات سامنے آنی تھی کہ اثاثوں کی مالیت آمدن سے زائد ہے یا نہیں،اس تقابلی جائزے کے بغیر تو آمدن سے زائد اثاثے بنانے کا جرم ہی نہیں بنتا،نیب انویسٹی گیشن، جے آئی ٹی یا سپریم کورٹ کے فیصلے میں پراپرٹیز کی مالیت کا تعین موجود نہیں جو پراپرٹیز کی مالیت کا تعین یا نواز شریف کا پراپرٹیز سے تعلق ثابت کرتی ہو. واجد ضیاء سٹار گواہ تھا اس نے بھی یہ بات مانی کہ ایسی کوئی دستاویز موجود نہیں تھی. فرد جرم عائد کرتے وقت یہ بات بتائی جاتی ہے کہ آپ کے اثاثے ظاہر کردہ اثاثوں کے مطابق نہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریفرنس تو ہے بھی بس تین چار صفحوں کا ہی ہے،وکیل امجد پرویز نے کہا کہ نواز شریف کی ان پراپرٹیز سے تعلق جوڑنے کیلئے کوئی شہادت موجود نہیں،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ پراسیکیوشن نے سب سے پہلے کیا ثابت کرنا ہوتا ہے؟ وکیل امجد پرویز نے کہا کہ پراسیکیوشن نے سب سے پہلے ملزم کو پبلک آفس ہولڈر ثابت کرنا ہوتا ہے، اُس کے بعد پراسیکیوشن نے زیرکفالت اور بےنامی داروں کو ثابت کرنا ہوتا ہے،پراسیکیوشن نے پھر آمدن سے زائد اثاثوں کا تعین کرنا ہوتا ہے، پراسیکیوشن نے ذرائع آمدن کی اثاثوں سے مطابقت دیکھنی ہوتی ہے، نیب میاں نواز شریف پر لگائے گئے الزامات میں سے ایک بھی ثابت نہیں کر سکا،سب سے اہم بات ان پراپرٹیز کی آنرشپ کا سوال ہے،نہ تو زبانی، نہ دستاویزی ثبوت ہے کہ یہ پراپرٹیز کبھی نواز شریف کی ملکیت میں رہی ہوں، استغاثہ کو یہ ثابت کرنا تھا کہ مریم نواز، حسین نواز اور حسن نواز، نواز شریف کی زیر کفالت تھے، بچوں کے نواز شریف کی زیر کفالت کا بھی کوئی ثبوت موجود نہیں، ان تمام چیزوں کو استغاثہ کو ثابت کرنا ہوتا ہے، ان چیزوں کا بار ثبوت دفاع پر کبھی منتقل نہیں ہوتا، کوئی ثبوت نہیں کہ پراپرٹیز نواز شریف کی ملکیت یا تحویل میں رہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ یہ سارا پراسیکیوشن کا کام ہے؟وکیل امجد پرویز نے کہا کہ جی بالکل یہ سب استغاثہ نے ثابت کرنا ہوتا ہے،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے نیب سے استفسار کیا کہ کیا آپ یہ نوٹ کر رہے ہیں؟ یہ بڑی اہم باتیں کر رہے ہیں،نیب وکیل نے کہا کہ جی سر میں نوٹ کر رہا ہوں،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ آپ کے ہاتھ میں تو قلم ہی نہیں ہے، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے گونج اٹھے،وکیل امجد پرویز نے کہا کہ استغاثہ کو پبلک آفس اور جرم میں گٹھ جوڑ بھی ثابت کرنا ہوتا ہے،استغاثہ کو ثابت کرنا ہے کہ پبلک آفس کیسے بینامی جائیداد بنانے کیلئے استعمال ہوا، استغاثہ کو مندرجات ثابت کرنے ہوتے ہیں، اس کے بعد بار ثبوت ملزم پر منتقل ہوتا ہے، کورٹ نے مفروضے پر سزا دی اور فیصلے میں ثبوت کے بجائے عمومی بات لکھی، عدالت نے کہا کہ مریم نواز بینفشل اونر تھیں اور نواز شریف کے زیر کفالت بھی تھیں،لکھا گیا کہ بچے عمومی طور والد کے ہی زیرکفالت ہوتے ہیں، لاہور ہائی کورٹ نے ایک نیب کے ملزم انٹیلیجنس بیورو کے سابق سربراہ بریگیڈئیر ریٹائرڈ امتیاز کو بری کیا ،اس بنیاد پر بریت ہوئی کہ نیب نے ملزم کی مبینہ جائدادوں کی قیمت اور ملزم کی آمدن کا تعین کئیے بغیر ہی اُس پر ریفرنس دائر کر دیا تھا،سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کو برقرار رکھا، سپریم کورٹ نے اس حوالے سے کوئی بھی متضاد فیصلہ نہیں دیا،مریم نواز کے کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی ان عدالتی فیصلوں اور اصولوں کی توثیق کی ہے،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ ہم نے حال ہی میں ایک فیصلہ دیا کہ بینامی کیلئے 4 مندرجات کا ثابت ہونا ضروری ہے،ان چاروں میں سے ایک بھی ثابت نہیں تو وہ بینامی کے زمرے میں نہیں آئے گا،وکیل امجد پرویز نے کہا کہ جناب میرا امتحان کیوں لے رہے ہیں،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ وہ تو ضروری ہوتا ہے نہ، عدالت کے ریمارکس پر قہقہے گونج اٹھے،

    امجد پرویز ایڈووکیٹ نے مریم نواز کی ہائی کورٹ سے بریت کا فیصلہ پڑھ کر سنا یا اور کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے احتساب عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر مریم نواز کو بری کیا تھا، عدالت نے لکھا پراسیکیوشن کے موقف کو ثابت کرنے کے لیے کوئی ایک ڈاکومنٹ موجود نہیں، نیب پراسیکیوٹر نے نواز شریف کی ایون فیلڈ ریفرنس میں دائر اپیل کو منظور کرنے پر رضا مندی ظاہر کر دی ،نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ایون فیلڈ ریفرنس میں مریم نواز کی بریت کا فیصلہ حتمی ہوچکا ہے اس لیئے ہم اس فیصلے سے باہر نہیں جا سکتے۔دوسری جانب نیب نے فلیگ شپ ریفرنس میں نواز شریف کی بریت کے خلاف اپیل واپس لے لی جس کے بعد ایون فیلڈ ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے بری کر دیا۔العزیزیہ ریفرنس کی سماعت ملتوی کر دی گئی،

    واضح رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کو جولائی 2018 میں ایون فیلڈ ریفرنس میں 10 سال اور دسمبر 2018 میں العزیزیہ ریفرنس میں 7 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی،نواز شریف نے عدالت میں سزاؤں کے خلاف اپیل دائر کی تھی.

    آئے روز وزیراعظم کو اتار دیا جائےتو پھر ملک کیسے چلے گا ،نواز شریف

    قصے،کہانیاں سن رہے ہیں،یہ کردار تھا ان لوگوں کا،نواز شریف کا عمران خان پر طنز

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

  • نواز شریف کی کل پیشی، سیکورٹی کے لئے ہدایات جاری

    نواز شریف کی کل پیشی، سیکورٹی کے لئے ہدایات جاری

    اسلام آباد ہائیکورٹ: نواز شریف کی ایون فیلڈ اور العزیزیہ ریفرنسز میں سزا کیخلاف اپیلیں، نواز شریف کی 29 نومبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیشی سے قبل سیکیورٹی انتظامات ،گزشتہ روز کی کمرہ عدالت میں موبائل فون بجنے اور رش کے باعث تعداد کم کر دی گئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے رجسٹرار آفس نے قواعد و ضوابط سے متعلق سرکلر جاری کردیا،سرکلر میں کہا گیاکہ چیف جسٹس عامر فاروق، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب 29 نومبر کو اپیلوں پر سماعت کریں گے، آئی جی اسلام آباد نواز شریف کی پیشی کے موقع پر مناسب سکیورٹی انتظامات کو یقینی بنائیں،کمرہ عدالت نمبر ایک میں داخلہ رجسٹرار آفس کی جانب سے جاری سیکیورٹی پاسز سے مشروط ہوگا، درخواست گزار کی قانونی ٹیم اور 25 رہنماوں کو کمرہ عدالت میں داخلے کی اجازت ہوگی، اسلام آباد ہائیکورٹ جرنلسٹ ایسوسی ایشن کے 15 صحافیوں کو کمرہ عدالت میں داخلے کی اجازت ہوگی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے ملازمین ان انٹری پاسز سے مستثنیٰ ہوں گے،

    آئے روز وزیراعظم کو اتار دیا جائےتو پھر ملک کیسے چلے گا ،نواز شریف

    قصے،کہانیاں سن رہے ہیں،یہ کردار تھا ان لوگوں کا،نواز شریف کا عمران خان پر طنز

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

  • سانحہ جڑانوالہ،جوڈیشل کمیشن نہ بنانے کے فیصلے کا ازسر نو جائزہ لینے کا فیصلہ

    سانحہ جڑانوالہ،جوڈیشل کمیشن نہ بنانے کے فیصلے کا ازسر نو جائزہ لینے کا فیصلہ

    لاہور ہائیکورٹ: سانحہ جڑانوالہ پر جوڈیشل کمیشن نہ بنانے کے کابینہ کے فیصلے کے خلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی

    سرکاری وکیل نے جوڈیشل کمیشن نہ بنانے کے فیصلے کا ازسر نو جائزہ لینے کا فیصلہ کیا،عدالت نے کیس کی سماعت 21 دسمبر تک ملتوی کردی،ایڈوکیٹ جنرل خالد اسحاق نے کہا کہ ہم کمیشن نہ بنانے کے فیصلے کا از سر نو جائزہ لیں گے،عدالت نے ایڈوکیٹ جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی جے آئی ٹی رپورٹ ایک افسر کی انکوائری رپورٹ لگتی ہے،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ حکومتی رپورٹ کے مطابق 22 چرچ جلے ہیں، اگر اس چیز کو پیسوں کی ادائیگی سے جوڑیں گے تو انتہائی غلط ہے، عدالت نے وکیل درخواست گزار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ اپنے طور پر درخواست گزاروں کے کسی شخص کو اپنے پاس بلا کر بات بھی کریں، کچھ چیزیں فیصلہ سازی میں مدد کریں گی، ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ ہم ہر وقت موجود ہوں،

    جسٹس عاصم حفیظ نے بشپ آزاد مارشل سمیت دیگر کی درخواست پر سماعت کی،بشپ آزاد مارشل سمیت دیگر کی جانب سے ایڈوکیٹ محبوب کھوکر عدالت میں پیش ہوئے،درخواست گزار نے کہا کہ پنجاب حکومت نے رپورٹ جاری کی ہے کہ سانحہ جڑانوالہ پر کمیشن نہیں بنا سکتے، رپورٹ حقائق کے منافی ہے،عدالت سانحہ جڑانوالہ پر جوڈیشل کمیشن بنانے کا حکم جاری کرے،

    نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے جڑانوالہ واقعہ کا نوٹس لیا ہے

    جڑانوالہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے

     مسیحی قائدین کے پاس معافی مانگنے آئے ہیں،

    جڑانوالہ ہنگامہ آرائی کیس،گرفتار ملزمان کو عدالت میں پیش کر دیا گیا

    توہین کے واقعہ میں ملوث ملزم کو قرار واقعہ سزا دی جائے،تنظیم اسلامی

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اہلیہ کے ہمراہ متاثرہ علاقے کا دورہ کیا

    آئی جی پنجاب عثمان انور نے جڑانوالہ سانحہ کے حوالہ سے پریس کانفرنس میں اہم انکشافات کئے ہیں